All posts by Daily Khabrain

20 سال کی عمر میں ایسے فیصلے کئے جس کا آپ صرف سوچ ہی سکتے ہیں، جسٹن بیبر

اوٹاوا:(ویب ڈیسک) بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار جسٹن بیبر نے نو عمری میں منشیات کا بے دریغ استعمال کرنے کا اعتراف کیا ہے۔جسٹن بیبر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک طویل داستان پر مشتمل مضمون شیئر کیا جس میں انہوں نے نو عمری میں ملنے والی شہرت اور اس کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے حوالے سے اہم انکشافات کئے۔ جسٹن بیبر نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ مجھے 13 سال کی عمر میں ایک موسیقار نے گلوکاری کا موقع دیا،اور یہی ہوا کہ میں نے اپنی گلوکاری کی وجہ سے نو عمری میں اتنی شہرت پائی کہ زندگی کی تمام آسائشیں میرے پاس تھیں، لیکن کم عمری میں ملنے والی شہرت نے زندگی کے بارے میں میری سوچ کو منفی کر دیا تھا،یہاں تک کہ قریبی رشتوں کی قدر ہی نہیں کر پا رہا تھا اور ا±ن کے لئے وبال جان بن گیا تھا۔

بھارت کو ایک اور بڑا سفا رتی دھچکا ،چینی وزیرخارجہ نے دورہ منسوخ کردیا

ممبئی (ویب ڈیسک)چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنا بھارت کا دورہ منسوخ کردیا۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای کو رواں ماہ کی 9 تاریخ کو نئی دہلی پہنچنا تھا جہاں انہیں بھارت کے مشیر برائے قومی سلامتی اجیت دوول سے ملاقات کرنا تھی۔چینی وزیر خارجہ کے بھارت کے ساتھ سرحدی تنازعات کے حوالے سے مذاکرات ہونے تھے لیکن اب چینی وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے باعث بھارت کا دورہ منسوخ کردیا ہے۔

پارک لین اورجعلی بنک اکاونٹس و منی لانڈرنگ ریفرنسز پر سماعت ،بلاول بھی نامزد ملزم ہیں

اسلام آباد: (ویب ڈیسک)احتساب عدالت اسلام آباد میں پارک لین اورجعلی بنک اکاونٹس و منی لانڈرنگ ریفرنسز پر سماعت آج ہو گی۔سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر اڈیالہ جیل سے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج راجہ جواد عباس ریفرنس پر سماعت کریں گے۔ عدالت نے نیب کو آج کی سماعت پر ہر صورت منی لانڈرنگ ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو(نیب) ا?صف زرداری کو پارک لین کیس میں گرفتار کر رکھا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔آصف زرداری پر پارک لین کمپنی اور اس کے ذریعے اسلام آباد میں 2 ہزار 460 کنال اراضی خریدنے کا بھی الزام ہے جب کہ اس کیس میں بلاول بھٹو زرداری بھی نامزد ہیں۔نیب ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں خریدی گئی تقریباً ڈھائی ہزار کنال زمین کی اصل مالیت دو ارب روپے ہے لیکن اسے صرف 62 کروڑ روپے میں خریدا گیا۔

سافٹ ڈرنکس ،جلد موت کا خطرہ بڑھانے والی عام عادت سامنے آگئی

لاہو ر (ویب ڈیسک)پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہارٹ اٹیک یا فالج سے اموات کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ آج کل لوگوں میں پائی جانے والی ایک عام عادت ہے۔یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔امپرئیل کالج لندن کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سافٹ ڈرنکس چاہے وہ چینی سے بنے ہو یا مصنوعی مٹھاس سے، لوگوں میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔اس تحقیق کے دوران 10 یورپی ممالک کے ساڑھے 4 لاکھ افراد سے زائد کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ نکالا گیا کہ رزانہ ان مشروبات کے 2 یا اس سے زائد گلاس پینا کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔محققین نے دریافت کیا کہ مصنوعی مٹھاس سے بنے مشروبات اور دوران خون کی گردش کے امراض سے اموات کے درمیان تعلق ہے جبکہ چینی سے بنی سافٹ ڈرنکس نظام ہاضمہ کے امراض سے موت کا خطرہ بڑھاتی ہے۔اس تحقیق کا آغاز 1992 میں ہوا جس کے دوران لوگوں کے کھانے پینے کی عادات کا جائزہ 2000 تک لیا گیا جبکہ اس کے 16 سالہ بعد ان رضاکاروں کی صحت کا ایک بار پھر معائنہ کیا گیا۔محققین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق سے ان شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ سافٹ ڈرنکس اور امراض قلب یا فالج سے اموات کے درمیان تعلق موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تعلق کافی پیچیدہ ہے اور اسے اتفاق نہیں سمجھا جاسکتا ‘ہم نے دریافت کیا کہ ان مشروبات کا زیادہ استعمال مختلف وجوہات کے بنا پر موت کا خطرہ بڑھاتا ہے’۔

سارے جسم کی صحت کی خبردینےوالی، اے آئی ای سی جی

روچیسٹر، منی سوٹا:(ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت کو عام الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی) پر آزمایا ہے اور اس سے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ پہلے مرحلے میں منصوعی ذہانت (ا?رٹیفیشل انٹیلی جنس) یا اے آئی نے صرف ای سی کو دیکھتے ہوئے مریض کے عمر اور جنس کا بڑی حد تک درست اندازہ لگایا جو ایک اہم پیش رفت ہے۔’سرکیولیشن، اردھمیا اینڈ الیکٹروفزیالوجی‘ نامی جرنل میں شائع ایک رپورٹ میں مایوکلینک کالج ا?ف میڈیسن اینڈ سائنس، روچیسٹر کے ماہرین نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک تربیت یافتہ اے ا?ئی ٹول کو پہلے ہزاروں ای سی جی دکھائی۔ اس پروگرام کو کنویولشنل نیورل نیٹ ورک (سی این این) کہا جاتا ہے۔ماہرین نے ایک دو نہیں بلکہ 500,000 افراد کے ای سی جی استعمال کئے۔ اس کے بعد مزید دو لاکھ پچھتر ہزار لوگوں کے ای سی جی لیے گئے تو اے ا?ئی پروگرام نے نہایت کامیابی سے ای سی جی کے ذریعے مریضوں کی عمر اور جنس کا سراغ لگالیا۔ تاہم سافٹ ویئر نے 90 فیصد درستگی سے بتایا کہ یہ مرد ہے یا عورت اور 72 فیصد درستگی سے عمر کا احوال سنایا۔س کے بعد سائنسدانوں کی ٹیم نے 100 ایسے افراد پر اے ا?ئی کو ا?زمایا جن کے گزشتہ 20 برس کے ای سی جی ایک جگہ موجود تھے۔ اس مرحلے پر معلوم ہوا کہ مصنوعی ذہانت کا پروگرام کسی شخص کے دل کی کیفیت دیکھتے ہوئے ہی اس کی عمر ظاہر کرتا ہے۔دل کے امراض کے شکار افراد کے مریضوں میں سافٹ ویئر نے ان کی عمر زیادہ دکھائی کیونکہ وہ دل کی کیفیت کو دیکھ رہا تھا۔ لیکن دل کے معمولی نقص کے شکار یا مکمل صحتمند افراد میں عمر کا درست حساب لگایا گیا۔ دل کے مریضوں میں اے ا?ئی نے عمر اوسطاً سات برس زیادہ دکھائی تھی۔اس طرح یہ سافٹ ویئر مجموعی طور فعلیاتی اور حیاتیاتی عمر ظاہر کرتا ہے ناکہ اصل عمر دکھاتاہے۔ لیکن ٹھہریئے کہ اسی حیاتیاتی اور فعلیاتی عمر کی وجہ سے ہم معلوم کرسکتےہیں کہ دماغ، دل، جگر اور پھیپھڑوں کی اصل عمر کیا ہے اور اسی بنا پر علاج کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ مختصراً ایک ای سی جی کو اے ا?ئی سے گزارا جائے تو پورے جسم کے دیگر گوشوں سے بھی پردہ اٹھایا جاسکتا ہے اور مجموعی جسمانی صحت کا احوال سامنے ا?تا ہے۔ایک عرصے سے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ انسان کی تاریخی عمر اور اس کے اعضا کی عمر میں فرق ہوتا ہے اور اسی بنا پر اے ا?ئی کی مدد سے ای سی جی کو مزید پڑھ کر انسانی صحت کے کئی گوشوں کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔

پروگرام شدہ اسٹیم سیل سے قرنیے کے پہلے پیوند کا کامیاب تجربہ

جاپان:(ویب ڈیسک) جاپان میں اپنی نوعیت کا پہلا حیرت انگیز تجربہ کیا گیا ہے جس میں انسانی خلیاتِ ساق (اسٹیم سیلز) میں پروگرامنگ کے ذریعے بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس سے انسانی ا?نکھ کا قرنیہ بنایا گیا ہے اور ایک خاتون کو لگایا گیا ہے۔ اس کے بعد خاتون نے اپنی بینائی بہتر ہونے کا اعتراف کیا ہے۔یہ ا?پریشن اوساکا یونیورسٹی کے امراضِ چشم کے ماہر کوہجی نیشیڈا نے کیا ہے۔ ایک خاتون کی ا?نکھ کا اہم ترین حصہ قرنیہ متاثر تھا۔ ا?نکھ کا یہ شفاف حصہ نہ صرف غلافی صورت میں ا?نکھ پر رہتا ہے بلکہ اس کی حفاظت بھی کرتا ہے۔ خاتون کی ا?نکھ کا قرنیہ تباہ ہوچکا تھا اور وہ نابینا پن کی جانب بڑھ رہی تھیں۔علاج کے لیے ڈاکٹروں نے انڈیوسڈ پلوری پوٹینٹ اسٹیم سیلز (ا?ئی پی ایس سی) سے قرنئے کے خلیات پر مشتمل باریک پردہ بنایا۔ یہ خلیات دوسرے فرد سے عطیہ کیے گئے تھے اور انہیں پروگرام کرکے عین انسانی بیضے (ایمبریو) کی صورت دی گئی تھی۔ اسٹیم سیل اس موقع پردیگرکئی اقسام کے خلیات بنائے جاسکتے ہیں جن میں قرنئے کے خلیات بھی شامل ہیں۔کوہجی کےمطابق ا?پریشن کے ایک ماہ بعد خاتون کی بصارت بہترہوری ہے اور انہیں صاف نظر ا?نے لگا ہے۔ واضح رہے کہ ا?ئی پی ایس خلیات کا بنیادی کام جاپان میں ہوا ہے جس پر کیوٹو یونیورسٹی کے پروفیسر شنیا یاماناکا کو نوبیل انعام بھی دیا گیا ہے۔جاپانی ماہرین ا?ئی پی ایس خلیات سے پارکنسن اور حرام مغز کا بیماریوں کا علاج بھی کرچکے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومتِ جاپان نے چار افراد پر استعمال کا اجازت نامہ دیا ہے اور توقع ہے کہ اگلے پانچ برس میں یہ ٹیکنالوجی عام دستیاب ہوگی۔

سعودی و اماراتی وزرائے خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات، کشمیر کی صورتحال پر گفتگو

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان سے پاکستان کے دورے پر آئے سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر اور متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے ملاقات کی۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ وفود کے ہمراہ ایک روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے ہیں، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔بعد ازاں وزیراعظم عمران خان سے سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ کی ملاقات وزیراعظم کے دفتر میں ہوئی جس میں مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے وزیرخارجہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ کی مشترکہ ملاقات ہوئی۔اعلامیے کے بتایا گیا کہ وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش سے آگاہ کیا اور مقبوضہ کشمیر سے کرفیو فوری طور پر اٹھانے پر زور دیا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی بلیک آو¿ٹ پر بھی اظہار تشویش کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں نقل و حرکت اور مواصلات پر پابندیاں فوری اٹھانے پر زور دیا۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات خطے کے امن اور سیکیورٹی کیلئے سنگین خطرہ ہیں، عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ بھارت کو غیرقانونی اقدامات روکنے اور واپس لینے پر زور دے، سعودی عرب اور یو اے ای کا اس سلسلے میں اہم کردار ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے عالمی توجہ ہٹانے کیلئے جعلی فلیگ آپریشن کا خدشہ ہے۔اعلامیے کے مطابق سعودی عرب اور اماراتی وزرائے خارجہ کا موقف تھا کہ اپنی حکومتی قیادت کی ہدایت پر پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان کے سعودی اور اماراتی تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا اور علاقے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا۔اعلامیے کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال بگڑنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سعودیہ اور امارات موجودہ چیلنجز سے نمٹنے، کشیدگی کے خاتمے اور امن و سلامتی کے ماحول کے فروغ کیلئے رابطے میں رہیں گے۔
’مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب اور امارات کی حمایت سے متعلق ابہام دور ہوگیا‘
علاوہ ازیں سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر اور اماراتی وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید بن سلطان نے وفود کے ہمراہ وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وزیر خارجہ شاہ محمود کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو مقبوضہ وادی کی صورتحال سے آگاہ کیا، مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب اور امارات کی حمایت سے متعلق ابہام دور ہوگیا ہے، سعودی عرب اور امارات ہمیں مایوس نہیں کریں گے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیویارک میں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) رابطہ گروپ کے تحت ملاقاتیں کریں گے، مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس اجلاس کیلئے سعودی اور اماراتی تائید حاصل ہوگئی ہے۔شاہ محمود قریشی کے مطابق ایک ملک کے پاس سربراہی اور دوسرے کے پاس او آئی سی کی وزارتی چیئر ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے تذویراتی تعلقات بہت مضبوط ہیں۔یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے 31 ویں روز بھی مسلسل لاک ڈاﺅن جاری ہے جس کے باعث وادی میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے، بچوں کے دودھ، جان بچانے والی ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہے۔ قابض بھارتی فوج نے مواصلات کا نظام بھی بالکل منقطع کررکھا ہے، مقبوضہ وادی میں ٹیلیفون، موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سروس بالکل بند ہے۔

ہانگ کانگ کا ملزمان کی حوالگی کے متنازع بل سے مکمل دستبرداری کا اعلان

کولون(ویب ڈیسک)ہانگ کانگ کی چیف ایگزیکٹو کیری لیم نے ملزمان کی چین حوالگی سے متعلق متنازع بل سے مکمل دستبرداری کا اعلان کردیا۔ہانگ کانگ نے ملزمان کی چین حوالگی سے متعلق متنازع بل کو رواں سال اپریل میں متعارف کرایا تھا جس کے تحت جرائم میں ملوث افراد کو چین کے حوالے کیا جانا تھا تاہم ہانگ کانگ میں شدید اور پرتشدد احتجاج کے باعث انتظامیہ نے اس بل کو جون میں معطل کیا۔کیری لیم نے کہا تھا یہ بل مر چکا ہے مگر انہوں نے بل کی مکمل دستبرداری کچھ عرصے کے لیے روک دی تھی۔ہانگ کانگ میں احتجاجی مظاہرین بل کی معطلی کے بعد بھی سراپا احتجاج تھے اور ان کے پانچ مطالبات میں سے ایک بنیادی مطالبہ بل سے مکمل دستبرداری تھی جب کہ مظاہرین مکمل جمہوری حقوق کا مطالبہ بھی کررہے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بدھ کے روز ٹیلی ویڑن پر خطاب کرتے ہوئے کیری لیم نے احتجاج کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد کی تحقیقات کا مطالبہ ماننے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف پولیس کریک ڈاﺅن سے متعلق چلنے والی تحقیقات میں مزید دو سینئر افسران شامل ہوں گے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک لیک ہونے والی آڈیو ٹیپ بھی سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پر کیری لیم ہانگ کانگ میں ہونے والے مظاہروں کا ذمہ دار خود کو ٹھہرا رہی ہیں۔ہانگ کانگ حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے متنازع بل کو مظاہرین نے ملک کی قانونی آزادی کو کم کرنے کے مترادف قرار دیا تھا جب کہ بل کے بعد مظاہرین مسلسل 14 ہفتے سے احتجاج کررہے ہیں جس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین احتجاج کے دوران ہونے والی گرفتاریوں پر ایمنسٹی سمیت بڑی سیاسی اصلاحات بھی چاہتے ہیں۔

کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 73 فیصد کمی آئی ہے، مشیر خزانہ

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو درست سمت گامزن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدات کو بڑھا کر کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں 73 فیصد کمی لائی گئی ہے۔اسلام آبادمیں وفاقی وزراکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پوری معاشی ٹیم کوشش کررہی ہے کہ اس ملک کی اقتصادی صورت حال کو بہتر کی جائے اور خصوصی طور پر پاکستانی عوام کی زندگی میں خاطر خوا بہتری لائی جائے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب یہ حکومت بنی تو بڑی دقت والی صورت حال تھی، پاکستان کے قرضے 30 ہزار ارب سے زیادہ تھے اور ساتھ ہی ساتھ برآمدات اور درآمدات میں خلا بہت بڑھ گیا تھا تو پہلے سال میں کوشش کی گئی کہ استحکام دیا جائے’۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘آئی ایم ایف سے پروگرام کیا گیا جس کو ساری دنیا میں سراہا گیا، ساتھ ہی ساتھ ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ہمارے خصوصی دو طرفہ دوستوں سے معاشی تعلقات میں اضافہ کرکے اس صورت حال کو بہتر کیا گیا’۔حکومت اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘معاشی پالیسیاں بنائی گئیں جس میں امپورٹس میں کمی کرکے کرنٹ اکاو¿نٹ ڈیفسٹ کو بہتر کیا گیا، پھر ایک ایسا بجٹ لایا گیا جس میں ایکسپورٹر پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا اور کمزور طبقے کے بجٹ میں سو فیصد اضافہ کیا گیا یعنی ایک سو سے 192 ارب روپے رکھے گئے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ملک کی معیشت کو چلانے میں سب سے بڑا ہاتھ نجی شعبے کا ہے جس کو زبردست مراعات دی گئیں، ان کے لیے بجلی، گیس اورقرضوں میں سبسڈی دی گئی اور اقتصادی زونز بنانے کی پروگرام شروع کیے گئے اور بجلی کی سپلائی کو بہتر کیا گیا تاکہ ملک کے اندر روزگا پیدا کرسکے اور برآمدات میں اضافہ کیا جاسکے’۔عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ‘کفایت شعاری کا زبردست کا پروگرام اپنایا گیا جس کے تحت سول حکومت کے اخراجات میں 50ارب روپے کمی کی گئی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘فوج کے اخراجات کو منجمد کیا گیا، بڑے جو لوگ ہیں، جنرلز ہوں یا حکومت کے سیکریٹریز ہوں ان کی تنخواہوں کو منجمد کیا گیا، کابینہ کی تنخواہیں گرائی گئیں اور کوشش کی گئی کہ ایسا نظام ہو جس میں کفایت شعاری ہو اور اخراجات میں کمی ہو ’۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ‘جن علاقوں میں ترقی نہیں ہوسکی ہے ان کو اضافی رقم دی گئی ہے، قبائلی علاقوں کی ترقی کیلیے 150ارب روپے رکھے گئے تاکہ وہاں بھی پاکستان کے دیگر علاقوں کی بنیادی سہولیات دی جائیں’۔
برآمدات میں اضافہ
مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے حکومت کی حالیہ مہینوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘برآمدات پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھی ہیں، جولائی میں یہ دو اعشاریہ دو تین ارب ڈالر تھا جو پچلے سال دو اعشاریہ صفر ایک ارب تھا اور یہ ایک اچھی چیز ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘درآمدات میں کمی آئی جو 4 اعشاریہ ایک ارب تھی لیکن پچھلے سال یہی ساڑھے پانچ ارب تھا جس سے کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے میں 73فیصد کمی آئی جو ایک بنیادی نمبر ہے’۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ‘جولائی اگست کے دوران 580ارب ریونیو جمع کیا گیا پچھلے سال پہلے دو ماہ میں 509 ارب تھا گویا ریونیو کی مد میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا’۔انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں پچھلے سال 19 لاکھ لوگ ٹیکس دہندگان تھے لیکن ہماری حکومت میں یہ تعداد 25 لاکھ تک پہنچائی گئی یعنی 27 فیصد تک برھایا گیا’۔مشیر خزانہ نے کہا کہ تصدیق شدہ سیلز ٹیکس ریفنڈ جتنے بھی پرانے ہوں ان کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس میں 10 ہزار شامل ہیں اور 2015 سے جو اٹکے ہوئے تھے وہ فوری ریفنڈ کردیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس میں درمیانی طبقے کے جتنے بھی ریفنڈ پھنسے ہوئے ہیں ان کو مکمل واپس کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 2015 سے اب تک جس نے بھی دعویٰ کیا ہے اس کو واپس کردیا جائے گا جو ایک لاکھ روپے تک ہے اور آنے والے مہینوں میں بڑے ٹیکس دہندگان کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ نظام میں برآمدکنندگان کو ریفنڈ میں دقتیں آرہی تھیں ، جس پر ہم نے فیصلہ کیا کہ ایسا نظام لائیں گے جس میں کوئی مداخلت نہیں کرسکے گا اور کوئی رپورٹ یا تصدیق کا سلسلہ نہیں ہوگا بلکہ ایف بی آر کے ذریعے ہوگا اور برآمدکنندگان کو فوری طور پر ہر مہینے کی 16تاریخ کو ٹیکس ریفنڈ کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ نظام 23 اگست سے نافذالعمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس پروگرام کو ہم فاسٹر کا نام دے رہے ہیں’۔مشیر خزانہ نے کہا کہ سیلولر کمپنیوں اور حکومت کے درمیان ایک کنفیوڑن تھی اور یہ معاملہ عدالت میں ہے لیکن گزشتہ ایک دو روز میں سیلولر کمپنیوں نے حکومت کو 70ارب روپے دیے ہیں اور عدالت سے فیصلہ ہمارے حق میں آیا تو مزید اضافہ ہوگا۔عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پروجیکٹس کے حوالے سے حکومت کی سب سے بڑی فیصلہ سازی باڈی ایکنک نے 579ارب روپے کے منصوبے منظور کیے جس میں خاص بات زراعت کے شعبے کے لیے 250 ارب رکھے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ معیشت کی بڑھوتری کے لیے جو2.4 فیصد کا ہدف رکھا ہے اور مجھے یقین ہے ہم اس کو نہ صرف آرام سے حاصل کریں گے بلکہ اس سے کافی بہتر کارکردگی دکھائیں گے جس کی ایک خاص وجہ زراعت پر توجہ ہے کیونکہ گزشتہ پانچ سال میں زرعی شعبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔زراعت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘پانچ سال کے دوران زرعی شعبے میں ترقی نہیں ہوئی بلکہ منفی تھی لیکن توقع ہے کہ زرعی شعبے میں ترقی ساڑھے تین فیصد ہوگی’۔مشیرخزانہ نے کہا کہ ‘ہم نےخصوصی طور پر سرکاری منصوبوں کا فیصلہ کرنے کے انداز میں بڑی تبدیلی لائی ہے، پہلے تین ارب سے زائد کے ہر منصوبے کو ایکنک میں لایا جاتا تھا لیکن ہم نے فیصلہ کیا کہ دس ارب سے بڑا پراجیکٹ ایکنک میں آئے ورنہ اس کو وہاں لانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ نچلی سطح پر فیصلہ کیا جائے ، دو سے لے کر 10 ارب تک ہم نے سی بی ڈبلیو پی کے حوالے کردیا تاکہ منصوبوں کی منظوری میں تیزی ہو’۔عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ‘توانائی کے شعبے میں 8 ماہ کے اندر 120 ارب کے ریونیو میں اضافہ کیا گیا اور 100 ارب روپے بچائے گئے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کی معیشت میں گردشی قرضے بڑے مسئلہ رہے ہیں جس میں 38 ارب روپے کا اضافہ ہورہا تھا لیکن ابھی جولائی میں 10 ارب روپے تک آگئی اور 28 ارب بچائے گئے ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ اس کو صفرتک لے جایا جائے’۔’

منی لانڈرنگ،اثاثہ جات کیس: حمزہ شہباز 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل

لاہور(ویب ڈیسک)لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔مسلم لیگ (ن) کے نائب صدر حمزہ شہباز کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے رمضان شوگر ملز، منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات کا سامنا ہے۔لیگی رہنما کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں 14 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر لاہور کی احتساب عدالت کے جج امیر محمد خان کے روبرو پیش کیا گیا۔نیب کی جانب سے حمزہ شہباز کے 5 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔عدالت نے نیب کے تفیشی سے استفسار کیا کہ حمزہ شہباز کا ریمانڈ کیوں چاہیے۔تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہمیں وزیر اعلیٰ آفس سے کچھ ریکارڈ ملا ہے، علی احمد خان اور مہر نثار احمد گل یہ دونوں وزیر اعلیٰ آفس میں ملازم ہیں، دونوں کے ناموں پر بے نامی کمپنیاں بنائی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) اور دیگر اداروں سے ریکارڈ منگوایا ہے جو نیب کو موصول ہو گیا ہے۔عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے چنیوٹ والی جائیداد کا بھی ریکارڈ لیا ہے۔نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ جی، چنیوٹ کی ساری پراپرٹی سے متعلق بھی تمام ریکارڈ اکٹھا کر لیا ہے اور تفتیش مکمل کرنے کے لیے حمزہ شہباز کا جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔اس موقع پر لیگی رہنما کے وکیل نے نیب کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جن دو افراد کا نام لیا گیا ہے ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، نیب کہانی بنا رہا ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ حمزہ شہباز کے جسمانی ریمانڈ کی نیب کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کا جوڈیشل ریمانڈ دیا جائے۔عدالت نے نیب کی حمزہ شہباز کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی اور انہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر لاہور کی کیمپ جیل بھیج دیا۔یاد رہے کہ خیال رہے کہ حمزہ شہباز کو منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق مقدمات میں 11 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