All posts by Khabrain News

ممنوعہ فنڈنگ، توشہ خان کیس: عمران خان کو نوٹس،درخواست سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممنوعہ فنڈ ضبط کرنے کے معاملے پر باضابطہ شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ جبکہ توشہ خان کیس میں بھی سماعت مقرر کر لی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے ممنوعہ فنڈنگ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کو باضابطہ شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے، یہ نوٹس سابق وزیراعظم عمران خان کو جاری کیا گیا ہے جس میں ان کو 23 اگست کو پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کو جاری شوکاز نوٹس پر سماعت مقرر کردی، 23 اگست کو سماعت کی سربراہی چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کرینگے۔
دوسری طرف توشہ خانہ کیس میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین کی نا اہلی کے خلاف درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا کی طرف سے دائر کی درخواست پر سماعت 18 اگست کو الیکشن کمیشن میں ہو گی۔

نیشنل انکیو بیشن سینٹر (NIC) کا الائیڈ بینک کے تعاون سے فن ٹیک ہیکا تھون2022کا انعقاد

نیشنل انکیو بیشن سینٹر(NIC)لاہور: (کوہ نورنیوز،ویب ڈیسک) پاکستان کا اپنی نوعیت کا پہلا اورسب سے بڑا انکیو بیشن سینٹرہے جو پاکستان کے بڑے بینکوں میں سے ایک الائیڈ بینک کے تعاون سے ایک اور دلچسپ فین ٹیک ہیکا تھون کی میزبانی کررہا ہے۔اگر آپ کوڈر،UI/ UXماہر یا فن ٹیک(FinTech)کے شوق کے ساتھ مسئلہ حل کرنے والے ہیں،تو پھر یہ آپ کیلئے ایک ملین پاکستانی روپے کی انعامی رقم حاصل کرنے کا خوبصورت موقع ہے۔ہیکا تھون ملک میں موجود ہ چھوٹے اور بڑے معاشی مسائل کے حل کی تلاش کیلئے کمیونٹی کو متحرک کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔این آئی سی(NIC) نے دلچسپی کے حامل چند اہم اقتصادی شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کیلئے مختلف اداروں کے ساتھ ملکر کام کیا ہے۔اس بار ہم پاکستان کے فن ٹیک FinTechکے شعبہ میں انقلاب لانے کیلئے الائیڈ بینک کے ساتھ ایک بار پھر ہاتھ ملا رہے ہیں۔
اس ایونٹ کا مقصد عملی اختراعی آئیڈیاز،پروٹو ٹائپس اور فن ٹیک اسپیس میں چیلنجز کے حل تلاش کرنا ہے۔اس ہیکا تھون کے ذریعہ این آئی سی اور الائیڈ بینک کا مقصد ایسے پر اثر آئیڈیاز تلاش کرنا ہے،جو فن ٹیک کو نہ صرف پاکستا ن بلکہ پوری دنیا میں کرسکتے ہیں۔
این آئی سی کے ڈائریکٹر پرویز عباسی کا کہنا ہے کہ ”مختلف صلاحیتوں کے حامل اسٹیک ہولڈرز کو نیشنل انکیو بیشن سینٹر کے ساتھ جدت کی حوصلہ افزائی کرتے اور پر اثر حل تلاش کرنے کی مشترکہ کوششیں دیکھ کر میرا دل فخر سے بھر جاتا ہے،درحقیقت،تعاون آگے بڑھنے کا ایک رستہ ہے،اس طرح کے واقعات ماحولیاتی نظام کی تعمیر میں شراکت داری کی طاقت ثابت کرتے ہیں۔“
الائیڈ بینک کے سی ای او،عزیز رزاق گل کا کہنا ہے کہ ”الائیڈ بینک جدت طرازی میں ہمیشہ سب سے آگے رہا ہے،اور یہ فن ٹیک ہیکا تھون اسی سمت ایک اور قدم ہے،جو ڈیجیٹل مالیاتی صنعت میں موجودہ چیلنجزپر قابو پانے کیلئے پاکستان کے روشن دماغوں کو اکٹھا کررہا ہے،اسی لئے مالی شمولیت کیلئے حل فراہم کرنے اور ایس ایم ای،ریٹیل اور صارفین کے طبقات کو با اختیار بنانے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔“
فن ٹیک مارکیٹ کی ترقی کے پیچھے ایک اہم عنصر ٹیکنالوجی پر مبنی حل میں بینکوں اور بزنس مین کی بڑی سرمایہ کاری ہے،اس کے علاوہ انفرا اسٹریکچر پر مبنی ٹیکنالوجیز اور اے پی آئیزمالیاتی خدمات کی صنعت کے مستقبل کو نئی شکل دے رہے ہیں اور عالمی فن ٹیک مارکیٹ کی ترقی میں معاونت کررہے ہیں۔خاص طور پر پاکستان،جہاں 2025تک ڈیجیٹل مالیاتی صلاحیت تقریباً36ارب ڈالرز ہے،جس سے جی ڈی پی میں 7فیصد اضافہ ہوگا،40لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور263ارب ڈالرز کے نئے ذخائر حاصل ہوں گے۔اس سے نوجوان اخترا ع کاروں کی ضرورت پیدا ہوگی،جو ایسے حل لائیں کہ انقلاب برپا کرسکیں اور ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کو بڑے پیمانے پر اپنانے کا باعث بنیں۔
آئندہ ہیکا تھون کیلئے فن ٹیک اسپیس میں حل کی تلاش کیلئے درج ذیل موضوعات کی نشاندہی کی گئی ہے
)فن ٹیک بینکاری میں جدت
2)مالی شمولیت اور خواندگی
3)ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپ بینکاری
سرفہرست تین فاتحین کو نقد انعامات اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز،سرمایہ کاروں،مالیاتی اداروں اور سرپرست/ڈومین ماہرین سے جڑنے کا موقع ملے گا،جس کی انہیں اپنے آئیڈیا زکے عملی نفاذ کیلئے ضرورت ہوگی۔

وزیر اعلیٰ کے پی امریکی سفیر سے مل رہے ہیں، اب رجیم چینج والا بیانیہ کہاں گیا؟ ملک احمد

لاہور: (ویب ڈیسک) ن لیگ کے رہنما ملک احمد خان کادعویٰ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے 3 ارب روپے کا بجٹ سوشل میڈیا کارکنوں کیلئے رکھا ہوا ہے، پی ٹی آئی کے ٹرولرز اداروں اور فوج کے خلاف مہم چلاتے ہیں۔
رہنما ن لیگ ملک احمد خان نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا امریکی سفیر سے مل رہے ہیں، امریکی مخالفت اور رجیم چینج والا بیانیہ کہاں گیا؟
ملک احمد خان نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت کے وزيراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان امریکی سفیر سے مل رہے ہیں، گاڑیاں وصول کر رہے ہیں، امداد لے رہے ہیں، کہاں گئی امریکی مخالفت، کہاں گیا رجیم چینج کا بیانیہ؟
پریس کانفرنس میں انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ملک میں نفرت کو فروغ دے رہی ہے جو افسوسناک عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان دعویٰ کرتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کا نام نیوٹرلز نے دیا، جرأت ہے تو اس نیوٹرل کا نام بتائیں۔

ملک میں مہنگائی مزید 0.82 فیصد بڑھ گئی

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق ملک میں مہنگائی 0.82 فیصد مزید بڑھ گئی۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح 38.63 فیصد پر پہنچ گئی ہے، ایک ہفتے میں 33 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 4 اشیاء سستی اور 14 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں پیاز 24.92 اور ٹماٹر 11.93 فیصد مہنگا ہوا، دال مونگ 5.72 اور دال ماش 5.28 فیصد مہنگی ہوئی، آلو 5.03 اور دال مسور 4.43 فیصد مہنگی ہوئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق ڈیزل3.78 اور ایل پی جی کی قیمت میں1.49 فیصد اضافہ ہوا، حالیہ ہفتے دال چنا،انڈے، لہسن،گڑ بھی مہنگا ہوا۔
ایک ہفتے میں چکن5.08 اور فی کلو گھی 0.15 فیصد سستا ہوا۔

