All posts by Daily Khabrain

2023 کے الیکشن نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے، اسد عمر

کراچی: فاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ  2023 کے الیکشن نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے ۔

کراچی میں وفاقی وزیر علی زیدی اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران اسد عمر نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے کراچی کے لئے کوئی بڑے منصوبے نہیں دیئے، 13 سال سے اس شہر کو بہتر کرنے کی ذمہ داری پیپلز پارٹی کی تھی، کراچی کو ترسایا جاتا ہے گلی سے صفائی نہیں ہوتی، اگر میرے حلقے میں پیپلز پارٹی اپنے جھنڈے لگا کر کام کرتی ہے تو میں انہیں خوش آمدید کہتا ہوں، وزیر اعظم عمران خان کراچی کے حقوق کے بڑے چیمپیئن ہیں، انہیں کراچی کے مسائل کا احساس ہے، کراچی کے زخموں پر مرہم وفاق رکھے گا، کراچی میں وفاق کے منصوبوں پر کام جاری ہے، وفاق کے کراچی کے لئے 5 منصوبے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گرین لائن پروجیکٹ جدید ٹرانسپورٹ کا منصوبہ ہے، اس کے متعدد مراحل مکمل ہوچکے ہیں، اس منصوبے کے لیے 80 بسیں لائی جا رہی ہیں ، امید ہے کچھ بسیں 12 ستمبر کو آجائیں گی جب کہ اگلے ہفتے تک مزید 40 بسیں کراچی پہنچ جائیں گی، بسوں کے ڈرائیوروں کی بھرتی کرلی گئی ہے وہ بھی تیار ہیں، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بھی بنایا جاچکا ہے جب کہ آئی ٹی سسٹم بھی جلد مکمل ہوجائے گا، اکتوبر کے وسط میں گرین لائن منصوبے کا آغاز کریں گے۔

اسد عمر نے کہا کہ کراچی کے نالوں سے 11 لاکھ ٹن کچرا اٹھایا جائے گا، نالوں پر فٹ پاتھ، انڈر پاسز اور اوور ہیڈ برج بن رہے ہیں، ان نالوں کے اطراف 15 فٹ کی 60 کلومیٹر طویل سڑکیں بنائی جائیں گی، نالوں کے اطراف سڑکوں کا یہ کام 34.5 ارب کے فنڈ سے ہوگا، پہلے نالوں کی صفائی کا نظام نہیں تھا، نالوں میں ڈریجنگ 90 فیصد تک مکمل ہوچکی ہے، محمود آباد نالے پر آپریشن 100 فیصد مکمل ہوچکا، بلاول زرداری بھٹو نے ٹھیک کہا تھا کہ جب بارش ہوتی ہے تو پانی آتا ہے لیکن جب حکومت موثر کام کرے گی تو زیادہ پانی بھی گزر جاتا ہے، حکومتیں اپنا کام ٹھیک سے کریں تو پانی کھڑا نہیں ہوتا، نالوں میں صفائی کی وجہ سے حالیہ بارشوں کے سبب کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔

وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے تیسرا منصوبہ کراچی سرکلر ریلوے کا ہے، یہ اہم منصوبہ ہے، چیف جسٹس پاکستان نے سرکلر ریلوے کے منصوبے کیلئے ہماری مدد کی، سرکلر ریلوے کراچی سے پپری تک کا منصوبہ ہے جس پر 70ارب روپے لاگت آئے گی، یہ 43 کلومیٹر پر محیط ہو گا، جس میں سے 29 کلو میٹر ٹریک برجز پر بنے گا، بریجز پر ٹریک بننے سے خرچہ زیادہ ہوگا مگر زمین پر توڑ پھوڑ کم ہوگی، سرکلر ریلوے کے 22 اسٹیشنز بنیں گے، سرکلر ریلوے کو نجی شعبہ چلائے گا، وزیر اعظم 30 ستمبر سے پہلے کراچی کا دورہ کریں گے اور وہ کراچی سرکلر ریلوے کے انفراسٹرکچر کا افتتاح کریں گے۔

پانی کی فراہمی سے متعلق وفاقی وزیر نے کہا کہ 26 کروڑ گیلن کی اسکیم کے 4 کا منصوبہ 10سال سے التوا کا شکار ہے، 5 ماہ بعد کے 4 منصوبے پر کام دوبارہ شروع ہوجائے گا، ہم کوشش کررہے ہیں کے 4 منصوبہ 14 اگست 2023 تک مکمل کرلیا جائے۔ پانی کی فراہمی کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ وفاق نے کراچی والوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، احساس ایمرجنسی کے تحت کراچی کو 7 اورسندھ میں 65 ارب روپے تقسیم کیے گئے، رواں سال شہر میں چھوٹی اسکیموں کے لئے 21ارب روپے مختص کیے گئے، شہر میں 55 سے 60 کلو میٹر سڑکیں بنائی جائیں گی۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ کراچی کی مردم شماری دیرینہ مسئلہ رہا ہے، پرویز مشرف نے کراچی کے لئے بہت کام کئے لیکن وہ مردم شماری نہیں کراسکے، 19 سال بعد دوبارہ 2017 میں مردم شماری کی گئی، ہم مردم شماری سے متعلق حقیقت چاہتے ہیں، جو نتائج ہیں وہ سامنے آجائیں، اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کررہے ہیں، کابینہ کی منظوری کے بعد سمری مشترکہ مفادات کو نسل کو ارسال کی جائے گی، 2023 کے اوائل میں مردم شماری مکمل کرنے کا ہدف ہے اور اس کے بعد حلقہ بندیاں کی جائیں گی، 2023 کے الیکشن نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے ۔

اسد عمر نے کہا کہ سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کو تیار نہیں، وہ بلدیاتی انتخابات میں جتنی تاخیر کرے گی ہمیں اتنے ہی زیادہ ووٹ ملیں گے کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں تاخیر ہوگی تو پی ٹی آئی کے منصوبے مکمل ہوں گے اور کراچی کے شہریوں کو پی ٹی آئی کے منصوبے نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی 6 دفعہ صوبے اور 4 بار وفاق میں حکومت رہی ہے، عمران خان ملک کے پہلے شخص ہوں گے جومسلسل دوسری بار ویراعظم بنیں گے۔

محفوظ افغانستان

شمع باسط
کل اقتدار میں آئے طالبان اور آج انہوں نے حکومت کا اعلان بھی کرڈالا افغانستان میں طالبان کی حکومت اور راج ایک حقیقت ہے اور طالبان کا کہنا ہے کہ تمام ہمسایوں کے ساتھ اچ ہے تعلقات کی خواہش ہے اور ہماری حکومت کی بھی کوشش ہے کہ طالبان کی حکومت اور اقتدار سے متعلق جلد کوئی واضح بیان اور پالیسی مرتب کرے۔۔مگر
ہماری حکومت سے ابھی تک مہنگائی ہی کنٹرول نہیں ہو رہی ہے وہی پرانے رونے وہ ملک کو کھا گیا یہ ملک کو کہیں باھر أٹھا کے لے گیا خزانے خالی ملے بنک کرپٹ ملے اور وہی بے وقت کی راگنی۔۔ اور ادھر طالبان نے چند ایک دنوں میں حکومت سازی کر کے تمام دنیا کو حیران کر دیا ہے اور حکومت کے آغاز پر کوئی آہ وبکا نہیں کی کہ ہمیں لٹا پٹا ملک ملا۔دنیا فوری مدد کرے مر گئے ہم مٹ گئے ہم۔ ہاں مدد کی ضرورت ہے افغانستان کو مگر بغیر کسی شرط پہ وہ مدد قبول کرینگے یہ ہوتی ہے ریاست مدینہ کی سی مثالیں حکومت میں آتے ساتھ ہی عام معافی کا اعلان اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کا عزم برابری کے قوانین اور امیر غریب میں مساوی انصاف اور مکمل اسلامی طرز حکومت کی بنیاد۔ میرے لکھنے کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ طالبان کے حق میں لکھا جائے یا ان کے خلاف۔۔مقصد اس بات کو اجاگر کرنا ہے کہ عزم کس بلا کا نام ہے اور تہیہ کر لیا جائے تو ہر شے ممکن ہے۔طالبان نے اپنی عوام کو کوئی سبز باغ نہیں دکھایا تھا کہ اقتدار میں آکر یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے بلکہ اپنے ملک و قوم کی خاطر اور امریکی غاصبانہ قبضے کے خلاف مزاحمت جاری رکھی اور ثابت قدمی سے ڈٹے ر ہے جسکا نتیجہ سب کے سامنے ہے اب طالبان نے حکومت کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے اور اس بات کا یقین دلایا ہے کہ ہر شہری کی حفاظت ان کے ذمے ہے۔
بات ساری پختہ عزم اور سچے جذبے کی ہے یہ جذبہ اور یہ حب الوطنی نہ جانے ہمارے سیاستدانوں سے دور کیوں ہیں ہم عوام کے حصے میں ایسے سیاسی لوگ کیوں آئے ہیں جن کے دعوے کچھ ہیں اور اعمال اور ہیں۔کسی چیز کی کمی نہیں ہمارے ملک میں مگرنہ جانے کیوں ہم آج بھی امریکہ کے ذریعے خوشحالی چاہتے ہیں ہماری حکومت کے وعدے تو بہت تھے مگر موجودہ حکومت آئی تو سبھی لوگ سیاستدان ہی ثابت ہوئے وہی مہنگائی‘ ہر پوسٹ پر رشوت ہر کام کروانے کے لیے پیسے کا استعمال یہ سب اگر کنٹرول نہیں ہوتا تووعدے نہ کیے جاتے تو بہتر ہوتا۔
ہمارے حکمران سیکھیں کچھ ہمسایہ ملک سے کہ کسی بھی مدد امداد کے بغیر طالبان حکومت بنا گئے ہیں کمال نہیں کر دیا طالبان نے۔عوام کو اس قدر مہنگائی کا سامنا ہے کہاں گئی وہ خوشحالیاں وہ ترقیاں اور کامیابیاں وہ ایک کروڑ نوکریاں جن کے عوض ہم نے خوشحال ہونا تھا۔ساری دنیا کی نظریں افغانستان پر لگی ہیں کس کی جرأت ہوگی کہ طالبان کی حکومت کوئی نہ مانے۔فی الحال تو افغان طالبان کا طرز عمل دیکھا جا رہا ہے اور بغور مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ وہ کیا قانون سازی کرتے ہیں بچوں کو خواتین کو کیا حقوق ملیں گے کیسے ریاست افغانستان چلے گی۔۔بہرحال اب چونکہ طالبان کو بھی دنیا نئے انداز سے دیکھ رھی ہے اب پڑ ہے لک ہے طالبان حکومت میں ہیں اور یہ رویہ پہلے کی نسبت کافی بدلا ہوا ہے اور طالبان کا کہنا ہے کہ ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے ان بیس سالوں کے دوران اور اب ہم بہتر حکمت عملی کے ساتھ دنیا کے ساتھ چلنے کی کوشش کرینگے۔
دیکھنا یہ ہے کہ دنیا کے کون کون سے ممالک کب اور کس مناسب وقت پر طالبان کی حکومت کو تسلیم کرینگے۔طالبان نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغان سر زمین کبھی کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور خاص طور پر پاکستان کے خلاف بالکل بھی نہیں۔طالبان کے حوالے سے زلمے خلیل ذاد نے کہا ہے کہ یہ طالبان قدرے بدلے طالبان ہیں اور پڑ ہے لک ہے ہیں اس بات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک امریکی معاہدہ طالبان کو بھیجا اور طالبان کی طرف سے جب جواب ملا تو اس درستگی کے ساتھ ملا اور کہا گیاکہ انگلش کے درست سپیلنگ یہ ہیں۔ اب ہمیں اور ہماری حکومتوں کو چاہیے کہ ترقی کا نیا سفر افغانستان کے ساتھ ہی شروع کر لیں کیونکہ بقول تحریک انصاف ملک تباہ شدہ حالت میں انہیں ملا ہے تو چلیں شائد اسی مسابقے کی فضا میں ہمارا ملک بھی بہتری کی طرف گامزن ہو پائے ورنہ اب خطے کے دوسرے تمام ممالک تو ترقی میں ہم سے کافی آگے دیکھائی دیتے ہیں۔اب عوام بیچارے بھی تنگ آچکے ہیں نت نئے وعدے نہیں بلکہ عوام ذہنی سکون چاہتے ہیں۔ حکومت آپ اگر اپنے وعدوں میں سے صرف اور صرف آدھے ہی پورے کر دیتی تو عوام اگلے پانچ کیا دس سال بھی عمران خان کوہی وزیر اعظم چنتے۔
(کالم نگار سیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتی ہیں)
٭……٭……٭

9/11‘انسانی تاریخ کے اذیت ناک 20 سال

آج 11 ستمبر 2021 کو ایک طرف تو امریکہ میں سانحہ نائن الیون کی 20 ویں برسی منائی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے افغانستان سے بھاگنے اور20 سالہ جنگ کے بعد طالبان کی نئی تشکیل کردہ حکومتی کابینہ حلف اٹھا رہی ہے۔ آج سے ٹھیک 20 سال پہلے دہشت گردی کا اپنی نوعیت کا ہوشربا واقعہ پیش آیا۔ اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور رہ جانے والے امریکہ میں صبح 8 بجے 4 مسافر بردار طیارے اغوا ہوئے اور انہیں خود کش حملوں کے انداز میں مختلف عمارتوں سے ٹکرانا شروع کیا گیا۔ آدھے گھنٹے کے وقفے کے ساتھ 2 طیارے امریکی سرمایہ دارانہ برتری کی علامت 110 منزلہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت سے ٹکرائے گئے۔ اس وقت 10 ہزار افراد عمارت کے اندر موجود تھے۔ پوری عمارت چند لمحوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئی۔ دنیا کے تمام ٹی وی چینلز کا رخ امریکہ کی طرف ہو گیا۔ پوری دنیا حیرت میں گم جبکہ امریکی سکتے کی کیفیت میں تھے کہ یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔مزید ایک گھنٹے کے اندر تیسرا طیارہ امریکی وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹاگان پر گرا دیا گیا۔ اس کے بعد کے چند گھنٹے انسانی تجسس و تشویش کے حوالے سے ہیجان خیز تھے کہ اب کیا ہو گا؟ اگلا طیارہ کہاں ٹکرائے گا؟ دہشت گردوں کا اگلا نشانہ کیا ہوگا۔ امریکہ میں قیامت کا سماں اور نفسانفسی کا عالم تھا۔ امریکہ کے تمام سرکاری دفاتر، وائٹ ہاؤس سمیت اہم عمارتیں خالی کرا لی گئیں۔ جنگی طیارے فضا میں آ گئے۔تمام ائیر پورٹ بند کر دئیے گئے، سکول کالج یونیورسٹیاں غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دی گئیں۔ امریکہ میں زندگی تقریباً جام ہوگئی۔
کچھ دیر بعد اطلاع دی گئی کہ دہشت گردوں کی طرف سے اغوا کیا گیا چوتھا جہاز جس نے امریکی صدارتی محل کو ہٹ کرنا تھا اسے پنسلوانیا کی سرحد کے قریب فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس سانحہ میں 2996 افراد ہلاک ہوئے جن میں 19 ہائی جیکر بھی شامل تھے۔ 6 ہزار افراد زخمی ہوئے۔ امریکہ نے اسامہ بن لادن کو اس دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیا اور افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ امریکہ نے بدلے کی آگ میں وہ کام کئے جن کا انسانی جنگی تاریخ میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ ڈیزی کٹر اور Mother of the all bombs کے انسانوں پر تجربات تورا بورا کے افغان پہاڑوں اور غاروں میں کئے گئے۔ امریکہ کی بران اور بوسٹن یونیورسٹی کے مشترکہ ” منصوبہ برائے جنگی تخمینہ” (Cost of War Project) کے مطابق 20 سال کی اس جنگ کے دوران مجموعی طور پر 2 لاکھ 41 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 71344 عام شہری،3 ہزار امریکی فوجی، 78314 افغان سیکیورٹی اہلکار، 84191 دیگر امریکی مخالفین شامل ہیں۔
1930 میں پیش کئے جانے والے اب تک کے معتبر ترین “بگ بینگ” نظریہ (Big bang theory) کے تحت اس کائنات کی عمر 20 ارب سال بنتی ہے۔ اس طویل عرصے میں انسانیت کو بے پناہ تکالیف اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان میں سے زیادہ تر آفات آسمانی و فطرتی تھیں۔ لیکن 21 ویں صدی کے آغاز کے 2 عشرے وہ ہیں جب انسانوں نے جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال انسانوں پر کیا۔ بد ترین بربریت کا شکار افغان عوام بنے۔ افغانوں کی 3 نسلیں گزشتہ 50 سالوں سے حالت جنگ میں ہیں۔ افغانیوں کے بعد کسی نے اس بڑی جنگ کی بھاری قیمت ادا کی ہے تو وہ پاکستان ہے۔ ہم نے اس پرائی جنگ میں 78 ہزار شہریوں کی قربانی دی۔ان میں 5800 فوجی افسر اور جوان بھی شامل ہیں۔ 19 ہزار جوان زخمی ہوئے۔ تقریبا ً130 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان کیا۔
آج نائن الیون کی برسی اس حالت میں منائی جا رہی ہے کہ نہ صرف امریکہ بلکہ افغان جنگجو بھی جنگ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید بموں سے انسانی اعضا کے چیتھڑے اڑانے والا امریکہ ہی نہیں بلکہ طالبان دونوں اس قتل و غارت گری سے تنگ آ چکے ہیں۔ خاص طور پر افغان عوام اب زندگی کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی جنگ کیلئے ”Absolutely no’“کہہ چکا ہے۔ طالبان سب کے لئے عام معافی کا اعلان کر چکے ہیں۔ اب تک اپنے افعال اور خیالات سے طالبان نے ایسا کچھ ظاہر نہیں کیا کہ دنیا ایک بار پھر انہیں جنگ کی طرف لے جائے۔اب دنیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس جنگ بندی کو خطے کے حقیقی امن میں تبدیل کرنے کے لئے کردار ادا کرے… توقع کی جانی چاہئے کہ اب آنے والا ہر دن امن کی طرف جائے گا اور دنیا کو کسی نئے نائن الیون کا سامنا نہیں ہوگا۔
(کالم نگار قومی و سیاسی امور پر لکھتے ہیں)
٭……٭……٭

ہمارے قائد اور ہم

اعجاز الحق
قدرت کے فیصلوں کے سامنے انسان بے بس ہوتا ہے، اور ایمان کا تقاضہ یہی ہے کہ قدرت کے فیصلوں کو تسلیم کیا جائے، لیکن جب کسی انسان کے رویے سے نقصان ہورہا ہو تو پھر قدرت سے ہی دعا کی جاتی ہے کہ وہ رحم بھی کرے اور انصاف بھی مہیا کرے۔ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح جیسا انسان، رہنما، کھرا اور سچا مخلص لیڈر برصغیر کے مسلمانوں کو اب کم ہی نصیب ہوگا، ان کی قیادت میں مختصر مدت میں بر صغیر کے مسلمان اپنے لیے ایک الگ مملکت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ہم جب بھی ان کی زندگی اور ان کی سیاسی جدو جہد کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں ان کی لیڈر شپ اور ان کی محنت، دیانت اور مخلصانہ کوششوں پر رشک آتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالی نے ان جیسا رہنما عطا کیا، مگر جب ہم یہ پڑھتے اور سنتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے اخری ایام میں کس طرح کے لمحات گزارتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ہمیں یقیناً افسوس بھی ہوتا ہے۔
بانی پاکستان، قیام پاکستان کے بعد کم و بیش ایک سال ہی زندہ رہے، مگر ہمیں وہ مملکت کے رموز بھی سمجھا گئے کہ بطور پاکستانی ہماری کیا ذمہ داریاں کیا ہیں، ہماری بیورو کریسی کی خصوصیت جو انہوں نے بیان کی وہ ہمارے لیے رہنما اصول ہے، آج اپنے قائد کی یوم وفات پر لکھتے ہوئے خود بھی تاریخ میں کھو گیا ہوں، اور تلاش کر رہا ہوں کہ قائد کے فرمان کی روشنی میں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ان کی زندگی کے آخری تین چار ماہ کچھ ایسے گزرے کہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ وہ یکم جولائی1948ء کو کراچی میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرنا منظور کرچکے تھے لیکن کوئٹہ سے کراچی تک ہوائی سفر کرتے ہوئے ان کی طبیعت خراب ہوگئی سٹیٹ بنک کی افتتاحی تقریب میں موجود ہر شخص نے محسوس کیا کہ قائداعظم کی صحت خراب ہوچکی ہے ان کی آواز بمشکل سنی جاسکتی تھی۔ اپنی تقریر کے دوران میں وہ رکتے رہے اور کھانستے رہے۔ جب تقریب سے فارغ ہوکر وہ واپس گورنر جنرل ہاؤس پہنچے تو کپڑوں اور جوتوں سمیت بستر پر گر گئے مگر بستر پر پڑے اس ناتواں جسم میں نظروں کو چندھیا دینے والی ذہانت کا شعلہ اسی طرح روشن تھا۔کراچی میں پانچ روز قیام کے بعد، کوئٹہ واپسی کے اگلے ہی روز ان کی طبیعت میں تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہونے لگے چنانچہ وہ کوئٹہ سے چند میل کے فاصلے پر واقع زیارت چلے گئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے اپنی بہن کی اس بات سے اتفاق کیا کہ اب انہیں مناسب طبی مشورے اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ ان کی زبانی یہ سن کر فاطمہ جناح نے بغیر کسی تاخیر کے لاہور کے ممتاز فزیشن کرنل الٰہی بخش کو فوری طورپر بذریعہ ہوائی جہاز زیارت طلب کرلیا۔
24جولائی1948ء کو کرنل الٰہی بخش نے قائداعظم کا طبی معائنہ کیا ڈاکٹر کے استفسار پر قائداعظم نے 1934ء سے لے کر اب تک اپنی بیماری کی تفصیل ٹھیک ٹھیک انہیں بتادی۔اگلے روز قائداعظم کے خون اور تھوک کے نمونوں کے کلینیکل معائنے سے ڈاکٹر الٰہی بخش کے اس شک کی تصدیق ہوگئی کہ انہیں ٹی بی (تپ دق) ہے۔ ان کے استفسار پر ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے خیال میں یہ مرض کم ازکم دو برس پرانا ہے۔ قائداعظم نے پوچھا:”کیا آپ نے مس جناح کو میری بیماری سے آگاہ کردیا ہے“۔ ڈاکٹر الٰہی بخش کہنے لگے: ”جی ہاں، میں نے انہیں بتا دیاہے“ قائداعظم نے کہا:”میراخیال ہے آپ نے ایسا کرکے غلطی کی۔ بہرحال وہ ایک خاتون ہیں“ آپ نے دیکھا کہ اس حالت میں بھی ان کی اپنی بہن کے جذبات کا کتنا خیال تھا۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد وہ اپنی بہن کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور رک رک کر کہنے لگے،”فاطمی، تم درست ہی کہا کرتی تھیں۔مجھے کسی ماہر ڈاکٹر سے بہت پہلے مشورہ کرلینا چاہتے تھا مگر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔ آدمی صرف جدوجہد کرسکتا ہے۔ تم جانتی ہو میرا ہمیشہ سے یہ اصول رہا ہے کہ میں کبھی آنکھیں بند کرکے دوسروں کے مشورے قبول نہیں کرتا“۔جولائی 1948ء کے اواخر میں وزیراعظم لیاقت علی خاں کسی پیشگی اطلاع کے بغیر زیارت آئے۔ چودھری محمد علی(سابق وزیر قانون خالد انور کے والد گرامی) ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کرنل الہی سے قائداعظم کی صحت کے بارے میں پوچھا لیکن کرنل صاحب نے انہیں بتایا کہ میں اپنے مریض کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں بتا سکتا۔ وہ قائداعظم سے ملے تو آدھ گھنٹے تک ان سے باتیں کرتے رہے۔ اس کے بعد چودھری محمد علی نے پندرہ منٹ تک قائداعظم سے ملاقات کی۔
اگست1948ء کے دوسرے ہفتے میں قائداعظم کا بلڈ پریشر بہت کم ہوگیا اور ان کے پاؤں پر ورم آگیا۔ چنانچہ ڈاکٹروں کی ہدایت پر وہ 13اگست کو زیارت سے کوئٹہ چلے آئے۔ کوئٹہ پہنچ کر ان کی صحت بہتر ہونے لگی۔ اس پر ڈاکٹر الٰہی بخش نے مشورہ دیا کہ وہ روزانہ تقریباً ایک گھنٹہ فائلوں کو مطالعہ کرسکتے ہیں۔ ان کا خیال تھاکہ ہر وقت اپنی صحت کے متعلق سوچتے رہنے کی بجائے یہ بہتر ہوگا کہ قائداعظم کے مستعد ذہن کو کام کی جانب مبذول کردیا جائے۔ قائداعظم بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس آزادی سے بہت لطف اٹھایا۔ ایک دن انہوں نے ڈاکٹر الٰہی بخش سے کہا:”ڈاکٹر میں سگریٹ پینا چاہتا ہوں“۔ڈاکٹر نے کہا:“ سر۔ صرف ایک سگریٹ روزانہ، مگر دیکھئے اس کا دھواں نہ نگلئے گا“۔شام کو ڈاکٹر آیا تو اس نے ایش ٹرے میں سگریٹ کے پانچ جلے ہوئے ٹکڑے دیکھے۔ اس پرقائداعظم نے مسکراتے ہوئے کہا: ”ہاں ڈاکٹر، میں نے پانچ سگریٹ ضرور پئے ہیں مگر میں نے ان کا دھواں نہیں نگلا“۔ اوروہ ہنس دیئے۔ ایک بچے کی طرح خوش، اگست کے آخری دنوں میں قائداعظم اچانک ہرچیز سے بے نیاز نظر آنے لگے۔ ایک روز انہوں نے فاطمہ جناح سے کہا۔ ”فاطمی مجھے اب مزید زندہ رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ میں جتنی جلدی چلا جاؤں اتنا ہی بہتر ہوگا“۔
فاطمہ جناح لکھتی ہیں: ”یہ بدشگونی کے الفاظ تھے۔ میں لرز اٹھی جیسے میں نے بجلی کے ننگے تاروں کو چھولیا ہو مگر میں نے خود کو پر سکون رکھتے ہوئے کہا: جن! آپ جلد ہی اچھے ہوجائیں گے۔ ڈاکٹر پر امید ہیں“۔انہوں نے ایک مردہ سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: نہیں۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتا“۔یکم ستمبر کو ڈاکٹر الٰہی بخش نے فاطمہ جناح سے مایوس لہجے میں کہا: قائداعظم پر ہیمرج کا حملہ ہوا ہے۔ میں پریشان ہوں۔ انہیں کراچی لے جانا چاہیے۔ کوئٹہ شہر کی بلندی ان کے لئے موزوں نہیں ہے۔ 8ستمبر کو ڈاکٹروں نے فاطمہ جناح کو بادل نخواستہ آگاہ کیاکہ اب امید کی کوئی کرن باقی نہیں اور صرف کوئی معجزہ ہی قائداعظم کی زندگی بچا سکتا ہے۔ جب فاطمہ جناح نے قائداعظم کو بتایا کہ کوئٹہ کی بلندی سے بچنے کیلئے ہم انہیں کراچی لے جانا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا۔ ”ہاں، میں وہیں پیدا ہوا تھا اور وہیں دفن ہونا چاہتاہوں“۔ تھوڑی دیر کے بعد ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔فاطمہ جناح ان کے بستر کے پاس کھڑی رہیں۔ وہ نیند میں رک رک کر سرگوشی کررہے تھے۔
ڈاکٹروں نے 11ستمبر کو فیصلہ کیا کہ انہیں اسی دن دو بچے بعد دوپہر کراچی روانگی کے لئے کوئٹہ کے ہوائی اڈہ پر پہنچ جانا چاہیے۔ جب قائداعظم کو ایک سٹریچر پر لٹاکر گورنر جنرل کے وائی کنگ طیارے کے کیبن میں لے جایا جارہا تھاتو اس وقت بھی انتہائی کمزوری کے باوجود انہوں نے اپنا کمزور ہاتھ اٹھا کر طیارے کے عملے کے سیلوٹ کاجواب دیا۔ کوئٹہ سے تقریباً دو گھنٹے کی پرواز کے بعد جہاز سہ پہرسوا چار بجے کراچی کے ماڑی پور ائیر پورٹ پر اترا۔ اس روز جیسا کہ فاطمہ جناح کی طرف سے پہلے ہی ہدایت دی جاچکی تھی کوئی بھی ائیر پورٹ نہیں آیا تھا۔ قائداعظم کو سٹریچر پر لٹا کر ایک ملٹری ایمبولینس تک لے جایا گیا جو انہیں گورنر جنرل ہاؤس لے جانے کیلئے ہوائی اڈے پر پہلے ہی سے تیار کھڑی تھی،ایمبولینس انتہائی آہستگی سے چل رہی تھی۔ ڈاکٹر الٰہی بخش، ڈاکٹر مستری اور گورنر جنرل کے انگریز ملٹری سیکرٹری ایمبولینس کے پیچھے گورنر جنرل کی کیڈلک کار میں آرہے تھے۔ تقریباً چار میل کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایمبولینس کے انجن نے ہچکی لی اور اس کے بعد وہ اچانک بند ہوگیا۔ فاطمہ جناح کو بتایا گیا کہ ایمبولینس میں پٹرول ختم ہوگیا۔ ڈرائیور نے بے چینی کے عالم میں انجن کو دیکھنا بھالنا شروع کیا مگروہ سٹارٹ نہ ہوسکا۔ اس روز سمندری ہوائیں بھی نہیں چل رہی تھیں اور گرمی ناقابل برداشت تھی۔ وہاں ایک گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک انتظار کرناپڑا۔ ایک طویل اور کرب ناک وقفہ۔ پھر ایک دوسری ایمبولینس آئی،اور قائداعظم کو اس میں لٹا کر گورنر جنرل ہاوس لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور کہا…… کہ ہوائی سفر اور ایمبولینس کے تکلیف دہ واقعہ کے باوجود ان کی صحت پر کوئی برے اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ وہ جلد ہی گہری نیند سوگئے۔ فاطمہ جناح تنہا ان کے پاس بیٹھی رہیں۔ وہ کسی خلل کے بغیر دو گھنٹے تک سوئے رہے۔ پھر انہوں نے آنکھیں کھولیں۔ اپنی بہن کو دیکھا اور سر اور آنکھوں کے اشارے سے انہیں اپنے پاس بلایا۔ انہوں نے بات کرنے کی آخری کوشش کی اور سرگوشی کے انداز میں کہنے لگے۔”فاطمی، خدا حافظ“۔ ان کا سر آہستگی سے قدرے دائیں جانب کو ڈھلک گیا اور اور ان کی آنکھیں بند ہوگئیں انااللہ وانا الیہ راجعون۔ان کی سیاسی زندگی 42برسوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ جہد مسلسل، غیر متزلزل عزم، شاندار نظم و ضبط، بے مثال دیانت غیر معمولی ذہانت اور خداداد قائدانہ صلاحیتوں کی ایک فقید المثال تصویر ہے۔12ستمبر 1948ء کو کراچی میں بانی پاکستان کی نماز جنازہ پڑھانے کے بعد مولانا شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ”شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا جس کے غیر متزلزل ایمان اور اٹل ارادے نے دس کروڑ افراد کی مایوسیوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو“
(مسلم لیگ ضیاء کے سربراہ اورسابق وفاقی وزیر ہیں)
٭……٭……٭

ابتدائی طبی امداد کا عالمی دن

کرامت علی
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں ” فرسٹ ایڈ “کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ ابتدائی طبی امداد کا عالمی دن ہر سال ستمبر کے دوسرے ہفتہ کو پوری دنیا میں منا یا جاتا ہے۔تاریخ میں پہلی بار یہ دن سال 2000میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ نے منایا۔ یہ دن عوام میں ابتدائی طبی امداد کی اہمیت و فوائد کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور طبی امداد دینے کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ کسی ایمرجنسی یا بحرانی حالات میں کسی شخص کو ابتدائی طبی امداد دے کر اس کی جان بچائی جا سکے۔ عالمی دن کے اس موقع پر ابتدائی طبی امداد دینے والے عملے کو بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے جو بروقت طبی امدا فراہم کر تے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس دن کی مناسبت سے عوام کو طبی امداد سیکھنے کے لئے ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ طبی امداد کی تربیت اور مہارتیں سیکھ کر انسانی جان بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ابتدائی طبی امداد کا 2021 کا موضوع “فرسٹ ایڈ اور روڈ سیفٹی” ہے۔ اس کا بنیادی مقصد آگاہی پھیلانا ہے کہ کس طرح ابتدائی طبی امداد فراہم کر کے ہر روز کسی بھی ہنگامی صورتحال میں زخمیوں کی جانیں کیسے بچا ئی جا سکتی ہیں۔
ابتدائی طبی امداد وہ فوری علاج یا طبی امداد ہے جو کسی زخمی یا بیمار شخص کودستیاب وسائل کے ساتھ پیشہ وارانہ افراد یا طبی عملے کے پہنچنے سے پہلے دی جاتی ہے۔ آپ دنیا میں کہیں بھی ہوں اگر آپ کو طبی امداد دینی آتی ہو تو آپ کسی کی جان بچانے کا سبب بن سکتے ہیں اسی لئے ہم سب کا طبی امداد سیکھنا ناگزیر ہے۔ یہ نہ صرف ایک مہارت ہے بلکہ ایک انسانی ہمدردی کی سوچ کے عین مطابق بھی ہے جسکی بلا امتیاز امداد کی فراہمی کسی بھی معاشرے کے افراد کو با اختیار بنانے میں مدد دیتی ہے تاکہ وہ اپنی فلاح و بہبود کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھ سکیں۔جیسا کہ ٓاپ نے روز مرہ زندگی میں مشاہدہ کیا ہو گا کہ زیادہ ترلوگ خطرناک ٹریفک حادثات میں ابتدائی طبی امداد کی عدم دستیابی کے باعث جاں بحق ہو جاتے ہیں اور اور ٹریفک حادثات میں بہت سارے لوگ انجانے میں غلط مدد کی وجہ سے زندگی بھر کے لئے معذور ہو جاتے ہیں۔ ایک لمحہ کیلئے سوچیں اگر ان تمام افراد کو بر وقت اور صحیح طبی امداد مل سکتی تو شائد انکو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکتا تھا۔ فرض کریں اگر کوئی شخص کہیں زخمی یا اچانک بیمار ہو جائے تو اُس موقع پراُس شخص کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے سے بڑی ہمدردی کوئی نہیں ہو سکتی۔
اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ پنجاب ایمرجنسی سروس (ریسکیو1122) کے قیام سے قبل پاکستان میں بہت سے ادارے اپنے حصے کا کام تو کر رہے تھے لیکن نہ کوئی منظم ادراہ موجود تھا اور نہ ہی کسی ہنگامی صورت حال میں پیشہ ورانہ تربیت کے حامل افراد دستیاب تھے۔اسی لئے ٹریفک حادثات کے نتیجے میں زیادہ تر لوگ موقع پر صحیح طبی امداد نہ ملنے یا تاخیر کے باعث عمر بھر کے لئے معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔پاکستان میں پہلی بار پر ی ہاسپٹل ایمرجنسی مینجمنٹ کا ایک مربوط نظام بنانے کا سہرابانی ڈائریکٹرجنرل ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رضوان نصیر (ستارہ امتیاز) کے سر جاتا ہے جنہوں نے پیرا میڈیکس سٹاف کو ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں بین لاقوامی معیار پر پیشہ ورانہ تربیت دی اور پری ہاسپٹل ایمرجنسی مینجمنٹ کا ایک مربوظ نظام قائم کیا تاکہ کسی بھی سانحہ یا ایمرجنسی کے متاثرہ افراد کو بر وقت طبی امداد فراہم کر کے متاثرہ شخص کی زندگی کو درپیش خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ قیام سے اب تک 97لاکھ سے زائد ایمرجنسی کے متاثرین کو بروقت ریسپانڈ کرتے ہوئے ابتدائی طبی امداد فراہم کرتے ہوئے احساس تحفظ فراہم کر چکا ہے۔
پنجاب میں ریسکیو سروس کے قیام کے بعد ریسکیو سروس کا حتمی ویژن ہے کہ کیمونٹی کے اشتراک سے ایمرجنسی کی روک تھام کی جائے تاکہ پاکستان میں محفوظ معاشرے کا قیام عمل میں لایا جا سکے۔ افراد کی تربیت کسی بھی ادارے کو مستحکم و مضبوط اورصف اول میں لانے کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔اگر دنیا میں اپنا نام پیدا کرنے والے اداروں کی فہرست اُٹھا کر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ ان کی کامیابیوں کا راز ان کی بہترین تربیت میں پنہاں ہے۔ اسی طرح تربیت کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کیلئے ایمرجنسی سروسز اکیڈمی قائم کی گئی جو کہ جنوبی ایشیاء میں ایمرجنسی کی تربیت فراہم کرنے کا بہترین ماڈل تصور کیا جاتا ہے۔ ایمرجنسی سروسز اکیڈمی نے نیشنل ایمبولینس سروس کالج فار آئر لینڈ کے باہمی تعاون سے صوبہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں کے پرا میڈیکس کو بین الاقومی معیار پر تربیت دی جاتی ہے۔تربیت کے اس عالمی میعار کو یقینی بنانے کے لئے دوران تربیت غیر ملکی ماہرین سے تھرڈ پارٹی ایولوایشن بھی کروائی جاتی ہے۔ تربیت کے اس مرحلے میں ایک آفیسر سے لے کر ڈرائیور تک کے تمام ریسکیورز کو یکساں معیار پر ابتدائی طبی امداد کی تربیت فراہم کی جاتی ہے تاکہ کسی بڑی آفت، حادثے یا سانحہ کے موقع پرمتاثرہ افراد کوابتدائی طبی امداد دینے تمام ریسکیورز انسانی جانوں کو بچانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
ابتدائی طبی امداد کے فروغ کے لئے پنجاب ایمر جنسی سروس ڈیپارٹمنٹ سروس ایکٹ کے مطابق سکول کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبا کو طبی امداد کی تربیت فراہم کر نے کیلئے ریسکیو کیڈٹ کورپس ایپ کو متعارف کروا چکا ہے جس کا اہم مقصد ہر گھر میں ایک فرسٹ ایڈر بنانا ہے تاکہ کسی بھی طرح کی ایمرجنسی کی صورت میں کمیونٹی کے لوگ علاقائی سطح پر کسی انسانی جان کو بچانے کیلئے اپنا کردارمتحرک طور پر ادا کر سکیں۔معاشرے کے افراد کو باشعور اور ذمہ دار شہری بنانے کے لئے ریسکیو کیڈٹ کورپس کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور ساتھ ہی ساتھ آن لائن تربیت حاصل کرنے کے کورسز اور لیکچر زبھی فراہم کر دئیے گئے ہیں تاکہ ملک کے طول عرض میں کوئی بھی فرد گھر بیٹھے مفت ابتدائی طبی امداد کی تربیت حاصل کر سکے۔کوئی بھی شہری اپنے قریبی ریسکیو اسٹیشن پر جا کر ابتدائی طبی امداد کی تربیت فری حاصل کر سکتاہے۔ اس سلسلے میں گورنمنٹ آف پنجاب پی سی ون کی منظوری دے چکی ہے اورپنجاب کے تمام اضلاع میں یونین کونسل کی سطح پر کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیم تشکیل دی جارہی ہیں۔
پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ اور آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ مل کرپاکستان لائیو سیور پروگرام کے تحت 10 ملین لوگوں کو فرسٹ ایڈ کی تربیت فراہم کر نے کیلئے بھی تربیت کا آغاز کر چکا ہے۔ پاکستان لائیو سیور پروگرام کے ذریعے نوجوان نسل کو بنیادی طور پر دل اور پھیپھڑوں کی بحالی اور خون کے بہاؤ کو روکنے پر مشتمل ابتدائی طبی امداد کی تربیت فراہم کر رہا ہے۔ پوری دنیا میں کارڈیک اریسٹ اور شدید خون کے بہاؤکی وجہ سے شرح اموات ایک عالمی مسلہ بن چکا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دل کا دورہ پڑنے پر اگر بروقت امداد (سی پی آر) نہ دی جائے تو ہر گزرتے منٹ میں اس شخص کے زندہ بچنے کے امکانات کو 10فیصد کم کر دیتا ہے۔ اسی طرح ہرگزرتے منٹ کے ساتھ فوری طبی امداد کی فراہمی ایسے مریض کو زندہ بچانے کے امکانات کو 30فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔اگر ہر گھر میں ابتدائی طبی امداد کا ایک فرسٹ ایڈر بن جائے تو خون کے شدید بہاؤ اور دل کا دورہ پڑنے سمیت دیگر ایمرجنسی صورتحال میں ہم لاکھوں لوگوں کی زندگیا ں بچا سکتے ہیں۔ آئیں آج ہم ابتدائی طبی امداد کے عالمی دن کے موقع پریہ عہد کریں کہ ہم ابتدائی طبی امداد کی تربیت ضرور حاصل کریں گے کیونکہ ابتدائی طبی ا مدا د ہی وہ مدد ہے جو کسی کی جان بچا سکتی ہے۔
ریسکیو رز زندہ آباد
پاکستان پا ئندہ آباد
(اسسٹنٹ آفیسر تعلقاتِ عامہ پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ ریسکیو1122ہیں)
٭……٭……٭

سید علی گیلانی ہم شرمندہ ہیں

ڈاکٹر محمدممتاز مونس
اقوام عالم کی تاریخ میں صرف وہی یاد رکھتے جاتے ہیں جو اپنے مشاہیر اور محسنوں کو یاد رکھتے ہیں۔ کشمیر کا پاکستان سے کیا رشتہ ہے یہ ایک دلسوز کہانی ہے پاکستانیوں نے کشمیر کے لیے کیا ہے اور کشمیریوں نے پاکستان کے لیے کیا کیا یہ وہ دکھ بھری کہانی ہے جسے یاد کر کے آج ہم سید علی گیلانی کی روح سے شرمندہ ہیں۔76سالوں سے پاکستان کی جنگ لڑنے والے کشمیری آج ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم نے ان کے لیے کیا کیا اور انہوں نے ہمارے لیے کیا کیا نہیں کیا۔سید علی گیلانی نے لڑکپن سے ہی کشمیرکی آزادی کی جنگ میں ایک سپاہ سالار کی حیثیت سے جہاد کا آغاز کیا اور اپنی جان مالک کے سپرد کرتے تک جہاد جیسے عظیم مشن کا پرچم تھامے رکھا۔ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے کا وہ عظیم ترین نعرہ اس عظیم مجاہد کی زبان سے یوں گونجتا تھا کہ یہ بوڑھی آواز ہندو بنیئے کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر دیتی تھی۔سید علی گیلانی نے کشمیریوں کے لیے جو کیا اس کی مثال دینا مشکل ہے لیکن اتنا بڑا اور اتنا سچا پاکستانی کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ پاکستان کی محبت میں گزار دیا اور کشمیری نوجوانوں نے حریت کی وہ عظیم داستان رقم کی کہ کشمیر کی آواز دنیا کے کونے کونے میں پہنچ گئی۔سید علی گیلانی کی آواز بھارتی ڈیڑھ ارب آبادی کی آواز سے زیادہ طاقتور توانا اور جراتمند تھی۔جرأت ہمت اور جہد مسلسل کا وہ عظیم پہاڑ جو رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے ایمان کو حرارت پہنچاتی رہے گی جس نے ثابت کیا کہ اگر جذبے سچے ہوں عقائد میں پختگی ہو اوراپنے ملک و ملت کچھ کرنے کی آرزو ہو تو انسان سید علی گیلانی جیسا عظیم تر اور بے باک رہبر و رہنما بن کر ابھرتا ہے۔آج شاہ صاحب ہم میں نہیں لیکن ان کی عظمت ان کی صلاحیت اور ان کی جراتمندانہ قیادت کشمیری یا پاکستانی نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں میں احترام کا جو مقام رکھتی ہے وہ شاید ہی کسی اور کو نصیب ہو۔
سید علی گیلانی ہم آپ سے اس لیے شرمندہ ہیں کہ آپ کی قیادت میں کشمیریوں نے جس انداز سے لڑی اور جس جرات و حمیت کا مظاہرہ کیا شاید ہم اس پر پورا نہیں اتر سکے۔ سات دہائیوں سے دنیا کی فاشسٹدہشت گرد اور مسلمانوں کی ازلی دشمن بھارتی حکومت نے جس درندگی کا مظاہرہ مقبوضہ کشمیر میں کیا اس کی مثال پوری دنیا میں کوئی اور نہیں مل سکتی را اور انڈین آرمی نے مقبوضہ کشمیر میں بے غیرتی‘بے حیائی اور لعنت کے ایسے ایسے واقعات برپا کیے گئے کے جس کو مجھ جیسا کمزور آدمی لکھنے سے بھی قاصر ہے جبکہ کئی دہائیوں سے مسلسل کرفیو گھر گھر تلاشی ماروائے عدالت قتل تشدد اور معذور کرنے والی المناک داستانیں جنہیں جب کوئی مورخ لکھے گا تو یہ لکھنے پر مجبور ہو گا کہ روئے زمین پر سب سے زیادہ مزاحمت جرات اور استقلال کشمیری عوام میں پایا جاتا ہے۔سید علی گیلانی کی قیادت میں غیرت اور جرات کی کشمیریوں نے جو داستان رقم کر دی یقیناوہ کسی اور کے حصے میں آنے والی نہیں لیکن ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے دہشت گرد بھارت کو کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا منہ توڑ جواب نہیں دیا۔ہمارے قائد جناب محمد علی جناح نے کشمیر کوشہہ رگ قرار دیا لیکن ہم نے صرف اور صرف بیان بازی اور ہندو بنیئے کی مذمت پرزوردیا۔ ادھر کشمیر میں ہماری ماں بہنوں کی عصمت دری ہوتی رہی اور ہماری نوجوان سینے چھلنی کروا کر اپنے رب کے حضور پیش ہوتے رہے کشمیر میں لاکھوں بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے۔ہزاروں ماؤں کے لال اس دنیا میں نہ رہے گھر کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے لیکن آپ کی جرات کو سلام ہے کہ کشمیریوں نے اپنے قائد جناب شہید سید علی گیلانی کا دیا ہوا وہ عظیم تر نعرہ کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے نہیں چھوڑا۔
پندرہ سال سے زائد عرصہ بھارتی درندوں کے ہاتھوں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے اور گیارہ سال تک اپنے گھر میں نظر بند رہنے والے نظر بندبھی وہ کہ نماز عید جمعتہ المبارک اور اپنے پیاروں کی آخری رسومات میں جانے کی اجازت بھی نہیں تھی اس عظیم رہنما نے اپنے عظیم مقصد کو ہر صورت میں اور ہر حالات میں جاری رکھا یہاں تک کہ قابض بھرتی فوجوں کے ہاتھوں مسلسل محاصرے میں رہتے ہوئے جب خالق حقیقی کے پاس جا پہنچے تو ان کے جسد خاکی پر پاکستانی پرچم تھامرحوم کی رات دس بجے وفات ہوئی اور آدھے گھنٹے میں ہی بھارتی درندوں نے پورے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا۔ انٹرنیٹ سروس بند کر دی اور مرحوم کے گھر پہنچ کر جسد خاکی کو چھینادرندے اس بوڑھے اور ناتواں بزرگ کی میت سے ہی اتنے گھبرا رہے تھے کہ ان کے اہل خانہ پر خوف وہراس پیدا کر کے کلاشنکوف کے بٹ مار کر میت کو گھسیٹتے ہوئے ایمبولینس میں ڈال کر لے گئے اور ان کے گھر سے چند سو فٹ کے فاصلے پر قریبی مسجد میں دو چار مدرسے کے بچوں سے جنازہ پڑھوا کر سپرد خاک کر دیا۔ انا للہ واناالیہ راجعون۔
شاہ صاحب ہم آپ سے اس لیے بھی شرمندہ ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت آپ کے لیے وہ کچھ نہ کر سکے جس کے آپ حقدار تھے یہ حقیقت ہے کہ ہمارے فوجی جوانوں نے آپ کے لیے جنگیں بھی لڑیں اور بڑی تعداد میں شہادت کی مالا بھی اپنے گلوں میں سجائی اور ہر محاذ پر آپ کا ساتھ بھی دیا لیکن کچھ ایسے دلخراش واقعات بھی ہیں جس سے ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔ جب مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کی مودی کے دہشت گرد پائلٹ گنوں سے ان کی بصارت چھین رہے تھے اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی عین اسی وقت ہمارے وزیر اعظم کے گھر میں دہشت گرد مودی اپنے را اور ایس ایس آر کے سربراہوں کے ہمراہ بغیر ویزوں کے ایک تقریب میں مسرور تھا۔آج سید علی گیلانی تمام کشمیریوں اور پاکستانیوں کو جو پیغام دے گئے ہیں وہ ہمارے لیے مشعل راہ اور صراط مستقیم ہے اور ان کا پیغام ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭……٭……٭

کورونا وائرس بھارت اور انگلینڈ کا آخری میچ ‘نگل’ گیا

کورونا کیسز میں اضافے کے باعث بھارت اور انگلینڈ کے درمیان پانچواں اور آخری ٹیسٹ منسوخ کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا آخری میچ آج سے ‘اولڈ ٹریفورڈ’ میں کھیلا جانا تھا تاہم اب پانچواں میچ منسوخ کردیا گیا ہے۔

سیریز کے دوران بھارتی ہیڈ کوچ روی شاستری، بولنگ اور فیلڈنگ کوچ کورونا کا شکار ہوئے۔

بھارتی کھلاڑیوں اور کوچز کی بےاحتیاطی سے کورونا مزید پھیلا، مانچسٹر ٹیسٹ سے پہلے بھارتی ٹیم کے ایک اور اسپورٹ اسٹاف وائرس میں مبتلا ہوئے۔ وبا کی موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے میچ منسوخ کیا گیا۔

بھارت کو سیریز میں 1-2 کی برتری حاصل ہے اس طرح اب چار میچوں کی سیریز بھارت کے نام رہی۔

یاد رہے کہ 7 ستمبر کو بھارت نے انگلینڈ کو چوتھے ٹیسٹ میچ میں 157 رنز سے شکست دے کر سیریز میں 1- 2 کی برتری حاصل کی تھی۔

برف پگھل گئی؛ جوبائیڈن اور چینی صدر کا پہلی بار براہ راست رابطہ

واشنگٹن / بیجنگ: مریکی صدر جوبائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے 7 ماہ بعد اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری معاشی جنگ کے تھمنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالتے ہی اختلافات شروع ہوگئے تھے جس میں ہر گزرتے روز کے ساتھ معاشی اور تجارتی جنگ میں اضافہ ہوتا گیا اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح بڑھاتے رہے اور اقتصادی پابندیاں سخت کرتے رہے۔

امریکا میں گزشتہ برس کے آخر میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست اور جوبائیڈن کے صدر بننے کے بعد بھی دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ برقرار رہا ہے تاہم اب نئی امریکی حکومت نے 7 ماہ بعد چین سے رابطہ کیا ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن اور چینی صدر  شی جن پنگ نے مستقبل میں روابط برقرار رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن چین کے ساتھ مسابقت کو تنازعے میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہتے ہیں اور اختلافی امور کے حل کے لیے اپنے ہم منصب سے ضروری اقدامات اُٹھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے تناؤ میں کمی لانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

دوسری جانب چین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کافی کھلی اور گہری رہی لیکن چین سے متعلق امریکی پالیسیاں پہلے ہی سنگین مشکلات کا سبب بن چکی ہیں جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ملکی استحکام کو نقصان پہنچانے والی قوتوں کے عزائم ہر صورت ناکام بنائیں گے: آرمی چیف

آرمی چیف  جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں امن واستحکام کیلئے بیرونی اور اندرونی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیرصدارت کورکمانڈرکانفرنس ہوئی جس میں عالمی، علاقائی اور ملکی سکیورٹی صورتحال پر غور کیا گیا۔

 آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کانفرنس میں افغانستان کی صورتحال پربھی غورکیا گیا۔

اس حوالے سے آرمی چیف کا کہنا تھاکہ بارڈر منیجمنٹ کی وجہ سے پاکستان کی سرحدیں اور داخلی سلامتی برقرار ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے مختلف خطرات کے خلاف فوج کے تعاون اور کردار کو سراہا جبکہ انہوں نے افغانستان سےغیرملکیوں کے انخلا کیلئے فوج کے تعاون اورکردار کی تعریف کی۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آر می چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے امن کیلئے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تعاون خوشحال اور پرامن خطے کیلئے ضروری ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ  کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے سینیئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف نے روایتی اورغیر روایتی خطرات سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاری کی ہدایت کی اور کہا کہ پاکستان میں امن واستحکام کیلئے بیرونی اور اندرونی قوتوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گے۔

آرمی چیف نے بھارتی ریاستی جبر  اور تشدد کاسامناکرنے والے کشمیریوں کے ساتھ اظہاریکجہتی بھی کیا۔

پاکستان کو مسلسل 15 ویں ماہ بھی 2 ارب ڈالر سے زیادہ کی ترسیلات موصول، سعودی عرب سرفہرست

کراچی : اگست 2021میں ترسیلات زرمیں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ترسیلات زر 2 ارب 66کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، اس دوران سعودی عرب سرفہرست رہا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک کی جانب سے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2021ء میں کارکنوں کی ترسیلات زر کا مضبوط رجحان جاری رہا اور ترسیلات زر 2.66 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ یہ مسلسل چھٹا مہینہ ہے کہ آنے والی رقوم اوسطاً 2.7 ارب ڈالر کے لگ بھگ رہی ہیں اور مسلسل پندرہ مہینہ ہے کہ 2 ارب ڈالر سے زائد رہی ہیں۔

مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ نمو کے لحاظ سے ترسیلات زر اگست میں 26.8 فیصد (سال بسال) بڑھ گئیں جو اس مہینے کے لیے پوری دہائی کی بلند ترین شرح نمو ہے، ماہ بہ ماہ بنیاد پر آنے والی رقوم جولائی سے معمولی سی کم تھیں، جس سے عید کے بعد کی معمول کی سست روی کی عکاسی ہوتی ہے۔ تاہم یہ موسمی کمی اس سال تاریخی رجحانات کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔

مجموعی طور پر 5.36 ارب ڈالر کی ترسیلات زر اس سال کے پہلے دو مہینوں کے دوران پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10.4 فیصد بڑھیں، اگست 2021ء کے دوران آنے والی ترسیلات زر زیادہ تر سعودی عرب (694 ملین ڈالر)، متحدہ عرب امارات (512 ملین ڈالر)، برطانیہ (353 ملین ڈالر) اور امریکہ (279 ملین ڈالر) سے آئیں۔

گذشتہ سال سے ترسیلات زر کی آمد میں مسلسل بہتری کے اسباب میں باضا بطہ طریقوں کے استعمال کی ترغیب دینے کے لیے حکومت اور اسٹیٹ بینک کے فعال پالیسی اقدامات، کووڈ 19 کی بنا پر سرحد پار سفر میں کمی، وبا کے دوران پاکستان کو بھیجی جانے والی فلاحی رقوم اور زرمبادلہ مارکیٹ کے منظم حالات شامل تھے۔

دوسری جانب وزیر مملکت فرخ حبیب نے ٹوئٹر پیغام میں بیرون ملک پاکستانیوں کاشکریہ ادا کرتے ہوئے کہا اگست 2021میں 2.7بلین ڈالرزترسیلات زربجھوائی گئی، ترسیلات زر اگست 2020 کے مقابلے 27فیصد اضافہ ہے جبکہ جولائی اگست میں مجموعی طور پر5.4بلین ڈالرترسیلات زر ہیں ، یہ پچھلےسال جولائی اگست سے10.4فیصد زیادہ ہے۔