All posts by Khabrain News

اگر ہم آسٹریلیا کو ٹیسٹ میں شکست دیں تو وہ اپ سیٹ نہیں ہوگا، سرفراز احمد

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹر سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ مجھے یا محمد رضوان جسے بھی موقع ملے گا توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔

سڈنی میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ شان مسعود کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر ہونے پر مبارک باد دیتا ہوں، وہ ٹیم کو اچھی طرح لیکر چل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کپتانی کرنا اعزاز ہوتا ہے، شان مسعود کو ڈائریکٹر محمد حفیظ، بابراعظم سمیت تمام کھلاڑی سپورٹ کر رہے ہیں۔

سابق کپتان نے کہا کہ آسٹرہلیا میں اچھی کرکٹ کھیلنا اور جیتنا ہدف ہے، بلاشبہ آسٹریلیا اپنے ملک میں ہمیشہ ہی ٹف ہے، لہٰذا انہیں ٹف ٹائم دینے وار ڈیوڈ وارنر کو ان کے آخری ٹیسٹ میں بھی جلد آؤٹ کرنے کی کوشش کریں گے۔

چیف سلیکٹر کی دوستی یاری پڑگئی بھاری

اگر آپ پوچھیں میرے صحافتی کیریئر کا بدترین لمحہ کون سا ہے تو میں ایک منٹ کا انتظار کیے بغیر بتا دوں گا کہ وہ دن جب پاکستانی کرکٹرز کو لندن میں سزا ہوئی، میں ان دنوں انگلینڈ گیا ہوا تھا۔

ایک دن اچانک اسپاٹ فکسنگ کیس کی کارروائی دیکھنے کیلیے کراؤن کورٹ جانے کا ارادہ کر لیا، اتفاق سے اسی دن تینوں کھلاڑیوں کو سزائیں سنائی گئیں اور پولیس کی گاڑی میں جیل بھیج دیا گیا، جب میں عدالت سے باہر آیا تو وہاں موجود گورے اور بھارتی صحافیوں کو پاکستان کا مذاق اڑاتا پایا، اس دن غصے اور افسوس کے عالم میں واپس گیا۔

بلاشبہ 2010-11 پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین سال تھے، اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں اس وقت کے کپتان سلمان بٹ،محمد آصف اور محمد عامر کو جیل کی ہوا کھانا پڑی تھی، وہاب ریاض کو بھی اپنے ’’جیکٹ‘‘ کی وجہ سے اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا تاہم ان پر کوئی الزام عائد نہیں ہوا،13 سال بیت گئے آج بھی یہ سب باتیں کل کا ہی قصہ لگتی ہیں، میں تو انھیں فراموش نہیں کر پایا لیکن افسوس دیگر بھول گئے، وہاب ریاض نے چیف سلیکٹر بننے کے بعد اپنی ٹیم میں سلمان بٹ کو بھی بطور مشیر شامل کر لیا، طویل عرصے بعد انھیں پاکستانی کرکٹ سیٹ اپ میں شمولیت کا موقع ملا، یقینا ہر انسان غلطیاں کرتا ہے اور اسے سزا بھی ملتی ہے، دوسرا موقع سب کو ملنا چاہیے لیکن سلمان کا معاملہ مختلف تھا۔

انھوں نے برسوں یہ تسلیم ہی نہیں کیا کہ فکسنگ میں ملوث رہے تھے،پھر جب مانے تب بھی انداز معذرت خواہانہ نہ تھا،کرکٹ ان کی روزی روٹی ہے، وہ ٹیلی ویژن چینلز پر تبصروں سے اچھی خاصی رقم کما لیتے ہوں گے، ساتھ میں کوئی اورکام بھی کر سکتے ہیں لیکن سلیکشن مشیر بنا کر ہم اپنے نوجوانوں کو کیا پیغام دے رہے تھے؟ کوئی سزا یافتہ فکسر کیسے کرکٹرز کی قسمت کا فیصلہ کر سکتا تھا؟ محمد حفیظ ساری زندگی ’’سزا یافتہ کرکٹرز کے ساتھ نہیں کھیلوں گا‘‘ کا راگ الاپتے رہے، وہ کیسے سلمان بٹ کے سلیکٹر بننے پر تیار ہو گئے؟

انھوں نے تو گذشتہ دنوں یہ تک کہا تھا کہ ’’میں نے عامر کو فون کر کے ریٹائرمنٹ واپس لے کر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی ہدایت دی‘‘ کہاں گئے وہ اصول؟ یقینا لوگ یہ کہنے پر حق بجانب تھے، سب کی طرح میرے ذہن میں بھی ایسے سوال آئے لیکن جلد ہی ان کا جواب مل گیا، حفیظ اپنے امیج کے حوالے سے خاصے محتاط ہیں، انھوں نے سلمان کی تقرری پر بھرپور احتجاج کیا، اعلان والے دن اور پھر اگلے روزاعلیٰ حکام کو کئی کالز کیں، یہ خطرہ تک ہو گیا تھا کہ کہیں وہ ٹیم کو چھوڑ کر وطن واپس نہ آ جائیں لیکن پی سی بی نے سلمان بٹ کے تقرر کا فیصلہ واپس لے کر بحران کو ٹال دیا۔

اعلیٰ حکومتی شخصیات نے بھی اس تقرری کو پسند نہیں کیا تھا، حفیظ نے پہلے ہی وہاب کو خبردار کیا تھا کہ ایسا نہ کرنا بڑا مسئلہ ہو جائے گا لیکن وہ نہ مانے، ویسے بھی وزیر یا مشیر وہ جو بھی ہیں اس نے ’’کرسی‘‘ کی طاقت ان پر حاوی کر دی ہے، اب چیف سلیکٹر بھی بن گئے، جس طرح وہ میڈیا کانفرنس میں کرسی پر جھوم رہے تھے،اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انھیں غلطی پر کوئی پچھتاوا نہیں تھا،انھوں نے اپنی دوستی کو ترجیح دیتے ہوئے سلمان کوذمہ داری سونپی،ایک اور رکن کامران اکمل پر بھی کیریئر میں کئی بار الزامات عائد ہوئے لیکن کبھی کچھ ثابت نہیں ہو سکا،تیسرے مشیر راؤ افتخار انجم کوچ بھی ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں سابق ٹیسٹ کرکٹرز کی کمی ہو گئی کہ آپ کو ایسے سلیکشن کنسلٹنٹ بنانا پڑے جن پر ہمیشہ انگلیاں اٹھتی رہتیں، ہم بابر اعظم کو طعنے دیتے رہے کہ بطور کپتان دوستی یاری نبھائی لیکن پاکستان میں تو کلچر ہی یہی ہے، ذکا اشرف شریف انسان ہیں، وہ جسے ذمہ داری سونپیں پھر اس کے کام میں دخل نہیں دیتے اور اسے اپنی ٹیم بنانے کا بھی پورا موقع دیا جاتا ہے، انھوں نے محمد حفیظ اور وہاب ریاض دونوں کو فری ہینڈ دیا جس کی وجہ سے ایسے فیصلے سامنے آئے، البتہ لوگوں کو حقائق کا علم نہیں ہوتا وہ تو سب کچھ چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی کے کھاتے میں ہی ڈال رہے ہوتے ہیں۔

اس لیے انھیں ہر معاملے کو خود بھی دیکھنا چاہیے، آپ ٹیم مینجمنٹ بھی دیکھ لیں، ضد کر کے 18 کرکٹرز کے ساتھ 17 افراد کی منظوری لی گئی، سائمن گرانٹ ہیلموٹ نے ایسے کون سے تیر مارے کہ انھیں ہائی پرفارمنس کوچ کا عہدہ مل گیا، شاہد اسلم اور منصور رانا کی نجانے کیا قابلیت ہے کہ کبھی منیجر کبھی نائب کوچ ، کبھی بیٹنگ کوچ تو کبھی اسسٹنٹ ٹیم منیجر بن جاتے ہیں، جب نوید اکرم چیمہ منیجر بن گئے تو ان کے نائب کی کیا ضرورت تھی؟ ان میں سے بیشتر آفیشلز محمد حفیظ سے قربت رکھتے ہیں، ان کیلیے بہت بھاری بھرکم پیکیج تیار کیا جا رہا ہے،وہ خود کہہ چکے کہ نتائج کی ذمہ داری بھی لیں گے لیکن یہ سوچنا چاہیے کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، کیا ہم ایسی فضول خرچی افورڈ کر سکتے ہیں۔

کھلاڑی این او سی کے معاملے پر ناخوش ہیں، میں اس بات کے حق میں ہوں کہ پہلی ترجیح ملک کو ہی دینا چاہیے لیکن آپ حارث رؤف سے کیسے یہ امید کر رہے ہیں کہ وہ آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ سیریز میں وکٹیں اڑائیں گے، انھوں نے ایک سال سے کوئی چار روزہ میچ نہیں کھیلا،ورلڈکپ میں 10 اوورز کر کے ہانپنے لگتے تھے، چلیں آپ ان سے دن میں 10 اوورز ہی کرائیں گے باقی 80 اوورز فیلڈنگ بھی تو کرنا پڑے گی، حارث ٹی ٹوئنٹی کے ہی بولر ہیں، زور زبردستی سے آپ ٹیسٹ کھلا تو لیں گے پرفارمنس کیسے سامنے لائیں گے۔

اب انھیں نشان عبرت بنانے کیلیے بگ بیش کا این او سی بھی روک لیا، دیگر کھلاڑیوں کو بھی لیگز کی اجازت نہیں دی جا رہی، اچھا ہے حفیظ نے اپنی غلطیوں سے خود سبق سیکھ لیا،ورنہ 2021 میں ٹی10 لیگ ایک دن پہلے چھوڑ کر آنے کے معاملے پر ان کا بورڈ سے اختلاف ہوا اورانھیں جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز سے باہر ہونا پڑا تھا،2019 میں حفیظ کا ٹی 10 لیگ کے این او سی پر ہی پی سی بی کے ساتھ تنازع ہوا تھا، کھلاڑی ملک کا اثاثہ ہیں،ان کے ساتھ اچھا سلوک ہونا چاہیے۔

ایسا تاثر نہ دیں کہ ایک سخت گیر ہیڈ ماسٹر آ گیا ہے اب سب کی خوب خبر لے گا، سلیکٹرز،کوچز اور مینجمنٹ میں شامل بیشتر افراد کو کرکٹ چھوڑے زیادہ عرصہ نہیں گذرا انھیں اپنا وقت یاد رکھتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے، اسی صورت ٹیم کا ماحول اچھا رہے گا اور مثبت نتائج سامنے آسکیں گے،ابھی پہلی آزمائش تو دورئہ آسٹریلیا ہے،امید یہی کی جانی چاہیے کہ ٹیم وہاں اچھا پرفارم کرے گی۔

شمالی تنزانیہ میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے درجنوں افراد ہلاک

شمالی تنزانیہ میں شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد ہلاک اور 85 زخمی ہو گئے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلعی کمشنر جینتھ مایانجا نے اپنے بیان میں بتایا کہ شدید بارشوں کے باعث دارالحکومت ڈوڈوما سے تقریباً 300 کلومیٹر شمال میں واقع شہر کاٹیش شدید متاثر ہوا ہے۔

کمشنر جینتھ مایانجا نے مزید کہا کہ شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے علاقے کی کئی سڑکیں کیچڑ، پتھروں اور اکھڑے ہوئے درختوں کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں۔

مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تنزانیہ کے شمالی علاقے مانیارا میں علاقائی کمشنر ملکہ سینڈیگا نے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 47 اموات اور 85 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اموات میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب تنزانیہ کی صدر نے لوگوں کو بچانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا کہ ہم اس واقعے سے بہت حیران ہیں۔

واضح رہے کہ مشرقی افریقا غیر معمولی خشک سالی کا سامنا کرنے کے بعد، گزشتہ کئی ہفتوں سے طوفانی بارشوں اور سیلاب کی زد میں ہے جو ایل نینو موسمی رجحان سے منسلک ہے۔

ایل نینو کیا ہے؟

ایل نینو ایک قدرتی طور پر واقع ہونے والا موسمی نمونہ ہے جو بحر الکاہل میں شروع ہوتا ہے اور دنیا بھر میں گرمی کو بڑھاتا ہے، جس سے کچھ علاقوں میں خشک سالی ہوتی ہے اور دوسری جگہوں پر شدید بارش ہوتی ہے۔

شہباز شریف نے ایک بار پھر چارٹر آف اکنامی کی تجویز پیش کردی

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر چارٹر آف اکنامی کی تجویز پیش کردی ہے۔

ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ متفقہ قومی معاشی منشور ہی پاکستان کو مسائل سے نکال سکتا ہے، چارٹر آف اکانامی کی تجویز بطور قائد حزب اختلاف دی جس پر آج پوری قوم متفق ہوچکی ہے۔

انبہوں نے کہا کہ ‎سیاسی و جذباتی بیانات سے نہیں پالیسی اقدامات سے معیشت بحال ہوگی، عوام مہنگائی سے نجات اور معاشی خوشحالی چاہتے ہیں، ہم روزگار مہیا کریں گے اور غربت کا خاتمہ کریں گے۔

قائد ن لیگ کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارا کم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے، ‎نواز شریف نے ہمیشہ پاکستان کی معیشت کو سنوارا، اگر انتخابات میں کامیابی ملی تو معاشی منشور پر عمل کریں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ‎کاروبار میں آسانی لاکر سازگار معاشی ماحول پیدا کرنا ہے، ‎برآمدات میں اضافہ کرکے معاشی پائیداری یقینی بنائیں گے، البتہ تاریخ گواہ ہے عوام کو مہنگائی سے نجات صرف مسلم لیگ (ن) دلاتی ہے۔

اپنے بیان میں شہباز شریف نے مزید کہا کہ مہنگائی سے عوام کو نجات دلانے کے لئے ‎انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، ‎‎الیکشن جیت کر نوجوانوں کو ہنرمند جب کہ اسٹارٹ اپس کی معاونت اور سرپرستی کرکے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی لائیں گے۔

اسرائیل نے غزہ میں جنگ ​​بندی کے خاتمے کے بعد زمینی کارروائیاں تیز کردی

اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی کے خاتمے کے بعد تیسرے دن بھی غزہ کے شمال اور جنوب میں اپنی شدید بمباری جاری رکھی ہے اور اپنی زمینی کارروائی کو پورے غزہ تک بڑھا دیا۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے تل ابیب میں صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیلی افواج نےغزہ کی پٹی میں حماس کے مراکز کے خلاف اپنی زمینی کارروائی کو بڑھا رہی ہے اور ان کا خاتمہ کررہی ہے۔

اس سے قبل شمال میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا گیا تھا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق 10 افراد شہید اور ایک رہائشی بلاک تباہ ہو گیا تھا۔ ویڈیو فوٹیج میں لوگوں کو ملبے تلے لاشوں کی تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

جنوبی شہر خان یونس میں بھی شدید بمباری کی اطلاع ملی ہے، جو اسرائیل کے نشانے پر ہے۔ اسرائیلی فوج نے شہری علاقوں سے شہریوں نکل کر جنوب کی جانب رفح یا مغرب رخ کرنے کا کہا ہے، جبکہ اتوار کی رات شہر سے ایک میل کے فاصلے پر حماس اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلون لیوی نے کہا کہ فوج نے ہفتے کے آخر میں 400 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا، جس میں خان یونس کے علاقے میں وسیع فضائی حملے بھی شامل ہیں۔

غزہ کے رہائشیوں نے اس سے قبل اتوار کو کہا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ جنوبی علاقوں پر اسرائیل کی زمینی کارروائی قریب ہے۔ ٹینکوں نے وسطی غزہ میں خان یونس اور دیر البلاح کے درمیان راستہ بند کردیے، جس سے غزہ کی پٹی کو مؤثر طریقے سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔

ہفتے کی رات اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے فوج کو غزہ پر طاقت کے ساتھ حملہ کرنے کی ہدایت کی ہے اور انہوں نے دہرایا کہ ان کا مقصد حماس کو ایک سیاسی اور فوجی طاقت کے طور پر ختم کرنا ہے۔

بی بی سی کے مطابق اتوار کی صبح اسرائیلی فوج نے خان یونس کے کئی اضلاع سے انخلاء کے احکامات جاری کیے، لوگوں کو فوری طور پر وہاں سے نکل جانے کی اپیل کی تھی۔

اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ حماس کی قیادت کے ارکان شہر میں چھپے ہوئے ہیں، جہاں لاکھوں افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ انہوں نےغزہ کے ایک اسپتال میں ”خوف و ہراس“ اس نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ یونیسیف کے جیمز ایلڈر نے خان یونس میں ناصر میڈیکل اسپتال کو ”جنگی علاقہ“ قرار دیا۔

