All posts by Khabrain News

الیکشن کرانے ہیں تو عمران خان پہلے صوبائی حکومتیں ختم کرے: رانا ثناء اللہ

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرالیکشن کرانے ہیں تو پہلے اپنی دو صوبائی حکومتیں ختم کرو، اگرقومی اسمبلی سے 100 سے زائد مستعفی اور دو اسمبلیاں ختم ہوں گی تو پھرعام انتخابات ہوں گے۔
نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں تحریک انصاف کے وکلا نے 50مرتبہ کیس ملتوی کرایا، 8سال ہوگئے اب فیصلہ محفوظ ہے کونسی رکاوٹ ہے۔ کیا مسئلہ ہے محفوظ فیصلے کا اعلان نہیں کیا جارہا، ہمارا مطالبہ ہے فارن فنڈنگ فیصلے فوری سنایا جائے،پی ٹی آئی کے چار ملازمین کے اکاؤنٹ میں پیسے آئے،اتحادی جماعتوں کا مطالبہ ہے ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ جلد سنایا جائے۔
عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شخص عقل سے بالکل پیدل ہے، تحریک انصاف نے تقریبا ڈیڑھ کروڑکے قریب ووٹ لیے، اتحادی جماعتوں نے اڑھائی کروڑکے قریب ووٹ لیے، کیا تم اکثریت کو باہرپھینک دوگے؟ تمہارے ارد گرد چور اور ڈاکو بیٹھے ہیں۔50 ارب کی ڈکیتی تم نے خود کی ہے، ڈکیتی کے بدلے 5 ارب کی پراپرٹی لی اس کا آج تک جواب نہیں دیا، ہروقت تم اپنے مخالفین کو گالیاں دیتے ہو، مخالفین کو کہتے ہو ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا، تاریخ میں اس پاگل، احمق کی مثال ہٹلر سے ملتی ہے۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پہلے کہتا تھا الیکشن کروائیں، مسلم لیگ(ن) شروع دن سے الیکشن کے حوالے سے رائے رکھتی تھی، ہم کوئی پیشمان نہیں اتحاد میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہم نے مشکل فیصلے کر کے معیشت کو بچایا، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا معاہدہ تو عمران خان کر کے گیا ہے، مہنگائی تو اس کے معاہدے کی وجہ سے ہے، ہم نے ملک کو ڈیفالٹ کی سٹیج سے باہر نکالا کیا ہمیں کریڈٹ ملے گا۔
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ نواز شریف کل اور آج بھی الیکشن کی طرف جانے کا کہہ رہا ہے، اب کہہ رہا ہے چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل کیا جائے، چیف الیکشن کمشنر کا نام عمران خان نے دیا تھا، جوڈیشل کونسل میں چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا طریقہ کار موجود ہے، دھونس،دھمکی سے چیف الیکشن کمشنرتبدیل نہیں ہوگا۔ اگرالیکشن کرانے ہیں تو پہلے اپنی دو حکومتیں ختم کرو، یہ الیکشن کا صرف ڈرامہ ہے، الیکشن کمیشن آف پاکستان سے فنڈنگ کیس کا فوری فیصلہ سنائے، لاڈلے کیخلاف کیس کو 8 سال ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن کیس کا فیصلہ ہوچکا ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن،ٹرائل کورٹ سے لیکرسپریم کورٹ میں ہمارے خلاف کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم نے چارٹرآف اکانومی کی بات کی تو آگے سے گالیاں دیتا ہے، اس پاگل کو کس انداز میں ڈائیلاگ کے لیے انگیج کریں گے۔ جو حقائق ثابت ہو چکے ہیں ايکشن بھی ان کے مطابق ہونا چاہيے، عمران خان عقل سے بالکل پيدل ہے، گزشتہ روز کہا پى ٹى آئى نے ايک کروڑ ووٹ حاصل کيے، مسلم ليگ ن نے پچھلى بار اڑھائى کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کيے، اپنے اعمال کا نہیں معلوم اور گالياں مخالفين کو ديتے ہو، قومى مفاد اس انسان کے نزديک کوئى حيثيت نہیں رکھتا، قوم نے اگر اس کے شناخت نا کى تو اسکا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس کسی کو گرفتار کرنے یا کروانے کا کوئی اختیار نہیں ہے، گرفتارکرنے کا اختیار نیب، ایف آئی اے کے پاس ہے، اگر کسی انکوائری میں کسی کے خلاف نیب میں مقدمہ بنتا ہے تو گرفتار کریں، ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے تھے، ہم کسی ادارے پرگرفتاری کے حوالے سے پریشرنہیں ڈال سکتے۔
وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 186 ووٹ ان کے پاس اور 179 ہمارے پاس ہیں، ہمارے تین بندے ادھر،ادھرہوئے ہیں، پنجاب حکومت کا کوئی مستقبل نہیں ہے، آپ کچھ نہیں کرسکتے صرف خیبرپختونخوا، پنجاب کی اسمبلی توڑدیں، اگرقومی اسمبلی سے 100 سے زائد مستعفی اور دو اسمبلیاں ختم ہوں گی تو پھرعام انتخابات ہوں گے۔ اللہ اگر ہم اليکشن کى طرف جاتے تو پہلے عمران خان چيف اليکشن کميشن کو ہٹانے کى بات کرتا، چيف اليکشن کميشن کو تبدیل کرنے کا بھى ايک طریقہ کار ہوتا ہے، ہم سے مطالبہ کيا جا رہا ہے پہلے حکومت ختم کريں، ہمارے خلاف تو فيصلے آجاتے اس لاڈلے کے خلاف محفوظ فيصلہ بھی اب سنايا جائے،رانا ثناء اللہ
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ہم مانتے ہیں ہم نے مشکل فيصلے کيے ہیں، مہنگائى اگر ہوئى ہے تو انکى وجہ سے ہوئى ہے، بجلى پٹرول کى قیمتوں میں اضافے کے معاہدوں پر دستخط ان کے ہیں، ہم نے ملک کو ڈيفالٹ سے بچايا ہے يہ ثابت بھی ہوجائےگا، ہم بارز ایسوسی ایشن کے ساتھ ہیں، بار ایسوسی ایشن کا موقف ہے پک اینڈ چوزنہیں ہونا چاہیے، بارایسوسی ایشن کا موقف درست ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے تو انکوائری کرنے کے بعد آرٹیکل سکس یا دیگر نوعیت کے کیسز یا نااہلی کی طرف کیس بھجوایا جائے، اس معاملے پر ایک سب کمیٹی بنائی ہے تمام پہلوئوں پر غور ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کے محفوظ فیصلہ سنائے جانے کے لئے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج کریں۔ پچھلی حکومت کے ملبے کی وجہ سے تین سے چار سال میں ڈالر کی قدر بڑھ رہی ہے، اس کی وجہ آئی ایم ایف کی شرائط بھی ہیں، یہ معاہدہ ابھی تک زیرالتواء ہے ، عمران خان حکومت کا معاہدہ اس میں اصول مشکلات کی جڑ ہے، جب عمران خان کو پتہ لگا کہ میں جانے لگا ہو تو آئندہ حکومت کے لئے بارودی سرنگ بچھائی تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آئی ایم ایف سے وعدہ کے باوجود پیٹرولیم کی قیمتیں نہیں بڑھائیں بلکہ کم کردیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کسی صورت غیر مقبول نہیں ہوئی،ضمنی الیکشن میں جن کو ٹکٹ دیا ان کو ہماری مقامی قیادت نے قبول نہیں کیا، ان پر پونے چار سال کی گندی حکومت کا ملبہ تھا،جس حکومت نے کوئی کام نہیں کیا اور نہ ہی عوام کو کوئی ریلیف دیا۔بطور مسلم لیگ ن پنجاب کا صدر یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہمارے کارکنان نے ضمنی الیکشن کے امیدواروں کو دل سے قبول نہیں کیا۔قائدین جب الیکشن کا فیصلہ کریں گے تو میرا یہ دعوی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب میں کلین سویپ کریگی اور پنجاب میں ہماری ہی حکومت بنے گی۔

سیاستدان آپس میں مکالمہ کریں،عوام کا جمہوریت پر سےیقین اٹھ رہا ہے: سراج الحق

لاہور: (ویب ڈیسک) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ نرم و گرم مداخلت کے مطالبات کی بجائے سیاستدان آپس میں مکالمہ کریں۔ اصلاحات کے بغیر انتخابات سے مسائل ختم نہیں ہونگے،ملک میں ناختم ہونے والی لڑائی شروع ہو جائے گی۔ ادارے متنازعہ بنا دیئے گئے، عوام کا جمہوریت پر سےیقین اٹھ رہا ہے، مرکزی و صوبائی حکومتیں لوگوں کی مشکلات حل کرنے پر توجہ دیں۔ حکمرانوں کو ایک دن اللہ کی عدالت میں بھی پیش ہونا ہے جہاں ان کا کوئی ووٹر یا سپورٹر نہیں ہو گا۔ ملک مہنگائی کی آگ میں جل رہا ہے، بے روزگاری کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا، گھنٹوں لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی تباہ ہو کر رہ گیا، بارشوں اور سیلاب سے سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے، لوگوں کے گھر پانی میں بہہ رہے ہیں، مگر حکمران آپسی مفادات کی لڑائی میں مصروف ہیں۔ ہمیں مسائل کے حل کے لیے قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ اللہ کا نظام ہی بہتری لا سکتا ہے۔ ملک کو سود سے پاک معاشی نظام چاہیے، جماعت اسلامی ملک کو قرآن و سنت کا گہوارہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، عوام ہمارا ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سراج الحق نے کہا کہ حکمران ایک دوسرے کو ختم کرنے کی بجائے عوام کے مسائل کا حل ڈھونڈیں۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کے پاس ایک دوسرے کو فتح کرنے اور گالم گلوچ کے علاوہ اور کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ ملک بحرانوں کی زد میں ہے،آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر آنکھ بند کر کے عمل کیا جا رہا ہے۔ روپے کی بے قدری بھی حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں اور آئی ایم ایف سے طے شدہ شرائط کا نتیجہ ہے۔ اشیائے خورونوش لوگوں کی پہنچ سے دور ہو چکی ہیں، پٹرول، بجلی، گیس اور ادویات کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ سفید پوش آدمی حالات سے پریشان اور کروڑوں نوجوان روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ موجودہ اور سابقہ حکومتوں نے اس ملک کو بحرانوں میں دھکیلا، 75برسوں سے ملک میں یہی کھیل جاری ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف کی سابق صدرآصف علی زرداری کی کورونا سے جلد صحت یابی کیلئے دعا

اسلا م آباد:(ویب ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری کی کورونا سے جلد صحت یابی اور مکمل صحت کیلئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا ہے۔ جمعرات کو وزیراعظم نے اپنے ٹوئٹ میں سابق صدر آصف علی زرداری کی صحت یابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اوران کی صحت یابی کیلئے دعا کی۔ وزیراعظم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ٹویٹ بھی شیئر کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کورونا میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

رانا ثنا اللہ کی دھمکی ان کی مایوسی کی علامت ہے، شاہ محمود قریشی

لاہور: (ویب ڈیسک) سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ رانا ثنا اللہ کی دھمکی ان کی مایوسی کی علامت ہے۔
پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے جو ہرزہ سرائی کی وہ اسے زیب نہیں دیتی اور بلاول بھٹو کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے وہ ابھی ناپختہ ہے۔ ہم ان کے اس رویئے کی مذمت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں ایک آزاد عدلیہ ہماری ضرورت ہے اور گورنر پنجاب کو وزیر اعلیٰ کا حلف لینا چاہیے تھا کیونکہ سپریم کورٹ نے پرویز الہٰی سے حلف لینے کا حکم دیا تھا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کئی چیزیں پسند کی نہیں ہوں گی لیکن انہیں آئین اور قانون دیکھنا ہو گا جبکہ پنجاب کی کابینہ تشکیل پائے گی اور اس کا حلف بھی ہو گا۔ رانا ثنا اللہ کی دھمکی ان کی مایوسی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آپشن رکھا تھا اور صدر نے پرویز الہیٰ سے حلف لے لیا تاہم گورنر کو کابینہ کا آئینی طور پر حلف لینا ہو گا۔ خیبر پختونخوا، پنجاب اور آزاد کشمیر میں ہماری حکومت ہے۔ اب شہباز شریف کو سوچنا ہے کہ وہ حکومت کر پائیں گے، عمران خان مسلسل کہہ رہے ہیں کہ غیرجانبدار الیکشن ہوں۔

ملک میں بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی، 356 افراد جاں بحق

اسلام آباد: (ویب ڈیسک) ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب نےتباہی مچا دی۔ بارشوں سے 356 افراد جاں بحق ہوئے، سب سے زیادہ اموات بلوچستان میں ہوئیں، جہاں پر 106 لوگ زندگی کی بازی ہار گئے، سندھ میں 90، خیبرپختونخوا 69، پنجاب 76، گلگت 8، آزاد کشمیر 6 اور اسلام آباد میں ایک شخص چل بسا۔
وزیراعظم کی زیرصدارت بارشوں اور سیلاب کے دوران نقصان کے جائزے کیلئے اجلاس منعقدہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا مفتاح اسماعیل، مولانا اسعد محمود، مریم اورنگزیب، شیری رحمان، اسرار ترین، امین الحق، شازیہ مری، احسن اقبال، مولانا عبدالواسع، وزیرمملکت محمود ہاشم، معاونینِ خصوصی احد چیمہ، فہد حسین، ارکانِ قومی اسمبلی خالد حسین مگسی، اسلم بھوتانی، امین حیدر ہوتی، مولانا عبدالاکبر چترالی، سردار ریاض مزاری، مولانا صلاح الدین ایوبی، محسن داوڑ، غلام مصطفی شاہ، کیسو مال کھیل داس، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے شرکت کی ۔
وزیرِ اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، وزیرِ اعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور چاروں صوبوں کے چیف سیکٹریز نے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس کو حالیہ مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے بارے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ خطے میں دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ چین بنگلا دیش، افغانستان اور بھارت میں بھی حالیہ مون سون نے شدید تباہی برپا کی ہے۔ امسال پاکستان میں معمول سے ذیادہ 4 ہیٹ ویوز، شدید پری مون سون اور مون سون بارشیں ہوئیں۔ پری مون سون گزشتہ تیس سال کی اوسط کے مقابلے 67 فیصد جبکہ مون سون بارشیں 193 فیصد زیادہ ہوئیں۔
مون سون بارشوں کا بلوچستان میں تناسب گزشتہ تیس سال کی اوسط کے مقابلے 467 فیصد جبکہ سندھ میں 390 فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر اب تک اسلام آباد میں 1، بلوچستان میں 106، سندھ میں 90، خیبر پختونخوا میں 69، پنجاب میں 76 گلگت بلتستان میں 8، اور آزاد کشمیر میں 6 اموات ہوئیں جبکہ پورے پاکستان میں زخمیوں کی تعداد 406 ہے۔ اجلاس کو متاثرہ سڑکوں، منہدم ہونے والے رابطہ پُلوں، مکانات اور مویشیوں کے نقصان کے بارے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ این ڈی ایم اے اور متعلقہ پی ڈی ایم ایز کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں امداد کارروائیاں جاری ہیں۔ مزید برآں نہ صرف مون سون بارشون سے پہلے ویدر وارننگز باقاعدگی سے دی جاتی رہیں بلکہ فروری سے اس حوالے سے تیاریاں کی گئیں۔ اس کے علاوہ صوبائی انتظامیہ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے کام میں مصروف ہیں۔
اجلاس کو متاثرین میں تقسیم کی جانے والی مالی امداد کے حوالے سے بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے زخمیوں اور متاثرہ گھروں کی امداد کو یکساں کرنے اور بڑھانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے متاثرہ اور زخمیوں کی امداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جزوی طور پر متاثرہ مکانات کی امداد 25 ہزار سے بڑھا کر اڑھائی لاکھ اور مکمل طور پر متاثرہ گھروں کیلئے امداد 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ کرنے کی بھی ہدایات جاری کیں۔
وزیرِ اعظم نے ضلع رحیم یار خان میں کشتی الٹنے کے متاثرین کو بھی مذکورہ امداد فراہم کرنے کی منظوری دی۔
شہباز شریف نے مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصان کے تعین کیلئے وفاقی وزرا کی کمیٹی تشکیل دے دی جو آئندہ چار دن کے اندر تمام متاثرہ علاقوں کا دورہ کرے گی۔ 4 اگست کو کمیٹی کی سفارشوں کی روشنی میں قلیل مدتی، وسط اور طویل مدتی جامع پلان تشکیل دیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی موجودہ دور کی ایک حقیقت ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا میں تباہی برپا رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اس قدرتی آفت کے اثرات سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومتوں کی بھرپور معاونت کرے گی۔ پاکستان ہم سب کہ ذمہ داری ہے، باہمی معاونت سے متاثرہ لوگوں کی مدد کریں گے۔
وزیرِ اعظم نے مزید ہدایات جاری کیں کہ قومی و صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز ڈزاسٹر مینجمنٹ کی بجائے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی حکمتِ عملی پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ متعلقہ وزارتیں اور ادارے بین الاقوامی ڈونر ایجنسیوں سے رابطہ قائم کرکے مالی معاونت کے حصول کیلئے کوششیں تیز کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے سپریم کورٹ میں موجود فنڈ کی فراہمی کیلئے وفاقی حکومت معزز عدالت کو خط لکھے گی۔ وزیرِ اعظم نے بارشوں اور سیلاب کے دوران این ڈی ایم اے ، پی ڈی ایم اےاور صوبائی حکومتوں کی امدادی کارروائیوں کو سراہا۔

زرداری، شریف مافیا کی مخالفین کو ختم کرنیکی سوچ ناقابل قبول ہے:عمران خان

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین اور سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ زرداری اورشریف مافیا کی مخالفین کو ختم کرنے کی سوچ ناقابل قبول ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر انہوں نے لکھا کہ زرداری اورشریف مافیا کی سوچ یہ کہ جسے خرید نہ سکو اسے ختم کردو ناقابل قبول ہے۔ ایسا کسی جمہوریت میں ممکن نہیں ہوتا۔ سندھ حکومت کی جانب سے صوبائی قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ یہ کھلی فسطائیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کو ضلع میانوالی اور جنوبی پنجاب میں سیلاب سے متاثر علاقوں کے عوام کو فوری امداد فراہم کرنے کا کہا ہے جبکہ خیبرپختونخوا کی حکومت کو بھی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا کہا ہے۔

حلیم عادل شیخ کو رہا کرنے کا حکم، کرپشن کا مقدمہ بھی خارج

کراچی: (ویب ڈیسک) صوبائی اینٹی کرپشن کی عدالت نے مقدمہ زیر دفعہ 63 کے تحت خارج کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔
عدالت نے کہا کیونکہ یہ معاملہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے اور ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس پراپرٹی سے ان کا کوئی تعلق ہے اس لئے مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔
کراچی میں صوبائی اینٹی کرپشن کی عدالت روبرو 1991 میں دیہہ کھرکیرو میں زمینوں کی جعلی انٹریاں اور جعلسازی سے متعلق مقدمے میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو پیش کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے بتایا کہ حلیم عادل شیخ نے ریونیو حکام کے ساتھ مل کر زمینوں کی جعلی انٹریاں کروائیں۔ ملزمان نے 1991 میں فرنٹ مین قیصر حسین کے نام زمینوں کی جعلی انٹریاں کی۔ ملزمان نے اراضی پولٹری فارمنگ کیلئے 30 سالہ لیز پر لی تھی۔ حلیم عادل شیخ نے جعل سازی سے زمین اپنے نام کروائی۔
سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ ملزم سے تفتیش کرنی ہے کہ فرنٹ مین کون ہے کہاں ہے؟ عدالت نے سرکار وکیل سے استفسار کیا کہ آپ نے فرنٹ مین کا ذکر کیا ہے نام موجود ہے۔
سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ بہت سارے لوگوں کے نام پر انٹریاں کی گئیں ہیں۔ ہمیں پام ولیج کے حوالے سے تفتیش کرنی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سندھ ہاٸیکورٹ کا حکم امتناعی ابھی بھی ہے۔ حلیم عادل شیخ کے وکیل نے موقف دیا کہ جی یہ حکم امتناع ابھی بھی ہے۔
سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ رکن اسمبلی کی گرفتاری کی اطلاع اسپیکر کو دینا ضروری ہے۔ حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کی اطلاع اسپیکر کو دی گٸی ہے۔ یہ کیس نیا نہیں بلکہ 2019 کا ہے۔ اگر ہم نے انہیں مروانا ہوتا تو پندرہ سال سے حکومت میں کیوں ایسا نہیں کیا۔اگر کوئی پارٹی ہیڈ ہے یا اپوزیشن لیڈر ہے تو کیا قانون سے بالاتر ہے۔ ہمارے پاس ان کے خلاف ٹھوس ثبوت ہیں، ہمیں یہ مطلوب ہیں۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کسی کی جان کی گارنٹی دے سکتے ہیں۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کو ہارٹ اٹیک ہو جاٸے تو آپ کیا کرسکتے ہیں۔
سرکاری وکیل نے موقف دیا کہ یہ 16 کروڑ کی سرکاری زمین کا معاملہ ہے۔ ہمیں ریمانڈ چاہیٸے۔
حلیم عدالت شیخ کے وکیل نے موقف دیا کہ ان کو بیان ریکارڈ کرنے کے لٸے ریمانڈ چاہیٸے۔ یہ سوالنامہ دیں ہم ابھی جواب دے دیتے ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے عدالت میں کہا کہ انہوں نے مجھے پولیس کے حوالے کیا تھا نہ دوائی دی نا کھانا دیا گیا۔ میری جان کو خطرہ ہے۔ بکتر بند گاڑی میں اے سی ضرور ہونا چاہیے۔
عدالت نے حلیم عادل شیخ کو رہا کرنے، زیر دفعہ 63 کے تحت مقدمہ خارج کرنے اور 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کیونکہ یہ معاملہ ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے، اور ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا کہ اس پراپرٹی سے ان کا کوئی تعلق ہے اس لئے مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔

پاکستانی شہری 16 سال بعد بھارتی جیل سے رہا، وطن پہنچ گیا

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستانی شہری 16 سال بعد بھارتی جیل سے رہائی پانے کے بعد وطن واپس پہنچ گیا، 40 سالہ تحسین اعظم کا تعلق کراچی سے جو بھارتی شہر لکھنو کی جیل میں قید تھا۔
پاکستانی شہری تحسین اعظم کو لکھنو کی جیل سے 16 برس بعد رہا کرکے واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا۔
واہگہ سرحد عبور کرتے ہی تحسین کی آنکھیں نم ہوگئیں اور انہوں اللہ تعالی کا شکر ادا کیا کہ وہ واپس اپنے وطن پہنچ گئے ہیں۔ تحسین اعظم کو پاکستانی ہائی کمیشن نیو دہلی کی کاوشوں سے رہائی نصیب ہوئی۔
تحسین اعظم کو 2006ء میں لکھنو سے گرفتارکیا گیا تھا، ان پرالزام تھا کہ وہ سفری دستاویزات کے بغیر نیپال کے راستے بھارت میں داخل ہوئے۔ بھارتی حکام نے ان پر جاسوسی کے بے بنیاد الزامات لگا کر انہیں 8 سال قید کی سزا سنائی جو 2014ء میں مکمل ہوگئی لیکن رہائی سے قبل ہی لکھنو پولیس نے ان پر بدتمیزی اور جھگڑے کا الزام عائد کر مزید ساڑھے چار سال سزا سنا دی۔
سنائی گئی نئی سزا بھی 2018ء میں ختم ہوگئی لیکن انہیں پھر بھی رہا نہیں کیا گیا اب پاکستان ہائی کمیشن کی کوششوں سے انہیں 16 سال بعد رہائی نصیب ہوئی ہے۔
تحسین کے مطابق جب اسے گرفتار کیا گیا اس وقت اس کی عمر 24 سال تھی اور آج 40 سال کا ہوگیا ہے، جب تک سرحد کراس کرکے واپس اپنے ملک میں داخل نہیں ہوا اپنی رہائی کا یقین نہیں آرہا تھا۔
پاکستانی ہائی کمیشن نیو دہلی کے حکام کا کہنا ہے کہ رہائی کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن نیو دہلی کی طرف سے تحسین کو سفری دستاویزات مہیا کی گئیں، بھارتی جیلوں میں قید ایسے پاکستانی شہری جن کی سزائیں مکمل ہوچکی ہیں ان کی جلد سے جلد رہائی اوروطن واپسی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت نے یکم جولائی کو ایک دوسرے کے ساتھ قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کیا تھا جس کے مطابق بھارت میں قید پاکستانیوں کی تعداد 461 بتائی گئی تھی جبکہ پاکستان میں قید بھارتی شہریوں کی تعداد 682 ہے۔

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد منظور

لاہور: (ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی نے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد اور نئے اسپیکر کے انتخاب قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔
پنجاب اسمبلی کا اجلاس چیئرمین نواب زادہ وسیم خان بادوزئی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں حکومتی رکن اسمبلی محمد بشارت راجہ نے قرارداد پیش کرنے کے لیے رولز کو معطل کرنے کی درخواست کی۔ ایوان کی اجازت کے بعد محمد بشارت راجہ نے نئے اسپیکر کے انتخاب اور ڈپٹی اسپیکر کو ہٹانے کے لیے قرارداد پیش کی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ چوہدری پرویز الٰہی کے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے پر اسپیکر کا عہدہ خالی ہوگیا ہے اس لیے یہ ایوان رولز آف پروسیجر کے قاعدہ 11 (1) اور 12 (3) کو معطل کر کے اسپیکر کا انتخاب چاہتا ہے، نیز ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کے لیے کل 29 جولائی جمعتہ المبارک ، سہ پہر 4 بجے مقرر کرتا ہے۔
قرارداد ایوان میں پیش ہونے پر ارکان نے اسے کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ قرارداد کثرت رائے سے منظور ہونے کے بعد چئیرمین نے اسپیکر کے انتخاب کے لیے کل چار بجے کا وقت مقر کردیا۔
بعد ازاں چئیرمین نے اسپیکر کے انتخاب کے لیے طریقہ کار بیان کیا جس کے مطابق اسپیکر کے انتخاب کے لیے آج شام 5 بجے تک کاغذات نامزدگی جمع ہوں گے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال آج شام 5 بج کر 10 منٹ پر ہوگی، کل شام 4 بجے رائے شماری سے پہلے کسی بھی وقت کاغذات نامزدگی واپس لیے جاسکتے ہیں۔
چیئرمین نے مزید کہا کہ اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا۔
اسپیکر کے انتخاب کے لئے حکومتی رکن سبطین خان اور ن لیگ و اتحادی جماعتوں کے متفقہ امیدوار سیف الملوک کھوکھر نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروادیے۔

شمالی کوریا نے امریکا کو جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دیدی

پیانگ یانک: (ویب ڈیسک) شمالی کوریا کی جانب سے امریکا یا جنوبی کوریا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ فوجی تنازع کی صورت میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن نے سابق فوجیوں کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین ہم پر جزیرہ نما کوریا کو جنگ کے دہانے پر پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہیں، تاہم امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ فوجی تنازع کی صورت میں ہم جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔
1950-53 کی کوریائی جنگ کے خاتمے کی 69 ویں سال گرہ کی تقریب میں شریک سابق فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ ہماری فوجیں کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے ہمہ وقت چوکنا ہیں اور ہم اپنے جوہری ڈیٹرنٹ کو تیز رفتاری کے ساتھ اپنے مشن کے مطابق متحرک کر سکتے ہیں۔
کم جونگ اُن نے جنوبی کوریائی صدر یون سک یول کو تصادم کا شوق رکھنے والا کا نام دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنوبی کوریا کے ماضی کے رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ تصادم کو خواہاں ہیں۔ انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی معاندانہ پالیسیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے شمالی کوریا کو نشانہ بنا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور جنوبی کوریا کے مابین موسم گرما کی عسکری مشقیں بڑھانے کی تیاریاں جاری ہیں، اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ایسی دھمکیاں مذکورہ فوجی مشقوں ہی سے جڑی ہوئی ہیں۔