All posts by Khabrain News

مچل جانسن کی تنقید کے بعد عثمان خواجہ ’ہیرو‘ ڈیوڈ وارنر کے دفاع میں بول پڑے

آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز مچل جانسن کی جانب سے تنقید کے بعد عثمان خواجہ اپنے اوپننگ پارٹنر ڈیوڈ وارنر کا دفاع کرنے کے لیے میدان میں آگئے۔

سابق فاسٹ بولر جانسن نے وارنر پر اس وقت تنقید کی تھی جب انہوں نے رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے آسٹریلوی اسکواڈ میں اپنی جگہ برقرار رکھی۔

وارنر پاکستان کے خلاف تین میچوں کی ہوم سیریز کے بعد ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہہ دیں گے۔

فیصلے پر جانسن نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ خراب ٹیسٹ فارم کی روشنی میں ان کے سابق ساتھی کو “ہیرو جیسی رخصت “ کیوں دینی چاہئیے۔

جانسن کا کہناتھا کہ وارنر نے 2018 میں جنوبی افریقہ میں سینڈ پیپر گیٹ کے معاملے میں اپنے کردار کی پوری ذمہ داری قبول نہیں کی تھی جس کی وجہ سے ان پر 12 ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

اسٹیو اسمتھ اور وارنر دونوں پر اسکینڈل میں ملوث ہونے پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی تھی تاہم عثمان واجہ نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ ڈیوڈ وارنر اور اسٹیو اسمتھ میرے ذہن میں ہیرو ہیں۔

کرکٹرنے مزید کہا کہ، ’کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ۔ نہ میں ، نہ مچل جانسن ، نہ اسٹیون اسمتھ اور نہ ہی ڈیوڈ وارنر کامل ہیں۔‘

عثمان خواجہ کاکہنا تھا کہ وارنر مثبت نقطہ نظر سے کھیل کے لیے جو کچھ بھی کیا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانسن کا یہ کہنا کہ ڈیوڈ وارنر یا سینڈ پیپر اسکینڈل میں ملوث کوئی اور شخص ہیرو نہیں ہے، میں اس سے سختی سے متفق نہیں ہوں۔

آسٹریلیا اور پاکستان کے مابین پہلا ٹیسٹ 14 دسمبر سے پرتھ میں شروع ہوگا جس سے قبل روایتی باکسنگ ڈے ٹیسٹ 3 جنوری سے میلبورن کرکٹ گراؤنڈ اور پھر سڈنی میں کھیلا جائے گا۔

وارنر نے اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے آبائی شہر سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ٹیسٹ کے بعد کھیل کا یہ فارمیٹ چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن وہ وائٹ بال کرکٹ جاری رکھیں گے۔

وارنر حالیہ 50 اوورز کے ورلڈ کپ میں شاندار فارم میں تھے لیکن انہوں نے 2020 کے اوائل سے اب تک صرف ایک ٹیسٹ سینچری اسکورکی ہے اور آسٹریلیا میں 2019-2020 کے موسم گرما کے بعد سے ان کی اوسط صرف 28 رنز ہے۔

’عمران اشرف نے مجھے چھوڑا تھا میں نے نہیں، اللہ نے بہتر انسان سے نوازا‘

پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے مقبول اداکارعمران اشرف کی سابقہ اہلیہ کرن اشفاق حسین ڈارنے دوسری شادی پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

کرن اشفاق حسین ڈارکا نام گزشتہ ہفتے پی پی پی رہنما حمزہ چوہدری سے دوسری بار رشتہ ازدواج میں بندھنے کے بعد سے سرخیوں میں ہے۔

اس جوڑے کی شادی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔

کرن اشفاق حسین نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ انسٹاگرام پر بھی اپنے نکاح اور ہلدی کی تقریب سے اپنی تصاویر شیئر کی ہیں۔

شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز پر جہاں اس جوڑے کو مبارکباد دی جارہی ہے تو وہیں کچھ صارفین نے کرن اشفاق کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا ۔

ایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’اتنا جلدی تو ہم بریک اپ سے موو نہیں کرتے‘۔ اس تنقید کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے کرن اشفاق حسین نے کہا کہ ’مطلب میں بیٹھی رہتی، میرے ماں باپ مجھے اکیلا دیکھ کر روتے، پریشان رہتے، شادی نہ کرتی، بس طلاق کے نام پہ بیٹھی رہتی‘۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’عمران اشرف پیارا تھا زیادہ ویسے، اسے کیوں چھوڑا تھا ویسے‘۔ کرن اشفاق نے ان صارف کو بھی نہ چھوڑا، انہوں نے لکھا کہ ’اس نے چھوڑا تھا میں نے نہیں، اللہ نے مجھے بہتر انسان سے نوازا ہے‘۔

عمران اشرف اور کرن اشفاق کی شادی 2018 میں ہوئی تھی۔ 2022 میں دونوں نے اپنی راہیں جدا کرلی تھیں، جس کا باضابطہ اعلان کرن اشفاق نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر کیا تھا۔

کرن اشفاق حسین ڈار کے شوہر حمزہ علی چوہدری پیشے کے اعتبار سے ایک کارپوریٹ وکیل اور نوجوان سیاست دان ہیں۔

حمزہ علی چوہدری سابق پاکستانی کرکٹر بھی رہ چکے ہیں۔

نگراں پنجاب حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس کی فیس میں 16 گنا سے زائد کا بھاری اضافہ کردیا

نگراں پنجاب حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس کی فیس میں 16 گنا سے زائد کا بھاری اضافہ کردیا، جس کا اطلاق یکم جنوری سے ہوگا۔

نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ میں صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ڈرائیونگ لائسنس کی فیس میں اضافے کی منظوری دی گئی۔

فیصلے کے مطابق نئی فیس کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے ہو گا، یکم جنوری سے قبل ڈرائیونگ لائسنس موجودہ شرح فیس سے بنائے جائیں گے، اور اس کے بعد لرنر کی فیس 60 روپے سے بڑھا کر ایک ہزارروپے کردی جائے گی۔

ایل ٹی وی، ایچ ٹی وی، پی ایس وی لائسنس فیس کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا، جب کہ امریکا، کینیڈا اور دیگر ممالک کے شہری آن لائن 100 ڈالر ادا کر کے لائسنس بنوا سکیں گے۔

اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ طلبہ صرف ہائی گریڈ میرٹ سے لوگریڈ میرٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز میں ٹرانسفر ہوسکیں گے، اجلاس میں پنجاب میں نرسنگ کی طالبات کی تعداد دگنی کرنے کے لئے فنڈز کے اجراء اور انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ لاہور کے لئے انتظامی کمیٹی کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔

کابینہ نے باغ جناح کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر انتظامی امور اور چنیوٹ کے تاریخی عمر محل کا انتظام والڈ سٹی اتھارٹی کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا، جب کہ پنجاب وائلڈ لائف رولز 1974ء کے تحت شوٹنگ لائسنس اور فیس پر نظر ثانی اور گوجر خان میں یونیورسٹی آف پنجاب کا پوٹھوہار کیمپس قائم کرنے کی منظوری دی گئی۔

امریکی سفارت کار 40 برس کیوبا کیلئے جاسوسی کرتا رہا

قومی سلامتی کونسل میں خدمات انجام دینے والے سابق امریکی سفارت کاروکٹر مینوئل روچا کو 40 سال سے زائد عرصے تک کیوبا کیلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتارکرلیا گیا۔

امریکی حکومت نے 1990 کی دہائی میں سابق سفارتکار پر 40 سال سے زائد عرصے تک خفیہ طور پر کیوبا کی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

وکٹر مینوئل روچا کو ایف بی آئی کی جانب سے طویل عرصے سے جاری انسداد انٹیلی جنس کی تحقیقات کے بعد جمعے کے روز گرفتار کیا گیا تھا۔ 2000 سے 2002 تک بولیویا میں امریکی سفیر رہنے والے روچا نے 1994 سے 1995 تک قومی سلامتی کونسل میں بھی کام کیا۔ ان پر متعدد وفاقی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے۔

اٹارنی جنرل میریک گارلینڈ کے مطابق یہ کارروائی ایک غیر ملکی ایجنٹ کی جانب سے امریکی حکومت کی سب سے طویل عرصے تک جاری دراندازیوں میں سے ایک کو بے نقاب کرتی ہے۔

وکٹر مینوئل روچا پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکی حکومت کے اندر ایسے عہدوں کی تلاش کی جو انہیں غیرعوامی معلومات تک رسائی اور امریکی خارجہ پالیسی کو متاثر کرنے کی صلاحیت فراہم کریں۔ 73 سالہ روچا کو جمعہ کے روز میامی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

وفاقی قانون کے مطابق امریکا کے اندر کسی غیر ملکی حکومت یا ادارے کی سیاسی بولی لگانے والے افراد کو محکمہ انصاف میں اندراج کرانا ہوتا ہے، جس نے حالیہ برسوں میں غیر قانونی غیر ملکی لابنگ کے مجرمانہ نفاذ میں اضافہ کیا ہے۔

روچا کا 25 سالہ سفارتی کیریئر ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں انتظامیہ کے تحت گزرا، زیادہ تر حصہ سرد جنگ کے دوران لاطینی امریکہ میں گزرا۔

روچا کی سفارتی تعیناتیوں میں کیوبا میں امریکی مفادات کے سیکشن میں ایک ایسے وقت میں کام کرنا بھی شامل تھا جب فیڈل کاسترو کی کمیونسٹ حکومت کے ساتھ امریکا کےمکمل سفارتی تعلقات نہیں تھے۔

کولمبیا میں پیدا ہونے والے روچا کی پرورش نیویارک کے ایک محنت کش گھرانے میں ہوئ، انہوں نے ییل، ہارورڈ اور جارج ٹاؤن سے لبرل آرٹس کی ڈگریاں حاصل کیں۔

حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ روچا نے 1981 میں اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں عہدوں پر فائز ہونے کا فیصلہ کیا تاکہ انہیں خفیہ معلومات سمیت غیر عوامی معلومات تک رسائی فراہم کی جاسکے اور امریکی خارجہ پالیسی کو متاثر کرنے کی صلاحیت فراہم کی جاسکے۔

رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2012 تک روچا امریکی فوج کی مشترکہ کمان امریکی سدرن کمانڈ کے کمانڈر کے مشیر تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنا راز برقرار رکھنے کے لیے امریکا کو گمراہ کن معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ روچا کیوبا کے انٹیلی جنس اہلکاروں سے ملنے کے لیے اکثر امریکا سے چلے جاتے تھے اور سفری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے جھوٹ بولتے تھے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ روچا نے گزشتہ سال اور رواں سال ہونے والی ملاقاتوں میں بظاہر اعتراف کیا تھا کہ وہ ایف بی آئی کے ایک خفیہ ایجنٹ کا جاسوس تھا۔ خود کو کیوبا کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کا خفیہ نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے ایجنٹ نے روچا کو کیوبا کے لیے کئی دہائیوں تک کام کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے سنا۔

امریکی حکومت کے بیان کے مطابق روچا مبینہ طور پر امریکا کو ’دشمن‘ قرار دیتے رہے اور خود کو اور کیوبا کو بیان کرنے کے لیے ’ہم‘ کی اصطلاح استعمال کرتے رہے، فیڈل کاسترو کو ’کمندانتے‘ قرار دیا اور کیوبا کی انٹیلی جنس میں ان کے رابطوں کو ’کامریڈز‘ قرار دیا۔

روچا نے اٹلی ، ہونڈوراس ، میکسیکو اور ڈومینیکن ریپبلک میں بھی خدمات انجام دیں ، اور قومی سلامتی کونسل کے لیے لاطینی امریکاچ کے ماہر کے طور پر بھی کام کیا۔

میجر محمد اکرم نشان حیدر کا 52واں یوم شہادت منایا جارہا ہے

اسلام آباد: پاک فوج کے بہادرسپوت میجر محمد اکرم شہید نشان حیدر کا 52واں یوم شہادت آج منایا جارہا ہے۔

1971ء کی پاک بھارت جنگ میں مشرقی پاکستان کے علاقے ہلی کے محاذ پر میجر محمد اکرم نے اپنی فرنٹیئر فورس کی کمانڈ میں مسلسل 14 دن تک اپنے سے کئی گنا زیادہ بھارتی فوج کی پیش قدمی روک کر دشمن کے اوسان خطا کر دیے اور دْشمن کے ہر حملے کو ناکام بنایا۔

آپ نے 1971کی جنگ میں جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔بہادری اور جرات کی نئی داستان رقم کرنے پر میجر محمد اکرم کو پاک فوج کے اعلیٰ ترین اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔

غزہ: اسرائیل نے حملے تیز کردیے، شمالی غزہ میں 50 سے زائد پناہ گزین فلسطینی شہید

عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی جارحیت جاری ہے،صیہونی فوج کے طیاروں نے شمالی غزہ کے علاقے الدرج کے دو اسکولوں کو نشانہ بنایا جس سے 50 سے زائد پناہ گزین فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔

اسرائیلی فوج نے بیت لاحیہ، خان یونس، شجاعیہ اور رفاہ میں بھی فلسطینیوں کی پناہ گاہوں، اسکولوں، تجارتی مال اور رہائشی عمارتوں پر بھی بمباری کی، اس دوران غزہ سپریم کورٹ کی عمارت بھی تباہ کردی گئی، اسپتال اور ایمبولینس پربھی حملےکیے جا رہے ہیں۔

کمال ادوان اسپتال کے اطراف بمباری کے بعد تباہی کی نئی ویڈیو جاری کردی گئی۔ اسپتال میں لوگوں کو سیڑھیوں کے قریب پناہ لیتے دیکھا جاسکتا ہے۔دس ہزار شہری اسپتال میں پناہ گزین ہیں۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ نصر اسپتال کا عملہ چھتیس چھتیس گھنٹے کام کررہا ہے، ترجمان جیمز ایلڈر نے اسپتال میں ویڈیو بنانے کے بعد ایکس پر جاری کرتے کہا کہ عملہ زخمیوں کی مزید مدد سے قاصر ہے، ویڈیو میں ہیلتھ ورکر کا کہنا تھا کہ ہم ٹوٹ پھوٹ چکے ہیں، شاید ہمارے خاندان بھی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوچکے ہوں۔

اسرائیل نے ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور بلڈوزر خان یونس پہنچا دیے ہیں جس کے بعد خان یونس میں ہزاروں فلسطینیوں نے رفاہ بارڈر کی جانب نقل مکانی شروع کردی۔ اقوام متحدہ کے مطابق خان یونس چھوڑنے والوں کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں،لوگ سڑکوں پر کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔

غزہ کی فائبرروٹس بھی کاٹ دیے جانے کے باعث موبائل اور انٹرنیٹ اور لینڈ لائن سروس معطل ہوچکی ہے۔

اسرائیلی فوج نے حماس کے 200 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ اسرائیلی فوجی ترجمان جوناتھ کونری کس کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ پر حملوں میں حماس کی لیڈرشپ کو نشانہ بنانے کا موقع مل رہا ہے۔

اسرائیل نے عالمی ادارہ صحت کو بھی چوبیس گھنٹے میں جنوبی غزہ میں گودام خالی کرنے کا حکم دے دیا۔

مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج کے چھاپے جاری ہیں اور گزشتہ روز مزید درجنوں افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔

اسرائیلی فورسز نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل فضائی حملوں کا مقصد حزب اللہ کی قوت کو کم کرنا ہے اور یہ اسرائیل پر حملوں کا جواب ہے، اسرائیل نے حزب اللہ کے اسلحہ کے ڈپو کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسرائیل نے 80 ملکوں کے لیے اپنے شہریوں کو سفر سے بھی خبردار کردیا ہے۔

سات اکتوبر سے حماس کے حملوں کے بعد سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے باعث فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 16 ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے جبکہ42 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔

لڑکیاں مالی استحکام چاہتی ہیں تو انہیں 45 سال کے شخص سے شادی کرنی چاہئیے، صبا فیصل

پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ صبا فیصل نے والدین کو بیٹیوں کے علاوہ بیٹوں کے اچھےنصیب کیلئے بھی دعائیں کرنے پر زور دیا ہے۔

صبا فیصل نے بیٹوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے ہم بیٹیوں کے نصیب کیلئے دعائیں کیا کرتے تھے، لیکن ہمیں یہ بھی دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ بیٹوں کے نصیب بھی اچھے کرے‘۔

اداکارہ نے اس کی وجہ پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا کہ ’بیٹے پورا ایک خاندان لے کر چلتے ہیں، جب بیٹوں کی شادیاں ہوتی ہیں توآنے والی بھی اپنے شوہر کے ساتھ پورا ایک خاندان لے کر چلتی ہے، کیونکہ آنے والی بیٹے کے نصیب سے آتی ہے‘۔

صبا فیصل شو کے دوران اپنی والدہ اور بھابھی کے درمیان خوبصورت اور محبت بھرے رشتے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کافی آبدیدہ ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میری والدہ پورے ایک سال بیماری کے سبب بستر پر تھیں، میری بھابھی نے ان کی بہت خدمت کی، وہ میری والدہ کی یہ تکلیف دیکھ کر بہت روتی تھیں‘۔

صبا فیصل نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد سے میں اپنی بھابھی سے بے حد محبت کرتی ہوں، میں ان کو اپنی والدہ کا درجہ دیتی ہوں‘۔

نوجوان لڑکیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ ’آج لڑکیاں توقع کرتی ہیں کہ وہ کسی لڑکے سے شادی کریں گی اور اس کے گھر کی مالک ہوں گی، سب کچھ ان کا ہوگا، یہ بہت غلط ہے‘۔

اس حوالے سے اداکارہ نے مزید کہا کہ ’وہ یہ کیوں نہیں سمجھتی کہ نوجوان لڑکے اپنی جدوجہد کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔ لہذا اگر وہ مالی استحکام چاہتی ہیں تو انہیں 45 سال کے شخص سے شادی کرنی چاہیئے جو ان کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے قابل ہو‘۔

صبا فیصل باصلاحیت اور تجربہ کاراداکارہ ہیں جنہوں نے کیرئیر کا آغاز پی ٹی وی پربطور نیوز کاسٹر اور اناؤنسر کی حیثیت سے کیا تھا۔

بعدازاں صبا فیصل نے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھا اوریہاں بھی نمایاں پہچان حاصل کی۔

صبا فیصل کی اداکاری کی صلاحیتوں کو مداحوں کی جانب سے خوب سراہا جاتا ہے اور انہیں بہترین اداکاراؤں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔

پی ایس ایل9؛ غیر ملکی کھلاڑیوں کی فہرست سامنے آگئی

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے نویں ایڈیشن کیلئے غیر ملکی کھلاڑیوں کی فہرست سامنے آگئی۔

پی ایس ایل 9 کیلئے غیر ملکی کھلاڑیوں کی رجسٹریشن کا سلسلہ جاری ہے جس میں معروف پلئیرز کے علاوہ 254 کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی ہے، اس سال آسٹریلیا کے کسی بھی بڑے پلئیر کی جانب سے اپنا رجسٹر نہیں کروایا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے غیرملکی کھلاڑیوں کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا ہے، جنہوں نے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔

فہرست میں کرکٹ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے رجسٹریشن کروائی ہے تاہم قابل ذکر آسٹریلوی کھلاڑی اس لسٹ میں شامل نہیں ہیں۔

پلاٹینم کیٹیگری میں 20 غیرملکی پلئیرز کو شامل کیا گیا ہے جس میں انگلش کرکٹرز کی تعداد نمایاں ہے۔

ایلکس ہیلز، مجیب الرحمان، شکیب الحسن، ٹام کوہلر کیڈمور، رحمان اللہ گرباز، ڈیوڈ ویز، سکندر رضا، کولن منرو، جیمز ونس، رسی وان ڈیر ڈوسن اور حضرت اللہ زازئی جیسے نامور کھلاڑی پہلے ہی پی ایس ایل کے لیے سائن کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 9 کا آفیشل ڈرافٹ 13 دسمبر کو لاہور میں شیڈول ہے۔

بجلی کمپنیوں کا خفیہ کھیل کیا تھا، نیپرا کی رپورٹ میں سب کچھ کھل گیا

اگست میں نگراں حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان بھر میں بجلی کے بلوں میں اضافے پر عوام کی جانب سے بھرپوراحتجاج کیا گیا، اگرچہ حکومت نے یہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ بجلی کی قیمت میں اضافہ کنزیومر پرائس انڈیکس اور حال ہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی بنیاد پر ہوا ہے، لیکن اصل وجہ کچھ اور ہی نکلی۔

نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ رواں سال جولائی اور اگست میں ملک بھر میں لاکھوں صارفین ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ’غیر قانونی اور غیر قانونی طریقوں‘ کی وجہ سے زائد بلنگ کا شکار ہوئے۔

14 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح ڈسکوز بلنگ کے غلط کاموں میں ملوث تھے جن میں سازوسامان کے مسائل، فضول چارجز اور بلنگ کی مدت میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

اس عمل کو جس کی وجہ سے لاکھوں صارفین پر اضافی بوجھ پڑا۔ مجموعی طور پر تین وسیع زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

بلنگ کا دورانیہ
انکوائری رپورٹ میں چونکا دینے والا انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں ایک کروڑ سے زائد صارفین کو بل جاری کیے گئے جو عام طور پر کیے جانے والے 30 دن سے زائد کا احاطہ کرتے ہیں۔

بریک ڈاؤن سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے 5 ملین سے زیادہ صارفین کو 31 یا 32 دنوں کے لیے اور 2 ملین سے زیادہ صارفین کو 33 دنوں کے لیے بل دیا گیا تھا۔ تاہم، 450،000 سے زیادہ صارفین کو 40 دن یا اس سے زائد کیلئے بل دیا گیا جس سے ان کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہوا.

اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ بجلی کے بل سلیب میں کام کرتے ہیں ، زیادہ بلوں میں طرح کے مضمرات تھے۔لاکھوں صارفین سے اس سے زیادہ سلیب کے لئے چارج کیا گیا تھا جس کے لیے انہوں نے ادائیگی کی تھی۔ اگرچہ رپورٹ میں مجموعی تعداد فراہم نہیں کی گئی لیکن جولائی میں صرف ملتان الیکٹرک پاور کمپنی میں 20 لاکھ سے زائد ایسے صارفین کی اطلاع دی گئی۔

بجلی کے بل معاشرے کے غریب طبقوں کو دو سطحوں کا تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ 100 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو محفوظ زمرے میں رکھا گیا ہے جبکہ 100 یونٹ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کو ’لائف لائن‘ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔

بلنگ کا دورانیہ 30 دن سے زائد ہونے کی وجہ سے لاکھوں صارفین (جن میں صرف ملتان کے 6 لاکھ 47 ہزار 155 صارفین بھی شامل ہیں) اپنے بجلی کے بلوں پر ملنے والی سبسڈی سے محروم ہوگئے۔

ناقص میٹر اور غلط ریڈنگ
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں لاکھوں میٹرز اب استعمال کے قابل نہیں ہیں اور انہیں تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جن صارفین کے پاس میٹر ہیں ان سے بغیر ریڈنگ کے چارج کیا گیا۔

نیپرا کے کنزیومر سروس مینوئل (سی ایس ایم) میں کہا گیا ہے کہ خراب میٹرز کو فوری طور پر یا زیادہ سے زیادہ دو بلنگ سائیکلوں کے اندر تبدیل کرنا ہوگا۔ تاہم یہ میٹر کئی ماہ سے اور کچھ جگہوں پر گزشتہ 3 سال سے تبدیل نہیں کیے گئے ہیں۔

چونکہ ناقص میٹر ریڈنگ فراہم کرنے سے قاصر ہے ، لہذا سی ایس ایم پچھلے سال کے اسی مہینے میں اسی کھپت کی اوسط بنیاد پر بلنگ کی اجازت دیتا ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 4 لاکھ سے زائد صارفین پر ’ناقص لیبل‘ کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بہت سے میٹر ریڈرز نے سرکاری طور پر جاری کردہ ہینڈ ہیلڈ یونٹس کو استعمال کرنے کے بجائے اپنے فون پر کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے ریڈنگ (اسنیپ) لی۔

اس کی وجہ سے ناقص یا غلط ریڈنگ ہوئی کیونکہ بہت سے معاملات میں یونٹوں کو صحیح طریقے سے نہیں پڑھا جاسکتا تھا جبکہ دیگر معاملات میں میٹر کو بالکل بھی یقینی طور پر شناخت نہیں کیا جاسکتا تھا۔

رپورٹ میں شامل میٹرریڈنگ سے متعلق نشاندہی کرنے والے مسائل :

پڑھنے اور چارج شدہ بل کے درمیان فرق میٹر اسنیپ کی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا کوئی اسنیپ شاٹ نہیں واضح اسنیپ شاٹ اسنیپ اور شیڈول پر مختلف تاریخیں میٹر نمبر واضح نہیں ہے میٹر نمبر غیر مطابقت رکھتا ہے

ڈیٹیکشن بِل
ڈسکوز کو ’ڈیٹیکشن بل‘ جاری کرکے بجلی چوری پر قابو پانے کی اجازت ہے یعنی اگر کوئی صارف مین لائن سے غیر قانونی طور پر بجلی حاصل کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو کمپنی ان سے چوری شدہ یونٹس کے لیے چارج کر سکتی ہے۔

تاہم انکوائری رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جاری کیے جانے والے ڈیٹیکشن بل ’جعلی اور فضول‘ ہیں۔ سادہ الفاظ میں، صارفین کو بجلی چوری کرنے پر سزا دی جا رہی ہے، حالانکہ انہوں نے ایسا کوئی غلط کام نہیں کیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کچھ معاملوں میں صارفین نے اپیل کی جس پرانہیں وہ رقم واپس دے دی گئی جو ڈسکوز نے ان سے ڈیٹیکشن بلوں کے تحت وصول کرنے کی کوشش کی تھی۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح کے غیر قانونی طریقوں سے ’اچھے‘ صارفین اپنے اصل بلوں سے بھی دور رہتے ہیں۔

اکبر ایس بابرکا پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات چیلنج کرنےکااعلان

تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اور وہ آج الیکشن کمیشن میں باقاعدہ درخواست دائر کریں گے۔

تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے انٹر پارٹی الیکشن کو الیکشن کہنا ہی قابل اعتراض ہے، تمام غیر جانبدار مبصرین و تجزیہ کاروں نے بھی اس الیکشن پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کبھی کسی نے نہیں دیکھا کہ کسی الیکشن میں 15 سے 20 لوگ جمع ہوں اور وہ نعرے لگائیں قبول ہے قبول ہے، اور کچھ دیر بعد ہی انتخابات کا اعلان ہو جائے۔

اکبر ایس بابر نے کہا کہ ہم بشمول بانی ممبران یکم دسمبر کو پی ٹی آئی کے مرکزی دفتر گئے تھے تاکہ ہم بھی اس جمہوری عمل کا حصہ بنیں، ہم نے وہاں کارکنان سے کہا کہ ہمیں کاغذات نامزدگی دیے جائیں، ہمیں ووٹر لسٹ دی جائے، اور قواعد و ضوابط بتائے جائیں، لیکن کچھ بھی موجود نہیں تھا، وہاں موجود عہدیداران کا کہنا تھا کہ ان تمام چیزوں کی ضرورت ہی نہیں ہے اور سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔

بانی رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن میں تمام عہدے بلامقابلہ ہی دے دیے گئے، اور اگر ہمارا موازنہ کسی دوسری جماعت سے کیا جائے کہ وہاں بھی ایسے ہی عہدے مل جاتے ہیں یا یہ برائی وہاں بھی ہے تو یہاں بھی اسے تسلیم کرلیا جائے تو پھر پی ٹی آئی کے وجود کی کیا ضرورت تھی۔

اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ میں پارٹی بنانے والوں میں سے ہوں، ہم نے اس جماعت کا آئین لکھا تھا، میرے علاوہ حامد خان، فوزیہ قصوری، معراج محمد خان، سعید اللہ نیازی بھی تھے، پارٹی آئین میں لکھا گیا تھا کہ پارٹی کا چیئرمین 3 تین سال کے لئے دو ٹرم رہے گا، اور جمہوری طریقے سے انتخاب ہوگا۔ 2013 میں جو انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے اس میں ایک سال لگا تھا، دفاتر میں رونق تھی، کارکنان آتے تھے کاغذات نامزدگی جمع ہوتے تھے۔

بانی رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن کی نگرانی کرے، جب تک جماعتوں میں جمہوریت نہیں ہوگی وہ مخلص قیادت نہیں بن سکتی۔ پی ٹی آئی کا چیئرمین جس شخص کو بنایا گیا اس کی جماعت میں کیا خدمات یا میرٹ ہے، اگر ملک میں جمہوریت لانی ہے اور اہل لوگوں کو سامنے لانا ہے، لیکن ان کے راستے بند ہیں، ان کی جماعتیں وارثتی سیاستدانوں پر مشتمل ہیں، جو اہل لوگوں کو اقتدار کی سیڑھی سمجھتے ہیں، اور ان کے کندھوں پر چڑھ کر کرسی حاصل کرتے ہیں۔

اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف آج جس نہج پر پہنچ چکی ہے اس میں میرا ہاتھ نہیں ہے، فراڈ الیکشن میں نے نہیں کرائے، میرا تو مطالبہ تھا کہ انتخابات شفاف ہوں، میں تو لوگ جمع کرکے نعرے نہیں لگوائے قبول ہے قبول ہے، کبھی اس طرح نہیں ہوتا، میں یہ نہیں چاہتا کہ انٹراپارٹی الیکشن کالعدم قرار دے کر پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا جائے، بلکہ ایک شفاف انتخابات کا انعقاد کیا جائے، کاغذات نامزدگی چھاپے جائیں، الیکشن کمیشن بنایا جائے۔

دوسری جانب اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی انٹراپارٹی انتخابات چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے، وہ پی ٹی آئی انتخابات کوالیکشن کمیشن میں چیلنج کریں گے، اور آج الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کریں گے۔