شادی کے بعد گھریلو امور پر توجہ دینا ضروری

لاہور ( شوبز ڈیسک) اداکارہ صاحبہ نے کہا ہے کہ شادی کے بعد بچوں اور گھریلو امور پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہوتا ہے اور بچوں کو خاص طور پر والدین کی بھرپور توجہ درکار ہوتی ہے اور ماں کا کردار سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے وہی اپنے بچے کو اس ملک کا اچھا اور ذمے دار شہری بنانے کے لئے قدم قدم رہنمائی کرتی ہے ۔ انہوں نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی اپنے بچوں کے لئے ایک اچھی ماں ثابت ہونا چاہتی ہوں تاکہ مستقبل میں جا کر میرے بچے اس ملک کے باعزت اور ذمے دار شہری بن سکیں اور یہ صرف میری ہی نہیں بلکہ ہر ماں کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ صاحبہ نے کہا کہ آج بھی مجھے فلموں کی بے شمار آفرز ہیں مگر میری پہلی ترجیح میرے بچے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اور میرے شوہر ریمبو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں ۔، جب بچے تھوڑے بڑے ہو جائیں گے تو پھر میں اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اپنے پراجیکٹ میں کام کروں گی ۔ لیکن اس وقت میری تمام توجہ گھریلو امور کی طرف ہے ۔

بولڈ مناظرکے باعث بھارتی فلم ٹھکرا دی

لاہور(شوبز ڈیسک)اداکارہ عروا حسین نے کہا ہے کہ بالی ووڈ سے فلم کی آفر آئی مگر بولڈ مناظر کی وجہ سے انکار کر دیا۔گلوکاری کی طرف رجحان تھا، فرحان سے اسی فیلڈ میں ہی ملاقاتیں ہوئیں جو دوستی سے رشتے میں تبدیل ہو گئی، شادی کی پیشکش انھوں نے ہیرے کی انگوٹھی سے کی تو مجھے بھی ماننا پڑا۔ فرحان سے اسی فیلڈ میں ہی ملاقاتیں ہوئیں جو دوستی سے رشتے میں تبدیل ہو گئیعروہ حسین کا کہناتھا کہ برلن میں ہم دراصل ایک کمرشل کی شوٹنگ کے لیے گئے تھے اور وہاں سے میں ہر لمحے سوشل میڈیا پر اپنی اور ان کی تصاویر اپ لوڈ کرتی رہی تھی۔ جو اخبارات کی زینت بنی۔

معروف جوڑی انجلینا جولی اور براڈپٹ پھر اکٹھے ہوگئے

لاس اینجلس (شوبز ڈیسک) غیر ملکی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ سٹارز انجلینا جولی اور براڈ پٹ دوبارہ اکھٹے ہو گئے ہیں۔ دونوں سٹارز میں نہ صرف ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے بلکہ فون پر بھی روزانہ گفتگو کی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق جولی اور براڈ کو جدائی نے ستانا شروع کر دیا ہے۔ دونوں نے محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر دوبارہ بات چیت کا سلسلہ شروع کر لیا ہے۔ انھیں اکثر جگہوں پر اکھٹے دیکھا جا رہا ہے جبکہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ دونوں بہت جلد اکھٹے ہونے جا رہے ہیں۔خیال رہے کہ انجلینا جولی نے 2016ءمیں براڈ پٹ سے طلاق لے لی تھی، جس کے بعد دونوں میں اپنے 6 بچوں کی کفالت کو لے کر قانونی جنگ شروع ہو گئی تھی۔دونوں فنکاروں کے درمیان کافی سالوں سے تعلق قائم تھا تاہم انہوں نے کافی انتظار کے بعد 2014ء میں شادی کی۔ دونوں کی پہلی ملاقات 2005ئ میں ریلیز ہونے والی فلم ’مسٹر اینڈ مسز سمتھ‘ کے سیٹ پر ہوئی، اس کے بعد دونوں اکھٹا رہنے لگ گئے تھے۔

ماہ نور بلوچ نے فلم میں کام سے انکار کردیا

لاہور(کلچرل رپورٹر)اداکارہ ماہ نور بلوچ نے نجی ٹی وی کی فلم میں کام سے انکار کردیا۔ذرائع نے بتایا ہے کہ کراچی میں ایک نجی ٹی وی نے اداکارہ ماہ نور کو اپنی فلم میں لیڈ رول کی پیشکش کی لیکن انہوں نے کسی وجہ کے بغیر انکار کردیا جس کے بعد فلم کے ڈائریکٹرنے ماہ نور بلوچ کے ایک قریبی ساتھی اور شوبزکی معروف شخصیت سے سفارش بھی کرائی لیکن اس کے باوجود بھی ماہ نور بلوچ کام کے لئے تیار نہ ہوئیں۔اس بارے میں مزید معلوم ہواہے کہ ماہ نور بلوچ کو اس سے پہلے بھی متعددلوگوں کی طر ف سے فلموں میں کام کے لئے رابطہ کیا گیا ہے لیکن وہ ہر بار انکار کردیتی ہیں۔ ماہ نوربلوچ نے گزشتہ سال کافی عرصے کے بعد ڈائریکٹرفہیم برنی کی ایک سیریل میںکام کیا تھا جس کی کاسٹ میں اظفررحمن اور زرنش خان بھی شامل تھے۔

