All posts by Khabrain News

مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف لندن سے پاکستان کے لئے روانہ

لندن: (خبریں ڈیجیٹل) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف لندن سے پاکستان کے لئے روانہ ہوگئے۔

صدر مسلم لیگ ن شہبازشریف نے لندن میں تقریباً ایک ماہ قیام کیا، شہبازشریف نے دورے کے دوران مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کے ساتھ کئی اہم ملاقاتیں کیں اور نوازشریف کی وطن واپسی کا اعلان بھی کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق شہبازشریف وطن واپسی کے بعد مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی وطن واپسی کے حوالے سے تیاریوں کا جائزہ لیں گے اور ان کے استقبال کے لئے پارٹی کے دیگر رہنماؤں سے بھی مشاورت کریں گے۔

لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملی تو آصف زرداری سے کہوں گا میری ہاتھ کھول دیں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو

اوکاڑہ: (خبریں ڈیجیٹل) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں بار بار گزارش کر رہا ہوں ہمیں الیکشن کی تاریخ دی جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اوکاڑہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ن لیگ کو راجہ ریاض اور راجہ ریاض کو ن لیگ مبارک ہو، میں خود یوتھ ہوں اور یوتھ کے مسائل کو سمجھتا ہوں، اب فیصلہ نوجوانوں نے کرنا ہے، میاں نوازشریف کی واپسی کا ہمارا مطالبہ بہت پرانا ہے، جہاں تک پیپلزپارٹی کی بات ہے پیپلزپارٹی نے 2007ء میں بھی الیکشن لڑا، شہید بے نظیر بھٹو کو دفنا کر بھی الیکشن لڑا ہے اس لئے پیپلزپارٹی کو دیوار کے ساتھ نہیں لگایا جا سکتا۔

 

چیئرمین پی پی نے کہا لیول پلئنگ فیلڈ پر ہمارے سی ای سی میں اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، لیول پلئنگ فیلڈ کے حوالے سے سابق صدر آصف علی زرداری کو اختیار دے دیا ہے، اگر لیول پلئنگ فیلڈ نہ ملا تو پھر آصف زرداری سے کہیں گے کہ میرے ہاتھ کھول دیں۔

بلاول بھٹو نے کہا الیکشن کمیشن سے کہتے ہیں فی الفورانتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے، کچھ لوگ غلط فہمی میں ہیں اور کہتے ہیں پیپلزپارٹی پنجاب میں اب نہیں، پیپلزپارٹی اپنے منشور کو آگے لے کر چل رہی ہے، ہم قائد عوام اور شہید بینظیر بھٹو کے نامکمل مشن کو مکمل کریں گے، پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو ملک کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔

چیئرمین پی پی نے کہا پیپلزپارٹی کو سازش کے تحت پنجاب سے نکالا گیا تھا، ہمارے کارکنوں کو زبردستی دوسری جماعتوں میں بھیجا گیا، عوام پریشان ہیں کہ بجلی کے بل کیسےدیں؟ بچوں کو سکول کیسے بھیجیں؟ اشرافیہ کوسبسڈی دینے کے بجائے چھوٹے کسانوں کو سبسڈی دینی چاہئے، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا، پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی زنجیرہے، عوام آج مشکل میں ہیں، مہنگائی کے سونامی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے فیصل آباد میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا آج ہم شہادت بلوچ کی تعزیت کے سلسلہ میں یہاں آئے ہیں، شہادت بلوچ پی پی پی کا اثاثہ تھا، انہوں نے پی پی پی کیلئے جدوجہد کی، ہم ایک خاندان ہیں، شہادت بلوچ کے مشن کو ان کے بچے آگے لیکر جائیں گے، ہم ملکر شہادت بلوچ، قائد عوام اور شہید بینظیر بھٹو کے نامکمل مشن کو مکمل کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا 18 ماہ کی مصروفیت کے بعد آپ کے سامنے ہوں، الیکشن کمیشن سے الیکشن کی ڈیٹ کا مطالبہ کرتے ہیں، الیکشن کی ڈیٹ ملے تو پھر ان کو بتائیں گے، جو سمجھتے تھے پی پی پی نے پنجاب کو چھوڑ دیا، غلطی فہمی کا شکار تھے ان کی غلط فہمی کو دور کرنا ہے، سازش کے تحت سب سے بڑے صوبہ میں قائد کو شہید کیا گیا، ہمارے ساتھیوں کو بندوق کے زور پر مختلف پارٹیوں میں بھیجا گیا، ہم گاؤں گاؤں جائیں گے، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے منشور کو ساتھ لیکر جائیں گے، غربت بے روزگاری، سکیورٹی، دہشت گردی یا جمہوری بحران کا مسئلہ ہو، ایک ہی جماعت ملک کو ان مسائل سے نکال سکتی ہے۔

 

چیئرمین پی پی نے کہا لوگ غربت، مہنگائی، بے روزگاری سے پریشان ہیں، بچوں کو سکول کیسے بھیجیں اور بزرگوں کا علاج کیسے کرائیں، پہلی مرتبہ مہنگائی بے روزگاری کا سامنا نہیں ہے، 2008ء میں بھی مہنگائی تاریخی سطح پر پہنچی تھی، اسی لئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا، تنخواہوں اور پینشنز میں بھی اضافہ کیا۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا پاکستانیوں کو لاوارث تو نہیں چھوڑ سکتے، اسی لئے تنخواہوں میں اضافہ کیا، 18 ماہ میں دنیا گھوم کر دیکھا کہ وسائل ہیں مگر محدود ہیں، اشرافیہ کو مراعات دینے، ٹیکسز ایمنسٹی دینے کے بجائے وہی پیسہ چھوٹے کسانوں کو دیں تو بہتری آئے گی، مسائل کا حل اسی میں ہوگا کہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ سپورٹ کیا جائے۔

 

سب سے کم عمر نوجوان وزیر خارجہ رہا ہوں، پاکستان میں 30 سال سے کم نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے، دیگر ممالک میں بزرگوں کی تعداد زیادہ ہے، ذوالفقار علی بھٹو نے دنیا میں پاکستانیوں کو روزگار دلوایا تھا، نوجوان کو سکلز دیں گے اور باہر ممالک میں روزگار کیلئے مواقع دیں گے، اگر میں ہر ملک سے جھگڑا چھیڑوں تو عام پاکستانیوں کو مسئلہ ہوتا ہے، مجھے یا اشرافیہ کو تو کوئی مسئلہ نہیں ہمیں تو ویزا آسانی سے مل جاتا ہے۔

سائفر کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

اسلام آباد: (خبریں ڈیجیٹل) اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں گرفتار چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی، چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر پیش ہوئے، دوران سماعت چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کی جانب سے بار بار جلد سماعت کی استدعا کی گئی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلا کی جلد سماعت کی بار بار استدعا پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ طریقہ کار موجود ہے، اسی کے مطابق آئندہ پیر تک درخواست ضمانت مقرر ہو جائے گی۔

عدالت نے درخواست پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کر دی اور آئندہ سماعت تک جواب طلب کر لیا۔

واضح رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی 26 ستمبر تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہیں، خصوصی عدالت نے ایف آئی اے سے کیس کا چالان طلب کر رکھا ہے۔

رونالڈو کی فری ہٹ نے کیمرہ مین کو دن میں تارے دکھا دئیے

جدہ: (خبریں ڈیجیٹل) سعودی عرب میں فٹبال میچ کے دوران النصر کلب سے کھیلنے والے کرسٹیانو رونالڈو کی فری ہٹ نے کیمرہ مین کو دن میں تارے دکھا دئیے۔

ہفتہ کو سعودی عرب کے کنگ عبداللہ اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم میں النصر اور الرعد کلب کے میچ میں پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے اپنی فری کک سے کیمرہ مین کو ناک آؤٹ کر ڈالا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ رونالڈو کی فری کِک گول پوسٹ سے گزرتے ہوئے سیدھی پیچھے موجود کیمرہ مین کے سر پر جاکر لگی جس سے وہ زخمی ہوگیا اور ماتھے پر بڑا گومڑہ پڑ گیا لیکن اسکے باوجود کیمرہ مین نے اپنی پیشہ ورانہ ڈیوٹی جاری رکھی۔

میچ کے دوران النصر نے الرعد کیخلاف ایک کے مقابلے میں تین گول سے فتح حاصل کی۔ واضح رہے کہ النصر اس وقت سعودی لیگ میں چھ میچوں میں چار فتوحات کے ساتھ چھٹی پوزیشن پر ہے۔

پریکٹس پروسیجر ایکٹ؛ ملک کو نقصان ہو مجھے ایسا اختیار نہیں چاہیے، چیف جسٹس

اسلام آباد: (خبریں ڈیجیٹل) ملکی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کی کارروائی براہ راست نشر کی جارہی ہے اور عدالت عظمیٰ نے سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف اپیلوں پر فل کورٹ بنانے کی درخواستیں منظور کر لی۔ 

سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پہلے عدالتی دن پر فل کورٹ کی سربراہی کررہے ہیں، سپریم کورٹ کے 15 ججز پر مشتمل فل کورٹ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی سماعت کررہا ہے۔

وفاقی حکومت کی درخواستیں مسترد کرنے کی استدعا

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف اپنا تحریری جواب  اٹاری جنرل کے ذریعے عدالت میں جمع کرایا ہے جس میں  وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد کرنےکی استدعا کی ہے۔

یاد رہے سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ پر 13 اپریل کو عملدرآمد روکا تھا۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ مفاد عامہ کے مقدمات میں چیف جسٹس کے اختیارات کو تقسیم کرنے سے متعلق ہے۔ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے مطابق ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ چیف جسٹس اور دو سینئیر پر مشتمل کمیٹی کر سکے گی۔

آج کی سماعت

دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ 9 درخواستیں ہیں اور وکلا کون کون ہیں؟ خواجہ طارق رحیم صاحب آپ دلائل کا آغاز کریں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا دلائل دوبارہ سے شروع ہوں گے کیونکہ نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے، فل کورٹ بنانے کی 3 درخواستیں تھیں جن کو منظور کر رہے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے ریمارکس میں کہا فل کورٹ اجلاس میں فل کورٹ سماعت کرنے کی منظوری دی گئی، عوام ہم سے 57 ہزار کیسز کا فیصلہ چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ خواجہ صاحب (خواجہ طارق رحیم) ہم آپ کو نہیں کہتے کہ کم بولیں مگر آپ بات کو جامع رکھیں، ماضی کو بھول جائیں ابھی کی بات کریں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ سیکشن 5 کا کیا ہوگا؟ کیا ایک پارٹی کی وجہ سے ایکسرسائز نہیں ہوگی؟

درخواست گزار کے وکیل خواجہ طارق رحیم کے دلائل

وکیل خواجہ طارق رحیم کا کہنا تھا سپریم کورٹ نے فل کورٹ کے ذریعے اپنے رولز بنا رکھے تھے لیکن پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے رولز میں مداخلت کی۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ خواجہ صاحب جو کچھ ماضی میں ہوتا رہا آپ اس کو سپورٹ کرتے ہیں؟ جبکہ چیف جسٹس نے پوچھا آپ بتائیں کہ پورا قانون ہی غلط تھا یا چند شقیں؟

خواجہ طارق رحیم کا کہنا تھا فیڈرل لیجسلیٹیو لسٹ کے شیڈول 4کے مطابق سپریم کورٹ اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر کے ضوابط خود بناتی ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا سپریم کورٹ کو یہ اختیار آئین میں دیا گیا یا قانون میں؟ وکیل خواجہ طارق رحیم کا کہنا تھا میں سوالات نوٹ کر رہا ہوں جواب بعد میں دوں گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا خواجہ صاحب آئینی شقوں کو صرف پڑھیں، تشریح نہ کریں جبکہ جسٹس اطہرمن اللہ نے پوچھا کہ خواجہ صاحب آپ کیا کہہ رہے ہیں یہ قانون بنانا پارلیمان کا دائرہ کار نہیں تھا یا اختیار نہیں تھا؟

 آپ کیلئے معاملات آسان بنانا چاہ رہا ہوں لیکن لگتا ہے آپ ایسا نہیں چاہ رہے: چیف جسٹس کا خواجہ طارق رحیم سے مکالمہ

چیف جسٹس پاکستان نے خواجہ طارق رحیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا خواجہ صاحب آپ جو باتیں کر رہے اس پر الگ درخواست لے آئیں، ابھی اپنی موجودہ درخواست پر فوکس کریں،  خواجہ صاحب میں آپ کیلئے معاملات آسان بنانا چاہ رہا ہوں لیکن لگتا ہے آپ ایسا نہیں چاہ رہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اختیارات اور طاقت کا ذکر قانون میں نہیں جبکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا سپریم کورٹ کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اپنے اختیارات کو استعمال کرے، کیا آپ کے مطابق سپریم کورٹ رولز 1980 آئین سے متصادم ہیں، مستقبل کی بات نہ کریں دلائل کو حال تک محدود رکھیں، مستقبل کی قانون سازی کیلئے درخواست دائرکر دیں۔

 عدالت کو اپنے اختیارات استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی: جسٹس منیب اختر

جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا آرٹیکل 184/3 جوڈیشل پاور ہے، عدالت کو اپنے اختیارات استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ خواجہ صاحب آپ کی بحث کیا ہے؟ مجھے آپ کی یہ بات سمجھ آئی ہے کہ اگر یہ سب فل کورٹ کرے تو درست ہے، اگر پارلیمنٹ یہ کام کرے تو غلط ہے، میں یہ سمجھا ہوں آپ کی بات سے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا قانون سازی کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات کو غیر مؤثرکیا جاسکتا ہے؟ جبکہ جسٹس جمال مندوخیل نے پوچھا کیا قانون سازی سے چیف جسٹس کی پاورزکو ختم کیا گیا یا پھر سپریم کورٹ کی؟

وکیل خواجہ طارق کا کہنا تھا آئینی مقدمات میں کم سے کم 5 ججزکے بینچ کی شق بھی قانون سازی میں شامل کی گئی ہے، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا جس شق پرآپ کو اعتراض ہے کہیں کہ مجھے اس پر اعتراض ہے۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے خواجہ طارق سے پوچھا کہ چیف جسٹس کے پاس بینچ بنانے کا لامحدود اختیار ہو تو آپ مطمئن ہیں؟ جبکہ جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا آپ یہ تو بتائیں کہ کس آئین کے آرٹیکل سے ایکٹ متصادم ہے؟

باہر کے ممالک میں چیف جسٹس کے پاس بینچ تشکیل دینے کے اختیارکا تصورتک نہیں: جسٹس منصور علی شاہ

دوران سماعت جسٹس منیب اختر کا کہنا تھا پارلیمنٹ کہتی ہے کہ 5 ججز سے کم کیس نہیں سن سکتے، اگرکل پارلیمنٹ کہے کہ فلاں کیس کو 7 ججز نہیں سنیں توکیا ہو گا؟ امریکا میں رائٹ آف ابارشن کا مسئلہ بنا ہوا ہے، یہ سپریم کورٹ ہے جس کا کام آئین کا دفاع کرنا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ کے دلائل سے محظوظ نہیں ہو پا رہا جبکہ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا عدلیہ کی آزادی صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی بھی ہونی چاہیے،  عدلیہ کو اندر سے مضبوط ہونا چاہیے، صرف چیف جسٹس کے پاس بینچزکی تشکیل کا اختیار ہونا توغلط ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا باہر کے ممالک میں بیلٹ سے بینچ بنتے ہیں، وہاں چیف کے پاس بینچ تشکیل دینے کے اختیارکا تصورتک نہیں، یہ کیا بات ہوئی چیف اپنے پاس درخواست رکھے رہے اوربینچ نہ بنائے۔

درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی کا کہنا تھا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے جو غیرآئینی ہے جس پر جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا تھا آرٹیکل 141 کے مطابق پارلیمنٹ قانون بنا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے تو کیا پارلیمنٹ نہیں ہے؟ جسٹس اطہر من اللہ

وکیل امتیازصدیقی کا کہنا تھا پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا آپ ہمیں بتائیں کہ کوئی ایسا قانون ہو سکتا ہے جو عدلیہ کو ریگولیٹ کرے؟

امتباز صدیقی کا کہنا تھا عدالتی دائرہ سماعت اور اختیارات سے متعلق براہ راست کوئی قانون نہیں بنایا جا سکتا، پارلیمنٹ سپلیمنٹری قانون سے صرف عدلیہ کو کسی معاملے پر سفارش کر سکتی ہے۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ یہ سپریم کورٹ ہے جس کا کام آئین کا دفاع کرنا ہے، ہر بنایا جانے والا قانون قابل عمل نہیں ہوتا جبکہ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا سپریم کورٹ آئینی ادارہ ہے تو کیا پارلیمنٹ نہیں ہے؟

سپریم کورٹ قانون سے بالا ہے یہ کہاں لکھا ہے؟ چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا سپریم کورٹ قانون سے بالا ہے یہ کہاں لکھا ہے؟ اس میں دو بنیادی باتیں ہیں، اس فیصلے میں جو لکھا ہے وہ آپ کی دلیل کی نفی کر رہا ہے، ہمیں ڈرائیں مت صرف دلائل دیں، وکیل کاکام ہے بتائے اس فیصلے کے فلاں صفحے پریہ لکھا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل امتیاز صدیقی کا کہنا تھا اگر مجھے نہیں بولنے دیا جائے گا اور تضحیک ہوگی تو میں جا رہا ہوں، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بولے کہ آپ عوام کا خیال کریں، امتیاز صدیقی نے جواب دیا میں عوام کی ہی بات کر رہا ہوں، مجھے بات ہی نہیں کرنے دی جا رہی تو میں چلاجاتا ہوں۔

چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ کی مرضی ہے جانا چاہتے ہیں تو جائیں ورنہ موجودہ کیس تک محدود رہیں، نظرثانی اپیل نے تو سپریم کورٹ کے اختیارکوبڑھا دیا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کی دلیل سے اتفاق کروں اور درخواست مسترد کر دوں۔

اٹارنی جنرل کے دلائل کے دوران چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ پاکستان میں بہت کچھ غیرآئینی ہو رہا ہے، کیا ملک میں جو کچھ غیر آئینی ہو رہا ہے وہ 184/3 کے اندر آئےگا؟

یاد رہے کہ گزشتہ روز ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس پاکستان کے عہدے کا حلف لیا تھا اور حلف لینے کے بعد پہلا مقدمہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت کے لیے مقرر کیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رواں برس اپریل میں کسی بھی آئینی مقدمے کے بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا جب تک سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہوتا وہ کسی بینچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

24گھنٹے سے زائد کا عرصہ گزر چکا،شیخ رشید ،میرے بھائی سمیت دیگر افراد کو کسی مقامی عدالت میں پیش نہ کیا گیا،گرفتاریوں کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کردی گئی ہے جس کی سماعت کل ہوگی،شیخ راشد شفیق

سابق ایم این اے شیخ راشد شفیق کا ٹویٹ میں کہنا تھا کہ 24گھنٹے سے زاٸد کا عرصہ گزر چکا ہے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو کسی مقامی عدالت میں پیش نہ کیا گیا اور نہ ہی میرے بڑے بھاٸی شیخ شاکراور اسٹاف ممبر شیخ عمران اور ڈراٸیور سجاد کے متعلق کچھ بتایا نہیں جارہا ہے سردار عبدالرزاق ایڈووکیٹ اور سردار شہبازایڈووکیٹ کے ذریعے لاہور ہاٸیکورٹ میں رٹ داٸر کر دی گٸی ہے جو کہ بروز منگل کل کے لٸے فکس کر دی گٸی ہے میں اور شیخ رشید احمد قانون کا سامنا کرنے کے لٸے تیار ہیں اگر سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد پر کوٸی مقدمہ ہے تو فوراً سے پہلے عدالت میں پیش کیا جاۓ میری چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس ہاٸیکورٹ سے درخواست ہے کہ وہ اس مسٸلے کا فوری نوٹس لیں اور متعلقہ اداروں کو پابند کریں کہ وہ سینٸیر سیاستدان شیخ رشید احمد کو عدالت میں پیش کریں

غیر ملکی سگریٹس کی بڑی مقدار کراچی ترسیل کی کوشش ناکام

کراچی: پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کراچی نے انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت موچکو چیک پوسٹ پرکارروائی کے دوران غیرملکی سگریٹس کی بڑی مقدار کے ساتھ دیگر اسمگل شدہ اشیا کی کراچی ترسیل کرنے کی کوشش کو ناکام بنادیا ہے۔

