تازہ تر ین

حکومت مطالبات تسلیم کرے ورنہ۔۔سراج الحق کی بڑی دھمکی

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے میانمار کے سفیر کو ملک بدر کرنے اور او آئی سی کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا، حکومت ہمارے پانچ مطالبات فورا تسلیم کرئے، حکومت کو دو دن کی مہلت دیتا ہوں، 11 ستمبر کو لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کریں گے جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جائیں گے واپس نہیں جائیں گے، طیب اردگان کی اہلیہ اگر بنگلہ دیش میں مظلوم روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے جا سکتی ہیں تو یہ کیوں نہیں جاسکتے ان خیالات کا اظہار امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف جمعہ کو وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی قیادت میں ریلی نکالی گئی، جس میں روہنگیا کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی سرینا چوک پہنچی تو مظاہرین نے پولیس کے روکنے پر خاردار تاریں ہٹانے کی کوشش کی، جس پر پولیس نے ریلی میں شریک بعض افراد پر لاٹھی چارج کر دیا۔ اس موقع پر امیر جماعت نے اپنے کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی، اس موقع پر مظاہرین سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ضمیر جگانے یہاں آئے ہیں، میانمار کے سفیر کو ملک سے نکالنے اور معاملے پر او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظلوموں کی مدد کرنا اللہ کا حکم ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ میانمار میں مسلمانوں پر ظلم روکا جائے۔ اپنے خطاب میں امیر جماعت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ مظلوموں کا ساتھ دو، مسلمان سب بھائی بھائی ہیں، مسلمان خواہ افریقہ کے ہیں یا برما، کشمیر، فلسطین، افغانستان یا دنیا میں جہاں کہیں کے بھی ہیں جہاں بھی ظلم ہو، وہاں مظلوموں کا ساتھ دینا ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے، قرآن میں ہے کہ ان مظلوم بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لئے آپ کیوں نہیں لڑتے، جو بے بس ہیں اور اللہ کے دربار میں سربسجود ہیں اور کسی ولی اور مددگار کا انتظار کر رہے ہیں۔ امیر جماعت نے کہا کہ ہم اللہ رب العزت کے حکم سے یہاں آئے ہیں۔ اس لئے ایک قدم اٹھانا اور ایک لمحہ گزارنا اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ میں آپ سب لوگوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ہم نے یہاں اپنی فوج، پولیس یا اپنی کسی املاک کو توڑنا یا لڑنا نہیں ہے۔ ہم صرف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے یہاں آئے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ برما میں مظلوم مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ ظلم کے خلاف ایکشن لے کر برما پر پابندیاں لگائی جائیں۔ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ فوری طور پر او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ برما کے سفیر کو پاکستان سے نکالا جائے۔ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پاکستان کو عالمی کریمنل کورٹ میں جانا چاہئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بوسنیا اور یوگنڈا کی طرح روہنگیا کے مسلمانوں کے قتل عام پر بھی برما کے خلاف مقدمہ بنایا جائے۔ ہم پاکستان کی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں برما کے سفارتخانے کو بند کیا جائے۔ برما کے ساتھ تمام معاہدات منسوخ کئے جائیں اور او آئی سی کا اجلاس ہنگامی طور پر بلایا جائے اگر ترک صدر کی اہلیہ بنگلہ دیش جا سکتی ہے تو ہمارے حکمرانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ گھونگے اور بہرے بن گئے ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ آج احتجاجی مارچ میں ہزاروں نوجوانوں نے شرکت کی اور برما میں ہونے والے مظالم کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا حکومت ہم کیوں یہاں آئے ہیں ہم اسلیے آئے ہیں کہ ایک طویل عرصے سے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور قتل عام پر عالم اسلام خاموش ہیں 9جون 2015 کو سینیٹ، اور 10جون 2015 کو قومی اسمبلی میں روہنگیا مسلمانوں کے اوپر ہونےوالے مظالم کیخلاف ایک قرارداد منظور کی تھی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں مگر بدقسمتی سے 9جون 2015 سے آج تک قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا گیا سراج الحق نے کہا کہ میڈیا گواہ ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو برما سے زبردستی نکال دیا گیا ہے اور اب صرف وہاں آٹھ لاکھ روہنگیا مسلمان رہ گئے ہیں برما کی آرمی بدھسٹ کے علاوہ مسلمانوں کی بستیاں اور انکو جلا رہے ہیں ماں کے سامنے بچوں کو کاٹ دیا جاتا ہے اور کُتوں کے سامنے پھینک دیے جاتے ہیں برمی آرمی خواتین کو جنگلوں میں لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں اور زنجیروں سے باندھ کر ان پر کُتے چھوڑ دیے جاتے ہیں روہنگیا مسلمانوں سے خود پہلے قبر کھدوائی جاتی ہے اور پھر قتل کر کے دفنا دیا جاتا ہے مسلمانوں کا بیدردی کے ساتھ قیمہ بنایا جا رہا ہے مگر 56اسلامی ممالک میں قبرستان کی طرح خاموشی ہے روہنگیا مسلمان محمد بن قاسم کا انتظار کر رہے ہیں اور مسلمان حکمران خاموش ہیں پاکستان میں مجبور ہو کر سفارتخانے تک احتجاجی مارچ کیا انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں برما سفارتخانے پر احتجاجی مارچ کے بعد آئی جی اسلام آباد اور وزیر داخلہ نے مجھے فون کیا کہ آپ کے مارچ کی وجہ سے سفیر اسلام آباد چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں آپ ریڈ زون کی طرف مارچ نہ کریں اس سے پاکستان تنہا ہو سکتا ہے مارچ سے پاکستان کو نقصان ہو سکتا ہے جس پر میں نے کہا کہ جب تک امریکہ سے آپ کو اشارہ نہ ملے آپ بات نہیں کرتے بے غیرتی سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ برما کے سفارتخانے کی حفاظت کے لیے کنٹینر لگائے گئے مٹی کے پہاڑ کھڑے کیے گئے پانچ لائن کی سیکورٹی لگائی گئی ہے بزدل حکمرانوں نے برما کے سفارتخانے کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے مگر روہنگیا مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ احتجاجی مارچ کے اختتام پر برما مسلمانوں کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جمعیت علماءاسلام کے ممبر صوبائی اسمبلی مسرور نواز جھنگوی، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، زبیر فاروق خان، امیر جماعت اسلامی کے پی کے مشتاق احمد خان ودیگر نے بھی احتجاجی مارچ سے خطاب کیا احتجاجی مارچ آبپارہ چوک سے شروع ہو کر سرینا ہوٹل کے سامنے پر امن طور پر منتشر ہو گیا مظاہرین نے روہنگیا مسلمانوں کے حق میں اور برمی حکومت آنگ سانگ سوچی اور نریندر مودی، امریکہ، بھارت کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain