لاہور (خصوصی نامہ نگار)ملک بھر میں زندگی کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کیلئے سنہری خواب دکھا کر زندگی بھر کی جمع پونچی لوٹنے والے ادارے شہریوں کیلئے عذاب بن گئے ،جوبلی انشورنس کمپنی کے لاہور سنٹر نے سینکڑوں شہریوں کو مختلف سکیموں کی آڑ میں کروڑوں روپے ہڑپ کرلیے ،انکشاف ہونے پر سینکڑوں درخواستیں لے کر ہیڈ آفس بھجوانے کی بجائے لوٹ مار کے معاملے کو دبا دیا گیا ،پرئمیر کی واپسی کیلئے شہری شادمان سمیت بینکوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق جوبلی انشورنس کمپنی کی جانب سے مختلف سکیموں کی مد میںکی گئی پالیسوں کے بعد بینکوں میں جمع کرائی گئی پالیسوں کے پرئمیرز سے حاصل ہونے والے پرافٹ سے نئی پالیساں از خود ہی کرکے ان کے بھی اضافی پرئمیرز کو حاصل کرکے لوٹ مار کر رہے ہیںجہاں لکشمی چوک کی بینک برانچ میں ایبٹ روڈ کی رہائشی خاتون کی بچوں کے نام پر کرائی گئی پالیسی نمبری 433785 جس کے پلان حفاظت کو سال 2014 میں 5 سالہ معاہدے پر جوبلی لائف انشورنس کے ایجنٹ ثاقب نے 18 ہزار روپے کے عوض علی حسنین اور مریم فاطمہ کے نام پر کی گئی جبکہ پالیسی کے دو پرئمیرز بھی اکاﺅنٹ میں سے کٹوا دیئے گئے مگر تھوڑے عرصہ بعد پالیسی کا اکاﺅنٹ چیک کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پیسے کم تھے جس پر پالیسی اکاﺅنٹ کی تمام سابقہ ریکارڈ کو حاصل کرنے پر شہری کو معلوم ہوا کہ ان کی ایک پالیسی نہیں بلکہ تین پالیسیاں کی گئیں ہیں جس میں سے 2 جعلی ہیں جس کو صارف کی اجازت اور بغیر اطلاع کے بنادیا گیا اور ان کی پالیسی مالیت 18 ہزار روپے اور دوسری 25 ہزار روپے میں کی گئی اور ان دونوں پالیسیوں کے پرئمیر انشورنس کمپنی نے بینک سے مل کر کاٹ لیے ہیں جس کا صارف کو معلوم ہونے پر معلوم ہوا کہ جعلی پالیسیوں سے 86 ہزار روپے کی اضافی رقم کو خوردبرد کرلیا گیا ،جوبلی لائف انشورنس کمپنی کے ایجنٹ کی جانب سے جعل سازی کرنے پر شادمان میں موجود آفس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایجنٹ ثاقب کے خلاف کارروائی کیلئے ایف آئی اے کو درخواست دے رکھی ہے تاہم ایجنٹ ثاقب کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں ہے تاہم مزید تحقیقات کرنے پر معلوم ہوا کہ جوبلی لائف انشورنس کمپنی لاہور کے ایجنٹ ثاقب اور کئی دیگر ایجنٹ پالیسیوں کے آڑ میں شہریوں کو سبز باغ دکھا کر ان کی رقوم کو ذاتی استعمال میں لانے اور ان کی رقوم سے اضافی پالیسیاں بنا کر ان کے منافع کو بینک سے مل کر خود استعمال کر رہے ہیں جس پر سینکڑوں صارفین کی جانب سے جوبلی لائف انشورنس شادمان آفس درخواستیں دی گئیں جنہیں کراچی سے منظور کروانے کا کہہ کر ان درخواستوں پر کسی بھی طرح کا عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے جبکہ جعلی پالیسیوں کی مد میں مقامی بینکوں سے مل کر جوبلی انشورنس کمپنی کے مقامی نمائندے لوٹ مار کرتے ہوئے کمپنی کو بھی نقصان دے رہے ہیں جبکہ شہریوں کے کروڑوں روپے کے منافع کی بند ربانٹ میں علاقائی مینجر بھی ملوث ہیں جہاں شہریوں کی درخواستوں کو کراچی بھجوانے کی جھوٹی تسلیاں دیتے ہوئے ان مہینوں دفاتروں اور بینکوں کے چکروں میں ڈال کر سنگین جرائم کیے جارہے ہیں جس میں ایف آئی اے کی جانب سے اس خاموش جرم کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی نہ ہونے سے ہزاروں شہریوں کی جانب سے کروائی گئی مختلف کمپنیوں کی انشورنس پالیسیوں میں اربوں روپے کا فراڈ سامنے آسکتا ہے جبکہ فراڈ کی زد میں آنے والے شہریوں کو ان کی خون پسینے کی کمائی پر پڑنے والے ڈاکے کی ریکوری بھی کی جاسکتی ہے اس حوالے سے جوبلی لائف انشورنس لاہور زون کے مینجر نعمان سے رابطہ کیا گیا تو اس نے موقف اختیار کیا کہ اس کی تعیناتی سے قبل کے فراڈ ہیں اسے معلوم نہیں ہے اس حوالے سے متاثرہ صارفین کے کیس کراچی بھجوائے گئے ہیں تاہم وہ کسی کی پالیسی میں ہونے والے فراڈ پر پیسے دینے کا مجاز نہیں اور نہ ہی ان کی درخواستوں پر عمل درآمد کرنے کا اختیار رکھتا ہے مزید کہا کہ سالوں سے ہیڈ آفس بھجوائی گئی درخواستوں پر ہیڈ آفس سے رابطہ کریں کیونکہ وہ ان درخواستوں کا بھی ذمہ دار نہیں ہے ۔
مستقبل کے سنہرے خوابوں کا جھانسہ دینے والی انشورنس کمپنی کے میگا فراڈ بے نقاب

