All posts by Daily Khabrain

کراچی میں بارش، نشیبی علاقے زیر آب، کرنٹ لگنے سے بچی سمیت 5 جاں بحق

کراچی: شہر میں موسلا دھار بارش کے بعد دوسرے روز شارع فیصل، ایم اے جناح روڈ، یونیورسٹی روڈ سمیت اہم شاہراہوں سے پانی کی نکاسی مکمل کرلی گئی، لیاقت آباد انڈر پاس سمیت نشیبی علاقوں میں اب بھی پانی جمع ہے، بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے چار سالہ بچی سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔

ہفتہ کی صبح شہر کی مرکزی شاہراہوں ایم اے جناح روڈ، یونیورسٹی روڈ، شاہراہ فیصل، کوریڈور تھری سے پانی کی نکاسی کرکے ٹریفک کیلئے کلیئر کر دیا گیا۔ لیاقت آباد انڈر پاس، گلبرگ چورنگی، لیاقت آباد فلائی اوور، ملیر کالا بورڈ، قیوم آباد چورنگی سمیت شہر کے مختلف نشیبی مقامات پر پانی جمع ہے جس کی نکاسی کیلئے ٹیمیں کام کررہی ہیں، نارتھ ناظم آبادحیدی، گلستان جوہر، شاہراہ قائدین سمیت بعض علاقوں میں بارش کا پانی نکال لیا گیا۔

بارشوں سے بیشترعلاقوں میں متاثر ہونے والی بجلی کی فراہمی بھی معمول پر آگئی، بارش کے دوران کرنٹ لگنے سے پانچ افراد جاں بحق ہوئے۔

کلفٹن میں کرنٹ لگنے سے پہلی جماعت کی طالبہ چار سالہ تانیہ جاں بحق ہوگئی۔ تانیہ کے والد کے مطابق بدقسمت تانیہ گھر کے باہر بارش کے پانی میں کھیل رہی تھی۔ شام کے وقت کھمبے پر اسپارک ہوا تھا تاہم شکایت کے باوجود کے الیکٹرک نے کارروائی نہیں کی۔

بلدیہ عابدآبادمیں کام کے دوران کرنٹ لگنے سے یاسین، لیاقت آباد شریف آبادمیں کرنٹ لگنے سے محمد صابرجاں بحق ہوگیا، لائٹ ہاوس کے قریب کرنٹ لگنے سے ساجد لودھی نامی شخص انتقال کرگیا۔

پولیس کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے متوفی چپل گلی میں بجلی کے بلب چوری کر رہا تھا، بارش کے باعث جگہ گیلی ہونے سے اسے کرنٹ لگا، باغ کورنگی میں کرنٹ لگنے سے بھی ایک شخص جاں بحق ہوا ریسکیو زرائع کے مطابق بارش کے پانی میں کرنٹ آرہا تھا۔۔

یکم اکتوبر سے اندرون و بیرون ملک فضائی سفر کیلئے ویکسینیشن سرٹیفکیٹ لازمی قرار

سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) پاکستان نےکورونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ رکھنے سے متعلق ہدایت نامہ جاری کردیا۔

ہدایت نامے کے مطابق ڈومیسٹک اور انٹرنیشنل فلائٹس پرکورونا ویکسینیشن یکم اکتوبر سے لازمی قرار دے دی گئی ہے جس کے بعد یکم اکتوبر سے بغیر کورونا ویکسینیشن کے فضائی سفر پر پابندی ہوگی۔

ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ 17 سال سے کم عمر افراد اور مریضوں کو کورونا ویکسینیشن سرٹیفکیٹ سے استثنیٰ ہوگا جبکہ مریضوں کو استثنیٰ سے متعلق معالج کا میڈکل سرٹیفکیٹ دکھانا ہوگا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق پاکستان آنے اور جانے والے مسافروں کیلئے سفر سے 72 گھنٹے  قبل کورونا ٹیسٹ کی شرط برقرار رہے گی جبکہ بیرون ملک جانے اور آنے والے مسافروں کے پاکستان کے ائیرپورٹس پر ریپڈ ٹیسٹ ہوں گے۔

سی اے اے نے تمام ائیرلائنز کو نئی ہدایات پر سختی سے عمل کی ہدایت کی ہے۔

ویکسین کی دوسری خوراک سے متعلق این سی او سی کی ہدایت جاری

علاوہ ازیں انسداد کورونا کے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے بھی ویکسین کی دوسری خوراک سے متعلق ہدایت جاری کی ہے۔

این سی او سی کے مطابق جن شہریوں کی دوسری ڈوز کا وقت ہوچکا ہے وہ میسیج کا انتظار کیے بغیر دوسری خوراک لگواسکتے ہیں۔

این سی اوسی کا کہنا ہے کہ دوسری ڈوز کسی بھی ویکسین سینٹر سے لگوائی جاسکتی ہے جبکہ اتوار کا دن خصوصی طور پر دوسری ڈوز کیلئے مقرر ہے۔

آرمی چیف سے وزیراعظم آزاد کشمیر کی ملاقات، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات چیت

راولپنڈی:آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ سے وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے ملاقات کی، جس میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی، جس میں بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر حالات، یکطرفہ بھارتی اقدامات اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

سینئر حریت رہنما سید علی گیلانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی نے ساری زندگی کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول کیلئے بے لوث جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے وزیراعظم آزاد کشمیر کو یقین دلایا کہ پاک فوج کشمیر کاز کیلئے کشمیریوں مکمل حمایت جاری رکھے گی۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے سردار عبدالقیوم نیازی کو آزاد جموں و کشمیر کی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی اور خطہ کشمیر کے استحکام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سردار عبدالقیوم نیازی نے آزاد جموں و کشمیر میں سیکورٹی و ترقی کیلئے پاک فوج کے کردار کی تعریف کی۔

کابل میں جشن کے دوران ہوائی فائرنگ سے 17 افراد جاں بحق

کابل میں طالبان کی جانب سے افغانستان کی وادی پنج شیر میں قبضے کی اطلاع ملتے ہی جشن منایا اور ہوائی فائرنگ کی گئی جس کے نیتجے میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے۔

غیرملکی خبرایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق پنج شیر کی مزاحمتی فورسز نے طالبان کے دعووں کو مسترد کردیا اور کہا کہ وادی پر ان کا کنٹرول ہے۔

مزید پڑھیں: پنج شیر کا کنٹرول حاصل کرلیا، طالبان ذرائع کا دعویٰ

افغانستان کی خبرایجنسی شمشاد کے مطابق گزشتہ رات کابل میں ہوائی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں 17افراد جاں بحق اور 41 زخمی ہوگئے اور طلوع نیوز نے بھی اسی طرح کی رپورٹ دی۔

ننگر ہار کے صوبائی دارالحکومت جلال آباد میں ایک علاقائی ہسپتال کے ترجمان گل زادہ سانگر نے بتایا کہ ننگر ہار کے مشرقی علاقے میں جشن کے دوران ہوئی فائرنگ سے 14 افراد زخمی ہوگئے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ہوائی فائرنگ کے حوالے سے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہوائی فائرنگ سے گریز کیا جائے کیونکہ آپ کو دیا گیا اسلحہ عوامی اثاثہ ہے، کسی کو بھی اس سے نقصان کرنے کا حق حاصل نہیں، گولیوں سے شہریوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، اس لیے ہوائی فائرنگ نہ کریں’۔

دوسری جانب پنچ شیر میں سابق مجاہدین کے کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے کے ساتھ موجود نائب صدر امراللہ صالح نے مزاحمتی فورسز (این آر ایف) کی خطرناک حالت کا اعتراف کیا۔

امراللہ صالح نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ‘حالات مشکل ہیں، ہمارے اوپر یلغار ہورہی ہے’۔

ویڈیو میں امراللہ صالح روایتی شلوار قمیض میں نظر آئے حالانکہ وہ مغربی لباس کے دلدادہ کے طور پر مشہور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مزاحمت جاری ہے اور جاری رہے گی’۔

یہ بھی پڑھیں: ملا برادر افغانستان میں نئی حکومت کی قیادت کریں گے

طالبان اور مزاحمتی فورسز کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پنچ شیر کے ضلع پاریان میں قبضے کے متضاد دعوے سامنے آتے رہے ہیں لیکن آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

خیال رہے کہ طالبان نے 15 اگست کو کابل پر قبضہ کرلیا تھا لیکن پورے افغانستان میں پنچ شیر واحد علاقہ تھا جہاں طالبان قبضہ نہیں کر پائے تھے۔

طالبان مخالف فورسز اور سابق فوجی اہلکار پنچ شیر میں جمع ہوگئے تھے جہاں احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں طالبان مخالف جنگجووں نے قومی مزاحمت فرنٹ (این آر ایف) کے نام سے ایک محاذ تشکیل دیا اور طالبان سے لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے عالمی طاقتوں سے مدد کا مطالبہ کیا تھا۔

پنج شیر دارالحکومت کابل سے 80 کلومیٹر شمال کی جانب واقع ہے جہاں سابق افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان مخالف ملیشیا (این آر ایف) کو وادی کے مخصوص جغرافیے کی وجہ سے مزاحمت کے لیے آسانی پائی جاتی ہے کیونکہ گزشتہ برسوں کے دوران افغانستان میں بیرونی اور اندورونی طور پر جنگ میں یہ علاقہ ناقابل تسخیر رہا ہے۔

جو بائیڈن افغان انخلا کے ساتھ امریکا کے عالمی کردار کے خاتمے کے خواہاں

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ واپس آگیا ہے، تاہم ان کا افغانستان سے انخلا ظاہر کرتا ہے کہ امریکا معمول کے مطابق عالمی کردار میں واپس نہیں آئے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جو بائیڈن عالمی سطح پر امریکی اقدار کو مسلط کرنے کے لیے وسیع فوجی وسائل کا استعمال روکنے میں بہت زیادہ دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

جو بائیڈن نے کہا کہ ‘افغانستان کے بارے میں یہ فیصلہ صرف افغانستان کے بارے میں نہیں ہے، یہ دیگر ممالک کو دوبارہ قائم کرنے کے لیے بڑی فوجی کارروائیوں کا دور ختم کرنے کے بارے میں ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘انسانی حقوق ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز ہوں گے تاہم یہ فوجی تعیناتیوں کے ذریعے نہیں ہوگا’۔

مزید پڑھیں: پنج شیر کا کنٹرول حاصل کرلیا، طالبان ذرائع کا دعویٰ

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہماری حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہوگا’۔

اٹلانٹک کونسل کے یورپ سینٹر کے ڈائریکٹر اور ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کے ماہر بینجمن حداد نے اس تقریر کو ‘گزشتہ دہائیوں میں کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے بین الاقوامی لبرل ازم کی سب سے واضح تردید قرار دیا۔

ان امریکیوں کے لیے جو اپنے ملک کو ایک منفرد، ناقابل تسخیر سپر پاور تصور کرتے ہیں، یہ ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔

تاہم ظاہر کرتے ہیں کہ زیادہ تر لوگوں میں جو بائیڈن کا بیانیہ مقبول ہونے کا امکان ہے۔

ٹرمپ، بائیڈن کن باتوں پر متفق ہیں؟

جو بائیڈن کی صدارت کو عام طور پر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی تردید کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یہ سچ ہے کہ بہت کچھ 20 جنوری کو جو بائیڈن کے اوول آفس میں داخل ہونے کے بعد ہی تبدیل ہوچکی ہیں۔

تاہم جو بائیڈن کا امریکی فوجی مہم جوئی کو ترک کرنا، جسے ‘دنیا کی پولیس’ کہا جاتا ہے، ٹرمپ کی سوچ تھی۔

مارکوٹ لا اسکول کے پروفیسر اور مارکویٹ رائے شماری کے ڈائریکٹر چارلس فرینکلن نے کہا جب جو بائیڈن نے افغانستان کے بارے میں اعلان کیا کہ ‘اب وقت آگیا ہے کہ یہ ہمیشہ کی جنگ ختم ہوجائے، یہ اعلان ٹرمپ بھی با آسانی کرسکتے تھے’۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ آج عوام بڑے بین الاقوامی کردار کے لیے پرعزم نہیں ہیں، یقینا اس طرح کے نہیں جو امریکا نے 1950 سے 1990 کے درمیان میں ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو طالبان کے ساتھ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے، شاہ محمود قریشی

خاص طور پر افغانستان کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ-اے بی سی نیوز کے سروے کے مطابق 77 فیصد انخلا کے لیے مضبوط حمایت دکھاتے ہیں یہاں تک کہ جو بائیڈن انخلا کے جلد بازی پر لڑ رہے ہیں۔

اتحاد خطرے میں؟

جہاں جو بائیڈن تنہائی پسند ڈونلڈ ٹرمپ سے یکسر مختلف ہیں، وہ اتحاد قائم کرنے کے جوش میں ہیں۔

جو بائیڈن کا نظریہ ہے کہ امریکا ایک بڑھتا ہوا عالمی پولیس نہیں ہو سکتا تاہم یہ ایک دوستانہ کمیونٹی لیڈر ہو سکتا ہے۔

ان کی انتظامیہ نے واشنگٹن کو بڑی قوتوں اور ایران کے درمیان اپنی ایٹمی پالیسی، ماحولیاتی معاہدے اور نیٹو جیسے روایتی اتحاد کے حوالے سے سخت مذاکرات کے مرکز میں ڈال دیا۔

جی 7 اور نیٹو کے اجلاسوں کے لیے جون میں یورپ کا دورہ، جو بائیڈن کا اب تک کا واحد غیر ملکی دورہ ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اب ان میں سے چند اتحادی گھبرائے ہوئے ہیں۔

امریکی یونیورسٹی کے قانون کے شعبے میں انسداد دہشت گردی کی ماہر ٹریشیا بیکن نے اے ایف پی کو بتایا کہ اتحادی افغانستان سے امریکا کی روانگی میں ہم آہنگی کے فقدان پر ‘کافی حد تک مایوسی’ محسوس کرتے ہیں۔

واشنگٹن میں عرب سینٹر کے ریسرچ ڈائریکٹر عماد ہارب نے کہا کہ صرف یورپی شراکت دار اکیلے حیرت میں نہیں ہیں۔

انہوں نے تھنک ٹینک کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ‘امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کے عادی عرب حکومتوں کو پریشان ہونا چاہیے کہ افغانستان میں کیا ہوا’۔

کابل میں حکومت سازی مسلسل تعطل کا  شکار ہے جس کے باعث مشکلات بڑھ رہی ہیں

کابل میں حکومت سازی مسلسل تعطل کا  شکار ہے جس کے باعث مشکلات بڑھ رہی ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کے رہنماء بھی مختلف رائے رکھتے ہیں ہمارے نمائندے آصف شہزاد اس وقت افغانستان نجات پارٹی کے رہنماء ڈاکٹر عمر زاخیلوال کے ساتھ موجود ہیں ان سے جانتے ہیں

آرمی چیف سے برطانوی وزیر خارجہ کی ملاقات، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی جس میں ‘باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی، افغانستان کی موجودہ صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے اقدامات’ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ‘دونوں فریقین دفاع، تربیت اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون کے راستوں کی تلاش جاری رکھنے پر متفق ہیں’۔

آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان، افغانستان میں امن اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوششوں کے لیے پرعزم ہے اور ایک جامع حکومت کی حمایت کرتا ہے۔

دونوں نے خطے میں امن و سلامتی کی کوششیں اور کووڈ 19 کے خلاف جنگ سمیت دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے کی خواہش کا اعادہ کیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو طالبان کے ساتھ حقیقت پسندانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے، شاہ محمود قریشی

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ‘مہمان خصوصی نے افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار بشمول انخلا کے کامیاب آپریشن، علاقائی استحکام کو سراہا اور ہر سطح پر پاکستان کے ساتھ سفارتی تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عہد کیا’۔

خیال رہے کہ ڈومینک راب جمعرات کو پاکستان پہنچے تھے جہاں نور خان ایئربیس پر اترنے کے بعد ان کا وزارت خارجہ اور برطانوی ہائی کمیشن کے حکام نے استقبال کیا۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ جمعہ کے روز دفتر خارجہ میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ ‘ہم طالبان کو ایک حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتے تاہم ہم ان کے ساتھ براہ راست رابطے کو اہم سمجھتے ہیں’۔

پاک ۔ برطانیہ تعلقات

ڈومینک راب اور شاہ محمود قریشی نے اپنی ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا تھا۔

دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ‘دوطرفہ تعلقات کے تناظر میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور برطانیہ کے مضبوط دوطرفہ تعلقات خاص طور پر معاشی اور تجارتی شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہیے’۔

شاہ محمود قریشی نے برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کو سفر کے لیے ’ریڈ لسٹ‘ میں رکھنے کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا، جس کے تحت پاکستان سے آنے والے لوگوں کے لیے برطانیہ میں ہوٹل میں قرنطینہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیر خارجہ دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، ایجنڈے پر افغانستان سرفہرست

اجلاس میں انہوں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان پر عملدرآمد میں پاکستان کی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی اور اس امید کا اظہار کیا کہ اس عمل کو سیاسی رنگ دینے کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی۔

ڈومینک راب نے کہا کہ ‘برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کی بنیاد بہت مضبوط ہے اور برطانیہ اسے اگلے درجے تک لے جانے کی خواہش رکھتا ہے، افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے بھی ہماری بہت واضح اور مشترکہ دلچسپی ہے، ہم طالبان کے بارے میں فیصلہ ان کی باتوں کے بجائے ان کے عمل سے کریں گے’۔

وزیر اعظم سے ملاقات

بعد ازاں ڈومینک راب نے وزیر اعظم عمران خان سے بھی ملاقات کی۔

ملاقات میں وزیراعظم نے افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مضبوط بنانے، امن کو مستحکم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے اور بڑے پیمانے پر ہجرت کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ انسانی بحران کی روک تھام اور معیشت کو مستحکم کرنا فوری ضروریات ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہو، مثبت مشغولیت اختیار کرے اور پرامن، مستحکم اور جامع سیاست کو یقینی بنانے کی ترغیب دے۔

پنجاب حکومت کا گولڈ میڈلیسٹ حیدر علی کیلئے 25 لاکھ روپے انعام کا اعلان

ٹوکیو پیرا لمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر ملک کا نام روشن کرنے والے حیدرعلی کے لیے پنجاب حکومت نے 25 لاکھ روپے انعام کا اعلان کردیا ہے۔

وزیرکھیل پنجاب رائے تیمور بھٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹوکیو پیرالمپکس میں گولڈ میڈل جیت کر حیدر علی نےپوری قوم کاسرفخرسےبلند کردیا ہےاس کارنامے پر محکمہ کھیل پنجاب کی طرف سے حیدرعلی کے لیے 25 لاکھ روپے انعام کااعلان کرتا ہوں۔

وزیرکھیل پنجاب کا کہنا  تھا کہ حیدر علی کو یہ انعامی رقم ان کی وطن واپسی پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ایک تقریب میں دیں گے۔

یاد رہے کہ جمعے کو  ٹوکیو پیرالمپکس میں مردوں کے ڈسکس تھرو مقابلے میں پاکستان کے حیدر علی نے تاریخ رقم کرتے ہوئے پاکستان کیلئے پہلا گولڈ میڈل جیتا تھا ۔

اچھے دن آئے ہیں

افضل عاجز
ہمارے وزیراعظم کی آنکھوں میں کچھ خواب ہیں مگر وہ یہ خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھتے ہیں حالانکہ خواب دیکھنے کیلئے سونا بہت ضروری ہے اور پھر اچھے اور سچے خواب کی نشانی یہ ہے کہ وہ صبح کی اذان سے پہلے آئے تو اس کی تعبیر بھی جلد سامنے آتی ہے۔
وزیراعظم کے ارد گرد کے لوگ بھی خواب کم اور وزیراعظم کا چہرہ زیادہ دیکھتے ہیں اور پھر وزیراعظم کے چہرے کے تاثرات کے مطابق اپنا خواب بدل لیتے ہیں۔ حکومت کی تین سالہ کارکردگی کی تقریب میں جب عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی کانپتی ہوئی آواز اور لرزتے ہوئے ہاتھوں کے
”اچھے دن آئے ہیں“
گنگنایا تو وزیراعظم کا چہرہ خوشی سے سرخ ہو گیا۔ ہال تالیوں سے گونج اٹھا بعض سیٹوں سے اُٹھ کر بھنگڑے ڈالنے لگے اور یوں وزیراعظم کو کسی نے کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی کہ.اچھے دن آئے ہیں. کو سن کے سکرینوں کے سامنے بیٹھے لوگ کس طرح اپنا سینہ پیٹ کے سوال کر رہے ہیں کہ یہ اچھے دن کہاں آے ہیں….
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کیلئے ماضی میں بھی بہت برے دن آتے رہے ہیں مگراب کے کسی ایک حوالے سے بھی کہیں کوئی مثبت تبدیلی نظر نہیں آتی روز مرہ اشیائے ضرورت کی چیزوں میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے۔ بجلی گیس پٹرول کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ نے ایک عام آدمی کو برباد کر کے رکھ دیا ہے وزیراعظم جس عام آدمی حالات بہتر بنانے کی بات کرتے ہیں حکومتی اقدامات سے سب سے زیادہ تکلیف بھی اسی عام آدمی کوہے۔ کسی بھی حکومتی ادارے میں کہیں بھی بہتری نظر نہیں آتی آپ جس ادارے میں بھی چلے جائیں رشوت کے ریٹ دگنے ہو چکے ہیں پہلے تو اداروں کے لوگ چھپا کے رشوت لیتے تھے مگر اب کھلے بندوں وصول کرتے ہوئے مزید کا تقاضا کرتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر گزشتہ ایک سال سے بیگم کے علاج کیلئے مختلف سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے چکر لگا رہا ہوں ہسپتالوں میں جانے کے بعد معلوم ہوا کہ سرکاری ہسپتالوں میں میڈیسن تو دور کی بات کسی ڈاکٹر کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ مرض کی تشخیص کیلئے کچھ سنجیدگی دکھائے میری بیگم کو ابتدا میں گلے کی تکلیف ہوتی تو میں اسے ایک دوست ملک کے بادشاہ کے نام سے منسوب ہسپتال میں لے گیا چھ ماہ تک علاج کرنے کے باوجود وہ یہ نہ بتا سکے کہ مریض کو کیا تکلیف ہے حالانکہ وہ اس دوران درجنوں ٹیسٹ لکھ لکھ کے دیتے رہے مگر مرض کو نہ پہچان سکے یہ تو بھلا ہو ایک دوست کا جس کی مدد سے بائیو آپسی کروائی تو معلوم ہوا مریض کو گلے کا کینسر ہے سو علاج کیلئے شوکت خانم کا رخ کیا ذہن میں تھا کہ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کسی سفارش کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہاں غریب لوگوں کا علاج مفت ہوتا ہے مگر وہاں جا کے معلوم ہوا کہ میرا شمار ملک کے امرامیں ہوتا ہے اور پھر مجھے بتایا گیا کہ آپ کا مریض آخری سانسوں پر ہیں اسے گھر لے جاؤ اور محلے کہ کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاؤیہاں علاج ممکن نہیں ہے۔ حیرت ہوئی اتنے بڑے اعلیٰ ہسپتال کے ڈاکٹر کسی مریض کو ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں۔حالانکہ یہ خیراتی ادارہ ہے مگر میں سوچتا ہوں وزیراعظم جن کی والدہ محترمہ کینسر میں مبتلا ہوئیں تو انہوں نے ماں کے دکھ کو دل پہ لیتے ہوئے شوکت خانم ہسپتال کی بنیاد رکھی ان کے اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور عوام خواص نے بڑھ چڑھ کے اپنا حصہ ڈالا اور تو اور نواز شریف خاندان نے اسے ادارے کے قیام میں عمران خان کی بہت مدد کی۔ خود میں نے عمران خان کے ساتھ چندہ مہم میں حصہ لیا اور عام لوگوں کے ہاتھوں سے پیسے پکڑ پکڑ کے عمران خان کے ہاتھوں میں پکڑائے مگر مجھ سمیت ہر شخص نے یہ سب کچھ خالص انسانی خدمت کے جذبے کے تحت کیا اور ہسپتال مکمل ہوگیا۔
پچھلے دور حکومت میں کسی بھی سرکاری ہسپتال میں چلے جاتے علاج کیلئے ہر طرح کی سہولیات میسر تھیں ایمرجنسی میں درجنوں ڈاکٹر ہر وقت موجود ہوتے تھے جو چوبیس گھنٹے مریضوں کی دیکھ بھال کرتے نظر آتے علاج معالجے کی ہر سہولت میسر تھی ہسپتال داخلے کیلئے پرچی کی فیس تک نہ ہونے کے برابر تھی اکا دکا شکایت کے باوجود مجموعی طور پر اچھا ماحول تھا مگر اب صورتحال یہ ہے کہ پینا ڈول اور اسپرین تک آپ کو باہر سے خرید کے لانا پڑتی ہیں جب کہ امید تھی کہ عمران خان کے دور میں اور کچھ نہیں تو صحت کے شعبے میں بہت ترقی نظر آئے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا
گزشتہ دنوں میانوالی جو وزیراعظم کا آبائی ضلع اور حلقہ ہے وہاں میرے جاننے والے خاندان کی ایک خاتون کو آنکھ کے نیچے پھنسی نکل آئی جس کی وجہ سے ان کی ایک آنکھ بند ہوگئی انہوں نے میانوالی کے بڑے سرکاری ہسپتال سے رجوع کیا انہوں نے مریض کو چیک کرنے کے بعد فرمایا مریض کا یہاں علاج نا ممکن ہے لہذا اسے پنڈی یا پھر لاہور لے جاؤ اور جتنی جلدی لے جا سکتے ہو لے جاؤ یہ سن کے وہ لوگ جیسے تیسے کر کے یہاں لاہور لے آئے اورمحلے کے ایک ڈاکٹر کے علاج سے مریض تیسرے دن چنگا بھلا ہوگیااب سوال یہ ہے کہ ان ہسپتالوں کی حالت کون درست کرے گا۔
اب آخر میں کرونا ویکسین کے حوالے سے بھی دیکھ لیجیے۔پنجاب کے دیہی علاقوں میں کیا لاہور جیسے بڑے شہر میں پنجاب حکومت کی ناک کے نیچے لوگ جعلی سرٹیفکیٹ بنوا رہے ہیں عملہ پیسے لے کرنام درج کر رہا ہے اور ہزاروں لوگ عملے کی ملی بھگت اور رشوت دے کرویکسین لگوائے بغیر نام لکھوا رہے ہیں۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی کیسے کہہ سکتا ہے
اچھے دن آئے ہیں. ….
(کالم نگارمعروف شاعر اورادیب ہیں)
٭……٭……٭

افغانستان نئے موڑ پر

سجادوریا
افغانستان کی تاریخ جدوجہد،جنگ وجدل اور خون خرابے سے بھری پڑی ہے۔افغان عوام نے ظلم و ستم سے بھر پور کئی دہائیاں اپنے اوپر سے ایسے گزاری ہیں جیسے ”آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے“ اور وہ مسلسل کئی عالمی طاقتوں کا میدانِ جنگ بنا رہا۔افغانستان کی بدقسمتی بھی شامل ِ حال رہی کہ افغانستان کو مخلص اور محب وطن قیادت بھی نہیں نصیب ہوئی،افغانستان کی سیاسی،مذہبی اور جہادی قیادت نے بھی ہوش و خرد کا مظاہرہ نہیں کیا۔حامد کرزئی اور افغان نژاد امریکی زلمے خلیل زاد نے نسبتاََ بہتر کردار ادا کیا کہ امریکہ کے تسلط کو کمزور کیا جا سکے۔ایک نے سفارتی محاذ پر اور دوسرے نے اندرونی سیاسی محاذ پر۔انتہائی شرم ناک کردار کا مظاہرہ اشرف غنی،امراللہ صالح اور جنرل دوستم نے کیا۔مقام ِ عبرت اور شرمندگی ہے کہ بھڑکیں مارنے والے،پاکستان کے خلاف بکنے والے،ہندوستان کی بولی بولنے والے سُورماوٗں نے بزدلی کا مظاہرہ کیا اور طالبان کی ایک ہی دھاڑ کے بعد دُم دبا کر بھاگ نکلے۔
سوویت یونین کے بعد امریکہ بھی افغانستان میں اپنی عالمی دہشت کو اس خطے میں برقرار رکھنے کی امید لے کر یہاں آیا تھا،لیکن دو دہائیوں کے بعد شکست کی رُسوائیاں سمیٹے واپس ایسے بھاگا ہے کہ اس میں بھی بددیانتی شامل تھی۔امریکی قیادت میں نیٹواتحاد کی بدنیتی اس طرح شامل تھی کہ طالبان سے مذاکرات بھی کر رہے تھے اور اشرف غنی حکومت کو بھی دھوکے میں رکھا،اچانک ایسے غائب ہوئے کہ کابل میں اقتدارِ انتقال کو بھی ممکن نہیں بنایا۔ طالبان کا رویہ انتہائی ذمہ دارانہ رہا،طالبان جب کابل کے دروازے پر پہنچے تو اشرف غنی خفیہ طریقے سے بھاگ نکلا۔اگر امریکہ کی سوچ میں بددیانتی نہ ہوتی تو باقاعدہ انتقال ِ اقتدار کو ممکن بناتا۔لیکن مجھے ایسے لگتا ہے کہ اس وقت طالبان بہت عمدگی اور ذمہ داری سے کھیل رہے ہیں۔پاکستان کا کردار بھی انتہائی مثبت،ذمہ دارانہ،قابلِ ستائش ہے۔پاکستان نے کمال ذہانت و دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو عالمی طاقتوں کو افغانستان میں ایسے گھسیٹا کہ ان کو شکست سے دو چار ہو نا پڑا۔
پاکستان نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ملکر بہترین حکمتِ عملی ترتیب دی ہے۔اس وقت چین،ایران،روس سمیت اہم ممالک پاکستان کے ساتھ مشاورت کو نئی منصوبہ بندی کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔پاکستان اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔پاکستان نے اپنی حکمت سے بھارت سمیت تمام اہم کھلاڑیوں کو میدان سے ناک آوٗٹ کر دیا ہے۔اس ساری صورتحال کا اگر تجزیہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے غرور و تکبر کو ایک بڑی چوٹ لگی ہے۔امریکہ نے رُسوائی سمیٹ لی لیکن خود کو افغانستان سے نکالنا مناسب سمجھا۔امریکہ کی بدمعاشی،ہٹ دھرمی اور فرعونیت دھری کی دھری رہ گئی ہے۔اس تمام ذلت کے باوجود میں سمجھتا ہوں امریکہ نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے،جذباتیت اور رعونت کو ایک طرف رکھ کر امریکہ نے اپنی بقا کو پیش ِ نظر رکھا ہے۔
امریکہ نے سمجھ لیا ہے کہ بھارت اور اشرف غنی خالی نعروں اور دعووں کے علاوہ کچھ نہیں کر پا رہے اور امریکہ مسلسل دباوٗ کا سامنا کر رہا ہے۔جس میں سب سے بڑا معاشی دباوٗ ہے جو امریکی معیشت کو مسلسل برباد کر رہا ہے۔امریکہ کی سوچ بدلنے کے مختلف محرکات ہو سکتے ہیں،کچھ اندرونی اور کچھ بیرونی بھی ہو سکتے ہیں۔میری دانست میں سب سے مضبوط محرک چین کی معیشت اور چین کی سیاسی و فوجی ترقی امریکہ کے لئے مستقبل کے بڑے چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔امریکہ نے سمجھ لیا ہے کہ چین نے خود کو جنگوں سے دور رکھا ہوا ہے،اپنی توجہ معاشی ترقی پر مرکوز رکھی ہوئی ہے،چین دنیا میں معاشی تعلقات قائم کر رہا ہے،اپنی ساکھ کو بہتر بنا رہا ہے۔دنیا اس وقت چین پر اعتبار کر تی ہے اور کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتی جبکہ امریکہ کی دنیا میں ساکھ خراب ہو چکی ہے،امریکہ بدمعاشی کی علامت بن چکا ہے،اقوامِ متحدہ کی منافقت بھی آشکار ہو چکی ہے۔
افغانستان کی رسوائی امریکہ کی رعونت میں آخری کیل ثابت ہو گی۔دیگر ممالک بھی محسوس کر چکے ہیں کہ امریکہ اب جارحانہ انداز اختیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔امریکہ کی خواہش تو ہو سکتی ہے کہ چین،روس سمیت مخالف ممالک پر جنگ مسلط کی جائے لیکن عملی طور پر اس کو پایہ ء تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔
میرا”گمان“ ہے کہ امریکہ اب بہت محتاط ہوکرکھیلے گا۔اپنی معاشی اور فوجی استعدا د کو بے جا ضائع نہیں کرے گا،خودکوسفارتی اور خارجی محاذ کو متحرک کرے گا،سازشوں اور پراپیگنڈے کا استعمال کرے گا۔لیکن بہر حال امریکہ کی اخلاقی ساکھ،بندمٹھی میں ریت کی طرح پھسلتی جا رہی ہے،جتنی قوت سے مُٹھی بند کی جائے اتنی ہی ریت پھسلتی جاتی ہے۔امریکہ نے دلدل سے نکلنے کی کوشش کی ہے۔میں سمجھتا ہوں امریکی نقطہ نظر سے یہ بہترین اور قدرے تاخیر سے ہی سہی لیکن عملیت پسندی کا فیصلہ ہے۔اگر مخالف نقطہٗ نظر سے دیکھا جائے تو چین اور روس تو چاہتے تھے کہ امریکہ اسی طرح افغانستان میں اُلجھا رہے۔
اب بات کر تے ہیں طالبان کی فتح کی۔افغان طالبان کو مبارک کہ انہوں نے طویل جنگ لڑی اور فتح پائی۔لیکن یہ جیت اور حکومت ان کے لئے کڑا امتحان ثابت ہو گا۔انہوں نے طویل جدوجہد کے بعد افغانستان پر اپنی حکومت قائم کی ہے۔اسی طرح ان کے سامنے بڑے چیلنجز ہیں۔افغان طالبان بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کریں۔لیکن سوال یہ کہ دنیا ایسا چاہے گی؟عالمی طاقتیں جن کو دہشت گرد سمجھتی رہیں کیا ان کی حکومت کو تسلیم کریں گیں؟حالات و واقعات اور مجبوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے تجزیہ کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا کیونکہ طالبان اس بار ماضی کی غلطیوں کو نہیں دُہرائیں گے۔ان کی حکمت عملی میں چین اور روس ان کا ساتھ دے سکتے ہیں۔طالبان اگر تعاون پر آمادہ ہوئے تو روس چین،ترکی پاکستان اور ایران خاص طور پر امن لانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