کوئٹہ (بیورو رپورٹ) صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح ملزمان مرکزی جمعیت اہل حدیث بلوچستان کے امیر مولانا ابو تراب، ان کے بیٹے اور محافظ کو اغوا کرکے لے گئے۔پولیس کے مطابق مولانا ابو تراب اپنے بیٹے اور محافظ کے ہمراہ ایئرپورٹ روڈ پر جا رہے تھے کہ انہیں نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا اور گاڑی سے اتار کر ساتھ لے گئے۔پولیس کا کہنا تھا کہ مولانا ابو تراب کی گاڑی ایئرپورٹ روڈ سے مل گئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کردیا تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔علاوہ ازیں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے جاری بیان میں مولانا اور ان کے رفقہ کی فوری بازیابی اور اغواکاروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔یاد رہے کہ 24 مئی 2017 بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے جناح ٹان سے نامعلوم مسلح افراد نے دو غیر ملکی باشندوں کو اغوا کرلیا تھا اور بعد ازاں جون میں کالعدم تنظیم داعش نے انہیں قتل کرنے کا دعوی کیا تھا۔رواں سال مارچ میں نامعلوم مسلح ملزمان نے کوئٹہ کے سبزال روڈ کے علاقے میں بلوچستان ہائیر ایجوکیشن سیکریٹری عبداللہ جان کو اغوا کرلیا تھا۔اس سے قبل 2006 میں حب شہر میں نامعلوم مسلح افراد نے گھات لگا کر چینی باشندوں کی گاڑی پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں 3 چینی ہلاک ہوگئے تھے۔2004 میں صوبے کے ساحلی شہر گوادر میں بم دھماکے کے دوران 3 چینی باشندے ہلاک ہوئے تھے۔خیال رہے کہ حالیہ کچھ سالوں میں بلوچستان میں دہشت گردی، فرقہ وارانہ اور دیگر جرائم کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں، اس حوالے سے صوبائی حکومت متعدد مرتبہ یہ دعوی کرچکی ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم بنانے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔یاد رہے کہ بلوچستان کے ساحلی پورٹ شہر گوادر سے متعدد راستوں کے ذریعے چین سے تجارت بڑھانے کیلئے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کام جاری ہے جس کے تحت بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں، اس منصوبے کے حوالے سے دعوی کیا جارہا ہے کہ یہ خطے اور خاص طور پر پاکستان میں معاشی تبدیلی کا باعث ہوگا۔






































