لاہور(وقائع نگار) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اصل میں جمہوریت نہیں مافیا ڈان خطرے میں آگیا ہے، انہوں نے کہا کہ میڈیا کا گاڈ فادر میر شکیل الرحمان نواز شریف کو معصوم بنا کر جعلی خبریں چلارہا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین سیکرٹریٹ میں صحافیوں سے ملاقات اور میڈیا ٹاک کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جہانگیر ترین، شفقت محمود، فواد چوہدری، نعیم الحق، افتخار درانی، میاں محمود الرشید، میاں اسلم اقبال، شعیب صدیقی، ڈاکٹر شاہد صدیق خاں، جمشید اقبال چیمہ، شوکت بھٹی، نعمان چٹھہ، رانا ندیم، سہیل ظفر چیمہ سمیت مرکزی وصوبائی اور ضلعی قائدین بھی موجود تھے۔</p>
Monthly Archives: July 2017
پانی کی بوتل کو دوبارہ بھرنا ۔۔ایسا نقصان سامنے آگئے کہ آپ کے ہوش اُڑ جائینگے
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پلاسٹک کی بوتل کو دوبارہ پانی بھر کر پینا انتہائی خطرناک ہے۔ آج کل ہر شخص بہت ہی مصروف ہے، اس مصروفیت میں لوگ عموماً اپنے پاس پانی پینے کے لیے پلاسٹک کی بوتل رکھتے ہیں، ملازم پیشہ لوگ جب ایک پانی کی بوتل خریدتے ہیں تو وہ اس کا استعمال کئی دن تک کرتے ہیں، اس میں دوبارہ پانی بھر کر پیتے رہتے ہیں، یہ عمل انتہائی خطرناک ہے، ایک ٹیسٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پانی کی استعمال شدہ بوتل میں جراثیم کی9 لاکھ کالونیاں ہوتی ہیں، چند کھلاڑیوں کی پانی کی بوتلوں پر تحقیق کی گئی، معائنہ کے بعد پتہ چلا کہ ان بوتلوں میں ٹوائلٹ سیٹ سے زیادہ جراثیم موجود ہیں۔ ڈاکٹر میریلن گلین ول نے بتایا کہ پلاسٹک کی بوتل چند کیمیکلز ایسے ہیں جو جسم کے تقریباً ہر حصے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ڈاکٹر میریلن گلین ول کا کہنا ہے کہ اپنی بوتل کو دوبارہ استعمال نہ کریں لیکن اگر بہت ہی ضروری ہو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو کم سے کم اسے گرم پانی سے ہرگز نہ دھوئیں
تھائرائیڈ گلینڈ
ڈاکٹرنوشین عمران
تھائی رائڈ گلینڈ گلے میں بالکل سامنے کی طرف ہوتا ہے۔ یہ جسم کا بہت ا ہم گلینڈ مانا جاتا ہے کیونکہ جسم میں غذا کے ذریعے حاصل ہونے والے تمام اجزا کے میٹابولزم کا کام کرتا ہے۔ یعنی غذا کے اجزا کو تحلیل کرنے سے لے کر ہضم کرنے، توانائی حاصل کرنے اور جسم میں ان کے استعمال کو مجموعی طور پر تھائرائڈ گلینڈ ہی کنٹرول کرتا ہے۔ تھائرائڈ سے خارج ہونے والا ہارمون تھائراکسن خون میں شامل ہو کر اپنا اثر کرتا ہے۔بعض اوقات کسی خرابی کے باعث تھائی راکسن کی مقدار بعض اوقات زیادہ ہو جاتی ہے۔ دونوں طرح کی کیفیات کی الگ الگ علامات ہوتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تھائی راکسن کی مقدار کم ہے یا زیادہ۔ اگر تھائرائڈ ضرورت سے زیادہ تھائی راکسن بنائے تو اس کیفیت کو ”ہائپر تھائرائڈزم“ کہا جاتا ہے۔ اس سے ہونے والی علامات یہ ہو سکتی ہیں، وزن میں کمی، دل کا تیز دھڑکن، بلڈ پریشر بڑھنا، جسم میں کپکپاہٹ، ہاتھوں کا کانپنا، بہت زیادہ پسینہ آنا، گرمی ناقابل برداشت ہونا، بے چینی فکرمندی یا ہر وقت تشویش میں مبتلا رہنا، گھبراہٹ رہنا، پٹھوں کا کمزور ہو جانا، آنکھیں پھٹی پھٹی نظر آنا، نیند کی کمی، اکثر پیٹ خراب یا دست لگنا، نظر خراب ہونا یا دھندلا نظر آنا، خواتین کو ایام میں بے قاعدگی۔ اس کے برعکس تھائی راکسن کی کمی ”ہائپوتھائرائڈزم“ کہلاتی ہے۔ اس کی علامات یہ ہو سکتی ہیں، وزن میں زیادتی، بعض اوقات بھوک میں کمی، تھوڑا سا کام کرنے پر بھی تھکان، نیند زیادتی، سستی کاہلی، کسی بات پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، یاد کرنے میں مشکل، بال جلد اور ناخن خشک یا کھردرے ہونا، قبض رہنا، ڈپریشن افسردگی مایوسی رہنا، پیروں کا سوج جانا، سانس لینے میں مشکل محسوس ہونا، گلا بیٹھ جانا، ٹھنڈک ناقابل برداشت ہونا، چہرے اور ہاتھوں پر سوج، ہاتھوں میں سوئیاں چبھنا یا انگلیاں سن رہنا، خواتین میں ایام کی زیادتی، خواتین میں بار بار حمل ضائع ہونا۔
تھائراکسن کی زیادتی ہونے کی وجہ سے اکثر مدافعاتی نظام کی خرابی ہوتی ہے۔ مدافعاتی نظام اپنے ہی جسم کے کسی حصے کو جراثیم سمجھ کر اس پر حملہ کر دیتے ہیں اور اسے ضائع کرنے یا خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تھائرائڈ گلینڈ کے اپنے سائز سے بڑا ہو جانے کے باعث یہ گلے میں گلہڑ کی شکل میں نمایاں ہو جاتا ہے۔ اسے چیک کرنے کے لئے سر کو تھوڑا پیچھے کی جانب کر کے سامنے دیکھیں اور تھوک نگلیں۔ اگر گلہڑ چھوٹا بھی ہو گا تو نمایاں ہو جائے گا۔ گلہڑ کی موجودگی میں تھائراکسن کم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی عموماً بالکل درمیان میں چھوٹی سی گلٹی ٹیومر یا کینسر ہو سکتی ہے جبکہ بڑا یا بہت نمایاں گلہڑ اکثر کینسر نہیںہوتا۔ کینسر کی تشخیص کے لئے تھائرائڈ کا سکین کروانا لازمی ہے۔ جس کے بعد ضرورت پڑنے پر بائی آپسی کی جاتی ہے۔
تھائراکسن ہارمون کی مقدار چیک کرنے کے لئے خون میں TSH, T4, T3 چیک کیا جاتا ہے۔ TSH تھائرائڈ کا ہارمون نہیں بلکہ یہ دماغ سے خارج ہوتا جو تھائرائڈ کے ہارمون بنانے کی مقدار کو کنٹرول کرنا ہے۔ اگر TSH زیادہ ہو گا تو اس کا مطلب تھائرائڈ خود کم ہارمون بنا رہا ہے اور دماغ اسے زیادہ بنانے کا حکم دینے کے لئے زیادہ TSH خارج کر رہا ہے۔ اگر TSH زیادہ ہو اور تھائراکسن T4 نارمل یا نارمل کے قریب ہو تو بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جسم کی ضرورت کے مطابق تھائراکسن کم ہے۔ ایسی صورت میں کچھ دن بعد دوبارہ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے یا ڈاکٹر کے مشورے سے معمولی مقدار میں دوا شروع کرنا چاہیے۔ تھائراکسن نارمل سے زیادہ ہونے یا ہائپر ہونے کی صورت میں دوسری طرح کی دوا دی جاتی ہے۔
٭٭٭

















