پاک بحریہ کی بڑی کامیابی,,, بھارت کے ہوش ٹھکانے آگئے

کراچی(ویب ڈیسک) ملکی وسائل سے تیار کردہ دوسرے فاسٹ اٹیک (میزائل) کرافٹ ”پی این ایس ہمت“ کو پاک بحریہ کے سپرد کردیا گیا ہے۔پاک بحریہ میں نئے جہاز کی کمیشننگ کی پروقار تقریب پی این ڈاکیارڈ کراچی میں منعقد ہوئی جس میں چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ مہمان خصوصی تھے۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق یہ فاسٹ اٹیک (میزائل) کرافٹ کراچی شپ یارڈ میں چین کے اشتراک سے تعمیر کیا گیا ہے جو جدید ترین ہتھیاروں ہتھیاروں، سینسرز اور میزائل سسٹمز سے لیس کیا گیا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاءاللہ نے کہا کہ میزائل کرافٹ کی اندرون ملک تیاری جہاز سازی کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب اہم سنگ میل ہے۔ ملکی دفاع کےلیے مو¿ثر، مضبوط اور خود کفیل بحریہ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نیول چیف کا مزید کہنا تھا کہ محفوظ بحری ماحول سی پیک کی کامیابی کےلیے بھی ناگزیر ہے۔پی این ایس ہمت کی لمبائی 63 میٹر ہے جبکہ اس فاسٹ اٹیک کرافٹ میں نصب کیا گیا میزائل سسٹم مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عاصم نے چوہدری نثار بارے دل کی بات کہہ دی

کراچی(ویب ڈیسک) ڈاکٹرعاصم حسین کا کہنا ہے کہ چوہدری نثارعہدہ چھوڑنے والوں میں سے نہیں ہیں یہ گدی نشین ہیں اور میں نے چوہدری نثار کو بددعا دی تھی،۔ڈاکٹرعاصم نے احتساب عدالت میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھا کہ نوازشریف نے حکومتی مشینری اپنی ذات کے لئے استعمال کی، ن لیگ کا مستقبل کچھ اچھا دکھائی نہیں دے رہا جب کہ نوازشریف سازش پرنہیں اپنی حرکتوں پر گئے ہیں، مجھے خوشی نہیں ہوئی بلکہ افسوس ہوا کہ ہمارے ملک کے لیڈر بھی اس طرح کے ہوسکتے ۔ڈاکٹرعاصم حسین کا کہنا تھا کہ مجھے پکڑ کر میرے خلاف ریفرنس بنایا گیا اور شریف فیملی فیصلہ آنے کے باوجود مزے سے گھوم رہی ہے، نیب کو نواز شریف کی کرپشن کا پتا تھا پھربھی کیس کیوں نہیں بنائے، چیرمین نیب کو اخلاقی طور پر استعفی دے دینا چاہیئے، لوگوں کو خوش نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ اور بھی لوگ زد میں آئیں گے، چور پولیس کا کیس ہرجمہوریت میں ہوتا ہے، طاقت ور بھی کبھی شکنجے میں آہی جاتا ہے جب کہ اچھا ہوا کہ سب کچھ کھل کرسامنے آ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے عدلیہ پر بھروسہ ہے میں بھاگنے والوں میں سے نہیں، میری باہر کوئی جائیداد یا فلیٹ نہیں ہےاوراگرگیا تو واپس آو¿ں گا، ہم نے اصولوں کے لئے لڑنا ہے جب کہ 5 سال پپلزپارٹی ان ہی اصولوں پر لڑتی رہی۔ڈاکٹرعاصم نے مزید کہا کہ چوہدری نثارعہدہ چھوڑنے والوں میں سے نہیں ہیں یہ گدی نشین ہیں، میں نے چوہدری نثار کو بددعا دی تھی، میرے اوپر چوہدری نثارنے تحقیقات کے بغیرجھوٹے کیس بنائے، میرے کیس گو مگو کی کیفیت سے دوچار ہیں جب کہ میں چیئرمین نیب کے خلاف درخواست دائرکروں گا۔

