اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) مسلم لیگ ن کی حکومت کو 5 مارچ کے سینیٹ انتخابات سے قبل چلتا کرنے کی تیاریاں ¾ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفے اور خیبر پختونخواہ حکومت کو تحلیل کرنے کا منصوبہ پی ٹی آئی کی قیادت نے نئی حکمت عملی تیار کر لی ¾ قبل از وقت انتخابات کیلئے سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے عوامی مسلم لیگ کے چیئرمین شیخ رشید احمد کی تجویز پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں اور خیبر پختونخواہ حکومت تحلیل کرنے کے معاملے پر مشاورت شروع کردی ۔ بعض ہم خیال اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔عمران خان کے” بہی خواہوں“ نے مسلم لیگ ن کی حکومت کو پانچ مارچ 2018 ءکے سینیٹ انتخابات سے قبل سمیٹنے کا مشورہ دیدیا ۔ سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کا انتخابی اصلاحات بل کے ذریعے صدر بننے کے بعد پی ٹی آئی اور دیگر مخالف قوتوں نے اپنے ایجنڈا بدل کر نیا لائحہ عمل تیار کرلیا ہے۔ جس سے مختلف لابیاں زیادہ متحرک ہوگئی ہیں۔ ادھر مسلم لیگ ن کی قیادت نے کھل کر تصادم کی بجائے 5 مارچ کے سینیٹ انتخابات میں25 نشستوں سے 12 نشستیں حاصل کر کے 39 نشستوں کے ساتھ نمایاں برتری حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔واضح رہے کہ اس وقت سینیٹ پی ایم ایل ن 27 ¾پی پی پی 26 ¾ ایم کیو ایم 8 اور پی ٹی آئی 7 نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی یا کسی دوسری سیاسی جماعت کی قومی اسمبلی میں اکثریت کے باوجود قانون سازی میں سب سے بڑی رکاوٹ سینیٹ میں ن لیگی اکثریتی ممبران ہوں گے ۔عصاب شکن سیاسی معرکہ آرائی جاری ہے۔طاقت کے مراکز زیادہ سے زیادہ اختیارات اور قوت کے حصول کیلئے متحرک ہیں۔






































