تازہ تر ین

35دہشتگردوں بارے فوجی عدالت نے کیا فیصلہ کیا،جان کر آپ بھی داد دینگے

پشاور (خصوصی رپورٹ)پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اورجسٹس محمد اعجاز انورخان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملٹری کورٹ سے سزایافتہ 39دہشت گردوں میں سے 35 ملزموں کو سزائے موت اور 2 کی عمر قید برقرار رکھتے ہوئے رٹ درخواستیں خارج کردی جبکہ دو ملزموں کو قوانین کے برعکس سزائے موت دینے پر ملٹری کورٹ ریمانڈ کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔ پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل ڈویژن بنچ نے 39 مجرموں کے اہل خانہ کی جانب سے سزاﺅں کے خلاف رٹ درخواستوں کی سماعت کرکے گزشتہ ماہ میں فیصلہ محفوظ کیاتھا۔جن میں درخواست گزار محمد امیر زادہ (قید محمد طیب) ، درخواست گزار عالم خان (قید ی محمد قمر)، درخواست گزار محمد جان (قیدی محمد ایاز)و دیگر شامل ہیں۔اسی طرح عدالت نے درخواست گزار محمد ایاز کی جانب سے اس کے بھائی قیدی محمد عمران کی درخواست میں فیصلہ دیا کہ ملزم پر ملٹری کورٹ نے چار الزامات بارودی گاڑی تیار کرنے، ساتھیوں کے ساتھ چیک پوسٹ پر حملہ کرنے اور بارودی مواد رکھنے کے الزامات عائد کئے ہیں۔درخواست گزار عبدالجلال کے بیٹے قید عزیز الرحمان کے کیس میں عدالت نے فیصلہ دیا ملزم عزیزالرحمان پر ملٹری کورٹ نے تین الزامات اگست 2007ءمیں سوات میں سی ڈی کی دکانوں کو دھماکے سے اڑانے ، مٹہ بازار میں پولیس کانسٹیبل محمد رزاق کو قتل کرنے اور نومبر 2010ءمیں گھر سے بارودی مواد برآمد ہونے کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی، پولیس کانسٹیبل کے بیٹے محمد داﺅد نے بیان حلفی دیا تھا کہ وہ ملزم کو معاف کرت ہیں ، اس کے بعد ملزم کی سزائے موت قوانین کے تحت درست نہیں لہٰذا ملٹر ی کورٹ پولیس کانسٹیبل کے بیٹے کے بیان حلفی کی روشنی میں سزا میں تحفیف کرے یا پھر کیس پر دوبارہ فیصلہ دے۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain