عمران خان کا ”سیاسی ایزی لوڈ “ن لیگ کا تازہ بیان

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے) صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کا حشر (ق) لیگ جیسا ہی ہوگا ‘عمران خان کو سیاست میں زندہ رکھنے کےلئے ”سیاسی ایزی لوڈ“کر نا پڑ رہا ہے ‘(ن) لیگ نہ صرف آئینی مدت پوری کر ےگی بلکہ آنےوالی حکومت بھی (ن) لیگ کی ہوگی ‘جے آئی ٹی پانامہ انکوائری نہیں کچیھ ”اور“کر نا چاہ رہی ہے قوم (ن) لیگ کیساتھ کھڑی ہے عام انتخابات2018میں ہی ہوں گے ۔ اتوار کے روز گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا کہ عمران خان چور راستے سے اقتدار مےں آنے کے اےک بار پھر خواب دےکھ رہے ہےں مگر وہ اےک بات اپنے ذہن مےں رکھ لےں کہ وزےر اعظم بننے کی انکی خواہش کسی صورت پوری نہےں ہوگی اور وزےر اعظم نوازشرےف بطور وزےر اعظم نہ صرف آئےنی مدت پوری کرےں گے بلکہ آئندہ وزےر اعظم بھی نوازشر ےف ہی ہوں گے ۔ انہون نے کہا کہ عمران خان تےزی کے ساتھ سےاسی دےوالےہ پن کا شکار ہو رہے ہےں اور انکو زندہ رکھنے کےلئے سےاسی اےزی لوڈ کروانا پڑ رہا ہے لےکن ہم سمجھتے ہےں کہ انکی سےاست ختم ہو چکی ہے اور آنےوالے انتخابات مےں انکا حشر (ق) لےگ سے بھی بدتر ہوگی اور (ن) لےگ حکومت اور عوامی دلوں پر راج کرتی رہے گی ۔ گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا ہے کہ 10جولائی کو کچھ نہیں ہونے والا کوئی بھونچال نہیں آئے گا جے آئی ٹی نے ابھی صرف رپورٹ جمع کرانی ہے رپورٹ پر فیصلے میں وقت لگے گا،کراچی کے مسائل کے ذمہ دار گزشتہ حکمران ہیں مسلم لیگ(ن) سیاسی جماعت ہے دیوار کے ساتھ نہیں لگایا جاسکتا ۔اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ نیب کو ختم کردیا جائے گا۔ تو احتساب کیسے ہوگا؟ وفاق کو آئی جی سندھ کے لیے 3نام بھیجے تھے۔ کراچی کے مسائل کے ذمہ دار گزشتہ حکمران ہیں۔ پہلے امن قائم کیا اب کراچی کے مسائل ختم کریں گے۔انھوں نے کہا کہ 10جولائی کو کچھ نہیں ہونے والا کوئی بھونچال نہیں آئے گا۔ جے آئی ٹی نے صرف رپورٹ جمع کرانی ہے۔ رپورٹ پر فیصلے میں وقت لگے گا۔ بیرون ملک مقیم وزیراعظم کے خاندان پر پاکستان کا قانون لاگو نہیں ہوتا ۔گورنر سندھ نے کہا کہ مسلم لیگ( ن) سیاسی جماعت ہے۔دیوار کے ساتھ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما و رکن قومی اسمبلی طلال چوہدری نے کہا ہے کہ انشاءاللہ ہماری قیادت پاناما پیپرز کیس میں فتح یاب ہو گی۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے اور آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی کے کچھ اراکین پر تحفظات کے باوجود آئین و قانون کی بالادستی ہی کےلئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے خود کو اور اپنے خاندان کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش کیا۔ رکن قومی اسمبلی نے کہاکہ قومی ادارے میچور اور آزاد ہیں اور آئین کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ پاناما پیپرز کیس میں عدالتیں شریف خاندان کو انصاف فراہم کریں گی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی واصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ مشرف اور زرداری سے پہلے نواز شریف کا احتساب ، کھیل سب کومعلوم ہے ،چندعناصرکی خواہش ہے عدلیہ میں جسٹس منیرکی روح دوبارہ آجائے، عمران جو کام ووٹ سے نہیں کرسکے وہ سپریم کورٹ سے کروانا چاہتے ہیں ۔ایک بیان میں احسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ پہلے مشرف کافیصلہ کرکے سول لیڈرزکااحتساب کرتی تو بات سمجھ میں آتی، مشرف اور زرداری سے پہلے نواز شریف کا احتساب ، کھیل سب کومعلوم ہے۔ انہوں نے کہا عمران جو کام ووٹ سے نہیں کرسکے،چاہتے ہیں سپریم کورٹ انکوکر کے دے ۔انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی عوام کی نظر میں متنازع ہو چکی ہے۔سازشوں کی پھونکوں سے یہ چراغ نہیں بجھائے جا سکتے۔مسلم لیگ (ن)اورنواز شریف مضبوط سیاسی حقیقتیں ہیں۔ انہوںنے کہاکہ سی پیک کوناکام کرنے کےلئے سیاسی انتشار پیدا کرنےکی کوششیں ہورہی ہیں،چندعناصرکی خواہش ہے عدلیہ میں جسٹس منیرکی روح دوبارہ آجائے۔

