نواز شریف کو اقتدار میں کون لایا ؟؟ڈاکٹر طاہر القادری نے بھید کھول دیا

لاہور(وقائع نگار)پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے گزشتہ روز لندن میں مصروف دن گزارا۔انہوں نے اوورسیز تنظیموں کے رہنماﺅں سے ملاقات کے دوران کہا کہ نواز شریف کو عالمی مہرے ایک مخصوص ایجنڈے کے ساتھ اقتدار میں لائے، وہ بال بھی بیکا نہیں ہونے دینگے، عالمی سازش ہونے کے بیانات مذاق ہیں، پاناما کیس کی تفتیش اور چیخیں مصنوعی اور سکرپٹ کے مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اقتدار میں آئے نہیں لائے گئے ہیں، اس میں ہمسایوں اور 7 سمندر پار کے دوستوں کی ہیوی انویسٹمنٹ شامل ہے،قوم تصویر کے اس رخ کو ذہنوں سے اوجھل نہ ہونے دے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ پبلک ہونے اور استغاثہ کیس کا حصہ بننے سے شریف برادران کی بولتی بند اوران کی گردنوں کے سریے نکلیں گے، ریاست نے 14 شہریوں کو قتل کیا اور نظام عدل قاتلوں کو تحفظ دے رہا ہے، ابھی ظلم کی سیاہ رات اپنے عروج پر ہے، تبدیلی کے عمل کی نشاندہی کرنے والی علامات فی الحال نظر نہیں آرہیں، ہماری نظر شہدائے ماڈل ٹاﺅن کے انصاف پر ہے، اسی انصاف سے 21 کروڑ عوام پر انصاف کے بند دروازے کھلیں گے۔دریں اثناءپاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ آج بھی ہمارے وکلاءشہدائے ماڈل ٹاﺅن کے انصاف کیلئے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہوئے، ہماری اطلاع کے مطابق پنجاب حکومت ،پولیس اور پراسیکیوشن نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ایک اور اشتہاری کو ضمانت کی ”ضمانت“ دے دی ہے ، ایس پی سلیمان پولیس کی ایف آئی آر اور پولیس کی جے آئی ٹی کی روشنی میں سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے کیس میں اشتہاری قرار پائے ،اب 3سال کے بعد اس اشتہاری کو ضمانت بھی ملے گی اور پرکشش تقرری بھی ۔شہریوں کے قتل عام کے بعد انصاف کا قتل عام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا انصاف کے آئینی محافظوں سے سوال ہے کہ کیا قتل کیس کے ہر اشتہاری کو یہی پروٹوکول ملتا ہے جو سانحہ ماڈل ٹاﺅن کیس کے اشتہاری ایس پی سلیمان کو مل رہا ہے ؟انہوں نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے نامزد قاتل آج بھی حکومت میں ہیں اور اپنے اثرورسوخ کے باعث شہدائے ماڈل ٹاﺅن کے ورثاءکو انصاف ملنے نہیں دے رہے؟سانحہ ماڈل ٹاﺅن استغاثہ کیس کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں مزید سماعت 3اگست کو ہوگی، ججز کو چھٹیاں ہونے کے باعث لمبی تاریخ پڑی۔

قطری شہزادے کے بیان کے بغیر جے آئی ٹی کی اہمیت زہرو ،اہم انکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ سیاسی معاملات عدالتوں میں نہیں جانے چاہئیں، عدالت سے فیصلے مرضی کے مطابق نہیں آتے، عمران خان نے سیاست میں گند کو دوبارہ فروغ دیدیا۔ سعد رفیق نے کہا کہ ملک میں صورتحال پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے ایسا نہ ہوتا تو بہتر تھا، جو کچھ ہو رہا ہے اس سے فائدہ کسی کو نہیں ہو گا البتہ نقصان سب کا ہو گا۔ میمو گیٹ پر پارٹی میں بحث کرائی جاتی تو شاید وزیراعظم عدالت نہ جاتے۔ وزیراعظم نوازشریف نے ہمیں عمران خان کی ذاتی زندگی پر بات نہ کرنے کی ہدایت کی۔ مصدق ملک نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں مریم نواز پر کوئی الزام نہیں تھا۔ ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ قطر کے شہزادے کا بیان شامل ہونے تک جے آئی ٹی کی تفتیش کی کوئی ساکھ اور اہمیت نہیں ہو گی۔ انہوں نے سوا ل کیا کہ جے آئی ٹی نے قطر کے شہزادے کو سوال نامہ بھیجنے سے تحریری انکار کیا، کیا اس طرح قانون کی دھجیاں نہیں اڑائی گئیں، ہمارے بنیادی دفاع اور اہم گواہ سے بیان نہیں لیا جا رہا، کیا یہ حقائق چھپانے کے مترادف نہیں، کیا یہ ارسلان افتخار کیس میں دئیے گئے عدالت عظمٰی کے واضع احکامات اور فیصلے کی توہین نہیں۔ عدالت عظمٰی اس کا نوٹس لے۔ وفاقی وزیر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ مریم نواز کی پیشی پر شو آف پاور نہیں ہو گا، لیگی کارکن انصاف کیلئے کھڑے ضرور ہوں گے، ہمیں ابھی تک پتہ نہیں کہ یہ سب کچھ کس قانون کے تحت ہو رہا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ جے آئی ٹی رپورٹ پبلک کی جائے۔ انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی تحقیقات کر رہی ہے، سب کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے، عمران خان نے چندے کے پیسوں سے جوا کھیلا، ہر بھیجے گئے پیسوں میںسے ایک روپے کا بھی حدیبیہ پیپرز ملز سے کوئی تعلق نہیں۔ جے آئی ٹی کا تماشا ختم ہونے میں ایک ہفتہ رہ گیا ہے جے آئی ٹی اپنے کرتوتوں کی وجہ سے متنازع ہوئی ہے تحفظات کے باوجود وزیراعظم نواز شریف سمیت تمام قیادت جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی ہے،مریم نواز کا جے آئی ٹی میں پیش ہونا بڑا فیصلہ ہے جے آئی ٹی تحقیق کرئے لیکن تذلیل نہ کرے رحمان ملک کی منی ٹریل جعلی ہے مشرف نے اسی کہانی پر نواز شریف کا ٹرائیل کرنے کی کوشش کی،پہلے کی طرح نواز شریف اب بھی کامیاب ہوگے ریمنڈڈیوس نے جو کہا اس پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی عمران خان کے پاس نہ اپنی نہ اپنی اولاد کی منی ٹریل ہے ان کو جیل جانا ہوگا، جمشید دستی کی تلاشی لی گئی تووہ رو پڑا عمران خان بھی رونے کے لیے تیار رہیں۔ہم نے 70سال کی منی ٹریل پیش کردی ہے جے آئی ٹی کہتی ہے کے ان کی رپورٹ کوئی اور لکھتا ہے ہمیں یہ ڈر ہے کہ ان کا فیصلہ بھی کوئی اور نہ لکھ دے۔ چوہدری محمد برجیس طاہر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نوازشریف اور اُن کے خاندان نے اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کر کے وہ مثال قائم کی ہے جس کی کوئی نظیر نہ ملتی۔ دانیال عزیز نے کہا ہے کہ (ن) لیگ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ (ن) لیگ دیوار سے لگنے والی نہیں کیونکہ انہوں نے عوام کے لئے کام کیا ہے تحریک انصاف نے آئینی اداروں کی تضحیک کی ہے۔

”جے آئی ٹی کے اندر معاملہ گڑ بڑ “

لاہور (خبر نگار) پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ میاں صاحب سن لیںہر دفعہ تصادم کا فائدہ نہیں ہوتا اورکہیں سب کچھ ہاتھ سے نہ نکل جائے، آئین و قانون میں عبوری حکومتیں بنانے کا کوئی تصور نہیں، پیپلز پارٹی نے پہلے کسی غیر آئینی ہتھکنڈے کو سپورٹ کیا نہ مستقبل میں کرے گی، حکمرانوں کے چہرے، لہجوں سے واضح ہے کہ جے آئی ٹی کے اندر معاملہ گڑ بڑ ہے، پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر دباﺅ اور ہراساں کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، میاں صاحب اداروں کے ذریعے نہیں خود سامنے آکر سیاست کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاﺅن میں مرکزی سیکرٹری چوہدری منظور اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ امجد میو سابق ایم پی اے ہیں اور اپنے علاقے میں (ن) لیگ کو چبتے ہیں۔ مقامی قیادت اور پولیس افسر جو حکومت کی ایماءپر لگائے گئے ہیں وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن رہے ہیں۔ عید الفطر سے قبل کارکن جنہوں نے بینرز لگائے پولیس نے انہیں پکڑ کر مقدمہ بنادیا۔ ڈی ایس پی کا کام قانون پر عملدرآمد کرنا ہے اور ان کی عزت اور احترام اسی وجہ سے ہوگا وگرنہ ہم بڑے بڑوں سے نمٹ لیں گے ۔ حکمران سن لیں اب ماڈل ٹاﺅن جمشید دستی والی سیاست کی گنجائش نہیں، ذمہ دارواں کے خلاف تحقیقات کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جوں جوں پانامہ کیس کا فیصلہ قریب آرہا ہے حکمران گلو بٹ سیاست کر رہے ہیں ۔ متنبہ کرتے ہیں کہ حکومت اور مسلم لیگ (ن) گلو بٹ سیاست اور پولیس گردی بند کرے، ابھی تو ہم مذمت کررہے رہیں اور اللہ نہ کرے کہ ہمیں مزاحمت پر اتر آئیں اور پھر حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ میاں صاحب بتائیں یہ کٹھ پتلیاں کون ہیں۔ آج مریم نواز کی باری انہیں تحفظات نظر آرہے ہیں بینظیر کے وقت ان کا احساس کہاں چلا کہا تھا۔ وہ بھی کسی کی بہن بیٹی اور بہو تھیں۔ مولا بخش چانڈیو نے مزید کہا کہ میاں صاحب بتائیں کٹھ پتلی کون ہے؟ اسحاق ڈار نے جو زبان کل استعمال کی وہ انہیں زیب نہیں دیتی۔ مریم نواز کے بیان دیا ہے کہ شفیق باپ کی آنکھوں میں آنسو دیکھے۔ بینظیر کی باری میں یہ احساس کہاں تھا وہ کسی کی بیٹی، بہن، بہو تھی۔ یہ تو جے آئی ٹی میں حمایتیوں کی فوج لے کر جاتے ہیں بین الاقوامی چوری کا الزام زرداری یا عمران خان نے نہیں لگائے وفاقی وزیر اسلام آباد میں اداروں کو گالیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی شعبہ خواتین پنجاب کی جنرل سیکرٹری نرگس فیض ملک نے کہا ہے کہ مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی سے کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ نواز شریف نے سیاست میں جو بویا تھا وہی کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید اسلامی دنیا کی پہلی وزیراعظم تھیں۔ نواز شریف یاد کرے کہ انہیں سوئس مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے پر کس نے مجبور کیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف ججوں کوٹیلی فون کرکے محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری کو سزا سنانے کے لئے دباﺅ ڈالتے رہے۔ یہ مکافات عمل ہے جس سے شریف خاندان گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) والوں کو اب یاد آیا ہے کہ مریم نواز قوم کی بیٹی ہے۔ نواز لیگ کو اس وقت یاد کیوں نہیں آیا جب عمر رسیدہ مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کے خلاف جھوٹے ریفرنس بنا رہے تھے۔

توہین عدالت کیس میں عمران خان کیخلاف کیا ہونے جارہا ہے ؟؟

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی)الیکشن کمیشن آف پاکستان میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں جواب جمع کرانے کی بجائے اپنا وکیل تبدیل کرلیا جبکہ پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے سماعت آئندہ ہفتے مقرر کرنے کی استدعا پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا خان نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کبھی چترال تو کبھی نتھیا گلی ہوتے ہیں کیا الیکشن کمیشن قومی ادارہ نہیں ہے ، کیا ہمیں عمران خان کے جواب کی ضرورت نہیں؟ اب ہم صرف حکم سنائیں گے۔تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی جس میں عمران خان نے جواب جمع کرانے کی بجائے اپنا وکیل تبدیل کرلیا جس پر چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ عمران خان سے توہین عدالت کی درخواست پر جواب مانگا گیا تھا، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے نیا جواب تیار کرلیا گیا ہے جو نئے وکیل بابر اعوان الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں گے۔چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ ہم نے عمران خان کو آئندہ سماعت پر جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا، رکن الیکشن کمیشن جسٹس ریٹائرڈ ارشاد قیصر نے استفسار کیا کہ بابر اعوان کا وکالت نامہ کہاں ہے جس پر وکیل پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ بابر اعوان خود اپنا وکالت نامہ پیش کریں گے۔چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ہم (آج)بدھ کواس پر سماعت کرکے فیصلہ کریں گے جس پر پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے سماعت آئندہ ہفتے مقرر کرنے کی استدعا کی گئی جس پر چیف الیکشن کمشنر برہم ہوگئے اور کہا کہ آپ نے اب تک جواب تیار نہیں کیا، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان چترال میں ہیں اس لیے وقت دیا جائے، چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ عمران خان کبھی چترال میں ہوتے ہیں کبھی نتھیا گلی میں، جس پر وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان قومی لیڈر ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ تو کیا ہم قومی ادارہ نہیں، ہمیں عمران خان کے جواب کی ضرورت نہیں اب صرف حکم سنائیں گے۔پی ٹی آئی کے وکیل نے الیکشن کمیشن سے سماعت 10 جولائی تک ملتوی کرنے کی استدعا جس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پر فیصلہ سنایا جائے گا تاہم پی ٹی آئی وکیل کی مسلسل استدعا پر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت 10 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔بعد ازاں پی ٹی آئی کے وکیل شاہد گوندل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی مرضی کا وکیل کر یں، موٹو گینگ کے ذریعے عمران خان کو بلیک میل کرنے کے لیے پٹیشن دائر کی گئی، دس جولائی کے یوم حساب سے یہ گھبرا چکے ہیں ، یہ ذاتی حملے کر کے عمران خان کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

پی پی آج یوم سیاہ منا ئے گی ،وجہ کیا بنی؟

لاہور( این این آئی)پیپلز پارٹی کے زیراہتمام سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی منتخب جمہوری حکومت پر جنرل ضیاالحق کی طرف سے شب خون مارنے کیخلاف آج (بدھ) کو ملک بھر میں یوم سیاہ منایا جائے گا ۔اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں کانفرنسز ،سیمینارز اور ریلیاں نکالی جائیں گی جس میںاس اقدام کے خلاف احتجاج اور مستقبل میں آمروں کا راستہ روکے جانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے تمام ضلعی تنظیموں اور ونگز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ ہیں پانچ جولائی 1977ءکی مناسبت سے یوم سیاہ منائیںاور بھرپور احتجاج کیا جائے ۔ پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام تقریبات میں سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور قائدین اور کارکن بازﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔ پیپلز پارٹی لاہور کے زیر اہتمام یوم سیاہ کی مناسبت سے ریلی نکالی جائے گی ۔

”ہم ان کو سزا دلوا کر رہیں گے“

اسلام آباد (این این آئی) سابق صدرِ پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری نے پانچ جولائی کو یومِ سیاہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ وہ دن تھا جب آج سے چالیس سال قبل ایک فوجی ڈکٹیٹرنے قوم کو ہائی جیک کرلیا تھا اور اس نے اداروں کو ایک ایک کر کے تباہ کرنا شروع کر دیا تھا، جہاد کو پرائیویٹائز کیا اور مذہب کے نام پر عورتوں اور غیر مسلموں کے خلاف کالے قوانین لاگو کرنے شروع کردیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ دن تھا جب قوم کا تنزلی کی طرف سفر کی ابتداءہوئی اور یہ قومی اجتمائی گراوٹ اور افرا تفری آج تک مذہب کے نام پر جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بد قسمتی کی بات ہے کہ جہاد کو پرائیویٹ کرنے سے اور مذہب کو اپنے سیاسی فائدوں کے لئے استعمال کرنے کی تباہ کن پالیسی آج تک جاری ہے۔ ان تباہ کن پالیسیوں کے مضمرات سمجھنے کی جتنی آج ضرورت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ آئیں آج عہد کریں کہ ان پالیسیوں کو بدلیں گے، مذہبی انتہا پسندی کی سوچ اور جہاد کی پرائیویٹائزیشن اور ڈکٹیٹر کی جانب سے پھیلائی گئی فرقہ پرستی کی لعنت کے خلاف لڑیں گے۔ آج کے روز ہم عہد کرتے ہیں کہ پاکستان ایک جمہوری، کثیراجہتی اور ایک میانہ رو ملک بنے گا جہاں مذہبی انتہا پسندی، عسکریت پسندی، اور فرقہ بندی کی کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم یہ عہد بھی کریں کہ ڈکٹیٹروں اور عوام کے حقوق اور آزادیوں کو غصب کرنے والوں کو ضرور سزا دلوائیں گے۔ آصف علی زرداری نے جمہوریت کے شہداءکو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قومی تاریخ کے سیاہ دنوں میں انھوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ آج ہم ان لوگوں کو بھی یاد کرتے ہیں جنھوں نے دہشتگردی کی سوچ سے لڑتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں اور مصائب جھیلے۔

مریم کی پیشی سے قبل کارکنو ں میں کیا تقسیم ہوا ،شیخ رشید نے حقائق بیان کر دیئے

لاہور(خبر نگار) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کوئی آمر آئے اورسب کچھ لپیٹ کرچلا جائے موجودہ حکومت نظام کو لپیٹنے کے درپے ہے،جے آئی ٹی کو قطری شہزادے کے دربار میں پیش نہیں ہونا چاہیے ،مریم نواز کی پیشی کیلئے ،لاٹھیاں تقسیم کی جاری ہیں،اسحاق ڈار کاغذ تبدیل کرنے کے ماہر ہیں،نواز شریف حکومت نے اداروں کو تباہ کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔لاہور ہائی کورٹ کے کراچی ہال میں منگل کو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا موجودہ حکومت نظام کو لپیٹنے کے درپے ہے۔حکومت چاہتی ہے کہ کوئی آمر آئے اورسب لپیٹ کر لے جائے ۔پانامہ کیس پیسے اور قانو ن کی لڑائی ہے۔ مریم نواز کی پیشی کے لیے ڈنڈے ،لاٹھیاں تقسیم کی جارہی ہیںِ۔ جے آئی ٹی میں جانا چاہتے ،پانامہ کیس میں قطری خط کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اسحاق ڈار کاغذتبدیل کرنے کے ماہر ہیں ۔ان کی اور کوئی قابلیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ایجنڈا دیا گیا کہ اداروں کو تباہ کریں ۔ نواز شریف کی حکومت میں میرٹ اور معیارکی کوئی جگہ نہیں ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بڑے آدمی کنیز بن گئی ہے۔ ہم خاندانوں کے غلام بن چکے ہیں ۔اسحاق ڈار بڑی گرمی میں ہیں۔ وہ ماہر اقتصادیات نہیں منشی ہے۔ اسحاق ڈار کی ٹریننگ سوئی گیس اوربجلی کے بل تبدیل کرانے کی تھی۔خط ہی تسلیم کرتے ہیں تو کل کو کوئی بھی کہیں سے بھی لے آئے گا۔قانون کے ترازو میں پاکستان کے پانچ عظیم ججوں نے انصاف کا فیصلہ لکھنا ہے اور فیصلہ گو نواز گو شریف گو ہے۔ شیخ رشید نے کہا ہے کہ حکومت کا کام تمام ہو چکا ہے۔نواز شریف نا اہل ہونے جا رہے ہیں ان کی سیاسی پتنگ کٹنے جا رہی ہے پپومجھے پانچ مضامین میں فیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔خدا نے حکمرانوں کو تکبر کی سزا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کونسا بچہ باپ کو ایک ارب روپے تحفے میں دیتا ہے میاں صاحب آپ کے بچے ارب پتی ہیں قوم کے بچوں کو لکھ پتی ہی کر دیں۔شیخ رشید نے کہا کہ حکمران دس سال کے لیے نا اہل ہونے جا رہے ہیں میں نواز شریف کو عدالت میں جرم کے لیے بلاﺅں گا مجھے حق حاصل ہے کہ نواز شریف کو جرح کے لیے سپریم کورٹ طلب کروں انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تشکیل پر حکمرانوں نے مٹھائیاں بانٹیں اب نا اہل ہونے پر فکر مند ہیں چور کو چوری کی سزا ضرور ملنی چاہیے۔اخبار میں پڑھا ہے کہ جاوید قاضی نے منی لانڈرنگ کا اعتراف کیا ۔اسحاق ڈار بالکل منی لانڈرنگ میں ملوث ہے اسحاق ڈار مولانا فضل الرحمن کی ماڈرن شکل ہے۔عمران خان کے خلاف پہلے بھی مہم اسحاق ڈار نے شروع کی تھی 190 کے ذریعے عدلیہ فوج کو حکم دے سکتی ہے کہ اس فیصلے پر فی الفور عمل کیا جائے ۔ڈان لیکس میری نہیں ڈان لیکس فوج کی سوچوں کے محور میں زندہ ہے اور ان سوچوں کے محور میں نواز شریف اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔پاک فوج اس ملک کو بچانے اور جان دینے والا ادارہ ہے اگر (ن) لیگ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم نہ کیا تو مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے ان کی تاریخ پڑ چکی ہے ان کی سیاست کی گڈی کی ڈور کٹ چکی ہے یہ سیاسی طور پر اپنا اور ٹائم لگا رہے ہیں یہ ہیرو بننے کی کوشش میں زیرو ہو جائیں گے۔فوج اس پاکستان کی پارٹی ہے پاکستان تباہ و برباد ہو گیا ہے حکمران لوٹ کر کھا گئے ہیں پاکستان کا ایک بچہ ایک لاکھ 35 ہزار کا مقروض ہے اسحاق ڈار نواز شریف کا اعتماد حاصل کرنے کی بھونڈی کوشش کررہا تھا نواز شریف کو پتہ ہے اس کی لائنیں کہاں کہاں ہیں وہ چوچا نہیں ہے اس کے چہرے کو لگ نہیں پڑھ سکتے وہ لوگوں کے چہروں کو پڑھ سکتا ہے۔رہنماءعوامی مسلم لیگ نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ ہمارے خلاف بھی ہوا تو ہمیں قبول ہوگا میری اور عمران خان کی خواہش ہے کہ جمہوری فیصلے پر جمہوری طریقے سے عمل ہو۔اگر عمران خان نے کال دی تو میں اس کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور پوری قوم نکلے گی ہم مردوں کی طرح نکلیں گے ہم معافی نامہ لے کر سعودی عرب نہیں بھاگیں گے۔

کرپشن کا بڑا سکینڈل عمران خان کا گرینڈ حیات ہوٹل میں فلیٹ اہم انکشاف

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی ) پارلیمینٹ کی پی اے سی کی ذیلی کمیٹی نے سی ڈی اے کی جانب سے24قیمتی پلاٹس کی خلاف ضابطہ الاٹمنٹس پر دوہفتوں میں ان پلاٹس کا تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے زمہ داران کے تعین کی ہدایت کردی آڈٹ حکام نے بتایا ہے کہ جو افسران فراڈ پر مبنی پلاٹس کی الاٹمنٹس میں ملوث تھے ان کے خلاف کاروائی ہونے کے بجائے انھیں سی ڈے اے میں ترقیاں دی جارہی ہے اور ایک افسر تو ممبر سی ڈی اے بننے والا ہے اجلاس کی کاروائی کے دوران ریڈ زون میں گرینڈ حیات ہوٹل میں پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کے فلیٹ اور ان کو اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کا تزکرہ بھی ہوا ہے۔منگل کوکمیٹی کا اجلاس سینیٹر مشاہد حسین سید کی صدارت میں پارلیمینٹ ہاو¿س میںہوا وزارت کیڈ کے مالی سال 2009-10 کے حسابات کا جائزہ لیا گیا 2002سے 2024کے دوران بوکس دستاویزات پر پلاٹس کے الاٹمنٹس کے معاملے پر سی ڈی اے کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی نہ ہونے پر کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیاگرینڈ حیات ہوٹل سکینڈل بھی زیر بحث آیا۔ میاں عبدالمنان نے کہا کہ سیاستدان تو محض ایسے ہی بدنام ہیں۔ گرینڈ ہوٹل سکینڈل پر ہائیکورٹ کے فیصلے کو دیکھ لیں اصل محرکات کا پتا چل جائے گااسی گرینڈ ہوٹل میں عمران خان کا بھی فلیٹ ہے۔ جب کہ عمران خان نے یہ فلیٹ ٹیکس گوشواروں میں بھی درج نہیں کیایہ ہوٹل اسکینڈل کرپشن کا ایک بہت بڑا سکینڈل ہے۔ پانامہ کا ڈرامہ اسلام آباد میں ہونیوالی بڑی کرپشن سے توجہ ہٹانے کیلیے ہے۔ ۔ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس سکینڈل کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔ ۔ سیکریٹری کیڈ نے کہا کہ اس سکینڈل کی ایف آئی درج ہو چکی ہے بورڈ ارکان اور پراجیکٹ انچارج کے نام ایف آئی آر میں درج ہیں۔ آڈٹ حکام کا موقف تھا کہ جو پانچ ارب روپے لے کر بھاگ گیا ہے اسکا کیا بنے گا۔؟متاثرین سے سامنے آنے کیلیے کہا گیا ہے۔اراکین نے کہا کہ متاثرین میں بہت سے شرفائ ہیں جو اپنی ذرائع آمدن نہیں بتا سکتے۔ اس سکینڈل کو منطقی انجام تک پہنچانے میں پبلک اکاونٹس کمیٹی کا بہت اہم کردار ہے، قانون اور انصاف پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ سی ڈی اے نے سرائے خربوزہ میں سیکٹر ایچ سولہ اور آئی سترہ کے لئے مارکیٹ پرائس سے زائد قیمتوں پر اراضی خرید جس سے قومی خزانے کو دو ارب 67کروڑ 79 لاکھ کا نقصان پہنچا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس معاملے پر اپنے حکم میں پہلے چھوٹے متاثرین کو رقم کی ادائیگی کا حکم دیا تھا ،میاں عبد المنان نے کہا کہ سی ڈی اے حکم کے خلاف سب سے پہلے ساڑھے آٹھ ارب میں سے چھ ارب روپے ملک ریاض اور کھوکھر برادران کو ادائیگی کر دی، ۔آڈٹ حکام کے مطابق دو ہزار غریب متاثرین ابھی تک رو رہے ہیں،سی ڈی اے نے دو سیکٹرز کے لئے ساڑھے آٹھ لاکھ روپے کے حساب سے سات ہزار ایک سو اکتالیس کینال اراضی خریدی۔اراضی کی اصل مارکیٹ پرائس چار لاکھ ساٹھ ہزار روپے فی کینال ہے۔ ایف آئی اے کو 15 جولائی تک ریکارڈ نیب کے سپرد کرنے کی ہدایت کر دی۔ اسی طرح نیب کو ساٹھ دن میں سیکٹر آئی 16 اور 17 کی تحقیقاتی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔سی ڈی اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بتائے کہ ابھی تک کتنے چھوٹے متاثرین کو ادائیگی کی گی ہے ۔

”فوج نواز شریف کو اقتدار سے دور کرنا چاہتی ہے “۔۔دھماکہ خیز خبر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سیکرٹری خارجہ امور نے وزیراعظم نوازشریف کو اثاثہ قرار دیدیا امریکی سنیٹرز سے نوازشریف کی مدد کرنے کی اپیل کردی نجی ٹی وی پروگرام میں سینئر صحافی نے انکشاف کیا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ جیش شنکر نے امریکہ میں چار سنیٹرز سے ملاقات میں کہا کہ پاکستان میں فوج نوازشریف کو اقتدار سے الگ کررہی ہے ان کی مدد کرنی چاہیے جس پر امریکی سینیٹرز نے کہا کہ پاکستان تو آپ کادشمن ملک ہے پھر اس معاملے میں کیوںپڑ رہے ہیںجیش شنکر نے جواب میں کہا کہ نوازشریف اثاثہ ہیں۔

”دیکھنا ہے ہمارا جوڈیشل سسٹم کتنا سیاسی دباﺅ برداشت کرتا ہے“ نامور تجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی سوالات کے جوابات سے مطمئن نہیں ہو رہی۔ قانونن دانوں کے مطابق جے آئی ٹی کو تفصیلی معلومات نہیں مل رہیں۔ ظاہر ہے کہ وزیراعظم یا اس کے خاندان سے کیا پوچھ گچھ ہو سکتی ہے۔ مروجہ قانون ے مطابق کوئی شخص یا محکمہ 10 سال سے پرانا ریکارڈ محفوظ رکھنے کا پابند نہیں ہے۔ اس لئے شریف خاندان کے اس موقف سے اتفاق کرتا ہوں کہ 20 سال پرانی دستاویزات دینے کے پابند نہیں۔ نوازشریف کے صاحبزادوں کا یہ موقف بھی درست ہے کہ ہم پاکستانی شہری نہیں اور یہاں کے قانون ہم پر لاگو نہیں ہوتے البتہ ایک بات ان پر لاگو ہوتی ہے کہ جواب دیں پیسہ باہر کیسے اور کس طریقے سے بھیجا گیا۔ اکثر قانون دانوں کی رائے میں شریف خاندان نے واحد ثبوت قطری خط پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دو دن سے افواہیں گرم ہیں کہ مریم نواز کی پیشی کے لئے خواتین کے دستے تشکیل دیئے جا رہے ہیں اگر خواتین جوڈیشل اکیڈمی میں گھس گئیں تو تشویشناک صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ نون لیگی رہنما اپنے لیڈر اور ان کے اہل خانہ کو بچانے کیلئے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔ جوڈیشل سسٹم کیا اتنا دباﺅ برداشت کر سکتا ہے، اس کا فیصلہ چند روز میں ہو جائے گا۔ عدالت کی بنائی جے آئی ٹی کی سکیورٹی کی ذمہ داری سرکاری مشینری پر عائد ہوتی ہے۔ ساری عدلیہ، محکمے و ادارے خوف سے لرز رہے ہیں کیونکہ منتخب وزیراعظم اور ان کے خاندان کے احتساب کی موجودہ صورتحال پہلی بات پیدا ہوئی ہے، ماضی میں ایسی کوئی روایت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں جے آئی ٹی کے پاس ملک سے باہر کسی شہری کی جائیداد یا منی ٹریل کی تحقیق کرنے کے اختیارات نہیں ہیں لیکن شریف خاندان سے کئے جانے والے سوالات کا تعلق بیرون ممالک کے بینکوں، فنانشل انسٹی ٹیوشن، رجسٹری و لیز کے قوانین سے ہے اس لئے اگر جے آئی ٹی نے باہر کی خدمات حاصل کی ہیں تو اس میں کوئی خرج نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک عدالت ثابت نہ کر دیئے اس وقت تک عمران خان کی اس بات سے اتفاق نہیں کروں گا کہ یہ چوروں کا خاندان ہے۔ نون لیگی رہنما اور پی ٹی آئی ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کر رہے ہیں۔ عوام کو فریقین کی کسی بات پر یقین نہ کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور الیکشن کمیشن کے درمیان ایک لڑائی جاری ہے لیکن ان کے پاس مقبول ووٹوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ اگر الیکشن کمیشن عمران خان کے خلاف فیصلہ دے بھی دیتا ہے تو عوام کی بڑی تعداد اسے تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ الیکشن کمیشن پر خود بہت سارے سوالیہ نشان ہیں۔ اس کی تشکیل غلط طور پر ہوئی۔ اس کا طریقہ کار دنیا کے دوسرے الیکشن کمیشن سے بالکل مختلف ہے۔ چاروں صوبوں نے اپنا ایک ایک ممبر دیا جن پر ایک سربراہ مقرر کر دا گیا۔ چاروں ارکان اگر ایک طرف ہو جائیں تو اکیلا سربراہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ چودھری شجاعت حسین نے چینل ۵ کے پروگرام میں خصوصی گفتگو میں کہا تھا کہ اگر انتخابات موجودہ الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات کے تحت ہونے ہیں تو موجودہ حکمران پارٹی ہی کامیاب ہو گی، کبھی شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔ موجودہ الیکشن کمیشن کی تبدیلی اور انتخابی اصلاحات ہونے تک شفاف انتخابات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل میری کتاب ”پاکستان کے خلاف سازش“ کی تقریب رونمائی ہوئی تھی۔ اس میں بھی ذکر کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد آج کا ملک بھی سیاسی طور پر ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہے یا ہونے جا رہا ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو حد سے زیادہ ملنے والے اختیارات سے وفاق کمزور ہو گیا ہے۔ صوبے کسی نہ کسی طرح وفاق کو چیلنج کر رہے ہیں۔سندھ حکومت نے نیب کو نہیں وفاقی ادارے کو چیلنج کیا ہے اس قرارداد کی شدت سے مخالفت کرتا ہوں۔ سندھ حکومت نیب کے سربراہ، طریقہ کار، اقدامات پر تنقید کا پورا اختیار رکھتی ہے لیکن وفاقی ادارے کو چیلنج کرنا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ ملکی سالمیت اور آئین کے خلاف ہے۔ اس قسم کی باتیں بلوچستان کے سیاستدان لندن میں بیٹھ کر کر رہے ہیں۔ ہربیار مری، نواب سلیمان داﺅد، براحمداغ بگٹی اور بانی متحدہ ”را“ اور ”اسرائیل“ کی مدد سے پاکستان کی سرحدیں مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم و وفاقی حکومت صوبوں کو انتہائی اقدام تک جانے سے روکیں ورنہ وفاق کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں صوبائی حکومتوں کے ساتھ وفاقی حکومت بھی پاکستان کو توڑنے و کمزور کرنے میں برابر کی شریک ہوں گی۔ آج نیب تو کل دوسرے اداروں پر بات آئے گی۔ سندھ حکومت اس سے پہلے 2 مرتبہ رینجرز معاملات کو چیلنج کر چکی ہے۔ رینجرز خود صوبائی حکومت کی دعوت پر آئی تھی ہر تیسرے مہینے ان کی نوٹی فکیشن روک دی جاتی تھی۔ وہی حکومت ڈاکٹر عاصم سمیت دیگر کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ بنتی رہی۔ عوام فوج، قانون دان اور سیاسی جماعتیں بتائیں کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی اور کبھی کسی صوبے نے فوج کے عمل دخل کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو پھر کیا کیا جائے گا لہٰذا اس رجحان کو فتح کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جمشید دستی ہوں یا بابا جی ہزارہ والے، الگ صوبے کا مطالبہ آئین و قانون کے مطابق پورا کروانا چاہئے۔ آئین میں الگ صوبے کے قیام کی اجازت ہے اور اس کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔ ایسے مطالبوں پر دنگا فساد یا شور شرابہ کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لاءکا مطلب ہے ”نو لائ“ کہ کوئی قانون نہیں ہے۔ مارشل لاءلگنے کے بعد آئین پس پردہ چلے جاتا ہے۔ فوجیوں نے بھی مجھ سے کہا کہ اگر فوجی بغاوت ناکام ہو جائے تو فوجی افسر کو گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اسے سزا ملتی ہے۔ اگر کامیاب ہو جائے تو آئین اس کو تسلیم کر لیتا ہے۔ ہمیں تاریخ کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہئے۔ فوجی بغاوت کامیاب ہو یا ناکام دونوں صورتوں میں اچھی بات نہیں ہے۔ وزیراعظم اتنے بھولے و معصوم ہیں کہ جے آئی ٹی بننے پر مٹائیاں بانٹی کہ ہم کامیاب ہو گئے اور اب جب وہ سوالات کے لئے بلا رہی ہے تو کہتے ہیں کہ وہاں خواتین کے دستے داخل کر دیں گے، یہ افراط و تفریق ختم ہو جانی چاہئے۔ ذاتی تعصبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے مستقل رویے اپنانے چاہئیں۔ آئین و قانون کی بالادستی کرنی چاہئے۔