سیاسی قیادت پارلیمنٹ کا اختیار سپریم کورٹ کو نہ دے :اسفند یار ولی

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک )عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ سیاسی قیادت سے درخواست ہے خدارا پارلیمنٹ کے اختیارات سپریم کورٹ کو نہ دیں ،اگر ایساہو گیا تو قومی اسمبلی کی افادیت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی جمہوریل کے لیے کوشش کرتی رہے گی ،جمہوریت کو کسی صورت بھی ڈی ریل ہونے نہیں دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 62,63اصل حالت تھے تو اس پر ابہام نہیں تھا لیکن جب سابق آمر ضیا الحق نے ترامیم شامل کیے تو بہت سے ابہام پیدا ہو گئے ،ہم میں سے کوئی بندہ بھی اس پر پورا نہیں اترتا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 62,63کو اصل حالت میں واپس لانے کی سب سے زیاد ہ مخالف نواز شریف نے کی اور اب اس آرٹیکل کا ڈنڈا بھی سب سے پہلے نواز شریف کو پڑا ہے۔میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ اگرچہ ہمارے بہت سے تحفظات ہیں لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کو سپورٹ کرتے ہیں ،لیکن اب ڈر ہے کہ کیس کے فریقین اس مسئلے کو اپنے درمیان تنازعے کی وجہ نہ بنا لیں ،تمام فریقین سے اپیل ہے کہ آپس میں نہ لڑیں کیونکہ اس وقت ملک کے اندرونی و بیرونی حالات ایسے ہیں کہ ہم کسی بھی بحران کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک سال سے سیاسی لیڈر شپ اور میڈ یا پاناما کے قیدی بنے ہوئے تھے ،ہمیں دنیا میں کوئی دوسرا مسئلہ نظر نہیں آرہا تھا ،اب پاناما منطقی انجام تک پہنچ گیا ہے ،اب اصل مسئلوں پر توجہ دی جائے ۔

ریکارڈ ٹیمپرنگ کیس؛ ظفرحجازی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

 اسلام آباد:  عدالت نے ریکارڈ ٹیمپرنگ کیس میں ایس ای سی پی کے سابق چیرمین ظفر حجازی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ظفر حجازی کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر اسلام آباد سینئرسول جج محمد شبیر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت کے روبرو تفتیشی افسر نے موقف اختیار کیا کہ تفتیشی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ملزم کو جسمانی ضمانت پرایف آئی کی تحویل میں دیا جائے جب کہ ظفر حجازی کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی۔عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد ظفرحجازی کو 14 روزکے جسمانی ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ ریمانڈ کی مدت ختم ہونے پر ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔واضح رہے کہ ظفرحجازی پرالزام ہے کہ انہوں نے اپنے ماتحت افسران پردباؤ ڈال کرشریف برادران کی چوہدری شوگر مل کے خلاف تحقیقات کے ریکارڈ میں ٹیمرنگ کرائی۔

وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے بھی اہم نام سامنے آگئے

اسلام آباد (آن لائن)سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنی نا اہلی کے بعد شہباز شریف کو نیا وزیراعظم نامزد کر دیا آج(ہفتہ کو ) پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں فیصلے کی توثیق اور 45دن کے لئے عبوری وزیراعظم کا فیصلہ ہو گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے رانا ثناءاللہ اور حمزہ شہباز کے ناموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس میں وزیراعظم نواز شریف کی نا اہلی کے بعد نواز شریف کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا اجلاس میں نواز شریف نے اپنے چھوٹے بھائی اور وزیراعلٰٰی پنجاب میاں شہباز شریف کو نئے وزیر اعظم کے طور پر نامزد کیا اور کہا کہ میری خالی ہونے والی نشست پر انہیں انتخابات لڑا کر وزیراعظم بنایا جائے مسلم لیگ (ن) کے رہنما¶ں نے وزیراعظم کی تجویز پر اتفاق کیا جبکہ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج بروز ہفتہ اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے۔ پارلیمانی اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا۔ اجلاس میں مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرے گی۔ اجلاس میں نئے وزیراعظم کے نام کی توثیق بھی کی جائے گی اور45دن کے لئے عبوری وزیراعظم کے لئے سپیکر ایاز صادق، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی کے نام زیر غور ہیں جبکہ ویر اعلیٰ پنجاب کے لئے حمزہ شہباز اور رانا ثناءاللہ کے نام سامنے آ رہے ہیں واضح رہے کہ چوہدری نثار علی خان نے بھی چند روز قبل شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کی تجویز دی تھی اور مسلم لیگ (ن) کے اتحاد کے لئے بھی ضروری ہے کہ نیا وزیراعظم شریف خاندان سے ہی ہو۔

این اے 120سے کون الیکشن لڑے گا ؟

لاہور‘ اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) این اے 120 میں ن لیگ کی جانب سے کون الیکشن لڑے گا اس کے لئے تین نام سامنے آگئے ہیں۔ بیگم کلثوم نوازشریف‘ شہبازشریف اور خواجہ احمد حسان ن لیگ کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔ ن لیگ کے ذرائع کے مطابق شہبازشریف کو وزیراعظم بنائے جانے کی صورت میں اس حلقہ سے الیکشن لڑوایا جائے گا اور اگر شہبازشریف وزیراعظم کی دوڑ میں شامل نہیں ہوتے تو پھر اس حلقہ سے کلثوم نواز یا خواجہ احمد حسان امیدوار ہوسکتے ہیں۔ ن لیگ کے قریبی ذرائع اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ کلثوم نواز اس حوالے سے زیادہ فیورٹ ہیں اور اگر ان کی صحت نے اجازت دی تو میاں نوازشریف کلثوم نواز کو الیکشن لڑوائیں گے اور اس کے بعد پارٹی کی اہم ذمہ داری بھی کلثوم نواز کو دی جاسکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے اندر اس کا فیصلہ ہوجائے گا جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے اس حلقہ میں ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی باقاعدہ الیکشن کمپین بھی شروع کر رکھی ہے۔ نوازشریف کی نااہلی کے بعد این اے 120 کی سیٹ پھر سے خالی ہوگئی جس میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔ پی ٹی آئی کا مضبوط امیدوار ن لیگ کے لئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ 2013ءکے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف نے 91 ہزار 666 ووٹ لئے تھے جبکہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے ڈاکٹر یاسمین راشد نے 52 ہزار 321 ووٹ حاصل کئے تھے۔ نوازشریف کی نااہلی کے بعد ن لیگ کے ووٹ بینک پر خاصا اثر پڑے گا۔

جلاﺅ ، گھیراﺅ ، ن لیگ کی نئی منصوبہ بندی

ملتان، میلسی، کوٹ ادو، بورے والا (وقائع نگار، نمائندگان) پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے مابین شدید کشیدگی پائی جارہی ہے، کئی شہروں میں لڑائی جھگڑوں میں متعدد افراد کے لہولہان ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ آج صبح سویرے ہی متوالے احتجاج جبکہ کھلاڑی جشن منانے کے لیے سڑکوں پر اُمڈ آئے جن میں زبردست تصادم کا خدشہ ہے۔ ضلع کچہری سمیت شہر کے 16 مقامات کی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔ ملتان میں کچہری چوک پر پھڈے کے پیش نظر پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ دوسری طرف پٹرول پمپ، شورومز، پلازہ، ڈیپارٹمنٹل سٹورز مالکان نے کسی بھی ممکنہ احتجاج سے بچنے کے لےے بیرونی حدود پر قناتیں لگا دی ہیں۔ جمعہ کے روز جنوبی پنجاب میں کاروباری وتجارتی مراکز بند ہونے کے باوجود تاجروں اور کاروباری افراد نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور رُکاوٹیں کھڑی کرکے راستے بند کر دیئے۔ مسلم لیگ (ن) کے احتجاج اور تحریک انصاف کے جشن کے باعث آج ہفتے کے روز چوک کچہری پر ایک بار پھر دونوں گروپوں میں تصادم کا خطرہ ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) کے سٹی جنرل سیکرٹری شیخ طارق رشید کی قیادت میں آج رضا ہال میں جلسہ کے بعد عمران خان کے خلاف تقریباً 11بجے دن چوک کچہری تک ریلی نکالی جائے گی اور اسی دوران تحریک انصاف شعبہ خواتین کی رہنما قربان فاطمہ بھی چوک کچہری پر 11بجے دن مٹھائی تقسیم کریں گی۔ جب دونوں گروپ آمنے سامنے ہونگے تو تصادم ہوسکتا ہے۔ اہم سرکاری دفاتر اور تنصیبات کی سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ احتجاجی مظاہروں اور توڑ پھوڑ کے ممکنہ واقعات رونما ہونے کے پیش نظر ایئرپورٹ، میپکو دفاتر، گرڈ سٹیشنوں، پی ٹی سی ایل، انکم ٹیکس دفاتر سمیت اہم تنصیبات کی سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ تحریک انصاف کے زیراہتمام میلسی میں ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت سابق ٹکٹ ہولڈر این اے 170 بیرسٹر اورنگزیب کھچی نے کی اور ریلی سے علی رضا خاکوانی، مہر ظفر اقبال ایڈووکیٹ، حیدر خان، مبشر حسن سگو، ہارون رشید، قیصر ممتاز خیرپوری نے خطاب کیا۔ ریلی میں سینکڑوں موٹرسائیکل سوار نوجوانوں اور کار سواروں نے شرکت کی۔ ریلی قائداعظم روڈ، ریلوے چوک سے ہوتی ہوئی ریلوے کراسنگ چوک پہنچی جہاں کارکنوں نے بھرپور انداز میں بھنگڑے ڈالے اور شہر بھر میں جگہ جگہ مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ کوٹ ادو میں پیپلزپارٹی کے سابق ضلعی سینئر نائب صدر غلام یاسین گوگانی، ارسلان گاڈی نے مٹھائی تقسیم کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حق و سچ کی فتح ہے۔ پہلی بار پاکستان کی سیاست میں کرپشن کے بانی نوازشریف کی نااہلی انصاف پر مبنی ہے اور اس سے انصاف کا بول بالا ہوگا۔ پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اداروں کی مضبوطی کے لیے کام کیا ہے اور عدلیہ کے اس فیصلے سے ملک کی آئندہ سیاست کا رُخ بدل جائے گا اور 2018ءکے انتخابات میں عوام کرپشن کے بت پاش پاش کردیں گے اور شریف لٹیروں کی سیاست کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف بورے والا کے عہدیداران سینکڑوں کارکنان کے ہمراہ سڑکوں پر نکل آئے اور پبلک سیکرٹریٹس میں بھی جشن منایا گیا۔ ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف خالد محمود چوہان کی قیادت میں ریلی نکالی گئی اور سڑکوں پر ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالے گئے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خالد نثار ڈوگر اور عائشہ نذیر جٹ کی طرف سے بھی مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔لاہور(خصوصی رپورٹ) عدالت عظمیٰ کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی اور نواز شریف کا کیس ٹرائل کورٹ کو بھجوانے کے عمل کو پاکستان میں موثر اور بے لاگ احتساب کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے اور لگ یہ رہا ہے کہ پاکستان کی سمت درست کرنے، کرپشن اور لوٹ مار کے رجحانات کے خاتمہ،گورننس کو یقینی بنانے کا وقت آن پہنچا ہے اور یہ معاملہ یہاں رکتا نظر نہیںآرہا، پہلے اپوزیشن نے حکمران خاندان کے خلاف احتساب اور ان کی عدالت اور جے آئی ٹی میں جوابدہی کے لئے دباﺅ ڈالا اور آنے والے وقت میں زخمی ن لیگ کی قیادت اپنے خلاف ہونے والے اس فیصلہ کو بنیاد بنا کر دیگر پانامہ زدہ اور کرپشن میں ملوث کرداروں کے احتساب کے لئے بھی سیاسی دباﺅ کو بروئے کار لائے گی۔ مذکورہ عدالتی فیصلہ کے بعد مسلم لیگ ن کی حکمت عملی کیا ہوگی آنے والے انتخابات میں بڑے ایشوز کیا ہوں گے۔ سیاسی محاذ پر محاذ آرائی اور تناﺅ کی کیفیت سسٹم کے لئے خطرناک تو نہیں بنے گی۔ کیا شریف خاندان کا حکومت کے بعد جماعتی اور سیاسی کردار ختم ہوگا جہاں تک شریف فیملی کے جماعتی اور سیاسی کردار کا تعلق ہے تو مسلم لیگ ن خود نوازشریف کی ذات کا حصہ ہے اور نواز شریف ہی اس پارٹی کے روح رواں ہیں اور اسے اقتدار کی منزل تک لے جانے میں کامیاب رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے حلقوں میں مذکورہ فیصلہ سے وہ ردعمل دیکھنے میں نہیںآیا جس کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا اس کی بڑی وجہ اس امر کو قرار دیا جارہا ہے کہ حکومتی ذمہ داروں اور وزراءنے کچھ روز پہلے سے ہی یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کریں گے اور اب اس فیصلہ کے بعد آنے والا حکومتی ردعمل یہ ہے کہ فیصلہ پر عملدرآمد کرناہے مگر فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اور اب نون لیگ کے ذمہ داران بظاہر یہ کہتے نظر آرہے ہیںکہ سیاسی محاذ کے ساتھ قانونی اور عدالتی محاذ کو بھی بروئے کار لائیں گے لیکن لگتایوں ہے کہ ان کے لئے اب عدالتی اور قانونی محاذ پرکوئی اچھی خبر نہیں ہوگی، اپوزیشن پر دباﺅ ڈالنے اور سٹریٹ پاور شو کرنے کے لئے بعض ن لیگی رہنما گھیراﺅ جلاﺅ کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
عدالتی فیصلہجلاﺅ گھیراﺅ

”مسٹر کی بجائے میڈم پرائم منسٹر؟“

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی اور نوازشریف کے قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ نااہلی کے بعد اب اگلا وزیراعظم مسٹر کی بجائے میڈم ہوسکتی ہے، نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صحافی نے کہا کہ وزیراعظم ہاو¿س میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور اگلے دو سے تین گھنٹے تک اگلے وزیراعظم کا فیصلہ ہوجائیگا، انہوں نے نام لیے بغیر مریم نواز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگلا وزیراعظم مسٹر کی بجائے میڈم ہوسکتا ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ پروگرام میں بڑے بڑے تجربہ کار بیٹھے ہیں، اور وہ بھی پہلے ایک خاتون کا نام لے چکے ہیں، اور میں بھی اسی خاتون کے بارے میں کہہ رہا ہوں، واضح رہے کہ اسی پروگرام میں سینئر صحافی نے کہا تھا کہ اگلا وزیراعظم شہبازشریف یا نوازشریف ہوسکتے ہیں اور صالح ظفر نے ان کی اس بات کی تائید کردی ہے۔

جیل یا سیاست ، 2018 میں شریف فیملی کی قسمت کا فیصلہ

لاہور(خصوصی رپورٹ) سپریم کورٹ کی جانب سے تاریخی فیصلے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر، حسین نواز اور حسن نواز کو 14 سال قید اور آمدن سے زائد اربوں روپے کے اثاثے اور بینکوں میں موجود رقم ضبط ہونے کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔ شریف خاندان کی سیاست کا مکمل خاتمہ یا جزوی بچاﺅ، حتمی فیصلہ مارچ 2018ءمیں ہوجائے گا۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چیئرمین نیب منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے کیس میں کسی بھی حکومتی شخصیت کے دباﺅ کے باوجود کیس پر اثرانداز نہیں ہوسکےں گے۔ نیب کے اعلیٰ حکام کے مطابق نیب آرڈیننس کے سیکشن 10اے کے تحت سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت کرپشن میں ملوث تمام افراد کو احتساب عدالت 14 سال کے لئے قید کی سزا سنا سکتی ہے ۔ سیکشن 10کے تحت ہی احتساب عدالت آمدن سے زائد اثاثے اور بینک اکاﺅنٹس میں موجود اضافی رقم ضبط کر سکتی ہے۔ احتساب عدالت کی جانب سے سزا سنانے کے بعد مریم نواز، حسین اور حسن نواز سمیت تمام افراد 10 سال کے لئے کسی بھی عوامی عہدے کے لئے بھی نااہل ہوجائیں گے۔ نیب کی 17 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ احتساب عدالت کرپشن کے سب سے بڑے مقدمے کا فیصلہ 6 ماہ میں سنائے گی۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف سمیت تمام شخصیات کے خلاف نیب ریفرنس کے لئے جامع گائیڈ لائنز مقرر کر دی ہیں جو اس سے قبل کسی اور کیس میں سامنے نہیں آئیں۔ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے لئے نیب کو نئی تحقیقات نہیں کرنا پڑیں گی۔ اس مرتبہ جے آئی ٹی رپورٹ کی روشنی میں ریفرنس تیار کرنے پڑے گا اور چیئرمین نیب بھی کمزور ریفرنس تیار کرنے کے لئے اثرانداز نہیں ہوسکیں گے۔ حکومت کی مدت پوری ہونے اور آئندہ انتخابات سے قبل شریف خاندان کی سیاست اور الیکشن کے لئے اہل افراد کا تعین ہوچکا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف نے 15 جولائی کو نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے قانونی ٹیم کو ہدایات جاری کر دی تھیں کہ سپریم کورٹ میں بھرپور کوشش کی جائے کہ معاملہ نیب کے حوالے ہو جائے جبکہ قانونی ٹیم کو احتساب عدالت کے لئے تیاری کی ہدایت بھی کر دی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے نیب کے لئے ریفرنس دائر کا عرصہ اور احتساب عدالت کے لئے فیصلہ سنانے کی مدت مقرر کرکے شریف خاندان کے لئے اس کیس کو طول دینے اور بری ہونے کا راستہ مشکل بنا دیا ہے۔
نااہلاثاثے ضبط

کیا نواز شریف اپنی تاحیات نااہلی کیخلاف اپیل کرسکتے ہیں؟

لاہور(سپیشل رپورٹر)اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف کے مطابق سپریم کورٹ نے وزیراعظم نوازشریف کو تاحیات نااہل قرار دیا ہے اور اس فیصلے کے خلاف اپیل کا قانون بھی نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا نواز شریف کا اقامہ ان کی نااہلی کی وجہ بنا ہے۔یاد رہے جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3 رکنی عملدرآمد بینچ کے روبرو جے آئی ٹی نے 10 جولائی کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی اور عدالت نے 5 سماعتوں کے دوران رپورٹ پر فریقین کے اعتراضات س±نے اور 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ اب حتمی فیصلے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔واضح رہے پاناما کا معاملہ گزشتہ سال اپریل میں سامنے آیا تھا جس نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی تھی۔ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن انھوں نے اس کو مسترد کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تحقیقاتی کمیشن کے ضوابطِ کار کی تشکیل کے لیے بھی طویل نشستیں ہوئیں لیکن کوئی حل نہ نکل سکا۔ اس موقع پر تحریک انصاف سڑکوں پر نکل آئی اور 2 نومبر کو اسلام ٓاباد کے لاک ڈاﺅن کی کال دی اس دوران عمران خان، سراج الحق اور شیخ رشید احمد کی جانب سے سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسین نواز ، حسن نواز، مریم نواز، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نااہلی کیلئے آئین کے ارٹیکل 184(3) کے تحت درخواستیں دائر کر دی گئیں جنہیں ابتدا میں رجسٹرار افس نے اعترضات لگا کر واپس کر دیا تھا تاہم بعد ازاں سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے اعتراضات ختم کرتے ہوئے اپنی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل فل بنچ کے روبرو سماعت کیلے مقرر کر دیا تھا۔20 اکتوبر 2016 کو پاناما کیس کی پہلی سماعت کی گئی اور تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے۔ 28 اکتوبر کو سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس اصف سعید کھوسہ، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دے کر مزید سماعت یکم نومبر کو مقرر کر دی گئی تھی۔ لارجر بینچ نے 9 سماعتیں کیں لیکن 9 دسمبر 2016 کو سابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے باعث کیس کی سماعت نئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے یکم جنوری 2017 کو حلف لینے تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ اسی سماعت پر تحریک انصاف عدالتی کمیشن بنانے کے مطالبے سے منحرف ہو گئی۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے حلف اٹھاتے ہی جسٹس اصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں نیا 5 رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا جس نے 4 جنوری 2017 کو کیس کی پہلی سماعت کی اور مسلسل 26 سماعتیں کرنے کے بعد 23 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ کیس کا عبوری فیصلہ 57 روز بعد 20 اپریل کو جاری کیا گیا جس میں جسٹس اصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے وزیراعظم کو نااہل کرنے کا فیصلہ سنایا جبکہ 3 ججز نے مزید تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔پانچ مئی کو تشکیل پانے والی جے آئی ٹی نے 8 مئی سے کام کا آغاز کرنے کے بعد 63 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کی۔ اس دوران 3 عبوری رپورٹس بھی پیش کی گئیں جبکہ حسین نواز کی طرف سے جے آئی ٹی میں ویڈیو ریکارڈنگ اور تصویر لیک ہونے کیخلاف معاملہ اور نہال ہاشمی کی متنازع تقریر پر ازخود نوٹس کیس کی سماعتیں بھی عملدرامد بینچ کے سامنے ہوئیں تاہم 50 سماعتوں کے بعد یہ معاملہ آج اپنے انجام کو پہنچ گیا۔