کم ظرف ہندوﺅں کی گھٹیا سوچ ، درسی کتاب میں مساجد بارے شرمناک باب

نئی دہلی (خصوصی رپورٹ) بھارت میں چھوٹے بچوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کے خلاف زہر بھرنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نجی تعلیمی بورڈ انڈین سرٹیفکیٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت چلنے والے سکولوں میں چھٹی جماعت کے طالبعلموں کو شور شرابے کا سبب بننے والی چیزوں کے بارے ایک سبق پڑھایا جارہا ہے جس میں ہوائی جہاز، ریل گاڑی، ٹریفک اور لاو¿ڈسپیکرز کو شور پیدا کرنے کی اہم وجہ بتایا گیا ہے اور سپیکرز کے بجائے کتاب میں مسجد کی تصویر بنائی گئی ہے جس سے بھارت میں مختلف حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مسجد کی تصویر پر تنازع پیدا ہونے کے بعد آئی سی ایس ای نے خود کو اس معاملے سے الگ کرلیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ بورڈ نہ کتاب چھاپتا ہے اور نہ سکولوں کو اس حوالے سے ہدایات دی جاتی ہیں لہٰذا سکول خود اس معاملے سے نمٹے۔ ادھر سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس کتاب کو سکولوں کے نصاب سے ہٹانے کی مہم شروع ہوگئی ہے۔ لوگوں کے بے پناہ احتجاج کے بعد مذکورہ کتاب کے پبلشر نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور معذرت بھی کر لی ہے۔

خبردار ان پھلوں کا جوس شوگر کا باعث بن سکتا ہے ، احتیاط کیجئے

ایڈنبرگ (نیٹ نیوز) عموماً پھلوں کے جوس کولڈ ڈرنکس کی نسبت کم نقصان دہ تصور کئے جاتے ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بھی انسانی صحت کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔گلاسگو یونیورسٹی میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پھلوں کے میٹھے جوس کا زیادہ استعمال اور سست طر ززندگی ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے ۔فروٹ جوسز میں چینی کی مقدار کولڈ ڈرنکس کے برابر ہی ہوتی ہے جس سے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور 3 ماہ تک لگاتار آدھا لٹر جوس کا استعمال انسولین کے نظام میں خرابی اور موٹاپے کا سبب بن سکتا ہے ۔

حقیقی عمر سے کہیں کم دکھائی دینے والی بہنیں ، سوشل میڈیا پر نئی بحث

بیجنگ(خصوصی رپورٹ)چین، تائیوان اور جاپان کے بیشتر لوگ اپنی عمر سے کم دکھائی دیتے ہیں لیکن ایک خاندان تو ایسا ہے جس میں 3 بہنیں اپنی عمر سے کئی گنا کم جب کہ ان کی والدہ بڑی بہن لگتی ہیں۔41 سالہ لوری ہوسو پیشے کے اعتبار سے فیشن ڈیزائنر ہیں جن کی تصاویر پہلے ہی سوشل میڈیا پر دھوم مچا چکی ہیں، لوری اپنی تصاویر میں 18 سے 20 سالہ دوشیزہ دکھائی دیتی ہیں لیکن حال ہی میں انہوں نے اپنی بہنوں کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں ان کی بہنیں بھی زیادہ عمر ہونے کے باوجود کم عمر دکھائی دے رہی ہیں۔لوری ہوسو کی دیگر دو بہنیں 40 سالہ فے فے اور 36 سالہ شیرن شادی شدہ ہیں لیکن دیکھنے والے ان کی عمر کے حوالے سے ہمیشہ دھوکا کھا جاتے ہیں۔لوری ہوسو کی والدہ اور بہنوں کے ساتھ تصاویر تائیوانی میڈیا میں بھی کافی سرگرم رہیں اور اب اس خاندان کو “فیملی آف فروزین ایج” یعنی منجمند عمر کے خاندان کے نام سے پکارا جانے لگا ہے۔40 سالہ فے فے کے مطابق جب ان کی والدہ جوان تھیں تو وہ بھی اپنی حقیقی عمر سے کئی گنا کم دکھائی دیتی تھیں اور اب ان کی عمر 63 برس ہوچکی ہے لیکن اب بھی لوگ انہیں ہماری بڑی بہن قرار دیتے ہیں۔لوری ہوسو کے مطابق وہ گزشتہ کئی سالوں سے باقاعدگی سے صبح اٹھنے کے بعد 350 سے 500 ملی لیٹر پانی پیتی ہیں جو ان کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔

قابل اعتراض فلم کو نمائش کی اجازت مل گئی

ممبئی(شوبز ڈیسک)ویسے تو بھارتی فلم انڈسٹری میں قابل اعتراض موویز بنانا معمول کی بات ہے، اور ایسی کئی فلموں کو وہاں کا سینسر بورڈ ریلیز سے پہلے ایسے مناظر ہٹانے کی ہدایات بھی جاری کرتا رہتا ہے۔جب کہ بولی وڈ کی کچھ ایسی فلمیں بھی ہیں، جنہیں وہاں کا سینسر بورڈ ریلیز کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتا، ان پر پابندی عائد کردی جاتی ہے۔اور بھارتی فلم انڈسٹری میں تیار ہونے والی تیسری قسم کی فلمیں ایسی ہوتی ہیں، جنہیں ریلیز ہونے کی اجازت تو دی جاتی ہے، لیکن انہیں بھارت میں نمائش کے لیے پیش نہیں کیا جاتا، اور اگر انہیں ہندوستان میں بھی نمائش کے لیے پیش کیا جانا ہو تو اس کے قابل اعتراض مناظر خارج کردیے جاتے ہیں۔اے سرٹیفکیٹ اس فلم کو دیا جاتا ہے، جو صرف بالغوں تک محدود ہوتی ہے، جب کہ اس فلم کے قابل اعتراض، متنازع اور خوفناک مناظر خارج کردیے جاتے ہیں مطابق لپ اسٹک انڈر مائے برقعہ’ کو اے سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کے بعد اسے 21 جولائی کو ریلیز کے لیے بھارت بھر میں پیش کردیا جائے گا، جب کہ پاکستان میں اس کی اسکریننگ کے حوالے سے تاحال کوئی خبر سامنے نہیں آسکی۔فلم پر تو تنازع جاری ہی تھا، مگر فلم کی ٹیم کی جانب سے 27 جون کو مووی کی نئی پرومو تصویر جاری کیے جانے پر بھی بھارت میں تنازع کھڑا ہوگیا۔لپ اسٹک انڈر مائے برقعہ’ فلم میں قابل اعتراض رومانوی مناظر ہیں، یہ فلم 4 خواتین کی زندگی کے ارد گرد گھومتی ہے، جو معاشرے میں کچھ آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں، اور اپنی مرضی کے مطابق رومانوی تعلقات بھی بڑھاتی ہیں۔فلم کے تازہ جاری کیے گئے ٹریلر میں فلم میں کالج کی طالبہ کا کردار ادا کرنے والی ایک لڑکی کو کالج کے لڑکوں کے ساتھ نڈر انداز میں بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔لڑکی کہتے ہوئی نظر آتی ہے کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ لپ اسٹک مت لگا افیئر ہوجائے گا جینز مت پہنو اسکینڈل ہوجائے گا میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ ایسا کیا ہوجائے گا، آپ ہماری آزادی سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں۔خیال رہے کہ اس فلم کی ہدایات بھی خاتون ایلانکریتا شریواستوا دے رہی ہیں، اس فلم میں کونکنا سین شرما، اہانا کمارا، پلابیتا بارٹھاکراور رتنا پاٹھک نے اہم کردار ادا کیے ہیں۔

اچھے کردارکیلئے منتظر ،ڈرامہ انڈسٹری کو خیربادنہیں کہا

کراچی(شوبز ڈیسک) صبا قمر نے کہا کہ ہمارے ڈراموں کا انڈین چینل پر نشر ہونا ، ٹی وی فنکاروں کی محنت کا ثمر ہے۔ بھارتی فلم ہندی میڈیم میں کام کرکے احساس ہواکہ پاکستانی فنکاروں کی شناخت ٹی وی ڈراموں سے ہورہی ہے جس میں میرا کام خاصا پسند کیا جارہا ہے۔ فنکار کو اچھے کردارکیلئے وقفہ دینا چاہئے۔ فلم ہندی میڈیم نے 100 کروڑ کا بزنس کرکے میرے بھی حوصلے بلند کردیئے ہیں۔ خیالات کا اظہارکرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس امر میں کوئی حقیقت نہیں کہ ڈرامہ انڈسٹری کو خیر باد کہہ دیا ہے ، کرداروں کی یکسانیت سے بچنے کیلئے فی الحال ڈراموں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا میرا حق ہے ،اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جائے کہ ڈرامہ انڈسٹری کو خیر باد کہہ دیا ہے میرے ایک درجن سے زائد سیریل پروڈکشن کے مراحل میں ہیں۔

