All posts by Daily Khabrain

ڈولفن سکواڈکا فوری ایکشن ، میٹرو بس سٹیشن کے عملے کی خاتون مسافر سے بدتمیزی

  1. لاہور (ویب ڈیسک )ڈولفن سکواڈ نے پولیس ایمرجنسی 15 کی کال پر فوری ایکشن لیتے ہوئے میٹروبس اسٹیشن نمبر 2 نیازی چوک پر خاتون مسافر سے عملے کی تلخ کلامی اور گالی گلوچ کرنے پر نہ صرف معاملے کو فوری طور پر سنبھالا بلکہ خاتون کیساتھ بد تمیزی کی معذرت بھی کراوائی ۔

لاہور ہائیکورٹ کا غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا حکم

لاہور(ویب ڈیسک)\ہائیکورٹ نے غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرکے تقسیم کار کمپنیوں کو بجلی کی بندش کی تفصیلات ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دے دیا۔لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس شاہد کریم نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی درخواست پر بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کےخلاف درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ بجلی کی اعلانیہ و غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے صارفین کو سخت پریشانی کاسامنا ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا حکم دے۔

روس میں فٹبال کا عالمی میلہ، حکومت نے روسی خواتین کو میچز دیکھنے کیلئے آنیوالے سیاحوں کیساتھ انتہائی شرمناک کام کی کھلی چھٹی دیدی

ماسکو ( ویب ڈیسک ) روسی حکومت نے اپنے ہی ملک کی سینئر خاتون قانون دان کی روسی خواتین کوغیر ملکیوں سے جنسی تعلق رکھنے سے گریز کی اپیل نظر انداز کرتے ہوئے خواتین کیلئے جنسی تعلق کی کھلی چھوٹ دے دی ۔ ماسکو حکومت نے کہا ہے کہ روسی خواتین اپنے ذاتی معاملات خود طے کر سکتی ہیں اور عالمی کپ مقابلوں کے دوران وہ اگر کسی کے ساتھ جنسی رابطہ پیدا کرنا چاہتی ہیںتو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہو گا۔کریملن کی طرف سے روسی خواتین کی ذاتی زندگی پر یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا گیا ہے، جب روسی خاتون قانون دان تامارا پلینٹنوا نے کہا تھا کہ روسی خواتین ورلڈ کپ مقابلوں کو دوران روس آنے والے سیاحوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے نے سے گریز کریں کیونکہ یوں ’روسی نسل‘ مخلوط ہو جانے کا خدشہ ہو گا۔ تاہم روسی حکومت نے اس سینیئر قانون دان کے اس تجویز کے جواب میں کہا کہ روسی خواتین جس کے ساتھ چاہیں، سوئیں۔70 سالہ خاتون سیاستدان تامارا پلینٹنوا روسی پارلیمان میں امور خانہ داری امور کی چیئرپرسن ہیں۔ وہ پہلے بھی خبردار کر چکی ہیں کہ غیر ملکیوں سے جنسی رابطے کے نتیجے میں ایسا ممکن ہے کہ روسی خواتین ’کسی اور نسل‘ کے بچوں کی نشوونما کر رہی ہوں۔ نسل پرستی پر مبنی ان کا یہ بیان فٹ بال کے عالمی منتظم ادارے فیفا کی بنیادی اقدار سے متصادم تھا۔ فیفا نسل پرستی کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ایک ریڈیو پروگرام میں انہوں نے اپنے اس خدشے کا اظہار کہ روسی نسل خراب ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی کپ مقابلوں کے دوران روس میں ایسی نوجوان خواتین ہوں گی جو کسی سے ملیں گی اور ان کے بچوں کو جنم دے دیں گی‘۔ اس معمر سیاستدان نے مزید کہا، ”مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں ہو گا۔اس متنازعہ بیان میں تامارا پلینٹنوا نے مزید کہاکہ ہمیں صرف اپنے بچوں کو ہی جنم دینا چاہیے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شادی کے نتیجے میں روسی خواتین کو اپنا وطن چھوڑ کر کہیں اور بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ1980ءمیں روس میں اولمپک مقابلوں کا انعقاد کیا گیا تھا اور اس دوران غیر ملکی سیاحوں نے روسی خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کیے اور بچے پیدا کرنے کے بعد انہیں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔تامارا پلینٹنوا کے ان بیانات کے کچھ گھنٹوں بعد ہی روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان سے دوری اختیار کر لی تھی۔ انہوں نے کہاکہ روسی خواتین اپنے ذاتی معاملات کا خود خیال رکھ سکتی ہیں وہ دنیا کہ بہترین خواتین ہیں۔

کلثوم نواز سے متعلق افسوسناک خبر آ گئی ، کیاوہ وفات پا چکی ہیں ؟

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وینٹی لیٹر غیر معینہ مدت کے لیے رہے گا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دماغی طور پر انسان کی موت ہو جائے اور اس کے بعد ورثا کی مرضی میں ہوتا ہے کہ ڈاکٹرز کو کب وینٹی لیٹر ہٹانے کی اجازت دینی ہے اور جیسے ہی مریض کا وینٹی لیٹر کو اتارتے ہیں تو اس کے انتقال کا باقاعدہ اعلان کر دیا جاتا ہے کلثوم نواز کا وینٹی لینٹر غیر معینہ مدت کیلئے رہنے کاحسین نواز کااعلان سے ثابت ہو رہا ہے۔کہ اب شریف خاندان نے فیصلہ کرنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کا وینٹی لیٹر کب ہٹایا جائے،بیگم کلثوم نواز کی بیماری اور ان کے وینٹی لیٹر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے، معروف صحافی صابر شاکر کاسنسنی خیز انکشاف، نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز سے متعلق تشویشناک خبر دیدی۔ تفصیلات کے مطابق گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی صابر شاکر نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ مریض کوغیر معینہ مدت کیلئے وینٹی لیٹر پر منتقل کرنےکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دماغی طور پر انسان کی موت ہو جائے اور اس کے بعد ورثا کی مرضی میں ہوتا ہے کہ ڈاکٹرز کو کب وینٹی لیٹر ہٹانے کی اجازت دینی ہے اور جیسے ہی مریض کا وینٹی لیٹر کو اتارتے ہیں تو اس کے انتقال کا باقاعدہ اعلان کر دیا جاتا ہے۔ کلثوم نواز کا وینٹی لینٹر غیر معینہ مدت کیلئے رہنے کا حسین نواز کااعلان سے ثابت ہو رہا ہےکہ اب شریف خاندان نے فیصلہ کرنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کا وینٹی لیٹر کب ہٹایا جائے،بیگم کلثوم نواز کی بیماری اور ان کے وینٹی لیٹر کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔صابر شاکر کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے میں نے چند ڈاکٹرز سے پوچھا ، کہ وینٹی لیٹر غیر معینہ مدت تک رہنے کاکیا مطلب ہے، جس پر ڈاکٹر نے مجھے ایک مثال دی کہ شاہد خاقان عباسی کےبھائی اوجڑی کیمپ سانحے میں زخمی ہوئے تھے، انہیں دس سال وینٹی لیٹرپر رکھا گیا ، دس سال کے بعد ان کے خاندان نے فیصلہ کیا کہ ان کا وینٹی لیٹر ہٹا دیا جائے اور جونہی وینٹی لیٹر ہٹایا گیا ان کا انتقال ہو گیا جس کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔صابر شاکر کا کہنا تھا کہ بیگم کلثوم نواز کو علاج کے لیے لندن لے جایا گیاوہاں ان کا علاج کرنے والے دو ڈاکٹرز تھے جن میں سے ایک ڈاکٹر ڈیوڈ تھے۔ایک ڈاکٹر آنکولوجی اور ایک سرجری کے ڈاکٹر ہیں۔ کلثوم نواز کے علاج کے بعد ایک مرتبہ پھر سے ان کے گلے میں کینسر کے آثار دوبارہ نظر آئے جس پر ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اب چھ سے آٹھ ماہ کا وقت ہے۔اگر ہم کلثوم نواز کے انتقال کی افواہوں اور ڈاکٹرز کی تب کہی گئی۔بات کا جائزہ لیں تو یہی چھ آٹھ ماہ نواز شریف اور مریم نواز نے احتساب عدالت میں کھینچے ہیں، انہوں نے اپنے روڈ میپ کے مطابق احتساب عدالت میں کیسز کو نویں مہینے میں داخل کر دیا ہے۔ وہاں سے جو ڈاکٹرز کی رائے تھی، اس کے مطابق نواز شریف اور مریم نوازاحتساب عدالت میں اپنے مقدمے کو آگے لے کر بڑھے ہیں۔

نگران حکومت کا پہلا شکار عاصمہ حامد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

لاہورانتخابات سے قبل پنجاب میں بڑے پیمانے پر اکھاڑپچھاڑ شروع ہو گئی، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد کوعہدے سے ہٹادیاگیا،عاصمہ حامد کونگران وزیراعلیٰ حسن عسکری کی ہدایت پرہٹایا گیا،شان گل کو ایڈووکیٹ جنرل کا اضافی چارج دےدیاگیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نگران وزیراعلیٰ حسن عسکری کی ہدایت پر ایڈووکیٹ جنرل پنجا ب عاصمہ حامد کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،عاصمہ حامد کوشہباز شریف نے حکومت ختم ہونے سے 2دن پہلے تعینات کیاتھا،نگران کابینہ نے عاصمہ حامد کی تعیناتی پرتحفظات کااظہارکیاتھا،عاصمہ حامدبطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب فرائض سرانجام دیتی رہیں گی۔

ثمینہ بیگ کا پاکستانی خواتین کے ہمراہ ماﺅ نٹ ایورسٹ سر کرنے کا عزم

گلگت( ویب ڈیسک )پاکستان کی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ نے ملک خواتین پر مشتمل ٹیم کو دنیا کی بلند ترین چوٹی ماو¿نٹ ایورسٹ سر کرانے کے لیے ان کی رہنمائی کا فیصلہ کرلیا۔یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوگا کہ پاکستانی خواتین ٹیم کی صورت میں ماو¿نٹ ایورسٹ سر کریں گی۔ثیمنہ بیگ نے کہا کہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پہاڑ چڑھنے کا قدرتی تجربہ ہوتا ہے لیکن انہیں بنیادی سہولیات کی کمی اور مقامی روایت سے جوڑے خیالات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔واضح رہے کہ رواں برس جولائی میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت کوہ پیما ثمینہ بیگ کو سفیر خیر سگالی مقرر کیا گیا تھا۔ثیمنہ بیگ نے بتایا کہ ان کا مقصد کوہ پیمائی کے شعبہ میں خواتین کو بااختیار بنانا ہے اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے پاکستان یوتھ آو¿ٹ ریچ کے زیر اہتمام کیمپ 2014 میں شمشال کے ٹریننگ کیمپ کا اہتمام کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ آو¿ٹ ڈور کھیل کا مقصد خواتین کو غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرنا تھا، پروگرام میں سندھ، پنجاب، سوات، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے تقریباً 200 لڑکیاں شریک ہوتی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث پروگرام جاری نہیں رکھا جا سکا جبکہ ہنزہ میں شمشال کے مقام پر 13 ہزار 451 فٹ کی بلندی پر دنیا کا بلند ترین کھیل کا میدان بنایا گیا تھا۔ثمینہ بیگ نے بتایا کہ بنیادی ڈھانچہ خود تعمیر کیا گیا جبکہ گرمیوں میں فٹ بال اور کرکٹ کے مقابلے جبکہ سردیوں میں کوہ پیمائی اور آف روڈ بائیک کی ٹریننگ دی جاتی تھی۔انہوں نے بتایا کہ ‘تمام تر سرگرمیوں کا مقصد خواتین کی حوصلہ افزائی اور حکومت کی مدد کے بغیر گلگت بلتستان میں سیاحت کو فروغ دینا تھا۔پاکستان کی خاتون کوہ پیما کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی خواتین کو پہاڑ پر چڑھنے کا وسیع تجربہ ہوتا ہے، اس خطے کی لڑکیاں چوٹی سر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن رہنمائی اور بنیادی سہولیات کا فقدان ان کے لیے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔

ہندو خاتون کا ٹیلی کام کمپنی کے مسلم ملازم کی خدمات حاصل کرنے سے انکار

ممبئی( ویب ڈیسک ) انڈیا میں ایک ہندو خاتون نے ملک کی ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی کے مسلمان ملازم کی خدمات استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اس کے بعد جب کمپنی کے ایک ہندو ملازم نے شکایت کے ازالے کی ذمہ داری سنبھالی تو سوشل میڈیا پر طوفان آ گیا۔ ٹوئٹر پر صارفین پوجا سنگھ اور ٹیلی کام کمپنی ائرٹیل دونوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔پوجا سنگھ نے اپنے ٹوئٹرہینڈل پر لکھا ہے کہ ‘ڈیر شعیب، آپ مسلمان ہیں اور مجھے آپ کے کام کرنے کے طریقے پر بھروسہ نہیں ہے۔۔۔ اس لیے میری شکایت کے ازالے کے لیے آپ کسی ہندو ملازم کو بھیجیں۔’اس کے بعد ائرٹیل کی جانب سے ایک ہندو ملازم نے پوجا سنگھ سے ٹوئٹر پر ہی رابطہ کیا اور کہا کہ وہ ان کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے۔مصنف اور کالم نگار چیتن بھگت نے طنزیہ کہا کہ ‘ڈیر سک (بیمار) میڈم، یہ ائرٹیل کی کسٹمر سروس ہے، ہندو کے لیے ایک دبائیے، شمالی ہندوستانی کے لیے دو دبائیے۔۔۔ مبارک ہو، آپ ملک کو تقسیم کرنے اور ہماری سیاست کو انھیں باتوں میں الجھائے رکھنے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ اس تنقید کے بعد ائرٹیل نے ایک بیان جاری کرکےکہا کہ ‘ڈیر پوجا، ائرٹیل مذہب یا ذات کی بنیاد پر بالکل تفریق نہیں کرتا۔۔۔ اور ہم آپ سے بھی درخواست کریں گے کہ آپ بھی نہ کریں۔ ڈرائیور مسلمان تھا تو بکنگ کینسل کرا دی کمپنی اس الزام کو مسترد کرتی ہے کہ اس نے صارف کا نامناسب مطالبہ تسلیم کیا تھا۔ اس کا کہنا ہے ‘اگر کوئی مسئلہ حل نہ ہوا ہو اور صارف ہم سے دوبارہ رابطہ کرے تو کسٹمر کیئر ٹیم کا جو بھی رکن دستیاب ہوتا ہے وہ جواب دیتا ہے۔۔۔ہم سب سے درخواست کریں گے کے وہ اسے مذہبی رنگ نہ دیں۔ائرٹیل کے بیان پر اداکارہ سورا بھاسکر نے کہا کہ ‘پانچ گھنٹے بعد ائرٹیل کی جانب سے تعصب کو چھپانے کے لیے یہ افسوس ناک کوشش کی گئی ہے۔۔۔ گڈبائی۔

پہلی بار روبوٹ سے انسانی آنکھ کی کامیاب سرجری

برطانیہ( ویب ڈیسک ) جدید سائنسی دور میں روبوٹس سے اب ہر قسم کا کام لیا جا رہا ہے، اس سے قبل روبوٹ صرف گھر کے کام کاج میں مددگار ثابت تھے لیکن اب برطانیہ میں پہلی مرتبہ روبوٹ نے انسانی آنکھ کی کامیاب سرجری بھی کر دکھائی ہے۔روبوٹ سے آنکھ کی سرجری کرنے کی آزمائش آکسفورڈ کے جون ریڈکلف اسپتال میں کی گئی جہاں 12 مریض موجود تھے جن میں سے 6 مریضوں نے ہمت دکھاتے ہوئے روبوٹ سے اپنی آنکھ کا آپریشن کروانے کا فیصلہ کیا۔اس سرجری میں استعمال کیے گئے آلات پریسیز کمپنی کے ڈیزائن کردہ تھے جو ایک روبوٹک فرم ہے۔روبوٹ نے آنکھ کے قرنیے سے باقاعدہ جھلی ہٹا کر سرجری کی، جو کامیاب رہی ۔ عام طور پر یہ سرجری 1 منٹ 20 سیکنڈ کے دورانیے میں کی جاتی ہے لیکن روبوٹ نے اسے پہلی مرتبہ احتیاط سے 4 منٹ 55 سیکنڈز میں مکمل کیا۔ٹیکنالوجی ویب سائٹ دی نیکسٹ ویب کے مطابق آکسفورڈ یونیورسٹی کے آپتھامولوجی پروفیسر رابرٹ میکلیرن کا کہنا ہے کہ روبوٹ نے کامیاب سرجری کر کے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس سے دیگر شعبوں میں بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد مستقبل میں کوشش کی جائے گی کہ روبوٹ سے آنکھ کے پردے کا بھی آپریشن کرایا جائے جو کہ ممکنہ طور پر آئندہ برس ہوگا۔

چوہوں نے نوٹ کتر ڈالے

بھارت ( ویب ڈیسک )انڈیا میں ہزاروں لیٹر شراب پینے اور سیلاب کی تباہی کا سبب ہونے کے الزامات کے بعد اب چوہوں پر لاکھوں روپے کترنے کا الزام لگا ہے۔انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں جب ٹکنیشینز نے ایک خراب اے ٹی ایم مشین کو ٹھیک کرنے کے لیے اسے کھولا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔انھیں 12 لاکھ سے زیادہ مالیت کے نوٹ کترے ہوئے ملے اور ان کے مشتبہ مرتکبین کے طور پر چوہوں کے سر الزام گیا۔ایک تصویر میں ان کترے ہوئے کرنسی نوٹوں کے درمیان ایک مردہ چوہے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ایس بی آئی میں اے ٹی ایم کے چینل منیجر چندن شرما نے بتایا کہ خراب ہونے سے قبل اس مشین میں 29 لاکھ روپے ڈالے گئے تھے۔انھوں نے کہا ’تقربیاً 17 لاکھ روپے بغیر کترے بچ گئے جبکہ 12 لاکھ 38 ہزار مالیت کے روپے کو نقصان پہنچا ہے۔اس سے قبل انڈیا کی شمال مشرقی ریاست میں چوہوں پر ضبط کی جانے والی ہزاروں لیٹر شراب پینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ریاست بہار نے سنہ 2016 میں شراب کی فروخت اور شراب نوشی پر پابندی عائد کر دی تھی اور تقریباً ایک سال کے دوران پولیس نے نو لاکھ لیٹر شراب ضبط کی تھی۔اس کے علاوہ ستمبر سنہ 2017 میں بہار میں سیلاب سے آنے والی تباہی کا سبب بھی چوہوں کو بتایا گیا تھا۔بہار کے اس وقت کے آبی وسائل کے وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے ایک ریویو میٹنگ میں بتایا کہ بہار میں سیلاب کی تباہی کا اصل سبب چوہے ہیں۔انھوں نے میڈیا کو بتایاکہ سیلاب کے پانی کے بندھ توڑ کر نکلنے کا اصل سبب چوہے ہیں۔ بطور خاص کملا بالن دریا کے بند کے پاس رہنے والے لوگ اپنا اناج بند پر مچان بنا کر رکھتے ہیں جس سے وہاں چوہے آتے ہیں اور چوہے بند میں سوراخ بناتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ تباہی ہوئی ہے۔

20 سالہ لڑکے کی اپنے ہی جنازے میں شرکت، خاندان دنگ رہ گیا

پیراگوئے( ویب ڈیسک ) لاطینی امریکہ کے ملک پیراگوئے کے ایک گاو¿ں سانٹا ٹریسا میں ایک شخص اور اس کے خاندان والے سبھی اس وقت حیران رہ گئے جب وہ لڑکا اپنے ہی جنازے پر پہنچ گیا۔ہوا کچھ یوں کہ 20 سالہ یوآن رامون آلفونزو تین روز قبل اپنے گھر سے نکلے تھے۔ ان کی رہائش برازیل کی سرحد کے قریب ہے اور اس علاقے میں منشیات سے منسلک گروہوں کی کاروائیوں کا کافی زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔جب یوآن وقت پر گھر نہیں لوٹے تو ان کا خاندان یہ سمجھا کہ ان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آیا ہو گا۔ دوسری جانب پولیس کو ایک جلی ہوئی لاش ملی تو انھوں نے یہ مان لیا کہ یہی شاید یوآن کی لاش ہے۔تین روز بعد جب یوآن گھر لوٹے تو انھوں نے اپنے خاندان کو اس لاش سمیت اپنی موت کا سوگ مناتے پایا۔یوآن کی واپسی کے بعد لاش کو حکام کے حوالے کر دیا گیا تاہم اس کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی نے اس لاش کے حوالے سے دعویٰ نہیں کیا تو اسے نامعلوم فرد کی کیٹیگری میں ڈال دیا جائے گا۔اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یوآن تین روز تک کہاں تھے اور کیا کر رہے تھے۔