All posts by Khabrain News

بین المذاہب مکالمہ

بازآ۔۔بازآ۔۔ہرآنچہ ہستی بازآ۔۔
گرکافرو۔گبر۔و بت پرستی بازآ۔۔
ایں درگہ ما۔۔ درگہ نومیدی نیست۔۔
صد بار اگرتوبہ شکستی۔۔باز آ۔۔
ترجمہ:’’ واپس آجا۔۔توواپس آجا۔۔توجوکوئی بھی ہے واپس آجا۔۔اگر کافر اوربت پرست بھی ہے توواپس آجا۔۔ہماری یہ درگاہ ناامیدی کی درگاہ نہیں ۔۔اگر تو سو باربھی توبہ توڑ چکا ہے ،پھر بھی واپس آجا۔۔‘‘
ابوسعید ابولخیر کے یہ اشعار حضرت جلال الدین رومی کے مزارکے صدر دروازے پر کنُدہ ہیں اور ڈاکٹر نعیم گھمن نے مہناج یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیجنز (Religions)کانفرنس میں شرکت کے بعد نقل کیے ہیں۔پروفیسر نعیم گھمن دو کتابوں کے مصنف اورگورنمنٹ شالیمارکالج لاہور میں اردو ادب کے استاد اور گہری شخصیت کے مالک ہیں ۔ان سے کوئی بائیس سال کے بعد اسی کانفرنس میں ملاقات ہوئی ۔ ایسے وقت میں جب یہ تاثر عام کہ دنیا میں خون خرابے اور فساد کی وجہ مختلف مذاہب میں ٹکراؤ اور تہذیبوںکا تصادم ہے ،بین المذاہب مکالمے کے لیے مہناج یونیورسٹی کی یہ انٹرنیشنل کانفرنس ایسا اہم ایونٹ بن گیا جس نے دنیا میں پائے جانے والے درجنوں مذاہب کے جید اسکالرزکو ایک جگہ جمع کرکے ایک دوسرے کو سننے ،سمجھنے اور پڑھنے کا موقع فراہم کردیا۔
منہاج القرآن کے ڈائریکٹر پی آر شہزاد رسول قادری کی طرف سے اس چھٹی انٹرنیشنل بین المذاہب کانفرنس کا دعوت نامہ ملا تو میں فلسطین میں شہید ہونے والے بچوں کی لسٹ ان کی عمریں اور نام دیکھ رہاتھا۔جب اسرائیل مذہب کے نام پربے گناہ اور معصوم فلسطینیوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگ رہاہے بین المذاہب مکالمے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔دوروزہ انٹرنیشنل مذاہب کانفرنس کا اہتمام ٹاؤن شپ میں واقع مہناج یونیورسٹی میں کیا گیا تھا۔اس کانفرنس میں دنیا کے تمام بڑے اور فعال مذاہب کے اہم ریسرچ اسکالرزشریک تھے۔ آسٹریا، برطانیہ،نیپال،امریکا،سری لنکا ،نائیجیریا،بھارتی پنجاب اور پاکستان سے۔مسیحیت،یہودی،سکھ،ہندو،بدھ مت،جین،سادھو اور اسلامی مندوبین کی کثیر تعداد شریک تھی۔اس کانفرنس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز مہناج یونیورسٹی ڈاکٹر حسین محی الدین کررہے تھے۔ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے چار عشرے قبل لگایا گیا یہ تعلیمی پودہ اب انٹرنیشنل یونیورسٹی کی شکل میں ایک تناوردرخت بن چکا ہے جس کی چھاؤں دوردورتک پھیل رہی ہے اور ماڈرن علوم میں ریسرچ سے نوجوان استفادہ کررہے ہیں۔ ڈاکٹر حسین محی الدین نے دنیا بھر سے کانفرنس میں شریک مہمانوں کو یونیورسٹی کے مختلف شعبوں میں جاری تحقیقی کاموں کے حوالے سے خود بریف کیا۔اس بین المذاہب مکالمے کا اہتمام سکول آف ریلیجٗس اسٹیڈیز نے کیا تھا۔
حضور اکرم ﷺ نے اپنی امت کے اختلاف کورحمت قراردیا لیکن ہم نے اس اختلاف کو مخالفت میں بدل کر زحمت بنادیاہے۔عدم برداشت ہمارے معاشرے کو کھائے جارہی ہے۔تقسیم نے ہماری روزمرہ زندگی کا حلہ ہی بگاڑ دیا ہے ۔دنیا میں اگر لوگ مذہبی بنیادوں پر دست وگریباں ہیں تو ہم یہاں فرقوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کی گردنیں ناپنے میں مصروف ہوگئے ہیں ۔دنیامیں اس وقت نوے فیصد افراد کسی نہ کسی مذہب پیروکار ہیں۔مذہب کوئی بھی ہو ۔اسلام ہو، عیسائیت ہو، بدھ ازم ہو یا یہودیت ہو، تمام مذاہب میں بہت سی اقدار مشترک ہیں۔ ایک تو دنیا کا کوئی مذہب بھی تشدد کی نہ تبلیغ کرتاہے ۔نہ تشدد کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔دوسرا تمام مذاہب ایک دوسرے کو جوڑنے کا درس دیتے ہیں۔ برائی سے روکتے اور اچھائی کا پیغام دیتے ہیں۔ اس کانفرنس میں اس عدم تشدد اورایک دوسرے کو برداشت کرنے کا عملی نمونہ دیکھنے کو ملا۔خوشگوار حیرت اس وقت ہوئی جب اسی کانفرنس کے اسٹیج سے یہودی مذہبی رہنماوں نے اسرائیل کی طرف سے جاری جارحیت کی مذمت اور فلسطینی بچوں اورشہدا سے یک جہتی کا اظہار کردیا۔شرکا نے کہا کہ یہودی ازم تو ایک طرف کوئی بھی مذہب جنگ اور پھر اس میں بے گناہوں کا خون بہانے کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام میں جنگ کے دوران خواتین اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے بلکہ حضوراکرم ﷺ نے تو جنگ کے دوران درختوں اور پودوں تک کو نقصان پہنچانے کی ممانعت فرمائی ہے ۔
کانفرنس کے ایک سیشن کے مہمان خصوصی نگران وفاقی وزیربرائے سیاحت جناب وصی شاہ تھے انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام تاثر یہ ہے کہ مذہبی حلقے انسانیت کو زمانہ غار کی طرف دھکیل رہے ہیں لیکن یہاں اس کانفرنس میں شرکاکی گفتگو عملی طورپراس تاثر کی یکسرنفی کرتی ہے۔کانفرنس کے اختتامی سیشن کے مہمان خصوصی سیکریٹری مذہبی امور پنجاب طاہر بخاری تھے ۔انہوں نے دنیا بھر میں قیام امن کے لیے اسلام کے خانقاہی نظام کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔اس عظیم الشان کانفرنس میں آخری خطاب آرچ بشپ لاہورسبسٹین فرانسس نے کیا۔ انہوں نے کمال کی بات کی کہ جب ہم اپنے بچوں کو یہ سکھاتے ہیں کہ اگر کوئی تم سے لڑائی کرے توتم اس کو اسی طر ح منہ توڑ جواب دے کر گھر آنا تو اس سے ہمارے معاشرے میں سختی بڑھتی جاتی ہے ۔اس سے تشدد کے رجحان کو فروغ ملتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب اور اس کی تعلیمات ایسی تمام اقسام کے تشدد سے منع کرتی ہیں۔
کانفرنس کے آخرمیں اختتامی دعا کا مرحلہ آیا تو تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو باری باری اسٹیج پر آکر اپنے مذہبی عقیدے اور طریقہ کار کے مطابق دعاکرانے کی دعوت دی گئی ۔شرکا نے ہاتھ اٹھائے اورمسیحی، یہودی،بدھ مت ،ہندو اور سکھ رہنماؤں نے دعا کرائی۔اس دعا میں سب نے مشترکہ طورپردنیا میں امن کی فریاد کی ۔جنگوں کے خاتمے کی دعا کی۔پرامن بقائے باہمی کی بات کی۔ایک دوسرے کے مذاہب کو سمجھنے اور مشترکات کو فروغ دینے کی بات کی۔جب تمام مذاہب کے لوگ یہ دعائیں کررہے تھے تو میں ایک بار پھر تصورمیں فلسطین میں تھا۔مجھے وہاں وہ بچے دکھائی دے رہے تھے جن کا قصور صرف غزہ میں پیدا ہونا ہے۔وہ بچے جنہوں نے نہ ابھی دنیا دیکھی نہ کسی مذہب کی بنیادپرتشدد میں پڑے۔کانفرنس میں جنگ بندی کی دعائیں تھیں تو میں ان شہید بچوں کے چہروں پر پوری انسانیت کے لیے شکوہ دیکھ رہا تھا۔وہ بچے شکایت کناں تھے کہ اگر تمام مذاہب ہی امن کا درس دیتے ہیں کہ توپھر اسرائیل کس مذہب پر کاربند ہے؟یوں یوں انٹرنیشل ریلیجنز کانفرنس اور دعائیں اختتام کی طرف بڑھ رہی تھیں میں فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کاتصورکرکے بے بسی کے سمندرمیں غوطہ زن ہورہا تھا ۔دعاؤںکو سن کر نوابزادنصراللہ خان مرحوم کے یہ اشعار بھی کانوں میں بتدریج بلند ہورہے تھے کہ ۔
کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے
دوحق وصداقت کی شہادت سرمقتل
اٹھوکہ یہی وقت کافرمان جلی ہے

اڈیالہ جیل میں قید چیئرمین پی ٹی آئی کی طبیعت ناساز

چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل میں طبیعت ناساز ہوگئی جس پر ڈاکٹرز کی ٹیم نے بیرک میں پی ٹی آئی چیرمین کا چیک کیا۔

جیل ذرائع کے مطابق سائفر کیس میں اڈیالہ جیل میں قید چیرمین پی ٹی آئی کی طبیعت ناساز ہوگئی اور ڈاکٹر کی ٹیم نے ان کا طبی معائنہ کیا۔

جیل ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی چیرمین کو رات گئے معدے میں درد کی تکلیف تھی، جس پر ڈاکٹرز کی ٹیم نے بیرک میں پی ٹی آئی چیرمین کا چیک کیا، اور اس دوران جیل انتظامیہ بھی موجود تھی۔

جیل ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کی جانب سے پی ٹی آئی چیرمین کو ادویات بھی فراہم کی گئیں۔

نواز شریف کو وزیراعظم نہیں بننے دوں گا، آصف زرداری

نواب شاہ(رپورٹ) سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ میں نے پی ڈی ایم بنا کر شہباز شریف کو وزیراعظم بنایا لیکن انہوں نے عوام کے لئے کام نہیں کیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے زرداری ہاؤس میں عمائدین شہر کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اب نواز شریف کو وزیراعظم نہیں بننے دوں گا اب ملک کا آئندہ وزیراعظم پیپلز پارٹی کا ہو گا۔

آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مسلسل انتخابی کامیابیاں عوام کے اعتماد کا مظہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سے کشمیر تک پیپلز پارٹی ایک زندہ حقیقت ہے، عوام کی حمایت سے پیپلز پارٹی حکومت قائم کرے گی۔

فیض آباد دھرنا کیس: پوچھ رہے ہیں ماسٹر مائنڈ کون ہے، چیف جسٹس

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہم پوچھ رہے ہیں فیض آباد دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون ہے۔

سپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت جاری ہے، چیف جسٹس کی سربراہی تین رکنی بینچ سماعت کررہا ہے، بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہرمن اللہ شامل ہیں۔

عدالتی حکم پرفیض آباد دھرنا کیس میں اٹارنی جنرل نے عملدرآمد رپورٹ جمع کروا دی، جب کہ درخواست گزارشیخ رشید نےنظرثانی درخواست واپس لینےکیلئےرجوع کررکھا ہے۔

