ثناء میر الیون کو آج عالمی چمپئن آسٹریلیا کا چیلنج درپیش

لندن(یو این پی)آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میںقومی ٹیم آسٹریلیا کےخلاف آج (بدھ کو) مد مقابل ہوگی ۔میچ گراس روڈلیسٹر میں پاکستانی وقت کے مطابق اڑھائی بجے کھیلا جائے گا۔خواتین کرکٹ ورلڈ کپ کے دلچسپ مقابلے انگلینڈ میں جاری ہیں۔ آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں آج(بدھ کو )تین میچز کھیلے جائیںگے ۔ میچزکنٹری گراﺅنڈ برسٹول، کنٹری گراﺅنڈ ڈربی اورگراس روڈلیسٹر میں کھیلے جائیں گے۔ تینوں میچز پاکستانی وقت کے مطابق اڑھائی بجے شروع ہونگے۔ورلڈ کپ کا13 واں میچ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے درمیانکنٹری گراﺅنڈ برسٹول میںکھیلا جائے گا۔آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کا14واں میچ بھارت اور سری لنکاکی ٹیموں میں کھیلا جائے گا جو کنٹری گراﺅنڈ ڈربی میں ہوگا جبکہ میگا ایونٹ میں 15 واں میچ میںآسٹریلیا اور پاکستان کی ٹیمیں مد مقابل ہونگی جوگراس روڈلیسٹر میں کھیلا جائے گا۔قومی ٹیم کا یہ چوتھا میچ ہوگا پہلے تینوں میچوں میں وویمنز قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قومی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی بھی سرفراز کے سپرد

اسلام آباد ( نیو ز ا یجنسیا ں ) چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے سرفراز احمد کو ٹیسٹ ٹیم کا بھی کپتان بنانے کا اعلان کر دیا ہے ، وہ اب تینوں فارمیٹس میں ٹیم پاکستان کی قیادت کریں گے۔شہریار خان نے اس بات کا اعلان چیمپئنز ٹرافی کی فاتح سرفراز الیون کے اعزاز میں وزیر اعظم ہاﺅس میں ہونے والی تقریب میں کیا۔ سرفراز احمد نے چیئرمین پی سی بی شہریارخان اور نجم سیٹھی کا اعتماد کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کے اعتماد پر پورا اترتے ہوئے ٹیم کی قیادت کریں گے۔وکٹ کیپر بیٹسمین اور قومی کپتان سرفراز احمد نے اب تک 36 ٹیسٹ میچز میں 40.96 کی اوسط سے 2089 رنز بنا رکھے ہیں جس میں 3 سنچریز اور 13نصف سنچریز شامل ہیں۔ وہ وکٹوں کے پیچھے 112 شکار بھی کر چکے ہیں۔چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے اعلان کیا کہ مصباح الحق کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد سرفراز احمد قومی ٹیسٹ ٹیم کے نئے کپتان ہوں گے۔شہریار خان کا کہنا تھا کہ سرفراز احمد نے چیمپئنز ٹرافی کے دوران زبردست قیادت کی اور وہ میچور ہورہے ہیں۔شہریار خان نے بھارت کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ہم سے ڈرتا ہے اور کرکٹ نہیں کھیلتا، وہ آئیں اور کرکٹ کھیلیں۔چیئرمین پی سی بی نے امید دلائی کہ پاکستان میں ایک مرتبہ پھر انٹرنیشنل ٹیمیں آئیں گی اور اس سلسلے میں سری لنکا اور بنگلادیش سے بات کر رہے ہیں۔شہریار خان نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں متحد ہوکر کھیلنے سے کامیابی نصیب ہوئی جب کہ ایونٹ میں فتح کے بعد دنیا کی ٹیمیں ہم سے کھیلنا چاہتی ہیں اور کرکٹ ٹیم کی اس کامیابی سے پوری قوم خوش ہے۔

قومی اتھلیٹس نے بھارت میں پڑاﺅ ڈال لیا

نئی دہلی (این این آئی) ایشین ایتھلیٹکس چمپئن شپ میں شرکت کرنے کےلئے پاکستان کی ٹیم بھارت پہنچ گئی ¾ پاکستان ٹیم ایونٹ کی دو کیٹگریز میں شرکت کرے گی ۔ایشین ایتھلیٹکس چمپئن شپ 6جولائی سے بھارت کے شہر بھونیشور میں شروع ہوگی ¾پاکستان ایتھلیٹکس ٹیم کے کھلاڑی اور آفیشلز بھارت پہنچ گئے ہیں۔پاکستان کی چھ رکنی ٹیم چار سو میٹر ریس میں حصہ لے گی ¾چار سو میٹر رکاوٹوں والی دوڑ اور ریلے میں بھی پاکستان ٹیم حصہ لے گی ¾ اسلامک گیمز میں اسی ٹیم نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔پاکستان کی چھ رکنی ٹیم میں نوکرحسین،محبوب علی،مظہرعلی،وقاریونس،اسداقبال اورندیم ارشدشامل ہیں۔

شہزادی کی جے آئی ٹی کے سامنے پیشی, اہم انکشافات

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئی ہیں۔ ان کے ساتھ حسن نواز، حسین نواز ، شوہر صفدر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی بھی موجود ہیں۔جوڈیشل اکیڈمی کے باہر مریم نواز سے یکجہتی کیلئے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اس حوالے سے سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

پاکستان مخالف قوتوں کیخلاف آخری سانس تک لڑتا رہوں گا چیف ایڈیٹر خبریں اور سی پی این ای کے صدر ضیاشاہد کی خصوصی گفتگو

اسلام آباد (رپورٹنگ ٹےم) چےف اےڈےٹر خبرےں اور سی پی اےن ای کے صدر ضیاشاہد نے کہا ہے کہ میں پاکستان کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف آخری سانس تک لڑتا رہوں گا میں نے اپنی کتاب میں کسی کو غدار نہیں لکھا اورنہ غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کئے میری یہ نئی کتاب ایک نقطہ آغاز ہے مجھے صوبوں کے قیام سے کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن صوبوں کا قیام مملکت پاکستان کے استحکام کے منافی نہ ہو،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی نئی کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“ کی تقریب رونمائی سے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کیا، ضیا شاہد نے کہا کہ میں تقریب میں شامل ہونے والے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر ہماری اس تقریب کو رونق بخشی، انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے انتہائی مصروف ہونے کے باجود تقریب میں شرکت کیلئے وقت نکالا ان کا اور ہمارا کافی پرانا ساتھ ہے اور عمر بھر کے رفیق ہیں جنہوں نے اپنی زندگی میں قابلیت اور دانش کے باعث بڑا مقام حاصل کیا، انہوں نے سابق چیئر مین سینٹ وسیم سجاد کے بارے میں کہا کہ یہ قائم مقام صدر اور چیئرمین سینٹ رہے جن کے ساتھ میں ان کی انتخابی مہم میں کارکن اور سپاہی کی حیثیت میں حصہ لیا اور خود ان کیلئے ووٹ مانگے، پرویز رشید کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میں گارڈن کالج کے زمانے سے ان کا معترف ہوں ان کے ساتھ میری ذاتی محبت ہے ان کی شفقت اور میری ذاتی محبت میں کبھی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے تقریب میں شریک ہونے والے اخبارات کے ایڈیٹرز، اخبار نویسوں، کالم نگاروں اور اہل دانش و فکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری کتاب لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کتاب ایک نقطہ آغاز بن سکتی ہے جس کے نتائج آنے والے دور میں سامنے آئیں گے اور ان سے راہنمائی لی جا سکے گی، صوبوں کی خود مختاری کے بارے میں۔ انہوں نے کہا کہ یہی بات بلوچستان میں شروع ہوئی وہاں پر صوبوں کے حقوق کے حوالے سے باز گشت شروع ہوئی، آج زبان کے مسئلے پر الگ صوبے بنانے کی بات کی جا رہی ہے پختون خواہ سے اور پشتو بولنے والے علاقوں کو افغانیہ کے نام سے نیا صوبہ بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں ، مجھے صوبوں کے قیام سے کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن صوبوں کا قیام مملکت پاکستان کے استحکام کے منافی نہ ہو ،آج یہ کہا جا تا ہے کہ بلوچستان کی نئی نسل برامداغ بگٹی ہو یا نواب سلیمان کا بیٹا داﺅد ہو یا باقی ناراض گروپوں کے لیڈر ہوں جن کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ وہ وفاق میں واپس آ گئے ہیں جن کو ہم نے آج تک نہیں دیکھا کہ وہ واپس آئے ہوں اس پر میں نے سوچا کہ کچھ نہ کچھ لکھوں میں یہ نہیں کہتا کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے کہ وہ حرف آ خر ہے آپ سب لکھنے پڑھنے والے لوگ ہیں، یہاں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو سیاست سے وابستہ ہیں میں ان کی بہت عزت و احترام کرتا ہوں اخبارات کے ایڈیٹرز ہیں وہ بھی سوچنے اور سمجھنے والے لوگ ہیں جو اینکرز ہیں وہ سوچنے اور سمجھنے والے ہیں جو کالم نگار ہیں وہ بھی اس معاملے کو مجھ سے زیادہ جانتے ہوں گے، میری یہ کتاب محض ایک نقطہ بن سکتی ہے اس بحث کا کہ ہم نے آگے جا کر پاکستان کو کس طرح چلانا ہے ، کیا زبان اور نسل کی بنیاد پر پہلے صوبائی حقوق اور پھر پرائمری کی تحریکیں بنانی ہیں یا قائد اعظم کی تھیوری جو 23مارچ 1940ءکی ہے کہ ہندو ایک طرف اور مسلمان دوسری طرف ہے ، دونوں کی تہذیب مختلف ہے ، دونوں الگ الگ رہنا چاہتے ہیں البتہ ہم نے وعدہ کیا تھا قائد اعظم کی صدارت میں پاکستان کو ایک الگ اسلامک ویلفیئر سٹیٹ بنائیں گے معلوم نہیں کہ ہم اس میں کتنے کامیاب ہوئے ہیں آپ اس بارے بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں،یہ کتاب ایک نقطہ آغاز ہے میری گزارش ہو گی کہ آپ اس موضوع پر کالم لکھیں ، تقاریر کریں ، اس پر پروگرام کریں اور ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہم اپنے پاکستان کے سب علاقوں کے لوگوں کو ان کے حقوق دے سکیں ،ان کی زبان اور تہذیب کی نگہداشت بھی کر سکیں اور ان کو فروغ بھی دے سکیں یہ سب کام ایک پاکستان کی چھت کے اندر ہونا چاہیئے اور یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ بھارت نے ڈھاکہ میں اپنی فوج اتا ر کر ہماری فوج کو شکست دی تھی اور وہاں قابض ہو گئی تھی، اس درد سے میں نے یہ کتاب لکھی مجھے ان تقاریر سے کتاب کی پروموشن کی غرض نہیں ہے میں نے 200کاپیاں سب دوستوں میں خود اعزازی پیش کی ہیں اورنہ مےں نے کتاب کی رائلٹی لی ہے مےں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اس بحث پر سب اہل نظر ، اہل قلم اور اہل علم لوگ سوچےں اور اپنی رائے سے ہمےں نوازےں ہم بھی اسے چھاپےں گے باقی اخبارات بھی اسے چھاپےں اپنے اپنے طور پر ہمےں دےکھےں کہ ہم اپنے پاکستان کے سب علاقوں کے لوگوں کے حقوق کو کس طرح تحفظ دے سکتے ہےں زبان و بےان کو اور ان کی تہذےب کو کس طرح فروغ دے سکتے ہےں ان کی تسلی کےسے کرسکتے ہےں یہ سب کچھ اےک پاکستان کی چھت کے نےچے ہونا چاہےے ۔ اور اس کی حدود کے اندر ہونا چاہےے اسی وجہ سے اےک لاہور مےں تقرےب کا اہتمام کےا اور اب اسلام آباد مےں تقرےب منعقد کی گئی ہے ۔ 15 جولائی کو کراچی مےں بھی تقرےب رکھی ہے اور پاکستان کے 28اخبارات نے میری کتاب کے اشتہارات مفت شائع کئے ہیں میری کتاب پر تمام اخبارات نے21سے زائد کالم شائع ہو چکے ہیں اللہ جانتا ہے ان کالموں کی اپنی ذات کےلئے ضرورت نہےں ہے بلکہ اس اےشو پر بات ہو اور یہ آگے چلے ۔ انہوں نے کہا کہ میں قطعی طور پر اپنی کتاب میں کسی کوغدار قرار نہیں دیا اور نہ کسی صوبے کے متعلق بات کی،انہوں نے پطرس فاروق کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مضمون میں ایک خاتون کا ذکر ہے کہ وہ کتابوں پر تبصرہ کیا کرتی تھی میں نہیں کہتا کہ آپ یہ کتاب پڑھے بغیر تبصرہ کریں ، پطرس فاروق کے حوالے سے ہے کہ وہ جب اس خاتون کے گھر گئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں پر موجود کتابیں بالکل نئی تھیں اور ان کے صفحات جڑے ہوئے تھے خاتون نے کتاب کھول کر دیکھی بھی نہیں ہوتی تھی میری گزارش ہے کہ جن دوستوں نے کتاب کا مطالعہ کیا ہو وہ جانتے ہیں اور اللہ شاہد ہے کہ میں کسی کو بھی غدار نہیں کہا اور نہ ہی میں اس پر یقین رکھتا ہوں میں نے مختلف بات کی ہے اور یہ کہا ہے کہ دو قومی نظریہ چھوڑ کر جب ہم زبان اور نسل کی بنیاد پر علاقے کی تفریق کریں گے تو ملک کیلئے آگے چل کر نقصان دہ ہو گامیرے بہترین تعلقات اپنی زندگی میں ولی خان کے ساتھ رہے ہیں اور بیسیوں مرتبہ ولی باغ گیا بلوچستان میرے سب سے اچھے تعلقات نواب اکبربگٹی کے ساتھ رہے ، میں نے بیسیوں مرتبہ ان کے گھر کھانا کھایا جب انہوں نے سو کالڈ بغاوت کی تو میں آخری آدمی تھا جو ان کے پاس گیا اور منع کیا لیکن وہ اس میں بہت آگے نکل چکے تھے میں نے پوری زندگی یہ کوشش کی کہ ان دوستوں کو قریب لاﺅں ان کے تحفظات دور کروں ہمیں یہ جاننا چاہیئے کہ یہ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں اور کیوں الگ ہوتے ہیںلیکن میں اس کے ساتھ ساتھ تاریخ کو نہیں جھٹلا سکتا۔ غفار خان کے ساتھ ہم نے کیا زیادتی کی نواب آف قلات کے بیٹے سلیمان داﺅد کو کیا کہا، برامداغ بگٹی جو بھارت میں بیٹھے ہیں ان کو کےا کہا تھا۔ یہ فلاسفی ہے کہ اب پاکستان میں آہستہ آہستہ قائد اعظم کے فرمودات اورعلامہ اقبال کی تھیوری کے مطابق چلا جا رہا ہے مسلمان ایک قوم ہے اور دوسری ہندو قوم ہے لاہور میں ایک منعقدہ تقریب میں سٹیج پر بحث چھڑ گئی جس میں کہا گیا کہ ہر پاکستانی آدھا بھارتی ہے اور بھارتی آدھا پاکستانی ہے دونوں طرف ایک جیسے لوگ رہتے ہیں ایک جیسا کھانا ہے لباس ہے بس درمیان میں ایک سرحد ہے اس متعلق ہمارے اخبار میں ایڈیٹیوریل چھپا دوسرے اخبارات میں بھی ایڈیٹیوریل اور کالم چھپے ہیں،ایک دوست ہیں جن کا بڑا مقام ہے ان کو کہا کہ آپ قائد اعظم کی جماعت مسلم لیگ کے آج سربراہ ہیں مہربانی کرکے ہندو کو دوست بنانے کیلئے اس حد تک نہ چلے جائیں کہ آپ یہ کہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صرف ایک سرحد ہے میں نے خود ایک کالم لکھا اور ایڈیٹوریل لکھوایا کہ یہ صرف سرحد نہیں ہے بلکہ یہ دو تہذیبوں کاباڈر ہے ۔ مےری پوری کتاب کا تھےسز یہی ہے مےں نے کسی کو غدار نہےں کہا ۔کےا مےں نے بگٹی کو کہا تھا کہ پہاڑوں پر چڑ ھ جائےں اور اسلحہ ہاتھ مےںا ٹھالےں کےامےں نے الطاف حسےن کو یہ مشورہ دےا کہ آپ را اور اسرائےل کی مدد سے پاکستان کو توڑ نے کی بات کریںیہ درست ہے کہ لوگوں کی زبان تہذےب اور ان کے حقوق کا تحفظ دےا جانا چاہےے ۔ آپ سب لوگوں کی تجاویز اور مشوروں کا خیر مقدم کرتا ہوں ضیا شاہد نے تمام شرکاءکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی یہ ثابت کردے کہ میں نے اپنی کتاب میں کسی کے نام کے ساتھ غدار لکھا ہے اور یہ ثابت ہو جائے تو میں معافی مانگنے کیلئے تیار ہوں اور اخبار میں بھی معافی کا اشتہار شائع کروں گاپاکستا ن کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف آخری سانس تک لڑتا رہوں گا جس پر شرکاءنے زور دار تالیاں بجائیں۔
ضیاشاہد

کراچی کے سینٹرل جیل سے قیدیوں کی اصل حقیقت سامنے آگئی

کراچی(آن لائن )کراچی سینٹرل جیل کراچی سے قیدیوں کے فرار کے واقعہ پر انتظامیہ کی کہانی جھوٹی نکلی۔ سینٹرل جیل کے ایک اہلکار نے واقعہ کے حقائق سے پردہ اٹھا دیا۔ نہ قیدیوں نے سلاخیں کاٹیں نہ دیواریں پھلانگی۔ سینٹرل جیل کے ایک اہلکار نے واقعہ کے حقائق سے پردہ اٹھا دیا۔ قیدی سینٹرل جیل کے گیٹ سے پہلے بنائے گئے ماڑی کے واحد خارجی راستے سے باآسانی بغیر کسی رکاوٹ کے فرار ہوئے۔ انتظامیہ نے سلاخیں خود کاٹیں تاکہ مجرمانہ اقدام کو فرار کا رنگ دیا جاسکے۔ خطرناک دہشت گردوں کے فرار کے بعد جیل انتظامیہ کی کارکردگی پر جہاں سوال اٹھ رہے ہیں وہی سندھ حکومت بھی جیل انتظامیہ کا موقف ماننے کو تیار نہیں۔ سینٹرل جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی اب تک کوئی خاص نام بھی سامنے نہیں آسکا ہے۔

”پنجاب پولیس مقابلے میں مارنا چاہتی تھی “ممبر قومی اسمبلی کا انکشاف

ملتان،مظفر گڑھ(بیورو رپورٹ) رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے کہا ہے کہ پنجاب پولیس مجھے جعلی مقابلے میں مارنا چاہتی تھی، عدالت نے مجھے حکومتی بربریت سے بچا لیا رہائی کے بعد عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی اپنے آبائی علاقے مظفر گڑھ پہنچ گئے جہاں پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ جمشید دستی نے میڈیا سے گفتگو کی اور ایک بار پھر الزام دہراتے ہوئے کہا کہ جیل میں مجھ پر سانپ اور چوہے چھوڑے گئے اور میرا جرم صرف جرم اتنا تھا کہ نواز شریف کے سامنے گو نواز گو کے نعرے لگانا تھا۔نواز شریف کو ہتھکڑی لگے گی اور پورا خاندان جیل میں جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پنجاب پولیس مجھے جعلی مقابلے میں مارنا چاہتی تھی لیکن عدالت نے مجھے حکومت کی بربریت سے بچایاہے۔ اس موقع پر جمشید دستی نے آئندہ عام انتخابات کے بعد شادی کرنے کا اعلان بھی کیا ۔دریں اثناءرکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی سے ملک کی تقدیر بدلنے والی ہے ¾ عوام ملک کو لوٹنے والوں کا احتساب کرے گی۔رہائی کے بعد ملتان اور مظفر گڑھ میں میڈیا سے بات کرنے پر جمشید دستی نے کہاکہ جے آئی ٹی سے ملک کی تقدیر بدلنے والی ہے، نواز شریف اور شہباز شریف نے ملک کو 4 بجٹ دے کر لوٹا اب پانچواں بجٹ بھی عوام دشمن ہے۔ اب ان کا وقت آچکا ہے جو اربوں ڈالر چھپائے ہوئے ہیں وہ سب سامنے لائیں گے اور عوام ملک کو لوٹنے والوں کا احتساب کرے گی۔جمشید دستی نے کہاکہ میرا قصور یہ تھا کہ میں نے 26 مئی کو ملک دشمن بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دی تھیں، تخت لاہورکے خلاف اور سرائیکی صوبے کی آواز اٹھائی اس لئے جیل جانا پڑا تاہم کرپٹ حکمرانوں کے سامنے نہیں جھکوں گا اور الگ صوبے کی تحریک چلاو¿ں گا۔انہوں نے کہاکہ رانا ثناءاللہ سمیت پولیس افسران کے خلاف انشااللہ عدلیہ ضرور کاروائی کرےگی جبکہ عدلیہ نے مکمل انصاف کیا جس پر ان کا شکرگزارہوں،عمران خان سمیت وکلا، سرائیکی وسیب اور شی میل ایسوسی ایشن کا بھرپورشکریہ ادا کرتاہوں۔جمشید دستی نے کہا کہ میں نے والدہ کی نافرمانی کی جس کی وجہ سے جیل گیا ۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ آئندہ الیکشن کے فوری بعد شادی کروں گا، ادا کارہ میرا میرے معیارکی نہیں لہذا اچھے خاندان میں شادی کروں گا ¾ شادی پر بھی نواز شریف اور شہباز شریف کو دعوت نہیں دوں گا۔

321مجرموں بارے خاص خبر ،اہم فیصلہ ہو گیا

کراچی (این این آئی)کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں ٹارگٹ کلنگ بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم کرکے بیرون ملک فرار ہونیوالے321 مجرموں کی گرفتاری کیلئے حکومت پاکستان نے انٹرپول سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق جنوبی افریقہ انگلینڈ کینیا دبئی ایران افغانستان کوریا اور ملائیشیا میں بیٹھ کر پاکستان کے اندر ٹارگٹ کلنگ کرانے اور بھتہ لینے والے حکومت پاکستان اور اداروں کو مطلوب321 جرائم پیشہ افراد کو انٹر پول ارو دیگر ذرائع سے گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔ اس حوالے سے وزارت داخلہ سے لے کر دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ٹاسک دیدیا گیا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق حساس اداروں کو تیار کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ انگلینڈ دبئی ایران افغانستان کوریا اورملائیشیا میں ایسے321 افراد مفرورہیں جو ٹارگٹ کلنگ ارو بھتہ لینے کے الزامات میں مختلف اداروںکو مطلوب ہیں۔ ان افراد میں سے172کا تعلق3 مختلف سیاسی جماعتوں اور کالعدم تنظیموں سے ہے جبکہ دیگر مختلف جرائم پیشہ گرہوں سے ہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ افراد ان ممالک میں بیٹھ کر پاکستان کے اندر جرائم پیشہ سرگرمیوں میںملوث ہیں اور مختلف گروہوں کو سپورٹ کررہے ہیں۔ ان افراد میں سب سے زیادہ تعداد صوبہ سندھ اور کراچی سے تعلق رکھنے والوں کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سنی تحریک لیاری گینگ وار اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ کراچی سے نوید لمبا گروپ چانڈیو گروپ بڑا بھائی گروپ سندھ کے سجال عرف سجنا گروپ کا تعلق بھی ان افراد سے ہی ہے۔ اسی طرح بلوچستان اور کے پی کے سے بھاگے ہوئے لوگ بھی اس لسٹ میں شامل ہیں۔ اور ان میں سے زیادہ دبئی کینیا اور جنوبی افریقہ میں رہ رہے ہیں جہاں سے ہی فون کرکے باقاعدہ پاکستان میں منتھلیاں اکٹھی کرتے ہیں اور پیسے نہ ملنے پر اپنے ساتھیوں کے زریعے فائرنگ کراکر ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ دبئی کے اندر تو27ایسے نامور گروہ موجود ہیں جو کہ پاکستان میں مطلوب ہیںوہاں مختلف کلبوں سے جگا ٹیکس وصول کرکے جوئے کے اڈے بنا رکھے ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق ان گروہوں کے پاکستان میں کن کن سے تعلقات ہیں او ریہ پاکستان کے اندر کن کے ذریعے بھتہ وصول کررہے ہیں اور ان کی فیملیز کے ساتھ کس طرح رابطے ہیں۔ اس حوالے سے بھی مکمل معلومات حاصل کرلی گئی ہیں۔ ان میں سے اکثر دو نمبر پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنورکھے ہیں جلد بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کا عمل تیز ہوجائیگا۔

دو قومی نظریہ ہماری بنیاد،صوبائیت ور فرقہ واریت عالمی سازش،ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا ضیا شاہد کی کتاب رونمائی کی تقریب میں مقررین کی خصوصی گفتگو

اسلام آباد (ملک منظور احمد، نعےم جدون، محبوب صابر، مظہر شےخ/ عکاسی : فتح علی) وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفا ن صدےقی نے کہا کہ اب پاکستانی قوم کسی بہکاوے میں نہیں آئے گی رائے عامہ کوگمراہ نہیں کیا جا سکتاوقت آ گیا ہے کہ جو لوگ اپنا قبلہ درست کر چکے ہیں اور آئین کی چھتری تلے آ چکے ہیں ان کو معاف کر دینا چاہئے آج محرومی اور حقوق کے نعرے کم ہو گئے ہیں اور کرپشن ور گڈ گورنس کے نعرے آ گئے ہیںآج قوموں کو تباہ کرنے کیلئے ان کے اعضاءکاٹے جا رہے ہیں ضیاءشاہد کی کتاب پاکستان کے خلاف سازش ان کی شدید حب الوطنی کا ردعمل ہے پاکستان کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ضیاءشاہد جیسے لوگ موجود ہیں پاکستان انشاءاللہ توانائی اور ترقی کی منازل طے کرتا رہے گا پاکستانیت کے قلعہ کو کبھی خراش نہیں آئے گی ہم ایک مضبوط قوم ہیں اندرونی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ کرنا پاکستانی قوم جانتی ہے پاکستان کی خود مختاری سلامتی اور دفاع ناقابل تسخیر ہے ۔ ان خیالات ا اظہار انہوں نے چیف ایڈیٹر خبریں اور صدر سی پی این ای ضیاءشاہد کی نئی تصنیف ”پاکستان کے خلاف سازش “ کی تقریب رونمائی سے اپنے صدارتی خطاب میں کیا،تقریب رونمائی میں بطور مہمانان خصوصی سابق چیئر مین سینٹ وسیم سجاد اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پر ویز رشید نے شرکت کی وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ عرفا ن صدےقی نے کہا کہ تقرےب مےں شرےک ہوکر بڑی خوشی ہوئی اس تقرےب مےں سب اہل علم ،اہل قلم،اہل فکر اور بولنے والے لوگ ہےں انہوں نے بڑے کھلے دل کے ساتھ گفتگو کی ہے اور اےک رواےت ہوتی ہے صاحب تصنےف کی تعرےف ےا تنقےد کرنی ہے تو اس کے لئے اچھے سے اچھے الفاظ ےا جملے استعمال کرنے ہےں لےکن آج کی اس محفل مےں اےسا نہےں دےکھا بلکہ اےک نئے پاکستان کا احساس ہواکہ کس طرح آزادی اوربے لحاضی کے ساتھ ہم گفتگو کر سکتے ہےں ۔اس مےں کوئی شک نہےں کہ مجھے اہل نظر کے اس نقطہ سے اتفاق ہے کہ ماضی کی ان چےزوں کو جو زےادہ دل خوش کن نہےں ہےں جو زےادہ روح کو تسکےن دےنے والی نہےں ہےں جو آج کے دور کے ہنگاموں اور کشمکش مےں اچھی نےند دلانے والی بھی نہےں ہےں ان چےزوں کو جتنا دور رکھا جائے اتنا اچھا ہوتا ہے ۔ کلیہ اور اصول کی حد تک یہ بات بہت اچھی ہے لےکن دوسرا پہلو بھی ہے جےسے ابھی ضےاءشاہد نے گفتگو سے پہلے ہی کہہ دےا کہ سرکار کے لوگ دونوں طرف کے لوگوں کو خوش رکھنے کا طرےقہ جانتے ہےں تو اسی چیز کی شہادت دےتے ہوئے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمےں یہ ضرور پتہ ہونا چاہےے کہ ہماری تارےخ کےا ہے اور ہماری تارےخ کے مختلف چہرے کس وقت کہاں کھڑے ہےںتو اس لحاظ سے بھی بے خبری نہےں ہونی چاہےے آگاہی ضرور ہونی چاہےے اور اس آگاہی کے ناطے سے ہمےں اپنے مستقبل کے راستے تلاش کرنے اور تراشنے چاہےے ۔ تاکہ ہم ان کوتاہےوں سے بچ سکےں جو ماضی مےں ہم سے ہوئےں اور جنہوں نے پاکستان کو دو لخت کےا پاکستان کو کمزور کےا ناتواں کےا ، پاکستان کو جمہورےت اور عوام کو حکمرانی سے محروم کےا ۔ ہم نے سندھ کے جے اےم سےد ، خےبر پختونخوا کے باچا خان کے بارے مےں بات کی لےکن اللہ کا فضل و کرم ہے کہ سندھ اور خےبر پختونخوا پاکستان کا خوبصورت حصہ ہےں ۔ یہ درست ہے کہ ضیاءشاہد کی کتاب سے ہمےں اندازہ ہوتا ہے اور انہوں نے بڑی اچھی بات کی کہ جو اس طرح کے بڑے بڑے واقعات اور بڑی بڑی تحرےکےں شروع ہوتی ہےں وہ حقوق اور محرومی کے بڑے خوبصورت نعروں سے شروع ہوتی ہےںاور چلتے چلتے اپنا سفر طے کرتے ہوئے اور جذبات کو بڑ ھاتے ہوئے عوام کی سوچوں کو نئے سانچے میں ڈھالتے ہوئے ایسے راستے پر چل نکلتی ہیں جو کسی کے قابو میں نہیں رہتیں اور ملک کو دولخت کر دیتی ہیں یا پھر ان کو ناتواں کر دیتی ہیں،پھر انہی حوالوں سے ضیاءشاہد صاحب نے بتایا کہ کس طرح علیحدگی کی تحریکیں پھوٹتی ہیں پاکستانی قوم کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیئے کہ وہ اب کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے، اب رائے عامہ کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا انہوں نے کہا کہ میں نے کچھ روز پہلے اپنے پی آر او کے ذریعے 2013ءکے انتخابات کے نتائج کا ریکارڈ نکلوایا تو اس میں معلوم ہوا کہ پاکستان کے عوام نے 70فیصد ووٹ صرف ایسی تین سیاسی پارٹیوں کو دیئے جو وفاق کی بات کرتی تھیں، انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ جو لوگ اپنا قبلہ درست کر چکے ہیں اور آئین کی چھتری تلے آ چکے ہیںان کو معاف کر دینا چاہیئے، قائد اعظم کا معروف قول ہے کہ رائے عامہ کو بڑھکایا نہیں جا سکتا،آج محرومی اور حقوق کے نعرے کم ہو گئے ہیں اور کرپشن اور گڈ گورنس کے نعرے آ گئے ہیں،آج قوموں کو تباہ کرنے کیلئے ان کے اعضاءکاٹے جا رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ میں ضیا ءشاہد کو ایک اور حوالے سے دیکھتا ہوں کہ ان کی تما م عمر صحافتی خدمات سے بھری پڑی ہے اور ان کی یہ کتاب ان کی شدید حب الوطنی کا ردعمل ہے، آپ ضیا ءشاہد کی آنکھ دماغ اور تجربے سے دیکھیں یہ کتاب پاکستان کی سلامتی محبت اور خیر خواہی میں لکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ضیاءشاہد کی کتاب میں جن شخصیات کو ملک دشمن اور غدار کہا گیا ہے ان کے بارے میں ضیاءشاہد کے خیالات ان کی شدید حب الوطنی کی عکاسی کرتے ہیں کیونکہ ہمیں ان احساسات کو ضیاءشاہد کی آنکھ سے دیکھنا چاہیئے اور ضیاءشاہد کے دل کی دھڑکنوں کے حوالے سے پہچاننے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ یہ تحریر کسی کی بد خواہی کے حوالے سے نہیں لکھی گئی بلکہ اس میں ہماری ملک کی خیر خواہی موجود ہے اور جب تک ضیاءشاہد جیسے لوگ اس معاشرے اور میڈیا میں موجود ہیں۔ انشاءاللہ پاکستان کے خلاف سازش کرنے والوں کو شکست ہو گی اور پاکستان ترقی کر تا رہے گا۔وزیر اعظم کے مشیر عرفان صدیقی نے کہا کہ دو قومی نظریہ جو ہماری بنیاد اور بقا ہے اگر ہم اس کو بھلا دیں گے تو ہمارے اندر تفریق پیدا ہو جائے گی، جو کبھی زبان کے نام پے، قبیلے کے نام پے، کبھی جغرافیعہ کے نام پے اور کبھی کسی نام پے ۔ ضیاءشاہد نے اپنی کتاب کے دیباچے میں بھی لکھا ہے اور میں بھی یہی کہتا ہوں کہ علاقائی زبانوں کا تحفظ اور ان کو فروغ ملنا چاہیئے، یہ ہماری تہذیب اور ثقافت کے پھول ہیں، اسی لئے میں نے وزیر اعظم سے کہا کہ ہم اکادمی ادبیات پاکستان کو اسلام آباد ، لاہور اور کراچی تک محدود نہ رکھیں ، ہم نے ملتان دادو میں دفاتر کھول دیئے ہیں ، ہم نے فاٹا ، کوئٹہ، مظفر آباد اور گلگت کے اندر نئے دفاتر کھولنے کی منظوری لے لی ہے ،ہم ہر جگہ دو قومی نظریہ اور پاکستانیت کا پیغام لے کر جائیں گے،ہم ایک مضبوط قوم ہیں، اس کا ندازہ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان نے جب کرکٹ کا میچ جیتا تو کراچی سے خیبر تک ہر گھرسے پاکستان زندہ باد کے فلگ شگاف نعرے بلند ہوئے ،اس پاکستان کے قلعہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ضروری ہے کہ ہم پاکستان کی تاریخ کو یاد رکھیں اور ان چہروں سے بھی واقف رہیں جو بھٹک رہے تھے اور وہ چہرے بھی جو روشن تھے جنہوں نے اپنے وجود سے اس ملک کو نئے رخ پر ڈالا،مجھے سو فیصد یقین ہے کہ جوکوئی بھی کچھ کرلے جب تک ضیاءشاہد جیسے لوگ موجود ہیں پاکستان انشاءاللہ توانائی اور ترقی کی منازل طے کرتا رہے گا ، انتشار اور عدم استحکام کی قوتوں کو شکست ہو گی اور ہم اپنی منزل کی جانب بڑھتے چلے جائیں گے اس پاکستان کی طرف جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور شہداءنے قربانیاں دی ہیں۔سابق چیئر مین سینٹ وسیم سجادنے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضیاءشاہد نے بہت تخلیقی انداز میں پاکستان کے حالات کا تجزیہ کیا ہے قیام پاکستان سے ہی پاکستان کے خلاف سازشیں شروع ہو گئی تھیں پنڈت جوہرلال نہرو پہلے دن سے ہی پاکستان کے خلاف تھا وہ اس سوچ کا حامی تھا کہ پاکستان چند ماہ میں ختم ہو جائے گاانگریز تقسیم ہند کے خلاف تھے کیونکہ پاکستان کے حصے میں جو وسائل آئے تھے وہ اتنے نہیں تھے کہ ملک چل سکے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان آج بھی قائم و دائم ہے آج بھی ہندو ستان یہ سوچ موجود ہے کہ بالآخرپاکستان اور ہندستا ن اکٹھے ہو جائیں گے قیام پاکستان کے وقت گریٹر پختونستان کی سوچ موجود تھی جو وقت کے ساتھ ساتھ کمزور ہو گئی،پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے جو دیمک کی طرح ملک کو چاٹ رہی ہے، دہشت گردی سے ملکی معیشت اور وقار کو بہت نقصان پہنچایا ہے دوسرا مسئلہ فرقہ واریت ہے بھارتی ایجنٹ کلبھوشن بھی پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت پھیلانے کا کام کر رہا تھا ضیاءشاہد کی کتاب مناسبوقت پر آئی ہے کچھ اس سے اتفاق اور کچھ اختلاف کریں گے لیکن اس کتاب سے اس بات کا اعادہ ہوتا ہے کہ ملک کے استحکام کیلئے کیا اقدامات کرنے چاہیں۔سابق وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹرپرویز رشید نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضیاءشاہد کی کتاب قابل ستائش ہے جب ملک میں آئین نہیں تھا وہ حقوق و فرائض اور ان کے دائرہ کار کسی کتاب میں دستیاب نہ تھے اگر کوئی شخص 1973ءکے آئین کے مطابق اپنے حقوق مانگتا ہے تووہ سازشی نہیں ہیں جی ایم سید نے اپنے حقوق کیلئے قلم اٹھایاانہوں نے مملکت پاکستان کے خلاف بندوق نہیں اٹھائی انہوں نے جی ایچ کیو پر حملہ نہیں کیا غفار خان نے ولی خان نے اسفند یار نے پاکستان کے خلاف بندوق نہیں اٹھائی جنہوں نے بندوق اٹھائی اس کا سب سے زیادہ نشانہ خیبر پختون خواہ بنا، گر کوئی شخص آئین قانون اور علاقائی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ غلط نہیں ہے اگر ہم انہیں 73ءکے آئین کے مطابق حقوق نہیں دے سکے تو ہمیں اپنی غلطی کو تسلیم کرنا ہے پاکستان میں دفاع کیلئے عسکری طاقت بنانا درست ہے جب کہ پاکستان کے استحکام کے خلاف اور تنصیبات کو نقصان پہنچانے کیلئے جنہوں نے اسلحہ اٹھایا ہے وہ ملک دشمن اور غدار ہیںاور ان عسکری تنظیموں کو ختم کرنا ہو گا ۔مسلم لیگ (ن) کے راہنماءاور ممتاز دفاعی تجزیہ نگار سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم خان نے کہا کہ میں ضیاءشاہد کا ممنون ہوں کہ انہوں نے اس تقریب کیلئے مجھے فون کرکے خود مدعو کیا انہوں نے کہا کہ اس وقت جب ملک کو اندرونی اور بیرونی سازشوں کا سامنا ہے اس وقت یہ موضوع بہت اہم ہے اس کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ پر ہے اس وقت دو چیزیں اہم ہیں ایک کہ ہم اپنی سرزمین کا ایک ایک چپہ بھی کسی کو نہیں دیں گے دوسرے قومی یک جہتی کی ضرورت ہے حکمرانوں کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا بنگلہ دیش بن گیا ہمیں ہمیشہ آستینوں کے سانپوں نے ڈسا ہے ضیاءشاہد کے 58کالم میں اس کی مثالیںہیں ہمیں صوبائیت لسانیت کو توڑ کر آگے بڑھنا ہے صوبوں میں باﺅنڈریاں صرف انتظامی امور کیلئے ہوتی ہیں ویسے پورا علاقہ ایک قوم کا ہے پاکستان میں99فیصد لوگ محب وطن ہیں جن کی وجہ سے سازشوں کے باجود اس ملک کو کبھی خطرہ نہیں ہو سکتا پاکستان کا دفاع نا قابل تسخیر ہے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت وطن عزیز کے خلاف ہر سازش کو نیست و نابود کر دے گی۔سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی وزیر جو گیزئی نے کہا کہ ضیاءشاہد کی کتاب ایک اچھی اور بہترین کتاب ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک کس طرح بچایا جائے عوام کی بات کی جائے اور منفی باتیں کرنے والوں کو روکا جائے اور ان کی نشاندہی بہت ضروری ہے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ جمہوریت پر چلیں گے تو تما م مسائل حل اور کام ہوں گے انہوں نے کہا کہ اس ملک کو بنانے والوں نے قربانیاں دی ہیں ان کو بھی یاد رکھنا ہو گا، سازشیں کرنے والے کون تھے تقسیم کرنے والے کون تھے اور غدار تو وہ ہیں جنہوں نے پاکستان کے نظام کو خراب کیا ہے ۔چیف ایڈیٹر روز نامہ اوصاف اور اے پی این ایس کے نائب صدر مہتاب خان نے کہا کہ ضیا ءشاہد نے یہ کتاب لکھ کر بہت اچھا کیا ہے اس کتاب کے ٹائٹل پر جو چھ تصاویر شائع کی گئی ہیں ان مےں خےبر پختونخوا اور بلوچستان کے گاندھی اور الطاف حسےن کے متعلق لکھا گیا ہے لیکن اس میں پنجاب کو چھوڑ دیا گیا ہے کےا یہاں گاندھی موجود نہےں ہیں۔ کےا پنجاب مےں سازشےں نہےں ہوئی ہےں ۔ 1997ءمیں ایمل کانسی کو امریکہ کے حوالے کیا گیا تو وہاں کے ایک اہلکار نے پاکستان کے خلاف نا زیبا الفاظ استعمال کئے جس پر پوری قوم شرمندہ ہوئی اور ہم بہت جذباتی ہوگئے۔ آپ کو ےاد ہوگا کہ گورنر ہاﺅس پنجاب کی اےک تقرےب مےں آپ بھی موجود تھے گورنر خالد مقبول ، مجےد نظامی اور بہت سارے لوگ موجود تھے جن کے مےں نام لےنا نہےں چاہتا وہاں پر خالد مقبول نے برےفنگ دی تھی وہاں پر مجےد نظامی نے یہ کہا تھا کہ جناب آپ نے ہمےںسنانے کےلئے بلاےا ہے کہ پاکستان کی بقاءمشکل ہے وہاں پر موجود نجم سےٹھی نے کہا تھا کہ یہ ملک 2008 مےں ٹوٹ جائے گا جس پر خالد مقبول نے کہا کہ یہ 2012مےں ٹوٹے گا ۔ضےاءشاہد صاحب آپ بھی وہاں موجود تھے آپ نے اس کو نظر انداز کےوں کےا اس وقت ملک کو ےک جہتی اور جوڑنے کی ضرورت ہے رےمنڈ ڈےوس کی کتاب مارکےٹ مےں آچکی ہے اس کا کےا مقصد ہے اس کے عزائم ملک مےں انتشار پھےلا کر لوگوں کو اےک دوسرے کا دشمن بنانا ہے ۔ ضےاءشاہد ہمارے استاد ہےں اس وقت ملک کو ےک جہتی کی ضرورت ہے ، امید ہے کہ ضیاءشاہد اپنی کتا ب کے آئندہ کے ایڈیشن میں پنجاب کے گاندھیوں کو نظر انداز نہیں کریں گے ان کے متعلق بھی لکھیں گے۔سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ ضیاءشاہد کی پاکستان کے خلاف سازش کی کتاب میں دشمن چہروں کو بے نقاب کیا گیا ہے ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں مزید دشمن چہرے بے نقاب ہوں گے انہوں نے کہا کہ نجم سیٹھی نے 1968میں مسلح جد و جہد میں حصہ لیا1971میں 15مارچ کو ملک غلام جیلانی نے اندرا گاندھی کو باقاعدہ پاکستان پر حملے کی ترغیب دی تھی اور بعد ازاں حملہ نہ ہونے کی صورت میں اندرا گاندھی کو چوڑیاں بھیجی تھیں انہوں نے کہا کہ یحیٰ خان نے ملک غلام جیلانی کو گرفتار کرا دیا جس کو بھٹو دور تک رہا نہیں کیا گیا تاہم عاصمہ جیلانی کی جانب سے اپیل کرنے پر رہا کر دیا گیا، ہمیں امید ہے کہ محترم ضیاءشاہد اپنی آئندہ کتاب میں ایسے واقعات کا ذکر بھی کریں گے جس میں پنجاب میں ہونے والی سازشوں میں ملوث چہرے سامنے آئیں گے۔پاکستان کلچرل فورم کے صدر ظفر بختاروی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس تقریب کے میز بان کی حیثیت سے تمام شخصیات کا شکریہ ادا کرنا ہے انہوں نے کہا کہ ضیاءشاہد کی کتاب کا مقصدسازشوں کو بے نقاب کرنا ہے اس کتاب کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہمیں شخصیات سے زیادہ ملکی سالمیت ور بقاءکیلئے مل جل کر کام کرنا ہے ہمیں علامہ اقبال کے دو قومی نظریے کو آگے بڑھانا ہے اسی دو قومی نظریے میں پاکستان کا قیام اور بقاءموجود ہے آج رنگ نسل زبان اور فرقہ واریت سب عالمی سازشوں کا حصہ ہے کتاب میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے گرد عالمی سازشیں گہری ہوتی جا رہی ہیں نسل اور زبان کی بنیاد پر سیاست ہو رہی ہے اور یہی لوگ عوام کا ووٹ لے کر اسمبلیوں میں بھی پہنچ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو عدم معاشی استحکام کا سامنا ہے جب بھی ملک میں معاشی استحکام آئے گا تو اس کے خلاف ہونے والی سازشیں ختم ہو جائیں گی۔ممتاز دفاعی تجزیہ نگار اور آ ئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل(ر) حمید گل مرحوم کے صاحبزادے عبداللہ حمید گل نے کہا کہ ضیاءشاہد کی کتاب علم و ادب اور تاریخ پاکستان میں زبردست اضافہ ہے غداروں کو غدار بولنا چا ہیے اگر غدار کو غدار اور وفادار کو وفادار نہیں کہا جائے گا تو صحیح اور غلط کی تفریق ختم ہو جائے گی کتاب میں سازشوں کو بے نقاب کیا گیا ہے تاہم ہمارے گزرش ہے کہ آئندہ اس میں اضافی توجہ دی جائے اور اس ملک میں سازش کرنے والے مزید چہروں کو بے نقاب ہونا چا ہیئے انہوں نے کہا کہ کتاب میں جو پاکستان کا نقشہ دیا گیا ہے اس میں کشمیر کو شامل نہیں کیا گیا جو پاکستان کا حصہ ہے ، نریندر مودی نے جو بیان دیا اس کو عالمی عدالت میں کون لے کر جائے گا ہمیں بلیک واٹر کو بھی نہیں بھولنا چاہیئے جنہوں نے بہت سازشیں کیں اب وہ ماڈرن ذرائع استعمال کر رہے ہیں انہوں نے جو نقشہ بنایا ہے اس میں بلوچستان کو الگ ریاست دکھایا گیا ہے عراق کی تباہی میں بلیک واٹر کا ہاتھ ہے جنہوں نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ممتاز سکالر ڈاکٹرغضنفر مہدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضیاءشاہد کی کتاب میں بہت کچھ سامنے لایا گیا ہے لیکن جنوبی پنجاب کے متعلق بھی لکھناچاہیئے تھا جہاں پر بہت مسائل ہیںیہاں ہر شخص چاہے وہ اقتدار میں ہے یا اپوزیشن میں ہے ایک دوسرے کو برا کہہ رہے ہیں ہم دنیا کو کیا پیغام پہنچا رہے ہیںسرائیکی صوبے کے متعلق بھی کچھ ہو نا چاہیئے انہوں نے کہا کہ ضیاءشاہد نے کتاب لکھ کر اچھا کیا ہے یا برا ، بات یہ ہے کہ انہوں نے کچھ تو کیا ہے حکومت اور اپوزیشن کو ملکی مفاد کیلئے مل کر بیٹھنا پڑے گا پانامہ کے فیصلے سے لڑائی جھگڑا ہی ہو گا اور ہم اپنے دوچار سال اورضائع کر دیں گے ہمیں منافقت چھوڑ کر ملک کے مفاد کیلئے بات کرنا چاہیئے۔ممتاز شاعر اور ادیب اور ایم ڈی نیشنل بک فاﺅنڈیشن ڈاکٹرانعام الحق جاوید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضیاءشاہد کی یہ کتاب بہت اہم ہے بڑی تحقیق کے بعد تما م حقائق بیان کئے ہیں انہوں نے متوان رویہ اختیار کیا ہے خاص طور پر کالا باغ ڈیم نہ بننے کے حوالے سے مفصل معلومات دی ہیں سچ کو سچ کہنے کیلئے بہت محنت کے بعد حقائق ہم تک پہنچائے ہیں یہ کتاب فکر انگیز ہے آنکھوں کو کھول دینے والی اور رویے کو بلند کرنے والی ہیں۔آئی ایس آئی کے سابق آفیسرمیجر (ر)عامر نے کہا کہ میرا محترم ضیا ءشاہد صاحب سے گہرا اور پرانا رشتہ ہے انہوں نے جو یہ کتاب لکھی ہے وہ تمام شبہات سے بالاتر ہے یہ تاریخی کتاب ہے تاہم ضیاءشاہد صاحب سے بطور پرانی دوستی اور احترام سے گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کے بعد اگلی کتاب بھی لکھیں جس میں مزید سازشوں کا بھی ذکر کریں ماضی میں میں بہت سی آزمائشوں سے گزرا ہوں جس کے ضیاءشاہد سمیت یہاں پر بیٹھے دیگراہل علم و ادب اور دانش ور شخصیات ہیں انہوں نے کہا کہ غدارو ں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے انشاءاللہ تعالیٰ وہ اپنی موت خود ہی مریں گے اور پاکستان ہمیشہ قائم و دائم رہے گا ۔ممتاز ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ میں بہت مشکور ہوں کہ محترم ضیاءشاہد نے مجھے عزت بخشی اور مدعو کیا میں نے ضیاءشاہد کے تمام کالم پڑھے ہیں میں نے ہی ان کو مشورہ دیا تھا کہ ان تمام کالموں کو کتابی شکل دیں تاہم اس کتاب میں لوگوں کو اختلافات بھی ہوں گے لیکن میں حقیقت میں کہتا ہوں کہ میں نے ان کے کالم پڑھ کر بے شمار باتیں سیکھی ہیں جب میں پہلی مرتبہ عراق گیا تو وہاں مجھ سے پو چھا گیا کہ تم شعیہ ہو یا سنی میں کہا کہ دونوں میں سے کوئی بھی نہیں ہوں انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم نماز پڑھ لو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ شعیہ ہو یا سنی، انہوں نے کہا کہ عراق کی یہ حالت ہے کہ صدام حسین کو تکریتی کہا جا تا ہے اور اس کو مرنے کے بعد تکریت میں ہی دفن کیا گیاتعصب کی وجہ سے عراق کا حال بہت برا ہو گیا ہے انہوں نے کہا کہ مجھے ضیاءشاہد کی کتاب پر بے حد فخر ہے کہ انہوں نے یہ کتاب لکھی ہے اور یہ کتاب ضیاءشاہد کی زندگی کے تجرنے پر مبنی ہے ۔سینئر صحافی حنیف خالد نے کہا کہ ہمیں من حیث القوم اس وطن کے بارے میں سوچنا چاہیئے ہمیں ضیاءشاہد کی بات کو آگے بڑھانا چاہیئے پاکستان کے خلاف سازش کتاب میں پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ہونے والی مزید سازشوں کو بھی بے نقاب ہو نا چاہیئے کیونکہ پاکستان میں جب بھی ترقی آنے لگتی ہے خواہ وہ پاکستان کا ساتواں ایٹمی طاقت بننا ہو یا سی پیک ، پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں سر اٹھانے لگ جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ سی پیک پاکستان کی ترقی بلکہ نسلوں کی ترقی کا ضامن بنتا جا رہا ہےاس وقت پاکستان کو تجارتی اور معاشی طور پر تباہ کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں ہمیں اس سازش کو بے نقاب کرنا ہے کہ جب بھی ترقی کے ثمرات سامنے آنے لگتے ہیں تو کوئی خفیہ ہاتھ اس ترقی کا گلا گھوٹنے کو آ جا تا ہے مزید سازشوں کے ساتھ ساتھ س خفیہ ہاتھ کی سازش کوبھی منظر عام پر آنا چاہیے۔ آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے تا حیات سیکرٹری جنرل ٹکا خان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ چیف ایڈیٹر خبریں ضیاءشاہد نے ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کرکے حب الوطنی کا مظاہرہ کیا ہے پاکستان کو ندرونی اور بیرونی سازشوں کا ہر دور میں سامنا رہا ہے میرا ضیاءشاہد سے 40سالہ پرانا تعلق ہے جنہوں نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستا نیت کی بات کی ہے ضیا شاہد کو میں اپنا استاد مانتا ہوں یہ واحد ملک کے ایسے صحافی ہیں جنہوں نے پاکستان میں جدید صحافتی رجحانات کومتعارف کرایا ہے ضیاءشاہد کی کتاب تاریخی طور پر ٹھیک ہے تاریخ مورخ نے ہی لکھنی ہوتی ہے اور اس کو کبھی مسخ نہیں کیا جا سکتا سچی تاریخ لکھنے والے کی کچھ چیزیں پسند کی جاتی ہیں اور کچھ نا پسند کی جا تی ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں غداری کا عنصر کیوں پیدا ہو رہا ہے غدار کیوں اس راستے پر چل نکلے ہیں اس کی وجہ ہماری محرومیاں تقسیم کاریاں اور ایک دوسرے کی بات نہ سمجھنا ہے انہوں نے کہا کہ جس ملک میں کردار کو دفن کر دیا جائے وہاں ایسے ہی تماشے ہوتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ ضیاءشاہد نے اس ملک میں صحافت کے ذریعے ہزاروں افراد کو روز گار دلوایا یا روز گار کا ذریعہ بنے ۔انہوں نے کہا کہ جو شخص پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے خلاف بات کرے اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیئے، ضیاءشاہد کی کتاب پاکستان کے خلاف سازش کے آنے سے کم از کم ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے اور یہ ایک مثبت پیش رفت ہے میرا ان سے ایک آجر اور اجیر کا بھی تعلق ہے صحافت کے شعبے میں انہوں نے ہزاروں لوگوں کو صحافتی تربیت دی صرف ہزاروں کمپیوٹر آپریٹرز پیدا کئے جو آج اپنا رزق کما رہے ہیںصحافتی شعبے میں ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔سینئر صحافی صالح ظافر نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضیاءشاہد کی نئی کتا ب پاکستان کے خلاف سازش صحیح وقت پر سامنے آئی ہے جب سے ملک پاکستان بنا اس وقت سے اس کو توڑنے کی سازشیں شروع ہو گئی تھیں اس کو ناکام بنانے کیلئے بھی جوکچھ بھی کرنا چاہیئے تھا وہ نہیں ہوا اور کچھ اور طرح کی کھینچا تانی شروع ہو گئی ،وہ لوگ جنہوں نے بنایا وہ آپس میں گتھم گتھا ہو گئے دشمنوں نے شب خون مارا جس نے پورے نظام کو تہس نہس کر دیا انہوں نے کہا کہ پھر موقع موقع پر اس کی نشاندہی ہوتی رہی سازش کون کر رہا ہے کیسے کر رہا ہے اس کے اسباب اور وجہ کا سراغ لگایا جائے جسکی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچے 1947والے جذبات کسی طرح واپس آ سکتے ہیں اس طرف توجہ دینا ہو گی اپنے ملک پاکستان کیلئے اور سب کو متحد کرنے کیلئے ہمیں سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔سابق سیکرٹری اطلاعات ونشریات اشفاق گوندل نے کہا کہ ضیاءشاہد کی پاکستان کے خلاف سازش ایک اچھی کتاب ہے انہوں نے کتاب تحریر کرکے اچھا کیا ہے ان کو لکھتے رہنا چاہیئے عرصہ دراز سے غداری کا سنتے آ رہے ہیں اب اس کو ختم ہو نا چاہیئے ہمین کسی کو غداری کا سرٹیفکیٹ نہیں دینا چاہیئے میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں اکثریت لوگوں کی محب وطن ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے خلاف ملک دشمن عناصر کی سازشیں کامیاب نہیں ہو سکیں پاکستان 20کروڑ عوام کا ملک ہے پاکستان کی سلامتی ہم سب کو عزیز ہے انہوں نے کہا کہ عدم برادشت کا مسئلہ ہے اس کو ختم کرنا چاہیئے ہمیں برداشت کی عادت ڈالنی پڑے گی جو ختم ہو تی جا رہی ہے محب وطن لوگوں کو ڈھونڈنا چاہیئے انہوں نے کہا کہ آج جو چیلیجز ہمیں درپیش ہیں ان کا مقابلہ کرنے کیلئے اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ۔سےنئر صحافی جاوےد صدےق نے اپنے خطاب مےں ضےاءشاہد کو مبارکباد دےتے ہوئے کہا ہے کہ اس کتاب مےں جو کچھ لکھا ےا بےان کےا ہے اس کا نئی نسل کو بھی علم ہونا چاہےے کہ قےام پاکستان مےں کس کاکتنا کردار رہا ہے جس پر اعتراض ہو بھی سکتے ہےں اور نہےں بھی۔ یہ کتاب تارےخی اور زمےنی حقائق کو اجاگر کرتی ہے اس پر مزےد بحث ہونی چاہےے کہ کس نے پاکستان کے مفاد اور کس نے مخالفت مےں کردار ادا کےا ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ملکی تاریخ میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں اس کتاب کو پڑھنا ہو گا ۔ اےنکر پرسن سلیم صافی نے کہا کہ یہ اچھی کتاب ہے جس مےں مختلف عوامل پرمفصل روشنی ڈالی گئی ہے اگر مےں ظفر بختاوری کی اس بات کو سچ مان لوں کہ ملک مےں لسانےت بنےادوں پر تفرےق پےدا کی جارہی ہے ۔ باچا خاندان اور بگٹی خاندان کی طرح بہتر ہوتا کہ شریف خاندان کا بھی کتاب میں ذکر ہوتا ، بھٹو اور زرداری کے متعلق بھی لکھا جا تا ہم نے اپنی ریاستی غلطیوں کو بھی باچا خان کے کھاتے میں ڈال دیا ہے عید کے موقع پر پی ٹی وی لاہور میں ایک مشاعرہ ہوا جس میں پٹھانوں کا مذاق بنایا گیا ہے چلیں یہ تو ایک غلطی ہے جو ہو گئی ہے لیکن ایک اہم شخصیت کی طرف سے ایک کتاب شائع کرنا جس میں صرف کے پی کے اور بلوچستان کے بڑے خاندانوں کو غدار قرار دیا گیا ہے یہ اصل حقائق کی تصویر تب بنتی ہے جب پاکستان کے تمام خاندانوں کوواضح کیا جائے ۔کالم نگار عائشہ مسعود نے اپنے خطاب مےں کہا کہ ضےاءشاہد کی کتاب جامع اور مفصل ہے مےں نے بھی کچھ کہنا ہے پہلے تو یہ ہے کہ بہت سی باتےں ہوئی ہےں باچا خان کا ذکر ہوا جب غفار خان کا انتقال ہوا توراجےو گاندھی آتے ہےں اور بے نظےر بھٹو کو کشمےر ہاﺅ س سے بےنر بھی ہٹا نا پڑ جاتے ہےں ۔ ولی خان کالاباغ ڈےم کے سب سے مخالف تھے ، مولانا فضل الرحمن کشمےر کمےٹی کے چیئرمےن ہےں انہوں نے کےا کردار ادا کےا ۔ خان آف کلات کا ذکر ہوا بنگلہ دےش کا ترانہ شےخ اےاز نے لکھا یہ اےسے سوالات ہےں جن کی طرف کسی نے بھی کوئی انگلی نہےں اٹھائی ۔ سینئر کالم نگاراسلم خان نے کہا کہ ضیاءشاہد نے بہت اچھاکیا کہ کتاب لکھی ہے جو غدار ہے اسے غدار کہنا چاہےے ۔ اکبر بگٹی نے بہت بڑا ملٹری آپریشن کرایا بہت سے لوگ مروائے اب اس کو ہیرو بنا دیا گیا ہے یہ کہاں کی انصاف ہے ضیاءشاہد نے اپنی کتاب میں بہت تفصیل لکھی ہے یہ سب درست ہے۔ممتاز تجزیہ کار حامد میر نے ضیا شاہد کی کتاب کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کتاب میں سیاسی شخصیات کے چہرے بے نقاب کئے گئے ہیں، پاکستانیوں کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے۔

عوامی تحریک اول،جے یو آئی ف دوئم ،سنی اتحاد کونسل سوئم ،جماعت اسلامی چہارم نمبر پر آگئی ،وجہ کیا بنی؟

لاہور (حسنین اخلاق) صوبائی دارلحکومت میں پاکستان عوامی تحریک شہریوں کی سب سے پسندیدہ مذہبی جماعت،جے یو آئی-ف دوسرے،سنی اتحاد کونسل تیسری پسندیدہ مذہبی سیاسی جماعت قرار،جماعت اسلامی پاکستان چوتھے نمبر پرعوامی حمایت حاصل کرسکی۔تفصیلات کے مطابق روزنامہ خبریں کی جانب سے لاہور کے مختلف علاقوں کئے گئے سروے کے مطابق صوبائی دارلحکومت کے رہائشیوں سے پاکستان میں موجود مذہبی سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے کے حوالے سے پسندیدگی کے متعلق سوال کیا گیاکہ آپ کس دینی مذہبی جماعت کو ووٹ دینا چاہیں گے جس کے جواب میں ساٹھ فیصد شہریوں نے پاکستان عوامی تحریک کے حق میں جواب دیا جبکہ پندرہ فیصد لوگوں نے جے یو آئی ف کو اپنی پسندیدہ جماعت قرار دیا اسی طرح سنی اتحاد کونسل کے حق میں بارہ فیصد عوامی حمایت سامنے آئی جبکہ جماعت اسلامی پاکستان کو پانچ فیصد شہریوں نے پسند کیا ۔دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں میں چار فیصد عوام مرکزی جمعیت اہلحدیث ،دو فیصد جمیعت علماءپاکستان نیازی گروپ اور دو فیصد افراد نے کوئی بھی جواب نہیں دیا۔خبریں سروے میں کل دو سو ستر افراد سے سوالات پوچھے گئے جبکہ اس سروے کے لیے شہر کے مختلف علاقے جن میں لبرٹی مارکیٹ،آر اے بازار،لاہور ریلوے سٹیشن،شاہ عالمی،مزنگ اور جوہر ٹاﺅن سمیت دس حلقوں کو شامل کیا گیا تھا۔شہریوں کی بڑی تعداد نے روزنامہ خبریں کی اس کاوش کو بھی سراہا کہ پہلی بار پاکستان میں موجود دینی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے معلومات حاصل کی گئی ہیں۔یاد رہے کہ پاکستان میں کئی درجن دینی سیاسی جماعتیں متحرک ہیں جن کے علیحدہ علیحدہ ووٹ بنک ہیں جبکہ صرف سن دوہزار آٹھ میں ہونے والے انتخابات میں ہی ان جماعتوں کے اتحاد جسے متحدہ مجلس عمل کا نام دیا گیا تھا نے کے پی سے کامیابی حاصل کی اور حکومت بنائی تھی۔