کسٹمز اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کو اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کوئٹہ سے بھاری مقدار میں اسمگل شدہ اشیا کو کراچی پہنچانے کی کوشش کی جائے گی جس پر کلکٹر انفورسمنٹ باسط مقصود عباسی نے اسسٹنٹ کلکٹر امان صادق کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی اور آر سی ڈی ہائیوے کے مختلف حصوں میں سادہ لباس اہلکار تعینات کیے گئے جنھوں نے کوئٹہ سے آنے والی بسوں ٹرکوں اور ٹرالرز کی سخت نگرانی کی۔

گزشتہ شام حکام کو کوئٹہ سے آنیوالی بس مشکوک نظر آئی کیونکہ اس بس پر اے ایف آر 2023 کی نمبر پلیٹ لگی ہوئی حکام نے اس بس کو روک جب اس میں بنے ہوئے خفیہ خانوں کی تلاشی لی تو بس سے مجموعی طور پر 4 کروڑ 16 لاکھ مالیت کی اسمگل شدہ برآمد ہوئیں،

برآمد ہونے والی اشیا میں مختلف غیرملکی برانڈز 22540 پیکٹ سگریٹس، انڈین گٹکے کے 59600 پاؤچز، انڈین نسوار کے 2600 پائوچز اور 2 کلو مضر صحت چھالیہ برآمد کی گئی۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت مزید کم، روپے کی قدر بڑھنے کا رجحان جاری

 کراچی: انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی گراوٹ کا سلسلہ نئے شروع ہونے والے کاروباری ہفتے میں بھی جاری ہے، جس کے نتیجے میں روپیہ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

پیر کے روز کاروبار کے آغاز ہی میں انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید ایک روپے 28 پیسے کم ہوئی، جس سے ڈالر 295 روپے 56 پیسے کی سطح پر آ گیا۔ بعد ازاں ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قدر کم ہونے کا سلسلہ جاری ہے اور دوپہر تک انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 99 پیسے کم ہو کر295 روپے 85 پیسے کا ہوگیا۔

دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے کاروباری ہفتے میں تیزی کا رجحان ہے۔ پیر کے روز پی ایس ایکس میں 53 پوائنٹس کی تیزی سے کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر 45807 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا، جو بعد  میں مزید اضافے کے ساتھ 114 پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ 45867 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی میں تنازع فلسطین رکاوٹ ہے، انٹونی بلنکن

واشنگٹن: (خبریں ڈیجیٹل) امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کا معاہدہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ امریکا سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کررہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے معاہدے تک پہنچ گئے ہیں لیکن اس کی تکمیل میں فلسطین کا تنازع آڑے آ رہا ہے، دونوں ممالک کے درمیان کئی پیچیدہ معاملات میں ڈیڈلاک ہے جس میں سب سے اہم فلسطین کے مسئلے کا حل نہ ہونا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی اور ایک دوسرے کو سفارتی سطح پر تسلیم کرلینے سے خطے میں امن، استحکام اور ترقی آئے گی۔

زرداری نے بلاول اور پارٹی رہنماؤں کو ٹکراؤ کی پالیسی سے روک دیا

کراچی (خبریں ڈیجیٹل)پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اورپارٹی رہنماؤں کو اتحادیوں اور مقتدرہ سے ٹکرائو کی پالیسی سے روک دیا ہے۔ آصف زرداری نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اور پارٹی ارکان کون لیگ اور دیگر اتحادیوں سمیت مقتدرہ کے حوالے سے ٹکرائو کی پالیسی سے روک دیا جبکہ الیکشن میں مساوی مواقع کے لئے آصف زرداری نے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تمام اختیارات سنبھال لئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے تمام ارکان کو ٹکرائو کی سیاست سے اجتناب کی ہدایت کی اور کہا کہ اگر باہمی گفتگو سے تحفظات دور نہ ہوئے تو پھر پیپلزپارٹی اپنے مزاحمتی آپشن محفوظ رکھتی ہے۔