تازہ تر ین

”سعودی عرب پاک فوج بھجوانے کافیصلہ اگلے ماہ ہوگا“ نامورتجزیہ کارضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پاکستان سے افواج اسلامی فوجی اتحاد میں بھیجنے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا، سعودی عرب میں وزراءدفاع کونسل کے اگلے ماہ اجلاس کے بعد حکومت پاکستان سے ایک بریگیڈ فوج بھیجنے کی اپیل کی جائے گی، اس کے بعد فوج کی منظوری کے بعد وزیراعظم منظوری دیں گے، ممکن ہے کہ یہ مسئلہ پارلیمان میں بھی زیر بحث لایا جائے اور منظوری لی جائے۔ ایک نجی ٹی وی نے جو خبر بریک کی کہ جنرل (ر) راحیل شریف کے ساتھ فوجی بھی گئے ہیں سو فیصد غلط خبر ہے۔ اس طرح بغیر رسمی کارروائی کے خفیہ طور پر فوج نہیں بھجوائی جاتی۔ پاک فوج کے ترجمان بھی بارہا واضح کر چکے ہیں کہ فوج کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ سو اس اتحادی فوج میں پاک فوج کو بھیجا گیا تو صرف دہشتگردی کے خلاف کارروائی کے لئے بھیجا جائے گا۔ سینئر صحافی نے کہا کہ فوج سعودیہ بھجوانے کے معاملہ پر ہمارے یہاں بڑے تحفظات پائے جاتے ہیں بعض اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ ہمیں اس پھڈے میں نہیں پڑنا چاہئے۔ ابھی صرف یہ تجویز ہے کہ پاکستان سے 5 ہزار فوج کی ڈیمانڈ کی جائے گی، سینئر صحافی نے کہا کہ وزراءدفاع کونسل میں بھی ٹی او آرز طے کئے جانے ہیں۔ اگر سارے اختیارات سعودی حکومت کے بجائے دفاعی کونسل کے پاس رہتے ہیں تو ہمیں اطمینان ہونا چاہئے کہ ہماری فوج کسی ملک کے خلاف استعمال نہ کی جائے گی۔ ایک بڑے اخبار نے اہم خبر دی ہے کہ ”ایران اس اتحاد میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے، امید ہے کہ مثبت فیصلہ کا اعلان کرے گا ، ایسا ہونے کی صورت میں تو پاکستان بخوشی اتحاد میں شامل ہو گا۔ ایران کی اتحاد میں موجودگی پر یہ توازن پیدا ہو گا کہ اتحادی فورس صرف دہشتگردی کیخلاف استعمال ہو گی۔ حکومت اور عوام منتظر ہیں کہ پہلے طے ہو جائے کہ اتحادی فورج کے خدوخال کیا ہیں، اس کا کنٹرول کس کے پاس ہو گا۔ سینئر صحافی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آخر کار پاکستان سعودی عرب اور اتحادی ممالک مل کر یقینا ایسا فارمولہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے جس سے تمام تحفظات کو دور کیا جا سکے۔ کیونکہ ایران اور کچھ دوسرے ممالک کو ناراض کر کے پاکستان اس اتحاد کا حصہ نہیں بن سکتا۔ پاکستان حکومت اور فوج بارہا واضح کر چکے ہیں کہ ہماری فوج کسی ملک کے خلاف سیاسی طور پر استعمال نہیں ہو گی اس پر ایران کو تسلی ہونی چاہئے کہ یہ اتحاد صرف دہشتگردی کیخلاف ہے۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ جنرل کیانی سے لے کر موجودہ دور میں جنرل باجوہ تک فوج نے حکومت کے کسی معاملے پر مداخلت نہیں کی بلکہ دہشتگردی پر یا قدرتی آفت مردم شماری ہو یا کوئی اور ایشو ، آگے بڑھ کر اپنا مثبت آئینی کردار ادا کیا جس پر تمام آرمی چیفس اور فوج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ فوج اسی طرح اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہی تو اس سے نا صرف جمہوریت مضبوط ہو گی بلکہ اس کے نتیجے میں ادارے بھی مضبوط ہوں گے اور ملک ترقی کی جانب گامزن ہو گا۔ سابق سیکرٹری دفاع نعیم خان لودھی نے کہا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ سعودیہ گئے تو وہاں طے پایا تھا کہ مکہ اور مدینہ کے دفاع کی ضرورت پڑی تو ایک بریگیڈ پاک فوج بھیجی جائے گی، سعودی اتحادی فورس میں 41 مسلم ممالک شامل ہیں اس کی کمان اگر پاکستان کے ہاتھ میں ہو تو یہ ملک، فوج اور اس جرنیل جسے آفر ہوئی ہے کے لئے بڑے فحر کی بات ہو گی۔ یہ اعتراف ہو گا کہ پاک فوج دہشتگردی کے خلاف کامیابی سے لڑنے والی نمبر ون فوج ہے۔ اتحادی فوج کے خدوخال اگلے ماہ طے کئے جائیں گے۔ جنرل (ر) راحیل نے واضح کیا تھا کہ ایران کی شمولیت کے بغیر وہ اتحاد میں شامل نہ ہوں گے، پاکستان نے ایران کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ فیصلہ صرف فوج کا نہیں ہو سکتا، ریاست پاکستان کا ہے دوسری بات یہ فیصلہ وزارت دفاع کا نہیں ہو سکتا اس سے مشاورت ضرور ہو گی تاہم یہ فیصلہ وزارت خارجہ کا ہونا چاہئے۔ وزراءدفاع کونسل ہی ابھی تشکیل نہیں پائی تو ممکن ہی نہیں کہ یہ طے ہو گیا ہے کہ اتنی فوج جائے گی۔ ایک امکان موجود ہے کہ مکہ مدینہ کی حفاظت کے لئے معاہدہ کے تحت فوج گئی ہے تاہم اس کا آج کی خبر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پاکستان میں جمہوری نظام ہے اس طرح پارلیمنٹ کو بتائے بغیر فوج نہیں بھیجی جا سکتی۔ نعیم خان نے کہا کہ سعودی اتحاد صرف دہشت گردی کے خلاف ہے تاہم مختلف ممالک کی دہشت گردی کی تعریف بھی مختلف ہے اس لئے حکومت کو چاہئے کہ طے کرے کہ اس اتحاد کی نوعیت کیا ہے پھر اسے عوام کے سامنے واضح کرے۔ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اتحاد کا سیاسی کنٹرول کس کے پاس ہو گا اگر یہ کنٹرول وزراءدفاع کونسل کے پاس نہ ہوا تو یہ خدشات درست ہیں۔ میرے خیال میں ایسی فوج تیار کی جائے گی جسے دہشتگردی کیخلاف مکمل ٹریننگ دی جائے گی اور وہ اپنے اپنے ممالک میں جا کر دہشتگردوں کے خلاف نبرد آزما ہو گی۔ جنرل راحیل شریف اس تیاری میں مدد دیں گے۔ دفاعی تجزیہ کار مکرم خان نے کہا کہ وزیراعظم نے حال ہی میں اٹارنی جنرل کو ایران بھیجا جنہوں نے وہاں عسکری و سول قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں خدشات دور کرنے کی کوشش کی تاہم ایران ابھی پس و پیش سے کام لے رہا ہے ابھی اس کے اسلامی اتحادی فوج بارے تحفظات موجود ہیں ایران اور سعودیہ میں ابھی بہت سے معاملات طے ہونا باقی ہیں۔ ”خبریں‘’ اور ”چینل ۵“ کا اعزاز ہے کہ اس نے اس اہم ایشو پر عوام کو ایک عرصہ سے مسلسل باخبر رکھا ہے۔ پارلیمنٹ میں گزشتہ برس بھی اس ایشو پر بحث ہوئی تھی جو کسی انجام تک نہ پہنچ پائی اور اپوزیشن کے تحفظات برقرار رہے۔ حالیہ دنوں میں بھی تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے قرارداد پیش کی تاہم کورم پورا نہ ہونے کے باعث بحث نہ ہو سکی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی مختصر بیان دے کر جان چھڑالی۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain