All posts by Khabrain News

جنوبی ایران میں 5.5 شدت کا زلزلہ

تہران: ایران کے جنوبی علاقے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق منگل کی صبح ایران کے جنوبی علاقے میں زلزلہ آیا، جس کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی۔ جرمن ریسرچ سینٹر برائے جیو سائنسز کے مطابق زلزلہ کی گہرائی 10 کلومیٹر  تھی اور مرکز جنوبی ایران تھا۔

زلزلے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات نہیں ملیں۔

سائفر کیس؛ عمران خان، شاہ محمود قریشی کیخلاف فرد جرم کی کارروائی مؤخر

راولپنڈی: آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے کی خلاف فرد جرم کی کارروائی مؤخر ہوگئی۔

سائفر کیس میں 23 اکتوبر چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر فرد جرم عائد ہوگی۔

اڈیالہ جیل میں قائم خصوصی عدالت میں اسپیشل جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ آئندہ تاریخ پر صرف فرد جرم کی کارروائی ہوگی۔

پراسیکیوٹر شاہ خاور نے کہا کہ سائفر کیس چالان کی تمام ضروری نقول فراہم کر دیں، آئندہ تاریخ 23 اکتوبر کو فرد جرم کے ساتھ ہی گواہان طلبی ہوگی۔ وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا مورال بلند ہے۔

چالان کی مکمل نقول دونوں ملزمان چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو فراہم کر دی گئیں۔

پیٹرول کی قیمت کم ہوچکی سرکاری ادارے اب مہنگائی کم کرائیں، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے پرائس کنٹرول کا نظام سخت کرکے اشیا کی قیمتوں میں کمی لانے کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم نے اہم پالیسی بیان میں کہا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کے نتیجے میں، میں نے وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ حکام کو پرائس کنٹرول کے سخت طریقہ کار کو فعال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام وزرائے اعلیٰ سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ضروری اشیاء اور خدمات کی قیمتیں اسی طرح کم کی جائیں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پاکستانی عوام کو منتقل کرنے کی طرف تمام تر توجہ اس طرف مرکوز کی جائے اور سرکاری ادارے اشیا کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

آصف زرداری اور فضل الرحمان کی ملاقات، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

اسلام آباد:  سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی، ملاقات میں سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان کی رہائشگاہ پر گئے، ملاقات میں مولانا عبدالغفور حیدری بھی شریک ہوئے، آصف علی زرداری نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی خوشدامن کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور فاتحہ خوانی بھی کی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔

واضح رہے کہ جے یو آئی اور پیپلز پارٹی قیادت کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے کے دوران فاصلے بڑھ چکے تھے، جے یو آئی اور پیپلز پارٹی کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات اور بیان بازی بھی کی جاتی رہی ہے۔

وزیر خارجہ کا ایران، مصر کے ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، فلسطین کی صورتحال پر گفتگو

اسلام آباد: وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایران اور مصر کے ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو کی، وزرائے خارجہ نے فلسطین کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

جلیل عباس جیلانی نے ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان سے غزہ کے بحرانوں، شہریوں کی ہلاکت اور فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر بات چیت کی، گفتگو میں اتفاق ہوا کہ تنازع کو بڑھنے سے روکنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں، انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے فوری اقدامات اٹھانے پر بھی اتفاق ہوا۔

وزیر خارجہ جلیل عباسی جیلانی نے مصر کے وزیر خارجہ ایچ سمیح شکری سے بھی ٹیلیفونک گفتگو کی، وزرائے خارجہ کی غزہ کے بحرانوں پر بات چیت ہوئی، تنازعات کو بڑھنے سے روکنے، شہریوں کو اجتماعی سزا، بھوک اور بے گھر ہونے سے بچانے پر اتفاق ہوا، وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی۔

سائفر کیس: چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:  سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر کیس میں اخراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ شاہ خاور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سائفر نو مارچ کو وزیراعظم آفس کو موصول ہوا، فوری قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس نہیں بلایا گیا۔

پراسیکیوٹر ایڈووکیٹ شاہ خاور نے مزید کہا کہ سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے سائفر کا استعمال کیا گیا، ہم گواہوں کے ذریعے بتائیں گے کہ کیسے سائفر کو پبلک کرنے کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات متاثر ہوئے۔

 

چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی خود وضاحت کرچکے ہیں کہ جلسہ میں لہرایا گیا کاغذ سائفر نہیں تھا، چیئرمین پی ٹی آئی نے علامتی طور پر ایک کاغذ لہرایا جسے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ سائفر تھا، یہ بتائیں کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے سائفر کہاں دکھایا، یا جو کاغذ لہرایا وہ سائفر تھا، یہ غلامی نہیں چلے گی، ایک وزیراعظم کو یہی کرنا چاہئے تھا جو چیئرمین پی ٹی آئی نے کیا۔

سلمان صفدر نے کہا کہ ایف آئی اے وکیل کے دلائل کے دوران تیس منٹ ایسا لگا کہ جیسے ہم دہلی ہائیکورٹ میں کھڑے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کسی کو دشمن ریاست کہہ دینا ہمارا ڈومین نہیں ہے، سائفر کیا ہے؟ گواہ کیا ہے؟ سلمان صفدر نے کہا کچھ بھی عدالت کے سامنے ہے نہ ہی وکیل صفائی کے۔

 

سلمان صفدر نے مزید کہا ہماری سبمیشن ہے کہ درخواست گزار سے کچھ برآمدگی نہیں کی گئی، کیسے سائفر سکیورٹی میتھڈ پر سمجھوتہ ہوا یہ نہیں بتایا گیا، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کس دشمن ملک کو اس عمل سے فائدہ ہوا، جب کوئی بات نہیں بنی تو سائفر کو نکال کر لے آئے۔

سلمان صفدر نے کہا ملک میں آج سے پہلے کبھی بھی سائفر کا معاملہ پراسکیوٹ نہیں ہوا، وزارت داخلہ کا پہلے ہی ممنوعہ فنڈنگ کا کیس کولیپس ہوچکا ہے، جب ممنوعہ فنڈنگ کیس سے کچھ نہیں نکلا تو سائفر پر آگئے۔

عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل کرنے پر چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر فیصلہ محفوظ کر لیا، چیئرمین پی ٹی آئی کی سائفر کیس میں اخراج مقدمہ کی درخواست پر بھی فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

نیب کا وائٹ کالر کرائم ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد:  کرپٹ عناصر کے خلاف گھیرا مزید تنگ کرنے کیلئے نیب کی جانب سے وائٹ کالر کرائم ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق ٹاسک فورس میں 4 ملٹری انٹیلیجنس افسران، سٹیٹ بینک کے افراد شامل ہوں گے، ٹاسک فورس میں ایف بی آر سے 8، ایس ای سی پی کے 2 افسران شامل ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فورس میں ایف آئی اے ، آئی بی اور پولیس سروس سے 2،2 افسران بھی شامل ہوں گے، چیئرمین نیب نے ٹاسک فورس میں نئے افسران شامل کرنے کی منظوری دے دی ۔

ذرائع کے مطابق چنے گئے تمام افسران انسداد وائٹ کالر کرائم پر عبور حاصل رکھتے ہیں ، نیب میں ایف بی آر ، بینکنگ امور اور انٹیلیجنس بیورو سے 3، 3 افسران ڈیپوٹیشن پر موجود ہیں جبکہ او ایم جی، انفارمیشن اور ایڈمنسٹریشن اور پولیس افسران نیب میں ڈیپوٹیشن پر پہلے سے کام کر رہے ہیں۔

نوازشریف کی گرفتاری کے خدشات ، ن لیگ کی قانونی ٹیم نے حکمت عملی تیارکرلی

ابق وزیر اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کا معاملہ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جیل میں جانے سے کیسے بچایا جائے ،اس حوالے سے ن لیگ کی قانونی ٹیم نے حکمت عملی تیار کرلی ہے۔

ذرائع کے مطابق العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی، نواز شریف کی طرف سے ان کے وکلا کی جانب سے درخواستیں آئندہ 48 گھنٹے میں دائر کئے جانے کا امکان ہے ۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ دونوں ریفرنسز میں نواز شریف کی درخواستوں کا ابتدائی مسودہ تیار کرلیا گیا، آج رات یا کل صبح تک مختلف قانونی نکات پر غور کے بعد درخواستوں کا مسودہ فائنل کیا جائیگا ۔

سابق وزیراعظم نواز شریف ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا یافتہ ہیں، احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس سال قید اور 80لاکھ پاؤنڈ کی سزا سنائی تھی جبکہ العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو سات سال قید کی سزا سنائی ۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو دس سال کیلئے عوامی عہدے کیلئے بھی نااہل قرار دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ قائد مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعظم نوازشریف 21 اکتوبر کو وطن واپس آئیں گے

وفات کے بعد فیملی پنشن کی مدت 10 سال کرنیکی تجویز

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے رٹائرڈ ملازمین کو پنشن کی ادائیگی کے بل کا بڑھتا ہوا بوجھ کم کرنے کیلیے پنشن اسکیم 2023 میں اہم ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رٹائرڈ ملازمین کی وفات کے بعد فیملی پنشن کی مدت دس سال تک مقرر کرنے کی تجویز ہے تاہم وفات پانے والے رٹائرڈ ملازم کا کوئی بچہ معذور ہونے کی صورت میں غیر معینہ مدت کیلیے اسے فیملی پنشن ملے گی۔ وزارتِ خزانہ نے سمری منظوری کیلیے وزیراعظم کو بھجوادی۔

 پنشن کا بل ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ پے اینڈ پنشن کمیشن نے 2020 میں اپنی سفارشات دیں جن کی روشنی میں حکومت نے پنشن اصلاحات کا اعلان کیا جس کے مطابق پنشن اسکیم میں ترامیم تجویز کی جارہی ہیں۔

ترامیم کے مطابق شہداء کی فیملی پنشن کی معیاد بیس سال تجویز کی گئی، ملازمین کی ریٹائرمنٹ پر ان کی پنشن کی کیلکولیشن ملازمت کے آخری چھتیس ماہ کی قابل پنشن رقم کے ستر فیصد کی بنیاد پر ہوگی اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشنرز کی پنشن میں سالانہ اضافہ کی رقم الگ رکھی جائے گی اور یہ رقم اس وقت تک علیحدہ رکھی جائے گی جب تک کہ حکومت مجاز پنشنری بینیفٹس پر نظر ثانی بارے کوئی فیصلہ نہیں کرلیتی۔

پنشن میں اضافہ افراط زر کی شرح کے مطابق ہوگا لیکن یہ اضافہ دس فیصد تک ہوگا اور حکومت افراط زر کی شرح میں کمی کے مطابق اسکی ایڈجسٹمنٹ بھی کرے گی۔

سرکاری ملازمین پچیس سال ملازمت کے بعدEARLY ریٹائرمنٹ لے سکیں گے لیکن اس پر پچیس سال سروس کے بعد سے ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد تک کے عرصے کے دوران تین فیصد سالانہ کے حساب سے جرمانہ کی مد میں کٹوتی کی جائے گی۔

علاوہ ازیں ریٹائرڈ ملازمین حکومت کے وضع کردہ ٹرمز اینڈ کنڈیشن کے مطابق خام پنشن کا زیادہ سے زیادہ پچیس فیصد تک کمیوٹ کرسکیں گے ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر ریگولر بنیاد پر دوبارہ ملازمت کی صورت میں ملازم کو آپشن دی جائے گی کہ وہ پنشن کو برقرار رکھے یا اس ملازمت کی تنخواہ حاصل کرے۔

مس ورلڈ اُمیدوار26 سال کی عُمر میں چل بسیں

یوراگوئے: 2015 کے مس ورلڈ مقابلے میں یوراگوئے کی نمائندگی کرنے والی سابقہ مس ورلڈ اُمیدوار اور بیوٹی کوئین شیریکا ڈی آرماس 26 سال کی عمر میں چل بسیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابقہ مس ورلڈ اُمیدوار اور بیوٹی کوئین شیریکا ڈی آرماس، گزشتہ دو برس سے سروائیکل کینسر سے جنگ لڑ رہی تھیں۔ تاہم، وہ 13 اکتوبر کو انتقال کرگئیں۔

شیریکا ڈی آرماس کے بھائی میک ڈی آرماس نے اپنی بہن کی موت پر گہرے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر بہن کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ شیریکا نے ماضی میں دیے گئے انٹرویو میں ماڈلنگ کے اپنے شوق کے بارے میں بات کی تھی، اُنہوں نے کہا تھا کہ ‘میں ہمیشہ سے ماڈل بننا چاہتی تھی، چاہے وہ بیوٹی ماڈل ہو، اشتہاری ماڈل ہو، یا کیٹ واک ماڈل’۔

اُنہوں نے کہا تھا کہ ‘مجھے فیشن سے متعلق ہر چیز پسند ہے اور میں سمجھتی ہوں کہ میری طرح کی ہر لڑکی کا خواب ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی طرح مس یونیورس میں شرکت کا موقع حاصل کرلے’۔

شیریکا ڈی آرمس نے چین کے شہر سانیا میں منعقدہ 2015 کے مس ورلڈ مقابلے میں حصہ لیا تھا، وہ ٹاپ 30 اُمیدواروں میں جگہ نہیں بنا سکی تھیں لیکن اس کے باوجود بھی اُنہوں نے اپنی خوبصورتی، لمبے قد اور پُرکشش شخصیت کی بنا پر خوب تعریفیں سمیٹی تھیں۔

واضح رہے کہ سروائیکل کینسر، جس کی وجہ سے شیریکا ڈی آرماس کی موت ہوئی، یہ خواتین میں سب سے زیادہ عام ہے۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، 2018 میں کیے گئے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں 570,000 خواتین میں سروائیکل کینسر کی تشخیص ہوئی اور تقریباً 311,000 خواتین کی اس بیماری سے موت واقع ہوئی۔