ابھی سٹیج ڈرامے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں

لاہور(شوبز ڈیسک) پنجابی سٹیج ڈراموں کی ملکہ نرگس نے کہا ہے کہ چند غیرسنجیدہ اداکاراﺅں نے سٹیج اور فلم انڈسٹری کو بدنام کردیا ہے ، لوگ انٹرٹینمنٹ کیلئے سٹیج ڈرامے دیکھنے آتے ہیں جو ہمیں اپنے پرستاروں کو دینی چاہیے۔ایک انٹرویو میں نرگس نے کہا کہ اچھا اور برا انسان ہر جگہ اور ہر شعبے میں ہوتا ہے مگرا س کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تمام لوگ ہی برے ہیں تاہم میری نظر میں چند غیر سنجیدہ اداکاراﺅں نے اپنی منفی حرکات سے شوبزانڈسٹری کے لوگوں کو بدنام کیا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ قصور فنکاراﺅں کا اپنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میںاگر ہر کوئی اپنی ذمہ داری پوری کر ے اور دوسروں کے معاملات میں داخل اندازی نہ کریں تو سب کیلئے اچھا ہوجائیگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ابھی سٹیج ڈرامے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی بلکہ مزید اپنے پرستاروں کو انٹرٹینمنٹ دینا چاہتی ہوں تاکہ جو لوگ اپنے غم بھولنے کیلئے ہمارے پاس آتے ہیں انہیں بہتر سے بہتر تفریح مہیا کرسکوں۔#/s#

کامیابی میں والد کاہاتھ ،دکھاوے کو پسند نہیں کرتی

ممبئی(شوبز ڈیسک)بالی ووڈ اداکارہ سوناکشی سنہا کا کہنا ہے کہ میری زندگی میں خاندان بہت اہمیت رکھتا ہے ہر کام سے پہلے والدین سے مشورہ ضرور کرتی ہوں۔ ایک بھارتی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں سوناکشی سنہا نے کہا کہ وہ فلموں میں اپنی نمائش کر کے کامیابی پر یقین نہیں رکھتی انہیں ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور ڈائریکٹرز بھی ان کے پاس ایسے کردار لے کر نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فلمیں اس دکھاوے کے بغیر بھی کامیاب ہورہی ہیں۔ سوناکشی نے کہا کہ وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں لیکن خاندان بھی اہم ہے۔ وہ والدین سے مشورے لیتی ہیں اور والدین کے مشوروں کا ان کی زندگی میں اہم کردار ہے۔

پاکستان کی فوج کا ایسا کارنامہ کہ امریکی سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی بھی ششدر رہ گئی

اسلام آباد، راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی‘بیورو رپورٹ) وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ شرکت دار گہرے دوست ہیں ، دونوں ملکوں میں اور مستحکم شرکت داری خطے کے لیے اہم ہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں، افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہترکرنے کے لیے اقدامات کیے، ا مریکہ اور عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرے۔ جبکہ امریکی سنیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں قابل قدرہیں۔ تفصیلات کے مطابق پیر کو وزیراعظم نواز شریف سے امریکی سنیٹر کے وفد نے ملاقات کی ۔امریکی سینیٹ کی آرمڈ کمیٹی کے وفد میں جان مکین، لنڈسے گراہم، شیلڈن وہائٹ ہاوس، الزبتھ وارن اور ڈیوڈ پرڈیو جبکہ امریکی ناظم الامور جوناتھن پراٹ بھی شامل تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہاپاکستان اور امریکہ مضبوط شرکت دار اور گہرے دوست ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار اور مستحکم شرکت داری خطے کے لیے اہم ہیں گزشتہ 4سال میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کیں۔پاکستان کی موجودہ سلامتی صورتحال حکومتی کوششوں کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروںکا اعتماد بہال ہوا اور ملک میں معاشی استحکام رہا۔ ہماری حکومت ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہاں ہے افغانستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات بہترکرنے کے لیے اقدامات کیے۔پاکستان افغانستان نے پائیدار امن واستحکام کے لے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا افغانستان میں امن اور خوشحالی کے لیے پاک افغان امریکہ شراکت داری اہم ہے۔مقبوضہ کشیمر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش ہے۔ ا مریکہ اور عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کے خاتمہ کے لیے کردار کرے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر جان مکین نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان وامریکہ قریبی تعاون ضروری ہے۔امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔خطے میں امن کے لیے پاکستان امریکہ قریبی تعاون ضروری ہے۔امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان امریکہ کا قریبی دوست اور شراکت دار ہے۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں قابل قدرہیں۔پاکستان امریکہ کے درمیان دوطرفہ تجارت اورسرمایہ کاری نے تعاون ضروری ہے۔ ملاقات میںوزیراعظم کے ہمراہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور دیگر اراکین شامل تھے۔ وزیر اعظم نواز شریف سے ایئر چیف مارشل سہیل امان نے ملاقات کی جس میں پاک فضائیہ کے پیشہ وارانہ اور تربیتی امور سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وزیر اعظم محمد نواز شریف سے پاک فضائیہ کے ایئر چیف مارشل سہیل امان نے وزیر اعظم ہاﺅس میں ملاقات کی جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھی شامل تھے اس موقع پر سہیل امان نے نواز شریف کو پاک فضائیہ کے پیشہ وارانہ اور تربیتی امور سے متعلق آگاہ کیا جس میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاک فضائیہ دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہوتی ہے اور پوری قوم کو فخر ہے اور وہ جانتی ہے کہ ہماری ایئرفورس کا ملکی دفاع میں اہم کردار ہے اور پاک فضائیہ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے اور ہر طرح کے اندرونی اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ ایئرمارشل نے کہا کہ پاک سرزمین کی حفاظت کے لئے فضائیہ ہمہ وقت تیار ہے اور مادر وطن کی حفاظت پر کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے وفد نے سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا جہاں انہیں پاک افغان سرحدی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کے کام اور نگرانی کے نظام سمیت اٹھائے جانے والے دیگر اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے مطابق امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے وفد نے سینیٹر جان مکین کی سربراہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان ایجنسی کا دورہ کیا جہاں انہیں پاک افغان سرحدی صورتحال اور پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کے کام اور نگرانی کے نظام سمیت اٹھائے جانے والے دیگر اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد کو جنوبی وزیرستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے کی جانے والی کوششوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔ امریکی وفد کو جنوبی وزیرستان کا دورہ کرانے کا مقصد اسے سرحدی علاقے میں تعمیر ہونے والے نئے قلعوں، چیک پوسٹس، اسکولز، کالجز، اسپتال، فراہمی آب کی اسکیمز، سڑکوں اور مواصلاتی انفرااسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی کاموں سے متعلق آگاہ کرنا تھا۔امریکی وفد نے علاقے کا دورہ کرنے کے بعد زمینی حقائق کو خود دیکھا اور علاقے میں دوبارہ قیام امن کے لیے پاک فوج اور مقامی قبائل کی قربانیوں کا بھی اعتراف کیا۔ امریکی سینیٹرز نے پاک افغان سرحد پر منظم سیکیورٹی ہم آہنگی اور تعاون کے میکنزم کے قیام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ بعد ازاں امریکی وفد کو لائن آف کنٹرول کا بھی دورہ کرنا تھا تاہم خراب موسم کی وجہ سے وہ ایل او سی تک نہ جاسکے۔پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کا دورہ کرنے اور فاٹا کی سماجی و معاشی ترقی کو سپورٹ کرنے پر امریکی سینیٹرز کا شکریہ بھی ادا کیا۔ قبل ازیں وانا پہنچنے پر امریکی وفد کا استقبال کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کیا۔

قطری مکمل بائیکاٹ کیوں نہیں کیا ، سعودی فرمانروا نے پاکستان بارے دل کی بات کہہ دی

لاہور(حسنین اخلاق)حکومت کے لیے ایک اور دھچکا،سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود پاکستانی حکومت سے شدید نالاں ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق سعودیہ عرب کے فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز پاکستانی حکومت کے سعودیہ عرب کی قطر اور ایران کے حوالے سے پالیسی پردو رخے رویہ کی بنا پر آجکل نہایت ناراض ہیں اور اس حوالے سے سعودی انتظامیہ کا موقف ہے کہ پاکستانی حکومت اگر سعودی دوستی کی برملا” اونر شپ“ نہیں لے سکتی ہے تو کسی بھی ہنگامی یا جنگی صورتحال میں یہ کیسے ممکن ہوگا کہ وہ اپنی پارلیمان کو سعودی عرب کی مدد کے لیے تیار کرسکے۔سعودی فرماںروا پاکستان کی جانب سے قطر معاملے پر ثالثی کی پیشکش کو بھی مسترد کرچکے ہیں سعودی انتظامیہ کا موقف ہے کہ پاکستان کو قطر یا سعودیہ عرب میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ کچھ ہفتے قبل وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں جانے والے پاکستانی وفد کو بتایا گیا تھا کہ اگر وہ اس حوالے سے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو قطر کو اس بات پر آمادہ کریں کہ اول وہاں پر موجود ترکی کے فوجی اڈے کو ختم کروانے میں اپنا سفارتی کردار ادا کریں دوئم قطر ی حکومت کو الجزیرہ ٹی وی کی بندش پر تیار کرے دوسری صورت میں دونوں ممالک میں سے ایک کا انتخاب کیا جائے جس کے بعد پاکستانی حکومت کی جانب سے مسلسل خاموشی اختیار کرلی گئی ہے ۔دوسری جانب پاکستان میں تیزی سے کم ہوتی حمایت نے بھی سعودی حکومت کے لیے پریشانی کھڑی کررکھی ہے اور اس مقصد کے لیے اپنے سفارت خانے کوبھی متحرک ہونے کا حکم دیا گیا ہے جس کے بعد سعودی سفارت کار نہ صرف مختلف سیاسی جماعتوںکے قائدین سے ملاقاتیں کریں گے وہیں پاکستانی صحافیوں کو بھی اس بارے میںآن بورڈ لینے کی کوشش کی جارہی ہے مگر اس حوالے سے بھی مین سٹریم صحافیوں کی بجائے نان ورکنگ جرنلسٹس کے ساتھ ملاقاتیں کی جارہی ہیں جس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پارہے ہیں۔دوسال قبل پاکستان میں کرائے جانے والے سروے کے مطابق تقریباً نوے فیصد افراد سعودیہ عرب کی حمایت کرتے تھے یہ تعداد اب کم ہوکر ستر فیصد تک پہنچ چکی ہے۔سعودی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ کوئی بھی صورتحال یا دباﺅ ہو مگر سعودیہ عرب جنرل(ر) راحیل شریف کو واپس بھجوانا نہیں چاہتی ہے جس کے متعلق پاکستانی حکومت کو باقاعدہ طور پر آگاہ کردیا گیا ہے۔

اسحاق ڈار نے جے آئی ٹی کو کونسے ثبوت دئیے ، اندرونی کہانی سامنے آ گئی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے جے آئی ٹی کو وہ ثبوت فراہم کردیئے جو اب تک کسی نے نہیں دیے تھے۔ جے آئی ٹی رپورٹ میں جو کمی تھی اسحاق ڈار نے پوری کردی۔ یہ انکشاف سینئر صحافی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید بتایا کہ وہ پیشی سے قبل ہی اسحاق ڈار کی حالت پتلی تھی پچھلے چار روز سے نیند کی گولیاں کھارہے ہیں نوازشریف کی حوصلہ افزائی پر پیشی کیلئے گئے۔ جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے وقت ان کے پسینے چھوٹ رہے تھے بلڈپریشر سلو ہوگیا جس کے باعث تحقیقاتی ٹیم نے جلد جانے کی اجازت دیدی اسحاق ڈار نے ٹیم سے کہا کہ وعدہ معاف گواہ کیا میں یہ کام کرنے کو تیار ہوں صرف مجھے اور میرے بچوں کو چھوڑ دیں سینئر صحافی نے کہا کہ جے آئی ٹی نے مریم نواز کو طلب نہیں کرنا تھا لیکن کیپٹن (ر) صفدر اور حسیننواز کے بیانات نے طلبی پر مجبور کردیا۔