تازہ تر ین

کنٹریکٹ ملازمین کی موجیں

لاہور(ملک مبارک سے ) محکمہ اوقاف میں کنٹریکٹ سیٹوں پر تعینات ملازمین کی اکثریت گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرنے لگی دفتری ڈیوٹی پر جانے کی بجائے متعلقہ افسران کی مٹھی گرم کر کے اپنے اپنے کاروبار شروع کر رکھے ہیں ملتان پہلے نمبر پر جبکہ باقی زونز دوسرے ،تیسرے نمبروں میں شامل ان زونز میں کئی دھائیوں سے سرکل افسران و ملازمین رشوت و سیاسی اثر رسوخ کی بنا پر ایک ہی سیٹوں پر برجمان رہنے لگے جس کی وجہ سے ادارے کے سالانہ کروڑوں روپے کرپشن کی نظر ہونے لگے ۔ہیڈ آفس کی طرح حاضری کو یقینی بنانے کےلئے بائیومیٹرک سسٹم کا نفاز اور سروسز رولز پر عملدآمد کرانے کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق محکمہ اوقاف کے پنجاب بھر کے نو زونز میں کنٹر یکٹ پر بھرتی ہونے والے درجہ چہارم کے ملازمین کی اکثریت دفتر ڈیوٹی دینے کی بجائے اپنے کاروبار شروع کر رکھے ہیں کسی نے اپنی شاپس بنا رکھی ہیں کسی نے رکشے لے رکھے ہیں جو سکول میں بچوں کو چھوڑنے اور لے آنے کی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں کسی نے پرائیویٹ فرموں میں کام کر رہے ہیں جبکہ دفتر میں ان کے متعلقہ افسران ان سے تنخواہ کا کچھ حصہ لے کر حاضری لگا دیتے ہیں ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں اکثر ایسے ہیں جو اخباری اشتہار کے بغیر بھرتی ہوئے ہیں ذرائع کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ ان نو زونز میں کرپشن کی بڑی وجہ یہ بھی ہے مزارات پر کیش کی نگرانی کےلئے درجہ چہارم کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے اورلاہور سمیت کئی مزارات پر کیش چوری کے واقعات رونما ہوئے اور کئی نگران اور متعلقہ افسران ملوث بھی پائے گئے جن کو نرم سزائیں دے کر دوبارہ بحال کردیا گیا ۔لاہور ،ملتان ،فیصل آباد ،سرگودھا ،بہاولپور اور دیگر زونز اور ان کے سرکلوں میں تعینات افسران وملازمین کئی عرسوں سے ایک ہی سیٹوں پر تعینات ہیں بڑے مزارات جن میں داتا دربار ،بی پاک دامن ،میاں میر ،مادھولال ،بہاولدین زکریا ،شاہ رکن عالم ،حق باہو جیسے مزارات پر سرکل مینجر ،کلرک ،مالی اور نگران کئی دھائیوں سے ایک ہی جگہ پر تعینات ہیں جبکہ سروسز رولز کے مطابق کوئی بھی ملازم تین سال سے زیادہ ایک سیٹ پر تعینات نہیں ہوسکتا لیکن ان مزارات کے افسران اور ملازمین زونل ایڈمنسٹر یٹر کے کماﺅ پتر ہوتے ہیں ذرائع کے مطابق یہاں پر ایک چین سسٹم چلتا ہے نگران متعلقہ سرکل منیجر کی اشیر باد پر پرائیویٹ اشخاص مزارات پر تعینات کرتا ہے جو زائرین سے چادروں اور پھولوں کے نام پر رقم بٹورتے ہیں اور شام کو اپنا کچھ حصہ لے کر باقی نگران لے لیتا ہے جو زونل ایڈمنسٹر ٹیر تک جاتا ہے اور جو ملازم ایسا نہ کرے تو اس کا ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے لیکن ایسا بہت کم ہے ۔ان زونز میں ایمانداری سے کام کرنے والے ملازمین نے صوبائی وزیر اوقاف اور سیکرٹری اوقاف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جیسے ہیڈ آفس میں بائیومیٹرک سسٹم کا نفاذ کیا گیا ہے ایسے تمام زونز اور ان کے متعلقہ سرکلز میں بھی بائیومیٹرک سسٹم کا نفاز کیا جائے تاکہ ملازمین جو دفتر نہیں آتے ان کی حاضری کو یقینی بنایا جائے اور ان ملازمین اور سرکل افسران کو دوسرے سرکلوں یا زونز میں ٹرانسفر کیا جائے جو کئی دھائیوں سے ایک جگہ پر تعینات ہیں ۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain