ملکی سیاست میں گرما گرمی ، پی ٹی آئی نے بھی مورچے سنبھال لیے

اسلام آباد، لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک، خصوصی نامہ نگار) ن لیگ نے ہزاروں خواتین کو اسلام آباد پہنچانے کا ٹاسک دیدیا ہے۔ مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ہنگامہ کھڑا کیا جانے کا پروگرام ہے۔ یہ انکشاف سینئر صحافی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 10سے 15ہزار خواتین کو اسلام آباد میں پہنچانے کا ٹاسک لیگی رہنماﺅں کو دیدیا گیا ہے۔ یہ خواتین مریم نواز کی پیشی کے موقع پر جے آئی ٹی دفتر کے سامنے مظاہرے کا پروگرام بنا رہی ہیں۔ ادھر بلدیاتی نمائندوں نے تیاریاں شروع کرتے ہوئے کل اسلام آباد میں ڈیرے جمانے کیلئے ٹیمیں تشکیل دیدیں اور بڑے پاور شو کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ادھرپاناما کیس کی تفتیش کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی نے برطانیہ کی قانونی فرم کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔پاناما کیس کی تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے اہل خانہ کی جانب سے پیش کی جانے والی دستاویزات کی تصدیق کے لیے برطانیہ کی ایک قانونی فرم کی خدمات حاصل کر لی ہیں جبکہ عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بنچ کے فیصلے کی روشنی میں قائم کی گئی جے آئی ٹی اپنی کارروائی مکمل کررہی ہے پاناماکیس کیلئے بنائی گئی جے آئی ٹی کا فیصلہ کن سفر شروع ہوچکا ہے۔ جیسے جیسے اس کی اختتامی مدت قریب آرہی ہے حکمران جماعت کے رہنماﺅں کی تقاریر میں تلخی بڑھ رہی ہے دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما بھی سخت لب لہجہ اختیار کئے ہوئے ہیں ملک کی سیاست میں گرما گرمی اور بے یقینی کی صورتحال سے ملک کے کاروبار ی حلقوں میں بھی سیاسی مستقبل کے بارے بے چینی اور تشویش نظر آتی ہے خصوصا سٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان نظر آرہا ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے حکمران جماعت کی اہم شخصیات مسلسل جے آئی ٹی کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کررہی ہیں جبکہ جے آئی ٹی نے بھی اپنی شکایات عدالت عظمیٰ تک پہنچائی ہیں۔اس کے علاوہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کے بیٹے حسین نواز اور بیٹی مریم نوازکی جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈ می کے اطراف سخت سیکورٹی انتظامات کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہو گا،سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائیگی ۔علاوہ ازیں پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی نے آئی جی اسلام آباد کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ مریم نواز کی پیشی کے موقعے پر ایک لیڈی افسر فراہم کی جائے۔ جے آئی ٹی کے خط پر آئی جی نے لیڈی پولیس اہلکار مقرر کر دی۔ ایس پی سپیشل برانچ ارسلہ سلیم کو مریم نواز کے ساتھ پیش ہونے کے لئے مقرر کر دیا گیا ہے۔ کل مریم نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گی۔گرما گرمی کے باوجود (ن) لیگی قیادت نے کارکنوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کردی ہے۔
مریم نواز پیشی