عمران اشرف کی سابق اہلیہ کرن اشفاق دوسری بار رشتہ ازدواج میں بندھ گئیں

پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے مقبول اداکارعمران اشرف کی سابقہ اہلیہ کرن اشفاق حسین ڈار دوسری باررشتہ ازدواج میں بندھ گئیں۔

کرن اشفاق حسین نے گزشتہ روزصوبہ پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمائندگی کرنے والے نوجوان سیاسی رہنما حمزہ علی چوہدری سے دوسری شادی کی۔

نکاح کی تقریب لاہورمیں منعقد کی گئی تھی جہاں جوڑے کے قریبی دوستوں اور اہلِ خانہ نے شرکت کی تھی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرتقریب سے متعدد تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں.

دولہا اور دُلہن دونوں نے اس خاص موقع پر سفید رنگ کے ملبوسات کا انتخاب کیا۔

کرن اور حمزہ کی ایک اور تصویربھی وائرل ہورہی ہے، جو اس جوڑے کی مہندی کی تقریب سےلی گئی ہے۔

عمران اشرف اور کرن اشفاق کی شادی 2018 میں ہوئی تھی۔ 2022 میں دونوں نے اپنی راہیں جدا کرلی تھیں، جس کا باضابطہ اعلان کرن اشفاق نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کیا تھا۔

کرن اشفاق حسین ڈار کے شوہر حمزہ علی چوہدری پیشے کے اعتبار سے ایک کارپوریٹ وکیل اور نوجوان سیاست دان ہیں۔

حمزہ علی چوہدری سابق پاکستانی کرکٹر بھی رہ چکے ہیں۔

انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹنے سے 11 سیاح ہلاک

انڈونیشیا کے سماٹرا میں ماؤنٹ میراپی آتش فشاں پھٹنے سے 11 سیاح ہلاک ہوگئے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انڈونیشیا کے مغربی سماٹرا میں ماؤنٹ میراپی آتش فشاں پھٹنے کے بعد11 سیاحوں کی لاشیں برآمد کرلی گئیں جب کہ تین افراد زخمی اور 12 کوہ پیما لاپتہ ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ روز مغربی انڈونیشیا میں ماؤنٹ ماراپی پر آتش فشاں پھٹنے کے باعث پہاڑی علاقے میں رہنے والے متعدد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے، آتش فشاں پھٹنے کے بعد تین کلومیٹر کی راکھ کا ستون خارج کیا تھا، جس کی وجہ سے حکام نے اس گڑھے کے ارد گرد ایک خارجی زون قائم کیا ہے۔

سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ عبدالمالک نے نے کہا کہ ہفتے سے پہاڑ پر کل 75 مسافر موجود تھے جن میں سے 26 افراد کو باہر نہیں نکالا گیا، 14 میں سے 11 ہلاک اور تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ویسٹ سماٹرا ڈیزاسٹر میٹیگیشن ایجنسی کے سربراہ روڈی رینالڈی نے کہا کہ شدید گمی کے باعث جھلس کر زخمی ہونے والے کچھ افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہیں۔

2,891 میٹر کی بلندی پر واقع ماؤنٹ میراپی کو انڈونیشیا اور جاوا میں فائر ماؤنٹین کہا جاتا ہے۔

وسطی جاوا اور یوگیاکارتا صوبوں کے درمیان سرحد پر واقع یہ انڈونیشیا میں سب سے زیادہ فعال آتش فشاں سمجھا جاتا ہے اور 1548 سے باقاعدگی سے پھٹ رہا ہے۔

بحرالکاہل کے رنگ آف فائر میں واقع انڈونیشیا کے جزیرے میں براعظم پلیٹوں کی ہم آہنگی کی وجہ سے آتش فشاں اور زلزلے کی سرگرمی میں اضافہ ہوا ہے۔

اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 62 ہزار کی سطح عبور کرگیا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) مسلسل اضافے کے بعد ایک اور نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔

نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر کے ایس ای 100 انڈیکس 677 پوائنٹس اضافے کے بعد پہلی بار 62 ہزار کا سنگ میل بھی عبور کرگیا ہے۔

100 انڈیکس آج کے پہلے سیشن کے آغاز میں ہی 62 ہزار 380 کی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے جو کہ جمعے کے روز 61 ہزار 691 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔

دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کے بعد روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت مزید کم ہوگئی۔

ملکی تبادلہ منڈیوں میں 71 پیسے کمی کے بعد ڈالر کی خرید و فروخت 284 روپے 25 پیسے میں جاری ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری روز ڈالر کی قیمت 284 روپے 87 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی۔

امریکی جنگی جہاز پر ڈرون حملہ، ذمہ داری حوثیوں نے قبول کرلی

بحیرہ احمر میں امریکی جنگی جہاز اور دیگر کمرشل جہازوں پر ڈرون حملہ کیا گیا۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں پر حملے سے باخبر ہیں، جبکہ امریکی سینٹ کام نے کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں ڈرونز کو مار گرایا ہے۔

یمن کے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر میں جہازوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دو اسرائیلی جہازوں پر حملہ کیا گیا۔

ایک جہاز کو میزائل اور دوسرے کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہازوں کو وارننگ نظر انداز کرنے پر نشانہ بنایا، حملے میں اسرائیل ایک جہاز تباہ ہوگیا۔

پاکستانی اسکول نے کوپ 28 کانفرنس میں ایک لاکھ ڈالر کا ایوارڈ جیت لیا

 دبئی: پاکستانی اسکول نے کوپ 28 کانفرنس میں پانی کے تحفظ سے متعلق منصوبہ پیش کرکے ایک لاکھ ڈالر کا ایوارڈ جیت لیا۔

عرب میڈیا کے مطابق زید سسٹین ایبلٹی ایوارڈ کی دوڑ میں جنوبی ایشیا ریجن سے بھارت اور بنگلادیش کے اسکول بھی شامل تھے جن میں سے پاکستانی اسکول کورٹ کو جنوبی ایشیا کا بہترین گلوبل اسکول اور فاتح قرار دیا گیا۔

ایوارڈ کیلئے چھ کیٹیگریز میں دنیا بھر سے گیارہ فاتحین کا انتخاب ستمبر میں جیوری کے ایک پینل نے کیا تھا۔

آزاد کشمیر میں واقع کورٹ اسکول اینڈ کالج کی طالبات سمعیہ اور کنزیٰ نے دبئی ایکسپو سٹی میں تقریب کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے ایوارڈ وصول کیا۔ اس موقع پر نگراں وزیراعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ سمیت دیگر ممالک کے سربراہان بھی موجود تھے۔

دریں اثنا پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ایوارڈ وصول کرنے والی طالبات کنزیٰ اور سمعیہ سے ملاقات کرکے انہیں مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ دونوں نے پاکستان، اپنے والدین اور ہم سب کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ جب فاتح کیلئے پاکستان کے نام اعلان ہوا تو میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ سربراہان مملکت کی صف سے اٹھ کر زور سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاؤں۔ پاکستان کا اصل مستقبل یہی نوجوان ہیں جنہوں نے ملک کو آگے بڑھانا ہے۔

تقریب میں ایوارڈ وصول کرنے والی طالبات سمیہ اور کنزیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارا منصوبہ پانی کے تحفظ پر ہے کیونکہ 2025 میں پاکستان میں پینے کا صاف پانی ختم ہو جائے گا۔ ہم اپنے اسکول میں پانی کے فلٹریشن پلانٹس اور سینسر نل لگانا چاہتے ہیں تاکہ پانی کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اہم آرگینک فارمنگ کے ذریعے اپنے اسکول میں کچن گارڈن بھی بنانا چاہتے ہیں تاکہ بچوں کو نامیاتی طور پر اگائی جانے والی خوراک سے غذائیت حاصل ہو سکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسکول میں بچے صاف پانی کو محفوظ کرنے کا طریقہ سیکھیں۔

کورٹ اسکول اینڈ کالج 2016 میں اُن بچوں کے لیے قائم کیا گیا تھا جو 2005 کے تباہ کن زلزلے میں یتیم ہو گئے تھے۔ یہاں 500 سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں۔ یہ اسکول کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ (KORT) کے زیر انتظام ہے۔

ٹرسٹ نے اس اکتوبر میں صوابی میں ایک اور اسکول بھی کھولا ہے جس میں 450 بچے رہ سکتے ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں سے KORT یتیم بچوں کو تعلیم، بورڈنگ کی سہولیات، خوراک، کپڑے اور طبی دیکھ بھال کے ساتھ مدد فراہم کر رہا ہے۔