Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بنگلادیش کی مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت کی خواہش
    • 40 سے زائد امدادی جہاز ایرانی ناکہ بندی عبور کرگئے، سینٹ کام کا دعویٰ
    • دعا لیپا نے شادی کو زندگی کا یادگار ترین دن قرار دے دیا
    • سندھ میں ای اسپورٹس چیمپئن شپ 2026 کا آغاز، 30 لاکھ روپے کی انعامی رقم
    • کرکٹرز نے نظام بگاڑا، اب کسی اور کو الزام نہیں دے سکتے: سکندر بخت
    • چار خواتین کوہ پیماؤں نے بغیر پورٹرز کے 7 ہزار میٹر سے بلند چوٹی فتح کرلی
    • فاطمہ ثنا پُرعزم، پاکستان کی ایشیا کپ میں شاندار کارکردگی پر نظریں
    • ایران نے میرے بیٹے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، نیتن یاہو کا دعویٰ
    • پاکستان کا نیا اسپیڈ اسٹار: قیوم خان کی 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ
    • پاکستان کی معاشی پوزیشن پر موڈیز کا اعتماد بڑھ گیا، کریڈٹ ریٹنگ بی تھری کردی
    • نائٹ کلب واقعے کی تحقیقات، برائیڈن کارس پاکستان کیخلاف دوسرے ٹیسٹ سے باہر
    • ای سپورٹس ورلڈ کپ کی اختتامی تقریب، رونالڈو کی سعودی ولی عہد سے ملاقات
    • بنگلہ دیش کی تاریخی چھلانگ، ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹی پوزیشن حاصل کرلی، پاکستان آٹھویں نمبر پر
    • دبئی کا برج عزیزی 725 میٹر بلندی کے ساتھ دنیا کی دوسری بلند ترین عمارت بننے کو تیار
    • میچ کے دوران اچانک گرنے سے 25 سالہ پرتگالی فٹبالر کوئین کاسترو چل بسے
    • انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس سکواڈ میں شامل
    • بچوں کے تحفظ کیلئے پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کی درخواست دائر
    • گوگل کے بعد ایپل کی بھی پاکستان میں دفتر کھولنے کی تیاری
    • پشاور میں 6 ماہ قبل تعمیر کیا گیا پل سیلابی پانی کی نذر ہوگیا
    • لاہور میں پاکستان کا پہلا عالمی معیار کا ہارٹ ٹرانسپلانٹ سینٹر قائم
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    3 کروڑ چلتی پھرتی نعشیں …. 80 لاکھ لیٹرز زہر کی فروخت کا انکشاف

    By Daily Khabrainجنوری 13, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (سید مستحسن ندیم) صوبہ بھر میں بوتل واٹر سپلائی کرنے والی 71 کمپنیاں ”تندرستی اور صحت“ کے نام پر زہریلا اور مضرصحت پانی فروخت کرنے لگی اور موت مانٹنے لگیں۔ حکومت محکمہ صحت اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے ذمہ دار حکام نے ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے خاموشی اختیار کر لی 3 ٹیسٹنگ لیبارٹریوں نے ان سپلائی ہونے والے بوتل پانی کو انسانی صحت کا دشمن قرار دے دیا۔ پانی سپلائی کرنے والی 5 فیکٹریوں کو 15 فروری 2010ءکو سیل کر دیا۔ مگر فیکٹری مالکان نے محکمانہ حکام سے ساز باز کر کے پانی کی فروخت جاری رکھی۔ ان لیبارٹریوں ”پی سی ایس آئی آر“ کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز اور پاکستان سٹینڈرڈ آف کوالٹی اسلام آباد شامل ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے حکم پر تینوں لیبارٹریوں نے اپنی اپنی رپورٹ میں ان بوتل پانی فروخت کرنے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی۔ مگر پھر بھی ایکشن نہ لیا گیا۔ جبکہ دوسری طرف لاہور ہائی کورٹ بھی وطن پارٹی کی پٹیشن پر فیصلہ نہ کر سکی۔ جس پر وطن پارٹی نے ”صاف پانی‘ اور ’منرل واٹر‘ کے نام پر بوتل پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے لئے سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کردی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرٹیکل 184 کے تحت دائر آئینی پٹیشن میں فیڈریشن آف پاکستان چیف سیکرٹری پنجاب ایم ڈی واسا، وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی وزارت صحت اور صوبہ بھر کے ڈی سی او کو فریق بنایا گیا۔ خبریں کے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق بوتل پانی کے استعمال سے 2 ملین لوگ ہیپاٹائٹس (سی) میں مبتلا ہوئے جبکہ 15 ملین لوگوں کو ہیپاٹائٹس بی کا مرض لاحق ہوا جبکہ 14 ملین لوگ اس بوتل پانی کے استعمال سے ڈائریا، ہیضہ، ذیابیطس، جگر اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔ خبریں کے مطابق پانی فروحت کرنے والی فیکٹریاں پاکستان سٹینڈرڈ آف کوالٹی کے معیار کے برعکس ٹیوب ویلوں کے ذریعے بوتلوں میں پانی بھرتی ہیں اور پانی کو محفوظ رکھنے کے لئے ان میں آرسینک، سوڈیم اور پوٹاشیم کا مقدار سے زائد استعمال کرتی ہیں۔ جو انسانی صحت کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ خبریں کے مطابق 7 سالوں کے دوران بوتل پانی کے استعمال کی وجہ سے بوڑھے اور بچے بڑی تعداد میں بیمار ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر تینوں لیبارٹریوں نے ان 71 کمپنیوں کے ’پانی‘ کے نمونے لے کر تصدیق کئے کوئی بھی کمپنی ان لیبارٹریوں کے معیار کے مطابق پورا نہ اتری۔ وطن پارٹی کی سپریم کورٹ آف پاکستان میں دائر پٹیشن میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ آرٹیکل 9,8,4,3 کے تحت عدالت اپنی ذمہ داری پوری کرے اور حکومت پنجاب کو حکم دے کہ ان بوتل پانی سپلائی کرنے والی کمپنیوں پر پابندی لگائی اور ایکشن لیا جائے۔لاہور (خصوصی رپورٹ) صو بائی دارالحکومت میں 80فیصد سے زائد شہری کیمیکل ملا زہریلا دودھ پینے یا بچوں کوپلانے پر مجبور ہیں۔ 50لاکھ لٹر سے زائد پاﺅڈر کیمیکل ملا دودھ روزانہ 40سے 200کلو میٹر کے فاصلے سے ٹینکرز میں لاد کر شہر میں لایا جاتا ہے اور یہ پاﺅڈر ملک ہر طرح کے کیمیکل ٹیسٹ کے بعد مضر صحت اور غیر معیاری ثابت ہو چکا ہے۔ شہر میں سجی ہزاروں دودھ کی دکانوں میں شیر فروش موت فروخت کر رہے ہیں ۔ فوڈاتھارٹیز، مارکیٹ کمیٹیوں، پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور پیور فوڈ ایکٹ ادارہ بھی شہریوں کو خالص اور معیاری دودھ کی فراہمی میں ناکام ہو کر رہ گئے ہیں۔ عدالت عظمی کے احکامات کے باوجو د بھی ذمہ داروں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی محض ہزاروں لٹر دودھ قبضے میں لیے جانے اور ضائع کر نے پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صو بائی دارالحکومت میں گھروں میں استعمال کے لئے اور مٹھائیاں وغیرہ تیا ر کرنے کے لئے 80لاکھ لٹر دودھ روزانہ لایا جاتا ہے جس میں کیمیکل، سنگھاڑے کا پا ڈر ،فارمالین اور دیگر کیمیکلز استعمال کیا جاتا ہے۔ دددھ کی کوالٹی یوں دکھائی دیتی ہے کہ وہ پتلا نہیں بلکہ جھاگ کے ساتھ گاڑھا ہوتا ہے۔ کیمیکل ملے دددھ کی تیاری لاہور کے مضافاتی علاقوں میں قائم فیکٹریوں میں کی جاتی ہے جسے ہر روز مارکیٹ میں بکنے کے لئے لایا جاتا ہے۔اس کیمیکل ملے دودھ کی کوالٹی ہوتی ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے گزرنے کے باوجود بھی خراب نہیں ہوتا اور اس کی رنگت میں بھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ یہ دودھ 50روپے میں بھی فروخت کیا جاتا ہے۔ سستا ہونے کے باعث لوگ اسے وافر مقدار میں خرید کر لے جاتے ہیں جس کے باعث وہ دن بہ دن مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سخت اقدامات اٹھائے تاکہ صحت مند معاشرے کا وجود ممکن ہو سکے ۔ممتازغذائی ماہر ڈاکٹر سروش نے گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ ملاوٹ شدہ خوراک اور کیمیکل ملا دودھ کا استعمال انسانی زندگی کے لئے زہرقاتل ہے۔انھوں نے کہا کہ خالص دودھ بھی زہر کی مانند ہے کیونکہ گوالے دودھ کی مقدار زیادہ لینے کے لیے آکسی ٹوسن ٹیکے کا استعمال کرتے ہیں ۔یہ انجکشن بھینس کی نسوں میں شامل ہو کر ہڈیوں میں موجود دودھ کے ریشوں کو بھی باہر نکا ل دیتا ہے اور یہ دودھ خالص ہونے کے باوجود زہر آلود ہو جاتا ہے جس کے استعمال سے خصو صا چھوٹے بچے مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیمیکل ملے دودھ یا اس سے تیار کی جانے والی اشیا کا استعمال انسان کے نظام انہضام کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے جس سے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہو کر جلد موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر سروش نے کہا کہ حکو مت وقت کو چاہئے کہ انسانی صحت کی بقا کے لئے دودھ سمیت بنیادی کھانے پینے کی اشیا کے معیار میں سو فیصد تک بہتری لائی جائے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      چار خواتین کوہ پیماؤں نے بغیر پورٹرز کے 7 ہزار میٹر سے بلند چوٹی فتح کرلی

      پاکستان کی معاشی پوزیشن پر موڈیز کا اعتماد بڑھ گیا، کریڈٹ ریٹنگ بی تھری کردی

      بچوں کے تحفظ کیلئے پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کی درخواست دائر

      تازہ ترین

      بانی پی ٹی آئی کو آج ہی ہسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

      بن گویر کا غزہ میں ہر رات ’30 یا 40‘ افراد کو قتل کرنے کا مطالبہ

      ہاکی ورلڈ کپ 2026: نیدرلینڈز، بیلجیم اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی اسکواڈز کا اعلان کر دیا

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.