All posts by Khabrain News

روس کو اسلحہ فراہم کیا تو قیمت چکانا پڑے گی،امریکہ کی شمالی کوریا کو دھمکی

واشنگٹن: وائٹ ہاؤس نے شمالی کوریا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ روس کو اسلحہ فراہم کیا تو قیمت چکانا پڑے گی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے خبردار کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا نے روس کو یوکرین کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ہتھیار مہیا کیے تو اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امریکی صدر جوبائیڈن کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا کہ اسلحہ کی فراہمی پر شمالی کوریا اور روس کو بین الاقوامی برادری میں اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کم جونگ اور پیوٹن کی ہونے والی ممکنہ ملاقات میں دونوں رہنما روس کو آرٹلری گولے اور اینٹی ٹینک میزائل بھیجنے پر تبادلہ خیال کریں گے جس کے بدلے ماسکو کی جدید ٹیکنالوجی مصنوعی سیاروں اور ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوزوں پر بات چیت ہو گی۔

ملک بھر میں آج 58ویں یوم دفاع بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے

 راولپنڈی: صدر مملکت، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سروسز چیفس اور افواج پاکستان کی جانب سے 58ویں یوم دفاع و شہداء کے موقع پر شہداء اور ان کے لواحقین کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا یے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سروسز چیفس کا کہنا ہے کہ 6 ستمبر 1965ء کو حق و باطل کے معرکے نے یہ ثابت کیا کہ غیور قوم اپنی سرحدوں کی حفاظت کر نے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ اس روز مادرِ وطن کے ہزاروں بیٹوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے  پاک سرزمین کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔

سروسز چیفس نے کہا کہ آج پوری قوم اُن کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ہم بطور قوم اُن تمام شہداء کی قربانیوں کے مقروض ہیں جنہوں نے پاکستان کے پرچم کی سربلندی کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے، پاکستان کی مسلح افواج ہر طرح کے اندرونی و بیرونی خطرات کیخلاف دفاع وطن کیلئے پرعزم ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انشاء اللہ، پاکستان کونقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم دفاع کے حوالے سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ قوم اور مسلح افواج نے58 سال قبل دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا، مادرِ وطن کے بہادر بیٹوں نے دشمن کے خلاف بے خوفی سے لڑتے ہوئے تاریخ کا روشن باب رقم کیا۔

انہوں نے کہا کہ تمام شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے دفاعِ وطن کا فریضہ ادا کرتے ہوئے جانیں نچھاورکیں۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں آج یوم دفاع بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ منایا جائے گا۔

یوم دفاع پاکستان کی تاریخ

یاد رہے کہ چھ ستمبر 1965 کو بھارت نے پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی کوشش کی تھی جس پر مسلح افواج نے دشمن کے دانت کھٹے کرتے ہوئے اُسے شکست فاش دی تھی۔

پاکستان سے کئی گنا بڑے ملک نے افرادی تعداد میں کئی گنا زیادہ لشکر اور دفاعی وسائل کے ساتھ بغیر کسی اعلان کے رات کے اندھیرے میں پاکستان پر حملہ کیا۔ جس پر بہادر فوجی جوانوں نے جواں مردی اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے بھارت کے عزائم کو ایسا خاک میں ملایا کہ اُسے عالمی سطح پر بھی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

اس معرکے میں فوج کے ساتھ عوام بھی بھارت کے خلاف میدان میں آگئے تھے اور اپنے وطن کی حفاظت کیلیے سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوئے تھے۔ پاکستان میں ہر سال 6 ستمبر کے دن کو قومی جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہوئے وطن پر مر مٹنے کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے، اس حوالے سے سرکاری و نجی سطح پر تقاریب کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔

آرمی چیف کا ازبکستان کا دورہ، ازبک صدر اور وزیر دفاع سے ملاقاتیں

راولپنڈی: (خبریں ڈیجیٹل) آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ازبکستان کا دورہ کیا، ازبک صدر، وزیر دفاع، چیئرمین و سیکرٹری آف سکیورٹی سروسز سے ملاقاتیں کیں۔

پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا دو روزہ ازبکستان دورے کا مقصد دونوں ممالک میں فوجی اور دفاعی تعاون بڑھانا ہے، دورے کے دوران آرمی چیف نے ازبک صدر سے ملاقات کی، آرمی چیف نے وزیر دفاع اور چیئرمین و سیکرٹری آف سکیورٹی سروسز سے بھی ملاقاتیں کیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے ازبک فوج کی معیاری تربیت اور تیاریوں کو سراہا، آرمی چیف نے ازبک فوج کی علاقائی سلامتی امور پر آگاہی کی بھی تعریف کی، وزارت دفاع پہنچنے پر آرمی چیف کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا گیا، آرمی چیف کو چاق وچوبند دستے نے سلامی پیش کی۔

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا آرمی چیف نے تاشقند میں شہداء کے میموریل کمپلیکس پر پھول بھی چڑھائے۔

اداکارہ سجل علی کو نئے فوٹوشوٹ پر تنقید کا سامنا

لاہور: (خبریں ڈیجیٹل) پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ سجل علی کو نئے فوٹو شوٹ پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اداکاہ سجل علی کا ایک فوٹو شوٹ گردش کررہا ہے جو پرستاروں اور مداحوں کی تعریفیں سمیٹنے میں ناکام ہوگیا۔

تصاویر میں اداکارہ سجل علی کو نیٹ بلاؤز کے ساتھ سرخ لباس زیب تن کیے دیکھا جاسکتا ہے، تصاویر منظر عام پر آتے ہی شوبز سے وابستہ نامور شخصیات نے تعریفوں کے پُل باندھ دیے وہیں کچھ ناقدین کی جانب سے سجل علی کو انکے بولڈ لُک پر شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ “کچھ اداکارائیں پہلے مہذب تھیں لیکن اب انہوں نے بولڈ لباس پہننا شروع کر دیا ہے اور سجل علی بھی ان میں سے ایک ہیں”۔

ایک اورسوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ “اب اداکارائیں بھی اس مہنگائی میں مالی معاملات کو سنبھالنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں اور بھاری بل ادا کرنے کے لیے وہ یہ بولڈ فوٹو شوٹ کرانے پر راضی ہو گئی ہیں”۔

نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد: (خبریں ڈیجیٹل) نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے ریمارکس میں کہا ہے کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اب سوموٹو نہیں لیتے، میری ریٹائرمنٹ قریب ہے، ریٹائرمنٹ سے قبل شارٹ اور سویٹ فیصلہ دے دیں گے۔

نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ بنچ کا حصہ تھے۔

عدالتِ عظمیٰ میں چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے، جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کہاں ہیں؟، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے عدالت کو بتایا کہ اٹارنی جنرل بیرون ملک ہیں، ان کا جواب جمع کرا دوں گا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل نے نہیں آنا تھا تو عدالت کو بتا دیتے، اٹارنی جنرل کے نہ آنے کا معلوم ہوتا تو معمول کے مقدمات کی سماعت کرتے، ان کی وجہ سے صبح ساڑھے 9 بجے کیس مقرر کیا تھا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ تحریری گزارشات عدالت کو جمع کروا دی ہیں۔

’’مئی تک کن شخصیات کے نیب ریفرنس واپس ہوئے ریکارڈ پر آ چکا‘‘

چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے نیب کی رپورٹ پڑھی ہے؟ نیب نے مئی تک واپس ہونے والے ریفرنسز کی وجوہات بتائی ہیں، ریفرنس واپسی کی وجوہات سے اندازہ ہوتا ہے کہ قانون کا جھکاؤ کس جانب ہے، مئی تک کن شخصیات کے ریفرنس واپس ہوئے سب ریکارڈ پر آ چکا ہے، نیب قانون کے سیکشن 23 میں ایک ترمیم مئی دوسری جون میں آئی، مئی سے پہلے واپس ہونے والے ریفرنس آج تک نیب کے پاس ہی موجود ہیں، نیب کی جانب سے ان سوالات کے جواب کون دے گا؟

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ترامیم کے بعد بہت سے زیرِ التواء مقدمات کو واپس کر دیا گیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ان ترامیم میں کوئی ایسی شق ہے جس کے تحت مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں؟ ان ترامیم کے بعد نیب کا بہت سا کام ختم ہو گیا۔

وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ترامیم کے تحت اگر کیس بنتا ہو تو جائزے کے بعد کیسز دوسرے فورمز کو بھجوائے جائیں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب کے پاس مقدمات دوسرے فورمز کو بھیجنے کا کوئی قانونی اختیار ہے؟

وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ ترامیم کے بعد ان مقدمات کو ڈیل کرنے کا اختیار نیب کے پاس نہیں، نیب کے پاس مقدمات دوسرے اداروں کو بھجوانے کا بھی کوئی قانونی اختیار نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ مقدمات نیب سے ختم ہو کر ملزمان گھر چلے جائیں، نیب کے دفتر میں قتل ہو گا تو کیا معاملہ متعلقہ فورم پر نہیں جائے گا؟ مقدمات دوسرے فورمز کو بھجوانے کے لیے قانون کی ضرورت نہیں، جو مقدمات بن چکے وہ کسی فورم پر تو جائیں گے، دوسرے فورمز کو مقدمات بھجوانے کا اختیار نہیں مل رہا، اس کا نیب سے پوچھیں گے۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ابھی تک نیب کے مقدمات واپس ہونے سے تمام افراد گھر ہی گئے ہیں، یہ بھی کہا گیا کہ نیب ترامیم وہی ہیں جن کی تجویز پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں دی گئی تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے آپ کے کنڈکٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن بنیادی انسانی حقوق سے ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ کہا گیا نیب ترامیم سے میں ذاتی طور پر فائدہ اٹھا چکا ہوں، اگر میں نے نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانا ہوتا تو اسی قانون کے خلاف عدالت نہ آتا، چیئرمین پی ٹی آئی نیب ترامیم سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، ترامیم کے تحت دفاع آسان ہے لیکن نیب کو بتا دیا ہے کہ فائدہ نہیں اٹھائیں گے، نیب کو جمع کرایا گیا بیان بھی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ زیرِ التواء تحقیقات اور انکوائریاں ترامیم کے بعد سرد خانے کی نذر ہو چکی ہیں، تحقیقات کی منتقلی کا مکینزم بننے تک عوام کے حقوق براہِ راست متاثر ہوں گے۔

وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو بھی 62 ون ایف کے ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے، منتخب نمائندے اپنے اختیارات بطور امین استعمال کرتے ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو نیب قانون میں استثنیٰ نہیں ہے، آرٹیکل 209 کے تحت صرف جج بر طرف ہو سکتا ہے ریکوری ممکن نہیں۔

وکیل خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جج بر طرف ہو جائے تو نیب کو کارروائی کرنی چاہیے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ریاستی اثاثے کرپشن کی نذر ہوں، اسمگلنگ یا سرمائے کی غیر قانونی منتقلی ہو، ان سب پر کارروائی ہونی چاہیے، قانون میں ان جرائم کی ٹھوس وضاحت نہ ہونا مایوس کن ہے، عوام کو خوش حال اور محفوظ بنانا ریاست کی ذمے داری ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ فوجی افسران کو نیب قانون سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ فوجی افسران کے حوالے سے ترمیم چیلنج نہیں کی، فوجی افسران کے خلاف آرمی ایکٹ میں کرپشن پر سزائیں موجود ہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سزائیں تو سول افسران اور عوامی عہدے داروں کے خلاف بھی موجود ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سول سروس قانون میں صرف محکمانہ کارروائی ہے، کرپشن پر فوجداری سزا نہیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا کرپٹ آرمی افسر کا عوام سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا؟ آرمی افسر فوج کے علاوہ کسی ادارے کا سربراہ ہو تو نیب قانون کی زد میں آتا ہے، کیا عجیب بات نہیں ہو گی کہ پارلیمنٹ کی ترامیم پر ریاست کہے کہ سزا کیوں کم کر دی؟

چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کا کیس ہے کہ جرم کے اجزاء کو بدل دیا گیا ہے، کیا نیب ترامیم کے ماضی سے اطلاق سے جرائم کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ آخر قانون کے ماضی سے اطلاق کا مقصد کیا ہے؟ اس کا مقصد تو یہ ہوا کہ سزا یافتہ مجرم کہے گا کہ میری سزا ختم اور پیسے واپس کرو۔

جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا پارلیمنٹ کے پاس ماضی سے اطلاق کی قانون سازی کا اختیار نہیں ہے؟ کیا سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو کہہ سکتی ہے کہ آپ نے چالاکی اور بد نیتی پر مبنی قانون بنایا؟ سپریم کورٹ کے پاس اگر پارلیمنٹ کی قانون سازی چھیڑنے کا اختیار نہیں تو اس کے ساتھ چلنا ہو گا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پارلیمنٹ کو سب کچھ کرنے کی اجازت نہیں ہے، پارلیمنٹ ماضی سے اطلاق کا قانون بنا کر جرم ختم نہیں کر سکتی، ایسے تو 1985ء میں سزا پانے والا مجرم آ کر کہے گا کہ میری سزا نہیں رہی اور دوبارہ ٹرائل کرو۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آئین کی وہ کون سے شق ہے جو ماضی سے اطلاق کی قانون سازی سے پارلیمنٹ کو روکتی ہے؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ قانون کا ماضی سے اطلاق ہو گا لیکن جو کیسز نمٹ گئے وہ نہیں کھلیں گے، نیب کے قانون کو واضح ہونا چاہیے تھا، جب قانون واضح نہ ہو تو اس کا حل کیا ہوتا ہے؟ کیا مبہم قانون قائم رہ سکتا ہے؟

جسٹس منصور علی شاہ نے پھر سوال اٹھایا کہ چیف جسٹس کے سوال کو آگے بڑھاؤں تو کیا سپریم کورٹ قوانین واپس پارلیمنٹ کو بھیج سکتی ہے؟

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ پارلیمنٹ تو بہت سپریم ہے، اگر پارلیمنٹ کو قوانین پر دوبارہ غور کی درخواست کریں تو بیچ کے وقت میں کیا ہو گا؟ اگر عدالت کو قانون میں سقم مل جائے تو کیا پارلیمنٹ کو واپس بھیجیں؟

جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ سقم شدہ قانون کو دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کو کیسے بھیج سکتے ہیں؟

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ عدالت خود بھی قانون کو دیکھ سکتی ہے اگر بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہوں، یہ بتا دیں کہ نیب ترامیم سے کون سا بنیادی حق متاثر ہوا؟

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ پبلک پراپرٹی میں کرپشن سے ملک کے ہر شہری کا بنیادی حق متاثر ہوتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے حارث کرپشن کیس کو اپنے اصل دائرہ اختیار کے تحت سنا تھا، حارث کیس کرپشن کا کیس تھا اور اس کو بنیادی حقوق کے زمرے میں سنا گیا تھا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے ججز اور بیوروکریٹس کے احتساب سے متعلق پوچھا تھا۔

ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اب سوموٹو نہیں لیتے: چیف جسٹس
چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال نے کہا کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اب سوموٹو نہیں لیتے۔

مخدوم علی خان نے کہا کہ فوجی افسران سے متعلق نیب کے قانون کی توثیق سپریم کورٹ ماضی میں کر چکی ہے، ججز کے حوالے سے نیب کا قانون مکمل خاموش ہے، ریٹائرڈ ججز کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے کوئی فورم موجود نہیں، ججز ریٹائرمنٹ کے بعد 6 ماہ تک فیصلے تحریر کرتے رہتے ہیں، قانون سازوں نے جن اقدامات کو جرم قرار دیا تھا انہیں اب جرم قرار دینا ختم کر دیا تو کیا ہوا؟ قانون سازوں کو عوام کے سامنے جوابدہ ہونے دیں۔

فیصلہ محفوظ

بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترامیم کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

بجلی بلوں کے معاملے پر مالیاتی اداروں سے وعدوں پرعملدرآمد کرینگے: وزیراعظم

اسلام آباد:(خبریں ڈیجیٹل)  نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہےکہ بجلی کے معاملے پر آئی پی پیز کے ساتھ غیر منصفانہ بجلی معاہدوں پر بات چیت جاری ہے۔

اسلام آباد میں غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو  میں نگران وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بجلی بلوں کے معاملے پر مالیاتی اداروں سے وعدوں پرعملدرآمد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ غیر منصفانہ بجلی معاہدوں پر بات چیت جاری ہے اورکچھ رعایتیں لینے کی کوشش کررہے ہیں  جس کی تفصیل ابھی نہیں بتاسکتے۔

نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کے جذبات مجروح کیے بغیر مسئلے کا قلیل مدتی حل تلاش کریں گے، عوام کو مطمئن کرنے کیلئے حقائق پر مبنی فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام شعبوں کے لیے بجٹ مختص کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے، اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے معاشی اور مالی معاملات چلا رہےہیں، آئینی طور پر حکومتی نظام میں بڑی تبدیلی نہیں لاسکتے صرف مختصر مدتی اصلاحات کرسکتے ہیں جن کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ منتخب حکومت کرےگی۔

وزارت خزانہ نے بجلی بلوں میں ریلیف کا نیا پلان آئی ایم ایف کو بھیج دیا

اسلام آباد: (خبریں ڈیجیٹل) وزارتِ خزانہ نے بجلی کے بلوں میں ریلیف کا نیا پلان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو ارسال کر دیا۔

ذرائع کے مطابق آئی پی پیز کے لیے مختص اضافی رقم کو بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ بل سے اقساط وصول ہونے پر 15 ارب سے زائد کی یہ رقم واپس آئی پی پیز کے لیے مختص کی جائے گی۔

وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پلان پر وزارت خزانہ کے حکام دوبارہ بات کریں گے، نئے  پلان میں آئی ایم ایف کو بجٹ سے باہر ریلیف نہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

نگران حکومت کا بجلی بلوں میں ریلیف کا پلان رد

واضح رہے کہ اس سے قبل عالمی مالیاتی فنڈ  نے نگران حکومت کا بجلی بلوں میں ریلیف کا پلان رد کردیا تھا۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پلان میں بتایا گیا تھا کہ بجلی کے بلوں میں ریلیف سے ساڑھے 6 ارب روپے سےکم کا اثر پڑےگا، آئی ایم ایف نے پلان مسترد کرتے ہوئے 15 ارب روپے سے زائدکا اثر بتایا۔

ذرائع کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف نے 15 ارب کی مالیاتی گنجائش پوری کرنےکا پلان بھی مانگ لیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہےکہ بجلی کے بلوں میں ریلیف دینے کے لیے بجٹ سے آؤٹ نہ ہونےکی آئی ایم ایف کویقین دہانی کرائی گئی ہے، بلوں کو 4 ماہ میں وصول کرنےکے لیے بھی آئی ایم ایف سے درخواست کی گئی ہے۔

کرینہ کپور کو فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ سے نکالا گیا تھا، اداکارہ امیشا پٹیل کا انکشاف

ممبئی:  ب(خبریں ڈٰجیٹل) لاک بسٹر فلم ’غدر2‘ کی اداکارہ امیشا پٹیل نے انکشاف کیا ہے کہ بالی وڈ اسٹار کرینہ کپور کو فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ سے نکالا گیا تھا۔ 

بلاک بسٹر فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ سے بالی وڈ سپر اسٹار ہریتھک روشن کا بالی وڈ ڈیبیو ہوا تھا اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فلم میں ہیروئن کے کردار کیلئے سب سے پہلے کرینہ کپور کو آفر دی گئی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا تھا۔

ایک تازہ انٹرویو میں امیشا پٹیل نے انکشاف کیا ہے کہ کرینہ کپور نے فلم سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ راکیش روشن نے انہیں فلم سے نکال دیا تھا کیوں کہ ان کے درمیان ہم آہنگی نہیں تھی۔

اداکارہ نے بتایا کہ فلمساز راکیش روشن نے انہیں ایک شادی میں دیکھا تھا اس لئے فلم کے مرکزی کردار کیلئے انہیں آفر دی گئی۔

سنی دیول اور امیشا پٹیل کی فلم ’غدر2‘ انڈین باکس آفس پر کامیابی کے نئے سنگ میل قائم کررہی ہے اور اس کا بزنس 500 کروڑ تک پہنچ چکا ہے۔

دوسری طرف کرینہ کپور نیٹ فلکس تھرلر ’جانِ جان‘ کیلئے تیاریوں میں مصروف ہیں اور ان کی طرف سے اب تک امیشا پٹیل کے بیان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اولیول امتحان میں عالمی ریکارڈ یافتہ ماہ نور کی نواز اور شہباز شریف سے ملاقات

۔(خبریں ڈیجیٹل) جنرل سرٹیفکیٹ آف سکینڈری ایجوکیشن ( جی سی ایس ای) یا اولیول کے امتحان میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے والی برٹش پاکستانی طالبہ ماہ نور چیمہ نے لندن میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔

جی سی ایس ای میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے والی ماہ نورچیمہ والدین اور بہن بھائیوں کے ہمراہ حسن نواز کے دفتر پہنچیں۔

ماہ نور نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کی۔ سابق وزرائے اعظم نے ماہ نور کو کامیابی پر مبارکباد دی اور لیپ ٹاپ تحفے میں دیا، ان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر لیگی قائدین کا کہنا تھاکہ ماہ نور چیمہ پاکستانی عوام کا فخرہیں اور انہوں نے وطن کا نام روشن کیا، ماہ نور چیمہ کاکارنامہ پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا۔

شہباز شریف کا کہنا تھاکہ ماہ نور چیمہ کی کامیابی پرپوری قوم کو فخر ہے، جی سی ایس ای میں 34 اے گریڈ لینا قابل فخر بات ہے، امید ہے ماہ نور مستقبل میں پاکستان کا نام اور روشن کرے گی۔

انہوں نے سیاسی سوال کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہاکہ آج صرف ماہ نور سے متعلق بات ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ ماہ نور نے جی سی ایس ای کے امتحان میں 34 اے اسٹار گریڈ لےکر ریکارڈ قائم کیا ہے۔

گوادر، پاک بحریہ کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 3 اہلکار شہید

۔(خبریں ڈیجیٹل) گوادر میں پاک بحریہ کا ہیلی کاپٹر تربیتی پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا، حادثے کے نتیجے میں 2 افسران اور ایک جوان شہید ہوگیا۔

ترجمان پاک بحریہ کے مطابق گوادر میں پاک بحریہ کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا جس میں 3 اہلکار شہید ہوگئے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر دوران پرواز ممکنہ فنی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہوا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ شہدا میں 2 افسران اور ایک جوان شامل ہیں، پاک بحریہ کی جانب سے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی جانب سے پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹر حادثے پر اظہار افسوس کیا گیا۔ نگران وزیراعظم نے پاک بحریہ کے اہلکاروں کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا۔