ٹیکس چھپانا قومی جرم

لاہور(کلچرل رپورٹر)گلوکارہ شاہدہ منی نے ”خبریں“سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں ٹیکس چھپانا قومی جرم سمجھتی ہوں اس لئے ہرسال باقاعدگی سے ٹیکس اداکرتی ہوں مجھے نہ تو پہلے اور نہ ہی اب کوئی نوٹس جاری کیا گیا۔ انہوں نے کہا میں پاکستان کے کئی بڑے بڑے سیاستدانوں سے زیادہ ٹیکس اداکرتی ہوں ،میں نے گزشتہ سال کے تمام ٹیکس اداکردیئے ہیں لیکن اس کے باوجود اکثر اس طرح کی بے بنیاد افواہیں پھیلائی جاتی ہیں کہ مجھے ایف بی آر کی طرف سے نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے ایف بی آر سمیت کسی بھی ادارے کی طرف سے نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ایک سوال کے جواب میں شاہدہ منی نے بتایا کہ میں سال2016میں 8لاکھ93ہزار روپے ٹیکس اداکیا جس کا ریکارڈ بھی موجود ہے ،میں سمجھتی ہوں کہ تمام لوگوں کو ایمانداری سے ٹیکس اداکرنا چاہیئے کیونکہ اس سے ملکی ترقی کا پہیہ چلتا ہےدریں اثنا گزشتہ روز شاہدہ منی کے ماموں کے انتقال پر شوبزسے وابستہ بہت سے لوگوں نے ان سے تعزیت کی۔

ٹیسٹ سیریزمیں گرین شرٹس کاانوکھا کارنامہ

کراچی (نیوز ایجنسیاں) ٹی ٹوئنٹی کے بعد کرکٹ کا مزاج مکمل طور پر جارحانہ ہو چکا ہے لیکن پاکستانی کھلاڑی آج بھی ٹک ٹک ہی کرتے رہتے ہیں جس کا بڑا مظاہرہ ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں دیکھنے میں آیا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں قومی ٹیم کو پانچ اننگزوں میں مجموعی طور پر 2 ہزار 822 گیندوں کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے جانباز کھلاڑیوں نے 2 ہزار 261 گیندوں کو تکلیف پہنچنے کے اندیشے کے پیش نظر چھونا بھی گوارا نہیں کیا اور ان پر کوئی رن سکور نہیں کیا۔پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ جاری ہے جس کی پہلی اننگز میں قومی ٹیم نے 376 رنز سکور کیے۔ اب تک تین ٹیسٹ میچز کی پانچ اننگزوں کے دوران قومی ٹیم کو ویسٹ انڈیز کے بالرز نے 2 ہزار 822 گیندیں کرائیںلیکن شاہینوں نے ان میں سے 2 ہزار 261 گیندوں کو اپنے پروں کیلئے خطرناک سمجھا اور ان سے کنی کترانے میں ہی عافیت جانی۔ قومی ٹیم کے بلے باز صرف 561 گیندوں پر ہی پرنز سکور کرنے میں کامیاب ہو سکے۔پہلے ٹیسٹ میچ میں ٹیم پاکستان کے بلے بازوں نے 892 گیندوں کا سامنا کیا جن میں سے 700 گیندیں ضائع ہوئیں اور شاہینوں نے صرف192 گیندوں پر رنز سکور کیے۔ اسی طرح دوسرے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈین بالرز نے ایک ہزار 48 گیندیں کرائیں جن میں سے پہلی اننگز میں 183 اور دوسری اننگز میں صرف 186 گیندوں پر رنز بن سکے۔ تیسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں قومی کرکٹ ٹیم نے 876 گیندوں کا سامنا کیا جن میں سے صرف 173 پر رنز بن سکے جبکہ 703 گیندیں ضائع ہوگئیں۔ واضح رہے کہ کپتان مصباح الحق نے تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں 148 گیندوںپر 59 رنز سکور کیے تاہم انہوں نے ابتدائی 50 گیندوں پر صرف 1 رن سکور کرکے نیا ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔

غیر اخلاقی اور ذاتیات پر تنقید سے غصہ آتا ہے

روسیو(نیوزایجنسیاں)پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے قائد مصباح الحق نے کہا ہے کہ غیر اخلاقی اور ذاتیات پر تنقید سے غصہ آتا ہے لہذا میڈیا پالیسی کا ازسر نو جائزہ لے۔برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب غیر اخلاقی اور ذاتیات پر تنقید کی جاتی ہے تو غصہ آتا ہے، مسلمان ہونے کی بناء پر ہم یہ کہتے تو ہیں کہ کسی کو دکھ نہیں دینا چاہیے لیکن ان باتوں پر عمل کوئی نہیں کرتا، تنقید برائے تنقید کرنے والے میڈیا کو اپنی پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، جس طرح بعض اوقات کرکٹرز کی کردار کشی اور ان کی نجی زندگی کو اچھالا جاتا ہے، ایسا نہ ہو کہ والدین بچوں کو کھیلوں میں بھیجنا ہی بند کر دیں۔مصباح نے کہا کہ کرکٹ کے میدان کی طرح عام زندگی میں بھی بہت زیادہ اور جلدی ردعمل ظاہر نہیں کرتا اور معاملات ہلکے پھلکے انداز میں نمٹاتا ہوں، کرکٹ کی مصروفیات کے سبب میانوالی جانے اور پرانے دوستوں سے ملنے کا موقع بہت کم ملا لیکن یہ وہ سچے دوست ہیں جن کی دوستی کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانی یادوں کو بہت زیادہ محسوس کرتا ہوں اور ریٹائرمنٹ کے بعد ان تمام لوگوں سے دوبارہ مل کر پرانی یادیں تازہ کروں گا، میانوالی کے لوگ ذہنی و جسمانی طور پر بہت مضبوط ہیں لیکن وہاں کھیل کے میدان نہیں ہیں، خواہش ہے کہ وہاں تعلیم، صحت اور کھیل کی حالت بہتر کرنے کے لئے دوستوں کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کروں۔

یونس خان نے پاکستان کا نام روشن کر دیا، وزڈن کرکٹرز آف دی ائیر کے کیلنڈر میں نام شامل

لاہور( نیوزایجنسیاں)مرد بحران یونس خان نے کیرئیر میں کئی اہم ریکارڈ اپنے نام کئے ہیں۔ سابق ملکی کپتان کو گزشتہ سال انگلینڈ کےخلاف کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز میں شاندار کارکردگی دکھانے پر وزڈن کرکٹرز آف دی ائیر کے کیلنڈر کے 2017ایڈیشن میں شامل کیا گیا۔ اور اب انہیں اس کیلنڈر کا ایک خاص لیدربانڈ ایڈیشن دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جو 18 مئی کو لارڈز کے تاریخی میدان میں ان کے حوالے کر کے کرکٹ کیلئے ان کی انتھک خدمات کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔

محمد نواز نے فکسنگ کیس میں اپنی غلطی تسلیم کرلی

لاہور( آن لائن ) پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ کیس میں کرکٹر محمد نواز نے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کر لی۔تفصیلات کے مطابق محمد نواز کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ان سے بکیز نے خود رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں کوئی ڈیل نہیں ہوئی تھی۔ پی ایس ایل فکسنگ کیس میں کرکٹر پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہوئے، ان سے ایک گھنٹے تک مختلف سوالات پوچھے گئے۔ذرائع کے مطابق آسٹر یلیا کے خلاف دوسرے ون ڈے سے قبل بکیز نے محمد نواز سے رابطہ کیا تاہم کرکٹر نے پی ایس ایل کے دوران 12 فروری کو اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ کیا۔ محمد نواز سے پوچھ گچھ میں ان کے تاخیر سے اے سی یو کو آگاہ کرنے کی وجوہات کے حوالے سے سوالات کئے گئے۔

قومی بلے بازوں پرکسی قسم کاکوئی پریشرنہیں

روسیو(یو این پی)قومی مڈل آرڈر بیٹسمین بابر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستانی بیٹسمین کسی بھی قسم کے دباو¿ کا شکار نہیں اور دوسرے ٹیسٹ کی ناکامی کو بھلا کر آگے بڑھ چکے ہیں۔ بابر اعظم نے اس دعوے کو مسترد کیا کہ قومی بیٹسمین دوسرے ٹیسٹ کی ناکامی کے بعد دباو¿ کا شکار ہیںاور ٹیم تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بہت زیادہ سلوکھیلی۔ ون ڈاو¿ن بیٹسمین نے واضح کیا کہ ناکامی اور کامیابی کھیل کا حصہ ہے اور جو کچھ بھی گزشتہ میچ میں ہوا وہ ماضی کا قصہ بن چکا اور تمام بیٹسمین پراعتماد ہیں جن پر کسی بھی قسم کا کوئی دباو¿ نہیں ہے۔ تیسرے ٹیسٹ میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستانی ٹیم کی منصوبہ بندی کے متعلق ان کایوا ین پی سے کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کا پلان بالکل سادہ سا ہے کہ اچھا کھیلتے ہوئے کم سے کم وکٹیں ضائع کی جائیں اور کوشش کی جائے کہ شراکتیں قائم کر کے حریف ٹیم پر پریشر ڈالاجا سکے جو اس میچ میں اہمیت کا حامل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اظہرعلی کے ساتھ کھیلتے ہوئے ان کی یہی کوشش رہی کہ اچھی شراکت قائم ہو تاکہ بعد میں آنے والے بیٹسمین دباو¿ کا شکار نہ ہوں کیونکہ وکٹ بالنگ اور بیٹنگ کیلئے سازگار ہے اور اسپن بالرز کو بھی کافی مدد مل رہی ہے۔