Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کی جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات
    • لٹن داس بنگلہ دیش کی ون ڈے ٹیم کے نئے کپتان مقرر
    • ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق تجاویز کا تبادلہ
    • امریکا اور سعودی عرب کے فضائی حملوں میں کم از کم 20 عراقی جنگجو ہلاک
    • وسیم اکرم نے کراچی میں گمشدہ پالتو کتے کی تلاش پر ڈھائی لاکھ روپے انعام کا اعلان کر دیا
    • ایران کو جلد چینی ساختہ فضائی دفاعی میزائل نظام ملنے کا امکان
    • ایلون مسک کی دولت میں 50 فیصد سے زائد کمی، مالیت 1.45 ٹریلین ڈالر سے گھٹ کر 715 ارب ڈالر رہ گئی
    • پی سی بی ستمبر میں قذافی اسٹیڈیم میں نیا کرکٹ میوزیم کھولے گا
    • پاکستانی کوہ پیماؤں نے تاریخ رقم کر دی، ہندوکش کی 7,050 میٹر بلند تھالو زوم چوٹی سر کر لی
    • ثاقب چدھڑ کا عامر لیاقت کی سابقہ اہلیہ طوبیٰ انور کو آئی فون گفٹ کرنے کی پیشکش
    • پاکستان کا 5 سال میں امریکی تجارت 20 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
    • ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست میں اسٹرائیک روٹیشن پر بابراعظم کو سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کا سامنا
    • پاکستان پہلی بار فیفا ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے تیار
    • بین الاقوامی ٹیم اگلے ماہ K2 ایئر ویز طیارہ حادثے کی تلاش میں شامل ہوگی
    • ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو 90 رنز سے شکست دے کر ٹیسٹ سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی
    • سینٹکام کا دعویٰ، ایران نے متعدد بیلسٹک میزائل داغ دیے
    • ایران حملے کی تصدیق، امریکی تیل کی قیمتوں میں تیزی
    • امریکی سینیٹ نے کلیٹن کی بطور انٹیلیجنس سربراہ توثیق کر دی
    • ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل لائسنس دینے کی منظوری دے دی
    • کرسٹیانو رونالڈو کی ہالی ووڈ میں انٹری، پہلی اسکرپٹڈ ٹی وی سیریز "Day 1s” میں کردار
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پاکستانی عوام سے بہتر غذا اپنے ہی دیس میں کون کھاتا ہے

    By Daily Khabrainجنوری 6, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (خصوصی رپورٹ)ملک میں دودھ دینے والے 63 لاکھ جانور ہیں یہ جانور سالانہ 35 سے 40 ارب لیٹر دودھ دیتے ہیں پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے لیکن ہم دنیا میں خراب مضر صحت اور جعلی دودھ بنانے والی سب سے بڑی قوم بھی ہیں۔پاکستان میں دودھ کی چار قسمیں دستیاب ہیں پہلی قسم لوز ملک یا گوالوں کا دودھ ہے یہ دودھ کل پیداوار کا 93 فیصد ہے ملک کی اکثریت یہ دودھ استعمال کرتی ہے دوسری قسم ٹیٹرا پیک دودھ ہے یہ دودھ گتے کے ایسے ڈبوں میں فروخت ہوتا ہے جن کی اندرونی سائیڈ پر دھات کی باریک تہہ چڑھی ہوتی ہے یہ دودھ دو سے تین ماہ تک قابل استعمال ہوتا ہے تیسری قسم بوتلوں اور پلاسٹک کے لفافوں میں دستیاب دودھ ہے یہ دودھ دو سے تین دن تک استعمال کیا جا سکتا ہے ملک کے لاکھوں شہری یہ دودھ استعمال کرتے ہیں اور چوتھی قسم خشک دودھ ہے یہ دودھ سال چھ مہینے تک استعمال ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے کروڑوں شہری یہ دودھ چائے میں استعمال کرتے ہیں مائیں بچوں کو خشک دودھ پلاتی ہیں اور پاکستان کی زیادہ تر بیکریوں اور مٹھائیوں میں بھی یہ خشک دودھ استعمال ہوتا ہے آپ یہ سن کر حیران ہو جائیں گے دودھ کی یہ چاروں اقسام مضر صحت اور انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔تازہ دودھ زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھنٹے محفوظ رہتا ہے ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے لیے دودھ دور دراز علاقوں اور مضافات سے لایا جاتا ہے ۔ لاہور اور راولپنڈی کی مثال لیجیے لاہور شہر کے لیے اوکاڑہ چشتیاں قصور جھنگ اور وزیر آباد سے دودھ آتا ہے جب کہ راولپنڈی کے لیے جہلم اور سرائے عالمگیر سے دودھ لایا جاتا ہے۔ دودھ کے بیوپاری گوالوں سے دودھ لیتے ہیں چھوٹے بڑے ٹینکرز میں بھرتے ہیں اور یہ دودھ بڑے شہروں کو سپلائی کر دیا جاتا ہے بھینس سے انسانی ہونٹوں تک دودھ میں دو مرتبہ انتہائی خوفناک ملاوٹ ہوتی ہے دودھ میں پہلی ملاوٹ گوالہ کرتا ہے یہ زیادہ اور فوری دودھ حاصل کرنے کے لیے بھینسوں کو ہارمون کے انجکشن لگاتا ہے یہ انجکشن خواتین کو ڈلیوری کے دوران لگائے جاتے ہیں اور یہ میڈیکل اسٹورز سے عام مل جاتے ہیں یہ سستے بھی ہوتے ہیں یہ انجکشن جوں ہی بھینس کو لگایا جاتا ہے یہ فورا دودھ دے دیتی ہے یہ دودھ مقدار میں 20 سے 30 فیصد زیادہ بھی ہوتا ہےیہ ہارمون بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں گوالے چھوٹی مشینوں کی مدد سے دودھ سے کریم نکال لیتے ہیں یہ اس کریم کا مکھن اور دیسی گھی بناتے ہیں اور مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں دودھ کریم کے بعد پتلا ہو جاتا ہے۔ گوالے پتلے پن کو چھپانے کے لیے دودھ میں ڈیٹرجنٹ پاڈر (سرف) ڈال دیتے ہیںڈیٹرجنٹ دودھ کو گاڑھا بھی کر دیتا ہے اور یہ اس میں جھاگ بھی پیدا کر دیتا ہے یہ لوگ سرف کی کڑواہٹ ختم کرنے کے لیے دودھ میں بعد ازاں بلیچنگ پاڈر ڈالتے ہیں بلیچنگ پاڈر دودھ کو ذائقے دار بھی بنا دیتا ہے اور اس میں چمک بھی پیدا کر دیتا ہے یہ دودھ گوالوں سے بیوپاریوں کے پاس آتا ہےبیوپاری اس میں یوریا کھاد ہائیڈروجن پر آکسائیڈ بورک پاڈر پنسلین ایلومینیم