اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کالعدم تنظیم کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ را نے طالبان کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی، بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان کی کشمیر پالیسی، سی پیک کی مخالفت اور ملک میں لسانی بنیادوں پر نفرتوں کو فروغ دینے کے لئے افغان خفیہ ادارے کے ذریعے طالبان کو خصوصی ٹارگٹ دیتی ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ طالبان افغانستان میں آزادی کے ساتھ گھومتے ہیں، طالبان کے سربراہ عمر خالد خراسانی نیٹو کے حملے میں زخمی ہوا اور اس نے افغان پاسپورٹ کے ذریعے سفر کرکے بھارت سے علاج کرایا۔ افغان حکومت اور خفیہ ایجنسی ہمیں بھرپور تحفظ فراہم کرتی ہے، طالبان ملک کے جس بھی حصے میں جائیں اس حوالے سے افغان حکومت سے رابطے کے لئے انہوں نے کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں، جن علاقوں میں امریکہ یا نیٹو کی فورسز کام کر رہی ہوں تو ان علاقوں میں افغان حکومت کے تعاون سے خصوصی انتظام کیا جاتا تھا۔ طالبان کے مختلف دھڑے ہیں جہاں امیر عام افراد کو غلام کے طور پر رکھتا ہے، طالبان دھڑوں میں ہمیشہ امارت کے لئے جنگ جاری رہتی ہے۔ طالبان کی شوریٰ سے اختلاف کے بعد میں ننگر ہار چلا گیا، اس کے بعد مزار شریف، خوست اوردیگر علاقوں میں آزادانہ گھومتا رہا۔ طالبان اور داعش کے رابطے کے حوالے سے احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ عمر خالد خراسانی نے داعش سے رابطہ کیا تھا مگر عمر خالد نے کہا کہ اسے داعش برصغیر کا سربراہ بنایا جائے، لیکن داعش کا کہنا تھا کہ طالبان کو ہمارے ساتھ غیر مشروط الحاق کرنا ہو گا، اس وجہ سے طالبان نے داعش کے ساتھ اشتراک نہیں کیا۔ طالبان کو بھارتی خفیہ ایجنسی کی جانب سے خصوصی ٹارگٹ دئیے جاتے تھے ، ہر ہدف کی الگ سے قیمت مقر ر ہوتی تھی، کس ہدف کو کیسے نشانہ بنایا جانا ہے، طالبان شوریٰ، بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیاں آپس میں مل کر منصوبہ بناتی تھیں، جتنا بڑا ہدف ہوتا اس کی اتنی زیادہ قیمت لگائی جاتی، ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد اس کی کامیابی کے طور پر را طالبان کو انعامی رقم دیتی تھی جس کی مالیت طے شدہ رقم سے کئی گنا زیادہ ہوتی تھی۔ پاکستان میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے پیسہ، اسلحہ اور دیگر تمام سہولیات را سے دی جاتی تھیں۔ طالبان اپنے تمام اخراجات اسی ذریعے سے حاصل کرتے تھے تاہم اپنے اخراجات کے لئے طالبان امیر افغانیوں سے بھتہ بھی وصول کرتے تھے، اگر کوئی شہری بھتہ نہ دیتا تو طالبان اس کے گھر کو بم سے اڑا دیتے تھے۔ احسان اللہ احسان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان پاکستان میں موجود اپنے افراد کے ذریعے شہروں میں حملے کراتے تھے، کیوں اس طرح ان کے اخراجات کم ہوتے تھے اور انہیں شہر کے بارے میں معلومات بھی زیادہ ہوتی تھیں۔بھارتی خفیہ ادارے را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس سے پیسے اور اسلحہ لینے کی خبر طالبان کی شوریٰ اور نیچے کے چند لوگوں کو تھی، طالبان سربراہ عمر خالد خراسانی اس حوالے سے کہتا تھا کہ پاکستان کے خلاف جنگ میں یہ لوگ ہمیں مدد دے رہے ہیں، پاکستان کو برباد کرنے کے لئے مجھے اگر اسرائیل سے مدد لینا پڑی تو میں لوں گا۔لاہور دھماکے کے بعد جب سکیورٹی فورسز نے طالبان کے مرکز پر بمباری کی تو اس میں طالبان کے کئی اہم کمانڈر مارے گئے، اس کے بعد طالبان کا شیرازہ بکھر گیا۔ طالبان میں مایوسی پھیل گئی اور انہیں دوبار ہ اکٹھے ہونے کا موقع نہیں ملا۔بارڈ مینجمنٹ کے بعد پاکستان میں حملے کرنے والے طالبان کے اپنے سہولت کاروں سے رابطے نہیں ہو رہے اور نہ ہی ان کے درمیان آپس میں رابطے کا کوئی مﺅثر ذریعہ رہا ہے۔اسی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی آئی ہے، طالبان اس وقت ملک میں صوبائیت اور لسانیت کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ مولوی فضل اللہ کے حالیہ بیانات اس کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں موجود نوجوانوں کے درمیان پنجابی اور پشتون کے نام نفرتوں کے بیج بوئے جار ہے ہیں ، قوم کے نوجوان تیزی کے ساتھ طالبان کے اس پروپیگنڈے کا شکار ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ سارا منصوبہ بھارت کا ہے۔احسان اللہ احسان کا مزید کہنا تھا کہ جب آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا تو میں سکتے میں آگیا میں نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ معصوم بچوں پر ظلم ہو رہا ہے؟ میرا دل دکھ رہا تھا میں نے فوری طور پر میڈیا کو فون کر کے معصوم بچوں پر حملے کی مذمت کی بعد ازاں طالبا ن کے امیر نے مجھے بلا کر برا بھلا کہا کہ تم نے مذمت کیوں کی میں نے کہا کہ یہ غلط ہو رہا ہے اسی وجہ سے میں نے مذمت کی۔ جب ملالہ پر حملہ ہوا تو اس وقت میں خیبر ایجنسی میں تھا لطیف محسود نے مجھے کہا کہ ملالہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرو میں نے کہا کہ میں اس وقت ذمہ داری قبول نہیں کروں گا جب تک مجھے امیر حکم نہیں دے گا، بعد ازاں مجھے حکیم اللہ محسود نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ملالہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرو میں نے تب جا کر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔طالبان کے میڈیا سیل کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر ستان میں ہمارے پاس سیٹلائٹ فون اور تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت تھی جبکہ ہمارے میڈیا سیل میں نیشنل اور انٹر نیشنل میڈیا کی مانیٹرنگ کے لئے جدید ترین نظام بھی موجود تھا۔ پاک فوج کے حملے کے بعد ہمارا میڈیا سیل تباہ ہوگیا تھا ، طالبان نے بھارتی اور افغان خفیہ اداروں سے نیا میڈیا سیل بنانے کی درخواست کی تھی جس پر دونوں خفیہ اداروں نے افغانستان کے شہری علاقوں میں طالبان کے لئے جدید ترین میڈیا سیل بنانے کی حامی بھر لی تھی۔ خود کو سیکورٹی اداروں کے حوالے کرنے کے سوال کے جواب میں تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا کہناتھا کہ تین چار سالوں سے میرے دل میں خیال تھا کہ اپنے وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانا اچھی بات نہیں میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کر رہا تھا۔ مجھے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا، میں نے دوستوں سے مشورہ کیا، انہوں نے کہا کہ بیرون ملک چلے جاﺅ میں نے کہا نہیں میں اپنے وطن جاﺅں گا میں سچ کا سامنا کروں گا۔کالعدم تنظیم کا موجودہ ترجمان میرے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ طالبان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو مار دیا جاتا ہے، یا پھر وہ روپوشی کی زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں۔کئی علمی شخصیات اور نچلی سطح پر موجود طالبان امیروں سے تنگ ہیں انہیں بھی واپسی کا راستہ نہیں مل رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اتنا عرصہ طالبان کے ساتھ رہا ہوں۔ اپنے حوالے سے احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ میں کالج کا طالب علم تھا ، طالبان کے امیروں کے بیانات سے متاثر ہو کر تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کی، میری ابتدائی تربیت مہمند ایجنسی میں ہوئی۔ جب2011ءمیں مہمند ایجنسی میں آپریشن ہو اتو ہم کونال منقل ہوگئے،کیوں کہ میرا شروع سے رجحان میڈیا کی جانب تھا اس لئے طالبان نے مجھے وزیر ستان بلا کر ترجمان لگادیا۔ جب طالبان کی شوریٰ سے اختلاف ہوگیا تو میں ننگرہار چلا گیاپھر مزار شریف اور خوست میں رہا۔طالبان کے خود کش بمبار 20سال سے کم عمر بچے ہوتے ہیں کیوں کہ وہ آسانی کے ساتھ خود کش حملے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، انہیں طالبان کے واعظ خود کش حملے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ احسان اللہ احسان نے قوم سے معافی طلب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں افسوس کے لئے جس طرح طالبان نے ملک کے گلی کوچوں میں خون کی ندیاں بہا دیں۔




































