All posts by Daily Khabrain

ٹیسٹ اوپنر احمد شہزاد پی سی بی کی وضاحت پر خاموش

کراچی(ویب ڈیسک) آج سے چھ روز قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اپنے سوشل میڈیا اکاو¿نٹ پر پیغام چھوڑا ’ایک کھلاری کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا ہے، البتہ قواعد و ضوابط کے مطابق اس کر کٹر کا نام ظاہر نہیں کیا جاسکتا۔‘ تاہم اب واضح ہے کہ وہ کھلاڑی کوئی اور نہیں 26 سالہ احمد شہزاد ہیں۔اطلاعات کے مطابق رواں سال مئی میں جب احمد شہزاد فیصل آباد میں پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ میں بلوچستان کے کپتان تھے،تب ان کا ڈوپ ٹیسٹ لیا گیا تھا،جس کا نتیجہ اوپنر کے لئے مشکلات کا سبب بنا رہا ہے۔پی سی بی ذرائع کے مطابق احمد شہزاد سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی گئی ہے تاہم فی الحال دائیں ہاتھ کے بیٹس مین نے کوئی جواب داخل نہیں کروایا۔پاکستان کے لئے انٹرنینشل کرکٹ میں دس سِنچریاں بنانے والے احمد شہزاد کے بارے میں کیا ڈوپ ٹیسٹ کے معاملے میں سست روی سے کارروائی آگے بڑھائی جا رہی ہے، یا پھر احمد شہزاد کو بچا نے کی کوشش کی جا رہی ہے؟۔ان دونوں باتوں کا جواب نفی میں ہوگا،سیدھا مطلب ڈوپ ٹیسٹ کے قوانین اور قواعد ہیں جسے پاکستان کرکٹ بورڈ اپنا رہا ہے۔ اس معاملے میں پی سی بی نے احمد شہزاد کے ڈوپ ٹیسٹ کی رپورٹ کے حوالے سے اس لیبارٹری سے مزید کچھ تفصیلات بھی مانگی ہیں جہاں احمد شہزاد کے ڈوپ ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت قرار دی گئی ہے۔کیس میں تمام متعلقہ دستاویزی ثبوت آنے کے بعد احمد شہزاد کا جواب اہم ہوگا، جو ابھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔اگر ٹیسٹ اوپنر اس کیس میں اپنی غلطی مان لیتے ہیں تو ان کو اطلاعات کے مطابق کم ازکم تین سے چھ ماہ کی سزا کا سامنا ہوگا۔بصورت دیگر اگر احمد شہزاد ڈوپ ٹیسٹ کیس میں خود کا دفاع کرتے ہیں اور وہ غلط ثابت ہو جاتے ہیں تو پھر انہیں دو سے چار سال کی سخت سزا کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔

فکسنگ کے انکشافات:عمر اکمل کی اینٹی کرپشن یونٹ میں پیشی

کراچی(ویب ڈیسک) اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش سے متعلق ٹیسٹ کرکٹر عمر اکمل سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے تحقیقات شروع کردیں۔عمر اکمل کی لاہور میں پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ کرنل ریٹائرڈ اعظم کے سامنے پیش ہوئے۔ذرائع کے مطابق کرنل ریٹائرڈ اعظم نے دو سے ڈھائی گھنٹے تک عمر اکمل سے سوال جواب کیے۔اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عمر اکمل اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہوئے۔پی سی بی کے مطابق عمر اکمل کو 27 جون کو اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم کرکٹر نے درخواست کی کہ مصروفیات کی وجہ سے 27 جون کی بجائے وہ آج ہی پیش ہونا چاہتے ہیں۔پی سی بی کے مطابق عمر اکمل کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے ان کا انٹرویوآج ہی منعقد کیا گیا۔بورڈ کا کہنا ہے کہ عمر اکمل کے بیان کا معاملہ فی الحال زیر غور ہے اور جلد اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔خیال رہے کہ میچ فکسنگ کی پیشکش کے حوالے سے بیان دینے پر پی سی بی نے عمر اکمل کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہوا ہے اور انہیں 27 جون کو بھی اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمر اکمل کو اپنے بیان پر پچتاوا ہے اور انہوں نے سینئر ساتھیوں اور قانون دانوں سے مشورے شروع کردیے ہیں۔پاک بھارت ورلڈ کپ میچ میں فکسنگ کی پیشکش، عمر اکمل نے پنڈورا بکس کھول دیا۔عمر اکمل نے اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں 2015 کے ورلڈ کپ میں میچ فکس کرنے کی پیشکش ہوئی تھی۔ایک نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے عمر اکمل نے کہا تھا کہ ورلڈ کپ میں دو گیندیں نہ کھیلنے پر دو لاکھ ڈالرز کی پیشکش ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ جب بھی میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف کھیلتا مجھے پیشکش کی جاتی تھی کہ میچ نہ کھیلوں اس کے عوض مجھے پیسوں کی پیشکش کی جاتی تھی لیکن میرا سٹے بازوں کو ہمیشہ یہی جواب ہوتا ہے کہ میں اپنے ملک کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں۔تاہم عمر اکمل نے یہ نہیں بتایا کہ انہوں نے ان پیشکشوں کی اطلاع ٹیم انتظامیہ کو دی تھی یا نہیں۔ اآئی سی سی قوانین کے تحت اگر کسی کھلاڑی کو سٹے باز کی جانب سے پیشکش ہوتی ہے تو اسے اس کی اطلاع ٹیم انتظامیہ کو کرنا ہوتی ہے۔ٹیسٹ کرکٹر عمر اکمل ایک سال سے زائد عرصے سے پاکستانی ٹیم کا حصہ نہیں ہیں۔ وہ کرکٹ کھیلیں یا نہیں ہمیشہ خبروں میں رہتے ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ برس آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی سے عمر اکمل ان فٹ قرار دے کر واپس بھیج دیا گیا تھا جس کے بعد عمر اکمل پاکستانی ٹیم میں واپسی کے لیے غیر معمولی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔پاکستان سپر لیگ میں بھی لاہور قلندرز کی جانب سے وہ مسلسل ناکام رہنے کے بعد ٹیم سے ڈراپ ہوگئے تھے۔

غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک سپر ہیرو خاندان کا دنیا میں راج

کراچی(ویب ڈیسک)عالمی باکس آفس پر جہاں 10 دن پہلے تک بے قابو ڈائنو سارز یعنی ہولی وڈ سائنس فکشن فلم ’ جراسک ورلڈ: فالن کنگ ڈم‘ کا راج تھا۔اب وہیں باکس آفس پر غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل اینیمیٹڈ سپر ہیرو خاندان کا راج ہے، جو مشکل میں پھنسے افراد کی مدد کو ہر وقت تیار رہتے ہیں۔اینیمیٹڈ سپر ہیرو فنٹیسی فلم ’انکریڈیبلز 2‘ نے جہاں ابتدائی 3 دن میں دنیا بھر سے 18 کروڑ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 18 ارب روپے سے زائد پیسے بٹورے تھے، اب اس نے ابتدائی 10 میں کمائی کا نیا سنگ میل عبور کرلیا۔نشریاتی ادارے ’ڈیڈ لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق سپر ہیرو اینیمیٹڈ فلم ’انکریڈیبلز 2‘ نے دنیا بھر سے ریلیز کے ابتدائی 10 دن میں 48 کروڑ 50 لاکھ ڈالر یعنی پاکستانی 50 ارب روپے سے بھی زائد پیسے بٹورے۔یہ پہلا موقع ہے کہ اینیمیٹڈ فلم نے ابتدائی 10 میں اتنی کمائی کی۔اینیمیٹڈ سپر ہیرو فلم کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں 15 جون کو ریلیز کیا گیا تھا، جس نے ابتدائی دن ہی دنیا بھر میں ریکارڈ کمائی کرکے دیگر فلموں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔’انکریڈیبلز 2‘ والٹ ڈزنی کی 2004 میں ریلیز ہونے والی فنٹیسی اینیمیٹڈ سپر ہیرو فلم ’انکریڈیبلز‘ کا سیکوئل ہے۔فلم کی کہانی ایک ایسے سپر ہیرو خاندان کے گرد گھومتی ہے جو مشکل میں پھنسے لوگوں کی مدد کرتا ہے۔فنٹیسی فلم کی پہلی فلم میں صرف سپر ہیرو ہی لوگوں کی مدد کرتا ہے، تاہم دوسری فلم میں وہ اپنے خاندان سمیت مشکل میں پھنسے لوگوں کی مدد کرتا نظر آتا ہے۔دوسری جانب ڈائنا سورز پر مبنی سائنس فکشن فلم ’جراسک ورلڈ: فالن کنگ ڈم‘ کو بھی امریکا میں ریلیز کردیا گیا، جہاں اس نے ابتدائی 2 دن میں 15 کروڑ ڈالر یعنی 15 ارب روپے سے زائد کی کمائی کرلی۔’جراسک ورلڈ: فالن کنگ ڈم‘ کو شمالی امریکا سمیت چند دیگر ممالک میں بھی ریلیز کردیا گیا۔اس فلم کو دنیا بھر میں مختلف مراحل میں ریلیز کیا گیا، سب سے پہلے اس فلم کو رواں ماہ 7 جون کو چند ممالک میں ریلیز کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے مختلف دنوں میں ریلیز کیا جاتا رہا۔’جراسک ورلڈ: فالن کنگ ڈم‘ کو چین میں 15 جولائی کو ریلیز کیا گیا تھا۔ڈائنا سورز فرنچائز فلم نے اب تک دنیا بھر سے مجموعی طور پر 71 کروڑ 15 لاکھ ڈالر سے زائد کی کمائی کرلی۔

 

سپہ سالار کی نگران وزیر اعظم سے ملاقات ،اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات وزیراعظم آفس میں ہوئی۔ا نگراں وزیراعظم جسٹس (ر) ناصرالملک اور اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ملاقات وزیراعظم آفس اسلام آباد میں ہوئی۔ ترجمان وزیراعظم کے مطابق نگران وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات میں ملک میں ہونے والے عام انتخابات سے متعلق بات چیت اور تیاریوں پر گفتگو کی گئی جب کہ پاک فوج کے پیشہ وارانہ امور و صلاحیتوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس سے قبل نگراں وزیراعظم ناصرالملک کی زیر صدارت عام انتخابات سے متعلق اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، آئی جیز اور الیکشن کمیشن حکام بھی شریک تھے، اجلاس کے دوران چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے انتظامی معاملات پر شرکا کو آگاہ کیا،چاروں صوبائی آئی جیز نے سیکیورٹی انتظامات سے متعلق رپورٹ پیش کی، الیکشن کمیشن نے پولنگ اسٹیشنز اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی پر بھی بریفنگ دی۔ الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران سیکورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے جارہے ہیں۔نگراں وزیر اعظم نے انتخابات کے حوالے سے کی جانے والی تیاریوں پر اظہار اطمینان کیا، انہوں نے کہا کہ صاف ، شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا بروقت انعقاد نگراں حکومت کی ذمہ داری ہے اور انتخابات 25 جولائی کو ہی ہوں گے۔

عافیہ صدیقی کی وطن واپسی بارے وہی ہوا جس کا ڈر تھا ،سپریم کورٹ سے اہم خبر آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے عافیہ صدیقی کی واپسی سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست خارج کردی ہے۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے عافیہ صدیقی کی وطن واپسی سے متعلق ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے کہا وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کیا تھا اور ایشو عافیہ صدیقی کی شہادت کا تھا، خدشہ تھا کہیں عافیہ صدیقی کی شہادت تو نہیں ہوگئی تاہم اب وزارت خارجہ کا جواب آگیا ہے، عافیہ صدیقی ماشاءاللہ حیات ہیں۔چیف جسٹس نے درخواست گزار سے کہا کہ عدالت امریکا کو ہدایات نہیں دے سکتی، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی طرف سے امریکی سپریم کورٹ میں دعویٰ دائر کریں۔ ڈاکٹر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کے وکیل نے کہا کہ پاکستانی شہری کے بھی بنیادی حقوق ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں امریکا میں عافیہ صدیقی کے معاملے پر کردار ادا نہیں کر سکتیں، ہم نے وہ کام کروانیں ہیں جو ہم کرسکتے ہیں، ہمارا حکم امریکی عدالت اٹھا کر پھینک دے تو ہماری عدلیہ کی کیا عزت ہوگی۔ عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد عافیہ صدیقی کی واپسی سے متعلق ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست خارج کردی۔

اگر ایسا ہے تو کالا باغ ڈیم نہیں بننے دینگے ،شہباز شریف کا چونکا دینے والا اعلان ،سب حیران

کراچی(ویب ڈیسک) مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم بہت ضروری ہے لیکن اسے قومی وحدت کی قیمت پر کسی صورت نہیں بننا چاہیے۔کراچی میں تقریب سے خطاب کے دوران سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جھوٹ کے بجائے اپنی کارکردگی پر بات کرنا چاہیے، 2014 کے دھرنوں کی وجہ سے سی پیک ایک سال تاخیر کا شکار ہوا اور دھرنے دے کر 7 ماہ تک پاکستان کو مکمل بند کیا گیا۔شہباز شریف نے کہا کہ 2013 میں اندرون سندھ میں 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، کراچی میں دہشت گردی، بھتہ مافیا اور بوری بند لاشیں ملنا معمول تھا تاہم ہماری حکومت نے کراچی سے دہشت گردی ختم کرنے کا ا?پریشن شروع کیا جب کہ ا?ج تک کراچی کو معاشی حق نہیں دیا گیا، ماضی کی حکومت نے کراچی کے شہریوں کو ٹینکر مافیا سے نجات نہیں دلائی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے چار بڑے ایشوز کو سیاسی جماعتوں سے مل کر حل کریں گے، بجلی اور پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے جتنا بھی پیسہ لگا، ہم لگائیں گے، عوام نے دوبارہ موقع دیا تو کراچی کا کوڑا 6 ماہ میں اٹھوائیں گے۔ پبلک ٹرانسپورٹ بھی کراچی کے شہریوں کا حق ہے، میٹرو بس اور اورنج لائین لاہور کے بجائے پہلے کراچی میں لگنا چاہیں تھیں۔صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ پانچ سال کے دوران ہم نے کارکردگی کا معیار قائم کردیا، نئے لگنے والے 4 نئے پاورپراجیکٹ کی ورک ایفیشنسی گدو پلانٹ سے 10 فیصد زیادہ ہیں، ان 4 پلانٹس کے لگانے میں ایک سوبارہ ارب روپے کی بچت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی وحدت کی قیمت پر کالاباغ ڈیم نہیں بننا چاہیے، بھاشا ڈیم پانی کے مسئلے کا حل ہے جس کے لیے زمین خرید کر سو ارب انوسٹ کردیے جب کہ ڈیم سے 4 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی، اور اب ہمیں ہندوستان کے ساتھ معاشی جنگ جیتنی ہے۔

کشادہ مکان برائے فروخت ،قیمت جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

ہیوسٹن، ٹیکساس(ویب ڈیسک) اگر آپ پاکستانی سیاستدانوں کی وسیع و عریض جائیدادوں کی انتہائی کم قیمت دیکھ کر حیران ہیں تو مزید حیران ہونے کےلیے تیار ہوجائیے کیونکہ امریکی ریاست ٹیکساس میں 6708 مربع فٹ (745 مربع گز) رقبے پر پھیلا ہوا ایک مکان صرف ”1 ڈالر“ (ایک ڈالر) میں فروخت کےلیے پیش کردیا گیا ہے۔بیری لیف کورٹ، ہیوسٹن میں واقع یہ مکان 5 بیڈرومز، ایک چھوٹے اور دو بڑے باتھ رومز، وسیع لاو¿نج اور باغیچے پر مشتمل ہے جسے اس کے مالک نے صرف ”1 ڈالر میں برائے فروخت“ کا اشتہار لگا کر سب لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔البتہ پوری بات صرف اتنی سی نہیں بلکہ اس مکان کے مالک نے اشتہار میں ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ خریدار اس مکان کو خریدنے کےلیے ”بہترین قیمت“ لگائیں جبکہ اس کی کم سے کم ممکنہ قیمت ایک ڈالر متعین کی گئی ہے۔اس دلچسپ حرکت کا مقصد مذکورہ مکان کی موزوں ترین قیمتِ فروخت کا تعین کرنا ہے۔ تاہم گزشتہ برس جمع کرائی گئی ٹیکس دستاویزات میں اس مکان کی قیمت ڈھائی لاکھ ڈالر ظاہر کی گئی تھی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے شہباز شریف کو دن میں تارے دکھا دئیے ،چونکا دینے والا انکشاف

اسلام آباد(ویب ڈیسک)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانی کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ شہباز شریف نے خود کو ہر ادارے کا انچارج بنایا ہوا تھا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جڑواں شہروں میں پانی کی قلت پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے نگراں حکومت کے حوالے سے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت ابھی تک اپنے بندے پورے نہیں کر سکی، کیا حکومت صرف پانچ وزرائ کے ساتھ چل سکتی ہے؟ پانی و بجلی کے امور پر ہنگامی صورتحال میں کام کرنا ہوگا، وزیراعظم سے درخواست کروں گا پانی اور بجلی کے معاملے کو خود دیکھیں، نگراں وزیراعظم پانی کی قلت پر اجلاس بلائیں، جب تک مسئلے کا حل نہ نکلے مت اٹھیں، تمام ذمہ دار حکام کو ایک ساتھ ملکر فیصلہ کرنا ہو گا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو پیش ہوکر بتایا کہ اسلام آباد کی روزانہ کی ضرورت 120ملین گیلن ہے تاہم شہری علاقوں میں 58.71 ملین گیلن روزانہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ سی ڈی اے حکام نے کہا کہ 24 گھنٹے پانی کی فراہمی دیں تو سات روز میں پانی کے ذخائر ختم ہو جائیں۔ میونسپل کارپوریشن حکام نے بتایا کہ حکومت نے کارپوریشن کو ایک پیسہ نہیں دیا، تنخواہ کے واجبات بھی سی ڈی اے سے لیکر ادا کرتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے خود کو ہر ادارے کا انچارج بنایا ہوا تھا، کوشش کرتا ہوں ایگزیکٹو کی حدود میں نہ جاو?ں، ہم اپنے اختیارات کے اندر رہ کر ہدایات جاری کر سکتے ہیں، پانی کے مسئلے کا حل وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد کے لوگ پانی کے بغیر تو نہیں رہ سکتے، شہر کی آدی آبادھی پانی سے محروم ہے، منصوبے افسر شاہی کا شکار ہو کر بند بھی ہو جاتے ہیں، رپورٹس آ جاتی ہیں مگر پیش رفت کچھ نہیں ہوتی، ہر ادارہ دوسرے پر ذمہ داری ڈال دیتا ہے، مجھے بتا دیں وفاقی حکومت کیا ہے میں اسے بلا لیتا ہوں، پانی کی قلت کا ذمہ دار کون ہے اور قلت کو دور کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا، پالیسی پر عمل نہ کرنے والے ذمہ داری پہلے لوگوں پر ڈال دیں گے۔سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ سیکرٹریز اور وفاقی وزیر کو طلب کرلیا۔