چترال(مانیٹرنگ ڈیسک) ضلع چترال کی شاہی جامع مسجد میں منبر پر کھڑے ہوکر ایک شخص کی جانب سے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور لوگوں نے اسے قابو کرکے مارنے کی کوشش کی تاہم خطیب مسجد نے صورت حال کی سنگینی سمجھتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کر دیا جس پر ہزاروں افراد نے تھانے پر دھاوا بولتے ہوئے گیٹ توڑ کر اندر جانے کی کوشش کی اور زبردست توڑ پھوڑ اور پتھراﺅ کیا۔ پولیس ملازمین نے کنٹرول کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ مظاہرین نے ملزم کی حوالگی کے لئے مزاحمت کی۔ حالات خراب ہونے اور ہاتھ سے نکلنے پر پولیس کی مدد کےلئے فوج اور سکاﺅٹس کے اہلکار بھی پہنچ گئے اور علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے کنٹرول سنبھال لیا۔ آخری اطلاعات آنے تک حالات کشیدہ تھے جبکہ چترال کے جنوبی علاقوں سے مذکورہ واقعہ کے خلاف سینکڑوں لوگوںکا ہجوم گاڑیوں سے آنے کی کوشش کر رہا ہے جن کو راستے ہی میں روک لیا گیا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ جمعہ کو شاہی مسجد میں محمد رشید ولد محمد دین سکنہ بچ تور کہو نامی شخص نے نعوذ باللہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا جس پر مسجد میں موجود لوگ کھڑے ہوگئے اور اس پر حملہ آور ہوئے تاہم خطیب جامع مسجد مولانا خلیق الزمان نے محمد رشید کو پاگل قرار دے کر پولیس کے حوالے کر دیا جس پر مشتعل ہجوم چترال تھانے کے باہر جمع ہوگیا اور تھانے پر پتھراﺅ شروع کر دیا اور توڑ پھوڑ کی جس سے تھانے کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ ادھر چترال کے جنوبی علاقوں سے مذکورہ واقعہ کے خلاف لوگ جلوس کی شکل میں آئے تاہم شہر آنے والی گاڑیوں کو روک دیا گیا جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ادھر ڈپٹی کمشنر چترال شہاب حامد یوسف زئی نے بتایا کہ گستاخ رسول کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ ملزم سے ضروری تفتیش کی جا رہی ہے، ملزم کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اس کا دماغی توازن درست نہیں تاہم تفتیش اور میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوگا کہ ملزم واقعی ذہنی بیمار ہے یا کہ کوئی سازش ہے جس کے پس پردہ دیگر محرکات ہیں۔ ملزم یہ بھی کہتا ہے کہ وہ پچاسواں امام ہے اور کبھی کیا۔ دریںاثناءچترال میں عوام بدستور مشتعل ہیں اور ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کے ساتھ ان کی آنکھ مچولی رات گئے تک جاری رہی۔ ڈی سی ذرائع کے مطابق ملزم کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے جبکہ سکاﺅٹس اہلکار بھی موجود ہیں۔ تھانہ چترال کے باہر ابھی بھی لوگوں کا ہجوم موجود ہے جن میں علماءبھی شامل ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مذکورہ شخص واجب القتل ہے اسے ہمارے حوالے کیا جائے۔ ادھر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سید کوثر عباس زیدی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے الزام میں گرفتار ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ جمعہ کو ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کرنے والے 4 ملزمان کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت پیش کیا گیا۔ ملزمان نے عدالت میں کہا کہ ہم پر کون کون سی دفعات لگائی گئی ہیں بتایا جائے، جس پر عدالت نے کہا کہ جو دفعات ملزمان پر لگائی گئی ہیں ملزمان کو آگاہ کیا جائے ان کا قانونی حق ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان پر یکساں دفعات عائد کی گئی ہیں۔ تفتیش مکمل ہوچکی ہے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے 4 مئی تک ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
ملعون گرفتار





































