اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)وفاقی حکومت نے فنانس بل 2017ءکے ذریعے پانامہ اور بہاماس سمیت دیگر ٹیکس ہیونز میں موجود پاکستانیوں کی دولت کا سراغ لگانے اور معلومات کے تبادلہ کیلئے ایف بی آر کو غیرملکی اداروں اورکسٹم اٹھارٹیز کیساتھ معاہدے کرنے کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ایف بی آر نے فنانس بل کے ذریعے ایک نئی شق 219 اے شامل کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کو کسٹمز سے متعلق معاملات میں میوچل اسسٹنٹ ایگریمنٹس کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ فنانس بل کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد صدر کے دستخطوں سے ایکٹ بننے کی صورت میں مذکورہ سیکشن کے تحت ایف بی آر کو یہ اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔ اس بارے میں ایف بی آر کے سینئر افسر سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے بتایا پانامہ لیکس اور بہاماس لیکس کے کیس سامنے آنے کے بعد نے سفارتی ذرائع سے پاکستانیوں کے کالے دھن کے بارے میں معلومات کیلئے پانامہ، بہاماس اور برطانوی جزائر سمیت دیگر ٹیکس ہیون ممالک کو خطوط لکھے تھے مگر معاہدے اور ایم او یوز نہ ہونے کی وجہ سے ان ممالک نے معلومات دینا تو دور کی بات خطوط کے جواب تک نہیں دئیے۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے ایف بی آر سے ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والے لوگوں کیخلاف عبوری ٹیکس اسیسمنٹ آرڈر جاری کرنے کے اختیارات واپس لے لئے ہیں جبکہ نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے فنانس بل 2017ءکے ذریعے ڈائریکٹریٹ جنرل براڈننگ آف ٹیکس بیس کے نام سے نیا ادارہ قائم کردیا ہے جسے کسی بھی شخص کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ کرنے کے اختیارات حاصل ہونگے اور ان کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ کرنے کیلئے جاری کردہ نوٹس کو چیلنج بھی نہیں کیا جاسکے گا۔





































