All posts by Khabrain News

علی محمد خان کا 9 مئی بھلا کر پی ٹی آئی اور عمران خان کو ایک اور موقع دینے کا مطالبہ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما علی محمد خان کا کہنا ہے کہ جیل کوئی آسان جگہ نہیں ہے، جیل کا ایک پریشر ہوتا ہے، لیکن اللہ کی مدد شامل حال ہو تو کوئی ایسی مشکل بھی نہیں ہے، جو وہاں گئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہاں کیا حالات ہوتے ہیں، لیکن یہ اعتراف میں ضرور کروں گا کہ اللہ کے کرم سے ایسا نہیں ہوا کہ آپ کی جسمانی حدود پار ہوئی ہوں، کوئی ٹارچر کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔

ان خیالات کا اظہار جنہوں نے ان سے سوال پوچھا تھا کہ کیا آپ پر پارٹی چھوڑنے کا دباؤ تھا؟

علی محمد خان نے جواب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اگر کسی نے کچھ غلط کیا ہے تو اس کو نتائج کا سامنا کرنا چاہیے، میں نے غلط نہیں کیا تو میں کیوں اپنی جماعت چھوڑوں، اللہ کے کرم سے میں نے اپنے الزامات کا سامنا کیا ہے، 9 مئی کا کیس ختم ہوگیا، خود اس میں بحث کی وکلاء نے بھی بحث کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ میری رائے ہے اور کور کمیٹی میں یہ رائے دی بھی ہے کہ اگر آپ پر الزامات ہیں تو عدالت میں اس کا سامنا کریں، جیل چلے جائیں، اگر آپ نے کچھ نہیں کیا تو آخر میں آپ نکل آتے ہیں، آپ کو عدالت کا ایک آئینی تحفظ مل جاتا ہے۔

علی محمد خان نے بتایا کہ احتجاج والے دن ہمارے گاؤں میں کوئی بزرگ فوت ہوگئے تھے تو مجھے وہاں جانا پڑ گیا تھا، وہاں پر خاں صاحب کی گرفتاری کی اطلاع ملی تو میں اسلام آباد آگیا، مجھے آںے میں پورا دن لگا کیونکہ سارے روڈ چوک تھے، اس وجہ سے اس دن میں احتجاج میں نہیں تھا، اس کے ایک دن چھوڑ کر میں قانونی ٹیم کی ساتھ سپریم کورٹ جارہا تھا ، خان صاحب کی پیشی تھی تو راستے میں گرفتاری ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے احتجاج میں حصہ لیا، پرامن احتجاج کیا وہ ان کا حق ہے، لیکن جنہوں نے حدود پار کی ہیں تو میں بارہا کہہ چکا ہوں وہ پارٹی کی پالیسی نہیں تھی، نہ میرے سامنے کسی بھی میٹنگ میں خان صاحب نے پرتشدد ہونے کی بات کی، اب اگر کسی نے غلط کیا ہے تو ظاہر ہے انہوں نے چارجز کا سامنا کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غلطی کرنے والے بھی پاکستانی ہیں، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، ماں سزا کے ساتھ درگزر اور نصیحت بھی کرتی ہے۔

علی محمد خان نے مطالبہ کیا کہ ایوانِ صدر میں سیاسی مکالمہ ہو، اس میں اسٹبلشمنٹ بھی شامل ہو، بیٹھیں اور 9 مئی کے واقعے سے ملک کو آگے لے کر جائیں تاکہ ملک آگے بڑھے۔

انہوں نے کہا کہ ’نکتہ میرا یہ ہے کہ یہ جو پولیٹیکل فورسز (سیاسی طاقتیں) ہیں ان لوگوں کو اب اس میں رول (کردار) ادا کرنا چاہیے کہ آپ سب بیٹھیں، کیونکہ پونے دو کروڑ ووٹ لینے والی جماعت وہ قومی جماعت جو پختونخوا، پنجاب، بلوچستان، مرکز، جی بی پلس اے جے کے ان سب جگہوں پر اگر ایک ہی جماعت حکومت بناتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ماس (عوام) میں اس کی ایک اپیل ہے، تو ان کو ایک سیاسی موقع ملنا چاہیے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پوری جماعت اور چئیرمین صاحب کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ الیکشن میں آئیں تاکہ عوام فیصلہ کرسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے جاکر گیٹ یا جنگلہ توڑا ہے غلط کیا، وہاں میرے جیسے بھی کئی لوگ ہیں جو نہیں تھے احتجاج میں پھر بھی 80 یا 78 دن جیل میں رہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جو ہمارا ادارہ ہے، پاک آرمی ہے، ائر فورس ہے، نیوی ہے اس کے ساتھ پیرا ملٹری ہے، رینجرز ہے یہ سارا کچھ وہ ہے جو ہم اون کرتے ہیں، کچھ لوگ اس میں سرو کرتے ہیں جو اپنی ڈیوٹی کرتے ہیں ہم سب ان کے امین ہیں ان کو اون کرتے ہیں بلکہ بہت سی جگہوں پر جرنلسٹس اور سیاستدونوں کو ان کا دفاع بھی کرنا پڑتا ہے کہ ہر چیز کا جواب ان کو نہ دینا پڑے، سیاستدانوں کا کام ہوتا ہے کہ ریاستی اداروں کا آپ دفاع کریں، تو ہماری جماعت اور ہمارے چئیرمین عمران خان ہمیشہ اس بات کا ادراک رکھتے تھے اور انہوں نے بارہا ہمارے سامنے اور عوام کے سامنے وزیراعظم بننے سے پہلے اور عہدے سے اترنے کے بعد یہ بات کی کہ ملک بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے اور میرے سے زیادہ میرے ملک کو فوج کی ضرورت ہے، انہوں نے اپنا ویژن سامنے رکھا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں مسلح افواج کی کمزورئی نہیں چاہتے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور میں نے بارہا کہا ہے 9 مئی کی جوڈیشل انکوائری ہو لیکن آزاد اور شفاف ہو۔

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو سازش کے تحت ہٹانے کے الزامات پر علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان ’شخصیات کو نہیں عہدے کو دیکھتے ہیں، عہدہ ہمارے لیے قابل احترام ہے، بہت سے لوگ آتے ہیں بہت سے چلے جاتے ہیں، منظم طریقے سے ایسا کچھ نہیں تھا اگر ایسا کچھ ہوتا تو ہمیں ادراک ہوجاتا‘۔

 انہوں نے کہا کہ یہ تو وقت ظاہر کرے گا کہ ان پر کتنا دباؤ تھا، جو چیزیں انہوں نے بیان کیں ان میں سے کچھ 9 مئی سے پہلے کی بھی تھیں تو سوال یہ اٹھتا ہے اس وقت اور اتنا عرصہ خاموش کیوں رہے۔

ذہن سازی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ’ذہن سازی کی ہے بالکل کی ہے، پاکستان زندہ باد پر کی ہے، مٹی سے محبت کی ذہن سازی کی، پاک فوج زندہ باد کی ذہن سازی کی، حرمت رسول ﷺ کی ذہن سازی کی ہے، ختم نبوت ﷺ کی ذۃن سازی کی ہے، انہوں نے اکاؤنٹیبلیٹی کی ذہن سازی کی ہے، میریٹوکریسی کی ذہن سازی کی ہے، حقیقی آزادی کی ذہن سازی کی ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے سائفر کو ’پبلک کبھی بھی نہیں کیا بلکہ ہم کیبنٹ ممبرز بھی اس کو نہیں پڑھ سکے‘، اس کی سمری ڈی کلاسیفائی ہوئی تھی، خان صاحب نے اتنی احتیاط رکھی کہ اس ملک کا نام بھی شروع میں نہیں لیتے تھے، مقصد صرف یہ تھا کہ بات سامنے آئے کہ مداخلت ہو رہی ہے۔

پاکستان کا ابابیل ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ

پاکستان نے ابابیل ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا اور تجربے کے دوران ویپن سسٹم کے مختلف پہلوؤں کو بھی جانچا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ تجربے کا مقصد کم ازکم دفاعی صلاحیت کا اعادہ کرنا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے ابابیل ویپن سسٹم کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق تجربے میں مختلف ڈیزائن، تیکنیکی پیرا میٹرز کارکردگی کا مشاہدہ کیا گیا، اور ویپن سسٹم کے مختلف پہلوؤں کو بھی جانچا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے تجربے کا مشاہدہ کیا، اور اس موقع پر دیگر اعلیٰ فوجی حکام، سائنسدان اور انجینئرز بھی موجود تھے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ میزائل سسٹم دفاعی اور اسٹریٹجک صلاحیت کا اہم عنصر ہے، تجربے کا مقصد کم ازکم دفاعی صلاحیت کا اعادہ کرنا تھا۔

صدرپاکستان عارف علوی، وزیراعظم انوار الحق کاکڑ اور جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کامیاب تجربے پر سائنسدانوں اور انجینرز کو مبارک باد دی ہے۔

ملالہ بھی غزہ اسپتال پر اسرائیلی بمباری سے خوفزدہ، پرزور مذمت

لندن: ملالہ یوسف زئی نے غزہ میں الاھلی ہسپتال پر اسرائیلی بمباری کی مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کردیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ویڈیو بیان میں ملالہ نے کہا کہ میں غزہ میں الاھلی ہسپتال پر بمباری دیکھ کر خوفزدہ ہوں اور اس کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔

ملالہ نے اسرائیلی حکومت پر زور دیا کہ وہ غزہ میں انسانی امداد بھیجنے کی اجازت دے اور جنگ بندی کی جائے۔

اس موقع پر ملالہ نے فلسطینیوں کےلیے 3 لاکھ ڈالرز امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ سے متاثرہ فلسطینی لوگوں کی مدد کرنے والے تین فلاحی اداروں کو 3 لاکھ ڈالر بھی فراہم کر رہی ہیں۔

ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں حنیف عباسی کی سزا کالعدم قرار

لاہور: ہائیکورٹ نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں حنیف عباسی کی سزا کلعدم قرار دیتے ہوئے لیگی رہنما کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس مس عالیہ نیلم اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل بینچ نے فیصلہ سنایا۔

ٹرائل کورٹ نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس میں 21 جولائی 2018 کو حنیف عباسی کو 25سال قید اور 10لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔

لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے 11اپریل 2019 کو حنیف عباسی کی سزا معطل کرکے رہا کر دیا تھا جبکہ حنیف عباسی نے سزا کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

بریت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما حنیف عباسی نے کہا کہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے مجھے سرخرو کیا، وکلاء اور فیملی کا مشکور ہوں جو برے وقت میں میرے ساتھ کھڑی ہوئی، میاں محمد نواز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

حنیف عباسی نے کہا کہ 2012 میں جب مقدمہ درج ہوا تو میاں نواز شریف نے اس وقت کہا تھا یہ مقدمہ جھوٹا ہے، شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جب 25 سال قید کی سزا سنائی گی اس وقت بھی کورٹ میں کھڑا رہا جبکہ 11 سال اس کیس میں پھرتا رہا اور 11 ماہ کی قید کاٹی۔

لیگی رہنما نے کہا کہ مجھے دو الیکشن سے باہر رکھا گیا اور میری بیٹی کو نوکری سے نکال دیا گیا جبکہ میرے چھوٹے بھائی کو 14 دن غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔ شیخ رشید اب الیکشن میں آئے گا تو انشاء اللہ الیکشن لڑوں گا۔

حنیف عباسی نے کہا کہ قائد میاں محمد نواز شریف کا 21 اکتوبر کو استقبال کریں گے، راولپنڈی سے سب سے بڑا قافلہ لے کر انکا استقبال کروں گا۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ شیخ رشید جہاں پر ہے یہ نہیں معلوم مگر اس نے میرے اوپر جھوٹا قتل کا مقدمہ درج کروایا، اس کے ساتھ مقابلہ الیکشن میں ضرور کروں گا۔

ورلڈکپ؛ جنوبی افریقہ کو انکے سابق 3 کھلاڑیوں نے ہی ہرایا

آئی سی سی ورلڈکپ میں کل نیدرلینڈز نے جنوبی افریقہ کو اَپ سیٹ شکست سے دوچار کیا تو میگا ایونٹ میں دیگر ٹیموں کیلئے خطرے کی گھنٹی بھی بجادی ہے۔

گزشتہ روز کھیلے گئے مقابلے میں کہا جاسکتا ہے کہ جنوبی افریقہ کا مقابلہ اپنے ہی تین سابق کھلاڑیوں سے تھا، جنہوں نے ماضی میں انٹرنیشنل سطح پر پروٹیز کی نمائندگی کی تاہم الگ الگ وجوہات کی بنا پر وہ ملک چھوڑ آئے اور نیدرلینڈز کی ٹیم کو جوائن کرلیا اور آج میگا ایونٹ میں اپنی سابقہ ٹیم کیخلاف ریکارڈ جیت دلوانے میں اہم کردار نبھایا۔

اِن کھلاڑیوں کی فہرست میں تین نام شامل ہیں، جنہوں نے کل جنوبی افریقہ کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ تینوں نیدرلینڈز کی پلئینگ الیون کا بھی حصہ بنے۔

روئیلوف وین ڈیر مروے

آل راؤنڈ کرکٹر 31 دسمبر 1984 میں جوہانسبرگ میں پیدا ہوئے، سال 2006-07 میں لسٹ اے کرکٹ میں ڈیبیو کیا جبکہ 2009ء اور 2011ء کے درمیان جنوبی افریقہ کیلئے ایک روزہ بین الاقوامی اور ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کھیلی۔

سال 2015 میں انہوں نے نیدرلینڈز منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور ڈچ پاسپورٹ حاصل کیا، اسی سال آئی سی سی ورلڈ ٹی20 کوالیفائر کیلئے ڈچ ٹیم کے اسکواڈ میں منتخب ہوئے۔

کولن ایکرمین

آف اسپنر 4 اپریل 1991 میں کیپ ٹاؤن میں پیدا ہوئے، اوٹینیکا پرائمری اسکول اور پورٹ الزبتھ کے گرے ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی اور سال 2010 میں انڈر19 ورلڈکپ میں جنوبی افریقہ کے نائب کپتان بنے۔

2017 میں انگلش کاؤنٹی کلب لیسٹر شائر کیلئے منتخب ہوئے اور مئی 2017 میں، انہیں کرکٹ جنوبی افریقہ کے سالانہ ایوارڈز میں ڈومیسٹک پلیئرز پلیئر آف دی سیزن قرار دیا گیا، بعدازاں کرکٹر نیدرلینڈز منتقل ہوگئے اور اکتوبر 2019 میں ہالینڈ کیلئے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کیا۔

انہوں نے نیدلینڈز کیلئے ون ڈے ڈیبیو 26 نومبر 2021ء کو جنوبی افریقہ کے خلاف کیا۔

سائبرینڈ اینجلبرچٹ

دائیں ہاتھ کے بلےباز 15 سمتبر 1988 کو جوہانسبرگ میں پیدا ہوئے، انہوں نے اکتوبر 2007 میں فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا اور 2008 میں ملائیشیا میں ہونے والے انڈر19 ورلڈکپ میں جنوبی افریقہ کی نمائندگی کی۔ بعدازاں کلب کرکٹ کھیلنے کیلئے نیدرلینڈ منتقل ہوگئے۔

انہوں نے 2023 میں ورلڈکپ کے دوران 9 اکتوبر کو حیدرآباد میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں اپنا ون ڈے ڈیبیو کیا۔

بھارت میں جاری آئی سی سی ورلڈکپ میں نیدلینڈز نے جنوبی افریقہ کو شکست دیکر پوائنٹس ٹیبل پر تہلکہ مچادیا ہے، ایک روز قبل افغانستان نے دفاعی چیمپئین انگلینڈ کو ہرا کر میگا ایونٹ کا پہلا اَپ سیٹ کیا تھا۔

واضح رہے کہ نیدرلینڈز کی ٹیم سال 2021 کے ٹی20 ورلڈکپ میں بھی پروٹیز کو شکست دیکر پہلے بھی حیران کرچکی ہے۔

ڈالر کی انٹربینک اور اوپن مارکیٹ میں اونچی چھلانگ، پھر مہنگا ہوگیا

کراچی: ڈالر نے کرنسی ایکسچینج کی دونوں مارکیٹوں میں ایک بار پھر اونچی چھلانگ لگائی اور اچانک سے روپے کے مقابلے میں  مہنگا ہوگیا۔

کاروباری ہفتے کے تیسرے دن کے آغاز میں انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 03 پیسے کمی سے 277 روپے پر آئی  تاہم  بعد میں اضافے کا رجحان شروع ہوا اور ڈالر کی روپے کے مقابلے میں قیمت بتدریج بڑھتے ہوئے 2 روپے 47 پیسے کے اضافے سے 279 روپے 50 پیسے پر آ گئی۔

اسی طرح اوپن مارکیٹ میں بھی بدھ کے روز ڈالر یک دم 3 روپے کے اضافے کے ساتھ 280ر وپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی سے کاروبار کا آغاز ہوا جب 79 پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای 100 انڈیکس گھٹ کر 49461 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا،تاہم بعد میں تیزی کا رجحان شروع ہوا اور پی ایس ایکس میں 152 پوائنٹس کی تیزی آئی، جس سے کے ایس ای 100 انڈیکس بڑھ کر 49683 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔

خدیجہ شاہ کی جناح ہاؤس حملے سمیت 2 مقدمات میں ضمانت منظور

لاہور ہائیکورٹ نے معروف ڈیزائنر اور ایکٹوسٹ خدیجہ شاہ کی جناح ہاؤس حملہ اور عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ مقدمہ میں  بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواستیں منظور کرلی.

ہائیکورٹ کی جسٹس مس عالیہ نیلم اور اسجد جاوید گھرال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے تحریک انصاف کی ورکر معروف ڈیزائنر خدیجہ شاہ سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا.

بنچ نے خدیجہ شاہ کی جناح ہاؤس حملہ اور عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ مقدمہ میں ضمانت منظور کی۔

عدالت نے مزید 6 ملزمان کی بھی ضمانتیں منظور کیں جبکہ نامزد ملزم سفیان کی ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی.

فیصلہ سنائے جانے کے وقت خدیجہ شاہ کے خاوند ، والدہ بہن سمیت دیگر رشتہ دار بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے. عدالتی فیصلے کے بعد خدیجہ شاہ کے خاوند کا کہنا تھا اللہ کا شکر ہے انہیں انصاف مل گیا۔

