ملتان (خبرنگار خصوصی) انسانی سمگلنگ میں ملوث بااثر مافیا نے خواتین کی خریدوفروخت کا گھناﺅنا دھندہ عروج پر پہنچادیا۔ اغوا کی جانے والی اور خریدی گئی عورتوں کو فروخت کرنے کے ساتھ ان کے گردے نکال کر فروخت کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے جبکہ دوسری طرف ایف آئی اے اور پولیس بااثر افراد کیخلاف کارروائی سے انکاری نظر آتی ہے۔ اس وقت ڈیرہ غازی خان کے مضافاتی علاقے اس دھندے کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ تحصیل کوٹ چھٹہ کی چوکی خانپور منجوالا کے نزدیک واقع بستی سوجھیلی والا کے رہائشیوں یونس کچھیلا‘ نورکچھیلا‘ بڈو کچھیلا‘ مالک کچھیلا‘ حاجی کچھیلا‘ نسرین مائی اور فوزیہ مائی نے گروہ تشکیل دے رکھا ہے۔ عورتوںکو اغوا یا پھر خرید کر زیادہ تر بلوچستان میں فروخت کرتے ہیں۔اس کے علاوہ دلالوں سعید اللہ رند اور مہر خان کے ذریعے مقامی لوگوں کو بھی فروخت کی جارہی ہیں۔ ڈیرہ ڈویژن سے گزشتہ د و سال کے دوران 170سے زائد خواتین کو دبئی سمگل کرنے کی اطلاعات ہیں۔ تمام کو وزٹ ویزہ پر مختلف اوقات میں 10افراد کے گروپ میں تین تین لڑکیوں کو شامل کرکے ملک سے باہر نکالا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ ان تمام لڑکیوں کو پہلے مختلف این جی اوز کے دفاتر میں ملازمتیں فراہم کی گئیں بعدازاں انہیں فرضی اشتہار دکھاکر دبئی بینک اور مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں میں ملازمت کا جھانسہ دیا گیا جبکہ دبئی کے فرضی اپارٹمنٹ سیٹرز بھی دیئے گئے۔ لڑکیوں کو دبئی اور شارجہ میں رکھ کر ان سے زبردستی جسم فروشی کرائی جارہی ہے۔ لڑکیوں کے لواحقین نے ایف آئی اے حکام کو تحریری درخواستیں بھی دیں مگر کارروائی نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے یہ گھناﺅنا دھندہ دھڑلے سے جاری ہے جس میں زیادہ تر غریب گھرانوں کی لڑکیاں پھنس رہی ہیں جن کی تلاش بعد میں ناممکن ہوجاتی ہے۔
انسانی سمگلنگ




































