All posts by Daily Khabrain

سردارعثمان بزدار‘سرداری اوروضعداری

شفقت اللہ مشتاق
قومی ورثہ کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے کیونکہ ہم سب ذمہ دار شہری ہیں اور یہ ملک ہمارا ہے اسے ہم نے سنوارا ہے۔ جس نے بھی دنیا میں رہتے ہوئے کوئی بڑاکام کیا ہے تو لوگ اس کو رہتی دنیا تک یاد رکھتے ہیں۔لاہور کی کینال روڈ کی ایک اپنی اہمیت ہے اور پھر اس پر انڈر پاسز کے نام بڑی بڑی سر برآوردہ شخصیات کے ناموں پر رکھے گئے ہیں۔ یہ کام نورالامین مینگل اس وقت کے ڈی سی او لاہور نے کیاتھا اور اس حوالے سے انہوں نے ایک اچھا نام کمایا ہے۔ ایک نام میر چاکر خان بھی تھا۔ میر کے لفظ سے میر تقی میر یاد آئے اور چاکر نیا لفظ اور خان تو پھر خان۔ خاناں دے خان پروہنے۔ آئیے میر چاکر خان سے آپ کو ملواتے ہیں۔
ایک سردار اور وہ بھی بلوچ۔ خان پُنن یاد آیا۔ بلوچوں کی وضع قطع، مہمان نوازی،رہتل سہتل اور پھر روایات بالکل منفرد۔ دوستی میں بھی بہت آگے تک جاتے ہیں اور دشمنی میں تو اس سے بھی آگے تک جاتے ہیں۔ قبیلے سے وفاداری ان کے خون میں ہوتی ہے۔ لیکن بات اصول کی ہے اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں خواہ اس کے لئے دربدر ہی کیوں نہ ہونا پڑے۔میر چاکر خان رند میر شہک خان رند کے بیٹے تھے۔ میر چاکر خان صرف ایک نام یا ایک شخصیت نہیں بلکہ بلوچوں کی تہذیب و ثقافت، تاریخ وتمدن،معیشت ومعاشرت،اخلاق و آداب، بہادری وجوانمردی، جوش و جذبہ،گفتار و کردار، ایثاروقربانی،ایفائے عہد اور انتقام کا نام ہے۔ چاکر اعظم خود بھی بہادر تھے اور بہادر دوستوں ہی کو نہیں بلکہ دشمنوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے وہ مکران میں قیام کے دوران میں اپنی ابھرتی جوانی میں ہی قوم میں مقبول ہو گئے تھے۔ میر شہک خان کے انتقال کے بعد وہ رند علاقوں کا حکمران بنے۔یہ رندوں کی تاریخ کا سنہری دور تھا لیکن اس دور کا اختتام اتنا تاریک اور عبرت انگیز ہے کہ میر چاکرخان کے آخری دور میں نہ صرف رند بلکہ پوری بلوچ قوم اس طرح منتشر ہوئی کہ آج تک دوبارہ اپنے پاؤں پرکھڑی نہ ہو سکی۔ ان کا دور بلوچوں کا عروج اور خوشحالی کا دور تھا اور آج بھی بلوچ قوم کا اجتماعی طور پر ہیرو میر چاکر ہے۔ وہ اپنے قول کا دھنی تھا۔ اپنے قول کے مطابق ایک مال دار عورت گوہر کو امان دی اور اس کی حفاظت کے لئے اپنے ہی بھائیوں لشاریوں سے جنگ کی جو تیس سالہ کشت و خون میں بدل گئی۔ خان بڑے فخر سے کہتا کہ سچ بولنا بلوچوں کا شیوہ ہے اور جھوٹ ایمان کی کمزوری کی نشانی ہے اور جو شخص جھوٹ بولے اور وعدہ خلافی کرے وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے۔ بلوچ لوگ عورتوں اور بچوں پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھاتے مہمان اور مہمان نوازی بلوچ معاشرے کا ایک لازمی حصہ ہے۔ وہ 1468 میں پیدا ہوئے اور تیس سالہ جنگ نے انہیں وطن چھوڑنے پر مجبور کردیا اور انہوں نے پنجاب کا رخ کیا اور ان کے اس رخ نے ہندوستان میں حکمرانی کی ہوا کے رخ کو بدل کر رکھ دیا۔ مغلیہ خاندان کی تقدیر بدل گئی۔ نصیر الدین ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دی تو اس کو ایران بھاگنا پڑا اور وہاں سے واپس مڑا تو شیر شاہ سوری راہی ملک عدم ہو چکے تھے اور پھر سونے پر سہاگہ ہمایوں اور میر چاکر خان کی ملاقات۔ بن بادلوں کے برسات ہوگئی۔ سرسری ملاقات دوستی میں بدل گئی اور یہ ایک حقیقت ہے کہ دوست دوستوں کا مداوا ہوتے ہیں۔ نہتے نصیر الدین ہمایوں کو بلوچ سردار کا سہارا۔ مغلیہ سلطنت دوبارہ قائم ہوئی اور ایسی قائم ہوئی کہ کئی سو سال ہندوستان پر مغلیہ راج کو میر چاکر خان نے کندھادیا اور اتنی بڑی تبدیلی آئی کہ بعد ازاں لاہور یا اس کے گردو نواح میں جس کسی نے بھی کوئی کام کیا ہے لاہور نے اس کو یاد رکھا ہے۔ شاید اسی لئے میر چاکر خان کا نام کینال روڈ پرواقع ایک انڈر پاس پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے۔ جن کے نام ہوتے ہیں ان کی قبریں زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہوتی ہیں۔ بقول اقبال
زیارت گاہ اہل عزم و ہمت ہے لحدمیری
کہ خاکِ راہ کو میں نے بتایا راز الوندی
مذکورہ بلوچ سردار 1565میں دار فانی سے کوچ کر گئے اور ان کی آخری آرام گاہ اوکاڑہ کے قریب ایک گاؤں ستگھرہ میں ہے۔ مجھے ایسے تاریخی مقامات دیکھنے کا بڑا شوق ہوتا ہے اور یہی شوق مجھے ایک دفعہ اوکاڑہ سے آگے مذکورہ بستی میں لے کر چلاگیا۔ بہت بڑی حویلی اور پھر ایک تہہ خانہ جس میں ایک قبر۔ حویلی گرنے کو پوری تیاری کر چکی تھی اور مزار۔صد افسوس کہاں گئے قومی ورثہ کے محافظ۔ شاید سو گئے ہیں ان کو جگانے کے لئے تین چار ملازم معطل کرنا پڑیں گے اور پھر ایک ٹھیک ٹھاک خبر بنے گی۔ لیکن خبریں بنانے کے لئے شوبازی کی ضرورت ہوتی ہے اور سرداری وضع داری کی متقاضی ہے۔ وضعداری کے ساتھ معاملات سلجھائے جائیں تو مضبوط اور پائیدارمعاشرہ تخلیق ہوتا ہے۔ افراتفری، بناوٹ، ہلا گلا،شور شرابا اور”پھڑ لو پھڑلو“ کے سارے بت پاش پاش ہو جاتے ہیں۔ عملی طور پرکام کا کلچر فروغ پاتا ہے۔
جس طرح کہ مذکورہ سطور میں بیان کیا گیا ہے کہ چند ہی سال پہلے چاکر اعظم کی قبر اور اس کے گرد حویلی ہر آنے والے کا منہ چڑھا رہی تھی اور اس کی یہ حالت زار سوال کرتی تھی کہ کیا زندہ قومیں اپنے قومی ورثہ کی حفاظت یوں کرتی ہیں۔ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ ابن خلدون کے نزدیک جذبہئ عصبیت ارتقا کے لئے جزو لا ینفک ہے۔ جب یہ مضبوط ہوتا ہے تو قبیلہ مضبوط ہوتا ہے اور جب یہ کمزور ہوتا ہے تو تنزلی مقدر بن جاتی ہیں۔ جذبہئ عصبیت کی بدولت بندے بڑے بڑے کام کر جاتے ہیں۔ اس فلسفہ کی صداقت کو جانچنے کے لئے سردار عثمان احمد خان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب کا دورہ اوکاڑہ کا جائزہ لینا پڑے گا۔ جب وہ بلوچ سردار میر چاکر خان کے مزار پر پہنچے تو یقینا ان کی آنکھیں کھلیں کہ ایک بلوچ سردار کی آباد حویلی کس قدر بے آباد ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچ سردار ہیں اور ان کا تعلق پنجاب سے ہے۔ بلوچستان کے بلوچ سردار کے مزار کا یہ حال پنجاب کے بلوچ سردار سے نہ دیکھا گیا اور یوں انہوں نے اس مزار کی تزئین و آرائش کے احکام جاری کئے۔ موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب باتوں پر اتنا یقین نہیں رکھتے جتنا کہ عمل ان کے ہاں اہم ہے۔ وہ نرم دم گفتگو اور گرم دم جستجو کی عملی تفسیر ہیں۔ آج وقت کا بھی تقاضا ہے کہ ہم عملی طور پر اقدامات کریں اور ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ قوم کے سامنے سچ رکھیں اور وعدہ خلافی نہ کریں بتدریج صورتحال تبدیل ہوگی اور پھر تبدیلی کی جاں فزا ہوا زندہ دل پاکستانیوں کو سوچنے پر مجبور کردے گی کہ حقیقت کیا ہے اور افسانہ کیا ہے۔ قارئین کرام! آئیے اپنے قومی ورثہ کی حفاظت کرنے میں سردار عثمان احمد خان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب کا ساتھ دیں۔
(کالم نگار‘ممتاز شاعراورضلع بہاولنگر
میں ڈپٹی کمشنر تعینات ہیں)
٭……٭……٭

جدید ٹیکنالوجی اورہماری ترجیحات

وزیر احمد جوگیزئی
قطع نظر اس کے کہ اسلام آباد میں حکمران کون ہے،کس جماعت کی حکومت ہے،اس بات سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ حکمران کس طرح سے بر سر اقتدار آیا ہے،جمہوری طریقے سے آیا ہے یا پھر غیر جمہوری طریقے سے آیا ہے۔ہم اپنی ترجیحات کو اصل شکل دینے میں ناکام رہے ہیں۔اور یہ ناکامی کسی ایک لیڈر کی یا جماعت کی نہیں ہے بلکہ سب کی ہے۔کل ہی وزیر اعظم عمران خان نے کنونشن سینٹر اسلام آباد میں اپنی تین سالہ کا رکردگی پر ایک بڑا پروگرام کیا اور اس پروگرام میں اپنی کامیابیاں قوم کو گنوائیں اور پھر کامیابیاں گنوانے کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی مخالفین پر بھی سیاسی گولہ باری کی۔اورشدید گولہ باری کی۔ لیکن اپنے مخالفین کو جو مرضی کہیں لیکن اس بات میں کو ئی شک نہیں ہے کہ حکومت کی تین سالہ کارکردگی بالکل سوالیہ نشان ہے۔ اور یہ اس لیے بھی ہے کہ ہماری قیادت کی ذاتی اور جما عتی ترجیحات ملک کی ترقی میں مدد گار ثابت نہیں ہو رہی ہیں۔پاکستان کی ترقی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔حکومت کے تین سال مکمل ہونے کی اس تقریب میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن جماعتیں اور ان کے جلسوں میں بھی اس حوالے سے ذکر تک نہیں کیا جاتا ہے،ذر تودور کی بات ہے بلکہ اشارہ تک نہیں ہو تا۔میرے مطالعہ کے مطابق پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنا اور پھر اس آبادی کو ہنر مند بنانا ہے اور یہ بات تو صاف ظاہر ہے کہ جب تک پاکستان کی آبادی کنٹرول نہیں ہو گی تب تک آبادی کو ہنر مند نہیں بنایا جاسکے گا۔
جب تک کہ آبادی بڑھنے کی رفتار میں ٹھہراؤ نہیں آئے گا تب تک آبادی کی مناسب تعلیم اور تربیت کا بندوست نہیں ہو سکے گا،جتنے بھی سکول اور کالج قائم کر لیے جا ئیں وہ کم ہی رہیں گے اور آبادی کی ضروریات پوری نہیں کی جا سکیں گی۔یہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن بد قسمتی سے اس مسئلہ پر بات سب سے کم کی جاتی ہے بلکہ شاید کی نہیں جاتی ہے۔اور اس حوالے سے جو بھی ترکیبیں لڑائیں جاتی ہیں اور ساری منصوبہ بندیاں کی جاتی ہیں وہ ہوائی قلعے ہی ثابت ہوں گے۔نہ تو مہنگائی کریں کم ہو سکے گی او نہ ہی دیگر دیرینہ مسائل کا کوئی حل نکلے گا۔اور جہالت جس میں ہم 100فیصد تک غرق ہو چکے ہیں اس سے نکلنے کے لیے ہمیں اچھی خاصی توانا ئیاں خرچ کرنا ہو ں گی،تب ہی جا کر اس صورتحال میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔انسان کی تربیت اور اس کو ہنر مند بنانا مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں،یہ حکومت کی اولین ترجیح ہو نی چاہیے۔
حکمران اس وقت گاڑی کو گھوڑے کے ساتھ باندھ رہے ہیں،اس صورتحال میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔حکمرانی کرنے کے جہاں بہت سارے فوائد ہیں وہیں پر حکمرانی کرنے کے آداب بھی ہوتے ہیں اور ان آداب کا پاس کرنا ہر حکمران کی ذمہ داری ہو تی ہے لیکن بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ حکومت کے تین سال مکمل ہونے کی تقریب میں زیادہ تر توانائیاں اسی کام میں صرف کی گئیں ہیں۔بڑھتی ہوئی آبادی کے مسئلہ پر بات کرنا یا اس کے حل کے لیے کو ئی پلان پیش کرنا کسی کی ترجیح میں شامل نہیں ہے،لیکن مخالفین کو گرانا زیادہ ضروری کام ہے۔بہر حال آج کل کی دنیا ٹیکنالوجی کی دنیا ہے جس کے پاس ٹیکنالوجی ہے وہ ہی اس دنیا میں آگے ہے یہ ایکے حقیقت ہے جس سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن ہم ٹیکنالوجی سے بھی فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے ہیں اور ہم جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھانے سے قاصر اس لیے ہیں کہ ہم ٹیکنالوجی کے میدان میں سرمایہ کاری کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں۔ پاکستان بنیادی طورپر ایک زرعی ملک ہے او ر زراعت کی ترقی پاکستان کی ترقی کی بنیاد ہے اور آجکل دنیا کے کئی ممالک میں زرعی ٹیکنالوجی بہت آگے جا چکی ہے اور بہت ہی کم پانی کے ساتھ بھی بہت ہی زیادہ پیدا وار حاصل کی جاتی ہے لیکن ہم نے اس طرف بھی نہیں سوچا اور پرانے طریقے ہی اپنائے ہو ئے ہیں جس کے نتیجے میں اس میدان میں بھی ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔اور شاید ہم اس لیے اس طرف توجہ نہیں کرتے اور اس بارے میں سوچتے نہیں ہیں کیونکہ عوام ترقی کریں گے تو ان میں آزاد خیالی آئے گی اور آزاد خیالی کو ہم پسند نہیں کرتے،اور اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں ہمیں صرف ایسا پاکستان چاہیے جو کہ جا ہل ہو اور عوام غربت کی چکی میں پستے رہیں اور ایک خاص طبقہ عیاشی کرتا رہے۔
پاکستان کی آزادی صرف اور صرف آزادی فکر، آزادی تحریر اور اور آزاد عدلیہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔یعنی کہ صحافت کی آزادی،خیال کی آزادی اور عدل کی آزادی اس کے بغیر پاکستان حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہو سکتا ہے۔ایک ایسا پاکستان جس میں ایک مخصوص خیال اور سوچ رکھنے والے دوسرے پاکستانی کو اپنی سوچ کا قائل کر سکتا ہوں لیکن صرف اور صرف گفت و شنید کے ذریعے اور کسی طریقے سے نہیں۔پاکستان بنا ہی اس لیے تھا کہ اس ملک کے ذریعے ایک آزاد جمہوری نظام مسلم دنیا میں متعارف کروایا جائے گا جس کی ایک عالی شان آزاد عدلیہ ہو گی اور آزادی صحافت اس ملک کا طرہئ امتیاز ہو گا،اور آج کی جدید دنیا میں ان دو چیزوں کو دیکھ کر ہی کسی بھی ملک کے اچھے ہونے یا پھر برے ہونے کا احاطہ کیا جاسکتا ہے۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭……٭……٭

یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

نعیم ثاقب
پچھلے زمانے کی بات ہے تین آدمی کہیں راستے میں جا رہے تھے کہ اچانک بارش نے نہیں آ لیا۔ وہ تینوں بارش سے بچنے کے لیے پہاڑ کی غار میں گھُس گئے(جب وہ اندرچلے گئے)تو پہاڑ سے پتھر گرا اور غار کا منہ بند ہو گیا۔ تینوں بہت پریشان ہوئے مل کر زور لگایا مگر بھاری پتھر نہ ہٹا سکے۔ تھک ہار کر بیٹھ گئے اور آپس میں یوں کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ہمیں اس مصیبت سے اب تو صرف سچائی ہی نجات دلائے گی۔ بہتر یہ ہے کہ اب ہم میں سے ہر شخص اپنے کسی ایسے عمل کو بیان کر کے دعا کرے جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ خالص اللہ تعالی کی رضا مندی کے لیے کیا تھا۔ چنانچہ ایک نے اس طرح دعا کی۔ اے اللہ!تجھ کو خوب معلوم ہے کہ میں نے ایک مزدور رکھا تھاجس نے چاول کی کچھ مقدار کے عوض مزدوری پر میرا کام کیا تھا لیکن وہ شخص کسی بات پر غصے میں آ کر چلا گیا اور اپنے چاول چھوڑ گیا۔ میں نے اس کے چاول کو لیا اوراس کی کاشت کی۔ اس سے اتنا کچھ ہو گیا کہ میں نے پیداوار میں سے گائے بیل خریدلیے۔ اس کے بہت عرصے بعد وہی شخص مجھ سے اپنی مزدوری مانگنے آیا۔ میں نے کہاکہ یہ گائے بیل کھڑے ہیں ان کو لے جا۔ اس نے کہا کہ میرے تو صرف چاول تھے۔میں نے اس سے کہا یہ سب گائے بیل لے جا کیونکہ انہی چاولوں کی آمدنی ہے۔ آخر وہ گائے بیل لے کر چلا گیا۔ پس اے اللہ!اگر تو جانتا ہے کہ یہ ایمانداری میں نے صرف تیرے ڈر سے کی تھی تو، تُو غار کا منہ کھول دے۔ چنانچہ اسی وقت وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ پھردوسرے نے اس طرح دعا کی۔ اے اللہ!تجھے خوب معلوم ہے کہ میرے ماں باپ جب بوڑھے ہو گئے تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوروزانہ رات کو اپنی بکریوں کا دودھ لا کرنہیں پلایا کرتا تھا۔ ایک دن اتفاق سے میں دیر سے آیا تو وہ سو چکے تھے۔ ادھر میرے بیوی اور بچے بھوک سے بلبلا رہے تھے لیکن میری عادت تھی کہ جب تک والدین کو دودھ نہ پلا لوں، بیوی بچوں کو نہیں دیتا تھا مجھے انہیں بیدار کرنا بھی پسند نہیں تھا اور چھوڑنا بھی پسند نہ تھا(کیونکہ یہی ان کا شام کا کھانا تھا اور دودھ کے نہ پینے کی وجہ سے وہ کمزور ہوجاتے)پس میں ان کا وہیں انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو تُو ہماری مشکل دور کر دے۔اس وقت وہ پتھر کچھ اور ہٹ گیا اور اب آسمان نظر آنے لگا۔ پھر تیسرے شخص نے یوں دعا کی۔ اے اللہ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جو مجھے سب سے زیادہ محبوب تھی۔میں نے ایک بار اس سے صحبت کرنی چاہی، اس نے انکار کیا مگر اس شرط پر تیار ہوئی کہ میں اسے سو اشرفی لا کر دے دوں۔ میں نے یہ رقم حاصل کرنے کے لیے کوشش کی۔آخر وہ مجھے مل گئی تو میں اس کے پاس آیا اور وہ رقم اس کے حوالے کر دی۔ اس نے مجھے اپنے نفس پر قدرت دے دی۔ جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان بیٹھ چکاتو اس نے کہا کہ اللہ سے ڈر اور مہر کو بغیر حق کے نہ توڑ۔ میں یہ سنتے ہی کھڑا ہو گیااور سو اشرفی بھی واپس نہیں لی۔ پس اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ عمل تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو، تُو ہماری مشکل آسان کر دے۔ اللہ تعالی نے ان کی مشکل دور کر دی اور وہ تینوں باہر نکل آئے۔ یہ واقعہ کوئی قصہ کہانی نہیں حدیث شریف کامفہوم ہے اور ان تین لوگوں کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا(صحیح بخاری)
اور اب اس زمانے میں ایسے لوگوں کے قصے ہیں جومال و زر کی ہوس میں اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ ہزاروں لوگوں کو چھت دینے کا خواب دکھاکر ان کی زندگی بھر کی کمائی چھین لیتے ہیں۔ یہ لوٹ مار کرکے سر عام دندناتے پھرتے ہیں کیونکہ یہ کسی سابقہ ڈپٹی کمشنر کے بیٹے ہوتے کسی سابقہ چیف جسٹس کے سمدھی، پیسے کی چمک سے یہ کمزور ججوں کو خریدتے اور سابقہ جرنیلوں کو ملازم رکھتے ہیں۔ اداروں کے راشیوں کو غلام اورمیڈیا کے حریصوں کو نوکر بنالیتے ہیں یہ خوش نما اور لچھے دار باتوں سے عوام الناس کاخون چوستے ہیں۔ہر روز کوئی نیا چہرہ کسی نئے منصوبے کے ساتھ بیچارے عوام کی جمع پونجی کو ہڑپ کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ کبھی دولت کو دگنا(ڈبل شاہ)کرنے کے روپ میں تو کبھی عام منافع سے زیادہ نفع دینے کے روپ میں کبھی کاروباری اتار چڑھاؤکی باریکیوں کو لے کر انویسٹمنٹ کروانے کے روپ میں تو کبھی ہاؤوسنگ سوسائٹی میں رقم انویسٹ کرنے کے روپ میں کوئی نہ کوئی ٹھگ مل ہی جاتا ہے۔ماضی کے ٹھگ تو گمنامی کی زندگی میں اپنی عافیت محسوس کرتے تھے لیکن اب کی بارگمنامی سے نکل کربھرپوراشتہاربازی،میڈیا کوریج اورپبلسٹی کے سارے لوازمات کو بروئے کارلاتے ہوئے عوام الناس کے پیٹ میں ہضم شدہ خوراک تک نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کہیں کوئی اک روپیہ بھی اور کوئی زیور کا چھوٹا سا ٹکڑابھی گھر میں پڑا نہ رہ جائے۔
مگر یہ بھول جاتے ہیں جب قدرت کا قانون حرکت میں آتا ہے تو پھر ایڈن ہاؤسنگ کے مالک ڈاکٹر امجد کی طرح کوئی پر اسرار بیماری موت کی دہلیز پر لے جاتی ہے اور فراڈ سے جمع کیا ہوا اربوں روپیہ بھی اس بیماری سے چھٹکارا نہیں دلواسکتا۔ لہٰذا مال و دولت جمع کرتے وقت یہ ضرور سوچیں کہ آپ کے مرنے کے بعد لوگ آپ کے لیے روئیں یاآپ کی جان کو روئیں۔ لہٰذا یاد رکھیں دنیاوی عدالت کے جج سے دوستی، رشتہ داری اورجان پہچان سے شاید کچھ عرصہ کے لیے ریلیف تو مل جائے۔ مگر حقیقی عدالت میں نہ تو پیسہ، نہ طاقت، نہ اختیار اور نہ ہی کوئی شفارش کام آنی ہے اور اس عدالت کا جج سب سے بڑاعادل اور منصف ہے۔ اور مت بھولیں کہ۔
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
بقول شاعر
یہی تجھ کو دھن ہے۔ دکھوں سب سے اعلیٰ
ہو زینت نرالی ہو فیشن نرالا
جیا کرتا ہے کیا یونہی مرنے والا
تجھے حُسن ظاہر نے دھوکے میں ڈالا
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

اسلام آباد کے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے اور اوپن مائیک نصب کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد کے تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے اور اوپن مائیک نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 پولیس ترجمان کے مطابق افسران اپنے دفاتر سے تھانے میں سائلین سے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے خود بات کریں گے ، آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ کسی بھی تھانے میں شہریوں سے غیر مہذب رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اسلام آباد کے تمام تھانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے  لگیں گے اور کیمروں کے ساتھ مائیک بھی نصب ہوں گے۔ جو پولیس اہلکار  یا افسر داد رسی کے لیے تھانے آنے والے سائل کے ساتھ بد تمیزی یا نازیبا رویہ اختیار کرے گا، اس کی خیر نہیں۔

آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی آپریشنز نہ صرف کیمروں سے مانیٹرنگ کریں گے بلکہ خود سائلین سے بات بھی کر سکیں گے۔

یہ فیصلہ پولیس کے سائلین کے ساتھ انتہائی شرمناک اور نازیبا رویے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر آنے کے بعد کیا گیا۔

آئی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان کی زیر صدارت کرائم میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی بھی تھانے میں شہریو‍ ں سے غیر مہذب رویہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

تمام زونل ایس پیز، ایس ڈی پی اوز کو روزانہ ایک گھنٹہ اپنے دفتر میں شہریوں سے ملاقات کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے ایک ایک دن کے دوروں سے لگ رہا کہ یہ اگلے الیکشن کمپین کی شروعات ہے

ہو سکتا الیکشن 2023 اپنی مقررہ مدت سے قبل ہوجائے
“روزنامہ جدت”،”پیپلز میگزین پاکستان”، “برانڈز میگزین”، “FHM میگزین” کے ساتھ خصوصی نشست میں چیف ایڈیٹر خبریں گروپ امتنان شاہد کی خصوصی گفتگو

بھارت کو تیسرے ٹیسٹ میں اننگز اور 76رنز سے شکست، سیریز 1-1 سے برابر

انگلینڈ نے باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت بھارت کو تیسرے ٹیسٹ میچ میں اننگز اور 76 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کردی۔

لیڈز میں کھیلے سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن بھارت نے 215 رنز دو کھلاڑی آؤٹ سے اپنی دوسری نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو کپتان ویرات کوہلی اور چتیشور پجارا وکٹ پر موجود تھے۔

دن کے آغاز میں ہی انگلینڈ نے نئی گیند لے لی اور مجموعی اسکور میں بغیر کسی اضافے کے چتیشور پجارا پویلین لوٹ گئے، 91 رنز بنانے والے بلے باز نے گیند کو چھوڑنے کی غلطی کی جو ان کے پیڈ پر جا لگی، فیلڈ امپائر نے انہیں ناٹ آؤٹ قرار دیا لیکن انگلینڈ نے ریویو پر دن کے آغاز میں ہی قیمتی وکٹ حاصل کر لی۔

انگلینڈ کو اگلی کامیابی کے لیے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا اور ویرات کوہلی سیریز کی پہلی نصف سنچری بنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے، انہوں اولی رابنسن کی وکٹ بننے سے قبل 55 رنز بنائے۔

کوہلی کے آؤٹ ہوتے ہیں وکٹیں گرنے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا، جو پھر تھم نہ سکا اور میچ کے تیسرے دن بہترین کھیل پیش کرنے والی بھارتی ٹیم چوتھے دن نئی گیند پر ایک مرتبہ پھر بے بس نظر آئی۔

مہمان ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ اگلے ہی اوور میں جیمز اینڈرسن نے اجنکیا راہانے کو بھی چلتا کردیا جبکہ رابنسن نے ایک اور شکار کرتے ہوئے ریشابھ پنت کا بھی کام تمام کردیا۔

محمد شامی کی چھ رنز کی اننگز معین علی کے ہاتھوں اختتام کو پہنچی جبکہ ایشانت شرما کو آؤٹ کر کے رابنسن نے پانچویں وکٹ حاصل کی۔

رویندرا جدیجا نے چند بڑے شاٹس کھیلے لیکن انگلش باؤلرز کے سامنے ان کی بھی ایک نہ چل سکی اور اوورٹن کو لگاتار تین چوکے لگانے کے بعد وہ اگلے اوور میں انہی کو وکٹ دے بیٹھے۔

ایک گیند بعد ہی اوورٹن نے سراج کا کام بھی تمام کر کے اپنی ٹیم کو میچ میں شاندار فتح سے ہمکنار کرا دیا اور اس طرح سیریز بھی 1-1 سے برابر ہو گئی۔

انگلینڈ کو میچ کے چوتھے دن بھارت کی بساط سمیٹنے میں 20 اوور بھی نہ لگے اور مہمان ٹیم نے آخری آٹھ وکٹیں صرف 63رنز کے اضافے سے گنوائیں۔

انگلینڈ نے میچ میں اننگز اور 76 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

واضح رہے کہ بھارت کی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 78 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی جس کے جواب میں انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 432رنز بنائے تھے۔

اولی رابنسن کو دوسری اننگز میں پانچ وکٹوں سمیت میچ میں 7 وکٹیں لینے پر بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

یہ جو روٹ کی بحیثیت کپتان 27ویں فتح تھی جس کے ساتھ ہی انگلینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان بن گئے۔

افغانستان سے غیر ملکیوں کو کراچی لانے کا فیصلہ مؤخر

امریکا نے افغان ٹرانزٹ مسافروں کی منتقلی کے منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے غیر ملکیوں کو کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا۔

ذرائع سول ایوی ایشن کے مطابق امریکا کی جانب افغانستان سے نکالے گئے افراد کو کراچی نہ لانے کا فیصلہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے، افغانستان سے منتقل کیے جانے والے افغان باشندوں اور غیر ملکی شہریوں کو اب صرف اسلام آباد لایا جا رہا ہے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکا نے افغانستان سے نکالے جانے والے افراد کی تعداد میں بھی کافی کمی کر دی ہے اور افغان ٹرانزٹ مسافروں کی منتقلی کے لیے لاہور اور کراچی ائیر پورٹس کو فی الحال اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرانزٹ مسافروں کی منتقلی کے منصوبے میں تبدیلی سے سندھ حکومت کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔

سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اسلام آباد لائے جانے والے افغان ٹرانزٹ مسافروں کو جتنا جلدی ممکن ہو پاکستان سے منتقل کیا جائے گا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اسلام آباد آنے والے ٹرانزٹ مسافروں کو چند گھنٹوں میں ہی ائیرپورٹ سے کسی دوسرے ملک منتقل کر دیا جائے گا، صرف انتہائی ضرورت پر ہی ٹرانزٹ مسافروں کو اسلام آباد کے ہوٹلز میں رکھا جائے گا۔

ریلوے کا خسارہ 3 سال میں بڑھ کر 40 ارب روپے تک پہنچ گیا

سی پیک کے انتظار میں ریلوے اثاثوں کی مرمت اور دیکھ بھال میں کمی اور حادثات میں اضافہ ہو گیا اور محکمہ ریلوے کا تین سال کے دوران سالانہ خسارہ بڑھ کر  40 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

موجودہ حکومت کے تین سالہ دور میں مسافر ٹرینوں کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہو گئی ہے، 57 مسافر ٹرینیں بند اور صرف 85 چل رہی ہیں۔ ان میں سے بھی 70 نجی شعبے کے اشتراک سے چلانے کے لیے ٹینڈر جاری کیے جا چکے ہیں تاہم یہ عمل بھی سست روی کا شکار  ہے۔

پاکستان ریلوے کے پاس انجنوں کی تعداد 480 سے کم ہو کر 472 اور مسافر کوچز  460 سے کم ہو کر 380 رہ گئی ہیں جبکہ مال گاڑیوں کے 2000 ڈبے بھی کم ہو گئے ہیں۔

ریلوے ملازمین کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے کم ہو کر 72 ہزار  رہ گی ہے جبکہ پنشنرز ایک لاکھ 15 ہزار سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔

 ریلوے ٹریک، پل اور سگنل سسٹم سمیت دیگر اثاثوں کا 60 فیصد حصہ انتہائی کمزور ہو چکا ہے، میرج ٹرین، لاہور واہگہ اور لاہور گوجرانوالہ کے درمیان چلنے والی ٹرینیں بھی بند کر دی گئی ہیں۔ انٹرنیشنل مال گاڑی بھی بحال نہ ہو سکی۔

ریلوے افسران کی شاہانہ سیلونز کرائے پر دینے کا تجربہ بھی کامیاب نہ ہوا، کراچی سرکلر ریلوے بحال ضرور ہوئی لیکن ادھوری، ریلوے ٹریک پر 2 ہزار 382 مقامات پر پھاٹک نہیں ہیں۔

تین سال میں درجنوں حادثات ہوئے، 2019ء میں تیز گام میں لگنے والی آگ اور جون 2021 میں سکھر ڈویژن میں مسافر ٹرینوں کے حادثے میں 150 سے زائد مسافر لقمہ اجل بن گئے۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے عوامی مفاد کا قومی ادارہ ہے جسے کمرشل بنیادوں پر چلانا مشکل ہے، کورونا کی وجہ سے ٹرینوں کی بندش اور کم مسافروں کے ساتھ چلانے سے بھی خسارے میں اضافہ ہوا۔

ریلوے حکام کہتے ہیں کہ ریلوے کا 64 فیصد بجٹ تنخواہوں اور پنشن اور 18 فیصد ڈیزل کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق سی پیک پر عمل درآمد ہونے سے ریلوے کی کایا پلٹ جائے گی، کراچی سے پشاور اور ٹیکسلا سےحویلیاں تک بغیر  پھاٹک ریلوے ٹریک بچھانے سے ٹرینیں 90 کی بجائے 160 کلومیٹر کی رفتار سے چلنا شروع ہو جائیں گی، پھر ریل کا سفر محفوظ اور  تیز ہوجائے گا، ریلوے منافع بخش ادارہ بھی بن جائے گا۔

مینار پاکستان واقعہ: متاثرہ خاتون کا طبیعت نا ساز ہونے پر شناخت پریڈ کے لئے آنے سے انکار

لاہور : گریٹر اقبال پارک میں ٹک ٹاکر گرل سے دست درازی کے کیس میں متاثرہ خاتون نے طبیعت ناساز ہونے پر شناخت پریڈ کے لیے آنے سے انکار کر دیا۔

شناخت کیلئےآنے والے مجسٹریٹ متاثرہ لڑکی کی آنے کی درخواست پر جیل سے واپس روانہ ہو گئے۔ ٹک ٹاکر لڑکی نے جیل میں 144 افراد کی شناخت کرنا تھی۔

ملزمان کی شناخت پریڈ اب یکم ستمبر کو دوبارہ ہو گی۔ اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ نے سپرٹنڈنٹ جیل کو دوبارہ انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کر دی