مریکا، ایران اور عمان کے درمیان اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تینوں ممالک نے آبنائے ہرمز کو 60 دن کے لیے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور عالمی تجارت و توانائی کی ترسیل کو معمول پر لانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس راستے کی بندش یا رکاوٹ سے عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور توانائی کے بحران کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق معاہدے کا مقصد بحری آمدورفت کو محفوظ بنانا، کشیدگی میں کمی لانا اور خطے میں سفارتی رابطوں کو فروغ دینا ہے۔ عمان نے اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو سکتا ہے، تاہم خطے کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقل حل کے لیے مزید سفارتی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔
آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے عالمی توانائی کی سپلائی میں بہتری، تیل کی منڈیوں میں استحکام اور بین الاقوامی تجارت کو سہارا ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

