آصف زرداری نے بیٹی آصفہ کے ساتھ جھگڑے کی اصل وجہ بتا دی

دادو (نمائندہ خبریں) سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کی صاحبزادی لیاری سے الیکشن لڑنا چاہتی ہیں جبکہ میں کہتاہوں آپ نواب شاہ سے الیکشن میں حصہ لیں اور اسی بات پر جھگڑ اہے۔ دادو میں منعقدہ ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ جو لوگ تاریخ میں زندہ نہیں رہنا چاہتے وہ وہ پاناما سے ڈرتے ہیں، ساتھ ہی انھوں نے آئندہ الیکشن میں ‘خرابیاں’ صاف ہونے کے ساتھ اس بات کی بھی پیشگوئی کردی کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو کچھ نہیں ملے گا بلکہ کامیابی پیپلزپارٹی کی ہی ہوگی۔ پیپلز پارٹی کی خواتین کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے زرداری نے بتایا کہ ان کی صاحبزادی لیاری سے الیکشن لڑنا چاہتی ہیں جبکہ میں کہتا ہوں آپ نوابشاہ سے کھڑی ہوں اور اسی بات پر جھگڑا ہے۔

جے آئی ٹی کے سامنے پیشی ، سرکاری خزانے سے 2 کروڑ سے زائد خرچ

اسلام آباد(آن لائن) جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لئے آنیوالی شریف خاندان کی شخصیات کے پروٹوکول پر سرکاری خزانے سے تقریبا 2 کروڑ 18 لاکھ 86 ہزار 710 روپے سے زائد خرچ ہو گئے۔معتبر ذرائع کے مطابق نواز شریف کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی پر 2523 اہلکار و افسرا تعینات رہے، جس میں رینجرز، پولیس، سپیشل برانچ، انٹیلی جنس بیورو، ایف سی، ٹریفک پولیس و دیگر اداروں کے ملازمین شامل ہیں۔ جن پر سرکاری خزانے سے تقریبا 38 لاکھ 39 ہزار روپے خرچ ہوئے جبکہ نواز شریف کے بھائی شہباز شریف، نواز شریف کے سمدھی اسحاق ڈار کی پیشیوں کے موقع پر 13500 اہلکار وافسرتعینات رہے، ان کے پروٹوکول پر تقریبا 1 کروڑ 35 لاکھ 41 ہزار 888 روپے کا خرچ آیا جو کہ سرکاری خزانے سے ادا کیا گیا۔اعلی حکومتی شخصیات کے پروٹوکول پر جہاں سرکاری ملازمین و افسر تعینات رہے، وہاں وفاقی وصوبائی وزرائ، پارلیمانی سیکرٹریز، وزرائے مملکت، وفاقی و صوبائی سیکرٹریز و دیگر افسران بھی ان کے پروٹوکول کے لئے جوڈیشل اکیڈمی کے سامنے پہنچے، سرکاری پروٹوکول لیکر وفاقی وصوبائی وزرائ، وزرائے مملکت و دیگر عہدیدارا اپنی سیاسی جماعت کے حق میں اور اپنے لیڈر کے حق میں نعرے لگانے کے لئے جوڈیشل اکیڈمی پہنچے اور وہاں نعرے لگاتے رہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزیراعظم ہاو¿س کی جانب سے خصوصی طور پر یہ احکامات دیئے گئے تھے کہ سکیورٹی بڑھائی جائےاور انٹیلی جنس بیورو، سپیشل برانچ و دیگر ادروں کے افسران وملازمین کی خصوصی ڈیوٹیاں بھی لگائی گئیں اور ان کو مختلف اہم ذمہ داریاں دیکر رات گئے ہی تعینات کر دیا جاتا رہا ہے۔

جے آئی ٹی کا معاملہ حل ہو جائے پھر ، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

دوشنبے‘ اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی‘ نیوز ایجنسیاں‘ مانیٹرنگ) تاجکستان سے واپسی پر جہاز میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کی مخالفین پر شدید تنقید، کہتے ہیں ایٹمی دھماکے کا بٹن دبانے والے کا احتساب ہو رہا ہے، جے آئی ٹی کے عمل سے گزریں گے اور سرخرو ہوں گے، خدا اور پاکستان کے عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف نے مزید کہا بتایا جائے ہم نے کون سا قومی سرمایہ لوٹا ہے؟ بے ضابطگیوں کا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں، ہمارا کاروبار 1937ئ سے چل رہا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن ماضی میں بھی سازش کرتی رہی، اب بھی کر رہی ہے۔بھارت سے تعلقات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمسایہ ممالک سے ہمیشہ اچھے تعلقات کی کوشش کی، میں بھارتی وزیر اعظم کی حلف برداری میں شامل ہوا لیکن اب کشمیر میں اتنی قتل و غارت ہو رہی ہے، اب ان سے کیسے بات کریں۔ وزیراعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ میں نے کبھی بھڑک نہیں ماری لیکن جے آئی ٹی کا معاملہ حل ہوجائے پھر دھرنا پارٹی سے بھی نمٹ لیں گے۔دوشبنے سے وطن واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دورہ تاجکستان کامیاب رہا، افغان صدر نے تجارتی راہداری کے لیے بھارت کو راستہ دینے کی تجویز دی جس پر ہم نے کہا پہلے پاکستان، تاجکستان اور افغانستان اپنے معاملات بہتربنالیں، بھارت سے متعلق معاملہ بعد میں دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے مظالم کا سلسلہ جاری ہے اورکچھ ہی دنوں میں 100 سےزائد کشمیری شہید کردیئے گئے، ایسے حالات میں بھارت سے کاروبار کی بات کیسے ہوسکتی ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان کےالزام کا جواب دیا کہ ہماری طرف سے کوئی مداخلت نہیں ہورہی جب کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے پاک بھارت تعلقات خراب ہوئے لہذا بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند اور مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آنا چاہیے۔ فریش مینڈیٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی بھڑک نہیں ماری لیکن جے آئی ٹی کا معاملہ حل ہوجائے پھر دھرنا پارٹی سے بھی نمٹ لیں گے، یہ ہر سازش میں شریک رہے اور سازشیں کرتے رہے اور 2014 میں ان کے دھرنوں کو دیکھ لیا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جس نے ایٹمی دھماکے کا بٹن دبایا اسی کا احتساب ہورہا ہے وہ بھی جعلی، ہم خود جے آئی ٹی کے عمل سے گزرنا چاہتے ہیں اور حالات کا تقاضا بھی یہی ہے،سپریم کورٹ کے کسی بھی قسم کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں جب کہ جمہوریت کو مجھ سے کوئی خطرہ نہیں۔ وزیراعظم نوازشریف مسئلہ کشمیر کے حل تک بھارت کو کسی قسم کی تجارتی رعایت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت مظلوم نہتے کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال کرے اور ہم انہیں تجارتی رعایت دیں یہ کسی صورت ممکن نہیں۔تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں پاکستان، تاجکستان، کرغزستان اور افغانستان کا چار ملکی اجلاس منعقد ہوا، تاجک صدر کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف، افغان صدر اشرف غنی اور کرغزستان کے وزیر اعظم نے شرکت کی۔ اجلاس میں کاسا ایک ہزار منصوبے پر بریفنگ دی گئی جب کہ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے سال شروع ہونے والا کاسا ایک ہزار منصوبہ آئندہ سال مکمل ہو جائے گا۔وزیراعظم نوازشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ منصوبہ وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا کو ا?پس میں ملائے گا اور بجلی کی ترسیل کے منصوبے سے پاکستان سمیت افغانستان کو بھی فائدہ ہوگا جب کہ توانائی کی فراہمی سے عوام کا معیار زندگی بلند ہوگا، کاسا 1000 سے تاجکستان کو بھی ریوینو حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سماجی، معاشی اور صنعتی ترقی کے لیے ہمیں توانائی چاہیے، اہم کمپنیوں نے فیڈر اسٹیشنز کے قیام کے لئے پیش کش جمع کرادی ہے۔کانفرنس میں وقفہ کے دوران چاروں ممالک کے رہنماو¿ں نے مقامی زرعی اشیائ کی نمائش میں شرکت کی، نوازشریف نے مقامی پھلوں کے معیار کی تعریف کی اور نمائش میں لگے تندور سے تیار کئے گئے نان کا ٹکڑا کھایا۔ اجلاس اس وقت بے نتیجہ ثابت ہوا جب افغانستان نے چار فریقی تجارتی راہداری میں بھارت کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کردیا۔

