Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • غزہ میں شائقین نے ارجنٹینا کی فتح کا جشن منایا، میسی کی قیادت میں ٹیم ورلڈ کپ فائنل میں
    • گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کی قرارداد منظور۔
    • بی ٹی ایس، شکیرا اور جسٹن بیبر فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل ہاف ٹائم شو میں پرفارم کریں گے۔
    • اینڈی برنہم برطانیہ کی لیبر پارٹی کے رہنما مقرر۔
    • ایران نے قطر میں امریکی العدید ایئر بیس پر حملے کا دعویٰ کر دیا۔
    • بحرین نے ایران کے متعدد فضائی حملے ناکام بنا دیے۔
    • جنگ بندی کے بعد امریکی حملوں میں 38 ایرانی جاں بحق، 400 زخمی: ایران
    • اینٹی ڈوپنگ کیس،حمد نواز پر 3 ماہ کی پابندی
    • حکومت نے سائبر سکیورٹی مزید سخت کر دی
    • پاکستان کی پہلی مس ورلڈ امیدوار انیقہ جمال اقبال
    • فیفا ورلڈ کپ ٹرافی لوئی وٹون کے خصوصی ٹرنک میں پہنچے گی
    • پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں چلا گیا،2026 کا اختتام 139 ملین ڈالر کے خسارے پر ہوا۔
    • پاکستانی روپے کی زائد قدر برآمدات کی ترقی کو متاثر کر رہی ہے۔
    • پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔
    • امریکا ایران کشیدگی سے عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی خدشات بڑھ گئے
    • ٹرمپ کا دعویٰ، امریکا ایران میں بڑی کامیابی حاصل کر رہا ہے
    • چین نے ٹرمپ کے امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات مسترد کر دیے
    • ٹرمپ کا تقریر نہ دکھانے والے نیٹ ورکس کے لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ
    • تازہ امریکی حملوں کے بعد جنوبی ایران میں بجلی کی بندش
    • امریکا۔ایران کشیدگی: ٹرمپ کی سفارت کاری کی پیشکش، خلیجی ممالک پر نئے حملے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    فاروق ستار, مصطفی کمال کا اتحاد 24گھنٹے بھی نہ نکال سکا : ضیا شاہد

