تازہ تر ین

دھرنا ختم کرنا ہوگا رونہ یہ جمہوریت کی بساط لپیٹ دے گا:رحمن ملک

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ ملکی حالات انتشار کے متحمل نہیں۔ حکومت اور علمائے کرام کو مشورہ دیتا ہوں کہ کچھ دو کچھ لو کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اس دھرنے کو پرامن طور پر ختم کریں، دشمن ہر طرف سے تاک لگا کر بیٹھا ہے۔ اگر یہ دھرنا ختم نہ کیا گیا تو پھیلے گا جس سے ملکی حالات اس نہج پر پہنچ جائیں گے کہ جمہوریت کی بساط بھی لپیٹ دی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چینل ۵ کے پروگرام میں معروف تجزیہ کار، کہنہ مشق صحافی ضیا شاہد کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ دھرنا دینا، احتجاج کرنا ہر کسی کا بنیادی حق ہے۔ لیکن قانون ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ دھرنے وغیرہ کے ذریعے عوام کی زندگی کو خراب کریں۔ میں نے اسٹینڈنگ کمیٹی میں ا س معاملہ پر ایکشن لیا اور آئی جی، کمشنر اور پولیس سے مکمل بریفنگ لی۔ اس وقت اسٹیٹ منسٹر صاحب بھی موجود تھے۔ اسٹیٹ منسٹری کے مطابق چار، پانچ سو افراد نے وہاں جا کر فاتحہ خوانی کرنے کی استدعا کی تھی لیکن وہاں جا کر انہوں نے واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ اس کے آگے حکومت کی پلاننگ چلنی تھی لیکن انہوں نے متبادل پلان نہیںرکھا اور حکومت انہیں ڈیل کرنے میں مکمل ناکام ہو گئی۔ پی پی پی دور میں لاکھوں کے دھرنے آئے لیکن عام آدمی متاثر نہ ہوا۔ اس وقت ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ ہائیکورٹ نے دھرنا ختم کرنے کا حکم دےرکھا ہے۔ یہاں بھی حکومت فیل ہو چکی اور عدالتی احکامات پرعمل نہیں کروا سکی۔ آج سپریم کورٹ بھی درمیان میں آ گئی ہے۔ اور سو موٹو لے لیا ہے۔ معاملہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے ”کچھ دو کچھ لو“ پر معاملات حل کر لئے جاتے ہیں۔ انہوں نے نہیں کیا۔ حکومت پارلیمنٹ علماءکو اس پر اعتماد میں لے کر چلتی تو اچھا ہوتا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ آئین کی شق میں ترمیم کرنے والے ذمہ دار کو سامنے لایا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا قانون قوموں کو بدلتے ہیں۔ راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کو پبلک کر دیا جائے تو بہت سی چیزیں کلیئر ہو جائیں گی۔ سپریم کورٹ کے سو موٹو کے بعد معاملہ اگلے چند دنوں میں ٹھیک ہو جائے گا۔ ڈر ہے یہ دھرنا تحریک بن کر پورے پاکستان میں نہ پھیل جائے۔ اگر راجہ ظفر الحق کی رپورٹ پبلک کر دی جاتی ہے تو ذمہ داری ایک سے زیادہ افراد پر آ جاتی ہے۔ زاہد حامد صاحب سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری نہیں تھی اس لئے وہ استعفیٰ کیوں دیں۔ کچھ اور لوگ بھی تھے۔ حکومت انہیں سامنے لے آئے۔ غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ ملکی صورتحال کے پیش نظر حکومت کو کچھ دو کچھ لو کے تحت کام کرنا چاہئے۔ اس وقت ملکی حالات خراب ہیں بھارت اربوں روپے لگا کر مشرق میں اور بلوچستان میں بالخصوص ہمارے حالات خراب کرنے کے درپہ ہو چکا ہے حالات بہت نازک ہیں۔ بھارتمشرقی پاکستان والے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تمام فریقین کو مل کر بیٹھنا چاہئے اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے۔ یہ اسلام یا پاکستان کی خدمت نہیں ہے۔ ان حالات سے دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ حکومت بھی لچک کا مظاہرہ کرے۔ یہ ریاست کا امتحان ہے۔ سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی اور سابق وزیر داخلہ ہونے کی حیثیت سے میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ کون ہوتا ہے جو ہمیں ”ڈکٹیٹ“ کرے۔ وہ کون ہوتا ہے کہ ہمیں بتائے کہ قوانین کیسے بنائے جائیں۔ ہم کیا ان کو کہتے ہی ںکہ اپنا قانون تبدیل کر دیں۔ ٹرمپ کے ایک وزیر کا قول ہے کہ ”اسلام ایک کینسر ہے دنیا کیلئے“ اس کرسچین مشیر کو بائبل کا چیپٹر پڑھنا چاہئے جس میں ہمارے نبی کی آمد کاتذکرہ ہے۔ اگر وہ بائبل پر حلف لینے کے بعد اسے نظر انداز کر رہے ہیں۔ تو آپ کا مائنڈ سیٹ پاکستان اور اسلام کے متعلق کسی سے مخفی نہیں ہے۔ آپ نے القاعدہ بنایا۔ آپ نے ان کو دہشت گرد قرار دیا۔ آپ نے داعش بنائی۔ یہ خود چیزیں بناتے ہیں انہیں طاقتوربناتے ہیں پھر وہ انہیں ڈستے ہیں۔ پھر ہماری قوم اور اسلامی برادری کوڈستے ہیں۔ آپ امریکہ میں بیٹھ کر ایک ایس ایچ او کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ تو پاکستانی قوم اسے ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ ختم نبوت کا قانون بہت پہلے بن چکا حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی پڑے گی کہ اس وقت جب کہ مودی کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتا کہ پاکستان کے خلاف لابنگ کرے۔ سی پیک پر خود ڈونلڈ ٹرمپ کہتا ہے۔ ”ون روڈ ون بیلٹ“ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ساری چیزیں انہیں کرنے سے باز رہنا چاہئے انہیں اس کا حق حاصل ہی نہیں ہے۔ انسانی ناطے اور کسی بھی انٹرنیشنل قانون کے تحت انہیں یہ حق حاصل ہے پاکستان میں موجودہ تناﺅ کا فائدہ کوئی دشمن اٹھا سکتا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے علماءکرام کو قانون بنانے والے اشخاص کو پوری طرح آنکھیں کھول کر رکھنی چاہئیں۔ اور سوچنا چاہئے کہ ہمارا دشمن چاروں جانب سے نقب لگائے بیٹھا ہے۔ اگر ہم نے رسہ کشی کا خاتمہ نہ کیا تو ہم بہت لیٹ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان میں پکنے والی اس کھچڑی کے بانی پاکستان میں موجود ہیں یادیو جیسے اور بھی عناصر یہاں موجود ہیں۔ یادیو پر آے والے مودی کے پیغامات اور افغانستان میں اس کا کردار دیکھنا چاہئے کس طرح اس نے ٹرائیکا بنا لیا ہے۔ امریکہ کو ساتھ ملا کر اس نے دھمکیدی کہ بلوچستان کےر استے پاکستان کو سبق سکھائیں گے اس نے بلوچستان سے بھاگے ہوئے افراد سےبات چیت کیاس کا متن بھی جاری کر دیا۔ تھوڑے عرصہ بعد ان کے وزیردفاع نے بیانات دے کر ہم پاکستان کوسبق سکھائیں گے۔ ان ہی دنوں یادیو بھی پکڑا گیا۔ اس کے علاوہ اور بھی خبریں ہیں ڈاکٹر اللہ نذر کس کے کہنے پر کام کر رہا ہے؟ وہاں کون پیسے تقسیم کر رہا ہے۔ وہاں کی سٹوڈنٹ فیڈریشن کو کون آگے لا رہا ہے؟چاہ بہار سے انٹیلی جنس ہو رہی ہے قندھار سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کو کس طرح بچانا ہے۔ اس کی حفاظت کس طرح کرنی ہے؟ پاکستان کونقصان پہنچانے والے عناصر سے ہم نے خود کو بچانا ہے۔آپ کی وساطت سے میں پرزور اپیل کروں گا۔ حکومت اور دھرنے والے دونوں سے۔ ان لوگوں سے بھی جو مصالحت کروانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اس دھرنے کو ختم کریں ورنہ یہ دھرنا جمہوریت کو لپیٹتا ہوا نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی نے جب اقتدار سنبھالا تھا۔ اسی دن سے وہ چالیں چل رہا ہے۔ اس نے ہماری حکومت کو چکما دیا اور ایسے ظاہر کیا کہ وہ نواز شریف کے دوست ہیں۔ ہو سکتا ہے دوستی ہو بھی۔ لیکن جس انداز سے اس نے پاکستان کے ساتھ چال چلی۔ اپنے ”ہوم فرنٹ“ پر ا ور ”فارن فرنٹ“ پر بھی۔ مودی کا امریکہ میں داخلہ ممنوع تھا۔ اس نے چالاکی سے اپنا نام وہاں سے مٹوایا اور پہلی مرتبہ اوباما سے ملا اور وہاں جا کر یہ باور کروایا کہ پاکستان دہشتگردی کرواتا ہے۔ پاکستان صحیح ملک نہیں ہے اور جو کچھ بھی افغانستان میں ہو رہا ہے وہ پاکستان کروا رہا ہے۔ وہ لوگ پہلے ہی پاکستان کے خلاف بغض رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس کے نظریات کو فوراً قبول کیا۔ دوسری جانب دیکھیں ہمارے وزیر خارجہ جب وہاں گئے تو فارن آفس نے انہیں درست بریفنگ نہیں دی۔ کیونکہ حافظ سعید کے بارے کہا جا رہا تھا کہ وہ امریکہ گئے۔ حالانکہ وہ کبھی امریکہ نہیں گئے۔ میں انڈیا سے ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ تم جھوٹے ہو۔ تم نے کبھی درست شواہد انٹرنیشنل کورٹ میں پیش نہیں کیے۔ میں نے بھارت کو بہت سے خطوط لکھے۔ اس کے وزیراعظم کو بھی اور اس وقت کے وزیر خارجہ کو بھی۔ بھارت نے پروگرام بنایا جس کے تحت بہت پیسے اکٹھے کیے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی اداروں سے ٹکراﺅ کی صورتحال جاری رہی تو جمہوریت کا جہاز ڈوب جائے گا۔ جس سمت میں یہ جا رہے ہیں وہ درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کیس کا فیصلہ عدالت نے دینا ہے میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر حدیبیہ پیپر کیس اور حدیبیہ انجینئرنگ کیس کے چالان جو ایف آئی اے نے دئیے تھے اس وقت میں اس کا ڈائریکٹر تھا۔ اس کی سرپرستی میں نے کی۔ میری کسی سے دشمنی نہیں تھی۔ میں بیورو کریٹ تھا۔ اپی ڈیوٹی پوری کی میرے خیال میں ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق جو بعد میں نیب کو بجھوا دی گئی تھیں۔ نواز شریف کی جائیداد جو بیرون ملک ظاہر ہوئی ہے اور دیگر لوگوں کے نام جو سامنے آئے ہیں کافی حد تک ان لوگوں کا تعلق ان سے نکل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ حدیبیہ پیپر کیس سے نکلنے کےلئے شہباز شریف کو بہت محنت کرنی پڑے گی کیونکہ ان کا نام اس میں ہے۔ میں سب کا نام نہیں لینا چاہتا۔ اس وقت میں نے سب کے نام دئیے تھے۔ میں نے جے آئی ٹی کو تمام حقائق بیان کر دئیے تھے۔ میں نے انہیں طریقہ کار بھی بتایا کہ جس کے تحت اسے ”ری اوپن“ کیا جاسکتا تھا۔ وہ سمجھے کہ شاید میں ان کی فیور کر رہا ہوں۔ میں نے جو خط لکھا تھا۔ سپریم کورٹ کے سامنے جے آئی ٹی کا وہی خط ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس میں جو کچھ لکھا وہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔ کورٹ کی کارروائی شروع ہوئی تو سب سے معاملات میرے درست ثابت ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ براہمداغ بگٹی ہو یا کوئی بلوچ لیڈر ہو وہ انڈیا کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔ میں نے براہمداغ سے بات کی۔ ہمارا تاجکستان میں ملنا طے ہوا انہوں نے کہا میں نیو دہلی جا رہا ہوں۔ نیا سال منا کر آپ کو تاجکستان ملوں گا۔ جب وہ واپس آیا تو میرے ذرائع نے بتایا کہ وہ کہتے ہیں انڈین کے مطابق اگر تم رحمن ملک سے ملے تو وہ مروا دے گا۔ اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ کتنا بھارت پر انحصار کرتے ہیں۔ اور بھارت ان کی کتنی فنڈنگ کر رہا ہے۔ 500 ملین ڈالر، مودی حکومت نے را کو دیا ہے جو اس نے بلوچستان میں گڑ بڑ کےلئے استعمال کرنا ہے۔ ڈاکٹر مالک نے اچھی کوشش کی حکومت کو ان کی بات ماننی چاہیے تھی۔ بھارت چاہے گا کہ صوبائیت کو ہوا ملے۔ پنجابی کو مارنا، بلوچی کو پکڑنا، سندھی کو قتل کرنا بھارت کا مین ایجنڈا ہے یہی کام اس نے مشرق پاکستان میں کروایا تھا۔ میڈیا اور دیگر لوگوں سے میری درخواست ہے کہ اسے روکیں کیونکہ بھارت یہی چاہتا ہے۔ دشمن ہمیشہ کمزور حصہ ٹارگٹ کرتا ہے۔ ایجنسیوں کو اور بہتر طریقہ سے کام کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ بلوچستان میں معاملے پر ”سوموٹو“ لے چکا ہے۔ بھارت بلوچستان میں ہر وہ کام کرے گا جس کے ذریعے وہ ہمارے یہاں سکیورٹی معاملات کو ہوا دے سکے۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain