All posts by Daily Khabrain

خواتین کیساتھ پیش آنیوالے افسوسناک واقعات

نگہت لغاری
بدلتے وقت کے ساتھ محاوروں کی ہئیت ترکیبی بھی بدلتی جا رہی ہے۔ ایک محاورہ ہے ”لذتِ کام و دہن“ آج کل اِس محاورے کی ہئیت ترکیبی کچھ یوں مرتب کر لی گئی ہے۔ یعنی ”لذتِ سماعت و بصارت“ اَور اِس لذت کا سارا سامان ایک بڑی (ڈش) ٹی وی سکرین پر سجا دیا گیا ہے۔ اگر ڈِش کا حلوہ جلا بُھنا بھی ہو تو اُس کے اُوپر سجے سونے چاندی کے ورق اُسے کھا جانے کی ایسی ترغیب مہیا کرتے ہیں کہ ناظرین جوشِ شوق میں ساری ڈش ہی اپنے سامنے کھینچ لیتے ہیں اَور اُس وقت تک نہیں چھوڑتے (یعنی ٹی وی سے اپنی نظریں نہیں ہٹاتے) جب تک ڈش کو چاٹ نہ لیں۔ پھر ڈکار مارتے ہوئے گھر سے باہر نکلتے ہیں اَور ڈش کی عطا کی ہوئی طاقت کو باہر نکلتے ہی سامنے آئی کسی خاتون یا معصوم بچے، بچی پرصرف کر دیتے ہیں۔ ترغیب کے کئی طریقے ہیں اگر ترغیب طاقتور نہ ہوتی تو تاجر اپنی اشیاء کی فروخت کے لئے لاکھوں روپے خرچ نہ کرتے اور ماڈلز اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر اِن اشتہاروں کا حصہ نہ بنتیں۔
ملک کی موجودہ صورتحال کے بیان میں جس طرح منفی طور پر مبالغہ آرائی کی جاتی ہے اور عوام کے حوصلے پست کئے جاتے ہیں یہ باقاعدہ ایک جاندار جرم ہے کیا مبالغہ آرائی کرنے والے صحافی پچھلے (ملکی) کرایہ داروں کے جرائم سے آشنا اَور آگاہ نہیں ہیں گھر کے جو دروازے کھڑکیاں اَور فرش کی اینٹیں تک اُکھاڑ کر لے گئے ہیں اَور اُلٹا ایک انتہائی ایماندار اَور باوفا خاتون پر اینٹیں سمگل کرنے کا الزام اِس لئے لگا دیا کہ وہ ایک ایسے سیاستدان کی بیوی تھی جو آنے والے وقت میں اِن لوگوں کو حکومت سے ہٹا سکنے کی پوزیشن میں آ رہا تھا۔ آج کل خان صاحب عوام سے براہ راست گفتگو فون پر کر رہے ہیں ہر کالر Caller اپنے اپنے مسائل بیان کرتا ہے کبھی کسی Caller نے وزیراعظم بے چارے سے یہ پوچھا ہے کہ سَر آپ کو ملک میں کیا کیا مسائل درپیش اَور ہم اِس سلسلے میں آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ شاید عمران خان صاحب کا ایک ہی جواب ہو گا آپ کا بہت بہت شکریہ۔بس میرے مسئلے کا حل صرف آپ کا حوصلہ اَور استقامت ہے۔
بہرحال بات شروع کرتے ہیں نور مقدم سے۔ سب سے پہلے تو یہ تجویز عدالت اور حکومت کے سامنے رکھ رہی ہوں کہ ظاہر جعفر جیسے قاتلوں کو عدالت کے الجھاوے میں ڈالنا ہی نہیں چاہئے ایک قاتل کا قتل اپنی مکمل تفصیل اور شواہد کے ساتھ ثابت ہو چکا ہے اس کیس میں تو ایک دن کی بھی تاخیر یا کارروائی نہیں ہونی چاہئے ایسے بدمعاش اور سفاک قاتل کی پھانسی مقدم ہونی چاہئے۔ اَور بس……اَب آتے ہیں اُس قتل کی داستان کی طرف بات صرف اتنی سی ہے کہ نُور مقدم اَور ظاہر جعفر دونوں اعلیٰ خاندانوں کی آنکھوں کے نور اَور چراغ تھے دونوں میں دوستی تھی اَور وہ یورپی معاشرے کی طرز پر Living Relation Ship میں تھے دوچار مہینوں سے دونوں کے آپس کے تعلقات کشیدہ تھے۔ ظاہر نے باطن میں ایک سازش سوچی اَور نور مقدم کو یہ کہہ کر اپنے گھر بلوا لیا کہ وہ اِس کی جدائی کے غم میں ملک سے باہر جا رہا ہے اَور وہ اِسی رات جانے سے پہلے اُسے ملنا چاہتا ہے۔ نور بی بی فوراً اُس کے پاس پہنچی دونوں نے فائیو سٹار ہوٹل سے کھانا منگوا کر نوش کیا اَور پھر گپ شپ کے دوران کوئی تلخی ہوئی اور ظاہر نے اپنے آپ کو مصر کا بااختیار ظاہر شاہ سمجھتے ہوئے نورکا سَر تن سے اس طرح جدا کر دیا جس طرح اپنے سامنے پڑی پلیٹ میں پڑے سٹیک مِیٹ کو چُھری سے کاٹ کاٹ کر کھا رہا تھا ایسے دل لگی کے معمولات تو امیر لوگوں کے گھروں میں آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی ملازمہ کٹ گئی کبھی کوئی گرل فرینڈ‘ پھر والدین اپنے معصوم بچوں کی اِن معصوم حرکتوں کو دولت کے انبار میں زندہ دفن کر دیتے ہیں۔
اَب قارئین! ذرا سانس لیں میں نے ماضی میں مختاراں کیس کے حوالے سے ایک کالم لکھا تھا کہ آج کل امریکہ انسانی حقوق کی حفاظت کے لئے افغانستان اور عراق پر کارپٹ بمباری کر رہا ہے لہٰذاپاکستان کو الرٹ رہنا چاہئے کیونکہ وہ مختاراں مائی کی خاطر کِسی بھی وقت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے کیونکہ یہ معاملہ انسانی حقوق کے زُمرے میں آتا ہے۔ اَب آتے ہیں موٹر وے حادثے کی طرف۔ ایک اکیلی خاتون آدھی رات کو اپنی گاڑی کا دانا پانی چیک کئے بغیر اپنے سوئے ہوئے تین بچوں کو گاڑی میں ڈال کر کِسی رشتہ دار کو ملنے موٹر وے پر آ نکلی۔ جب گاڑی بھوک سے نڈھال ہو کر رُک گئی تو اُس نے پولیس کو فون کیا کہ میں فلاں جگہ اِس صورتحال میں ہوں اکیلی ہوں میرے ساتھ کوئی مرد نہیں وغیرہ وغیرہ۔ مَرد پولیس اہلکار فوراً اُس خاتون کے پاس حاضر ہوئے۔ ظاہر ہے پولیس کا کام ہی مدد کرنا ہے وہ فوراً اپنی مردانہ مدد دینے کے لئے خاتون کے پاس آناً فاناً پہنچ گئے اَور پھر کہانی کا اگلا حصہ یہ ہے کہ پھر میڈیا نے پورے ملک کے ناظرین کو موٹر وے پر دھکیل دیا۔ جُزئیات نگاری کی ایسی ایسی تفصیلات سامنے آئیں کہ اصل مقدمہ داخل دفتر ہو گیا اور میڈیا پر ہُن برس گیا۔
(کالم نگارانگریزی اوراردواخبارات میں لکھتی ہیں)
٭……٭……٭

این سی او سی کا سکھ یاتریوں کیلئے کرتار پور دربار کھولنے کا فیصلہ

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی و سی) نے سکھ یاتریوں کو بابا گرو نانک دیو جی کی آئندہ ماہ ہونے والی برسی کے موقع پر مذہبی تقریبات میںشرکت کے لیے گوردوارا دربار صاحب کرتار پور آنے کی اجازت دے دی۔

رپورٹ کے مطابق این سی او سی کے اجلاس میں متفقہ طور پر کووِڈ 19 کے سخت پروٹوکولز کے تحت سکھ یاتریوں کو آئندہ ماہ کرتار پور کا دورہ کرنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہاں یہ بات مدِ نظر رہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کی وجہسے انڈیا 22 مئی سے 12 اگست تک ’سی‘ کیٹیگری میں تھا اور وہاں سے آنے والے افراد بشمول سکھ یاتریوں کو خصوصی اجازت کی ضرورت تھی۔

تاہم اب مکمل ویکسینیٹڈ افراد کو سرٹیفکیٹ کے ہمراہ پاکستان میں داخلے کی اجازت ہوگی جس کے لیے انہیں 72 گھنٹوں سے کم وقت میں کروائے گئے پولیمرس چین ری ایکشن (آرٹی-پی سی آر) ٹیسٹ کی رپورٹ دکھانی ہوگی۔

اس کے علاوہ ایئرپورٹس پر ریپڈ اینٹی ایجن ٹیسٹ بھی کیا جائے گا جس کا نتیجہ مثبت آنے کی صورت میں مذکورہ فرد کو پاکستان میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

دوسری جانب این پی آئیز کے مطابق دربار میں ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ 300 افراد کو داخل ہونے کی اجازت ہوگی۔

وزارت صحت کے عہدیدار کے مطابق پاکستان نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 3 کیٹیگریز متعارف کروائی تھیں۔

کیٹیگری اے میں شامل ممالک سے آنے والے افراد کے لیے لازمی کووِڈ ٹیسٹ سے استثنیٰ حاصل تھا جبکہ کیٹیگری بی کے ممالک سے مسافروں کو 72 گھنٹوں کے اندر کروائے گئے پی سی آر ٹیسٹ کامنفی نتیجہ دکھانا ضروری تھا جبکہ کیٹیگری سی سے لوگوں کی آمد پر پابندی تھی اور وہ صرف این سی او سی کی خصوصی ہدایات کے تحت ہی سفر کرسکتے تھے۔

دوسری جانب ملک میں مزید 3 ہزار 842 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے اور 75 مریض انتقال کر گئے جس کے بعد فعال کیسز کی تعداد 89 ہزار 334 ہوگئی۔

دریں اثنا چینی ویکسین کی مزید 20 لاکھ خوراکیں ہفتے کے روز چین سے پاکستان پہنچیں۔

وزارت صحت کے عہدیدار کے مطابق ویکسین کی یہ کھیپ حکومت نے خریدی تھی جو چین سے ہفتے کے روز اسلام آباد پہنچی۔

جنگلات کی حفاظت کرنیوالے ہمارے ہیرو ہیں: عمران خان

اسلام آباد: (نامہ نگار خصوصی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرسبز پاکستان کے جنگلات کے محافظ ہمارے ہیرو ہیں۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان میں کہا کہ 19 اگست کو چترال فاریسٹ میں محکمہ جنگلات میں لگی آگ بجھانے کے دوران گہری کھائی میں گر کر جاں بحق ہونے والے جمشید اقبال کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کا ٹویٹ سامنے آیا ہے۔

جس میں اُن کا کہنا ہے کہ جمشید اقبال ہمارے ہیرو ہیں، شہید جمشید اقبال چترال میں محکمہ جنگلات میں تعینات تھے۔

افغان حکومت کے پاس لڑنے کی ہمت نہیں تھی تو کیا اسکا ذمہ دار پاکستان ہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد: ( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ  افغان فوج کے پاس لڑنے کی ہمت نہیں تو کیا پاکستان ذمہ دار ہے ؟ بہت برداشت کرلیا، الزامات بند ہونے چاہئیں۔

اپنی اندرونی ناکامیوں کی ذمہ داری پاکستان پر ہرگز نہ ڈالی جائے ۔

شاہ محمود قریشی نے انٹرویو میں کہا افغانستان کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے ،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھاری قیمت ادا کی ، ہماری 80 ہزار شہادتیں ہوئیں ، ہمیں 150 ارب ڈالر سے زائد کا مالی نقصان اٹھانا پڑا،ہم نے 20 لاکھ کے قریب آئی ڈی پیز کو سنبھالا ،دنیا شاید بھول گئی کہ ہم 30 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے آ رہے ہیں جبکہ نائن الیون کا ذمہ دار بھی پاکستان نہیں

افغان سیاسی حکومت کا قیام امریکہ نے چین اور پاکستان سے مدد مانگ لی

واشنگٹن:  امریکا نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں سیاسی مفاہمت اور فریقین کے درمیان تصفیے کے لیے پاکستان اور چین ہماری مدد کریں۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے افغانستان میں سیاسی تصفیے کے لیے پاکستان اور چین سے مدد مانگ لی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا چاہتا ہے کہ تمام پڑوس ممالک افغانستان میں استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ میں مزید کہا کہ بائیڈن انتظامیہ امن کے لیے افغانستان کے تمام پڑوسیوں سے رابطے میں ہے اور ہم نے افغانستان کے تمام پڑوسیوں بالخصوص پاکستان اور چین کے سامنے یہ بات رکھی ہے کہ افغانستان میں استحکام، سلامتی اور سیاسی تصفیے کی تیاری میں ہماری مدد کریں۔ یہ سب کے مفاد میں ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ چاہے پاکستان ہو یا چین ہو یا پھر وہ ممالک ہوں جن کا افغانستان میں کوئی نہ کوئی کردار رہا ہے ، ہم نے ان سب کے ساتھ تعمیری گفتگو جاری رکھی ہے حالانکہ جب چین کی بات آتی ہے تو ظاہر ہے کہ ہمارے مفادات بہت کم ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ’ہم اس پر بات چیت جاری رکھیں گے کہ ہم خطے کے ساتھیوں کے ہمراہ افغان شہریوں کی انسانی ضروریات کے لیے کیا کر سکتے ہیں’۔ امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان سے زیادہ دیگر جگہوں سے دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہے،افغانستان میں دہشت گردی کے ممکنہ نیٹ ورک پرحملہ کرنے کی فضائی صلاحیت برقرار رکھیں گے، امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان کے حوالے سے مشترکہ پالیسی اختیار کریں گے۔ ابھی نہیں بتا سکتے کہ افغانستان میں حالات کس کروٹ بیٹھیں گے؟ تاہم انہوں نے کہا کہ جو بھی افغانستان چھوڑنا چاہتا ہے اسے واپس لائیں گے۔ امریکی صدر نے یہ بات افغانستان کی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے افغانستان میں موجود امریکی شہریوں کی تعداد سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہاں موجود امریکی شہریوں کی تعداد جاننے کی کوشش کررہے ہیں۔صدر جوبائیڈن نے کہا کہ 13ہزار سے زائد افراد کو افغانستان سے نکال چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 204امریکی صحافیوں کو بھی وہاں سے نکالا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریبا 6 ہزار امریکی فوجی اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔امریکی صدرنے کہا کہ انخلا کے دوران امریکہ مسلسل طالبان سے رابطے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کے نزدیک کسی بھی ممکنہ دہشت گرد حملے پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔صدرجوبائیڈن نے کہا کہ آئندہ ہفتے افغانستان کی صورتحال پر جی سیون ممالک کا اجلاس ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان کے حوالے سے مشترکہ پالیسی اختیار کریں گے۔امریکہ کے صدر نے واضح کیا کہ انخلا کا آپریشن مشکل اور خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اور اتحادی ممالک کے شہریوں کو افغانستان سے لانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔صدر جوبائیڈن نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے زیادہ دیگر جگہوں سے دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے واضح طور پرکہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے ممکنہ نیٹ ورک پرحملہ کرنے کی فضائی صلاحیت برقرار رکھیں گے۔ ترجمان پینٹا گان جان کربی نے کہاہے کہ ضرورت پڑی تو کابل ائیرپورٹ سے باہر جا کر امریکی شہریوں کی مدد کریں گے، 20 سال قبل القاعدہ انتہائی خطرناک تھی جسے تباہ کیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی، انھوں نے کہا کہ امریکہ کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ افغانستان میں داعش کا وجود ہے، لیکن داعش اور طالبان دشمنی کی حد تک آپس میں تنازعے کا شکار ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ترجمان پینٹا گان کی پریس بریفنگ میں بتایا گیا کہ طالبان سے رابطہ کر کے انہیں بتا دیا گیا ہے کہ جن افراد کے پاس امریکہ سفر کرنے کی ضروری دستاویزات ہوں انھیں کابل ائیر پورٹ تک آنے دیا جائے۔ امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان ترجمان جان کربی نے بتایا کہ امریکہ یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ اپنے شہریوں کی ہر صورت مدد کرے اور اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔بقول ان کے اس بات میں شک کی گنجائش نہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم کابل ایئرپورٹ سے باہر جا کر اپنے شہریوں کی مدد کریں گے۔محکمہ دفاع کے ترجمان نے واضح کیا کہ اب تک اس ضمن میں طالبان ہماری ہدایات پر عمل کر رہے ہیں، اور ہمیں اس کے برعکس کوئی شکایت نہیں ملی۔ کچھ غیر مصدقہ شکایات ایسی بھی سنی گئی ہیں کہ کچھ افراد کو روکا گیا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں پینٹاگان کے ترجمان نے کہا کہ 20 سال قبل القاعدہ انتہائی خطرناک تھی جسے تباہ کیا جا چکا ہے۔ ساتھ ہی، انھوں نے کہا کہ امریکہ کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ افغانستان میں داعش کا وجود ہے، لیکن داعش اور طالبان دشمنی کی حد تک آپس میں تنازعے کا شکار ہیں۔پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے بتایا کہ امریکی فورسز نے ایئرپورٹ کے احاطے کے باہر سے کچھ امریکی شہریوں کو فضائی ذریعے سے اندر پہنچانے میں مدد فراہم کی۔ روس کے صدرولاد میر پیوٹن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے طالبان سے تعلقات کے حوالے سے اشارے دیئے ہیں۔روسی صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکمرانی حقیقت ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا اہم ہے۔ادھر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اعلان کیا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو برطانیہ طالبان کیساتھ کام جاری رکھے گا۔علاوہ ازیں چین نے کہا ہے کہ انسانی المیہ اور خانہ جنگی روکنا ہی مہاجرین کے مسئلے کا بنیادی حل ہے۔ عالمی برادری کی اولین ترجیح افغانستان کے تمام دھڑوں کو متحد کرنا اور بات چیت کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے۔

حکومت نے ٹیکس نہ دینے والے ڈیڑھ کروڑ افراد کا سراغ لگا لیا

ملتان (جنرل رپورٹر)  پی ٹی آئی کی حکومت نے نادرا کے تعاون سے ڈیڑھ کروڑ ایسے افراد کا سراغ لگالیا ہے جوقابل ٹیکس آمدن ہونے کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ آئے روز جائیدادوں کی خریدو فروخت کرتے ہیں۔ ان کے بیرون ملک دورے، اعلیٰ تعلیمی اداروں میں بچوں کی تعلیم،گاڑیاں اور گھریلو اخراجات لاکھوں میں ہیں مگران کا شمارنان فائلر میں ہوتا ہے۔ ایف بی آر کے پاس ٹیکس پیئر ز کی تعداد72لاکھ ہے۔ جوانہوں نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے اکٹھی کی ہے۔ ایف بی آرحکام نے دعویٰ کیاہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کی مد د سے کسی بھی شہری کی 80 سے 90 فیصد آمدن کادرست اندازہ لگانے کی پوزیشن میں ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد ایف بی آرٹیکس نادہندگان کے دروازے کھٹکھٹانے جارہاہے اوراس تاثر کو بھی ختم کیا جا رہا ہے کہ ایف بی آر عام افراد کو ہراساں کر رہا ہے۔ چنانچہ حکومت نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی سی اے پی) سے 1500آڈیٹرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ جوسلیکٹڈ افراد کے اکاؤنٹس اور گوشواروں کاآڈٹ کریں گے۔ افغانستان میں ہی طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کوامید ہے کہ نہ صرف سنٹرل ایشین ریاستوں تک رسائی آسان ہوجائے گی بلکہ پاک افغان دوطرفہ تجارت کو بھی فروغ ملے گا کیونکہ سابق افغان حکومت کا جھکاؤ بھارت کی جانب تھا۔ اسی طرح بھارت افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کررہاتھا۔

6ماہ کا ‘جے’ کرینہ کے ساتھ چھٹیوں پر نکل پڑا

بالی وڈ اداکارہ کرینہ کپور کا 6 ماہ کا بیٹا جہانگیرعلی خان والدہ کے ہمراہ چھٹیوں پرچلا گیا۔

6 ماہ قبل کرینہ کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی جس کے بعد ان کے بیٹے جہانگیر کے نام پر بھی تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔

اس سے قبل بڑے بیٹے تیمور علی خان کے نام پر بھی بھارت میں ہنگامہ مچا تھا۔

ان تنازعات کے بعد اب کرینہ کپور فیملی کے ہمراہ مالدیپ میں چھٹیاں منانے پہنچی ہیں۔

نوازشریف اور پارٹی کے نظریے سے آپ کی مثالی وابستگی پر ہمیں فخر ہے، شہبازشریف

پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے  پارٹی کے عہدیداروں سے کہا کہ نواز شریف اور پارٹی کے نظریے سے آپ کی مثالی وابستگی پر ہمیں فخر ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی زیرصدارت پارٹی کی بلوچستان شاخ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں بلوچستان میں پارٹی کی تنظیم سازی اورمستقبل کی سرگرمیوں سے متعلق امور پر غور کیاگیا ۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے قائم مقام صدر جمال شاہ کاکڑ نے پارٹی تنظیمی امورسے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی۔

 شہبازشریف نےپارٹی کے عہدیداروں اور کارکنان کے جذبے، لگن اور پارٹی سے نظریاتی وابستگی کو سراہا۔

اجلاس میں خواجہ سعد رفیق، سردار ایاز صادق سمیت دیگر رہنما بھی شریک تھے۔

شاہ محمود کا روسی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف  سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

ٹیلیفونک رابطے میں وزرائےخارجہ نے دوطرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر گفتگو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھاکہ پرامن اور مستحکم افغانستان پورے خطے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستان نے ہمیشہ افغان امن عمل کی حمایت کی۔

ان کا کہنا تھاکہ پاکستان اور روس نے “ٹرائیکا پلس” کا حصہ ہونے کے ناطے افغان امن کیلئے بھرپورکردار ادا کیا، افغانوں کی سکیورٹی اور ان کے حقوق کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھاکہ جامع سیاسی تصفیے کے ذریعےافغانستان میں دیرپا قیام امن کی راہ ہموارکی جاسکتی ہے۔

دونوں ممالک کے وزرائےخارجہ نے افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

چاندی کا تمغہ اور ’سونے کا دل‘ رکھنے والی خاتون کھلاڑی

چاندی کا تمغہ اور ’سونے کا دل‘ رکھنے والی خاتون کھلاڑی
ماریہ آندرجیک نے بچے کے علاج کے لیے اولمپکس میں جیتاتمغہ فروخت کر دیا
مارکیٹ چین ’ابکا‘ نےتمغے کی بولی ایک لاکھ 25 ہزارڈالرمیں جیت لی
رقم سے 8ماہ کےبچے کو دل کی سرجری کروانے میں مدد ملے گی