    By Daily Khabrainنومبر 10, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں کے پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا اتحاد کچھ جلدی میں ہو گیا تھا۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے چند دن قبل اپنے جلسے میں مصطفی کمال کی پارٹی کو ٹھیک ٹھاک سنائی تھیں۔ اسی طرح ”وہرا“ جب پی ایس پی کو پیارے ہوئے تو انہوں نے ایم کیو ایم کی ادھیڑ کر رکھ دی تھی۔ فاروق ستار نے بیان دیا کہ ایک نشان اور ایک ہی نام سے الیکشن لڑیں گے۔ عابدی نے استعفیٰ دے دیا۔ اسی طرح ایم کیو ایم کے سنیٹرز کا بیان آ گیا کہ ہم اپنا نشان اور نام چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔ جیتی ہوئی سیٹوں پر بھی اتحاد نہیں ہو گا۔ کل سے بحث جاریتھی پرویز مشرف یا عشرت العباد اس اتحاد کو ہیڈ کریں گے۔ مصطفی کمال صاحب نے فاروق ستار سے ملاقات کی تو شاید اس وقت تک فاروق ستار نے اپنے ساتھیوں کو اعتمادمیں نہیں لیا تھا۔ اس کا جواب وہ خود ہی دے سکتے ہیں۔ ہم نے اپنے پروگرام میں دونوں کو مشورہ دیا تھا کہ آپس میں اتحاد کئے بغیر گزارا نہیں ہے۔ مصطفی کمال نے ہمیشہ ڈاکٹر فاروق ستار کے لئے سافٹ کارنر رکھا جبکہ ڈاکٹر فاروق ستار سخت الفاظ بھی بول جاتے تھے۔ ان کے ”اتحاد“ سے ایم کیو ایم کے اکثر ساتھی خوش نہیں تھے۔ عامر خان کا بیان تو کھل کر سامنے آ گیا ۔ انہوں نے شدید الفاظ میں اس کی مخالفت کی۔ اسی طرح اکثر منتخب نمائندے خصوصاً اس سے خوش دکھائی نہیںدیتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنا نشان نہیں چھوڑیں گے۔ ”ادغام“ کی تو مخالفت ہوگئی۔ لگتا ہے۔ ادغام یا مرجر کی بات اب رک گئی۔ ایم کیو ایم پاکستان، فاروق ستار کے نام سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ ایم کیو ایم آدھے سے زیادہ لوگ اپنا نام اور نشان تبدیل کرنے پر راضی نہیں تھے۔ فاروق ستار اپنے ساتھیوں کی بات مان کر ”مرجر“ کا فیصلہ موخر کرنا پڑا۔ آنے والے وقت میں پتا چلے گا کہ جن لوگوں نے یہ ادغام کروایا تھا وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ ایک روزہ اتحاد جو 24 گھنٹے بھی نہ چل سکا اسے ختم کروانے میں ایم کیو ایم لندن نے نمایاں کردار ادا کیا کیونکہ بانی متحدہ مصطفی کمال کو برداشت نہیں کر سکتا۔ فاروق ستار شاید اس وقت ”ڈبل مائنڈ“ ہیں۔ خورشید شاہ صاحب کے بیان سے اتفاق کرتا ہوں کہ ایم کیو ایم کی اصل طاقت ان کے پاس ہے جنہوں نے یہ پارٹی بنائی تھی۔ بنوائی تھی۔ جب وہ ناراض ہوتے تھے تو وہ جناح پور کے نقشے پیش کر دیتے تھے۔ صلح کے وقت شاباش دیتے تھے۔ کچھ خفیہ طاقتیں موجود ہیں جو پسند نہیں کرتیں کہ پی پی پی مکمل طور پر سندھ میں راج کرنے لگے۔ یہ ایک ایک پریشر گروپ کھڑا کیا گیا تھا کراچی میں جو پی پی پی کا مقابلہ کرے۔ تا کہ ڈھاکہ والی سٹوری دہرانے کا خیال ان کے دل سے نکل جائے۔ 1970ءمیں مشرقی پاکستان میں صرف دو سیٹیں لی تھیں، جس پر عوامی لیگ کامیاب نہیں ہوئی تھی۔ باقی تمام سیٹیں شیخ مجیب الرحمن جیت گئے تھے۔ خفیہ طاقتیں اسی بات سے پریشان ہیں کہ کسی کو بھی مکمل طاقت کسی صوبے یا علاقے میں قائم نہیں کرنی چاہئے۔ نوازشریف بادشاہ ہیں۔ ان کے بارے بات نہیں کر سکتے ان کا کیس عدالت میں ہے۔ ضمنی الیکشن رولنگ پارٹی جیتتی ہے۔ جنرل الیکشن میں ماحول بالکل مختلف ہوتا ہے۔ میاں نوازشریف جنرل جیلانی کے خاص الخاص شاگرد ہوتے تھے۔ ضیاءالحق نے مجھے بلا کر کہا نوازشریف کے خلاف جو خبر چھپی ہے اس کے لئے ایک ایکسائز انسپکٹر ہی کافی ہے پرویز الٰہی کے اس وقت بغاوت کر دی تھی انہوں نے اس کے بارے یہ کہا تمام اخباروں کو بلا کر چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ضیاءالحق نے کہا کہ تمام اخبار یہ خبر چھاپیں کہ ”نوازشریف کا کلا مضبوط ہے“ اسی اسٹیبلشمنٹ نے نوازشریف کو وزیرخزانہ بنایا۔ آج وہ اے طعنہ دے رہے ہیں اسی اسٹیبلشمنٹ کے زیر سایہ یہ وزیراعلیٰ بنے پھر وزیراعظم بنے۔ لہٰذا وہ اس کو سب سے بہتر جانتے ہیں۔ علامہ اقبال نے پی ایچ ڈی ”فلاسفی“ میںکی۔ انہوں نے قومی شاعری میں علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا۔ انہیں مصور پاکستان کہا جاتا ہے۔ خطبہ الٰہ آباد میں پہلی مرتبہ یہ نظریہ پیش کیا کہ مسلمان اکثریتی علاقوں میں ان کی حکومت ہونی چاہئے۔ قائداعظم نے علامہ اقبال کے خواب کو تعبیر دی۔ لہٰذا دونوں اشخاص کا ہمارے ملک پر احسان عظیم ہے۔ جمہوریت ہمیں جہیز میں ملی ہے۔ ہم برطانیہ سے آزاد ہوئے تھے۔ یہ وہاں کا نظام تھا۔ ہم نے اسے اٹھایا اور سر پر ڈال لیا۔ علامہ اقبال نے جمہوریت کے لئے کہا تھا۔”جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جہاں پر بندوں کو گنا کرتے ہیں تولہ نہیں جاتا۔“پی ایس پی کے مصطفی کمال نے کہا ہے کہ فاروق ستار کی پارٹی کے بارے وہ خود ہی مناسب جواب دے سکتے ہیں ہماری ان کے ساتھ ملاقاتیں چھ، سات ماہ سے جاری تھیں۔ ملاقات میں ان کے ساتھی بھی موجود ہوتے تھے۔ میں ان سے یہ تو نہیں پوچھ سکتا تھا کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے کر آئے تھے یا نہیں سربراہ کو پارٹی ورکروں سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم نے اپنی پارٹی کے ساتھیوں کو اعتماد میں لے کر کل کی کانفرنس کی تھی۔ ان کی پارٹی کے بارے میں وہی جواب دے سکتے ہیں۔ یہ ان کا انٹرنل معاملہ ہے۔یہ ایک ”مرجر“ تھا۔ اسے اتحاد یا الائنس نہیں کہنا چاہئے۔ یہ دو پارٹیوں کا ”مرجر“ ہے۔ اس پر اتفاق ہوا تھا۔ پی پیس پی اخلاقی یا لسانی سیاست نہیں کرتی۔ کراچی ہماری بنیاد ہے۔ ہمارے ساتھ سندھی، پنجابی، پٹھان،، بلوچ سب موجود ہیں۔ ہم کسی ایک کی بات نہیں کرتے۔ ہم زبان، نسل پر یقین نہیں رکھتے۔ اس سے قبل ہماری لمبی ملاقاتیں ہوئی ہیں میں نے الطاف حسین اور عشرت العباد کی کیٹیگری میں کبھی فاروق ستار کو شامل نہیں کیا۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کی قرارداد منظور۔

      اینٹی ڈوپنگ کیس،حمد نواز پر 3 ماہ کی پابندی

      حکومت نے سائبر سکیورٹی مزید سخت کر دی

      تازہ ترین

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.