ماضی کے باعث کئی رشتہ دارمجھے چھوڑ گئے

ممبئی(شوبز ڈیسک)بالی ووڈ کی خوبرو اداکارہ سنی لیون نے کہا ہے کہ ماضی کو بھول جانا ہی میرے لئے بہتر ہو گا ، میرے ماضی کی وجہ سے مجھ سے تمام رشتہ دار پہلے ہی تعلق توڑ چکے ہیں ، اب مزید اسے یاد کرکے اپنے نئے دوستوں اوررشتہ داروں کوبھی نہیں گنوانا چاہتی۔ ایک انٹرویو میں سنی لیون نے کہا کہ میری تمام تر توجہ بالی ووڈ میں اپنے کام پر مرکوز ہے اور میں بالی ووڈ میں اپنی صلاحیتوں کو لوہا منوانا چاہتی ہوں ۔ اس کے علاوہ متعدد ویڈیوز سونگ میں بھی اپنے پرستاروں کو نظرآرہی ہوں اور یہی میری کامیابی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میرا ماضی اب قصہ پرانا بن چکا ہے اور میں اسے بھولنا چاہتی ہوں کیونکہ یہی میرے حق میں بہتر ہو گا ۔اپنے ماضی کی وجہ سے میں نے اپنے کافی رشتہ داروں کو کھو دیا مگر اب اسے یاد کر اپنے نئے دوستوں اور رشتہ داروں کو نہیں کھونا چاہتے۔ ایک اورسوال کے جواب میں سنی لیون نے کہاکہ گلیمرس میرا شوق ہے اور اسے میں بالی ووڈ میں بھی جاری رکھوں گی اور ویسے بھی یہ صرف میرا نہیں بلکہ بالی ووڈ میں کام کرنیوالی ہر ہیروئن خود کو نمایاں کرنے کیلئے شارٹ لباس پہنتی ہیں اور مجھے مختصر لباس پہنا بہت پسند ہے۔

پاکستان کے بڑے شہروں میں اہم کیس کے فیصلے سے قبل کیا ہونے جارہا ہے ؟؟

لاہور(نادر چوہدری سے)تحریک طالبان اور جماعت الاحرار کی جانب سے خود کش بمباروں پر مشتمل 2لشکر تیار، زاہد بابر عرف کمانڈر مظہر”لشکر ضرار”جبکہ مجاہد اختر عرف رحمت اللہ عرف کمانڈر حماد “لشکر زمرانی” کی نگرانی و قیادت کریگا،ڈی آئی جی مردان ،پشاور اور لاہور سمیت اہم شخصیات کو” لشکر ضرار” جبکہ سی ٹی ڈی افسران و اہلکاروں کو نشانہ بنانے کےلئے “لشکر زمرانی”سرگرم عمل ،17جولائی تک دہشتگردانہ کاروئیاں مکمل کر کے افغانستان فرار ہونے کے کی منصوبہ بندی کا انکشاف،قانون نافذ کر نے والے ادارے متحرک ،سی ٹی ڈی کی حراست میں اور جیلوں میں قید دہشتگردوں سے زاہد بابر عرف کمانڈر مظہراورمجاہد اختر عرف رحمت اللہ عرف کمانڈر حمادبارے تفتیش شروع کر دی گئی۔باوثوق ذرائع کے مطابق تحریک طالبان عمر منصور گروپ کی جانب سے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں دہشتگردانہ کاروائیوں بالخصوص کاﺅنٹر ٹیراریزم ڈیپارٹمنٹ کی عمارتوں ، افسران اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کیلئے دہشتگردوںپر مشتمل ” لشکر زمرانی ”کے نام سے ایک گروپ بنایا ہے جس میں تقریباً 15کے قریب دہشتگرد شامل ہیں ۔پاکستان کے چاروں صوبوں میں سی ٹی ڈی نے بڑے دہشتگردوں کو ہلاک کیا ہے اور سی ٹی ڈی کی سے اپنے ہلاک ہونے والے ،سزائیں پانے والے اور پھانسی چڑھنے والے دہشتگردوں کا بدلہ لینے کیلئے یہ گروپ تیار کیا گیا ہے ۔ مجاہد اختر عرف رحمت اللہ عرف کمانڈر حماد کو اس گروپ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ “لشکر زمرانی” میں شامل تمام مجاہد ین خود کش بمبار ہیں اور یہ پنجاب اور پشاورسے اپنی کاروائیوں کا آغاز کریں گے ۔پنجاب میں بہاولپور، لاہور اور راولپنڈی میں سی ٹی ڈی کے ملازمین کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔دوسری جانب تحریک طالبان اور جماعت الاحرار نے نہایت ہی پر خطر ٹریننگ یافتہ دہشتگرد پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا ہے جس کا نام “لشکر ضرار”رکھا گیا ہے اور اس کا سربراہ زاہد بابر عرف کمانڈر مظہر کو بنایا گیا ہے ۔کمانڈر مظہر بلوچستان کے علاقہ “چلانگ”کا رہائشی ہے اور پاکستان کے اہم شہروں و علاقوں سے واقفیت رکھتا ہے ۔یہ گروپ اہم پولیس افسران کو نشانہ بنانے کیلئے تیار کیا گیا ہے ۔ ڈی آئی جی مردان ،پشاور اور لاہور میں چند اہم پولیس افسران پر حملے کرنا ان کے پلان میں شامل ہے ۔یہ فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے مجاہدین کا بدلہ تصور کیا جائیگا ۔ذرائع کا مزیدکہنا ہے کہ تشکیل دیے گئے دونوں گروپوں نے یکم جولائی2017ءسے 17جولائی2017ءتک پاکستان کے مختلف شہروں میں میں اپنی دہشتگردانہ کاروائیاں مکمل کرکے افغانستان فرارہونا ہے ۔حساس اداروں کی جانب سے دہشتگردوں کی جانب سے کی جانے والی تیاریوں کے سد باب کیلئے سی ٹی ڈی کی حراست میں زیر تفتیش ، جیلوں میں سزا یافتہ ا، انڈر ٹرائل اور بھانسی کی سزا کے بعد اپیلیں کر نے والے اور ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کے عزیز و اقارب سے زاہد بابر عرف کمانڈر مظہراورمجاہد اختر عرف رحمت اللہ عرف کمانڈر حمادکا پتہ لگانے کیلئے پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جبکہ جیلوں سے رہائی حاصل کر نے والے ان ملزمان و مجرمان کا ڈیٹا اکھٹا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی خفیہ نگرانی کی جارہی ہے ۔

اسلام آبادکے ہوٹل میں شرمناک کام ،50مرد و خواتین کیا کر رہی تھیں ؟؟خوفناک انکشاف

اسلام آباد ( کرائم رپورٹر) اے سی آئی نائن کا رات کے پچھلے پہر دارلحکومت کے نجی ہوٹل پر چھاپہ ، رقص و سرور کی سجی محفل میں شریک درجنوں رقاصائیں اور داد عیش دینے والے گرفتار ۔رئیس زادوں اور رقاصاﺅں کے خلاف غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات ، تمباکو نوشی اور ایمپلی فائر ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلئے گئے ۔ واقعات کے مطابق اے سی آئی نائن نے رات ایک بجکر 40 منٹ پر گرینڈ ایمبیسڈر ہوٹل سیکٹر جی فائےو پہنچے تو ہوٹل کی چیکنگ پر ہوٹل کے اندر کافی تعداد میں مر د و خواتین فحش گانوں پر بے ہودہ ڈانس کررہے تھے اور تمام مذکورہ افراد شیشہ اور تمباکو حقہ پی رہے تھے ۔ پولیس نے موقع سے 17 خواتین اور 33 مردوں کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کردیا جہاں ان کے خلاف تمباکو نوشی اور ایمپلی فائر ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔واضع رہے کہ پولیس نے مذکورہ ہوٹل کے مالک کے خلاف بھی مقدمہ درج کرلیا ہے ۔

شائقین بھارتی فلمیں کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیں

لاہور(شوبز ڈیسک)لالی ووڈ پر لمبے عرصے تک راج کرنیوالی اداکارہ صائمہ نے کہا ہے کہ فلم ”یلغار“ کی کامیابی پر دلی خوشی ہوئی ہے ،ا یسی معیاری فلمیں لالی ووڈ میں بنیں تو پاکستانی قوم بھارتی فلموں کو کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دینگے۔اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ لوگ روایتی فلمیں دیکھ کر اکتا چکے ہیں اب نئے موضوعات پر فلمیں بنانے سے فلم انڈسٹری کو فروغ دیا جا سکتا ہے ، ہمیں بھارتی فلموں کے مقابلے میں اپنی فلموں کا معیار بہتر کرنا ہو گا ۔ جو چیز بھی بہتر ہو گی لوگ اسے پسند کرتے ہیں اور یہی معیار فلموں کے حوالے سے بھی ہے ۔ تکنیکی اور موضوعات کے طور پر بھارتی فلمیں ہم سے بہتر ہیں مگر اس سے ہمیں خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔ ہم بھارت سے بہتر فلمیں بنا سکتے ہیں اور بھارت سے بہتر ٹیلنٹ بھی ہمارے ملک میں موجود ہے صرف ان کو موقع ملنا چاہیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ فلم یلغار نے کامیابی کے جھنڈے گاڑھے ہیں اور اب بھی وہ کامیابیوں کی منازل طے کررہی ہے ایسے فلمیں پاکستان میں بنیں تو ہمارے عوام بھارتی فلموں کو کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیں۔

پابندی کے باوجود ویلرز کی حسیناﺅں کو ساتھ بٹھا کر خرمستیاں

لاہور (کرائم رپورٹر)صوبائی دارالحکومت میں سخت پابندی کے باوجود بھی اتوار کے روز درجنوں موٹر سائیکل سوار منچلے نوجوان شاہراﺅں پر ون ویلنگ اور ریس لگاتے رہے۔ پولیس ون ویلنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ۔ بتایا گیا ہے کہ شہر میں سخت پابندی کے باوجود موٹر سائیکل سوار نوجوان ٹولیوں کی صورت میں مختلف شاہراﺅں پر جان لیوا کرتب کرتے رہے متعدد نوجوان لاکھوں روپے کی شرطیں لگا کر موٹر سائیکلوں پر ریسیں لگاتے رہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک طرف موٹر سائیکلوں پر ون ویلنگ اور ریسوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ دوسری طرف پوش علاقوں میں منچلے نوجوانوں کے ساتھ خوبرو لڑکیاں بھی موٹر سائیکلوں پر بیٹھی دکھائی دیتی ہیں ان لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ امیر گھروں سے تعلق رکھنے والے لڑکے لڑکیاں ہیں جو 125موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ ہیوی بائیکس پر سوار ہو کر ریسیں لگاتے ہیں ایسے گروپ لبرٹی مارکیٹ ، مین بلیووارڈ گلبرگ، ڈیفنس ، ماڈل ٹاﺅن کے علاقوں میں معروف پارکوں، چوکوں اور مارکیٹیوں کے ارد گرد موٹر سائیکلوں پر گھومتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان ویلروں میں متعد د نوجوان فیملیز اور خواتین سے پرس چھین کر فرار ہو جاتے ہیں مگر پولیس ان نوجوانوں کے خلاف موثر کارروائی میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں ڈیفنس ، وحدت روڈ، کوئنز روڈ، مال روڈ، فیروز پور روڈ، جوہر ٹاﺅن شوکت چوک ، ماڈل ٹاﺅن لنک روڈ، مغل پورہ ، شالیمار لنک روڈ، ملتان روڈ، کینال روڈ اور دیگر شاہراﺅں پر موٹر سائیکل سوار نوجوان ٹولیوں کی صورت میں ون ویلنگ اور ریسیں لگاتے دکھائی دیئے پولیس نے متعدد نوجوانوں کو پکڑ لیا جبکہ چند ایک کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

تفریح یا جگا ٹیکس ، چڑیا گھر میں بچے ، اہلخانہ سراپا احتجاج

لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور چڑیا گھر انتظامیہ نے چڑیا گھر کی سیروسیاحت کے لئے آنے والے سیاحوںکی داخلہ ٹکٹ کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ داخلہ ٹکٹ کی نئی شرح 50 روپے فی کس ہو گی، جس پر یکم جولائی سے عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ ٹکٹ کی شرح میں اضافے پر شہری حلقوں میں شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں لاہور چڑیا گھر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور چڑیا گھر انتظامیہ نے بچوں سے سیاحت کی سہولت چھین لی ہے۔ انتظامیہ کے اس اقدام سے چڑیا گھر کی آمدن میں واضح کمی واقع ہو گی۔
چڑیاگھر

کھانا دینے میں تاخیر برداشت نہ ہو سکی ، شوہر کا بیوی کیساتھ شرمناک اقدام

لاہور (کرائم رپورٹر) رائیونڈ سٹی کے علاقہ میں ظالم شوہر نے روٹی نہ دینے پر بیوی کو ڈنڈوں‘ سوٹوں کے وار کے بعد گلا دبا کر قتل کر دیا۔ پولیس نے ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ رائیونڈ سٹی کے علاقہ موضع کنگرہ کا رہائشی محنت کش باسط رات گئے گھر آیا تو اس نے اپنی بیوی ثریم بی بی سے روٹی مانگی تو وہ اپنی معصوم بچی کی دیکھ بھال میں مصروف ہو گئی۔ دیر ہونے پر باسط آگ بگولہ ہوگیا اور طیش میں آ کر قریب پڑے ڈنڈے سے بیوی پر تشدد شروع کر دیا بعدازاں اس کا گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی جنہوں نے ملزم کو حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
بیوی قتل

شکیل آفریدی بارے وفاقی حکومت کا اہم فیصلہ

لاہور (خصوصی رپورٹ)وفاقی حکومت نے دہشت گردوں کی دھمکیوں کے بعد ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پشاور سے پنجاب منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت سے رجوع کر لیا ہے تاکہ پنجاب حکومت ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پنجاب کی اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقلی کے حوالے سے ضروری اقدامات کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو خفیہ اداروں نے آگاہ کیا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سنٹرل جیل پشاور موجودگی خطرناک ہے اور دہشت گرد سنٹرل جیل پشاور کو نشانہ بنا سکتے ہیں لہٰذا غالب امکان ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اغواءکر لیا جائے گا لہٰذا فوری طور پر ڈاکٹر شکیل آفریدی کو پنجاب حکومت کے حوالے کر دیا جائے تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ ملنے والی مصدقہ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو مراسلہ نمبر سیون/ون/دو ہزار سترہ /نائن /سکیورٹی ون لکھا ہے جس میں پنجاب حکومت کو مذکورہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی اڈیالہ جیل منتقلی بہت ضروری ہے۔واضح رہے کہ اسامہ بن لادن آپریشن کے بعد پاکستانی اداروں نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکہ کی مبینہ معاونت کے الزام میں گرفتار کیا اور 30مئی 2012ءکو فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن قوانین کے تحت ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 33سال کی سزا سنائی گئی تھی جسے بعد ازاں معطل کر کے اس کیس کی ازسرنو سماعت کے احکامات جاری کئے گئے۔ بعدازاں امریکہ کی جانب سے بار بار ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کے مطالبے اور پاکستانی امداد کو ڈاکٹر شکیل آفر یدی کی رہائی سے مشروط کرنے کی تجاویز کے بعد خفیہ اداروں کی جانب سے حکومت کو آگاہ کیا گیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے جس پر وفاقی حکومت کی ہدایت پر سنٹرل جیل پشاور میں ایک ہائی لیول سکیورٹی سروے کروایا گیا جس میں حکومت کو آگاہ کیا گیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سنٹرل جیل پشاور موجودگی خطرناک ہے لہٰذا اسے اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کر دیا جائے۔معلوم ہوا ہے کہ قبل ازیں بھی صوبائی حکومت کی جانب سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی پشاور سے کسی دوسرے صوبے منتقلی کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم پنجاب حکومت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو لینے سے انکار کر دیا تھا ،اب موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے پشاور سنٹرل جیل کا سروے کروانے کے بعد وفاقی حکومت نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی منتقلی سے اتفاق کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے ازخود رجوع کیا ہے۔

حسن نواز اور اسحاق ڈار کی پیشی ، اہم ترین خبر ، لیگی کارکن بھی جمع ہو گئے

اسلام آباد(اپنے رپورٹر سے)حسن نواز پھر اسحاق ڈار کی آج جے آئی ٹی میں طلبی جوڈیشل اکیڈمی کے اردگرد سکیورٹی سخت (ن)لیگ کے ایم این ایز اور ارکان کی بڑی تعداد آج جے آئی ٹی کے باہر شریف فیملی سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کریگی۔ ذرائع کے مطابق حسن نواز کی صبح 11بجے پیشی سے پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے ایم این ایز اپنے اپنے کارکنوں کی بڑی تعداد کے ساتھ حسن نواز کے آنے سے پہلے ماحول بنائیں گے۔ جبکہ مسلم لیگی آج صبح سے شام تک اسحاق ڈار کی واپسی تک جے آئی ٹی پولیس کی لیگی ارکان کو جے آئی ٹی تک جانے کی چھوٹ دئیے جانے کا امکان، آج بڑی بڑی طلبی پر جے آئی ٹی کے باہر ارکان کی تعداد آنا شروع ہوگئی ہیں۔