تازہ تر ین

”دھماکے روکنے کیلئے دہشتگردوں کی نرسریاں ختم کرناہونگی“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ مستونگ دھماکہ افسوسناک ہے۔ پاک فوج کی بھرپور کوششوں کے باوجود یوں لگتا ہے کہ ایک ریس جاری ہے۔ دہشتگرد پکڑے بھی جاتے ہیں، سزا بھی ہوتی ہے لیکن یہ واقعات رکتے نہیں۔ مشروم گروتھ کہاں سے ہو رہی ہے، جو رکنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ ہم فصل کو اوپر اوپر سے کاٹ رہے ہیں، نیچے جڑیں موجود ہیں۔ جب تک قومی سطح پر دہشت گردوں کی نرسریاں ختم نہیں کی جاتیں، دھماکے ہوتے رہیں گے۔ تھنک ٹینک، ان کی تیاری و سوچ کو پکڑنا بہت ضروری ہے۔ حکومت و افواج سمیت حساس اداروں کی ایک بھی سنجیدہ ایکسرسائز ہوتے نہیں دیکھی، جس میں سکالرز، ماہر و علماءشامل ہوں۔ ملک میں دہشتگردی پر قابو پانے کے لئے سیمینارز و ورکشاپس ہوتے کبھی نہیں دیکھیں۔ سب سے زیادہ ذمہ داری علماءپر عائد ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی تقاریر میں کہتے ہیں کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے تو ان فتوﺅں کو سن کر لوگ گستاخی کرنے والے کو قتل کر دیتے ہیں۔ مشعل خان کی مثال موجود ہے۔ علماءکو چاہئے کہ وہ ساتھ یہ بھی کہا کریں کہ قانون کواپنے ہاتھ میں نہیں لینا، اگر کوئی گستاخ ہے تو اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کریں، عدالت اسے سزا دے گی۔ علماءخود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں یہ بھی دہشتگردی ہے اوراس سے دہشتگردانہ کلچر کو فروغ ملتا ہے۔ اگر علماءکرام اس کلچر کو پیدا کریں کہ ”قانون ہاتھ میں نہیں لینا“ تو دہشتگردوں کی صف میں اضافے کے بجائے کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کے اندر دہشتگردوں کی نرسریاں ختم نہیں ہوں گی اور حساس بارڈرز کو ختم کر کے مضبوط و مستحکم نہیں بنایا جائے گا دہشتگردوں پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گرد پیدا کرنے اور انہیں پناہ دینے والے ادارے کم ضرور ہوئے ہیں لیکن یہ آج بھی ملک میں موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اخبارات کے ایڈیٹرز کو بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ وزیرستان میں ایک گاﺅں ہے جو آدھا ادھر جبکہ آدھا افغانستان میں ہے۔ بالکل ایسا ہی میں نے سنا کہ چمن بارڈر پر 3 مقامات ایسے ہیں جس کے ادھر بھی آبادی اور ادھر بھی آبادی ہے۔ ان کو الگ الگ کیسے کریں؟۔ ایسے لطیفوں کو ختم کرنا ہو گا تب ہی دہشتگردوں کی آسانی سے آمدورفت ختم ہو گی۔اس کے علاوہ سرحدوں پر دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان سے بات چیت کرنا ہو گی اوردہشتگردوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کرنا ہوں گی ورنہ دہشتگردوں کی آمدورفت جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ایک مظلوم منصوبہ ہے، کچھ لوگ تو اسے بھول بھی گئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے سربراہ ناصر جنجوعہ سے میری ساڑھے 3 گھنٹے ملاقات ہوئی تھی، اس کے 20 میں سے 9 نکات پر میں نے خود نشان لگا کر کہا تھا کہ یہ تو بہت مشکل ہیں جس پر انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا تھا۔ اس میں ایک نکتہ بہت اہم تھا کہ دینی مدارس کا سروے، رجسٹریشن، آمدن و طالب علم کہاں کہاں سے آتے ہیں وغیرہ کی شقیں شامل تھیں۔ جب سروے مکمل ہوا تو کہا گیا کہ 90,80 فیصد دینی مدارس ایسے ہیں جن پر دہشتگردی کا کوئی الزام نہیں لیکن کئی ہزار دینی مدارس نے رجسٹریشن کروانے سے انکار کر دیا، ان کے بارے حساس اداروں کو معلومات ہیں کہ وہ دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ ان مدارس کے درمیان خود ہمارے علماءرکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے ہند ہوتی تھی جو اب جمعیت علمائے پاکستان ہے، انہوں نے ایک تقریب کی جس میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں لوگ تحقیق کرنے آتے ہیں۔ مدارس ناظمین کو ہدایت کرتا ہوں کہ اگر آپ سے کوئی کچھ پوچھنے کی کوشش کرے تو قہقہے لگاﺅ، جواب نہیں دینا، وہ مدارس آج بھی موجود ہیں۔ سابق آرمی چیف نیشنل ایکشن پلان پر بڑی توجہ دیتے تھے لیکن موجود آرمی چیف کی دلچسپی شاید کم ہے۔ تجزیہ کار نے کہا کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب بے شمار دفعہ چین گئے، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے ہمراہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو لے جانا ضروری سمجھا۔ یہ خوبصورت سیاسی طریقہ کار ہے جس سے صوبوں کو اعتماد میں لیا جا سکتا ہے۔ صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہو رہا تھا لیکن اب ایک نیا باب شروع ہو گا، تمام وزرائے اعلیٰ کے ساتھ جانے سے باہمی اعتماد کی فضا پیدا ہو گی۔ پنجاب و بلوچستان کے ساتھ دوسرے صوبوں میں بھی چینی سرمایہ کاری آئے گی جس سے ترقی ہو گی، بیروزگاری ختم ہو گی اور عوام خوشحال ہو گی۔ مستقبل میں اس کے ثمرات نظر آئیں گے۔ اپوزیشن اس پر بھی تنقید کرے گی کیونکہ جمہوری نظام میں اس کا کام حکومتی غلطیوں کو پکڑنا اور اس پر واویلا مچانا ہوتا ہے لیکن ایسی صورتحال میں رہتے ہوئے بھی جو لوگ راستہ تلاش کر رہے ہیں وہ کوئی نہ کوئی پروجیکٹ نکال لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاض پیر زادہ آج نون لیگ میں ہیں، پہلے پیپلزپارٹی میں تھے دوبارہ بھی جا سکتے ہیں۔ پی پی کے علاوہ دوسری پارٹیاں بھی ان سے رابطہ کر سکتی ہیں۔ نون لیگ نے ریاض پیرزادہ کو منانے کے لئے اپنے نمائندوں کو بھیج کر غلطی کی۔ ان کو شکایت وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے ہے جس کی تلافی وزیراعظم ہی کر سکتے ہیں۔ اگر وزیراعظم ان کو خود فون کر کے چائے پر بلاتے تو ایک دن میں ناراضی دور ہو جانا تھی۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain