پاکستان کرکٹ میں تیز رفتار فاسٹ بولنگ کا ایک اور امید افزا نام سامنے آگیا ہے۔ نوجوان دائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر قیوم خان نے اپنی غیر معمولی رفتار سے توجہ حاصل کرلی ہے اور انہیں پاکستان کے مستقبل کے ایکسپریس فاسٹ بولرز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے قیوم خان سمیت ابھرتے ہوئے فاسٹ بولرز کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے بتایا تھا کہ قیوم خان 150 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار سے گیند کر چکے ہیں۔ عاقب جاوید نے انہیں پاکستان کے فاسٹ بولنگ ٹیلنٹ کا ایک ’’نایاب ہیرا‘‘ قرار دیا۔
قیوم خان کا تعلق فیصل آباد ریجن سے ہے اور وہ ابھی تک پاکستان کی سینئر ٹیم کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیل سکے۔ تاہم ان کی رفتار اور صلاحیتوں کے باعث انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے فاسٹ بولنگ ڈویلپمنٹ کیمپ میں شامل کیا گیا ہے، جو 24 سے 28 اگست تک لاہور کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں جاری ہے۔
کیمپ میں فاسٹ بولرز کو فٹنس، ٹارگٹ بولنگ، تکنیکی مہارت اور میچ کی صورتحال کے مطابق بولنگ بہتر بنانے پر کام کرایا جا رہا ہے۔ قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے ماہرین نوجوان بولرز کی کارکردگی کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں تیز رفتار بولرز ہمیشہ سے قومی کرکٹ کی شناخت رہے ہیں۔ اگر قیوم خان اپنی رفتار کے ساتھ لائن، لینتھ اور فٹنس میں بھی مستقل مزاجی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے ایک اہم فاسٹ بولنگ آپشن بن سکتے ہیں۔
عاقب جاوید کے مطابق پاکستان کا ہدف تین سے چار ایسے فاسٹ بولرز تیار کرنا ہے جو مستقل طور پر 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کے قریب یا اس سے زائد رفتار حاصل کرسکیں، اور قیوم خان اس منصوبے میں نمایاں ناموں میں شامل ہیں۔

