لنکا کی زمبابوے کو 8 وکٹوں سے مات

ہمبنٹوٹا(نیوزایجنسیاں) سری لنکا نے نروشن ڈکویلا اور دنشکا گناتھیلاکا کی شاندار سنچریوں کی بدولت زمبابوے کو تیسرے ون ڈے میچ میں باآسانی آٹھ وکٹ سے شکست دے کر سیریز میں 1-0 کی برتری حاصل کر لی۔مساکاڈزا نے 98 گیندوں پر ایک چھکے اور 11 چوکوں کی مدد سے 111 رنز کی اننگز کھیلی جس کی بدولت زمبابوے کی ٹیم نے 310 رنز مجموعہ اسکور بورڈ کی زینت بنایا، تریسائی مساکانڈا 48 اور شان ولیمز 43 رنز بنا کر دیگر نمایاں بلے باز رہے۔311 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں گناتھیلاکا اور ڈکویلا نے اپنی ٹیم کو 229 رنز کا شاندار آغاز فراہم کر کے میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔ڈکویلا 102 اور گناتھیلاکا 116 رنز بنانے کے بعد آو¿ٹ ہوئے اور ان کی شاندار کارکردگی کی بدولت سری لنکا نے آٹھ وکٹ سے باآسانی فتح حاصل کر کے سیریز میں برتری بھی حاصل کر لی۔ دنشکا گناتھیلاکا کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

ناصرجمشید کی اہلیہ نے علیحدگی کی خبروں کومستردکردیا

لاہور (نیوزایجنسیاں) میڈیا رپورٹس کے مطابق سپاٹ فکسنگ کیس میں معطل قومی کرکٹر ناصر جمشید اور ان کی اہلیہ کے درمیان ناچاقی اور کشیدگی کی خبروں کے بعد ڈاکٹر سمارا نے سوشل میڈیا پر ان افواہوں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ دراصل ان خبروں کی وجہ ڈاکٹر سمارا کی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری وہ ٹویٹس بنیں جن میں بظاہر وہ دلبرداشتہ نظر آئیں۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ہر خود مختار اور مضبوط عورت کے اندر ایک چھوٹی سی شکستہ دل لڑکی ہوتی ہے جو یہ جان چکی ہوتی ہے کہ کسی پر انحصار نہیں کرنا اور کس طرح دوبارہ اٹھنا ہے۔ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ تعلقات ختم ہو جاتے ہیں لیکن زندگی چلتی رہنی چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خود کو قصور وار نہ ٹھہرا کر مضبوط ہو جاو¿ں۔ان ٹویٹس کا سوشل میڈیا پر آنا ہی تھا کہ فوراً میڈیا کی شہ سرخیوں کی زینت بن گئیں۔ ناصر جمشید کی اہلیہ ڈاکٹر سمارا کو جب ان خبروں کا پتہ چلا تو انہوں نے اس کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انھیں جھوٹی خبریں قرار دیدیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں نہیں خبر کہ میڈیا کو یہ کیسے پتہ چلا کہ میری اور ناصر جمشید کے درمیان طلاق ہو گئی ہے، لیکن میں بتانا چاہتی ہوں کہ یہ سب جھوٹی اور من گھڑت خبریں ہیں۔

انٹرنیشنل چیلنج فائٹ ، وسیم نے پانامہ کے باکسر کو ناک آﺅٹ کر دیا

پاناما سٹی (نیوزایجنسیاں)باکسر ڈبلیو بی سی سلور فلائی ویٹ چیمپئن محمد وسیم نے پاناما کے باکسرایلیسر والڈیز کو ناک آو¿ٹ کرکے کیریئر میں مسلسل چھٹی فائٹ اپنے نام کر لی۔ورلڈ باکسنگ کونسل کے تحت 8 راو¿نڈز پر مشتمل فائٹ میں محمد وسیم نے پہلے ہی راﺅنڈ میں حریف کو چت کر دیا تاہم اس نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کردیا، دوسرے راو¿نڈ میں محمدوسیم نے ایک بار پھر حریف پر تابڑ توڑ حملے کیے جس سے حریف باکسر رنگ میں گرنے کے بعد دوبارہ اٹھ نہ سکا، محمد وسیم کی یہ مسلسل چھٹی فتح ہے جن میں سے 4 حریفوں کو انہوں نے ناک آﺅٹ کیا ہے۔اس کامیابی کے ساتھ ہی محمد وسیم سلور فلائی ویٹ کیٹیگری کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر آگئے۔پاناما کے دار الحکومت پاناما سٹی میں فائٹ کے دوران محمد وسیم ابتداء سے ہی میزبان حریف کھلاڑی ایلیسر والڈیز پر حاوی نظر آئے اور انہیں مکمل طور پر آو¿ٹ کلاس کردیا۔پاکستانی باکسر اور پاناما کے باکسر ایلیسر والڈیز کے درمیان فائٹ 8 راو¿نڈز پر مشتمل تھی مگر محمد وسیم نے اپنے حریف کو دوسرے ہی راو¿نڈ میں ہرا دیا۔اپنی جیت کے حوالے سے ایک ویڈیو پیغام میں محمد وسیم نے اپنے حق میں دعائیں کرنے پر پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا۔اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ پاناما کے باکسر کو شکست دینے اور اپنے ٹائٹل کا کامیابی کے ساتھ دفاع کرنے پر وہ بے حد خوش ہیں۔عالمی رینکنگ میں وہ فلائی ویٹ کیٹگری میں ورلڈ نمبر ون محمد وسیم ممکنہ طور پر رواں برس کے آخر میں ہونے والی ڈبلیو بی سی ٹائٹل فائٹ کیلئے 29 جون سے امریکی ٹرینر میف مے ویدر کے ساتھ پاناما میں ٹریننگ کر رہے ہیں اور آئندہ سال کے شروع میں انہیں ممکنہ طور پر ورلڈ چیمپیئن مے ویدر جونیئر کا سامنا کرنا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال 17 جولائی کو فلپائن کے جیتھر اولیوا کو ہرا کر وہ ورلڈ سلور ٹائٹل جیتنے والے پہلے پاکستانی باکسر بنے تھے، 27 نومبر کو انہوں نے فلپائن کے گیمل مگرامو کو شکست دیتے ہوئے ٹائٹل کا کامیاب دفاع کیا تھا اور بعد ازاں جنوبی کوریا میں مگرامو کو مات دی تھی۔
.

نامور فٹبالرزرونالڈینیو،روبرٹو کی آج پاکستان آمد

اسلام آباد (اے پی پی) فٹ بال کے عالمی ستارے دو نمائشی میچ کھیلنے کےلئے (آج) جمعہ کو پاکستان پہنچیں گے جن میں رونالڈینہو، روبرٹو کارلوس، رائن گگز اور دیگر پلیئرز شامل ہیں۔ پہلا نمائشی میچ ہفتہ کو کراچی اور دوسرا اتوار کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان آنے والے کھلاڑیوں میں برازیل کے رونالڈینہو، رابرٹو کارلوس، رابرٹ پائرز، فرانسس نکولس اینلکا، پرتگال کے لوئس بوا مورٹے، ہالینڈ کے جارج بوتنگ، انگلینڈ کے ڈیوڈ جیمز اور رائن گگز شامل ہیں۔

یونس اور پی سی بی میں پھر نوک جھونک شروع

اسلام آباد( نیو ز ا یجنسیا ں) وزیراعظم ہاو¿س میں ہونے والی اس تقریب میں پی سی بی کے چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے عہدیدار بھی شریک ہوئے تھے تاہم قومی کرکٹ ٹیم کی ہر سطح پر قیادت کرنے والے تین سابق کپتان مصباح الحق، شاہد آفریدی اور یونس خان، جن کے لیے وزیراعظم نے تمغہ برائے حسن کارکردگی اور 10 لاکھ روپے کا اعلان کیا، تینوں ہی اسلام آباد کی اس تقریب کا حصہ نہ تھے۔یونس خان کی ناراضگی کا سبب پی سی بی کے انٹرنیشنل مینجر عثمان واہلہ کا رویہ ہے جس کے باعث ایک ماہ قبل یونس خان ”ایم سی سی“ کے زیر اہتمام لارڈز پر ورلڈ الیون اور افغانستان کے درمیان میچ کھیلنے سے بھی انکار کر چکے تھے۔عثمان واہلہ کے نئے افسر سابق ٹیسٹ کرکٹر ہارون رشید سے بھی یونس خان نے اس معاملے میں بات نہیں کی۔ عثمان واہلہ پر سابق کپتان نے واضح کیا کہ اب وہ پی سی بی سینڑل کنڑیکٹ کا حصہ نہیں۔دوسری جانب یونس خان کا مو¿قف ہے کہ پی سی بی دنیا بھر میں پاکستانی کرکٹرز کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، کھلاڑی ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور اگر پی سی بی تنقید کرنے والے یا سفارش کی بنیاد پر سابق کرکٹرز کو نوکری دیتا ہے تو ان کرکٹرز کی عزت نفس کو مجروح نہ کرے جو پی سی بی سے اصولوں کی بات کرتے ہیں۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ یونس خان پی سی بی کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں ریکارڈ 34 سینچریاں بنانے والے یونس خان نے 2009ء میں اس وقت قومی ٹیم کی قیادت چھوڑ دی تھی جب وہ آئی سی سی ورلڈ ٹی 20 کے فاتح کپتان تھے۔2006ءمیں یونس خان نے قومی ٹیم کی قیادت سے خود کو اس وقت علیحدہ کر لیا تھا جب قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوتے ہوئے چیئرمین شہریار خان سے ان کی ملاقات نہ ہو سکی تھی۔ماضی میں اسکینڈلز اور تنازعات کا شکار رہنے والے پاکستان کرکٹ بورڈ اور یونس کی 17 سال کی رفاقت مئی 2017ءمیں ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈومینیکا ٹیسٹ کے ساتھ ختم ہوئی تاہم اس طویل عرصے میں یونس خان جنٹلمین کے کھیل کرکٹ میں واقعی ایک حقیقی کردار کی حیثیت میں ابھر کر سامنے آئے جنہوں نے 2008ئ میں بھارت میں منعقدہ باغی کرکٹ لیگ ”انڈین کرکٹ لیگ“ میں کروڑوں روپے کی پیش کش کو پاکستان کرکٹ پر ترجیح دینے سے انکار کیا۔لیکن افسوس پی سی بی میں ماضی میں کرکٹ کے کھیل میں کرپشن میں ملوث اور چند روپوں کی خاطر ملک کا نام بدنام کرنے والوں کے لیے تو لچک دکھائی دیتی ہے البتہ اصولوں پر ڈٹ جانے والے یونس خان جنہوں نے ون ڈے کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے ایک نئی روایت قائم کی ہمیشہ اس قابل فخر پاکستان کے بیٹے کو ناراض کرنے کی روایت قائم رہی۔سینڑل کنٹریکٹ کا معاملہ رہا ہو یا پھر ”پاکستان سوپر لیگ“ کی افتتاحی تقریب، سابق کپتان کو ہر بار پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مایوسی ہی ہوئی ہے۔ یونس خان حالیہ واقعے کے بعد ابھی منظر عام پر نہیں آئے البتہ انہوں نے خاموشی توڑی تو پی سی بی کی مشکلات ضرور بڑھ سکتی ہیں۔

ن لیگ نام بتائے سازش فوج کر رہی ہے یا عدالت

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی)چیئرمین تحریک انصاف نے کہا ہے کہ سب کہتے ہیں ایک خاندان کے خلاف سازش ہورہی ہے ن لیگ نام لے کر بتائے کہ فوج سازش کر رہی ہے کہ عدالت ؟قوم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے اورایک کال کے انتظار میں ہے ، اپنی چوری چھپانے کے لئے ملک تباہ کیا جار ہا ہے ،کل جو ڈراما دیکھا اور سڑکیں بند کر شہزادی کو پیش کیا گیا اور قوم کی توہین کی گئی ہے اس کے لئے الفاظ نہیں ہیں اور بھارتی فلموں کی طرح رود ھو کر دکھایا گیا،معاملہ 10جولائی کے قریب پہنچ چکا ،سارا ماحول بن چکا ہے ،نواز شریف نے دستاویزات پارلیمنٹ میں لہرائے تھے مگر سپریم کورٹ گئے تو پتا چلا کوئی دستاویزات نہیںاور خود کو بچا نے کے لئے قطری آگیا، نواز شریف سمیت سارے خاندان نے کرپشن کی ، شہباز شریف آپ بھی اس کے ساتھ جائیں گے ،الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کا کیس سیاسی بنیادوں پر ہے اس کی کو ئی حیثیت نہیں ، ریمنڈ ڈیوس کی رہائی سے ہماری رولنگ کلاس پست ذہن اور ڈالر کی پوجا کرنے والی ہے ، جمہوریت کو منشیات فروش جس پر ایفی ڈرین کا کیس ہے لوگ اکٹھے کر کے بچانے کے لئے متحرک ہے ،یہ بادشاہت نہیں جمہوریت ہے جس میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بنی گالہ میں پریس کانفر نس کر تے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ 10جولائی کے قریب پہنچ چکا ،سارا ماحول بن چکا ہے ، قوم سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑی ہے اور ایک کال کے انتظار میں ہے ،اتنی پبلک نکلے گی کہ تاریخ میں نہیں نکلی ہوگی ،پاناما پیپرز بین الاقوامی سطح پر انکشاف تھاجس میں دنیا بھر کے رہنماوں کے نام آئے،آئس لینڈ اور برطانوی وزرائے اعظم کے نام آئے تو سارے گھروں کو چلے گئے لیکن شریف خاندان اپنی چوری بچانے کے لئے ملک کو تباہ کر رہا ہے ،پہلے تو فلیٹس کی ملکیت سے انکاری تھے لیکن حسین نواز نے ٹی وی پر کہا یہ فلیٹس ہمارے ہیں، میں نے1998 میں ان کے فلیٹ کے باہر مظاہرہ کیا کہ منی لانڈرنگ سے خریدے گئے ہیں،نوازشریف آپ کو صرف چار محلات کے اصل مالک کی دستاویز دکھانی ہیںلیکن ابھی تک انہوں نے منی ٹریل نہیں دکھائی گئی ، نواز شریف نے کاغذات تو لہر ا کر کہہ دیا تھا کہ ہمارے پاس ایک ایک ثبو ت ہے لیکن سپریم کورٹ میں کچھ نہ نکلا اور قطری شہزادے کو پیش کر دیا گیا کیونکہ قطر ی کوانہوں نے 200 ارب کا کنٹریکٹ دلوایااور تلور مارنے کی کھلی چھٹی جو دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت بچانےوالوں نے سپریم کورٹ پر ڈنڈوں سے حملہ کیااور اب بھی ایسا ہی کرینگے ، لیکن قوم سپریم کو رٹ کے ساتھ کھڑی ہے ایک کال پر اتنی عوام سڑکوں پر ہو گی جو تاریخ میں کسی نے نہ دکھی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ پہلے نواز شریف خود کمیشن بناناچاہتے تھے مگرسابق چیف جسٹس انورظہیر جمالی نے رد کر دیا تھا لیکن اب جے آئی ٹی میں پھنس گئے ہیں اور مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں ، روز سڑکیں بند کر کے عوام کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہے انہوں نے کہا میں اگر مریم مالک ہیں تو مطلب ہے فلیٹس 1993 میں لیے گئے تھے اور فلیٹس نواز شریف کے پیسے سے لیے گئے ،آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ پر نواز شریف اور خاندان کی تصاویر ہیںاور شہباز شریف بھی ان کے ساتھ ہی جائیں گے کیونکہ ان کا نام بھی حدیبیہ پیپر مل میں نام ہے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پانچ میں سے دو ججز نے کہا یہ صادق اور امین نہیں اور اب سپریم کورٹ کے بعد جے آئی ٹی میں بھی جواب دینے کے بجائے انہوں نے جھوٹ پر جھوٹ بتایا، سب کہتے ہیں ایک خاندان کے خلاف سازش ہوئی ہے لیکن پاناما لیکس کا انکشاف موزیک فونسیکا کے کمپیوٹرز ہیک ہونے سے ہواجس کی ایک سال تک ریسرچ کی گئی اور پھر ا س کا اعلان کیا گیا اگر سازش کہتے ہیں تو نام لے کر بتائیں کہ اس میں ملوث فوج ہے یا سپریم کورٹ ؟ انہوں نے کہا ہے کہ ایفیڈرین کا کیس والا لوگ اکٹھے کر کے جمہوریت بچا رہے ہیں اور اپنی چور ی بچانے کے لئے ملک کو تباہ کر رہے ہیں انہوں نے کرپشن کی تعریف بتاتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں آکر اپنی ذات کے لئے پیسہ بنانا ہے اور ایسا ہی نواز شریف نے کیا ہے انہوں نے شہباز شریف کو ڈرامہ باز شریف کہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود کہا تھا کہ چار ماہ میں بجلی پوری نہ کی تو میرا نام بدل دینا آج چار سال ہو گئے ہیں تو انہیں اس نام سے ہی پکارا جا نا چاہیے نا اپنی گفتگو ختم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلی گلی میں شور ہے نواز شریف چور ہے انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب جے آئی ٹی بنی تھی نواز کو استعفی دینا چاہیے تھا سپریم کورٹ کو کہنا چاہیے تھا کہ استعفیٰ دیں کیونکہ نواز شریف کے زیر انتظام تما م محکمے ہیں انہوں نے کہا کہ مریم کے پیش ہونے پرجتنا ڈرامہ کیا گیا ہے اور عورتوں کے احترام پر جو درس دیئے جا رہے ہیں وہ بھو ل گئے ہیں کہ انہوں نے بینظیر بھٹو ، نصرت بھٹو کے ساتھ کیا کیا اور ان کے وزیر نے شیر ی مزار اور ڈاکڑ فردوس کے خلاف کیسی غلیظ زبان استعما ل کی ہے انہوں نے کہا کہ میں بھولا نہیں ہو سب مجھے یاد ہے اور الیکشن کمیشن میں کیس سیاسی بنیادوں پر قائم کیا گیا ہے ہم تو تیس فیصد شوکت خانم کا خسارہ بیرون ملک پاکستانیوں کے فنڈز سے پورا کرتے ہیں اور اس میں کیا برائی ہے کہ وہ ہمیں پیسے بھیجتے ہیں اس طر ح تو ملک میں آنے والے پیسے بھی غیر قانونی ہو جاتے ہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ کسی خاتون کا پانامہ کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا اچھا نہیں لگتا شریف خاندان اپنے کرتوتوں کا صلہ پارہا ہے بدعنوانی کے خلاف مشن جاری رکھ کر قوم کو کرپشن فری پاکستان دیں گے۔ عمران خان نے جمعرات کو یہاں نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ شریف خاندان نے ملک میں مغل دور کی بادشاہت قائم کررکھی ہے اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے لیکن یہ طرز حکمرانی اب زیادہ دیر تک نہیں کی جاسکتی انہوںنے کہا کہ میں ہمیشہ سچ بات کہتا ہوں اور بدعنوانی کے سخت خلاف ہوں یہی وجہ ہے کہ شریف خاندان کی بدعنوانی کے خلاف بولنے پر میرے خلاف زیر اگلا جارہاہے لیکن جتنا بھی میرے خلاف بولیں گے میں اتناہی سچ بولتا رہوں گا تا کہ کرپشن کے خلاف اپنے مشن کو منطقی انجام تک پہنچا کر قوم کو کرپشن فری پاکستان دے سکو ں ، چیئرمن تحریک انصاف نے ان کے وزیراعظم بننے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ اگر میں وزیر اعظم بنا تو پانی کے ذخائر سے30ہزار میگاواٹ بجلی بنا¶ں گا تاکہ ملک میں توانائی قلت کا خاتمہ ممکن ہوسکے انہوںنے کہا کہ خیبرپختونخواہ میں بڑی سطح کی کرپشن کا خاتمہ کرچکے ہیں اور چترال میں 1ارب پودے لگانے سمیت عوامی ترقی کے منصوبوں پر عمل ہیں انشاءاللہ بہت جلد کے پی کے پورے ملک کے لئے ہر لحاظ سے ایک ماڈل صوبہ بن جائے گا۔

ظلم کی انتہا, دربار پر ذہنی معذور افراد کا علاج کیسے کیا جاتا ہے؟ سنسنی خیز خبر

گگومنڈی،ساہوکا(میاں ذوالفقار، محمد یار بھٹی سے) بابا حاجی شیردربارپرذہنی معذور افراد کو زنجیروں سے باندھنے کا سلسلہ عرصہ درازسے جاری۔ ضعیف العقیدہ لوگ سمجھتے ہی کہ ایساکرنے سے ذہنی معذور تندرست ہوجاتے ہیں اور ان کی زنجیریں خود بخودکھل جاتی ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ دربارکے نزدیک ہی ایک رفاحی ادارے نے نفسیاتی مریضوں کیلئے ہسپتال بنایا ہوا ہے لیکن سادہ لوح لوگ اپنے مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی بجائے دربار پر زنجیروں سے باندھ کر مطمعن ہوجاتے ہیں کہ بابا جی ہی انہیں تندرست کرے گا۔ تفصیلات کے مطابق عوامی شکایات پرخبریں انسپکشن ٹیم میاں ذوالفقار، محمد یار بھٹی گگو منڈی سے 30کلو میٹرکی مسافت پر دربار بابا حاجی شیر دیوان چاولی مشائخ پر پہنچی تو ہر طرف بندھے زہنی معذور افراد کو دیکھ کردنگ رہ گئی کہ اس سائنسی دور میں بھی سادہ لوح لوگ پتھرکے زمانہ میں رہ رہے ہیں۔ انسپکشن ٹیم کو بتایا گیا کہ دربار بابا حاجی شیر دیوان کے درجن بھر سے زائدگدی نشین ہیں اور ہر ایک نے اپنا علیحدہ آستانہ بنایا ہوا ہے جہاں ہرایک کے آستانہ پر ذہنی معذور افراد کو زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا ہے۔ تصاویرمیں نظر آنے والے مریض صرف ایک گدی نشین کے ڈیرہ پربندھے ہوئے افرادکی ہے جبکہ دیگر آستانوں پر انسپکشن ٹیم کی رسائی ممکن نہیں ہوسکی۔ راسخ العقیدہ لوگوں کا ماننا ہے کہ دربار پر زنجیروں سے باندھنے سے ان کے مریض خود بخود تندرست ہوجاتے ہیں جس کے بعد ان کی زنجیریں خود بخودکھل جاتی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دربارکے نزدیک ہی ایک رفاحی ادارے نے نفیساتی مریضوں کے علاج کیلئے ہسپتال بنایا ہوا ہے لیکن سادہ لوح لوگ ہسپتال میں علاج کی بجائے اپنے مریضوں کو دربار پر ہی باندھ کر مطمعن ہوجاتے ہیں کہ ان کے مریض کو صرف باباجی ہی تندرست کریں گے۔ 20ویں صدی کے اس سائنسی اور ترقی یافتہ دور میں دربار پر ہر طرف مرد و خواتین زنجیروں سے بندھے نظرآتے ہیں اوریہ سب کچھ حکومت کی ناک کے نیچے ہورہاہے کیونکہ دربار محکمہ اوقاف کی زیر نگرانی ہونے کی وجہ سے دربار پر محکمہ اوقاف کے افسران مستقل قیام پذیر ہیں جبکہ وزیراعلیٰ، وفاقی و صوبائی منسٹرزکے علاوہ پولیس سمیت دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران اکثر دربار پر آتے رہتے ہیں لیکن زنجیروں سے بندھے ہوئے ان انسانوں کی زنجیریں کھلوانے کیلئے اب تک کسی نے کوئی اقدام نہیں کیاہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی مرد یا خاتون کو زنجیروں سے باندھنے کے خلاف حکومت نے سخت قوانین بنارکھے ہیں لیکن دربار حاجی شیر دیوان پر سر عام بندھے ان انسانوں کی زنجیریں کھلوانے کیلئے کسی بھی حکومتی ادارے میں ہمت نہیں ہے۔ پتہ چلا ہے کہ پاکستان بھر سے لوگ اپنے ذہنی مریضوں کو دربار پر باندھنے کیلئے آتے ہیں جن میں سے اکثر اپنے پیاروں کو باندھ کر بے یار و مدد گار چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور کئی ایک تو واپس آکران کی خبرتک نہیں لیتے۔ پتہ چلاہے کہ دربار پر عام دنوں میںہرہفتہ دولاکھ اورعرس کے موقع پرکروڑوں روپے چندہ کی مد میں رقم اکٹھی ہوتی ہے لیکن گندی اور بدبو دار جگہ پر بندھے ان افرادکو دیکھ کر حیرت دنگ رہ جاتی ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ دربارپراکٹھے ہونے والے پیسوں سے کچھ پیسے خرچ کرکے ان مریضوں کا علاج کروایا جائے توکوئی وجہ نہیں کہ یہ غریب اورسادہ لوح افرادجلد تندرست نہ ہوجائیں لیکن محکمہ اوقاف سمیت دربارکے گدی نشین جمع ہونے والے لاکھوں روپے چندہ سے اپنا پیٹ ہی پالتے دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع سے پتہ چلاہے کہ دربار کے ارد گرد رہائشی آبادی میں رہائش پذیر افراد کی اکثریت چاولی خاندان سے ہے جو بابا حاجی شیر دیوان کے خاندان سے ہی چلے آرہے ہیں۔ سیاسی طور پر اثر ورسوخ رکھنے کی وجہ سے ان کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوسکی ہے۔ مقامی سماجی حلقوں نے ارباب اختیارسے فوری نوٹس لینے کامطالبہ کیاہے۔

قطری شہزادے کا حسین نواز سے ملاقات سے انکار، لندن روانہ

اسلام آبا (اے این این) وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کی قطر میں شیخ حمد بن جسام الثانی سے ملاقات کرنے کے لئے گئے لیکن انہوںنے ملاقات کرنے سے انکار کردیا جہاں سے وہ لندن کے لئے روانہ ہوگئے۔واضح رہے کہ قطری شیخ حماد بن جاسم متعدد ملکوں کے سیاسی و مقتدر خاندانوں کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھتے ہیں جب کہ پاکستان میں پاناما لیکس کی تحقیقات میں وزیراعظم کی دولت منتقلی کے حوالے سے لکھے گئے قطری شہزادے کے خطوط کے چرچے تاحال جاری ہیں۔

ضیاشاہد کی کتابیں ”امی جان‘‘، ”پاکستان کےخلاف سازش“ کی دھڑا دھڑ فروخت

لاہور (خبریں رپورٹر) خبریں کے چیف ایڈیٹر اور معروف صحافی، مصنف اور قلم کار ضیاشاہد کی حال ہی میں چھپنے والی دونوں کتابوں کے پہلے ایڈیشن ایک ماہ کے اندر فروخت ہو چکے ہیں اور ”پاکستان کے خلاف سازش“ ، ”امی جان“ دونوں کتابوں کے دوسرے ایڈیشن ترامیم اور اضافہ شدہ مواد کے ساتھ شائع کئے گئے ہیں جبکہ ان کی تین نئی کتابیں تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں جو جلد شائع ہو جائینگی۔ پہلی کتاب ”ہمارے سیاستدان“ ہے جس میں ایوب خان، شیخ مجیب الرحمن، ایئر مارشل اصغر خان، نواب زادہ نصراللہ خان، سید مودودی، قاضی حسین احمد، عمران خان، ضیاءالحق اور دیگر سیاستدانوں کے حوالے سے ضیا شاہد نے اپنی ملاقاتوں کی داستان کا تذکرہ بڑے خوبصورت انداز میں کیا۔ دوسری کتاب کا نام ”قلم چہرے“ ہے جس میں نسیم حجازی، مولانا کوثر نیازی، عنایت اللہ، میر خلیل الرحمن، مجید نظامی، ریاض بٹالوی، الطاف حسین قریشی اور دیگر اہم قلم کاروں بارے مصنف کی یادداشتیں شامل ہیں تیسری کتاب کا نام ”یہ فلم والے“ اس کتاب میں ملکہ ترنم نورجہاں، بھارتی اداکار دلیپ کمار، زیبا، محمد علی، سدھیر، حبیب، علاﺅالدین، آغا طالش، شمیم آرا، صبیحہ، سنتوش، شباب کرانوی، عنایب حسین بھٹی، طلعت محمود اور دیگر فلمی شخصیات کے بارے میں ان کی یادداشتیں شامل کی گئی ہیں اگست کے آخر تک یہ کتابیں بھی منظر عام تک آ جائیں گیں۔

عمران خان لمبے عرصے بعد سابقہ اہلیہ جمائما کے حق میں میدان میں آگئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے شریف خاندان کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک لمبے عرصے کے بعد سابقہ اہلیہ جمائمہ کے حق میں میدان میں آ گئے ہیں اور انہوں نے کہاہے کہ جب 21سال کی لڑکی مسلمان ہو کر پاکستان آئی تو انہو ں نے پوری کمپین چلائی کہ وہ یہودی تھی۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا نواز شریف حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہناتھا کہ 21سال کی لڑکی مسلمان ہو کر پاکستان آئی تو انہو ں نے پوری کمپین چلائی کہ وہ یہودی تھی ،آپ تصدیق ہی کرلیں کہ وہ عیسائی ہے یا یہودی ؟مجھے پتہ ہے اس وقت جمائمہ پر کیا گزری تھی ،اس کے بعد جمائمہ پر انہوں نے 1998میں ٹائلیں سمگل کرنے کا کیس کر دیا جو کہ ناقابل ضمانت الزام تھا۔عمران خان کا کہناتھا کہ بے نظیر میری کلاس فیلو تھی مجھے پتا ہے کہ انہوں نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟ ان کے ایک وزیر نے شیریں مزاری کے ساتھ جس طرح کی زبان استعمال کی تب ان کو عورتوں کی یاد نہیں آئی ؟۔عمران خان کا کہناتھا کہ مریم نواز کا نام میں نے لیا بلکہ ان کا نام پاناما لیکس میں آیاہے۔