معاشرہ،سیاست ،انصا ف اورسوالات

میں آج کل بیسویں صدی کے اٹلی کے حالات ،واقعات اوروہاں مافیاز کے رحم وکرم پرکرپشن میں لتھڑے معاشرے اور حکومتوں کواسٹڈی کررہاہوں۔اٹلی کے اس وقت کے حالات پاکستان کے موجودہ معاشی اور سیاسی حالات سے کافی ملتے جلتے لگ رہے ہیں۔ہم یہاں جس سسلین مافیاکی کہانیاں سنتے، ناول پڑھتے اورگاڈفادر جیسی فلمیں دیکھتے ہیں ان مافیازکا تعلق اٹلی سے ہی ہے۔آپ اگر معاشی ابتری اور کرپشن بارے پڑھنا شروع کریں تو ہررپورٹ ،ہر کہانی آپ کو کھینچ کرسسلی جزیرے کی طرف لے جاتی ہے یہاں سے مافیاز نے جنم لیا اورپھر پورا سسٹم ان مافیازکے اشاروں اور منشا کے مطابق چلا۔پاکستان سے مشابہہ حالات اور اٹلی کی ان مافیازپر فتح اور کرپشن میں کمی ایک الگ اور وسیع موضوع ہے اس پر الگ سے لکھوں گا۔
میں جب سسلی جزیرے میں پروان چڑھنے والے سسلین مافیا بارے پڑھ رہاہوں تو مجھے بار بار جسٹس آصف سعید کھوسہ یاد آرہے ہیں۔جس آصف سعید کھوسہ صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کریمینل لا کے بڑے ہی ماہر جج تھے۔وہ ایک سماعت میں ہی برسوں سے سماعت کے منتظر مقدمات کے فیصلے سنادیا کرتے تھے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کچھ وقت کے لیے جیلوں میں قید ہائی کورٹس سے سزا یافتہ مجرموں کی اپیلوں کو نمٹانے کا ٹاسک جسٹس آصف سعید کھوسہ کو سونپا تو انہوں نے تیزی سے ایسے مقدمات نمٹانا شروع کیے۔ اس سلسلے کو اس وقت بریک سی لگ گئی جب جسٹس کھوسہ نے بیس سال پہلے کے ایک قتل کیس کا فیصلہ سنایا۔ اپنے اس فیصلے میں جسٹس کھوسہ نے قتل کے مجرم کو ناکافی شواہد کی بناپر بری کرنے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے پرجب مجرم کی رہائی کی روبکار جیل پہنچی تو پتہ چلا کہ جس مجرم کو سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے سے بری کیا ہے وہ توپانچ سال پہلے جیل میں ہی انتقال کرگیا ہے۔اس خبر نے پاکستان کے نظام عدل کو جھنجوڑ ڈالا۔سپریم کورٹ میں زیرالتوااپیلوں کے اعدادوشمار سامنے آنے لگے تو پتہ چلا کہ جیلوں میں ہزاروں سزایافتہ مجرم دس ،دس پندرہ ،پندرہ سال پہلے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کرکے مقدمات کی سماعتوں کے انتظار میں گل سڑ رہے ہیں لیکن پاکستان کے اعلیٰ ترین انصاف کے ادارے کے پاس ان اپیلوں کی سماعت کا ہی وقت نہیں ہے ۔بلکہ سپریم کورٹ کے لیے سیاسی معاملات پر از خود نوٹسز،سیاسی مقدمات کے لیے فرمائشی رِٹوں اور پارلیمان کے بنائے قوانین کو مٹانے کی جستجو کے علاوہ اور کچھ دیکھنے سننے کے لیے نہ وقت ہے اور نہ ہی چاہ اور نہ ہی راہ۔
میری خواہش ہے کہ میں جناب جسٹس کھوسہ صاحب کا انٹرویو کروں ،ان سے کچھ سوال پوچھوں۔میں نے اس کی کوشش بھی کی لیکن جسٹس صاحب کسی بھی آن یا آف دا ریکارڈ انٹرویو یا گفتگو کے لیے راضی نہیں ہیں۔میں جسٹس کھوسہ صاحب سے سوال کرنا چاہتا ہوں کہ جب وہ پانامہ کا فیصلہ لکھ رہے تھے تو ان کے ذہن میں ایسا کیا تھا کہ انہوںنے فیصلے کا آغازسسلین مافیااور گاڈ فادر جیسے الفاظ سے کرنا ہی مناسب سمجھا ۔حالانکہ وہ ایک ایسے مقدمے کا فیصلہ تحریرکررہے تھے جس میں انہوں نے نوازشریف کو سزا دینے کے لیے ان کا مافیا ہونایا کرپشن ثابت نہیں کی بلکہ ایک اقامہ رکھنے ،بیٹے سے تنخواہ پانے اور پھر اس غیر وصول شدہ تنخواہ کو وصول شدہ ثابت کرنے کے لیے تمام مروجہ ڈکشنریاں چھوڑ کر بلیک لانامی ڈکشنری کا سہارا لیاتھا۔میں ان سے سوال کرنا چاہتاہوں کہ جو مقدمات انہوں نے احتساب عدالت کو ٹرائل کے لیے بھجوائے تھے ان پر سپریم کورٹ کا ایک مانیٹرنگ جج کیوں اور کس کے کہنے پر لگایا تھااور پھر مریم نوازجب اس کیس میں بری ہوگئی ہیں تو اب جسٹس کھوسہ اس فیصلے کو کیسے دیکھتے ہیں۔میں جسٹس کھوسہ صاحب سے ایک سوال اور کرنا چاہتا ہوں کہ جب جسٹس انورظہیر جمالی صاحب نے پانامہ کی درخواست کو فضول کہہ کر سماعت کے قابل ہی نہیں سمجھا تھا تو آپ نے سڑکوں پر احتجاج کرنے والے عمران خان صاحب کو سپریم کورٹ میں آنے کی دعوت آئین اور قانون کی کس شق کے تحت دی تھی کہ وہ احتجاج چھوڑ کرسپریم کورٹ آگئے اور اپنے سیاسی مخالف کی تاحیات نااہلی کی ٹرافی لے کر واپس آئے۔
میں عزت مآب جناب ثاقب نثار صاحب سے بھی بہت سے سوال کرنا چاہتا ہوں ۔ میں سابق چیف جسٹس سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر وہ کیا وجہ تھی کہ آپ جناب نے الیکشن سے پہلے عدالت چھوڑکرسرکاری اور غیر سرکاری اداروں پر چھاپے مارنے کس قانون کے تحت نکل کھڑے ہوئے تھے۔ آپ نے پرائیویٹ اسپتالوں سے لے کر میڈیکل کالجزکی فیسوں تک کے سو موٹو لیے لیکن کچھ ہی دیر بعد سب کچھ بغیر فیصلوں کے افراتفری میں کیوں چھوڑ دیا۔میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس شاہ رخ جتوئی کو انہوں نے سزاکے باوجود جیل کے بجائے اسپتال میں پکڑااور شدید غصے اور حقارت میں اس کو فوری جیل میں ڈلوادیا تھا جب ان کے برادر ججز نے اسی شاہ رخ جتوئی کو سپریم کورٹ سے بری کردیا تو انکو کیسا محسوس ہواتھا۔میں جسٹس ثاقب نثار سے یہ بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس شوکت صدیقی کی ایک تقریر پر سوموٹو کس اختیار اورکس قانون کے تحت لیا اور پھر سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے سے موجود بہت سی شکایات کوپیچھے دھکیل کر اس سو موٹو پر فوری کونسل کا اجلاس بلانے اورایک ہائی کورٹ کے جج کو اس بے رحمی سے نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ کس کی خواہش تھی۔اورپھر جسٹس شوکت صدیقی کی اس فیصلے کے خلاف اپیل پر کیوں سماعت نہیں کی ۔جسٹس شوکت صدیقی صاحب ایک ہائی کورٹ کے جج اور قانونی ماہر ہونے کے باوجودآج تک سپریم کورٹ سے اپنے لیے انصاف نہیں لے سکے اوراسی اپیل پر سماعت کے انتظارمیں ہی ملازمت کی مدت پوری ہوگئی۔ان کی اپیل کو سپریم کورٹ میں پڑے پانچ سال ہوگئے ۔آخری سماعت بارہ جون دوہزار بائیس کو ہوئی تھی ۔سماعت کرنے والے بندیال صاحب بھی اپنے برادر جج کا فیصلہ کیے بغیر ریٹائرہوگئے لیکن انہوں نے نیب ترامیم کا فیصلہ کرنا ضروری خیال کیا۔اس سلسلے میں سوال نہیں موجودہ چیف جسٹس جناب قاضی فائز عیسی ٰ سے درخواست ہے آپ جسٹس شوکت صاحب کو انصاف فراہم کرکے پیغام دیں کہ اب سپریم کورٹ پسند نا پسند کی بنیاد پرنہیں بلکہ اصولوں کی پاسدار ہے۔جسٹس ثاقب نثار صاحب سے اور بہت سے سوال ہیں لیکن مختصرکرتے ہوئے ایک آخری سوال یہ کرنا چاہتاہوں کہ آپ نے ایڈن ہاوسنگ سوسائٹی کے فراڈ کا کیس سنا تھا۔ تیرہ ہزار خاندان اس اسکینڈل کے متاثرین ہیں ۔آپ نے ان متاثرین کو انصاف دلانے کی بجائے درمیان میں کیوں چھوڑ دیا تھا اورجب اس اسکینڈل کے مرکزی ملزم سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے داماد کو انٹرپول نے دبئی سے پکڑلیا تھا تو لاہور کی عدالت نے اس ملزم کو دبئی میں بیٹھے ہی ضمانت دے دی تھی۔کیا آپ کا حق نہیں بنتا تھا کہ ہاتھ میں آئے مجرم کو ایک جج کے رشتہ دارہونے کی وجہ سے چھوڑ نے پرعدالت کی سرزنش کرتے اور اس پر ازخود نوٹس لیتے۔آپ چلے گئے لیکن ایڈن کے متاثرین تیرہ ہزار خاندان لٹی دولت کی واپسی کا انتظار کررہے ہیں۔
میں عزت مآب جسٹس گلزارصاحب سے بھی سوال کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کراچی بدامنی کا کیس سنا اور کیا کیا ریمارکس نہیں دیے ۔آپ جناب نے نالوں پر تجاوزات کے مقدمات سنے اورسرکلر ریلوے چلانے کے لیے زور لگاتے رہے لیکن کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ آج بھی پینے کا پانی ہے آپ نے اس کے حل کے لیے کچھ کیوں نہیں کیا۔اورجسٹس گلزارصاحب سے آخری سوال کہ آپ نے نسلہ ٹاورگراکرلوگوں کو بے گھر کیاتو کیا اس ایک ٹاورگرانے سے کراچی تجاوزات سے پاک ہوگیا؟سوال تو عزت مآب جسٹس عمر عطا بندیال صاحب سے بھی بہت ہیں لیکن کالم کا دامن تنگ ہے توگُڈتوسی یو!!

چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلیفونک گفتگو کرانے کا حکم

 اسلام آباد: آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے کا حکم دے دیا۔

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بیٹوں کے ساتھ ٹیلی فونک گفتگو کروانے کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عمران خان کے وکیل شیراز احمد رانجھا اسپیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت اسلام آباد کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کے روبرو پیش ہوئے۔

عدالت نے  ریمارکس دیے کہ ابھی تک اڈیالہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے ایس او پیز نہیں آئیں، آ جائیں تو دیکھ لیتے ہیں۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ آج بھی ایس او پیز نہیں آئیں۔آپ کہیں تو میں عدالت کی معاونت کر دیتا ہوں۔

وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ورزش کے لیے سائیکل مہیا کرنا چاہتے ہیں، جس پر جج نے کہا کہ سائیکل کے حوالے سے تو میں پہلے ہی جیل حکام کو کہہ چکا ہوں۔ وکیل نے بتایا کہ  اگر عدالت اجازت دے تو سائیکل آج ہی مہیا کر دیتاہوں۔

جج نے ریمارکس دیے کہ میں چاہتا ہوں کہ سائیکل کا غلط استعمال نہ ہو۔ ایسا نہ ہوکہ سائیکل جیل سپرنٹنڈنٹ چلاتا رہے۔ جیل مینوئل بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ ہمارے لیے انڈر ٹرائل ملزم کی سکیورٹی اہم ہے۔ وکیل نے کہا کہ  اگر خدشات ہیں تو ایک بندہ مقرر کر دیں جس کی نگرانی میں سائیکل استعمال ہو۔

جج نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کہتے ہیں کھانا گھر سے منگوایا جائے لیکن ذمے داری کون لےگا؟۔  اگر کھانا جیل میں تیار ہو تو جیل حکام ذمے دار ہوتے ہیں۔ میں سائیکل والے معاملے پر آرڈر کر دیتا ہوں، معاملے کو حل کر دیتے ہیں۔

بعد ازاں آفیشل سیکریٹ ایکٹ خصوصی عدالت  کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین  چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو  کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے عمران خان کی درخواست منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل واٹس ایپ کے ذریعے چیئرمین پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرائیں ۔

صنعت کار اور تاجر برادری کو مراعات دیں گے، مریم نواز

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نوازشریف  نے کہا ہے کہ کاروباری، صنعتکار اور تاجر برادری کو مراعات دیں گے، بیوروکریسی اور ایف بی آر کی اصلاح  کریں گے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس  اینڈ انڈسٹری (  ایف پی سی سی آئی ) کے نمائندوں سے  ملاقات کے دوران  مریم نواز نے  پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے پارٹی قائد نوازشریف کے وژن سے کاروباری برادری کو آگاہ کیا۔

رہنما ن لیگ  نے کہا کہ نوازشریف معیشت کی بحالی، تعمیر اور ترقی کے دور کا نام ہے، ان کا ایجنڈا معیشت کی بحالی، قرض پر چلنے والی معیشت اور عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا دلانا ہے۔  انہوں نے کہا کہ نوازشریف میثاق معیشت کو تعبیر دے گا اور  اداروں کی پھر سے تعمیر کرے گا۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ  بیوروکریسی  اور ایف بی آر کی اصلاح کریں گے اور نیب کے انتقام کا خاتمہ کر کے کاروباری برادری کے تحفظات دور کریں گے۔

انہوں نے کہا  کہ کاروباری، صنعتکار اور تاجر برادری کو مراعات دیں گے، سرکار نہیں عوام اورنجی شعبہ کاروبار  کرے گا۔ کاروبار کرنے کی آسانی پیدا کی جائے گی اور  چھوٹے کاروباروں  کی حوصلہ افزائی کریں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ  زراعت اور کسان کی ترقی نوازشریف کے دور میں ہوئی جس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا ، کسان کو زرعی ٹیوب ویلز پر رعایتی بجلی اور  ٹیکسٹائل انڈسٹری کو خصوصی مراعات دیں۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے توانائی کے بحران ختم کیے اور  ایل این جی ٹرمینلز بنائے، انہوں نے گیس کی فراہمی سے انڈسٹری کو ایک نئی زندگی دی تھی، اور آنے کے  بعد وہ پھر ایسا ہی کریں گے۔

انہوں نے سابق حکومت  پر تنقید کرتے  ہوئے کہا کہ 2018 سے 2022 کی تباہی نے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ  نوجوانوں، خواتین، مزدوروں، کسانوں، صنعتکاروں، تاجروں سمیت تمام طبقات کو ریلیف دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، زراعت، معدنیات، توانائی سمیت دیگر شعبوں کی مثالی اور تیز ترین ترقی کا پلان تیار ہے۔