All posts by Daily Khabrain

نوٹس لینے اور رپورٹ طلب کرنے کا کلچر

ندیم اُپل
ہمارے ہاں اکثر وبیشتر جب کوئی بڑا سانحہ یا واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو متاثرہ فریق کو انصاف دلانے کیلئے سرکاری طور پر ان مخصوص الفاظ میں تسلی دی جاتی ہے کہ اعلیٰ حکام نے واقعہ کانوٹس لے کر آئی جی سے رپورٹ طلب کر لی۔یہ ترّدد بھی اس وقت کیا جاتا ہے جب ظلم و زیادتی پرمبنی کسی واقعہ کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں،رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور سڑکوں پر ٹائر جلاکر احتجاجی مظاہر ے کرتے ہیں یا کسی واقعہ کے بارے میں سوشل میڈیا پر شور مچ جائے وگرنہ ہمارے معاشرے میں کسی مظلوم کے ساتھ کوئی زیادتی ہو جائے تو تھانے میں اس کے کہنے پر ایف آئی آر تو کیا سادہ شکایت تک درج نہیں ہوتی البتہ کسی واقعہ پر شدید عوامی ردعمل آنے کی صورت میں بیوروکریسی کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ معاملہ ٹھنڈا کرنے کیلئے پہلے سے تیار شدہ بیان از خود جاری کردے کہ اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس لے لیا ہے اور فلاں فلاں پولیس افسر سے رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔دراصل یہ ہماری بیوروکریسی کے کام کرنے کا ایک مخصوص طریق کار ہے جو برسوں سے قائم ہے اوربدقسمتی سے آج بھی اسی پر عمل ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی مظلوم کو انصاف نہیں ملا۔
ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ جن کا نوٹس تو ضرور لیا گیا۔پولیس سے رپورٹیں بھی طلب کی گئیں مگر انصاف آج تک کسی کو نہ مل سکا۔
کیاساہیوال کے وہ معصوم بچے جن کے سامنے ان کے والدین کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا تھا کیاان کو انصاف مل گیا۔ان کے چچا کو ایک چیک دے کر منہ تو بند کر دیا گیا مگر قاتل کون تھے کہاں گئے یہ آج تک پتہ نہیں چل سکام۔موٹر وے پر بچوں کے سامنے ان کی ماں کے ساتھ زیادتی کرنے والے مجرموں کو جو اعتراف جرم بھی کر چکے ہیں انہیں سزا ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد میں غیر معمولی تاخیر کس لیے؟سیالکوٹ کاوہ واقعہ جس میں بھرے ہجوم میں مجرموں نے دو سگے بھائیوں (ان میں ایک حافظ قرآن تھا)کو ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا تھا جس پر اس وقت کے خادم اعلیٰ نے فوری نوٹس بھی لیا تھا اور بڑی رپورٹیں طلب کی تھیں کیا ان کے لواحقین کو انصاف ملا؟
حال ہی میں چوہنگ میں ماں بیٹی کے ساتھ زیادتی کیس میں جس کا فوری نوٹس لیا گیا تھا اور رپورٹ طلب کی گئی تھی کیا ابھی تک ان کو انصاف ملا۔ابھی چند روز قبل مقامی اخبارات کی خبر تھی کہ ایک ہی رو ز میں لاہور کے مختلف علاقوں میں سات خواتین سے زیادتی ہوئی۔اس پر چونکہ عوامی سطح پر احتجاج نہیں ہو ا اس لیے کسی نے اس واقعے کا کو ئی نوٹس لیا اور نہ ہی پولیس سے رپورٹ طلب کی گئی۔ایسے ہی معاشرے کے کمزور افراد سے ہونے والے ظلم پر یہ کہہ کر بقول چودھری شجاعت حسین (مٹی پاؤ) کہہ کربات ختم کر دی جاتی ہے۔مگر جس واقعہ پر لوگ جان کو آجائیں اس پرنوٹس بھی لے لیا جاتا ہے اور پولیس سے فوری رپورٹ بھی طلب کی جاتی ہے۔تاہم اس کیساتھ کیساتھ کچھ اچھے کاموں کا اعتراف کر لینے میں بھی بخل سے کام لینا اچھا نہیں۔مثلاً قصور کی زینب کا واقعہ،کوئٹہ میں قتل ہونے والے گیارہ کان کنوں اور نور مقدم کیس جس میں ملزم کے والدین بھی زیر حراست ہیں ان تینوں واقعات پراس لیے کارروائی ہوئی کہ ان واقعات نے پوری انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا تھااور اگر مزید اچھی کارکردگی کا حوالہ دینا مقصود ہو تو 14اگست کو گریٹر اقبال پارک میں ہونے والے واقعے کا حوالہ بھی دیا جا سکتا ہے جس پر غفلت برتنے والے پانچ اعلیٰ افسران کو بھی برطرف کر دیا گیا تھا اور جس تک پولیس ابھی تک پرجوش انداز میں اپنی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ وہ کیس ہے کہ جس تک پولیس والے خوشی خوشی کام کر رہے ہیں وہ یہ کام کیوں خوشی خوشی کر رہے ہیں اس بارے میں ہم سب جانتے ہیں لہٰذا اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔
اگر اس ملک میں اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے نوٹس لینے کے بعد کوئی منطقی کارروائی ہوئی تو وہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مدت ملازمت کے آخری دن تھے جب پولیس اور اعلیٰ بیوروکریسی کی شامت آئی ہوتی تھی اورسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں صبح سویرے ہی اعلی بیوروکریسی کی حاضریاں شروع ہو جاتی تھیں۔جب تک جسٹس ثاقب نثار اپنے عہدے پر فائز رہے ان کے احکامات پر فوری عمل درآمد بھی ہوا،ظالم کو باقاعدہ سزا ور مظلوم کو باقائدہ انصاف ملامگر جیسے ہی جسٹس ثاقب نثار کی مدت ملازمت ختم ہوئی ان کے باقی ماندہ احکامات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیاگیا۔ہم نے سطور بالا میں جن واقعات کا حوالہ دیا ہے ان میں دیکھا جائے تو ہم سب برابر کے قصور وار ہیں کسی ایک کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔اگر پولیس پر الزامات آتے ہیں توعوام کے تحفظ کے لیے وہ اپنی جانوں کا جو نذرانہ پیش کرکے امربھی ہو جاتے ہیں اسے بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔
پولیس میں بھی کیپٹن مبین ڈی آئی جی ٹریفک اورزاہد گوندل ایس ایس پی آپریشنز کا جذبہ رکھنے والے سپوت موجود ہیں تاہم کالی بھیڑیں تو ہرجگہ ہوتی ہیں۔اسی طرح عام عوام میں بھی ایسے لوگ ہیں جولب سڑک کسی بیہوش یازخمی شخص کودیکھا کراس کو ہسپتال نہیں پہنچاتے مگر مال غنیمت کے طور پر اس کے پرس اور موبائل وغیرہ پر ضرور ہاتھ صاف کر جاتے ہیں مگر ہم بنیادی سوال یہ لے کرچلے تھے جب زیادتی کاکوئی مجرم خود ہی اعتراف جرم کر لیتا ہے اور آدھا شہر اس کی گواہی بھی دیتا ہے توپھر جان بوجھ کر تفتیش کا دائرہ کار کیوں بڑھایا جاتا ہے اورایسے ثبوت کیوں مانگے جاتے ہیں جس کا فائدہ اقرار جرم کرنے والے ملزم کو پہنچ سکتا ہے۔مثال کے طور پرموٹروے کے ملزمان نے نہ صرف اقرار جرم کیا بلکہ یہ بھی اقرار کرلیا کہ وہ ماضی میں بھی اس قسم کے گھناؤنے جرائم میں ملوث رہے ہیں۔چوہنگ کے واقعہ میں ماں بیٹی سے زیادتی کرنے والا ملزم چند روز قبل ایسے ہی ایک جرم میں سزا بھگت کر باہر آیا تھا۔سو جب تک ایسے مجرموں کو نشان عبرت نہیں بنایا جائے گا ان کے ناپاک وجود کو صفحہ ہستی سے نہیں مٹایا جائے گا اس وقت تک سانحہ موٹر وے اورسانحہ چوہنگ ایسے المیے رونما ہوتے رہیں محض فوری نوٹس لینے اور رپورٹ طلب کرنے سے بات نہیں بنے گی۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

حجاب عورت کی حفاظت اور عظمت

لیاقت بلوچ
اسلام دین فطرت ہے۔ اسلام کی تعلیمات اور رہنمائی مردو خواتین کے لیے باعث خیر اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہیں۔اسلام ایک متوازن زندگی کا طرز عمل اپنانے کا حکم دیتاہے اور یہ درس ہے کہ نیکی یہ نہیں کہ ”تم اپنے چہر ے مشرق کی طرف یا مغرب کی طرف کر لو بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخرت و ملائکہ، اللہ کی نازل کی ہوئی کتابوں اور پیغمبروں کو دل سے مانے۔“اسلام دکھاوے، نمائش کے اسلوب نہیں مستقل شرم و حیا اور بامقصداور کامیاب زندگی کا راستہ بتاتاہے۔کامیاب وہی ہے جو آخرت میں جنت کا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا حق دار بن گیا۔ قرآن و سنت کے احکامات کی پابندی ہی انسانی زندگی کی کامیابی کی کلید ہے۔
اللہ نے موت و حیات کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتاہے، اور”جو لوگ اللہ کی راہ میں، اللہ کی رضا کے لیے مجاہدہ کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ انہیں اپنے راستہ کی سچائی سے لازماً آگاہ کردیتے ہیں، یقیناً اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔“ زندگی کے تمام اعمال وہ ہیں جنہیں نیکی اور بدی کی صورت میں بعد موت روز قیامت پالے گا، کوئی بھی عمل جو ظاہر یا باطن میں ہوتاہے اللہ سے چھپا نہیں ہوتا۔ مرد و خواتین اہل ایمان کی کامیابی اس میں ہے کہ اللہ کی رسی قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑے رکھیں، تفرقوں میں نہ پڑیں۔ بے حیائی، فحاشی کی اشاعت کا حصہ نہ بنیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہی اب دنیا میں بہترین امت ہے جسے انسانوں کی اصلاح و فلاح کے لیے میدان میں لایا گیاہے اس کی بنیادی ذمہ داری نیکی کو عام کرنا، بدی اور خرابیوں کو روکنا اور عامۃ الناس میں شعور پیدا کرنا کہ اللہ پر کامل ایمان رکھیں۔ معاشرہ میں مردو عورت نظام زندگی کے دو بنیادی ستون ہیں، انہیں ہی انسانوں کے درمیان بہترین معاشرہ تشکیل دینے کا فرض ادا کرنا ہے۔
انسانی معاشرہ میں مردوعورت کی ذمہ داری الگ الگ ضرورہے لیکن اس کے اعمال سے معاشرہ مثبت یا منفی اعتبار سے اثرات قبول کرتاہے۔ عورتیں تہذیبوں کی عمارت کا بنیادی ستون ہوتی ہیں۔ عورت اللہ کے لطف و جمال اور صفتِ تخلیق کا مظہر ہے۔ شیطانی قوتیں جب بھی کسی معاشرہ و سماج کو بگاڑ کا شکار کرناچاہتی ہیں تو سب سے پہلا وارعورت کی صفت ِحیا پر کرتاہے۔
اسلامی تہذیب اور اسلامی معاشرت کی علمبردار خواتین نے علمائے کرام کی مشاورت اور رہنمائی میں 4 ستمبر کو عالمی یوم حجاب قرار دیاہے۔ یہ زندگی کی علامت ہے کہ بگڑتی معاشرت، اخلاقی اور تہذیبی گراوٹ کے ماحول میں خواتین اسلام نے خود آگے بڑھ کر علم بلند کیا ہے۔اسلامی تہذیب، گھروں کی حفاظت، نئی نسل کو تباہی سے بچائے رکھنے کی تمنا کرنے والے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وقت کی اس اہم ضرورت، مقصد، فلسفہ کو جانیں اور اس کے پشتی بان بنیں۔ حجاب عورت کا فخر اور حق ہے یہ حق چھیننے والی قوتوں کے شیطانی ایجنڈا کے سدباب کے لیے سب کو اپنا فرض ادا کرناہے، اپنے حصہ کی شمع جلاناہے۔
مغربی تہذیب، مغربی سرمایہ دارانہ نظام، مغربی تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ میں ترقی ایک حقیقت ہے اور اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے۔ امریکہ اور روس کی سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد یورپ امریکہ کی چھتری تلے آگیا اور یوں یک محوری طاقت نے پوری دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر، من پسند تہذیب اور سماج کا ایجنڈا مسلط کرنے کا راستہ اختیار کرلیا لیکن اللہ تعالیٰ ہی مالک، خالق،قادر مطلق ہے، دنیا نے یہ منظر خود دیکھ لیا کہ مغربی استعمار اور امریکہ کا فلسفہ، مذہب بے زاری، بے مقصد علم، حق سے ناآشنا تہذیب اور انسانی ہڈیوں کو نچو ڑ لینے والا اقتصادی نظام پٹ گیا۔ اسلحہ، بارود اور طاقت کے تسلط کے خلاف بغاوت عام ہوگئی ہے۔ اس پس منظر میں اسلامی تعلیمات، مساجد و مدارس، منبر و محراب، اسلامی تہذیب، خاندان کا نظام، مسلم معاشروں کو غلامانہ ذہنیت دینا اور خصوصاً خواتین کو ہدف بنالیا گیا۔ عورت کا حجاب ان کے لیے نفسیاتی ہیجانی کیفیت بن گیاہے۔ یورپی ممالک میں حجاب پر پابندی، باحجاب عورتوں کو پارلیمنٹ سے باہر کرنا، حجاب کی پابند بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند کرنا ظالمانہ روش کی صورت اختیار کر گیالیکن اب یہ قوتیں پسپاہورہی ہیں۔ عورت خود اپنے آپ کو تباہ کرنے سے انکاری ہے اب وہ زمانہ تو گیا جب حجاب کو جبر اور قید کی علامت بنا کر پیش کیا جاتاتھا۔ حجاب نہ زبردستی کرایا جاسکتاہے اور نہ ہی زبردستی حجاب کیا جاسکتاہے۔ یہ ماحول، ترغیبات کے زیر اثر ہوتا ہے۔ بے حجابی اور بے حیائی کو معاشرے نے عورت کو بے وقعت، مارکیٹ کی شمع بنادیا اس لیے عورت نے طاقت سے مسلط مغربی تہذیب سے بغاوت کرد ی ہے۔ اسلام کی تعلیمات بھی پھیل رہی ہیں اور حجاب اب عورت کے لیے وقار، افتخار اور اعتبار کی علامت بن رہاہے۔
مغرب کے ایک دانشور بڑے اضطراب میں مسلم عورت کے حجاب پر جُز بُزہو رہے تھے تو برطانیہ کے ہی ایک مسلم شہری نے پوچھا کہ کیا ملکہئ برطانیہ سب سے ہاتھ ملاتی ہیں اس نے فوراً کہاکہ یہ اس کی شان کے خلاف ہے کہ وہ ہر ایرے غیرے سے ہاتھ ملائے اسی فرد نے اسے جواب دیا کہ اسلام ہر عورت کو ملکہ کا درجہ دیتاہے اسے ہر ایک سے ملن سے باز رہنے کی تلقین کرتاہے ہر قیمتی، مبارک چیز چھپی اور غلاف میں ہوتی ہے۔عورت کو بھی گھر کی مالکہ اور ملکہ بنایاہے۔ عورت کی تخلیق بڑی مبارک ہے اس لیے اس اس کا حجاب ہی اس کی طاقت ہے۔ حجاب عورت کی تعلیم، ترقی، روزگار،ملازمت اور قومی ترقی میں رکاوٹ نہیں اب باحجاب عورت تعلیم، سماج، بزنس اور ہر میدا ن میں بھر پو رشمولیت کا کردار ادا کر رہی ہے۔عورت حجاب و حیا کی پابند رہے تو پوری آزادی اور تحفظ سے ترقی کی منازل طے کر لیتی ہے۔ بے حجابی عورت کی ترقی، عزت و وقار اور مقام عظمت کے لیے رکاوٹ بنتی جارہی ہے۔ بے حجابی معاشرہ میں نئے معاشرتی حادثات کا موجب بن گئی ہے جبکہ باحجاب عورت گھر، والدین، شوہر اور اولاد کے لیے باعث عزت بن گئی ہے۔ مسلم ممالک کی مالدار خواتین دنیا کے ان ممالک میں جانا ترجیح بناتی ہیں جہاں ان کا حجاب اور وقار سلامت رہے۔
تہذیبی کشمکش میں مرد و خواتین کو یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ عورت کو شمع محفل بنا کر دنیا برباد ہوئی ہے۔ عورت کی تعلیم، وراثت، عزت و وقار کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ عورت بھی اسے زندگی کا مشن بنا لے کہ نامحرم اور اجنبی مرد سے ملنے سے اجتناب بھی ہو،ناگزیریت میں وقار، جرأت اور احساس عزت برقرار رہے۔ شرم و حیا کی حفاظت کریں۔ گھروں کو اولادوں کو اسلامی تعلیمات و اخلاق سے وابستہ کریں۔
4 ستمبر یوم حجاب خواتین، طالبات اور نوجوان بیٹیوں کے لیے بہت اہم دن ہے۔ عورت کو کردار، علم اور ذہانت کی بنیاد پر معاشرہ میں مقام دلانا، عورت کے وہ حقوق َہیں جو اسلام نے انہیں دیے ہیں۔ سیکولر نظام نے اس سے وہ حقوق چھین لیے ہیں، خواتین ان حقوق کے حصول کی علمبردار بن جائیں۔ حجاب کو نسوانیت کی فخریہ علامت اور حجاب کو عورت کی پاکیزگی اور آزادی کی تواناعلامت بنادیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ باحجاب خاتون ہیں، حکومت کو خواتین میں حجاب کلچر عام کرنے کی مہم اور ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ریاست مدینہ کے نظام کے لیے حجاب اور حیا کی علمبردار عورت بنیاد ہے۔
(جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیرہیں)
٭……٭……٭

ہندوستان کی چیخ و پکار اور افغانستان کے نئے چیلنجز

سلمیٰ اعوان
لگتا ہے جیسے ہندوستان کی شہ رگ کو کِسی نے آہنی انگوٹھے سے دبا دیا ہے کہ اس کی تو چیخیں نکل گئی ہیں۔ ”ارے بھئی صبر سے سکون سے۔“چھوٹے چھوٹے چینلز اور یو ٹیوبز والوں نے ٹاک شوز اور ٹاکروں کا جو سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ان میں مسلمان عورتوں اور مردوں سے بحث کا جو انداز اپنایا گیاہے وہ اِس قوم کی بیمار ذہنیت کا عکاس ہے۔ ایک شو میں مدعو مسلمان خاتون کا کہنا تھا کہ آخر آپ لوگ امریکہ کے کردار پر بات کیوں نہیں کرتے ہیں کہ وہ بیس سال پہلے وہاں کیا کرنے گیا تھا اور اب اس طرح کیوں نکلا۔میں نے تو طالبان کی حمایت میں کچھ بھی نہیں کہا ہے اور آپ ہیں کہ مجھے مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ شرعیہ نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہندوستانی مسلمان بھی اسی نظام کے خواہش مند ہیں۔اس لیے بہتر ہے کہ وہ افغانستان چلے جائیں۔بھئی کیوں چلے جائیں۔تم کوئی مامے ہو اِس سرزمین کے۔اظہار رائے کا مطلب کتنا الٹا لے رہو ہو۔
خاتون بھی بڑی دبنگ تھی۔تکرار جب زیادہ بڑھی۔وہ کھڑی ہوگئی۔تم لوگ سچی بات سُننا ہی نہیں چاہتے ہو جو میں کہناچاہ رہی ہوں؟اور نتیجہ یہ ہوا کہ خاتون واک آوٹ کرگئی۔
اب مسلمان مرد کی کھلڑی ادھیڑ نے لگے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں ہندوستانی ہوں۔ایک محب وطن ہندوستانی ہونے کے ناطے مجھے اِس کا احساس ہے کہ میرے ملک نے افغانستان میں بہت سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ہمیں مشتعل ہونے اور گھبراہٹ کی بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے۔ہمارا ان کی طرف تعاون بھرا ہاتھ بڑھنا چاہیے۔
اب اِس شاداب چوہان نامی شخص پر تابڑتوڑ حملے ہونے لگے۔تان اسی پر توڑی جارہی تھی کہ آپ لوگوں کی ہمدردیاں پاکستان اور اِن طالبان کے ساتھ ہیں۔جمعرات کی شام ایک چینل پر ایک تیز طرار اینکر پرسن ایک میجر کے ساتھ طالبان کے بخیئے ادھیڑ رہی تھی۔امریکہ کو کم،اشرف غنی پربہت اور طالبان پر لعن طعن کا سلسلہ زیادہ زور وشور سے جاری تھا۔ عمران خان، چین اور روس پر نکتہ چینی ہورہی تھی۔ کسی معتدل نے کہا۔ ہمارے لیے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی بہت بہتر ہے۔ مگر اُن کے لہجوں کی کاٹ اتنی شدید تھی کہ لگتا تھا کہ جیسے بس نہ چل رہا ہو کہ داڑھیوں اور چپلوں والوں کا قیمہ کردیں۔
اُف یہ خونی انقلابوں سے گزرنے والا ملک 1960 کی ساری دہائی، ظاہر شاہ کا عہد حکومت آنکھوں کے سامنے تھا۔ہماری جوانی کے زمانے کے اس پر امن اور خوش حال ملک کا دارالحکومت کابل بڑا آئیڈیل اور خواب ناک قسم کا شہر تھا۔جس کی یونیورسٹی میں سکرٹ اور اونچی ایڑی کے جوتے پہننے والی لڑکیاں پڑھتی تھیں جن کے بارے ہم پڑھ پڑھ کر ان پر رشک کرتی تھیں۔اس شہر کے پارکوں، نہروں اور ریڑھیوں پر بکتے قندھاری اناروں، سیبوں کی تفصیلات سے ہم مستنصر حسین تاڑر کی ”نکلے تیری تلاش میں“ کو پڑھتے ہوئے شناسا ہوئے تھے۔کابل کی رعنائیوں اور دل ربائیوں دونوں نے اُسے دیکھنے کی تمنا دل میں جگائی تھی۔
ظاہر شاہ کے شاہی خاندان کی رسالوں میں چھپی تصویریں آج بھی یاد ہیں۔ہائے ایسی ہوتی ہیں شہزادیاں اور ملکائیں۔سوچا کرتے تھے۔زمانہ شاید 1973کا تھا جب ایک دن یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ شاہی خاندان کا تختہ الٹا دیا گیا ہے۔شاہ کا فرسٹ کزن اور بہنوئی فوج کی مدد سے ملک پر قابض ہوگیا ہے۔شاہ بیچارہ تو علاج کے لیے اٹلی گیا ہوا تھا۔اگر یاداشت دھوکہ نہیں دے رہی ہے غالباً 1977کا ہی سال تھا جب سردار داؤد پاکستان دورے پر آئے تھے۔شالامار باغ میں استقبالیہ تھا۔خوش قسمتی سے تقریب کا کارڈ مل گیا کہ گہر ی دوست کے میاں صدیق علوی منتظم اعلیٰ تھے۔سردار داؤد فکری طور پر کیمونسٹ تھا۔آغاز میں سوویت سے بہت متاثر تھا۔یہی وجہ تھی کہ مسجدوں پر تالے لگادئیے،داڑھیوں پر پابندی لگ گئی۔عورتوں کے لیے سکرٹ لازمی ٹھہرا۔ظالم بھی بہت تھا۔مخالف کو اغوا کرنا اور پار لگوانا اس کے لیے کھیل تماشے جیسا ہی تھا۔بعدازاں سوویت سے بھی تعلقات خراب کرلیے۔ 78کے انقلاب میں پروکیمونسٹوں کے ہاتھوں ہی مارا گیا۔بڑی المناک موت تھی۔اُسے خاندان کے تیس(30) افراد کے ساتھ دو گڑھوں میں پھینک دیا گیا۔نہ غسل، نہ کفن اور نہ ہی کوئی نماز جنازہ۔
2008میں ایک اتفاقیہ کھدائی کے دوران دونوں قبریں دریافت ہوئیں۔ سردار داؤد کی شناخت اُن کے جوتوں سے ہوئی جو اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہے تھے۔یہ بڑے خاص الخاص جوتے تھے جو سوئیزلینڈ کی ایک کمپنی اپنے اہم ممبران کے لیے بناتی تھی۔شاہ ظاہر شاہ بھی یہی جوتے پہنتا تھا۔یہ بھی اس کا ممبر تھا۔ جب قتل کے بعد لاش گھیسٹی گئی تو وہ یہی جوتے پہنے ہوئے تھا۔
کوہ ہندوکش کوہساروں کی اس زمین کے نصیب میں بھی امن چین نہیں۔خون،وحشت اوربربریت ہی اس کا مقدر بن گیاہے۔کبھی نور محمد ترکئی سے لے کر نجیب اللہ تک کیمونسٹ فکر کی چھتری نے لالو لال کیا اورکبھی اسلامی سٹیٹ کی چھاؤں میں یہ لہولہان ہوا۔بڑی طاقتیں بھی بھاگی بھاگی آئیں پر اِسے برباد ہونے سے نہ بچا سکیں اور بیچ منجدھار کے چھوڑ کر بھاگ گئیں۔
اب ایک باریہ پھر آزمائش کی سولی پر چڑھنے لگا ہے۔ایسے میں دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ یہ نیا انقلاب اس کے لیے چین اور خوشحالی کا باعث بنے۔(آمین)
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭……٭……٭

عدم سے بینظیر کا خط بلاول کے نام

سید سجاد حسین بخاری
نورِ چشم‘ لخت ِجگر بلاول
ہمیشہ سلامت رہو
بیٹا! مجھے انتہائی خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے جنوبی پنجاب کو فوکس کیا ہے اور آج آپ کے سات روزہ دورے کا پہلا دن ہے۔ مجھے علم ہے کہ آج آپ نے پورا دن پارٹی کارکنان کے گھروں میں فاتحہ خوانی کیلئے جانا ہے‘ بہت ہی اچھی بات ہے۔
بیٹا! جس شہر میں آپ آج موجود ہو یہ بزرگوں اور اولیاء کا شہر ہے‘ اسے مدینتہ الاولیاء کہتے ہیں اور یہ تقریباً پانچ ہزار سال قدیم شہر ہے۔ اس کی ایک مسلمہ حیثیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لہٰذا میری چند باتیں غور سے سنو اور انہیں پلے باندھ لوگے تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔
بیٹا بلاول! ملتان شہر نے آپ کے نانا اور میرے بابا شہید ذوالفقار علی بھٹو پر جن محبتوں کا قرض چڑھایا تھا‘ ہم وہ آج تک نہیں اُتار سکے۔ یہاں کے لوگ (عوام) آم اور سوہن حلوے کی طرح میٹھے ہیں‘ محبتوں اور قربانیوں سے سرشار ہیں خصوصاً مڈل اور لوئر مڈل کلاس۔
بیٹا بلاول! 1971ء میں جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملتان میں اپنے چند دوستوں کو پی پی میں شمولیت کی دعوت دی تو سب نے انکار کردیا۔ ملتان شہر میں پاکستان پیپلزپارٹی کا ٹکٹ کسی نے نہیں لیا تھا‘ بالآخر آپ کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ اس وقت ضلع ملتان کی سات تحصیلیں ہوتی تھیں اور کل 9سیٹیں قومی اسمبلی کی ہوتی تھیں جن کی تفصیل آپ کو بیٹا بتانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں آپ کو فیصلے کرنے میں آسانی ہو۔ ملتان شہر سے آپ کے نانا کامیاب ہوئے۔ تحصیل شجاع آباد سے آپ کے نانا کے دوست اور کلاس فیلو مخدوم حامد رضا گیلانی کے مقابلے میں رانا تاج نون کو ٹکٹ دیا کیونکہ حامد رضا گیلانی نے ٹکٹ لینے سے انکار کردیا تھا اور وہ رانا تاج نون کے مقابلے میں شکست بھی کھا گئے تھے۔ اسی طرح بیٹا خانیوال سے برکت اللہ ایڈووکیٹ اور کبیروالا سے عباس حسین گردیزی‘ تحصیل میلسی سے کھچیوں کے مقابلے میں ارشاد خان پٹھان کامیاب ہوئے البتہ تحصیل وہاڑی سے مسلم لیگ کے صدر ممتاز دولتانہ کامیاب ہوگئے مگر وہ 1974ء میں آپ کے نانا کے ساتھ مل گئے۔ آپ کے نانا نے انہیں برطانیہ میں سفیر بنادیا اور پھر ضمنی الیکشن میں ریاض دولتانہ نے الیکشن جیتا۔ ان کی پوتی نتاشا دولتانہ آج کل آپ کے ساتھ ہے‘ ان کا خاص خیال رکھنا۔ بیٹا بلاول! لودھراں بھی ملتان کی تحصیل تھی‘ یہاں سے سید ناصر رضوی کامیاب ہوئے اور آپ کے نانا نے انہیں وفاقی وزیر بھی بنایا تھا۔ بیٹا! ضلع ملتان کی قومی اسمبلی کی 9نشستوں میں سے 8نشستیں پاکستان پیپلزپارٹی نے جیتی تھیں۔ اس زمانے میں ملتان ڈویژن کی حدود کے فورٹ منرو تک بلکہ بارکھان اور کوہلو تک اثرات ہوتے تھے۔ مظفرگڑھ سے غلام مصطفی کھر‘ ضلع لیہ سے مہر منظور سمرا‘ ڈیرہ غازیخان سے جمال لغاری ہمارے ساتھ تھے مگر ہار گئے تھے اور راجن پور سے شوکت مزاری آپ کے نانا کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے‘ تاہم بہاولپور چونکہ ایک الگ ریاست تھی جو قیام ِپاکستان کے بعد پاکستان میں ضم ہوئی اور پھر جب یونٹ ٹوٹا تو بہاولپور میں مقامی سطح پر ایک محاذ بنا جس کا نعرہ ریاست کی بحالی تھا۔ یہاں پر ایک کامیاب تحریک چلی اور اسی تحریک سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے محاذ نے الیکشن میں اپنے اُمیدوار کھڑے کردیئے جس کا نقصان پی پی پی کو ہوا۔ تاہم رحیم یار خان سے میجر عبدالغنی کانجو اور بہاولنگر سے رفیق شاہ پی پی پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔
بلاول بیٹا! یہ نام یقینا آپ کیلئے اجنبی ہوں گے اور ان میں اب ایک بھی زندہ نہیں ہے۔ تاہم ان کی نسلیں باقی ہیں اور بڑی تھوڑی تعداد میں وہ مختلف سیاسی جماعتوں میں شامل ہیں۔
بیٹا! 1971ء میں آپ کے نانا الیکشن جیت کر وزیراعظم پاکستان بن گئے۔ جیساکہ میں نے آپ کو بتایا کہ آپ کے نانا کے ان ساتھیوں میں 60 سے 70فیصد لوگ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے اور باقی فیوڈل تھے مگر جب آپ کے نانا وزیراعظم بنے تو اس خطے کے نامور جاگیرداروں نے رابطہ کیا اور پی پی پی میں شمولیت اختیار کرتے گئے۔ آپ کے نانا نے ان میں سے اکثریت کو سفیر اور مشیر لگادیا۔ رفتہ رفتہ جاگیرداروں کی تعداد پی پی پی میں بڑھتی گئی اور ان لوگوں کی تعداد کم ہوتی گئی جو پارٹی کا اصل سرمایہ تھے۔ آپ کے نانا کو وڈیروں اور جاگیرداروں نے پارٹی سمیت یرغمال بنالیا اور ان کی مرضی چلنے لگی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1977ء میں جب عام انتخابات ہوئے تو پوری جماعت پر اکثریت جاگیرداروں کی چھا چکی تھی۔ عوام سے ان جاگیرداروں نے آپ کے نانا کو الگ کردیا اور انہی جاگیرداروں نے مطلق العنانی قائم کی جس کا نتیجہ تحریک نظام مصطفیؐ کی شکل میں نکلا جس کا آغاز بھی اسی ملتان سے ہوا تھا اور بالآخر 5جولائی 1976ء کو ایک ڈکٹیٹر نے جمہوریت پر شب ِخون مارکر آپ کے نانا کو تختہ دار پر چڑھا دیا۔ پارٹی پر بہت بُرا وقت آیا جن وڈیروں اور جاگیرداروں کو آپ کے نانا نے نوازا تھا‘ وہ سب غائب ہوگئے اور قربانی کیلئے غریب کارکنان سڑکوں پر نکلے جنہوں نے قید‘ کوڑے‘ شاہی قلعہ اور جیلیں دیکھیں۔
میری آنکھوں کے ٹھنڈک بلاول بیٹا! پھر اس خطے کے جاگیرداروں کی اکثریت نے مجلس شوریٰ میں شمولیت اختیار کی اور 1985ء کے غیرجماعتی الیکشن میں ڈکٹیٹر کی اسمبلی میں چلے گئے مگر مڈل کلاس قیادت اور غریب کارکن نہ بدلا‘ وہ قربانیاں دیتا رہا۔ ہاں یہ بھی بتادوں کہ اسی ملتان شہر میں آپ کی نانی اماں کا لہو بھی گرا تھا۔ کالونی ملز میں مزدوروں کے قتلِ عام کے خلاف جب آپ کی نانی اماں احتجاج کیلئے آئیں تو میری ماں پر ڈنڈے برسائے گئے جس سے وہ شدید زخمی ہوگئیں۔
بلاول میرے چاند! جب ضیاء الحق ڈکٹیٹر اپنے انجام کو پہنچا تو 1988ء میں عام انتخابات ہوئے تو میں نے سب سے پہلا کام ان انکلوں کی چھٹی کرائی جو میرے بابا کے قاتلوں کے مددگار تھے اور پھر مجھے ایک مرتبہ پھر مڈل کلاس قیادت اور غریب کارکنان نے اپنے بابا کی نشست پر بٹھا دیا۔
بیٹا بلاول! یہ مختصر سا اس خطے کا احوال تھا جو میں نے آپ کو بتانا ضروری سمجھا اور یہ ہدایت بھی دینا تھی کہ کوشش کرو عوام اور کارکنان تک خود پہنچو‘ انہیں سینے سے لگاؤ‘ میری اور اپنے نانا کی یادیں تازہ کردو۔ اگر آپ نے میری ان باتوں پر عمل کیا تو یقینا کامیابی پاؤ گے۔ اس خطے کی ایک بڑی داستان ہے جس میں کارکنان کی قربانیاں‘ وڈیروں کی بے وفائیاں / مفادپرستیاں‘ اقتدار کی ہوس سب شامل ہیں جن کو بیان کرنے کیلئے طویل وقت درکا ہے جو وقتاً فوقتاً میں آپ کو بتاتی رہوں گی۔ فی الحال ایک ہی بات یاد رکھنا کہ مڈل کلاس قیادت اور غریب کارکن کا خاص خیال رکھنا۔ یہ آپ کی کامیابی کی ضمانت ہیں۔
والسلام
آپ کی والدہ بینظیر بھٹو
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

حکومت سازی ، طالبان کو باہر بیٹھی قیادت کا انتظار

خبریں‘چینل ۵ کے نمائندے کابل سے براہ راست

طالبان ذرائع نے بتایا کہ باہر جانے والی سیاسی قیادت کو واپس لائیں گے

افغانستان چھوڑنے والی قیادت کی واپسی پر حکومت سازی مکمل ہوگی

تمام سیاسی دھڑوں کو حکومت میں شامل کیا جائے گا

طالبان نے افغانستان کا نیا آئین بھی بنالیا:ذرائع

نئی حکومت سے پوری دنیا مطمئن ہوگی

کابل(آصف شہزاد سے)

کیويز بنگالیوں کيخلاف دوسرا ٹی 20 بھی ہر گئی

ڈھاکہ(نیوزایجنسیاں)بنگلہ دیش نے دوسرے ٹی 20میچ میں نیوزی لینڈ کو چاررنز سے شکست دیدی ہے۔نیوزی لینڈ کی ٹیم 142 رنز کے تعاقب میں 137 رنز بناسکی۔نیوزی لینڈ کی جانب سے ٹوم لیتھم 67اور ول ینگ 22 رنز بناکر نمایاں رہے۔142 رنز کے تعاقب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم اچھا آغاز نہ کرسکی اور وقفے وقفے سے اسے کی وکٹیں گرتی رہیں۔تاہم اننگز کے آکر میں کپتان ٹوم لیتھم کی جارحانہ بلے بازی نے میچ کو دلچسپ بنادیا۔نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے آخری گیند پر چھ رنز درکار تھے تاہم آخری گیند پر صرف ایک رن بن سکا۔بنگلہ دیش کی جانب سے شکیب الحسن اور مہدی حسن دو،دو کھلاڑیوں کو آٹ کرکے نمایاں رہے۔بنگلہ دیش کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں چھ وکٹوں کے نقصان پر 141 رنز بنائے تھے۔بنگلہ دیش کی جانب سے محمد نعیم 39اور لٹن داس 33رنز بناکر نمایاں رہے۔نیوزی لینڈ کی جانب سے رویندرا نے تین کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔واضح رہے اس سے قبل بنگلہ دیش نے پہلے ٹی 20 میں نیوزی لینڈ کو سات وکٹوں سے شکست دیدی۔بنگلہ دیش نے 61 رنز کا ہدف تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیاتھا۔بنگلہ دیش کی جانب سے شکیب الحسن 25رنز بناکر نمایاں رہے۔مشفیق الرحیم 16اور محمد اللہ 14رنز بناکر ناٹ آﺅٹ رہے۔نیوزی لینڈ کی جانب سے اعجاز پٹیل نے چار اوورز میں سات رنز دیکر ایک کھلاڑی کو آﺅٹ کیا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پہلے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا جو اس کے لیے ڈراﺅنا خواب ثابت ہوا۔نیوزی لینڈ کے صرف دو بلے باز ڈبل فگرز میں داخل ہوسکے۔ٹوم لیتھم اور ہینری نکلس 18،18 رنز بناکر نمایاں رہے۔بنگلہ دیش کی جانب سے مستفیض الرحیم نے تین، شکیب الحسن،نسیم احمد اورمحمد سیف الدین نے دو ،دو کھلاڑیوں کو آﺅٹ کیا۔

علاقائی امن کیلئے پرامن اور مستحکم افغانستان ضروری ہے: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ علاقائی امن کے لیے پرامن اور مستحکم افغانستان ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے برطانوی وزیرخارجہ ڈومینک راب نے ملاقات کی جس میں افغان صورتحال اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے دوران جنوبی ایشیا میں امن واستحکام اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے برطانوی وزیر سے مسئلہ کشمیر پر بھی بات چیت کی

وزیراعظم عمران خان برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو ریڈ لسٹ پر رکھنے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے سے دہری شہریت کے حامل افراد کو پریشانی کا سامنا ہے۔

اس دوران وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی امن کے لیے پرامن اور مستحکم افغانستان ضروری ہے۔

اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے پاک افغان بارڈر کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

وفاقی وزیرخارجہ شاہ محمود اور برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغانستان سےمتعلق پیش گوئیاں اور اندازے غلط ثابت ہوئے،میرا 16 اور 27 اگست کو برطانوی وزیر خارجہ کے ساتھ رابطہ ہواتھا،برطانوی وزیرخارجہ کو دورہ پاکستان پر خوش آمدید کہتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیر خارجہ سے افغانستان کی تازہ صورتحال سمیت دوطرفہ تعلقات پر بات ہوئی، افغانستان کو تنہا چھوڑا گیا تو خانہ جنگی جیسےبحران کےخطرات ہیں۔ افغانستان میں مربوط نظام حکومت کے حامی ہیں، افغانستان میں کوئی فریق پسندیدہ نہیں ہے، افغانستان میں عوامی حمایت پربننےوالی حکومت سے تعاون کریں گے، پاکستان اورافغانستان کےدرمیان تعلقات کو سمجھنےکی ضرورت ہے۔ افغان معاملے پر کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں،برطانیہ اورپاکستان کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن واستحکام آئے۔

انہوں نے فیٹف کے معاملے پر پاکستان کے مثبت اقدامات سے بھی برطانوی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا اور برطانوی وزیرخارجہ کو فیٹف پر پاکستانی اقدامات کی حمایت کیلئے کہا۔

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیرمعاملے پر طے شدہ مؤقف رکھتے ہیں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی پربرطانیہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ شاہ محمود قریشی سے مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی، پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرناچاہتے ہیں، افغانستان سے برطانوی باشندوں کےانخلا میں معاونت پر پاکستان کے شکر گزار ہیں، افغانستان کے ہمسایہ ممالک کوانسانی زندگی کے بچاؤ کیلئے30ملین پاؤنڈ فراہم کررہےہیں۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہاہے،افغان عوام کےمستقبل کے بارے میں یکساں خیالات رکھتے ہیں، افغانستان کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد جاری رکھیں گے، افغانستان کے پڑوسی ممالک بشمول پاکستان کی معاونت کریں گے۔ افغانستان میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں ،امید کرتے ہیں کہ طالبان افغانستان میں امن و استحکام لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریڈلسٹ معاملے پر ڈاکٹر فیصل جلد برطانیہ میں ہیلتھ حکام سے ملاقات کریں گے۔ افغانستان میں طالبان سے بات چیت کا سلسلہ جاری رہےگا،افغانستان میں طالبان نے بعض مثبت اقدامات اٹھائے ہیں، ہم براہ راست طالبان کو فنڈنگ نہیں کریں گے،افغانستان کےعوام کیلئے انسانی ہمدردی کی تنظیموں کےذریعے امداد فراہم کریں گے، امدادی ایجنسیز کے ذریعےافغان عوام کی امدادکیلئےسازگارماحول ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی تیز پیش قدمی سب کیلئے حیران کن تھی ، دنیا میں کوئی تصور نہیں کررہا تھا کہ حالات اتنی تیزی سے بدلیں گے۔ آج ہم اضافی امداد کی پہلی قسط جاری کریں گے،30ملین پاؤنڈزجان بچانے والی ادویات پر خرچ ہوں گے۔

ٹوکیو پیرا لمپکس: حیدر علی گولڈ میڈل جیتنے والے پہلے پاکستانی بن گئے

ٹوکیو پیرالمپکس میں مردوں کے ڈسکس تھرو مقابلے میں پاکستان کے حیدر علی نے تاریخ رقم کر دی۔

پاکستان کے حیدر علی نے پیرالمپکس ڈسکس تھرو مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتا، حیدر علی نے تیسری باری میں 47.84 میٹر کی تھرو کی جبکہ پانچویں باری میں 55.26 کی تھرو کے ساتھ گولڈ میڈل جیتا۔

حیدر میڈل جیتنے کے بعد پاکستانی پرچم تھام کر تماشائیوں سے داد وصول کر رہے ہیں۔ فوٹو: اسکرین گریب
حیدر میڈل جیتنے کے بعد پاکستانی پرچم تھام کر تماشائیوں سے داد وصول کر رہے ہیں۔ فوٹو: اسکرین گریب

حیدر علی پیرالمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے پہلے پاکستانی ہیں، حیدر علی نے اس سے قبل بھی پاکستان کے لیے دو پیرالمپکس میڈل جیت رکھے ہیں۔

ن لیگ کے جماعت اسلامی سے رابطے مولانا فضل الرحمن روکاوٹ

احسن اقبال اور سعد رفیق کو جماعت اسلامی کی قیادت سے رابطہ کا ٹاسک ملا

ن لیگ کو جے یو آئی یا جماعت اسلامی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا:لیگی قیادت کو پیغام

ن لیگ فی الحال جماعت اسلامی کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے سے گریزاں

نوازشریف کی پارٹی رہنماﺅں کو فوری طور پر سیاسی جماعتوں سے رابطے کی ہدایت

پی ڈی ایم میں شمولیت کیلئے جماعت اسلامی کے ساتھ رابطہ کیا جانا تھا
ن لیگ نے کوئی رابطہ نہیں کیا:قیصر شریف
لاہور (حسنین اخلاق)

امریکا میں طوفان آئیڈا کی تباہ کاریاں، موسلا دھار بارشوں سے 14 افراد ہلاک

امریکا میں طوفان آئیڈا کے باعث ہونے والی ریکارڈ توڑ بارشوں کے باعث مختلف واقعات میں 14 افراد ہلاک ہوگئے۔

امریکا کی کئی ریاستیں طوفان آئیڈا کی زد میں ہیں، طوفان کے باعث ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے سب سے بڑے امریکی شہر نیویارک میں تباہی پھیلادی ہے۔

 شدید بارش کےسبب سڑکیں پانی سے بھرگئی ہیں اور نیویارک کی تقریباً تمام زیرزمین چلنے والی ٹرینیں معطل ہیں جب کہ درجنوں پروازیں بھی معطل کردی گئی ہیں۔

نیویارک میں محکمہ موسمیات نے مزید بارش کی پیش گوئی کرتے ہوئے شہریوں کو خبردار کیا ہےکہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

برطانوی میڈیا کے مطابق نیویارک میں بارشوں کے باعث کل 9 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 8 افراد گھر کی بیسمنٹ میں پانی بھر جانے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

دیگر امریکی ریاستوں نیو جرسی اور پنسلوانیا میں بھی بارش نے شدید تباہی پھیلائی ہے اور نیوجرسی میں بارش کے باعث مختلف حادثات میں 5 افراد ہلاک ہوئے ہیں، ریاستی گورنرز کی جانب سے تینوں ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق تینوں متاثرہ ریاستوں میں بجلی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور تقریباً ایک لاکھ گھروں کی بجلی ابھی تک بحال نہیں ہوسکی،کئی مقامات پر درخت گرنے اور مواصلاتی نظام میں خلل آنے کی بھی اطلاعات  ہیں۔