اٹارنی جنرل نے بھی استدعا کی کہ وزارت دفاع کی نظرثانی درخواست واپس لیناچاہتے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ابصارعالم کہاں ہیں۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ابصارعالم راستے میں ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابصارعالم نے وزارت دفاع کےملازمین پرسنجیدہ الزامات عائد کیے ہیں۔جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تحقیقات کیلئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کردی ہے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی مسترد کردی اور فیض آباد دھرنے کے معاملے پر انکوائری کمیشن تشکیل دینے کی تجویز دے دی۔ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو 2 دن میں آگاہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

عدالت نے چیئرمین پیمرا کو فوری طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔

سابق کپتان نے ایک بار پھر ذکا اشرف کو تنقید کا نشانہ بناڈالا

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ایک بار پھر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف کو تنقید کا نشانہ بناڈالا۔

مقامی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں سابق کپتان اور چیف سلیکٹر شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف خود لوگوں کو اپنے خلاف باتیں کرنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔

سابق کپتان نے کہا کہ ذکاء اشرف کسی کلب کے چیئرمین نہیں ہیں، وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین ہیں، انہیں بہت سی چیزوں کو دیکھنا چاہیے، آپ اُلٹا میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو فون کر کے کہتے ہیں لوگ میرے بارے باتیں کررہے ہیں، خدا کے لئے آپ چیئرمین ہو، آپ ڈیلیور کرو، کام کرو۔

شاہد آفریدی نے چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی کو کام سے کام رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آپکی ٹیم ورلڈکپ کھیلنے گئی ہوئی ہے آپ میڈیا پر بیان بازی کررہے ہیں، خدا کیلئے اپنی کرسی کو مضبوط کریں۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، درآمدات کم، محصولات، سرمایہ کاری زیادہ، معاشی اشاریے مثبت

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے ملک کو درپیش اقتصادی بحران سے نکالنے کیلیے اقدامات کے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) سے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی جبکہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے ریونیو میں25 فیصد اضافہ ہوا البتہ ترسیلات زر میں 19.8فیصد، برآمدات میں5فیصد اور درآمدات میں23.8 فیصد کمی واقع ہوئی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق پٹرول، ڈیزل مزید سستا، روپیہ تگڑا ہونے سے مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔ رواں ماہ مہنگائی 27 سے 29 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ جولائی تا ستمبرایف بی آرکا ریونیو2 ہزار42 ارب رہا، نان ٹیکس ریونیو114.7فیصد بڑھ گیا، تین ماہ میں453 ارب روپے جمع ہوئے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں58 فیصد کمی ہوئی جو 90کروڑ ڈالر پر آ گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا جو تین ماہ میں40کروڑ 23 لاکھ ڈالر رہی۔ مالی خسارہ17.6فیصد اضافہ کے بعد 3 ماہ میں963 ارب روپے رہا۔

کپاس کی پیداوار میں126فیصد، چاول18فیصد، لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 0.5 فیصد جبکہ زرعی قرضوں کی فراہمی میں30فیصد اضافہ ہوا، زرعی قرضوں کے مد میں499 ارب روپے تقسیم کئے گئے۔ ماہانہ بنیادوں پر نمو کی شرح8.4 فیصد دیکھنے میں آئی۔

ڈیری مصنوعات، خوردنی تیل، گوشت سمیت غذائی اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی جبکہ چینی اور سیریلز سمیت بعض اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق ایک سال میں ڈالر77روپے مہنگا ہوا اور220 سے279 روپے تک چلا گیا جبکہ پالیسی ریٹ15فیصد سے بڑھ کر22 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ گیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق تین ماہ کے دوران ترسیلات زر19.8فیصد کمی کے ساتھ6.3 ارب ڈالر رہی،5 فیصد کمی سے برآمدات7 ارب ڈالر رہیں۔ غیر ملکی درآمدات23.8 فیصد کمی سے جولائی تا ستمبر12.5ارب ڈالر رہیں۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق آنے والے مہینوں اور سال میں مجموعی اقتصادی سرگرمیوں میں تیزی رہے گی جس سے افراط زر کے دبائو میں بھی بہتری آئے گی۔ 24 اکتوبر2023 کو زرمبادلہ کے ذخائر کاحجم12.589ارب ڈالر ریکارڈکیاگیا جو گزشتہ سال 24 اکتوبرکو13.09ارب ڈالر تھا۔

جولائی سے ستمبر تک کی مدت میں صارفین کیلئے قیمتوں کا اشاریہ29فیصد ریکارڈکیاگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں25.1 فیصد تھا۔ ستمبر کے مہینے میں اشاریہ31.4فیصد تھا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں23.2فیصد تھا۔ مالی سال کے پہلے2 ماہ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے انڈیکس میں سالانہ بنیادوں پر15.6فیصد کی نمو ریکارڈکی گئی۔

اعدادوشمار کے مطابق20 اکتوبر 2023 کو مارکیٹ کی کیپٹلائزیشن کا حجم7.38 ٹریلین روپے تھا جو 3 جولائی 2023 کو 6.69 ٹریلین روپے تھا۔ مارکیٹ کیپٹیلائزیشن میں10.3فیصد کی شرح سے نمو ریکارڈکی گئی ہے۔

آئی ایم ایف وفد 70 کروڑ ڈالر قسط پر مذاکرات کیلیے کل پاکستان آئیگا

اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان70 کروڑ ڈالر کی اگلی قسط کیلیے مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونگے، جس کیلیے آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 2 نومبر سے پاکستان آئے گا اور پہلی سہہ ماہی کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

ذرائع کے مطابق جائزہ مشن کی قیادت ناتھن پورٹر کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اقتصادی جائزے کیلیے پاکستان کی معاشی ٹیم کی جانب سے کی جانے والی تیاریاں حتمی مراحلے میں داخل ہوچکی ہیں اور پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اسٹرکچرل اہداف حاصل کرلیے ہیں اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے بعد یہ اہم ترین شرط بھی پوری کردی گئی ہے۔

اسی طرح گردشی قرضے بھی مقررہ حد میں ہیں، مالیاتی خسارہ بھی طے شدہ ہدف کے مطابق ہے،ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں طے شدہ ہدف سے بھی زائد ہیں، تاہم بجٹ خسارے کیلیے درکار بیرونی فنانسنگ کے حوالے سے کچھ مشکلات درپیش ہیں لیکن چین، یو اے ای اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی جانب سے کروائی جانے والی یقین دہانیوں کے باعث یہ معاملہ بھی باآسانی طے پاجائے گا۔

ڈالر اور پٹرول سستا ہونے کے باوجود غذائی اشیا سستی نہ ہوئیں

لاہور: ڈالر کی قدر اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود غذائی اشیا کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوئی۔

ہول سیل ڈیلرز اور کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں میں کمی کے دعوؤں کے باوجود اور پرائس کنٹرول کا سرکاری نظام غیر موثر ہونے کی وجہ سے پرچون فروشوں نے صارفین کیلیے قیمتیں کم نہیں کیں۔

پرچون فروشوں کا موقف ہے انھوں نے مہنگے داموں مال خریدا تھا اس لیے فوری قیمتوں میں کمی ممکن نہیں، نئی قیمت پر مال خریدیں گے تو کم قیمت پر بیچیں گے۔

ذرائع کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت چند مقامی کمپنیوں نے اپنی اشیا کی قیمتوں میں اس وقت مزید اضافہ کیا ہے جب ڈالر سستا ہو رہا ہے، چیک اینڈ بیلنس کا سخت نظام نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو ریلیف نہیں مل رہا، چند ہفتے قبل اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر332 روپے تک پہنچنے کے دوران دیگر تمام اشیاکی طرح فوڈ آئٹم کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ ہوا تھا۔

ایک صارف حمد اللہ نے کہا مہنگائی کا اصل سبب حکومت کی کمزور گرفت ہے، اگر یہ نظام درست ہو جائے تو مہنگائی میں کمی آ سکتی ہے۔

ہرشا بھوگلے نے پاکستان ٹیم میں تنازعات کا ذمہ دار ’’لاہور قلندرز‘‘ کو قرار دیدیا

معروف بھارتی کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے نے پاکستان کرکٹ ٹیم میں مسائل کا ذمہ دار لاہور قلندرز کو قرار دیدیا۔

کرکٹ کی نامور ویب سائٹ کرک بز کو دیئے گئے انٹرویو میں ہرشا بھوگلے نے کہا کہ لاہور قلندرز کی فرنچائز کرکٹ کی دنیا میں کافی بااثر ہے، جس کی وجہ سے تنازعات جنم لے رہے ہیں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ قیادت کا شور کہاں سے آرہا ہے۔

بھوگلے نے بطور کپتان شاہین آفریدی کے انتخاب پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انجریز کی وجہ سے قیادت ان کیلئے بوجھ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ممکنہ کپتان کے طور پر شاہین آفریدی کا نام بہت زیادہ لیا جاتا رہا ہے، وہ لاہور قلندرز کو ٹائٹل بھی جتوا چکے ہیں، جس نے انکی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کیا لیکن انکی انجریز تشویش کا باعث ہیں۔

ہرشا بھوگلے نے سوال اٹھایا کہ کیا ہوگا اگر پاکستان اگلے تینوں میں جیت جاتا ہے، نیوزی لینڈ کی فتح، اچانک پاکستان سیمی فائنل میں پہنچ جاتا ہے، کیا یہ بابر کو ایک اچھا کپتان بنادیگا اور شاہین دعویدار نہیں رہیں گے۔

دوسری جانب ورلڈکپ میں مسلسل 4 شکستوں کے بعد قومی ٹیم کو بنگلادیش کے خلاف میچ میں کامیابی نصیب ہوئی ہے جبکہ سیمی فائنل کھیلنے کی امیدوں کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے اگلے دونوں میچز جیتنا ہوں گے اور نیوزی لینڈ کی ہار کی دعا کرنا ہوگی۔

فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کا میٹا کی نئی سروس پر شدید ردِ عمل

کیلیفورنیا: فیس بک اور انسٹاگرام صارفین نے دونوں پلیٹ فارمز پر اشتہارات ہٹانے کے لیے لانچ کی جانے والی نئی پیڈ سروس کے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

دونوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی مالک کمپنی میٹا کے مطابق کمپنی کی جانب سے سبسکرپشن آپشن کی لانچ یورپی یونین کے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی پیشِ نظر کی گئی ہے۔

نئی تبدیلی کے بعد کروڑوں صارفین کو پلیٹ فارم کے متعلق فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ یہ ایپ اشتہارات کے ساتھ استعمال کرنا چاہیں گے یا پھر اشتہارات کو ہٹانے کے لیے معاوضہ ادا کریں گے۔

تاہم، صارفین نے میٹا کے منصوبے پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے پیسے دینے کے بجائے اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ماہانہ سبسکرپشن پیکج میں ویب صارفین 10.57 ڈالرز جبکہ آئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کو 13.75 ڈالرز ادا کرنے ہوں گے۔

میٹا کے اس فیصلے پر ردِ عمل دیتے ہوئے ایک صارف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ اس کے لیے ادائیگی کون کرے گا؟ جبکہ ایک صارف نے لکھا ’الوداع‘۔

ایک اور ایکس صارف نے لکھا کہ ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کے لیے ہر مہینے 10 یورو کون ادا کرے گا۔

ایک صارف نے میٹا سربراہ مارک زکر برگ کے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایکس سربراہ ایلون مسک کی نقل کر رہے ہیں۔ براہ مہربانی تھوڑے تخلیقی ہوجائیں۔