ڈالر کی قیمت میں اضافہ موجودہ حالات میں جے آئی ٹی سے بڑا مسئلہ

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ بڑا دھماکہ تھا، سنا ہے کچھ قیمت نیچے آئی لیکن یہ عارضی ہے پھر اوپر چلے جائے گی۔ اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف نے حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ ڈالر کی قیمت مستقل طور پر 116 روپے فکس دیں۔ آئی ایم ایف کا مختلف ممالک کے ساتھ یہی طرز عمل ہوتا ہے کہ وہ ڈوبتے ہوئے ملک کی تھوڑی مدد کر دیتا ہے تا کہ وہ اپنے پیسے وصول کر سکت۔ اگر فوری نہیں تو مستقل قریب میں ڈالر کا ریٹ 116 روپے ہو جائے گا، پھر تصور کریں کہ قرضوں میں کتنا اضافہ ہو جائے گا۔ ہر شخص پر فی کس قرضہ بڑھ جائے گا۔ میری نظر میں موجودہ حالات میں یہ جے آئی ٹی سے بڑا ایشو ہے۔ اس کے علاوہ معاشی مسائل کے سلسلے میں ایک اور بہت بڑا بم گرا ہے۔ ایک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سٹیٹ بینک نے سکیورٹی پرنٹنگ پریس آف پاکستان خرید لیا ہے، اب یہ ادارہ وفاقی حکومت کے زیرانتظام نہیں رہا۔ اکنامی کے حوالے سے یہ بہت بڑا ادارہ ہے جہاں نوٹ، سٹامپ پیپرز، سکیورٹی دستاویزات سمیت دیگر اہم پیپرز چھپتے ہیں۔ اگر یہ خبردرست ہے تو اس پر غوروخوض ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس میں قطر کی بڑی اہمیت ہے۔ حسین نواز قطر گئے ہیں، شاید وہ قطری شہزادے سے اس سلسلے میں ملنے گئے ہوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی ٹیم وہاں بھی آئی تو اس سے بات نہیں کریں گے یا کوئی اور وجہ سے بہرحال چند روز میں حقیقت سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز جو شاید مستقبل میں وزیراعظم بنیں۔ ایسی خاتون کہتی ہیں کہ سازش ہو رہی ہے اگر بے نقاب کر دوں تو پتہ نہیں کیا ہو جائے جبکہ نوازشریف نے بھی اس سے ملتا جلتا بیان دیا ہے۔ آخر اسے سازش کہنا کس قدر درست ہے؟ اگر مریم و نوازشریف سمیت نون لیگی رہنماﺅں کی نظر میں یہ سازش ہے تو پھر چپ کیوں ہیں؟ کھل کر بتائیں کہ کیا سازش ہے۔ کیا ملک میں 20 کروڑ گائے و بھینسیں موجود ہیں کہ جو دل میں آیا کہہ دیا۔ اگر سازش ہے تو کیا پانامہ میں بیرون ممالک کے جن لوگوں کے نام آئے، 2 وزرائے اعظم مستعفی ہو گئے ان کے خلاف بھی سازش تھی؟ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی یہ بات بچگانہ ہے کہ صرف پی پی ملک کو بہتر کرسکتی ہے۔ اس کو کوئی ووٹ نہیں دے گا۔ پی پی سندھ میں کامیاب ہو سکتی ہے لیکن وفاق میں اس کی حکومت بننے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ پی پی رہنما مصطفی نواز کھوکھر سے زیادہ چکر باز کوئی نہیں دیکھا۔ بلاول بھٹو زرداری اتنی بار لاہور آئے میں نے ان کو سی پی این ای میں دعوت دی کہ آخر ان سے پوچھیں کہ پی پی میں کیا بہتری آئی ہے۔ مصطفی نواز کھوکھر واحد آدمی ہیں جنہوں نے 10 بار بلاول سے ملاقات کرانے کا وعدہ کیا ایک بار بھی وفا نہیں کیا۔ بس رپورٹروں کو بلوا کر خبر چھپوا لیتے تھے۔ پیپلزپارٹی دور میں بھی ”ایڈیٹرز کلب“ کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا جس میں مختلف سیاستدانوں کو بلا کر ایڈیٹر حضرات سوالات کرتے تھے۔ اس پروگرام میں بھی مصطفی نواز کھوکھر کو بلایاانہوں نے 5 دفعہ وقت دیا لیکن نہیں آئے جبکہ 2 بار تو نہ آنے کی اطلاع بھی نہیں دی۔ اقتدار انسان میں ایک خاص قسم کا غرور پیدا کردیتا ہے۔ میرا گلہ ان کو اچھا لگے یا برا مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا بہرحال حقیقت یہی ہے۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستانی روپیہ کی قدر بڑے عرصے سے دباﺅ میں تھی۔ اسحاق ڈار کامیاب نہیں ہوں گے روپے کی قدر مزید نیچے گرے گی۔ ڈالر کی قیمت میں کمی عارضی لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بینک اور منی چینجر بہت طاقتور ہیں جو ڈالر کی قیمت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے بڑے عرصے سے مارکیٹ میں مونوعی طور پر روپے کی قدر کو مستحکم رکھا ہوا تھا لیکن مریم نواز کی پیشی کے دن اچانک سٹیٹ بینک نے اپنی حمایت واپس لیتے ہوئے روپے کی قدر گرانے کی اجازت دے دی۔ اس پر حیرت و پریشانی اور ایک سوالیہ نشان ہے۔ آئی ایم ایف سٹیٹ بینک کو استعمال کرتا تھا۔ سٹیٹ بینک کی 2014ءکی رپورٹ کے مطابق روپے کی قدر کو بینکوں نے سٹے بازی کا حملہ کر کے گرایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی پاکستان میں ڈالر کی قیمت 116 روپے فکس کرنے کی بات حکومت کبھی نہیں مانے گی، خدانخواستہ اگر ایسی کوئی سازش ہوئی تو قرضوں میں 6 سو ارب روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی پرنٹنگ پریس کو فروخت کرنے میں حکومت اور سٹیٹ بینک کے مفادات سمجھ سے بالاتر ہیں۔ یہ ادارہ سٹیٹ بینک کو فروخت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ پیپلزپارٹی رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ بلاول جتنی بار بھی لاہور آئے صرف ایک ملاقات صحافیوں کے ساتھ کی، اس دن ضیا شاہد صاحب سے رابطہ کیا لیکن وہ ملتان میں تھے۔ اس کے علاوہ لاہور میں بلاول کی صحافیوں کے ساتھ کوئی دوسری ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ تسلیم کرتے ہیں کہ پی پی تاریخی بحران سے گزر رہی ہے۔ عام انتخابات کے بعد آزاد کشمیر و گلگت و بلتستان میں بھی الیکشن ہار گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 60 فیصد آمادی نوجوانوںپر مشتمل ہے۔ ایسے ملک میں نوجوان لیڈر بلاول کو پذیرائی مل سکتی ہے لیکن اس کی بنیاد ایک پروگرام ہو گا جس پر وہ کام کر رہے ہں۔ ملکی مسائل کے حل کے لئے الٰہ دین کا چراغ نہیں البتہ پالیسی دے سکتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دعوے دھرے رہ گئے۔ سستی روٹی، یلیو کیب سکیم میں اربوں روپے ضائع کئے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ آئندہ انتخابات کے لئے بلاول بہت جلد عوام کے سامنے ایک نیا ویژن رکھیں گے۔ بھٹو کا منشور تھوڑا تبدیل کر رہے ہیں۔ سوشلزم کی بنیاد پر منشور رکھیں گے جس میں موجودہ حقائق کے تناظر میں کچھ تبدیلیاں ضرور کریں گے۔

کیلوریز

ڈاکٹر نوشین عمران
کیلوریز یا حرارے کا نام کھانے، ڈائٹ پلان اور موٹاپے کے ساتھ لازمی لیا جاتا ہے۔ کیلوریز کیا ہیں جس طرح لمبائی ناپنے کیلئے میٹر یا کلومیٹر، وزن ناپنے کیلئے گرام یا کلوگرام اور اسی طرح کسی بھی چیز کی پیمائش کیلئے ایک الگ یونٹ استعمال کیا جاتا ہے، اسی طرح جسم کے اندر توانائی کو ناپنے کیلئے کیلوریز کا یونٹ استعمال کیا جاتا ہے۔ کھانے کی ہر چیز میں کچھ نہ کچھ کیلوریز ہوتی ہیں جن سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ جس میں داخل ہونے کے بعد یہ خوراک کتنی کیلوریز مہیا کرے گی۔ کیلوریز خوراک میں موجود توانائی ہے جسم میں خلیوں کو جو توانائی درکار ہے وہ خوراک کی کیلوریز سے ہی ملتی ہے۔ ایک گرام کیلوریز اتنی توانائی فراہم کرتے ہیں جس سے ایک گرام وزن پانی کا درجہ حرارت ایک ڈگری بڑھ جائے جبکہ ایک کلو کیلوریز سے ایک کلو وزن پانی کا درجہ حرارت ایک ڈگری بڑھ جائے۔ یہ کیلوریز کی درجہ بندی کا اصول ہے۔ مختلف طرح کی خوراک کی کیلوریز بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ ایک گرام چکنائی میں نو کیلوریز جبکہ ایک گرام کاربو ہائیڈریٹ یا پروٹین میں تقریباً چار کیلوریز پائی جاتی ہیں یعنی ایک گرام چکنائی ایک گرام پروٹین یا کارب کے مقابلے میں دگنی توانائی فراہم کرتی ہے۔
جسم جتنا زیادہ کام یا جسمانی مشقت کرتا ہے اسے تانی ہی زیادہ توانائی درکار ہے یعنی زیادہ کیلوریز کی ضرورت ہے۔ درمیانے درجے کا کام کرنے والے انسان کو نبستاً کم کیلوریز چاہیے خوراک جسم میں جانے کے بعد میٹا بولزم کے عمل سے گزر کر توانائی فراہم کرتی ہے۔ جسم کو جتنی توانائی چاہیے وہ کیلوریز کی شکل استعمال ہو جاتی ہے۔ اگر ضرورت سے زیادہ کیلوریز جسم میں داخل ہوں یا فالتو بچ جائیں تو رفتہ رفتہ جسم میں جمع ہونے لگتی ہیں اور وزن بڑھا دیتی ہیں۔ درمیانے درجے تک کام کرنے والے مرد کو روزانہ 2 ہزار سے ڈھائی ہزار تک اور عورت کو 18 سو سے 2 ہزار تک کیلوریز درکار ہوتی ہیں۔ البتہ اگر وزن زیادہ ہو تو کم کرنے کیلئے پہلا اصول خوراک سے لی جانے والی کیلوریز کم کرنا اور جسم میں جمع شدہ کیلوریز کو ورزش کے ذریعے استعمال کرنا ہے۔ دوسرا طریقہ روزانہ لی جانے والی کیلوریز میں چکنائی اور فیٹ کو کم کرنے کے ساتھ کاربوہائیڈریٹ کو بھی کم کرنا ہے کیونکہ کارب کی اضافی کیلوریز جسم کے اندر چربی میں جمع ہو جاتی ہیں۔ یاد رہے آفس میں یا بیٹھ کر کام کرنے والوں کو روزانہ کی مطلوبہ کیلوریز سے بھی کم ضرورت ہے ورنہ وزن بڑھنا لازمی ہے۔ کیلوریز کم کرتے وقت پروٹین کی مقدار کم نہ کریں تازی سبزی، پھل لیں تاکہ کم کیلوریز اور زیادہ وٹامن مل سکیں۔
٭٭٭