All posts by Khabrain News

وزیراعظم نے بھارت میں اقلتیوں کے استحصال پر ڈوزیئر جاری کردیا

وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اقلتیوں کے استحصال پر ڈوزیئر جاری کردیا ہے جس میں مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں پر مظالم کی تدصیلات بتائی گئی ہیں۔

نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف جاری مظالم پر ڈوزیئر جاری کردیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی حکومت 2014 کے بعد سے مظالم جاری رکھے ہوئے ہے، 2021 میں نفرت انگیز جرائم کے 294 واقعات رپورٹ ہوئے۔

ڈوزیئر میں بتایا گیا کہ بھارت میں تاریخی مساجد حملوں کی زد میں ہیں، 1600 سے زائد مساجد کو میڈیا مہم کا نشانہ بنایا گیا، ریاست منی پور میں سیکڑوں گرجا گھروں کو جلایا گیا، مقبوضہ کشمیرمیں24ہزار496مذہبی مقامات کوسرکاری تحویل میں لیاگیا۔

ڈوزیئر میں کہا گیا ہے کہ ہندو توا نظریات کے حامل افرادعبادت گاہوں کو تباہ کر رہے ہیں، درجنوں تاریخی مساجد کی تباہی یا خالی کرانے کے خطرات کا سامنا ہے، عالمی کنونشن کے دستخط کنندہ کے طور پر بھارت نسل کشی روکنے کا پابند ہے، عالمی برادری بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کروائے۔

اسلام آباد میں پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام مارگلہ ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ترقی کیلئےبنیادی دھانچے کی تعمیروقت کی اہم ضرورت ہے، رائےعامہ کی ہمواری میں حکومتیں اہم کردارادا کرتی ہیں۔

انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کےطور پر ابھر رہاہے، پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کیلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ جدید دور میں پیش آنے والے چیلنجز سے نمٹنا ہوگا۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ چین کی معاشی ترقی کا سفر جاری ہے، چین نے معاشی طور پر ترقی کرکے دنیا کیلئے مثال قائم کی، جدید دور میں روابط، راہداریوں سے تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ بھارت خطے میں تصادم،عدم استحکام کو ہوا دے رہا ہے، فلسطین میں معصوم بچوں کو بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، معصوم بچوں کے قتل سے اسرائیل اپنی جنونیت کو پورا کر رہا ہے، دنیا میں انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہئے، پاکستان بین الاقوامی امن کیلئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطرے کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے، جس سے نمٹنا کسی ایک ملک کیلئے ممکن نہیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مربوط تعاون کی ضرورت ہے، اس کےاثرات کم کرنے کیلئےاقوام عالم کو اقدامات کرنا ہوں گے۔

کینیڈین انتہا پسند نے مسلمانوں سے نفرت کی بنا پر پاکستانی خاندان پر گاڑی چڑھائی

ایک کینیڈین انتہا پسند شخص نے مسلمانوں سے نفرت کی بنا پر پاکستانی خاندان پر گاڑی چڑھا دی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق استغاثہ کی جانب سے منگل کو اختتامی دلائل میں کہا کہ ایک کینیڈین شخص نے مسلمانوں کو مارنے کا تعاقب کررہا تھا کہ اس نے اپنے ٹرک سے شام کے وقت ایک خاندان کے افراد پر گاڑی چڑھادی۔

نیتھنیل ویلٹ مین نامی شخص جس کی عمر ابھی 22 سال ہے، اس پر جون2021 سے لندن، اونٹاریو میں مقدمہ چل رہا ہے۔

اس کیس میں پہلی بار کینیڈا کی جیوری سے کہا گیا ہے کہ وہ سفید فام بالادستی سے متعلق دہشت گردی کا اقدام اٹھانے پرغورکریں۔ قتل کا اعتراف کرنے پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ اسے کم سے کم سزا ملنی چاہیے۔

پراسیکیوٹر فریزر بال نے جیوری کو بتایا کہ ان کے پاس ہر وہ چیز موجود ہے جس کی آپ کو ممکنہ طور پر اس کیس میں سزا سنانے کی ضرورت ہے، گواہوں نے پولیس کے سامنے اعتراف بھی کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم ویلٹ مین نے اپنے کمپیوٹر پر ایک نوٹ لکھا تھا، جس میں اس نے سفید فام قوم پرستی کی حمایت کی تھی اور مسلمانوں سے اپنی نفرت کو بیان کیا تھا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ ملزم نے ایک سپاہی کی وردی پہنی ہوئی تھی اور مسلمانوں کو مارنے کی منصوبہ بندی کررہا تھا۔

کراؤن اٹارنی نے کہا کہ جب ملزم ویلٹ مین لندن کی ایک سڑک پر افضل کے خاندان کے پاس سے گزرا، تو اس نے اپنا ٹرک گھمایا اور تیز رفتاری کے ایک خاندان کے افراد کو کچل دیا۔

حادثے میں 46 سالہ سلمان افضل، ان کی اہلیہ 44 سالہ مدیحہ سلمان، 15 سالہ بیٹی یمنہ اور اس کی دادی 74 سالہ طلعت افضل جان کی بازی ہار گئے، ایک نو سالہ بچہ شدید زخمی ہوگیا۔

واقعے کے بعد ملزم ویلٹ مین کو قریبی پارکنگ میں گرفتار کیا گیا اور پولیس کو بتایا کہ وہ امیگریشن سے آنے والے مسلمانوں کوایک مضبوط پیغام بھیجنا چاہتا ہے۔

دفاعی وکیل کرسٹوفر ہکس نے دلیل دی کہ ملزم ویلٹ مین ذہنی عارضے اور بچپن کے صدمات کا شکار تھا، جس کی وجہ سے ”ڈپریشن اور اضطراب“ پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں کی موت کا ذمہ دار ہے لیکن اس کے پاس قتل یا دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور سوچنے کی استعداد نہیں تھی۔

ملزم ویلٹ مین کو فرسٹ ڈگری کے قتل کا جرم ثابت ہونے پر عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ قتل عام کی سزا زیادہ سے زیادہ سات سال قید ہے۔

2017 میں کیوبیک سٹی کی ایک مسجد میں فائرنگ کے واقعے کے بعد سے یہ کینیڈا میں سب سے مہلک مسلم مخالف حملہ تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس شوٹنگ کے مرتکب پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگایا گیا تھا۔

پی آئی اے نے اپنے فلائٹ ایٹنڈنٹ غائب ہونے کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دے دیا

پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن(پی آئی اے) نے اپنے فلائٹ اٹنڈنٹ غائب ہونے کا ذمہ دار کینیڈا کو قرار دے دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے قومی ائیر لائن کے دو فلائٹ اٹینڈنٹ کینیڈین جانے والی پروز میں ٹورنٹو پہنچنے کے بعد غائب ہو گئے تھے۔

گزشتہ دنوں پی آئی اے ترجمان نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی آئی اے کے 8 ملازمین گزشتہ دو سالوں کے دوران کینیڈا میں اس کی لچک کی حامل آزادانہ پناہ دینے کی پالیسی کی وجہ سے لاپتا ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ غیر قانونی طریقوں سے معاشی حالات میں بہتری کے لیے یورپ اور شمالی امریکا کے ترقی یافتہ ممالک تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال یونان کے قریب 750 غیر قانونی تارکین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوب گئی تھی جس میں 350 پاکستانی بھی شامل تھے۔

کینیڈا میں پی آئی اے کے ملازمین کی حالیہ گمشدگی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں بہتر ملازمتوں کے حامل نوجوانوں میں بھی ملک سے باہر جانے کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔

عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے بتایا کہ دو فلائٹ اٹنڈنٹ پرواز کے ٹورنٹو پہنچنے پر غائب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ فلائٹ اٹینڈنٹس خالد محمود اور فدا حسین 10 نومبر کو پی کے 772 پر اسلام آباد سے کینیڈا گئے تھے مگر وہ ٹورنٹو سے پرواز کے روانہ ہونے سے قبل واپس رپورٹ کرنے میں ناکام رہے۔

ایئر لائن نے کینیڈا میں مقامی حکام کو اس واقعے کے بارے میں مطلع کیا اور اپنے لاپتہ ملازمین کے خلاف محکمانہ تحقیقات کا آغاز کیا جو ان کی خدمات کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پی آئی اے کے کیبن کریو کے چار ارکان گذشتہ برس اسی طرح غائب ہوئے تھے، جبکہ مزید چار 2023 میں غائب ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ کینیڈا کی حکومت کی طرف سے حد سے زیادہ لچکدار سیاسی پناہ دینے کا پروگرام ہے، ہم عام طور پر ایسے افراد کی پی آئی اے کے لئے خدمات کو ختم کر دیتے ہیں۔ . واضح رہے کہ قومی ائیر لائن نے کینیڈا اور یورپی ممالک کا سفر کرنے والے فلائٹ اٹینڈنٹ کے لیے سخت ضابطے نافذ کیے ہیں جن میں کیبن کریو کے ارکان کے لیے 50 سال سے زیادہ عمر کی حد مقرر کرنا شامل ہے۔

یونس خان نے پاکستان ٹیم کی کپتانی کا نسخہ بتا دیا

سابق کپتان یونس خان نے کہا ہےکہ بابراعظم کو کپتانی اور اپنی بیٹنگ کو الگ الگ زاویے میں ڈھالنا چاہیے تھا۔

یونس خان نے اپنی لیڈنگ کوالیٹیز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ ورلڈکپ میں کپتانی اتنا بڑا اشو نہیں تھا، بابراعظم کو کپتانی اور اپنی بیٹنگ کو الگ الگ زاویے میں ڈھالنا چاہے تھا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ورلڈکپ کا بغور جائزہ لیں تو یہ دیکھیں کہ ہم نے فنش کہاں کیا ہے، اگر ہم بغیر پلاننگ کے پانچویں نمبر پر آسکتے ہیں جہاں دیگر ٹیموں سے پھر بھی قدرے بہتر ہیں اور اگر ہم تھوڑی سی پلاننگ کر لیتے، تھوڑی ٹیوننگ کرلیتے، تھوڑی ایڈجسٹمنٹ کرلیتے تو ہم ٹاپ فور میں فنش کرتے اور سیمی کھیل رہے ہوتے۔

ایڈجسٹمنٹ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ اس میں پہاڑ کاٹنا پڑے، مشکل کام انکےلیے ہے جو پلاننگ نہیں کرپاتے : یونس خان

یونس خان نے کہا کہ یہاں جو بڑے پلیئر ہوتے ہیں وہ سیمی فائنل اور فائنل میں بڑی اننگز کھیل جاتے ہیں جیسے 2009 ورلڈکپ میں شاہد آفریدی تھے، موجودہ ورلڈکپ میں فخر زمان نے بیک ٹو بیک 2 میچز میں امیزنگ بیٹنگ کی ان جیسے بڑے کھلاڑیوں کو کہاں استعمال کرنا کیسے کرنا ہے یہ آپ کو آنا چاہیے۔

سابق کپتان نے موجودہ ورلڈکپ میں بھارت کی کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیم بھارت کی بات کریں تو روہت شرما، ویرات کوہلی اور راہول ٹاپ کے بیٹسمین ہیں جو پورے ورلڈکپ میں پرفارم کررہے ہیں، بولنگ میں اسپنرز کے ساتھ فاسٹ بولرز کی کارکردگی کی وجہ سے ان کی ٹیم ٹاپ پر ہے تو ایسی ہی پلاننگ کی ضرورت ہے، ٹیم پلاننگ اور ایڈجسٹمنٹ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ اس میں پہاڑ کاٹنا پڑے مشکل کام ان کے لیے ہے جو پلاننگ نہیں کرپاتے، آپ کو پاور پلے کا درست استعمال آنا چاہیے۔

یونس خان نے کپتان بابراعظم کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آج جو بابر کی کپتانی کی ہر پلیٹ فارم پر باتیں ہورہی ہیں میرے خیال میں یہ اتنا مشکل کام نہیں ہے، پہلے آپ کو ایک اچھی ٹیم سلیکٹ کرکے فرنٹ سے لیڈ کرنا ہے، آپ مثال بنیں پلیئرز خود ہی آپ کو فالو کریں گے، دوسری جانب اپنی بیٹنگ کرتے وقت پوری توجہ محض اپنی بیٹنگ پر دیں اور جب کپتانی کا رول ادا کرنا ہے ٹیم کھلانی ہے تو اس وقت اپنی لیڈنگ شپ کوالیٹیز دکھائیں، یہاں یہ نہیں سوچنا کہ آپ کی بیٹنگ کے وقت رنز بنے ہیں یا نہیں، سنچری بنائی ہوئی ہے یا نہیں اس وقت آپ کو اپنا رول کپتانی کا ادا کرنا ہے۔

’زندگی میں دوستی اور دشمنی بھرپور نبھائی‘، عمران خان کا ساتھ دینے کے سوال پر شیخ رشید کا جواب

اسلام آباد: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا ساتھ دینے سے متعلق سوال پر کہا کہ انہوں نے دوستی اور دشمنی بھرپور نبھائی ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی سپریم کورٹ آمد پر صحافیوں نے ان سے سوالات کیے۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ شیخ صاحب چِلہ پورا ہوگیا؟ اس پر شیخ رشید نے کہا کہ چِلہ تو پوار ہوگیا مگر اس کے اثرات ابھی تک ہیں۔

صحافی نے پوچھا کہ شیخ صاحب چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں یا ہتھیار ڈال دیے؟ اس پر سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ اللہ کے فضل سے زندگی میں دوستی اور دشمنی دونوں ہی بھرپور نبھائی ہے۔

رشمیکا مندانا جعلی ویڈیو کیس؛ پولیس نے ملزم کا پتا لگالیا

نئی دہلی: تامل فلموں کی خوبرو اداکارہ رشمیکا مندانا نامناسب ڈیپ فیک (جعلی) ویڈیو کیس میں دہلی پولیس نے ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے ملزم کا سُراغ لگا لیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی پولیس نے رشمیکا مندانا ڈیپ فیک ویڈیو کیس میں ریاست بہار کے 19 سالہ نوجوان سے پوچھ گچھ کی ہے جو گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس کو شبہ ہے کہ نوجوان نے سب سے پہلے رشمیکا مندانا کی ڈیپ فیک ویڈیو کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیا اور پھر بعد میں اس ویڈیو کو سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔

نوجوان نے پوچھ گچھ کے دوران دہلی پولیس کو بتایا کہ اُس نے رشمیکا مندانا کی ڈیپ فیک ویڈیو انسٹاگرام کے ایک اکاوْنٹ سے ڈاوْن لوڈ کی تھی۔

اس سلسلے میں پولیس آفیسر نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ بہار کے رہنے والے نوجوان کو IFSO (انٹیلی جنس فیوژن اور اسٹریٹجک آپریشنز) یونٹ کے سامنے پیش ہونے اور وہ موبائل فون ساتھ لانے کو کہا گیا ہے جس کو ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی اداکارہ رشمیکا مندانا کی لفٹ میں نازیبا لباس پہنے داخل ہوتے ہوئے ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہیں نامناسب انداز میں کپڑے تبدیل کرتے ہو ئے دکھایا گیا تھا، جو ویڈیو زارا نامی خاتون کی تھی، رشمیکا مندانا نے جعلی ویڈیو کو ’ انتہائی خوف زدہ ‘ کرنے والا عمل قرار دیا تھا۔

رشمیکا مندانا کی ویڈیو وائرل ہونے کے دو روز بعد ہی بالی ووڈ کوئین کترینہ کیف کی بھی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے تیار کردہ نامناسب جعلی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔

جعلی تصاویر اور ویڈیوز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ابھی بھارتی حکومت حرکت میں آئی ہی تھی کہ سارہ ٹنڈولکر اور بھارتی کرکٹر شبمن گِل کی بھی جعلی تصویر منظرِ عام پر آگئی تھی۔

پیپلزپارٹی کا کراچی میں بلدیاتی کاموں کے ذریعے انتخابات جیتنے کا منصوبہ

کراچی کوعام انتخابات میں فتح کرنے کے لئے پیپلزپارٹی نے حکمت عملی مرتب کرلی.

شہرمیں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو ٹاسک دیا گیا ہے تیزی کے ساتھ ترقیاتی کام کرائیں جائیں۔ عوامی رابطہ مہم کو تیز کیا جا ئے ان تمام امور کو حلقہ بندیوں میں مبینہ طورپراہم کردار ادا کرنے والے سینئر رہنما سعید غنی دیکھ رہے ہیں۔

اس سلسلے میں انہوں نے بلدیاتی چیئرمینز سے ملاقات کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے. پیپلزپارٹی شہرمیں قومی اسمبلی کی دس سے زائد نشستیں جیتنے کے لئے پرامید ہے پارٹی کی اعلی قیادت نے بھر تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے.

پیپلزپارٹی ضلع وسطی ، کورنگی ، شرقی ، جنوبی اور غربی میں بھرپور قوت کے ساتھ میدان میں اترے گی جبکہ انیس نومبر کو ضلع وسطی بڑا پاور شو بھی کیاجا ئیں گا.

کراچی میں الیکشن کی ساری مینجمنٹ کی ذمہ داری اعلی قیادت نے سابق صوبائی وزیرسعید غنی کودی ہے سعید غنی ساری حکمت عملی بنا ر ہے ہیں.

اس سلسلے میں سعید غنی نے کراچی چاروہ اضلاع جہاں ماضی میں پیپلزپارٹی کا کامیابی نہیں ملی ان کو ہدف بنایا گیا جس میں ضلع شرقی، وسطی ، کورنگی اورجنوبی شامل ہے.

کیماڑی غربی اورملیر میں پیپلزپارٹی کا ووٹ بنک ما ضی بھی تھا جبکہ جنوبی میں لیاری کی نشست بھی پیپلزپارٹی شکست کھا گئی تھی جس پرچیئرمین بلاول بھٹو الیکشن لڑرہے تھے.

اس بار پیپلزپارٹی نے ضلع جنوبی کی نشستوں پربھرپور انداز سے تیاری شروع کی ہے . پیپلزپارٹی کے ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ اس بار ضلع جنوبی کی تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کریں گے اسی طرح پیپلزپارٹی نے کورنگی کی قومی اسمبلی کی نشست کو بھی فتح کر نے کا دعوی کیا گیا۔

اسی طرح ضلع وسطی کی میں ایک قومی اسمبلی کی نشست کے لئے بھی کوشش کی جا رہی ہے اور اورنگی ٹاؤن کی قومی اسمبلی کی نشست پر بھی کام کیاجا رہا ہے۔

کراچی میں بائیس قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے پیپلزپارٹی دس سے پندرہ نشستوں کو کامیابی کےلئے کوشاں ہے۔

سعید غنی نے کر اچی میں منتخب پیپلزپارٹی کے تیرہ ٹاؤن چیئرمینز کو ٹاسک دیا ہے کہ اپنے اپنے ٹاونز میں تیزی کے ساتھ ترقیاتی کام کرائیں اور عوامی رابطہ مہم کو تیز کریں۔

پیپلزپارٹی کے چیئرمینز پیپلزپارٹی کے علاقائی عہدیدارن کے ساتھ برداریوں ، تاجروں سے مللاقاتیں کرے اور ان کے مسائل کر ے ۔ حالیہ دنوں میں پیپلزپارٹی میں ضلع وسطی سے اہم کاروبائی شخصیات نے شمولیت اختیار کی تھی جن کو قومی صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ بھی جا ری کئے جا ئیں گے

ضلع شرقی کی دو قومی اسمبلی نشستوں پر پیپلزپارٹی کے حلقوں کی جانب سے فتح کر نے کا دعوی کیا ہے

پیپلزپارٹی کراچی میں ان نشستوں کو حاصل کرنے کی کوششش میں مصروف ہے جو ماضی میں ایم کیوایم کی تصور کی جاتی تھیں تاہم دوہزار اٹھارہ میں تحریک انصاف نے وہ نشستیں جیتیں۔

شہر میں حلقہ بندیوں میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کر نے والے سعید غنی کو اسی لئے ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ کر اچی کے تمام حلقوں کی معلومات رکھتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ کیماڑی ، ملیر، بلدیہ ، لیاری ، کلفٹن کی نشستیں آسانی کے ساتھ فتح کر لیں گے جبکہ دیگر نشستوں کے لئے حکمت عملی بنالی گئی ہے ۔ کراچی میں پچیس سے زائد صوبائی اسمبلیوں پر بھی فتح حاصل کرلیں گے

بلاول بھٹو صاحب ہمیں نہ ہی چھیڑیں تو بہتر ہے، خواجہ سعد رفیق

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بیان کا جواب دے دیا۔

رہنما (ن) لیگ خواجہ سعد رفیق نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نہ ہی چھیڑیں تو بہتر ہے۔ آپ نے سوال اٹھایا ہے تو جواب بھی سن لیں۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ میرے خاندان یا میں نے کبھی منہ نہیں چھپایا اور نہ ہی انگریز، ایوب خان اور یحیٰی خان کی کاسہ لیسی کی۔ ہم نے گزشتہ 80 برس میں خضر حیات ٹوانہ سے لے کر قمر جاوید باجوہ تک سب کی جیلیں بھگتی ہیں۔
(ن) لیگ کے رہنما نے مزید کہا کہ میرے والد نے بھٹو مرحوم کی سول آمریت میں جان دی۔ ضیآ آمریت میں مجھے 3 بار جیل جانا پڑا۔ مشرف آمریت سے لڑے، جیلیں کاٹیں اور جسمانی تشدد سہا۔ عمران خان، قمر باجوہ اور ثاقب نثار کا نقاب پوش مارشل لأ بھی بھگتایا۔ بطور وزیر اپنے کام پر ضمیر مطمئن ہے۔

کھاد سبسڈی اور بینظیر انکم سپورٹ کیلئے مزید رقم دینے سے وفاق کا انکار

وفاقی حکومت نے کھاد سبسڈی اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لئے رقم دینے سے انکار کردیا۔

وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ، جو مختلف امور پر خصوصی سرمایہ کاری کونسل (ایس آئی ایف سی) کی چھتری تلے صوبوں کے ساتھ فعال طور پر مصروف عمل ہے جب کہ وزارت یوریا سبسڈی اور بی آئی ایس پی فنڈ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے تیار ہے۔

ذرائع نے کہا کہ پالیسی معاملات کو نگراں حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کی منظوری سے مشروط کر سکتی ہے۔

سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے صوبائی سیکرٹری خزانہ کے ساتھ حالیہ ملاقات میں میں کہا کہ چونکہ یہ دونوں معاملات صوبوں کو تفویض کیے گئے ہیں لہٰذا اب یہ ان ہی کی ذمہ داری ہے۔

یوریا سبسڈی کے بارے میں وفاقی سیکرٹری صنعت و پیداوار نے شرکاء کو بتایا کہ ملک میں یوریا کی کم از کم سالانہ ضرورت دو لاکھ میٹرک ٹن ہے جس پر تقریباً 82 ملین امریکی ڈالر لاگت آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت یوریا پر سبسڈی دینے کی پوزیشن میں نہیں، چونکہ زراعت صوبائی معاملہ ہے، لہٰذا سبسڈی کا بل صوبوں کی جانب سے 100 فیصد برداشت کیا جانا چاہیے۔

سیکرٹری صنعت و پیداوار کا کہنا تھا کہ آئندہ سیزن یوریا کی درآمد کے لئے آرڈر دینے کی اشد ضرورت ہے، صوبوں کو یوریا کی اپنی ضرورت کو پورا کرنے اور سبسڈی ادا کرنے کی ضرورت ہے، یہ معاملہ پہلے بھی کئی بار صوبوں کے ساتھ اٹھایا گیا تھا لیکن وہ فیصلہ نہیں کر سکے۔

سیکریٹری خزانہ سندھ کاظم حسین جتوئی نے بتایا کہ محکمہ زراعت کی جانب سے سی ایف وائی کے دوران یوریا پر 100 فیصد اور گزشتہ مالی سال کے لیے 50 فیصد سبسڈی دینے کی تجویز کی سمری وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کردی گئی تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ گزشتہ سال کے دوران وفاق نے یوریا کی درآمدی ضروریات کے حوالے سے سندھ سے مشاورت نہیں کی۔

اسپیشل سیکرٹری خزانہ خیبر پختونخوا محمد آصف رشید نے تجویز پیش کی کہ یوریا کی درآمد کی ضرورت کے حوالے سے صوبائی حکومت سے مشاورت کی جائے۔

سیکرٹری صنعت و پیداوار نے واضح کیا کہ متعدد وفاقی حکومت صوبوں کی کم از کم ضرورت کے مطابق یوریا درآمد کرے گی، حکومت گھریلو یوریا پر سبسڈی دینے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ گیس کی کمی کی وجہ سے مقامی یوریا کی پیداوار بھی آر ایل این جی پر منتقل کی جارہی ہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے حوالے سے وفاقی سیکریٹری خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر خزانہ کی صوبائی وزرائے خزانہ سے ملاقات کے دوران اس بات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا کہ سماجی تحفظ صوبائی موضوع ہے، لہٰذا صوبے بی آئی ایس پی پر ہونے والے اخراجات میں حصہ لے سکتے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بی آئی ایس پی کے تحت دو طرح کی اسکیمیں ہیں، یعنی مشروط نقد منتقلی اور غیر مشروط نقد منتقلی۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مشروط نقد رقم کی منتقلی کی گئی جو صوبائی موضوعات تھے۔

اسپیشل سیکریٹری خزانہ خیبر پختونخوا نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو مالی چیلنجز کی وجہ سے بی آئی ایس پی سے وابستہ اخراجات کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹریکٹرز کی فروخت میں سالانہ اضافہ، کاروں میں کمی

اسلام آباد: ملک میں ٹریکٹرز کی فروخت میں رواں مالی سال کے پہلے4 ماہ کے دوران سالانہ بنیادوں پراضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔

آل پاکستان آٹومینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے اعدادو شمار کے مطابق جولائی سے اکتوبر تک کی مدت میں ملک میں اے جی ٹی ایل کے 7ہزار105یونٹس اور ایم ٹی ایل کے 10 ہزار 191یونٹس ٹریکٹرز کی فروخت ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں بالترتیب 56 فیصد اور 117 فیصد زیادہ ہے۔

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملک میں اے جی ٹی ایل کے 4ہزار561یونٹس اور ایم ٹی ایل کے 4 ہزار 697 یونٹس ٹریکٹرز کی فروخت ریکارڈ کی گئی تھی، اکتوبر میں اے جی ٹی ایل کے 2ہزار202یونٹس اورایم ٹی ایل کے 3 ہزار4یونٹس کی فروخت دیکھنے میں آئی جو ستمبر کے مقابلے میں بالترتیب 5فیصد اور 4فیصد کم ہے۔