یوٹیلیٹی اسٹورز پرچائے، گھی اور دودھ سمیت مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف برانڈز کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا۔
یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف برانڈز کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کےمطابق 950 گرام چائے کی قیمت میں 300 روپے ، ایک لیٹر برانڈڈ دودھ کی قیمت میں 20 روپے جب کہ 260 گرام شہد کے جار کی قیمت میں 115 روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد 950گرام چائےکی قیمت 910 روپے سے بڑھ کر1210 روپے، دودھ کی قیمت 177 روپے سے بڑھ کر 197 روپے اور شہد کی قیمت 310 روپے سے بڑھ کر 425 روپے ہوگئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف برانڈز کے شیمپو کی قیمتوں میں 30 روپے، بچوں کے 650گرام خشک دودھ کےڈبے کی قیمت میں 120 روپے اور دیسی گھی کی ایک کلوکی قیمت میں 240 روپے کا اضافہ کیاگیا ہے۔

فی تولہ سونا مزید 1300 روپے سستا

کراچی: (ویب ڈیسک) ملک بھر میں ایک مرتبہ پھر فی تولہ سونے کی قیمت میں 1300 روپے کی تنزلی دیکھی گئی۔
تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں ایک امریکی ڈالر کا اضافہ دیکھا گیا اور نئی قیمت 1788 ڈالر فی اونس ہوگئی ہے۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کے باوجود ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالا، فیصل آباد، ملتان سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں 1300 روپے کی بڑی کمی دیکھی گئی اور نئی قیمت ایک لاکھ 41 ہزار 900 روپے ہوگئی ہے۔
اُدھر 10 گرام سونے کا بھاؤ 1115 روپے کم ہوکر ایک لاکھ 21 ہزار 656 روپے ہے۔

نیب ترامیم کیس: ہماری معیشت تباہی کے دہانے پر ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ ہماری معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے، عدالت نے مفاد عامہ کو بھی دیکھنا ہے۔
چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے نیب ترامیم کےخلاف تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی درخواست پرسماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے نے استفسار کیا کہ کیا گزشتہ روز کوئی مزہد ترمیم کی گئی۔
درخواست گزارکے وکیل خواجہ حارث نے بتایا کہ میری اطلاعات کے مطابق ترمیم کی گئی ہیں، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ ان ترامیم سے متعلق مزید تفصیل جمع کرائیں۔ شائد پہلے 50 ملین والی بات نہیں تھی لیکن اب شامل کی جاچکی ہے؟ کیا یہ ترامیم جو کی گئی ہیں وہ صدر مملکت کے پاس منظوری کے لئے بھیجی گئی ہیں؟
چیف جسٹس نے کہا کہ اس سماعت میں آپ کو ہم مزید وقت دینگے۔ دوسری طرف سے بھی عدالت کو بہتر معاونت ملے گی۔عدالت میں ایک تفصیلی تحریری معروضات جمع کرائیں۔
خواجہ حارث نے کہا کہ نیب قانون میں کل ہونے والی ترامیم بھی چیلنج کرینگے، یہ ترامیم آئین کے سائلینٹ فیچر کی انکروچمنٹ ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ اس میں اسلامک پوائنٹ آف ویو بھی دیکھنا ہوگا۔ نیب کا پراسیکیوٹر جنرل ہے۔ وہ دلائل دیں تو مناسب نہ ہوگا۔
۔وکیل درخواست گزارکا کہنا تھا کہ عدالت آئینی ترمیم کو بنیادی ڈھانچہ سے متصادم ہونے پر کالعدم کر سکتی ہے۔
جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آزاد عدلیہ آئین کے بنیادی ڈھانچہ میں شامل ہے، نیب ترامیم سے عدلیہ کا کونسا اختیار کم کیا گیا یہاں مقدمہ قانون میں متعارف ترامیم کا ہے، کیا احتساب پارلیمانی جمہوریت کا حصہ ہے۔ آپکا موقف ہے نیب ترامیم سے احتساب کے اختیارات کو کم کردیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس احتساب کیلئے ضروری ہے چھوٹی چھوٹی ہائوسنگ سوسائٹیز میں لوگ ایک دو پلاٹوں کے کیس میں گرفتار ہوئے، پہلے ہر مقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جاتا تھا۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دے کر انسداد دہشتگردی عدالت سے بوجھ کم کیا۔ ہماری معیشت اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے، عدالت نے مفاد عامہ کو بھی دیکھنا ہے۔
جسٹس منصورعلی شاہ کا کہنا تھا کہ کوئی منصوبہ ناکام ہونے پر مجاز افسران گرفتار ہوجاتے تھے۔ گرفتاریاں ہوتی رہیں تو کونسا افسر ملک کیلئے کوئی فیصلہ کرے گا۔ نیب ترامیم کے بعد فیصلہ سازی پر گرفتاری نہیں ہو سکتی۔ نیب ترامیم سے کوئی جرم بھی ختم نہیں ہوا۔ ترامیم کسی آئینی شق سے متاثر نظر نہیں آ رہیں۔ آپ کے مطابق نیب ترامیم آئین کے بنیادی ڈھانچے کے ایک حصے یعنی احتساب کیخلاف ہیں۔ آئین کا بنیادی ڈھانچے ہونے سے متفق نہیں ہوں۔
جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ سال 2022 میں ہونے والی ترامیم کا اطلاق 1985 سے کیا گیا۔ ماضی سے اطلاق ہوا تو سزائیں بھی ختم ہونگی اور جرمانے بھی واپس ہونگے۔ اس طرح تو پلی بارگین کی رقم بھی واپس کرنا پڑیں گی۔ کیا پارلیمان اپنے یا مخصوص افراد کے فائدے کیلئے قانون سازی کر سکتی ہے؟
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ان نیب ترامیم میں بیرون ملک سے قانونی معاونت حقوق کے معاہدے کے تحت ملنے والے شواہد ناقابل قبول ہیں، اگر اس کیس میں بنیادی حقوق متاثر ہونے کا معاملہ ہے تو سنیں گے ورنہ عدالت کا دائرہ کار نہیں بنتا، آج جو حکومت آئی اس نے اپنے گناہ معاف کرا لیے اگلی آئے گی وہ اپنی کرا لے گی، اگر عوام کے پیسے پر کرپشن کی گئی ہے تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی میں آتا ہے، آئین میں طے شدہ ضابطوں کے تحت قوانین کا جائزہ لے سکتے ہیں، یہ نہیں دیکھ رہے کہ کس نے نیب ترامیم کیں، صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی دیکھیں گے۔
وکیل وفاقی حکومت مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ کو پارلیمنٹ کے تیسرے چیمبر میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، نیب کے کئی کیسز لڑے ہیں، معزز ججز کو معلوم ہے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں کیا ہوتا ہے، صدر مملکت نے نیب ترامیم کی منظوری دینے کے بجائے اپنی طرف سے ترامیم کی تجویز کا خط وزیراعظم کو لکھا، یہ خفیہ خط بھی عمران خان کی درخواست کا حصہ ہے، عمران خان سے پوچھاجائے کہ پہلے ان نیب ترامیم کے حق میں کیوں تھے اور اب مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ اگر عمران خان کی یہ سیاسی حکمت عملی ہے تو اس کے لیے عدالت کے بجائے کسی اور فورم کا استعمال کریں۔ عدالت نے سماعت 19 اگست تک ملتوی کردی۔

جماعت اسلامی کا 12 اگست سے حکومت کیخلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان

لاہور: (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کے غلط اقدامات کے خلاف عدالت جائیں گے۔ انہوں نے 12 اگست سے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کردیا۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ عام آدمی کو معلوم ہی نہیں کہ حکومت کس کس طرح لُوٹتی ہے۔ عوام کو اپنے حق اور اس ظلم کے خلاف اُٹھنے کی ضرورت ہے۔ 22 کروڑ عوام اپنے مسائل اورمشکلات کے حوالے سے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے تمام وعدے جھوٹے تھے۔ پونے 4 سالہ دور حکومت میں یوٹرنز کے سوا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اکانومی ریورس گیئر میں رہی۔
سراج الحق نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں مافیازمضبوط ہوئے،اُن کے سرمائے میں اضافہ ہوا۔ پی ڈی ایم کے غلط فیصلوں کا بوجھ عوام پر پڑرہا ہے۔ حکومتی اتحاد ناکام ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہرشہری بجلی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ عام آدمی کومعلوم ہی نہیں کہ حکومت کس کس طرح لُوٹتی ہے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج،ایکسائز، انکم ٹیکس،ٹی وی فیس اور نہ جانے کون کون سے ٹیکس لے رہی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عوام کو اپنے حق اور اس ظلم کے خلاف اُٹھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ بجلی سپلائی کمپنیاں ختم کی جائیں۔ پورے ملک میں بجلی کی سپلائی اور یونٹ کا ریٹ ایک ہونا چاہیے۔بجلی کی قلت پوری کرنے کے لیے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے۔ کالاباغ متنازع ہے،اس کے بجائے دیگر ڈیم مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی حالات کی وجہ سے ہر پانچواں شہری ڈپریشن کا شکار ہو گیا ہے۔

دکانداروں پر انکم اور سیلز ٹیکس عائد کرنے میں کچھ غلطی ہوئی، وزیر خزانہ

کراچی: (ویب ڈیسک) وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ تخمینہ لگایا ہے کہ 3ہزار روپے فی دکان سے انکم اور سیلز ٹیکس عائد کیا جائے لیکن اس معاملے میں کچھ غلطی ہوئی کیونکہ ان دکانوں میں چھوٹے دکاندار بھی شامل کرلیے گئے تھے۔
پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گھنٹہ بجاکر کاروبار کے آغاز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ بجلی کے بلوں کی وصولیوں میں کمی واقع ہوئی جس کے بعد تاجروں سے دوبارہ مذاکرات کیے گئے اور پھر یہ تجویز آئی کہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے دکانداروں پر ٹیکس لگایا جائے اس تجویز پر بات کر رہے ہیں تاکہ ٹیکس بھی ملے اور تاجروں کو بھی پریشانی نہ ہو۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ ڈالر کتنا بڑھے گا، بینکوں پر ڈالرز پر سٹے بازی کا الزام درست نہیں ہے، ڈالر کو قابو میں لانے میں بینکوں کا کردار مثبت رہا ہے اور حکومت بینکوں کے تعاون پر شکرگزار ہے۔ مارکیٹ میں طلب رسد کے تناسب سے ڈالر کی قدر میں اتارچڑھاؤ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ چین سے قرض رول اوور ہوگئے ہیں دیگر ممالک سے بھی قرضے رول اوور ہورہے ہیں، شعبہ زراعت اور برآمدات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں اور جلد ہی برآمدی شعبے کے لیے ترغیبی اسکیم متعارف کروا دی جائے گی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جب اقتدار میں آئے تو نادھندگی کے بادل منڈلا رہے تھے تاہم موجودہ حکومت کی موثر حکمت عملی کی بدولت اب روز نادھندگی کے خطرات کم ہو رہے ہیں، ملک میں 30دن کے ڈیزل، 25دن کے پیٹرول اور 6ماہ کے فرنس آئل کے ذخائر موجود ہیں۔ رواں سال بجٹ خسارے پر قابو پانے کی حکمت عملی وضح کی گئی ہے کیونکہ پچھلے چار سال میں بجٹ خسارے کی اوسطاً مالیت 3500ارب روپے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کا ٹیکس برائے جی ڈی پی تناسب 9.2فیصد ہے جسے بہتر بنانا ہے، بینکوں کے ایڈوانس ٹو ڈپازٹ تناسب پر اسپیشل ٹیکس سسٹم کو درست کر رہے ہیں اور یہ اسپیشل ٹیکس پچھلے سال سے لاگو نہیں ہوگا۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آئندہ تین ماہ تک درآمدات میں اضافہ نہیں ہونے دیا جائے گا اور گاڑیوں سمیت دیگر غیر ضروری اشیاء کی درآمدات پر پابندی عائد کی گئی ہے، پچھلے سال ملک میں 80ارب ڈالر کی درآمدات اور 40ارب ڈالر سے زائد کا تجارتی خسارہ ہوا، کوئی بھی ملک اتنے بڑے جاری کھاتوں کے خسارے کے ساتھ نہیں چل سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو اب بھی 5ہزار میگاواٹ کے شارٹ فال کا سامنا ہے، بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ صنعتی پیداوار بھی بڑھانا تھی لیکن بجٹ خسارے دگنا ہونے اور بیرونی قرضے بڑھنے کے باعث بیرونی ادائیگیاں بڑھیں، حکومت نے تین اقساط میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔
قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس ایکس کے ایم ڈی فرخ ایچ خان نے کہا کہ کیپیٹل مارکیٹ کی ترقی کے لیے ہمیں کسی ترغیب یا سبسڈی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں صرف یکساں کاروبار کرنے مواقع کا ماحول چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کیپیٹل مارکیٹ کی نمو سے ملک میں بچت کی شرح اور ٹیکس دھندگان کی تعداد بڑھتی ہے اور ساتھ ہی دولت کی پیداوار ہوتی ہے۔ پی ایس ایکس کے چئیرمین شمشاد اختر نے کہا کہ پی ایس ایکس میں پالیسی ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہے۔
صدر کیڈا محمد رضوان نے بتایا کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل سے اسٹیٹ بینک میں ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے جی ایس ٹی کو تین مہینوں کے لیے موخر کیا ہے۔
صدر کیڈا نے بتایا کہ بجلی بلوں سے 6 ہزار روپے جی ایس ٹی ختم کر دیا ہے، فکسڈ ریٹ عائد نہیں ہوگا اور اس پر مزید مشاورت ہوگی جبکہ تین ماہ بعد جی ایس ٹی اور فردر ٹیکس بڑھانے کی بات ہوئی ہے۔

ہالی ووڈ کی بلاک بسٹر فلم ’جوکر‘ کا سیکوئل کب ریلیز ہوگا؟

نیویارک: (ویب ڈیسک) ہالی ووڈ نگری کی مشہور فلم ’جوکر‘ کی شاندار کامیابی کے بعد اس کا سیکوئل بنانے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلم میکرز وارنر بروز نے شائقین فلم کی پسندیدہ ہالی ووڈ فلم ’جوکر‘ کا سیکوئل بنانے کا اعلان کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی ریلیز کی تاریخ کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
جیکوئن فینکس کی فلم 4 اکتوبر 2024 کو سینما گھروں کی زینت بنے گی جبکہ سیکوئل میں مرکزی کردار ادا کرنے والے جیکوئن فینکس کے ساتھ لیڈی گاگا بھی اداکاری کے جوہر دکھاتی نظر آئیں گی۔
یاد رہے کہ 2019ء میں ریلیز ہونے والی فلم جوکر باکس آفس پر ایک ارب امریکی ڈالر سے زائد کا بزنس کرنے میں کامیاب ہوئی تھی جبکہ شائقین کی جانب سے بھی فلم اور اس کے گانوں کو خوب سراہا گیا تھا۔