All posts by Daily Khabrain

شیرکی آنکھ کاپانی خشک ہوگیا

شفقت حسین
ایک انگریزی محاورہ ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ:”انصاف کی فراہمی میں تاخیر انصاف سے انکار کے ہم معنی ہے“۔ اس سے ارتقا کا عمل رک جاتاہے‘معاشرے میں مایوسی اوربددلی بھی پھیلتی ہے لیکن جرم ثابت ہونے پرکسی مجرم کو سزا کے عمل سے گزار کرنہ صرف دوسرے لوگوں تک ایک واضح پیغام پہنچ جاتاہے بلکہ مستقبل میں ناپسندیدہ سمجھے جانے والے اعمال اور افعال کے اعادے کو بڑی حد تک روکنے میں مدد بھی مل سکتی ہے اور ویسے بھی اسلام نے تومختلف جرائم کے ارتکاب کی سزاؤں تک کا تعین قیام قیامت تک کے لئے کر رکھا ہے۔
میں ذیل میں اپنی معروضات پیش کرنے سے پہلے یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجرم چاہے نورمقدم کاقاتل ظاہر جعفر ہو یا سیالکوٹ موٹروے پر ایک بہن کے ساتھ شرمناک سلوک کے مرتکب عابد ملہی یا اس کے ساتھی ہوں یا پھر14اگست کے روز مینار پاکستان کے سائے تلے عائشہ نامی ٹک ٹاکر سے دست درازی کرنے والے تین چار سو کے قریب ناہنجار ہوں تمام کے تمام لوگ سخت ترین سزاؤں کے مستحق ہیں اور اس حوالے سے مائیں بہنیں اور بہوبیٹیاں رکھنے والے کسی بھی فر د کے دل میں معاشرے کے ایسے ناسوروں کے لئے کوئی ہمدردی اور کوئی جذبہئ ترحم قطعاً نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن قارئین کرام! کچھ اشکالات بعض استفارات اور چند سوالات ایسے ضرور ہیں جو ہر باپ اوربھائی کے ذہن میں ابھر ابھر کرسامنے آتے ہیں۔ اگر کوئی شخص خود میری آنکھوں میں رتجگوں کی تھکن تلاش کرنے کی کوشش کرے تو اسے بآسانی اندازہ ہو جائے گا کہ ہماری ماؤں‘بہنوں‘بہوؤں اور بیٹیوں کے ساتھ ”مردِآہن“”الاماشااللہ“ کی جانب سے کمینگی پر مبنی کیے جانے والے ایسے سلوک کو سن کرپڑھ کرنہ صرف دل دکھی اور ملول ہو جاتاہے بلکہ میری اکثر راتیں خلاؤں کو گھورتے گزر جاتی ہیں اور میں سوچتا ہوں کہ نورمقدم جب ماں باپ کی دہلیز کوعبور کرکے ظاہر جعفر کے پاس جاتی تھی تو اس کے راستے میں دیوار کیوں کھڑی نہیں کی جاتی تھی۔ نیز یہ بھی کہ جب دونوں بچے اس قدر گہرے طورپر ایک دوسرے میں انوالو تھے تو انہیں نکاح جیسے عظیم اورخوبصورت بندھن میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کیوں نہ باندھ دیاگیا جو ان کا اسلامی‘شرعی‘ قانونی‘ معاشرتی‘ اخلاقی اور سماجی حق تھا۔ والدین کو نظر انداز کرنے کا یا والدین کانور مقدم کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنی مرضی ومنشا کے تحت گئی اور جاتے ہی ایک شقی القلب درندے کی مرضی ومنشا کی بھینٹ چڑھ گئی اور اس موقع نے ایسی گرد اڑائی‘ایسی دُھول اٹھی کہ نور مقدم کے اہل خانہ معاشرے کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہے۔
اسی طرح سیالکوٹ موٹروے پر رات کی تاریکی میں اپنے تین کمسن بچوں کے ساتھ سفر کرنے والی خاتون کا معاملہ ہے جسے چلتے وقت گھر کے کسی بڑے نے یہ نہ سمجھایا کہ رات کے وقت اکیلی خاتون کا سفرکرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ لہٰذا آپ رک جائیے یوں بھی کسی تن تنہا ڈرائیو کرنے والے پرنیند بھی غالب آسکتی ہے اس دوران کسی حادثے کا امکان بھی رد نہیں کیا جاسکتا‘نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
یہی صورت واقعہ جشن آزادی کے موقع پر عائشہ کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک سانحہ ہے اسے بھی گھر سے ایک ہجوم میں جہاں چہارسوہلڑ بازی ہورہی تھی جانے سے کسی نہ روکا۔ گھر کے کسی بڑے اور سیانے نے یہ نہ کہا کہ ٹاک ٹاک کاشوق کسی اوروقت پر اٹھا رکھو لیکن عوام کے ایک جم غفیر میں نہ جاؤ۔اسی طرح آج سے پورے ساڑھے پانچ ماہ پیچھے آٹھ مارچ کے روز عالمی یوم خواتین منانے والی الٹراماڈرن بچیوں اور عورتوں کو والدین اور عزیزو اقارب نے یہ نہیں سمجھایا کہ بیٹیو! اللہ پاک نے آپ کا مقام بہت بلند‘ بڑا ارفعٰ اور اعلیٰ رکھا ہے اور تمہارے جسم پر تمہاری مرضیاں نہیں چل سکتیں کہ آپ کا سراپا کسی کی امانت ہے اور حکم خداوندی ماسوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ امانتیں ان کے اہل اور حقداروں کے سپرد کرو نہ کہ سرراہ چلتے کسی اوباش کے حوالے کردو۔ یہی نہیں بلکہ خداوند تعالیٰ نے تو آپ کے حدودوقیود تک مقرر کررکھے ہیں کہ کہاں تک آپ نے اپنے آپ کوظاہر کرناہے اور کہاں تک چھپانا ہے اسی خدائے بزرگ وبرتر نے اپنے بندوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ میں تمہاری آنکھوں کی خیانت کابھی علم رکھتا ہوں بلکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں چھپا ہواہے میں اس سے بھی واقف ہوں جس کامطلب جوہری طورپر یہی ہے کہ سرراہ سڑک پر چلتے چلتے کسیAttractکرنے والی چیز پر غیر ارادی طورپر نظر کا اٹھنا تو قابل معافی ہے مگر باقاعدہ ارادۃً تعاقب کرکے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنا گناہ کبیر ہے۔ کسی نے ان ماڈرن خواتین کو یہ نہیں بتایا کہ اسلام نے آپ کو اپنے لئے انتخاب کا حق تو عطا کیاہے لیکن اس کے لئے نکاح اور گواہ بھی ضروری ہے اور ایجاب وقبول بھی۔ دین محمدیؐ نے تو عورت کو اس قدر مضبوط اور طاقتور بنا رکھاہے کہ بعض شرائط کو پورا کیے بغیر مرد حضرات طلاق دے بھی دیں تو وہ مؤثر نہیں سمجھی جاتی لیکن کیا کیاجائے کہ ہم نے قرآن پاک کو یا قسم اٹھانے کے لئے یا پھر خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر گھر کی کسی اونچی جگہ پر باعث برکت سمجھ کر رکھاہوتاہے لیکن نعمتوں‘ برکتوں‘ گرانقدر رحمتوں اور ہدایتوں کایہ منبع وذخیرہ بلکہ اس میں شفابھی ہے لیکن اسے کبھی باعثِ مقصد نہیں سمجھا کہ آج کے والدین اپنی اپنی اولاد سے ایک خاص مفہوم میں غافل ہو چکے معلوم ہوتے ہیں۔ ہماری عمر کے لوگ اس امرکے گواہ ہیں جو اپنے آبأ سے اکثر سنا کرتے تھے کہ ان کے بڑے بھی یہی کہا کرتے تھے کہ اپنے بچوں کو کھلاؤ تو سونے کا نوالا مگر دیکھو اسے شیر کی آنکھ سے۔ اس کا مطلب ہے کہ اولاد کے ساتھ نرمی بھی کرو لیکن جہاں اس کے گمراہ ہونے کاخطرہ وخدشہ ہو وہاں سختی کرنابھی ضروری ہے۔
الحمدللہ! جن والدین نے اس ابدی صداقت اور جوہری حقیقت کو سمجھا و ہ سرخرو ٹھہرے اور جو نہ سمجھے ان کی اولادیں ان کے لئے روگ بن گئیں۔کیا ملالہ یوسفزئی کے والد نے اس مغرب زدہ ہو جانے والی بیٹی کی سرزنش کی کہ ملالہ! کسی مرد کے ساتھ آزادانہ زندگی گزارنا اسلام میں حرام ہے اور اس کے لئے نکاح ایک لازمی شرط ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی ملالہ ہے جس پر غالباً2013ء میں سکول جاتے ہوئے حملہ ہوا تو پورا ملک اس واقعہ کے ملزمان کے خلاف سراپااحتجاج بن گیا تھا خود راقم نے بھی ”خبریں“ میں اس کے حق میں ایک تفصیلی کالم لکھا تھا لیکن یہ بچی بھی گمراہ ہونے سے نہ بچ سکی جو آج کہہ رہی ہے کہ زندگی گزارنے کے لئے نکاح کی کوئی ضرورت نہیں اور یہودیوں کے ساتھ کھلے عام تصویریں بنوا کر انہیں اپ لوڈ کررہی ہے۔ بہرحال خواتین کے ساتھ گھناؤنے اورشرمناک سلوک کے ملزمان کو کڑی اور سخت سزائیں بھی دیں۔ لیکن خدارا! والدین اپنی بچیوں پر نظر بھی رکھیں۔آج ہمارے گھروں میں سونے کے نوالے تو ہیں انواع واقسام کی ڈشز اور کھانے ہیں لیکن نہ جانے شیر کی آنکھ کاپانی خشک ہو چکا ہے یا اس کی بینائی چلی گئی ہے۔ واللہ علم الصّواب۔
طُرفہ تماشا اورستم بالائے ستم یہ کہ اسمبلیوں میں خواتین ایم پی ایزکوکوئی سویٹ ڈش کہتا ہے تب بھی کوئی نہیں بولتا اسی طرح ہماری بہو‘بیٹیاں مردوں پر قابل اعتراض اشیا سے بھرے پیکٹس پھینکتی ہیں تو تب بھی کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ دونوں طرف سے شرم اور حیا کا جنازہ نکالا جارہا ہے اوریہ شیطانی چکر ہے کہ رکنے کانام ہی نہیں لیتا۔ اگر میں غلط نہیں تو کیا یہ سچ نہیں کہ حریم شاہ اور عائشہ اوردیگر بہت سی معروف ہو جانے والی خواتین کی شرمناک ویڈیوز نیٹ پر موجود ہیں لیکن کیا والدین نے نوٹس لیا۔ سب کچھ ان کے علم میں ہونے کے باوجود خاموشی چہ معنی دارد؟
(کالم نگار سیاسی‘سماجی اورمعاشرتی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

وفاقی ملازمین کے پلاٹ خلاف ضابطہ مختلف شعبوں کو الاٹ

وفاقی ملازمین کے پلاٹ خلاف ضابطہ مختلف شعبوں کو الاٹ
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پلاٹوںکی الاٹمنٹ کا انکشاف

پلاٹوں کی بندر بانٹ اور فیڈڈ قرعہ اندازی پر شہریوں کی شکایات
وزارت ہاؤسنگ کے خلاف وزیراعظم پورٹل پرشکایات کے انبار

جن کا جائز حق ہے ان کو پلاٹ دیں، رانا تنویر وزارت ہاؤسنگ پر پرس پڑے
وفاقی ملازمین کے علاوہ کسی کو پلاٹ نہ دیئے جائیں، پی اے سی کا حکم

ملک کے حالات کیا ہیں اور بڑے گھپلے ہو رہے ہیں، کمیٹی ارکان
طارق بشیر چیمہ نے گزشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس روک لی

من پسند افراد کو پلاٹوں کی تقسیم پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ 13ستمبر کو سماعت کریگا
پلاٹوں کی خلاف ضابطہ الاٹمنٹ کا معاملہ خبریں /چینل٥ نے ایک روز قبل اٹھایا تھا

وزیراعظم سے بیلجئیم کے ہم منصب کا رابطہ، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم سے بیلجئیم کے ہم منصب کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو میں افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور علاقائی استحکام کے لیے پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں وزرائے اعظم نے افغانستان سے سفارتی اور بین الاقوامی تنظیموں کے عملہ کی انخلا کی جاری کوششوں پر تبادلہ خیال بھی کیا۔

بیلجیئم کے وزیراعظم نے پاکستان کی مدد اور سہولت کو سراہا اور عمران خان کو بیلجیم کے دورے کی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے رابطوں کے فروغ پر اتفاق کیا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانوں کی حفاظت،سلامتی اور افغانستان میں استحکام انتہائی اہم ہے۔ امن اور مفاہمت جامع سیاسی حل کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگا۔ بین الاقوامی برادری میں افغانستان کے لوگوں کی حمایت کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔

افغان طالبان کا امریکی انخلا کی ڈیڈ لائن نہ بڑھانے کا اعلان

کابل: (ویب ڈیسک) افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود غیرملکی فوجیوں کے انخلا کی تاریخ میں توسیع نہیں ہو گی۔

برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز سے بات چیت میں ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا کہ یہ ڈیڈلائن نہیں بلکہ ان کے لیے ریڈلائن ہے اور اگر اس میں توسیع کی جاتی ہے تو اسے قبضے میں توسیع سمجھا جائے گا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سہیل شاہین نے کہا کہ ایسی کسی بھی توسیع کی صورت میں بداعتمادی کی فضا پیدا ہو گی جس کا ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ کابل ایئرپورٹ پر موجود افغان باشندے اصل میں طالبان کے خوف سے نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بہتر زندگی کے لیے افغانستان سے فرار کی کوشش میں ہیں۔

پینٹا گون کا افغانستان سے انخلا میں توسیع کا عندیہ

پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ طالبان سے انخلا میں توسیع کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ امریکی افواج 31 اگست تک کابل سے اپنا انخلا مکمل کرلیں گی۔ ہم حامد کرزئی ایئر پورٹ پر امریکی سرگرمیوں کے حوالے سے طالبان کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں لیکن ابھی تک ڈیڈ لائن کے تناطر میں کوئی خاص بات نہیں ہوئی ہے۔ انخلاء میں توسیع ہو سکتی ہے۔

امریکی انخلاء تک حکومت کا اعلان نہیں کرینگے: طالبان کا اعلان
مزید برآں افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا مکمل ہونے تک حکومت کا اعلان نہیں کریں گے، طالبان نے فیصلہ کرلیا ہے کہ امریکی فوج کی موجودگی تک حکومت اور کابینہ کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔

طالبان پر پابندیاں اقدامات پر منحصر، اپنے شہریوں کو کابل سے نکالنا پہلی ترجیح ہے: جوبائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ طالبان پر پابندیاں ان کے اقدامات پر منحصر ہیں، امریکا کی پہلی ترجیح اپنے شہریوں کو کابل سے جلد سے جلد نکالنا ہے۔

جوبائیڈن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے 31اگست کے بعد افغانستان میں رکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، اگر رکنا پڑا تو اس کےلیے بات چیت جاری ہے، انہوں نے ایک مرتبہ پھر افغانستان سے انخلا کو درست فیصلہ قرار دیا۔ مزید کہا کہ قبضے کے بعد ابھی تک طالبان نےامریکی فوجیوں پر حملہ نہیں کیا۔

امریکی صدر نے انخلا کے لیے مدد کرنے والوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغانستان سے فوجی انخلا کے امریکی فیصلے کو دنیا بھر سے تنقید کا سامنا ہے، کابل پر طالبان کے تیز رفتار قبضے کی وجہ بھی امریکی فوج کا غیر ضروری عجلت میں اںخلا قرار دیا جا رہا ہے۔

مطلق العنان حکومت قبول نہیں، طالبان سے لڑنے کے لیے تیار ہیں: احمد مسعود
احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے کہا ہے کہ طالبان سے لڑنے کے لیے تیار ہیں، کسی مطلق العنان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، طالبان رہنما خلیل الرحمان حقانی نے کہا ہے کہ سپرپاورز کو شکست دے سکتے ہیں تو اپنے لوگوں کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں، سیکڑوں طالبان جنگجو وادیِ پنج شیر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

افغانستان کے صوبے پنج شیر میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے۔ طالبان اور شمالی اتحاد آمنے سامنے پنجشیر میں احمد مسعود کے حامیوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکارکردیا، سیکڑوں طالبان پنجشیر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان سے لڑنے کے لیے تیار ہیں، انہوں نے طالبان پر واضح کر دیا ہے آگے بڑھنے کاراستہ مذاکرات ہی ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ جنگ چھڑ جائے لیکن کسی مطلق العنان حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

پنج شیر وادی میں پناہ لینے والے امراللہ صالح نے ٹویٹ کرتے ہوئے طالبان سے کہا ہے کہ آؤ تمھیں دیکھ لوں گا۔ طالبان پنجشیر کے داخلی دروازے پر جمع ہوئے ہیں۔ جو کوئی حملے کرے گا ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں بچے گا۔

کابل ایئر پورٹ پر فائرنگ، افغان سکیورٹی اہلکار چل بسا

دوسری طرف افغانستان سے باہر نکلنے کے لیے ہزاروں افغان اور غیر ملکی شہریوں کا کابل ہوائی اڈے پر ہجوم ہے۔ اس دوران مغربی ملکوں کی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں ایک افغان گارڈ چل بسا ہے۔

جرمن فوج نے بتایا کہ یہ لڑائی افغان سکیورٹی فورسز اور نامعلوم حملہ آوروں کے درمیان ہوئی۔ جرمن فورسز نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایک افغان سکیورٹی افسر ہلاک ہو گیا جبکہ دیگر تین زخمی ہو گئے۔ اس کارروائی میں امریکی اور جرمن فورسز بھی شامل تھیں۔ لیکن کوئی جرمن فوجی زخمی نہیں ہوا ہے۔

کسی پر کوئی جبر ہوگا نہ ہی کوئی خون خرابہ ہوگا: خلیل الرحمان حقانی

رہنما افغان طالبان کے خلیل الرحمان حقانی نے افغانستان میں جامع حکومت کے قیام کے سلسلہ میں عالمی تشویش کو دورکرتے ہوئے کہا ہے کہ امارت اسلامی افغانستان تمام سیاسی گروپوں اور مقامی برادریوں کی نمائندہ حکومت ہوگی۔ افغان شہری ملک سے نہ جائیں اور جو لوگ پہلے ہی جا چکے ہیں وہ واپس آئیں، افغانستان میں کسی پر کوئی جبر نہیں ہوگا، اب افغانستان میں کوئی خون خرابہ نہیں ہوگا۔۔

ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہاکہ ہم دنیا کے سامنے اسلامی امارت افغانستان کی عملی صورت پیش کریں گے اور سب سے پہلے ہم اپنے آپ پر شرعی قوانین نافذ کریں گے اور پھران قوانین کا عوام پر نفاذ کریں گے۔ افغانستان میں کسی پر کوئی جبر نہیں ہوگا تاہم انہوں نے حکومت کیلئے کوئی مناسب ڈھانچہ پیش نہیں کیا۔ جامع حکومت کی تشکیل کیلئے بات چیت جاری ہے۔ مختلف رہنمائوں اور افغان کمیونٹیز کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور وہ طالبان اور امارت اسلامی افغانستان کے ساتھ اپنی وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں۔ کابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد دنیا کو تشویش ہوئی کہ افغانوں میں نئی حکومت میں اقتدار کے حصہ کیلئے لڑائی شروع ہو جائے گی ۔

خلیل الرحمان حقانی نے یقین دلایا کہ دنیا کو اس حوالہ سے زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ جب ہم کابل آئے تو ہم نے سابق افغان صدر حامد کرزئی اور افغانستان کے سابق چیف ایگزیکٹو عبداﷲ عبداﷲ کے ساتھ ملاقات کی۔ یہ دونوں خوفزدہ تھے اور ملک چھوڑنا چاہتے تھے مگر ہم نے یقین دلایا کہ ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی۔

ایران نے طالبان کی درخواست پر افغانستان کو پٹرلیم مصنوعات کی ترسیل بحال کردی
اُدھر ایران نے افغان طالبان کی درخواست پر افغانستان کو پٹرلیم مصنوعات کی ترسیل بحال کردی، افغانستان میں بحران کے باعث تیل کی قلت پیدا ہوگئی تھی، ایران نے پٹرولیم مصنوعات پر محصولات میں 70فیصد تک کمی کردی ہے۔

جی سیون ممالک کا کل ورچوئل اجلاس، برطانیہ طالبان پر پابندیاں لگانے پر زور دے گا

فغانستان کی صورتحال پر جی 7 ممالک کا ورچوئل اجلاس کل ہو گا، خبر ایجنسی کے مطابق اجلاس کے دوران برطانیہ طالبان پر پابندیاں لگانے پر زور دے گا۔

اجلاس میں جی 7 ممالک افغانستان سے متعلق مشترکہ لائحہ عمل پر غور کریں گے، خبر ایجنسی کے مطابق اجلاس میں برطانیہ طالبان پر پابندیاں عائد کرنے پر زور دے گا۔

برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق برطانیہ، امریکا کو انخلا کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے بھی دباو ڈالے گا، توسیع سے لوگوں کو نکالنے کے لیے پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یورپی یونین کے کہنے پر افغان مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے: طیب اردوان

ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے کہنے پرافغان مہاجرین کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، دوسرے ممالک اپنی ذمہ داریاں ترکی پر نہ ڈالیں۔

ترک صدر اردوان نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک نے ان افراد کے چھوٹے سے گروہ کے لیے اپنے دروازے کھولے ہیں جنہوں نے ان کے لیے کام کیا ہے۔ ترکی میں پہلے ہی 50 لاکھ مہاجرین موجود ہیں، مہاجرین کی ایک اور لہر کو کنٹرول نہیں کر سکیں گے۔

عالمی برادری کو افغان طالبان سے روابط رکھنے چاہئیں، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہناہے کہ افغانستان کی بدلتی صورتحال میں  پاکستان کی خدمات کو دنیا بھرمیں تسلیم کیا جا رہا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دنیا پاکستان کی جانب دیکھ رہی ہے ، تین ہزار سے زائد غیر ملکیوں کو پاکستان نے افغانستان سے نکالا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کررہا ہے، اسے منفی سوچ ترک کردینی چاہیے۔

وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ عالمی برادری کو افغان طالبان سے روابط رکھنے چاہئیں۔

قبل ازیں انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کل یورپی یونین کے خارجہ امورکے سربراہ سے گفتگو ہوئی جس میں انہیں کابل میں پاکستان کی معاونت سے آگاہ کیا، اس کے علاوہ تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور ایران جاؤں گا جب کہ چین کے ساتھ ہماری گفتگو ہوچکی ہے۔

وزیر خارجہ کاکہنا تھا کہ افغانستان کثیر نسلی ملک ہے، وہاں پشتون اوردیگر لوگ بھی ہیں، افغانستان میں جو حکومت سامنے آئے وہ وسیع البنیاد اور اجتماعیت کی حامل ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور خطے کے ہمسایہ ممالک افغانستان میں قیام امن چاہتے ہیں لیکن افغانستان میں امن مخالف قوتیں ’اسپوائلرز‘ آج بھی متحرک ہیں، ہندوستان کو اپنی محدود سوچ ترک کرنا ہوگی، ہمیں بھارت کے افغانستان سے اچھے تعلقات پر اعتراض نہيں، ہمارا افغانستان میں فوکس کسی ايک گروپ پر نہيں۔

یپل کی نایاب دستاویز کروڑوں میں فروخت!

ایپل کی نایاب دستاویز کروڑوں میں فروخت!
کمپنی نے کمپیوٹر ایپل دوئم کی نایاب دستاویز 13 کروڑ روپے میں فروخت کردی
196صفحات پر مشتمل کتاب (منوئل بک) ایپل دوئم کو چلانے کی ہدایات پر مشتمل ہے
کتاب پر ایپل کے بانی اسٹیو جابز اور مائیک مرکولا نے 1980 میں دستخط کیے تھے
رپورٹ کے مطابق اپنے دستخط میں اسٹیوجابز نے لکھا کہ ’جولیئن!
آپ کی پہلی نسل ہے جو کمپیوٹر کے ساتھ بڑی ہورہی ہے، جائیں اور دنیا کو بدل دیں

نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے والدین اور 2ملازمین کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 4ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6ستمبر تک توسیع کر دی گئی

نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر کے والدین اور 2ملازمین کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت
4ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6ستمبر تک توسیع کر دی گئی

سندھ میں 30اگست سے100فیصد ویکسی نیشن والے سکول کھول دیں گے، سردار شاہ

سندھ میں 30اگست سے100فیصد ویکسی نیشن والے سکول کھول دیں گے، سردار شاہ
سکولز کا سٹاف جب تک ویکسی نیشن نہیںکرائے گا داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، سردار شاہ
50فیصد کی حاضری کے ساتھ سکولز کھلیں گے، وزیر تعلیم سندھ

کرونا کی چوتھی لہر مزید 80 جانیں نگل گئی

کرونا کی چوتھی لہر مزید 80 جانیں نگل گئی
ایک روز میں 3772نئے کیسز رپورٹ
ملک میں مثبت کیسز کی شرح7فیصد رہی، این سی او سی
نامور فوک سنگر قربان علی نیازی بھی کرونا کے باعث دم توڑ گئے
لاہور میں مثبت کیسز کی شرح 7.9ریکارڈ کی گئی
راولپنڈی میں 11.5،فیصل آباد میں 8.9مثبت شرح ریکارڈ کی گئی

ٹک ٹاک پرپابندی،ہائیکورٹ کا پی ٹی اے پر اظہارِبرہمی ٹک ٹاک سے بات چیت چل رہی ہے،جلد پابندی ختم کر نے کااعلان

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ کیا پی ٹی اے ملک کو 100 سال پیچھے لے جانا چاہتی ہے؟۔

پیر کو ٹاک ٹاک پر پابندی کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سوشل میڈیا ایپس پر پابندی باہر کی دنیا میں کیوں نہیں عائد کی گئی ہیں اورکیا وفاقی حکومت نے پابندی کا حکم دیا تھا۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پالیسی کے حوالے سے میٹنگ ہوئی تھی مگر ایسا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔عدالتی استفسار پر پی ٹی اے وکیل نے بتایا کہ ملک میں 99 فیصد لوگ پراکسی کے ذریعے ٹک ٹاک استعمال کررہے ہوتے ہیں۔ اس پرعدالت نے کہا تو پھر 1 فیصد کے لیے پابندی کیوں عائد کی گئی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی اے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے اور اگر آپ بند کرنا چاہتے ہیں تو سب کچھ بند کردیں۔پی ٹی اے کے وکیل نے عدالتی فیصلوں کو اپنی مجبوری بتایا توعدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اپنی کوتاہی کے لیے عدالتوں کو الزام مت دیں۔

ٹک ٹاک پرپابندی لگانےپرپی ٹی اےوکیل عدالت کومطمئن نہ کرسکے،ہائیکورٹ

عدالت نے قرار دیا کہ اگر ایسا چلتا رہا تو چیئرمین پی ٹی اے کو ذاتی حیثیت میں طلب کریں گے۔ اس پرپی ٹی اے کے وکیل نے بتایا کہ ٹک ٹاک سے بات چیت چل رہی ہے اور جلد ہی پابندی ختم کر دیں گے۔عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 20 ستمبر تک ملتوی کردی۔ایم کیو ایم رہنما میاں عتیق کی مرکزی درخواست میں فریق بننے کی درخواست بھی منظور کر لی گئی۔

دو ہفتے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی کے خلاف کیس کے تحریری حکم نامے میں کہا تھا کہ سیکریٹری آئی ٹی رپورٹ دیں کیوں کہ چند صارفین  کی خلاف ورزی کی وجہ سے معروف ایپس پرپابندی کی حکومتی پالیسی کیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا  کہ  ٹک ٹاک پر پابندی کیوں لگائی گئی،اس سلسلے میں پی ٹی اے وکیل عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔عدالتی آرڈرز پڑھنے کے بعد واضح ہوا کہ ٹک ٹاک پر پابندی کا کسی عدالت نے حکم نہیں دیا۔