پشاور کے نادرن بائی پاس پر ناصر باغ کے قریب صرف 6 ماہ قبل تعمیر کیا گیا پل شدید مون سون بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی پانی کے تیز بہاؤ کی زد میں آکر تباہ ہوگیا۔
سیلابی پانی کے دباؤ سے پل کے حفاظتی پشتے برداشت نہ کرسکے، جس کے نتیجے میں پل کے ساتھ منسلک سڑک کا ایک حصہ بھی متاثر ہوا۔ پل کی تباہی کے باعث علاقے میں آمدورفت کا اہم راستہ متاثر ہے، جسے روزانہ ہزاروں مسافر، مزدور اور مقامی رہائشی استعمال کرتے ہیں۔
مقامی افراد کے مطابق پل کو نقصان پہنچے تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود بحالی اور تعمیرِ نو کا کام شروع نہیں کیا گیا۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ پل اور سڑک کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ آمدورفت کی مشکلات کم ہوسکیں۔
علاقہ مکینوں نے تعمیرِ نو میں معیاری میٹریل کے استعمال اور پل کی تعمیر کے معیار کی مکمل تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے کم عرصے میں پل کا سیلابی پانی میں بہہ جانا تعمیراتی معیار اور ساختی مضبوطی سے متعلق کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔
شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پل کی فوری تعمیرِ نو کے ساتھ اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والے میٹریل اور کام کے معیار کا بھی جائزہ لیا جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔

