All posts by Khabrain News

خیبر کے علاقے تیرہ میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 3 دہشت گرد ہلاک

تیراہ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق خفیہ معلومات پر سیکیورٹی فورسز کی جانب خیبر کے علاقے تیراہ میں آپریشن کیا گیا، اس دوران دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوگیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں تین دہشت گرد مارے گئے، ہلاک دہشت گردوں میں کفایت عرف طور بھی شامل ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ تیراہ میں کارروائی دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کی گئی تھی، مارے گئے دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مختلف قسم کی دہشت گردی کی کاروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں بھی ملوث تھے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں ممکنہ باقی ماندہ دہشت گردوں کی تلاش اور خاتمہ کا آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسزملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمہ کے لئے پرعزم ہیں۔

190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 12 اکتوبر تک توسیع

جعلی رسیدیں کیس کی سماعت میں پیشی کے سابق خاتون اول بشریٰ بی بی لاہور سے اسلام آباد کے روانہ ہوگئی ہیں، جب کہ احتساب عدالت نے بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 12 اکتوبرتک توسیع کر دی ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی۔

بشریٰ بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ عدالت میں استدعا کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ نیب نے بشریٰ بی بی کی گرفتاری فل الحال مطلوب نہ ہونے کا بیان دیا، ہمیں لفظ فی الحال پراعتراض ہے۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ نیب کا ارادہ تبدیل ہونے پرعدالت کے ذریعے آگاہ کیا جائے کیونکہ حفاظتی ضمانت بنیادی حق ہے۔

نیب پراسیکیوٹر نے وکیل کے بیان پر مخالفت کرتے ہوئے کہا مؤقف اختیار کیا کہ کوئی قانون نہیں کہ کسی ملزم کو گرفتاری سے قبل آگاہ کیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ بشریٰ بی بی کوتوشہ خانہ کے زیورات پیش کرنے کا کہا گیا ہے یہ تفتیش میں تعاون کریں۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 12 اکتوبر تک توسیع کردی۔

اس سے قبل اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جعلی رسیدیں کیس کی سماعت ہوئی، جج طاہرعباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے بشریٰ بی بی کی ضمانت پر دلائل کا وقت مقررکرنے کی استدعا کی، اور مؤقف پیش کیا کہ بشریٰ بی بی لاہورسے اسلام آباد کیلئے روانہ ہیں۔

عدالت نے بشریٰ بی بی کیخلاف کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔

جعلی رسید کیس میں بشریٰ بی بی کیخلاف تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

دوسری جانب احتساب عدالت میں بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کچھ دیر بعد ہوگی۔

بشریٰ بی بی کے وکلاء احتساب عدالت پہنچ گئے ہیں، بشریٰ بی بی کے پہنچنے پر احتساب عدالت میں سماعت کا آغاز ہوگا۔

احتساب عدالت کے باہر اسلام آباد پولیس کی سخت سیکیورٹی تعینات کردی گئی ہے۔

سندھ میں ملیریا بے قابو، ایک ہی روز میں 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

کراچی سمیت صوبےت بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملیریا کے 5 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو گئے۔

سندھ بھرمیں ملیریا کا مرض پھیلنے لگا، ایک ہی دن میں مزید 5 ہزار 185 مریض رپورٹ ہوگئے ہیں جس کے بعد صوبے میں رواں سال ملیریا کیسز کی تعداد 3 لاکھ 52 ہزار 238 ہوگئی۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حیدرآباد ڈویژن میں 2 ہزار 243، لاڑکانہ میں ایک ہزار 490، میر پور خاص میں 949، سکھر 283، شہید بینظیر آباد میں 195 ، اور کراچی میں 25 کیسز رپورٹ ہوئے۔

کراچی کے ضلع ملیر میں 12، کورنگی میں 9، ضلع وسطی، شرقی، جنوبی اور ضلع غربی میں ایک، ایک کیس سامنے آیا۔

سندھ میں رواں سال ملیریا کیسز کی تعداد 3 لاکھ سے تجاوز کر گئی جب کہ 2023 میں ملیریا کے سبب 2 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

خاور مانیکا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر اینٹی کرپشن پنجاب کے حوالے

بشریٰ بی بی کے سابقہ شوہر خاور مانیکا کو 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کے حوالے کردیا گیا۔

اینٹی کرپشن کےمقدمے میں نامزد ملزم خاور مانیکا کواوکاڑہ کی مقامی عدالت میں پیش کیا گیا، اینٹی کرپشن پولیس نے عدالت سے 14 روزہ جسمانی کی استدعا کی۔

عدالت نے خاور ماینیکا کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منطور کرتے ہوئے انہیں اینٹی کرپشن پولیس کے حوالے کردیا۔

ریمانڈ ملتے ہی اینٹی کرپشن کی ٹیم خاور مانیکا کو لے کر ساہیوال روانہ ہوگئی۔

انٹربینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر مزید سستا ہوگیا

 کراچی: امریکی ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قدر کم ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل کے روز بھی انٹربینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر مزید سستا ہوگیا۔

کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مزید ایک روپے 08 پیسے کمی کے ساتھ 289 روپے 78 پیسے کی سطح پر آ گئی ۔ بعد ازاں گراوٹ کا رجحان جاری رہا اور دوپہر تک انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ایک روپے 22 پیسے کی کمی سے 289 روپے 64 پیسے ہو گئی۔

دریں اثنا اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر ایک روپے کم ہوکر 292 روپے کا ہوگیا۔

مایا علی کی خاندان کے ساتھ عمرے کی ادائیگی

مکہ مکرمہ: اداکارہ مایا علی نے خاندان کے ہمراہ عمرہ ادا کر لیا۔

اداکارہ مایا علی نے اپنی والدہ، بھائی، بھابھی اور بھتیجی کے ساتھ عمرہ ادا کیا اور تصاویر اپنے سوشل میڈیا پر شئیر کردیں۔

مایا علی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ہم طویل عرصے سے ایک ساتھ عمرہ ادا کرنے کی پلاننگ کررہے تھے اور بالآخر اللہ تعالیٰ  نے ہماری دعائیں سن لیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس مقدس مقام کی زیارت کرنے کا موقع عطا فرمائیں آمین۔

تصاویر میں مایا علی اپنی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ نظر آرہی ہیں۔ مایا علی کی خاندان کے ساتھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں اور صارفین نے انہیں عمرے کی سعادت حاصل کرنے پر مبارک باد دی۔

قمر باجوہ کے احتساب کا مطالبہ،مشاہد حسین کے بعد شاہدخاقان عباسی بھی بول پڑے

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے قمر جاوید باجوہ کے احتساب کے مطالبے پر اپنے ہی قائد نواز شریف کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر قمر جاوید باجوہ آپ کی راہ میں رکاوٹ تھے تو حکومت چھوڑ دیتے 16 ماہ آپ کی حکومت تھی تو احتساب کیوں نہیں کیا؟ یہ سوال شہباز شریف سے پوچھیں۔

انہوں نے کہا کہ قمر جاوید باجوہ کے بعد بھی آپ کو 8 سے 9 ماہ ملے، کام کرلیتے، اب اتنے وقت میں بہت فیصلے کرسکتے تھے کارکردگی بہتر ہوسکتی تھی۔

شاہد خاقان نے کہا کہ عوام کو احتساب سے سروکار نہیں وہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں، شہباز شریف سے پوچھنا چاہیے آپ کی حکومت تھی احتساب کرنا چاہیے تھا، شہباز شریف سے پوچھیں کہ 16 ماہ حکومت کی قمر باجوہ کا احتساب کیوں نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ معاملات پہلے بھی ہوئے اور بعد میں بھی ہوئے، قانوی حیثیت میں گئے تو کون شکایت کرے گا، کون مقدمہ لڑکے گا، فوج، جج، سیاست دان ساتھ بیٹھ کر آگے کے راستے کا تعین کریں، تین سال کے دوران ہر جماعت نے حکومت کی، کسی کے پاس صلاحیت ہے کہ معاملات حل کرے۔

ن لیگی رہنما نے کہا کہ آج ملک کا نقصان ہورہا ہے لوگ تکلیف میں ہیں سب کی ذمہ داری ہے کہ مسائل کا حل تلاش کریں، یقین کریں سب مل کر بیٹھیں گے تو لوگوں میں اعتماد کی فضا قائم ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ن لیگ کی مہربانی ہے کہ مجھے ٹکٹ دیتی ہے میں نے کبھی ٹکٹ نہیں مانگے۔

سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو 2 اکتوبر تک برآمد نہ کیا تو سخت کارروائی ہوگی لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ

راولپنڈی: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کو 2 اکتوبر تک برآمد نہ کیا تو سخت کارروائی   ہوگی، لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پولیس کو آخری مہلت دیدی۔

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں سابق وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد لاپتا کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے استفسار کیا کہ آپ نے ایک ہفتہ مانگا تھا، بتائیں کیا پیش رفت ہے؟۔ عدالت نے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) سید خرم علی کی سرزنش  کی۔

شیخ رشید کے وکیل نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ پولیس رابطہ کر کے پیش کش کر رہی ہے کہ شیخ رشید بیان دے دیں کہ وہ خود گئے، تو چھوڑ دیتے ہیں۔ ایس ایس پی آپریشن کی قیادت میں پولیس نے چھاپا مار کر گرفتار کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے ،پولیس گرفتار کر رہی ہے وہ عدالت منگوا سکتی ہے۔ علاقے کے قریبی رہائشی تمام سکیورٹی گارڈ بھی گرفتاری کے گواہ ہیں ۔

عدالت نے آر پی او سے استفسار کیا کہ آپ بیان حلفی دیتے ہیں کہ وہ (شیخ رشید سمیت تین افراد) پولیس پاس نہیں؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر تینوں مغوی راولپنڈی سے برآمد ہوگئے تو آپ کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

وکیل نے کہا کہ شیخ رشید کے بھتیجے شیخ شاکر، ملازم عمران کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، انہیں تو چھوڑ دیں ۔

عدالت نے کہا کہ آخری مہلت دے رہے ہیں، اور کسی کو نہیں بلائیں گے، آر پی او ہی برآمد کریں گے ۔ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس صداقت علی خان نے  کہا کہ آئندہ تاریخ 2 اکتوبر تک برآمد نہ کیا گیا تو سخت قانونی کارروائی ہوگی۔

بیرونی ممالک سے 10لاکھ ٹن گندم خرید لی گئی، 18بحری جہاز کراچی لائیں گے

لاہور:  پاکستان میں نجی شعبے کی جانب سے گندم امپورٹ کے عمل نے بیرون ملک 10 لاکھ ٹن خریداری کا بڑا سنگ میل عبور کر لیا ہے، سندھ، پنجاب کے امپورٹرز اور فلور مل مالکان نے دسمبر تک کراچی آمد کیلیے18 بحری جہاز بک کر لیے ہیں جبکہ مزید خریداری جاری ہے۔

ڈالر کی قدر میں کمی کے بعد امپورٹرز نے  گندم کی ایکس کراچی قیمت میں 500 روپے فی بوری کمی کردی ہے، جس کے بعد درآمدی گندم کی ایکس کراچی قیمت 4080 روپے فی من ہو گئی ہے، پنجاب میں مقامی (دیسی) گندم کی موجودہ قیمت کے مقابلے امپورٹڈ گندم 400 روپے فی من تک سستی ہونے کی وجہ سے فلورملز نے مقامی گندم کی خریداری کم کردی ہے۔

سندھ اور پنجاب کے فلورملز مالکان اور امپورٹرز پر مشتمل چھ گروپس اس وقت گندم امپورٹ کر رہے ہیں۔ کاروباری مسابقت اورڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کے تناسب سے امپورٹڈ گندم کی قیمت میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔

گزشتہ روز لاہور میں درآمدی گندم 4332 روپے فی من، راولپنڈی اسلام آباد 4400روپے میں پہنچ رہی تھی جبکہ رحیم یار خان میں درآمدی گندم کی قیمت4228 روپے اور پشاور میں قیمت4408 روپے فی من ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ مقامی گندم کی قیمت لاہور میں4650 روپے، راولپنڈی4750 ، رحیم یارخان4625  روپے ہے۔ لاہور میں بیس کلو آٹا تھیلا کی قیمت2750 روپے، راولپنڈی میں2720 روپے ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی کیپٹن (ر) محمود نے امپورٹڈ گند م کے معیار کو یقینی بنانے کیلئے ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایات جاری کردی ہیں

’’ لڑکے بھی مظلوم ہیں۔۔۔!‘‘

اب آپ کہیں گے کہ لڑکے مظلوم ہوتے ہیں تو ہوا کریں، یہ خواتین کے صفحے سے مرد حضرات یا لڑکوں کا کیا تعلق؟ تو جناب تعلق یہ ہے کہ ہم خواتین عموماً ایسا نہیں سمجھتیں اور اکثر ان کے مظلوم ہونے کا دوش بھی ہم خواتین پر کسی نہ کسی صورت آرہا ہوتا ہے۔

عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ صرف لڑکیوں ہی کو  ہر معاملے میں مظلوم تصور کیا جاتا ہے۔ کبھی لڑکیاں اس بات پر شور بھی کر رہی ہوتی ہیں کہ ان کو ان کا حق نہیں دیا جاتا، کبھی یہ گلہ کہ ان کو لڑکوں جیسی آزادی میسر نہیں، کبھی وہ اس بات پر شاکی رہتی ہیں کہ ان کو شادی کے لیے بھیڑ بکریوں کی طرح جانچا جاتا ہے۔

کبھی رنگ،کبھی قد، کبھی دبلے یا موٹے ہونے کی وجہ سے بے دردی سے مسترد کر دیا جاتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتیں کہ بہ ظاھر مضبوط نظر آنے والے لڑکے بھی تو مسترد کیے جاتے ہیں۔ جی ہاں ! مسترد صرف لڑکیوں ہی کو نہیں کیا جاتا، بلکہ لڑکے بھی ’مسترد‘ ہوتے ہیں اور وہ بھی اس تکلیف کو محسوس کرتے ہیں، ان کے بھی جذبات ہوتے ہیں، ان میں بھی روح ہوتی ہے۔

ان کے بھی احساسات ہوتے ہیں ، ان کا بھی دل دکھتا اور ٹوٹتا ہے ، لڑکوں کو بھی ان کی سانولی رنگت، کم آمدنی، قد، عمر، نوکری اور کاروبار کی وجہ سے مسترد کیا جاتا ہے، لیکن شور زیادہ لڑکیوں ہی کا زیادہ مچتا ہے کہ ہم کوئی بھیڑ بکریاں ہیں، جو ہماری نمائش کی جاتی رہتی ہے۔  جب جب کسی لڑکے کا رشتہ دیا جاتا ہے، تب تب وہ لڑکا بھی ایک دباؤ اور ٹینشن میں آ جاتا ہے، مختلف قسم کے چونکا دینے والے سوال اس کو حیران اور پریشان کر دیتے ہیں۔

رشتے کے معاملات کرنے والی خواتین جہاں اپنے بیٹے کی حیثیت اور شخصیت دیکھے بغیر بہت اونچی جگہ ہاتھ مارنے کی خواہاں ہوتی ہیں، بالکل ایسے ہی لڑکوں کو رد کرنے والی بہت سی مائیں اور لڑکی کی بہنیں بھی  کچھ ایسے ہی رویے اختیار کرنے لگتی ہیں۔

بالخصوص جب اللہ نے ذرا حُسن دیا ہوا ہو، عمر ابھی کم ہو، پھر روپیے پیسے کی فراوانی ہو تو آپ دیکھیے کیسے توقعات بلندترین  ہوتی ہیں۔

یہاں بھی بالکل ایسے ہی کسی آسمان سے اترے شاہ زادے سے کم پر قبولیت نہیں ہوتی۔  بار بار جتایا جاتا ہے کہ ہماری بچی تو اتنی پڑھی لکھی ہے، یا اس میں فلاں فلاں گُن ہیں، ناک بھوں چڑھائی جاتی ہے اور احساس دلایا جاتا ہے کہ آپ کے لڑکے کی اتنی مالی حیثیت نہیں، یا اس کا رنگ صاف نہیں یا قد چھوٹا ہے وغیرہ وغیرہ۔

’’ اتنی جلدی کیا ہے شادی کی ؟‘‘ یہ وہ سوال ہے کہ آدمی سوچتا ہے کہ جب اللّہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ نکاح میں دیر مت کرو، تو اس سوال کی کیا تک بنتی ہے۔

اگر لڑکا 30 سال تک شادی نہ کرے، تو وہ کچھ لوگوں کی نظر میں زندگی انجوائے کر رہا ہوتا ہے اگر ایسے میں کوئی لڑکا چاہے کہ بائیس یا تئیس کی عمر میں اس کی شادی کر دی جائے، تاکہ وہ غلط صحبت سے بچا رہے، تو اکثر اس کے والدین ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

کہ پہلے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو یا یہ کہ پہلے بیٹیوں کی شادی ہوگی پھر بیٹوں کی۔ اور اس انتظار میں نہ صرف یہ کہ لڑکے بری لتوں میں پڑ جاتے ہیں، بلکہ وہ رشتہ کراتے وقت پھر اسی طرح مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں جیسا کہ کوئی لڑکی ہوتی ہے۔گھر کے اخراجات پورے کرنا، معاشی کفالت اور خوشی وغمی کے تقاضاے نبھاتے نبھاتے شاید گھر والے ہی بھولنے لگتے ہیں کہ اس بیٹے کا بھی گھر بسنا ہے۔

’’ماں باپ کے ساتھ رہو گے؟‘‘ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آپ اپنے لیے کچھ اور، اور داماد کے لیے کچھ اور چاہیے۔ اپنے بیٹے اور بہو کو ہمیشہ ساتھ رکھنا چاہتے ہیں اور ہونے والے داماد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ماں باپ سے الگ گھر لے۔ کبھی لڑکوں کی ملازمت یا کاروبار لڑکی والوں کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ ملازمت کرتا ہے تو کاروبار کیوں نہیں کرتے؟ اور کاروبار کرتا ہے تو اتنا پڑھ لکھ کر کوئی اچھی بے فکری کی ملازمت کیوں نہیں کی؟ کبھی لڑکے کا خاندان بڑا لگتا ہے کہ ہماری بیٹی کیسے رہے گی؟ کتنا کام کرنا پڑے گا تو کبھی لڑکے کے اکلوتے ہونے پر اعتراض ہوتا ہے کہ ساری زندگی ہی ساس، سسر کی خدمت میں گزر جائے گی۔

کبھی زیادہ بہنیں سمجھ نہیں آتیں کہ اگر ایک طعنہ ایک بہن نے دیا ، ایک طعنہ ایک بہن نے تو چار یا پانچ طعنے ہو جائیں گے ۔ اور وہ لڑکا جو بڑے اعتماد کے ساتھ شادی کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔ بار بار مسترد ہونے کی وجہ سے اپنا اعتماد کھو دیتا ہے۔ اور گھبرا جاتا ہے کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ ایسے میں بزرگوں کو بہت سنبھالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یوں تو اللّہ تعالیٰ نے جہاں جوڑ لکھا ہے وہاں ہی شادی ہوتی ہے، مگر عجیب وغریب وجوہات جو انکار کا سبب بنتی ہیں ان سے لڑکے بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس لیے رشتے کرتے وقت صرف لڑکیوں کا ہی نہیں بلکہ لڑکوں کے دلوں کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ کیوں کہ مرد تو رو بھی نہیں سکتے۔ اس لیے ان کے احساسات و جذبات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔

لڑکے ہوں یا لڑکیاں رشتے طے کرنے کا ہمارے ہاں یہ ایک نظام ہے، جسے سلیقے سے کیجیے تو ایک خوب صورت رواج بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اللّہ تعالیٰ نے سب کے جوڑے بنائے ہیں اور ان تک پہنچنے کا یہ ایک باعزت طریقہ ہے کہ گھر بیٹھے آپ لڑکیوں کو دیکھنے آتے ہیں، آپ بہت زیادہ انتظام نہ کیجیے، تھوڑی بہت خاطرمدارت کافی ہے۔

ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک کے لیے بہت لمبا چوڑا دسترخوان لگایا جائے اور اکثریت کا مقصد دل آزاری یا مسترد کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اکثر ہی سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے کہیں کوئی خامی نہیں ہوتی، مگر کبھی دل نہیں ٹُھکتا۔ عجیب بے چینی اور گھبراہٹ ہوتی ہے اور چاہ کر بھی رشتہ نہیں کر پاتے۔ یہ سب بہانے ہوتے ہیں، بس جب جوڑ مل جائے، تو نہ قد چھوٹا لگتا ہے اور نہ ہی کوئی خامی، خامی لگتی ہے سب کچھ بالکل مناسب لگتا ہے اور اللّہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے جوڑے مل جاتے ہیں۔

ان تمام حقائق کے باوجود ہم یہ نہ کریں کہ بے رخی سے ان معاملات کو دیکھتے رہیں کہ جہاں ہونا ہوگا، خود ہی ہوجائے گا۔ نہیں! اللہ نے آپ کو عقل بھی دی ہے۔ نیک نیتی اور خلوص سے جائزہ لیا کیجیے، بیٹا ہو یا بیٹی، داماد ہو یا بہو، ہر دو صورتوں میں فریقین کے جذبات کا خیال رکھنا ازخد ضروری ہے۔