”بادشاہ کا بیٹا ہوں کوئی ایرا غیرا نہیں“, قطری شہزادے کا انکار،اب کیا ہوگا؟

دوحا (نیٹ نیوز) قطری شہزادے نے پاکستانی سفارتخانے میں آکر خط کی تصدیق سے انکار کردیا ہے جبکہ خط کی تصدیق کے لئے جے آئی ٹی کو اپنی رہائش گاہ آنے کی پیشکش کی ہے۔پانامہ جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے انکار کے بعد قطر ی شہزادے حامد بن جاسم نے میں پاکستانی سفارت خانے میں بھی پیش ہونے سے معذرت کر لی۔ذرائع کے مطابق قطری شہزادے نے جے آئی ٹی کی جانب سے لکھے گئے تیسرے خط کا جواب دے دیا ہے۔ حماد بن جاسم نے موقف اختیار کیا ہے”بادشاہ کا بیٹا ہوں کوئی ایرا غیرا نہیں“۔ وہ اپنے خط کی تصدیق کے لئے پاکستان نہیں آ سکتے۔ نہ ہی دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے میں پیش ہوں گے۔ تاہم اگر جے آئی ٹی میری رہائش گاہ پر آئے تو خط کی تصدیق کرنے کو تیار ہوں۔ قطری شہزادے کا جواب وزارت خارجہ نے جے آئی ٹی تک پہنچایا۔دوسری جانب جے آئی ٹی میں چار جولائی کو حسین نواز جبکہ پانچ جولائی کو مریم نواز پیش ہوں گے۔ مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے لئے جے آئی ٹی نے اسلام آباد پولیس کی خاتون افسر کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ جے آئی ٹی کی جانب سے آئی جی اسلام آباد کو خط لکھا گیا جس کے جواب میں آئی جی پولیس نے ایس ایس پی سپیشل برانچ ارسلہ سلیم کی خدمات جے آئی ٹی کے سپرد کر دی ہیں۔ذرائع کے مطابق ارسلہ سلیم پانچ جولائی کو مریم نواز کی پیشی کے موقع پر جے آئی ٹی میں مامور ہوں گی۔

اور اب جماعت اسلامی نے بھی کھڑاک کر دیا،ملک گیرتحریک چلانے کا اعلان

پشاور(ویب ڈیسک)جماعت اسلامی نے فاٹا اصلاحات کے لئے بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے فاٹا سے کالے قانون ایف سی آر کے خاتمے کے لئے” ایف سی آر نامنظور“ تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی عوام70 سال سے محرومی کا شکار ہیں، جماعت اسلامی ایف سی آر کے خاتمے اور فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کیلئے تحریک شروع کررہی ہے۔آرمی آپریشن کی وجہ سے فاٹا میں سکول اور کالجز بند پڑے ہیں۔قبائلی ایجنسیوں کے بازار اور مارکیٹیں موہنجوداڑو کا نقشہ پیش کررہے ہیں۔فاٹا کے عوام کا پیمانہ صبر لبریز ہوچکا ہے۔جماعت اسلامی نے ایف سی آر جیسے کالے قانون کے خاتمے کیلئے طویل جدوجہد کی ہے۔15جولائی تک تمام ایجنسی ہیڈکوآرٹرز میں پریس کانفرنسز کی جائیں گی جبکہ20جولائی سے پورے فاٹا میں ایف سی آر کے خاتمے کیلئے تحریک شروع کردی جائے گی۔تحصیل اور مرکزی ہیڈکوارٹرز میں10 اگست تک جلسے اور مظاہرے کریں گے۔10 اگست سے 20 اگست تک پورے فاٹا میں دیگر اتحادیو ں کو ساتھ ملاکر بڑے جلسے منعقد کریں گے۔پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ سرتاج عزیز کی کمیٹی نے 7 ہزار کے قریب فاٹا کے ملکان اور زعما سے رائے لے کر اصلاحاتی رپورٹ بنائی تھی لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے اصلاحاتی رپورٹ کے خاکے میں رنگ بھرنے کی کوشش نہیں کی جارہی۔حکومت نے 31دسمبر 2016ئ اور بعد ازاں اپریل 2017ءتک آئی ڈی پیز کی واپسی کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ اس وقت بھی ساڑھے9لاکھ آئی ڈی پیز مختلف کیمپوں اور علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ان آئی ڈی پیز کے بچے بھی تعلیم سے محروم ہیں۔ حکومت نے قبائلی عوام کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو اگست کے آخری ہفتے میں فاٹا اصلاحات کا مسئلہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے۔اگر اصلاحات پر عمل در آمد نہ کیا گیا تو فاٹا کے عوام کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی پشاور میں ایف سی آر نامنظور تحریک کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان، نائب امیر صاحبزادہ ہارون الرشید، جماعت اسلامی فاٹا کے سیکرٹری جنرل محمد رفیق آفریدی بھی موجود تھے۔

امرناتھ یاترا کی آڑ میں بھارتی فوج کا گھناﺅنا چہرہ بے نقاب ہو گیا

سری نگر (خصوصی رپورٹ) مقبوضہ کشمیر میں 8 جولائی کو برہانہ وانی کے پہلے یوم شہادت پر کشمیریوں کی تحریک کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارتی حکومت نے خصوصی تیاریاں شروع کردی ہیں جن میں امرناتھ یاترا کے بہانے سکیورٹی فورسز کی مزید دو سے کمپنیوں کی تعیناتی‘ 5 ہزار کی تعداد میں مزید پیلٹ گنز‘ 6 لاکھ کی تعداد میں پیلٹ شارٹس‘ ایک لاکھ ربڑ کی گولیاں‘ اتنی ہی تعداد میں کیمیائی مواد کے حامل پاواشیل بھی فوری طور پر سری نگر بھیج دیئے گئے ہیں۔ سری نگر سے دستیاب رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی وزارت داخلہ نے ب پیلٹ گن کے ساتھ ساتھ احتجاجی مظاہرین کو قابو کرنے کیلئے ربڑ کی گولیاں اور نئے طرز کے کیمیائی مواد کے حامل پاواشیل استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک لاکھ کے قریب ربڑ کی گولیاں اور دوبارہ تیار کئے گئے زیادہ تر اور مو¿ثر پاواشیل وادی روانہ کردیئے گئے ہیں۔ نئے پاواشیل میں مرچ کا کیمیکل بڑھا دیا گیا ہے اور یہ پہلے کے مقابلہ میں زیادہ قدرتی ہیں جن میں مرچ کے پاﺅڈر کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے تاکہ یہ پہلے سے دستیاب شیلوں کے مقابلے میں زیادہ مو¿ثر ثابت ہوں۔ رپورٹس کے مطابق اب مظاہرین سے نمٹنے کیلئے ایک نئی حکمت عملی کے تحت پیلٹ گن کے استعمال سے قبل پلاسٹک کی گولیاں داغی جائیں گی۔ پلاسٹک گولیوں کی بھاری کھیپ تجرباتی استعمال کے بعد وادی بھیجی جاچکی ہیں جبکہ نئے طرز کے پاوا شیل کو بھی تجرباتی مراحل سے گزارنے کے بعد ہی وادی روانہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پلاسٹک گولیوں اور نئے طرز کے پاوا شیلوں کی دستیابی کے بعد اب وادی میں پولیس اور سکیورٹی فورسز کے پاس مشتعل عوام پر قابو پانے کے لئے براہ راست گولی چلانے سے پہلے متعدد متبادل دستیاب ہوں گے جن میں آنسو گیس‘ پاواشیل‘ گیس گن سے داغی جانے والی ربڑ کی گولیاں‘ پلاسٹک گولیاں اور پیلٹ گن شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حال ہی میں مرکزی وزارت داخلہ نے وادی میںتعینات سنٹرل ریزرویشن فورس کیلئے مزید 4949 پیل گن خریدنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد فورس کے پاس ان بندوقوں کی تعداد 5589 تک پہنچ جائے گی۔ اس کے علاوہ دہلی سرکار نے پیلٹ گن میں استعمال ہونے والے چھ لاکھ سے زیادہ چھروں کے کاٹرج جنہیں عام طور پر پیلٹ شاٹس کہا جاتا ہے خریدنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب 29 جون سے شروع ہونے والی سالانہ امرناتھ یاترا کی آڑ میں سکیورٹی فورسز کی 200 اضافی کمپنیاں تعینات کردی گئی ہیں۔ سی آر پی ایف اور ایس ایس پی کی نئی کمپنیوں کی تعیناتی وادی میں پہلے سے موجود پیرا ملٹری اور ریاستی پولیس کے اضافی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وادی میں جنگویانہ سرگرمیوں میں روزبروز اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکار امرنات یاترا کے متعلق کوئی بھی کوتاہی برتنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ سری نگر سے ایک ذریعہ نے اطلاع دی ہے کہ یاترا کے نام پر آنے والی فورس بھی کشمیریوں کا احتجاج کچلنے کا ہی ایک حربہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کو روکنے اور تحریک کو کچلنے کی خاطر ایک طرف منی لانڈرنگ کا جال پھیلایا جارہا ہے تو دوسری جانب بعض قائدین کی باقاعدہ گرفتاری یا نہیں خوفزدہ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیاہے۔ اس حوالے سے سید علی گیلانی کے خلاف ایک 27 سالہ پرانے مقدمہ میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے ہیں جو کہ بھدرواہ میں درج کیا گیاتھ۔ اس مقدمہ میں سید علی گیلانی پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک تقریب کے دوران بھارت مخالف اور اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ بھدرواہ کی ایک عدالت نے مذکورہ مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے گیلانی کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کیا۔ معلوم ہوا ہے کہ بھدرواہ کی ایک پولیس ٹیم وارنٹ لے کر سرینگر وارد ہوئی اور پولیس تھانہ ہمبامہ کی ایک ٹیم کے ہمراہ گیلانی کے گھر گئی جہاں انہوں نے گیلانی کو وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے آگاہ کیا۔ اس دوران سید علی گیلانی نے خود کو گرفتار کیلئے پیش کیا تاہم مذکورہ ٹیم کی جانب سے گیلانی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی جبکہ حریت ترجمان نے وارنٹ گفرتاری کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔

پاکستانی میزائل ٹیکنالوجی میں جدت, بھارت کو سانپ سونگھ گیا

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) حکومت نے ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کیلئے میزائل ٹیکنالوجی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان نے اپنی میزائل ٹیکنالوجی بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ چند روز میں اہم میزائل تجربات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آئندہ چند روز میں مختلف رینج کے میزائل تجربات کرنے والا ہے جس سے ملکی دفاع مزید مضبوط ہو گا۔ جن میزائلوں کے تجربات ہونگے وہ میزائل ممکنہ طور پر جدید قسم کے کروز اور بیلسٹک میزائل ہوسکتے ہیں جن کا مقصد دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانا ہے۔اس مقصد کےلیے پاک فوج نے آئندہ چند دنوں کے دوران کئی میزائل تجربات کی تیاریاں مکمل ہیں جبکہ یہ تجربات ایک سلسلے کی شکل میں وقفے وقفے سے کیے جائیں گے۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میزائل تجربات کا فیصلہ علاقائی صورتِ حال اور ملکی دفاع کو درپیش چیلنجوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ان میزائلوں کے بارے میں یہ اندازہ بھی ہے کہ انہیں خاص طور پر دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو شکست دینے کےلیے آزمایا جائے گا۔واضح رہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس بابر کروز میزائل کے مختلف ورژن موجود ہیں جنہیں زمین اور سمندر سے لانچ کیا جاسکتا ہے جبکہ اسی میزائل کا قدرے ترمیم شدہ ڈیزائن رعد کروز میزائل پاک فوج کےلیے تیار کیا گیا ہے جسے لڑاکا طیارے سے ہدف کی طرف چھوڑا جاسکتا ہے۔بیلسٹک میزائلوں کے ذیل میں یوں تو پاکستان کے پاس شاہین اور دیگر بیلسٹک میزائل برسوں سے موجود ہیں لیکن اس سلسلے میں تازہ ترین اضافہ ابابیل بیلسٹک میزائل کا ہے جو 2200 کلومیٹر کی رینج کا حامل ہے اور ایم آئی آر وی یعنی ایک وقت میں کئی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت سے لیس بھی ہے۔

میں یہ کام کرتا رہونگا, رہائی کے بعد پرتپاک استقبال سے کھلبلی مچ گئی

سرگودھا (نمائندہ خبریں) پانامہ لیکس میں نواز شریف اور انکے خاندان کی تلاشی اب ہو کر رہے گی حکومت تلاشی کے خوف سے حواس باختہ ہو چکی ہے کل تک جے آئی ٹی بنوانے والے آج اسی کیخلاف سڑکوں پر جگہ جگہ میلے لگا کر جے آئی ٹی کو متنازعہ بنانے میں مصروف عمل ہیں۔ حکمرانوں کو رات کو سوتے ہوئے بھی جمشید دستی نظر آتا ہے حکمران سانحہ احمد پور شرقیہ بھول گئے اور انہیں جمشید دستی یاد رہا۔ آزاد عدلیہ کے باعث آج مجھے رہائی ملی ہے اسمبلی کے اجلاس میں سیاہ پٹی باندھ کر جاﺅں گا۔ اب نااہل حکمرانوں کیخلاف کلمہ حق آخری دم تک بلند کرتا رہوں گا۔عمران خان سمیت پرویز الہیٰ ‘چوہدری شجاعت اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے جس طرح اسمبلی میں میرے لئے آواز بلند کی میں ان کا شکر گزار ہوں ۔ا ن خیالات کا اظہار رکن قومی اسمبلی جمشید دستی نے ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا سے رہائی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ جس طرح موجودہ حکمران اپنے سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں اسکی ریاست میں کوئی اور مثال نہیں ملتی جو بھی ان کیخلاف آواز اٹھاتا ہے اس کیخلاف ناجائز مقدمات اور دیگر الزامات عائد کرکے اسے پس زندان ڈال دیا جاتا ہے جس طرح حکومت نے میرے خلاف اقدامات اٹھائے ہیں وہ انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہیں میں غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور میں غریبوں کی آواز بلند کرتا رہوں گاجاگیرداروں کیخلاف ہر محاذ پر لڑوں گا خواہ اس کیلئے مجھے کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے ۔جمشید دستی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کئے جانیوا لے جبر اور ظلم کے بعد جس طرح چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے ازخود نوٹس لیا اور آزاد عدلیہ کی وجہ سے ہی آج میں آزاد فضا میں سانس لے رہا ہوں اب حکومت کیخلاف بھر پور طریقے سے تحریک چلاﺅں گا کیونکہ حکو مت نے جو میرے خلاف کرنا تھا وہ کر لیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سمیت دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ ساتھ میڈیا کا خصوصی کردار رہا ہے جسے میں کبھی فراموش نہیں کروں گا ۔بہاولپور جیل میں میرے ساتھ جس طرح انسانیت سوز سلوک کیا گیا میری بیرک میں بچھو ‘چوہوں کی بہتات تھی مجھ پر تشدد بھی کیا گیا لیکن من مرضی کے سرکاری ملازمین کو بھجواکر میرا طبی معائنہ کرایا گیا اور اپنی منشاءکے مطابق ڈاکٹری رپورٹ تیار کروائی گئی جو حکمرانوں کیلئے باعث شرم ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب کوئی بھی غیور پاکستانی حکمرانوں دوبارہ کبھی بھی ووٹ نہیں دے گا۔اس موقع بہاولپور کے ساتھ ساتھ ان کے آبائی علاقے اور سرگودھا میں پی ٹی آئی کے رہنماﺅں اور کارکنوں کی بڑی تعداد جیل کے باہر ان کے استقبال کیلئے جمع تھی جنہوں نے پنجاب حکومت کیخلاف سخت نعرہ بازی کی۔

سندھ اسمبلی میں نیب کیخلاف کاروائی کا اختیار ختم ،اپوزیشن منہ دیکھتی رہ گئی

کراچی‘ اسلام آباد (رپورٹنگ ٹیم) سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی ہنگامہ آرائی ، نعرے بازی اور مخالفت کے باوجود سندھ اسمبلی نے نیب آرڈیننس منسوخی کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ، نیب آرڈیننس منسوخی کا بل صوبائی وزیر قانون ضیالنجار کی جانب سے پیش کیا گیا۔ نیب آرڈیننس منسوخی بل کی منظوری سے نیب کا سندھ میں صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں، افسران کے خلاف کارروائی کا اختیار ختم ہوجائے گا اور نیب سندھ میں صرف وفاقی اداروں کے حکام کے خلاف کارروائی کا مجاز ہوگا۔تفصیلات کے مطابق اسپیکر آغا سراج درانی کی سربراہی میں سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر قانون ضیا لنجار نے نیب آرڈیننس 1999 سندھ منسوخی کا بل پیش کیا جو ارکان اسمبلی نے منظور کرلیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے شورشرابا کیا گیا، ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ کر ’نو کرپشن نو‘ کے نعرے لگائے اور ایوان سے واک آو¿ٹ کیا جب کہ وفاق نے بھی سندھ کے انسداد بدعنوانی کے مجوزہ قانون کو مسترد کردیا۔صوبائی وزیر قانون ضیا لنجار نے کہا کہ ہم نیب آرڈیننس کو وفاق کی طرف سے سندھ کے معاملات میں مداخلت سمجھتے ہیں، نیب عزت دار افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ دنیا میں ایسا کوئی قانون نہیں کہ جہاں مقدمہ، ضمانت اور سزا ضمانت ایک ہی ادارہ کرے۔ اس موقع پر سپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی نے اپوزیشن کو احتجاج سے دور رکھنے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں آپ کے لیڈروں کی عزت کرتاہوں آپ بھی میری بات مان لیں۔ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ آج پیپلز پارٹی کے ملک دشمن عزائم سامنے آگئے ہیں’.ان کا کہنا تھا کہ میں بڑی ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ آج پیپلز پارٹی نے آئین پاکستان کے خلاف جا کر ایک آئین سندھ میں بنایا ہے، ہم نیب کی وکالت نہیں کررہے ہیں بلکہ نیب کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے جس کی ہم تمام اپوزیشن نے تنقید کی ہے کہ نیب سندھ میں اپنا کام کیوں نہیں کررہی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جس طر ح اس قانون کو ختم کرنے اور آئین کو مسترد کیا ہے یہ آئین کسی کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ قائد اعظم کے پاکستان کا آئین ہے’۔’یہ قانون آئین کے آرٹیکل 268، 143،8 اور 31 کی خلاف ورزی ہے اور آرٹیکل 31 کے تحت آپ اسلامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی قانون نہیں بنا سکتے’۔اسمبلی سے منظور شدہ بل کر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘یہ خود ہی قاتل ہوں گے اور خود ہی منصف ہوں گے، یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جب پورے ملک میں کرپشن کی بات آتی ہے تو پی پی پی کا نام کیوں آتا ہے، پی پی پی کے وزرا، سیکریٹریز اور من پسند لوگ نیب کو مطلوب کیوں ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اسلام آباد میں نواز شریف پر جے آئی ٹی بنی تو آپ بڑے خوش ہیں جبکہ وہ بھی نیب سے پاس ہوگئے تھے تو آپ نے جے آئی ٹی کی حمایت کیوں کی’۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ‘اب گورنرسندھ پر بڑی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قانون کو منظور نہ ہونے دیں کیونکہ پی پی پی نے نیب آرڈی نینس کو ختم نہیں کیا بلکہ ختم کرنے کی ایک کوشش کی ہے’۔نیب آرڈیننس کی منسوخی کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘ہم تمام جماعتیں اس قانون کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے، سندھ کے تمام پریس کلب، سندھ کی تمام گلیوں میں تحریک چلائیں گے اور احتجاج کریں گے’۔وفاقی وزارت قانون کا ردعمل سندھ اسمبلی کی جانب سے نیب آرڈیننس کو ختم کرنے منظور کردہ قانون کو ناقابل اطلاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کا انسداد بدعنوانی کا قانون نافذ نہیں ہو سکتا۔وفاقی وزارت قانون کا کہنا ہے کہ آئین کے ا?رٹیکل 142،143 کے تحت کوئی صوبہ نیب قانون کو ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا اس لیے وفاقی قانون ہی رائج رہے گا۔وفاق کا کہنا ہے کہ ایک ہی معاملے پر دو قوانین کی صورت میں وفاقی قانون کو برتری حاصل ہوتی ہے۔

فیصلہ شریف خاندان کیخلاف آیا تو 2018 میں الیکشن ہونگے یا نہیں ،اہم انکشاف

سیالکوٹ(بیورورپورٹ)سابق وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خاں نے کہا کہ ہے کہ پانامہ کیس کا فیصلہ اگر نواز شریف فیملی کے خلاف آیا تو پھر 2018 ءکے انتخابات ممکن نہیں ہونگے کیونکہ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد کڑے احتساب کا عمل شروع ہوگا جو کہ سابق اور موجودہ حکمرانوں پر بھار ی ہوگا اور اس بے رحمانہ احتساب کے بعد ملک میں ہونے والے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے نتیجہ میں اچھی اور دیانت دار نئی قیادت سامنے آئے گی اُنہوں نے کہا کہ پانامہ کیس کے فیصلے سے قبل ہی مسلم لیگ(ن) نے آئندہ انتخابات کے لیے مظلومیت کا نعرہ چن لیا ہے لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہوگا کیونکہ عوام موجودہ اور سابق حکمرانوں کی کرپشن کے حوالے سے باشعور ہو چکے ہیںاور اب وہ اُنکی مظلومیت کے جھانسے میں نہیں آئیں گے وہ اپنے مختصر دورہ سیالکوٹ کے دوران سابق رکن آزاد کشمیر اسمبلی صاحبزادہ محمد رضا مرحوم کی چہلم میں شرکت کے بعد مقامی صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے پاکستان کونسل فار سو شل ویلفیئر اینڈ ہیومن رائٹس کے چیئر مین محمد اعجاز نوری، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے ڈویژنل صدر وحید الحق ہاشمی ایڈووکیٹ، صاحبزادہ صلاح الدین رضا، احسن رضا اور عماد الدین رضا بھی اس موقعہ پر موجود تھے سردار عتیق احمد خاں نے کہا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ پاکستانی سیاست اور ملک کے مستقبل پر مثبت اور گہرے اثرات چھوڑے گا اُنہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو ، نصرت بھٹو ، شرمیلہ فاروقی اور دیگر خواتین عدالتوں اور پولیس تفتیشوں کا سامنا کرسکتی ہیں تو مریم نواز کیوں نہیں امریکہ کی جانب سے کشمیر ی حریت پسند رہنما سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کے فیصلے پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہو ئے سردار عتیق احمد خاں نے کہا کہ بھارت کے اشاروں پر سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے سے مہذب اقوام میں خود امریکہ کا قد چھوٹا ہوگیا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجودہ مسئلہ کشمیر سے وابستہ ایک حریت پسند رہنما کو دہشت گرد قرار دینا تحریک آزادی کشمیر اورآزادی کی دیگر تحریکوں کو کچلنے کے مترادف ہے اُنہوں نے کہا کہ سید صلاح الدین ریاست جموں و کشمیر کے باشندے ہیں اوراُن کی سیاسی جدوجہد اپنی دھرتی کی آزادی کے لیے ہے اور اس کا عالمی بدامنی سے کو ئی تعلق نہیں اُنہوں نے کہا ٹرمپ مودی اتحاد اور اُن کی منفی سوچ خطے میں نئی بد امنی اور عدم توازن کو جنم دے گی مودی جیسے انتہا پسند سے امریکہ کا اتحاد خطے میں نئی جنگ کی بنیاد بن سکتا ہے اُنہوں نے مذید کہا کہ فوج اور ہماری خفیہ ایجنسیوں نے کلبھوشن یادیو کو بے نقاب کرکے دنیا پر بھارت کے بطور ریاست دہشت گرد ہونے کے ثبوت فراہم کر دیئے ہیں اب عالمی طاقتوں اور مہذب اقوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارتی حکومت کی دہشت گردی پر اپنا رد عمل دیکھائیںاُنہوں نے کہا پاکستانی فوج پر کمزور فوج کا الزام لگانے والے بھارت کے ایک حاضر سروس آفیسر کا پاکستان کے آرمی چیف کو رحم کی اپیل کرنا بھارتی حکومت اور فوج کے لیے باعث ہزیمت ہے اُنہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہاہ کرنا چاہتا تھا لیکن ایسا نہیں ہو سکا اور پوری دنیا پاکستانی افواج کے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کو سراہا رہی ہے اُنہوں نے انسانی حقوق کے لیے سرگرم عمل غیر ملکی این جی اوز، سول سو سائٹی ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و ہمہ گیر انسانی ترقی کیلئے بھارتی حکومت خصوصا نرنیدر مودی پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے دباﺅ ڈالیں کیونکہ بھارتی حکمرانوں کے جارحانہ رویہ نے پوری دنیا کا امن دا ﺅ پر لگا دیاہے ، بدامنی ، ممکنہ پاک بھارت جنگ کے خطرات سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کی ذمہ داری بنتی ہے وہ بھارت میں انتہاپسندی کے رویہ کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے ،پاکستان نے ہمیشہ نے مذاکرات کو ترجیح دی لیکن بھارت کا متعصبانہ و جارحانہ رویہ جنوبی ایشیا کے امن کیلئے مستقل خطرہ ہے جس کا تدارک نہ کیا گیا تو اس خطہ میں دیگر المیے جنم لے سکتے ہیں جو پوری دنیا کو اپنی لیپٹ میں لے سکتے ہیں ، لائن آف کنٹرول پربھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیاں اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی عکاس ہیں ، ان حالات میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری ،حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) وفاقی حکومت نے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوںاور الاﺅنسز میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے ۔ اس سلسلے میں پیر کو جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ تنخواہوں اور الاﺅنسز کے نظرثانی شدہ پے سکیلز جاری کر دیئے گئے ہیں جن کے تحت گریڈ ایک ملازم کی کم از کم بنیادی تنخواہ 9130 روپے ماہانہ ہو گی جبکہ یکم جولائی سے تنخواہ پر دس فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس بھی ملے گا ۔

حکمران 10سال کیلئے نااہل, بڑی خبر

اسلام آباد (نیٹ نیوز) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ قوم سے وعدہ کرتا ہوں اگر جے ائٓی ٹی رپورٹ کے بعد پانامہ کیس پر عدالت میں جرح ہوئی تو میں کیس کے فریق کی حیثیت سے نواز شریف کو عدالت میں پیش کراﺅں گا۔ اسحق ڈار کو نواز شریف سمجھتے ہیں۔ یہ پھر بھی برداشت کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سمجھنا اور ان کے چہرے کو پڑھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی ماڈرن فارم ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ حکمران 10سال کےلئے نااہل ہونے جا رہے ہیں۔ نواز شریف کو ایجنڈا دیا گیا ہے کہ پاک فوج کو تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف نااہل ہونگے تو اس ملک کی عزت میں اضافہ ہو گا۔ اسحاق ڈار بالکل منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کونسا بچہ باپ کو ارب روپے تحفہ میں دیتا ہے۔ حکمران خاندان کی سیاست کی پتنگ کٹ چکی ہے۔ حکومت کا کام تمام ہو چکا ہے۔ خدا نے انہیں تکبر کی سزا دی۔ ن لیگ نے کارکنوں کو کال دی تو لگ پتہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سات ہفتوں میں معاملہ سامنے کھل کر آ جائے گا۔ پہلے پپو 2میں فیل تھا مجھے تو 5 میں فیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے خلاف ہو گا تو ہمیں قبول ہے۔