فاسفیٹ اور فارملین ڈال دیتے ہیں یہ کیمیکل اینٹی بائیوٹک بھی ہیں اور یہ پریزرویٹوز بھی ہیں یہ دودھ کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں بیوپاری یہ دودھ ہوٹلوں چائے خانوں ریستورانوں دودھ دہی کی دکانوں اسٹورز مٹھائی اور بسکٹ بنانے والے کارخانوں تک پہنچاتے ہیں یہ دودھ ڈورٹو ڈور بھی پہنچتا ہے یہ جب ہمارے ہونٹوں تک پہنچتا ہے تو اس میں 20 کیمیکل مل چکے ہوتے ہیں اور یہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ وہ 93فیصد دودھ ہے جو ملک کے زیادہ تر لوگ استعمال کرتے ہیں ہم اب ٹیٹرا پیک بوتل لفافوں اور خشک دودھ کی طرف آتے ہیں یہ تینوں بھی انتہائی خطرناک ہیں۔ ٹیٹرا پیک کے لیے دودھ کو 135 سینٹی گریڈ تک ابالا جاتا ہے یہ درجہ حرارت دودھ کی غذائیت ختم کر دیتا ہے یہ طریقہ کار دودھ کی لائف تو بڑھا دیتا ہے لیکن دودھ اس کے بعد دودھ نہیں رہتا یہ سفید پانی بن جاتا ہے کمپنیاں اسے دوبارہ دودھ کی شکل دینے کے لیے اس میں خشک دودھ پام آئل اور سبزیوں کا تیل ملا دیتی ہیں یہ ملاوٹ دل کے امراض اور بلڈ پریشر کا باعث بنتی ہے دوسرے نمبر پر بوتل اور لفافے کا دودھ آتا ہے۔ یہ دودھ 85 سینٹی گریڈ تک ابالا جاتا ہے اور یہ دو سے تین دن تک قابل استعمال ہوتا ہے لیکن کیمیکل پریزرویٹوز اور ہارمون ان میں بھی ہوتے ہیں یہ نہ ہوں تو یہ دودھ پاکستان جیسے گرم ملک میں جلد خراب ہو جائے لہذ دودھ فروش گوالے بیوپاری اور کمپنیاں دودھ میں کیمیکل ضرور ڈالتی ہیںپیچھے رہ گیا خشک دودھ یہ دودھ انتہائی مضر صحت بھی ہوتا ہے اور یہ دودھ دودھ بھی نہیں ہوتا یہ پاڈر مِلک اور کیمیکلز کا مرکب ہوتاہے کمپنیاں اس مرکب میں خشک دودھ پام آئل چینی اور چند نامعلوم کیمیکل ملاتی ہیں اور خوبصورت پیکنگ میں مارکیٹ میں بیچ دیتی ہیں یہ دودھ ٹی وائیٹنر کہلاتا ہے یہ کالی چائے کو سفید بناتا ہے لیکن یہ سفیدی انسانی جسم کے کس کس حصے کو داغدار بناتی ہے آپ تصور نہیں کر سکتے۔ یہ خرابیاں صرف دودھ تک محدود نہیں ہیں یہ بیکری کی مصنوعات مٹھائیوں ٹافیوں اور چاکلیٹ تک جاتی ہیں یہ تمام مصنوعات دودھ سے بنتی ہیں اور ہمارے دودھ میں 20 کیمیکل ہوتے ہیں یہ 20 کیمیکل بیکریوں مٹھائیوں کی دکانوں اور چاکلیٹ فیکٹریوں تک پہنچ کر 40 ہو جاتے ہیں ان میں مصنوعی رنگ مصنوعی خوشبو پلاسٹک دھاتیں اور گندہ پانی بھی شامل ہو جاتا ہے چنانچہ زہر میں زہر مل کریہ بڑا زہر بن جاتا ہے۔ آپ ایک برانڈ کا چاکلیٹ دوبئی سے خریدتے ہیں تو یہ پاکستان پہنچتے پہنچتے پگھل جاتا ہے لیکن آپ جب وہ چاکلیٹ پاکستان سے خریدتے ہیں تو وہ دھوپ میں بھی خراب نہیں ہوتاآپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا دنیا بھر میں چاکلیٹس کو فریج میں رکھا جاتاہے لیکن ہمارے چاکلیٹس ریکس میں ہوتے ہیںکیونکہ ہمارے چاکلیٹس خالص نہیں ہوتے ان میں تازہ دودھ کی جگہ سبزیوں کا تیل اور جانوروں کی چربی شامل ہوتی ہے اور یہ وہ فیٹس ہیں جو انسانی جسم کے درجہ حرارت پر نہیں پگھلتے چنانچہ یہ بچوں کو وقت سے پہلے جوان بھی کر دیتے ہیں اور بیمار بھی ۔ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے ہم دودھ بیکری اور خوراک کے نام پر زہر کھا رہے ہیں یہ زہر 65 برسوں سے ہماری رگوں میں اتر رہا ہے ہماری تین نسلیں اس زہر کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ایک زہر کی نشاندہی کر دی باقی 40 زہر ابھی تک پوشیدہ ہیں یہ راز بھی جس دن کھلے گا یہ پوری قوم کو سکتے میں لے جائے گا۔ ہمارے ملک میں بکریاں مرغیاں اور گدھے ہم انسانوں سے بہتر خوراک کھا رہے ہیںیہ خالص چارہ کھاتے ہیں یہ ہم سے زیادہ صحت مند ہیں یہ ہم سے زیادہ فعال ہیں جب کہ ہم گدھوں سے زیادہ گندی اور خوفناک خوراک کھا رہے ہیں۔
    لاہور (خصوصی رپورٹ)ملک میں دودھ دینے والے 63 لاکھ جانور ہیں یہ جانور سالانہ 35 سے 40 ارب لیٹر دودھ دیتے ہیں پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے لیکن ہم دنیا میں خراب مضر صحت اور جعلی دودھ بنانے والی سب سے بڑی قوم بھی ہیں۔پاکستان میں دودھ کی چار قسمیں دستیاب ہیں
    باقی صفحہ4بقیہ نمبر21

    پہلی قسم لوز ملک یا گوالوں کا دودھ ہے یہ دودھ کل پیداوار کا 93 فیصد ہے ملک کی اکثریت یہ دودھ استعمال کرتی ہے دوسری قسم ٹیٹرا پیک دودھ ہے یہ دودھ گتے کے ایسے ڈبوں میں فروخت ہوتا ہے جن کی اندرونی سائیڈ پر دھات کی باریک تہہ چڑھی ہوتی ہے یہ دودھ دو سے تین ماہ تک قابل استعمال ہوتا ہے تیسری قسم بوتلوں اور پلاسٹک کے لفافوں میں دستیاب دودھ ہے یہ دودھ دو سے تین دن تک استعمال کیا جا سکتا ہے ملک کے لاکھوں شہری یہ دودھ استعمال کرتے ہیں اور چوتھی قسم خشک دودھ ہے یہ دودھ سال چھ مہینے تک استعمال ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے کروڑوں شہری یہ دودھ چائے میں استعمال کرتے ہیں مائیں بچوں کو خشک دودھ پلاتی ہیں اور پاکستان کی زیادہ تر بیکریوں اور مٹھائیوں میں بھی یہ خشک دودھ استعمال ہوتا ہے آپ یہ سن کر حیران ہو جائیں گے دودھ کی یہ چاروں اقسام مضر صحت اور انسانوں کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔تازہ دودھ زیادہ سے زیادہ دو سے تین گھنٹے محفوظ رہتا ہے ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے لیے دودھ دور دراز علاقوں اور مضافات سے لایا جاتا ہے ۔ لاہور اور راولپنڈی کی مثال لیجیے لاہور شہر کے لیے اوکاڑہ چشتیاں قصور جھنگ اور وزیر آباد سے دودھ آتا ہے جب کہ راولپنڈی کے لیے جہلم اور سرائے عالمگیر سے دودھ لایا جاتا ہے۔ دودھ کے بیوپاری گوالوں سے دودھ لیتے ہیں چھوٹے بڑے ٹینکرز میں بھرتے ہیں اور یہ دودھ بڑے شہروں کو سپلائی کر دیا جاتا ہے بھینس سے انسانی ہونٹوں تک دودھ میں دو مرتبہ انتہائی خوفناک ملاوٹ ہوتی ہے دودھ میں پہلی ملاوٹ گوالہ کرتا ہے یہ زیادہ اور فوری دودھ حاصل کرنے کے لیے بھینسوں کو ہارمون کے انجکشن لگاتا ہے یہ انجکشن خواتین کو ڈلیوری کے دوران لگائے جاتے ہیں اور یہ میڈیکل اسٹورز سے عام مل جاتے ہیں یہ سستے بھی ہوتے ہیں یہ انجکشن جوں ہی بھینس کو لگایا جاتا ہے یہ فورا دودھ دے دیتی ہے یہ دودھ مقدار میں 20 سے 30 فیصد زیادہ بھی ہوتا ہےیہ ہارمون بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہیں گوالے چھوٹی مشینوں کی مدد سے دودھ سے کریم نکال لیتے ہیں یہ اس کریم کا مکھن اور دیسی گھی بناتے ہیں اور مارکیٹ میں بیچ دیتے ہیں دودھ کریم کے بعد پتلا ہو جاتا ہے۔ گوالے پتلے پن کو چھپانے کے لیے دودھ میں ڈیٹرجنٹ پاڈر (سرف) ڈال دیتے ہیںڈیٹرجنٹ دودھ کو گاڑھا بھی کر دیتا ہے اور یہ اس میں جھاگ بھی پیدا کر دیتا ہے یہ لوگ سرف کی کڑواہٹ ختم کرنے کے لیے دودھ میں بعد ازاں بلیچنگ پاڈر ڈالتے ہیں بلیچنگ پاڈر دودھ کو ذائقے دار بھی بنا دیتا ہے اور اس میں چمک بھی پیدا کر دیتا ہے یہ دودھ گوالوں سے بیوپاریوں کے پاس آتا ہےبیوپاری اس میں یوریا کھاد ہائیڈروجن پر آکسائیڈ بورک پاڈر پنسلین ایلومینیم فاسفیٹ اور فارملین ڈال دیتے ہیں یہ کیمیکل اینٹی بائیوٹک بھی ہیں اور یہ پریزرویٹوز بھی ہیں یہ دودھ کو خراب ہونے سے بچاتے ہیں بیوپاری یہ دودھ ہوٹلوں چائے خانوں ریستورانوں دودھ دہی کی دکانوں اسٹورز مٹھائی اور بسکٹ بنانے والے کارخانوں تک پہنچاتے ہیں یہ دودھ ڈورٹو ڈور بھی پہنچتا ہے یہ جب ہمارے ہونٹوں تک پہنچتا ہے تو اس میں 20 کیمیکل مل چکے ہوتے ہیں اور یہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ وہ 93فیصد دودھ ہے جو ملک کے زیادہ تر لوگ استعمال کرتے ہیں ہم اب ٹیٹرا پیک بوتل لفافوں اور خشک دودھ کی طرف آتے ہیں یہ تینوں بھی انتہائی خطرناک ہیں۔ ٹیٹرا پیک کے لیے دودھ کو 135 سینٹی گریڈ تک ابالا جاتا ہے یہ درجہ حرارت دودھ کی غذائیت ختم کر دیتا ہے یہ طریقہ کار دودھ کی لائف تو بڑھا دیتا ہے لیکن دودھ اس کے بعد دودھ نہیں رہتا یہ سفید پانی بن جاتا ہے کمپنیاں اسے دوبارہ دودھ کی شکل دینے کے لیے اس میں خشک دودھ پام آئل اور سبزیوں کا تیل ملا دیتی ہیں یہ ملاوٹ دل کے امراض اور بلڈ پریشر کا باعث بنتی ہے دوسرے نمبر پر بوتل اور لفافے کا دودھ آتا ہے۔ یہ دودھ 85 سینٹی گریڈ تک ابالا جاتا ہے اور یہ دو سے تین دن تک قابل استعمال ہوتا ہے لیکن کیمیکل پریزرویٹوز اور ہارمون ان میں بھی ہوتے ہیں یہ نہ ہوں تو یہ دودھ پاکستان جیسے گرم ملک میں جلد خراب ہو جائے لہذ دودھ فروش گوالے بیوپاری اور کمپنیاں دودھ میں کیمیکل ضرور ڈالتی ہیںپیچھے رہ گیا خشک دودھ یہ دودھ انتہائی مضر صحت بھی ہوتا ہے اور یہ دودھ دودھ بھی نہیں ہوتا یہ پاڈر مِلک اور کیمیکلز کا مرکب ہوتاہے کمپنیاں اس مرکب میں خشک دودھ پام آئل چینی اور چند نامعلوم کیمیکل ملاتی ہیں اور خوبصورت پیکنگ میں مارکیٹ میں بیچ دیتی ہیں یہ دودھ ٹی وائیٹنر کہلاتا ہے یہ کالی چائے کو سفید بناتا ہے لیکن یہ سفیدی انسانی جسم کے کس کس حصے کو داغدار بناتی ہے آپ تصور نہیں کر سکتے۔ یہ خرابیاں صرف دودھ تک محدود نہیں ہیں یہ بیکری کی مصنوعات مٹھائیوں ٹافیوں اور چاکلیٹ تک جاتی ہیں یہ تمام مصنوعات دودھ سے بنتی ہیں اور ہمارے دودھ میں 20 کیمیکل ہوتے ہیں یہ 20 کیمیکل بیکریوں مٹھائیوں کی دکانوں اور چاکلیٹ فیکٹریوں تک پہنچ کر 40 ہو جاتے ہیں ان میں مصنوعی رنگ مصنوعی خوشبو پلاسٹک دھاتیں اور گندہ پانی بھی شامل ہو جاتا ہے چنانچہ زہر میں زہر مل کریہ بڑا زہر بن جاتا ہے۔ آپ ایک برانڈ کا چاکلیٹ دوبئی سے خریدتے ہیں تو یہ پاکستان پہنچتے پہنچتے پگھل جاتا ہے لیکن آپ جب وہ چاکلیٹ پاکستان سے خریدتے ہیں تو وہ دھوپ میں بھی خراب نہیں ہوتاآپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا دنیا بھر میں چاکلیٹس کو فریج میں رکھا جاتاہے لیکن ہمارے چاکلیٹس ریکس میں ہوتے ہیںکیونکہ ہمارے چاکلیٹس خالص نہیں ہوتے ان میں تازہ دودھ کی جگہ سبزیوں کا تیل اور جانوروں کی چربی شامل ہوتی ہے اور یہ وہ فیٹس ہیں جو انسانی جسم کے درجہ حرارت پر نہیں پگھلتے چنانچہ یہ بچوں کو وقت سے پہلے جوان بھی کر دیتے ہیں اور بیمار بھی ۔ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے ہم دودھ بیکری اور خوراک کے نام پر زہر کھا رہے ہیں یہ زہر 65 برسوں سے ہماری رگوں میں اتر رہا ہے ہماری تین نسلیں اس زہر کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ایک زہر کی نشاندہی کر دی باقی 40 زہر ابھی تک پوشیدہ ہیں یہ راز بھی جس دن کھلے گا یہ پوری قوم کو سکتے میں لے جائے گا۔ ہمارے ملک میں بکریاں مرغیاں اور گدھے ہم انسانوں سے بہتر خوراک کھا رہے ہیںیہ خالص چارہ کھاتے ہیں یہ ہم سے زیادہ صحت مند ہیں یہ ہم سے زیادہ فعال ہیں جب کہ ہم گدھوں سے زیادہ گندی اور خوفناک خوراک کھا رہے ہیں۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کویتی وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کی جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات

      وسیم اکرم نے کراچی میں گمشدہ پالتو کتے کی تلاش پر ڈھائی لاکھ روپے انعام کا اعلان کر دیا

      ثاقب چدھڑ کا عامر لیاقت کی سابقہ اہلیہ طوبیٰ انور کو آئی فون گفٹ کرنے کی پیشکش

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.