پنجاب پولیس پر اربوں نہیں کھربوں خرچ مگر جرائم کم نہ ہوئے ، اہم ادارہ کی رپورٹ آ گئی

لاہور (خصوصی رپورٹ)پنجاب پولیس پر 6برسوں میں 4کھرب 42ارب83کروڑ 94 لاکھ سے زائد خرچ ہوئے لیکن 2011سے ہر سال پنجاب میں جرائم کی شرح میں 82 فیصد سے لیکر 177فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پنجاب میں 6برسوں کے د وران جرائم ، قتل ، گینگ ریپ اور اغوا کے معاملات میں تمام تر ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ پنجاب پولیس کی انتہائی غفلت کے باعث 19 بے قصورافراد جانیں بھی کھو بیٹھے، پنجاب پولیس کے افسروں کی جانب سے غیر حاضررہنے ، مبینہ کرپشن کرنے اور دیگر غیر قانونی اقدامات میں ملوث ہونے کے 21ہزار 987کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے انتہائی کم افسروں کو سزائیں دی گئیں جبکہ جو بھی آئی جی پنجاب رہا وہ اپنے من پسند افسروں و اہلکاروں کی تعیناتیاں کرتارہا،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی بعض اجلاسو ں میں یہ بات تسلیم کر لی کہ پنجاب میں ایف آئی آر درج کروانے کے لئے سفارش یا پھر پیسہ لگانا پڑتا ہے ، بغیر پیسے کے پولیس سے متعلقہ کوئی کام بھی نہیں ہوپاتا۔ پنجاب میں کئی فورسز متعارف کروائی گئیں، ترکی سے خصوصی فورس منگوا کر پولیس اہلکاروں کو تربیت دلوائی گئی، لیکن وہ بھی صرف اعلی حکومتی عہدیداروں کے پروٹوکول اور وی وی آئی پیز ڈیوٹی پر تعینات رہے ۔پنجاب حکومت کی اپنی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ سالوں میں ہر سال پنجاب پولیس کے بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا لیکن بہتررزلٹ سامنے نہ آسکا، پنجاب پولیس کی غفلت کے باعث کئی افراد کو ڈائریکٹ گولیاں بھی ماری گئیں ا ور کئی افراد جاں بحق ہو گئے ۔ لیکن ان کے ورثا کو آج تک انصاف ہی نہ مل سکا، پنجاب پولیس کا گزشتہ سالوں کا بجٹ دیکھا جائے تو 6سالوں کے دوران 4کھرب 42ارب83کروڑ 94ارب 37ہزار روپے پولیس کودئیے گئے ہیں، جس میں سے 2011-12کے دوران 51ارب 82کروڑ 10لاکھ روپے دئیے گئے جبکہ اسی دوران کرائم کی شرح میں 2010-11کی نسبت 82فیصد اضافہ ہوا، 2012-13کے دوران 64ارب 66کروڑ 19لاکھ 61ہزار روپے دئیے گئے اور اس سال کے دوران قتل و غارت سمیت دیگر جرائم کی شرح میں 76فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، 2013-14کے دوران 70ارب 13کروڑ 41لاکھ 19ہزار روپے بجٹ دیا گیا تھا لیکن اس سال بھی جرائم کی شرح میں 139 فیصد اضافہ ہوا، 2014-15 کے دوران 81ارب 27کروڑ 84لاکھ 76 ہزار روپے بجٹ دیا گیا جبکہ اس سال جرائم و متعلقہ ایشوز کی شرح میں 121فیصد اضافہ ہوا، 2015-16 کے دوران86ارب 69کروڑ 93لاکھ 54ہزار روپے دئیے گئے جبکہ جرائم کی شرح میں 129 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ رواں برس 2016-17 کے دوران 88ارب 24کروڑ 45لاکھ 27ہزار روپے دئیے گئے ہیں جبکہ رواں برس بھی جرائم میں کمی واقع نہ ہوسکی اور اس برس کے دوران بھی 89فیصد اضافہ ہی دیکھنے میں آیا ہے ، اگر گزشتہ چند ماہ کے دوران اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو جرائم کے مجموعی طور پر 1لاکھ 30ہزار 887کیسز درج ہوئے جن میں قتل کے 899،اغوا کے 3219، معصوم بچیوں کیساتھ ریپ کے 643، گینگ ریپ کے 39 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ بڑی ڈکیتیوں کی وارداتوں میں بھی سنگین حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ اس حوالے سے محکمہ خزانہ پنجاب میں جب آئندہ بجٹ کی تیاری کے حوالے سے معاملات زیر غور آئے کہ پنجاب پولیس کا بجٹ بڑھایاجائے تو اس حوالے سے گزشتہ سالوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لینے کے حوالے سے معاملات زیر غور آئے کہ پوچھا جائے کہ جو فنڈز ہر سال بڑھایا جاتا ہے کیوں اسکارزلٹ سامنے نہیں آرہا ہے ،پنجاب پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ برسوں کی نسبت اس سال پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی ہوئی ہے ، بعض جگہوں پر کسی حدتک کوتاہیاں بھی ہوئی ہیں جبکہ ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی کارکردگی بہتر ہے ، جرائم ہر جگہ ہوتے ہیں، لیکن کارکردگی بہتر بنائی جارہی ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ پنجاب پولیس کی کارکردگی مزید بہتر ہو سکے جبکہ کچھ سال قبل جرائم میں اضافہ دیکھنے میں آیا لیکن اب معاملات کافی حد تک بہتر ہیں۔

پاکستانی ایمبولینس ڈرائیور کا مریض کیساتھ شرمناک اقدام ، اہم انکشافات

لاہور (خصوصی رپورٹ)ایمبولینس ڈرائیوروں پر مشتمل انسانی اعضاءچوری کرانے والے گرو ہ کا انکشاف گروہ نے 45سالہ نابینا شخص کا مبینہ طور پر گردہ فروخت کردیا۔ آپریشن کے بعد 45سالہ اظہر حسین کے نچلے دھڑنے کا م کرنا چھوڑ دیا ایمبولینس ڈرائیور مریض کو ہسپتال چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق نواحی آبادی سلطان پارک کے نابینا شخص سید اظہرحسین نے اپنی والدہ زرینہ بی بی اور بھائی کبیرشاہ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی دونوں ٹانگوں میں شدید درد رہتا تھا کہ وہ شیخوپورہ اپنے رشتہ داروں کو ملنے گیا جہاں اس کی ملاقات میاں رحمت نامی ایمبولینس ڈرائیور سے ہوگئی جس کو اس نے اپنی تکلیف کے بارے میں بتایا تو ڈرائیو میاں رحمت نے کہا کہ میں لاہور کے ہسپتال میں تمہارا علاج کروادوں گا اور تم بالکل ٹھیک ہوجاﺅگے۔ چنانچہ وہ مجھے ایمبولینس میں ڈال کے لاہور مناواں کے علاقہ میں ایک پرائیویٹ ہسپتال میں لے گیا جہاں مجھے داخل کرنے کے بعد آپریشن کیا گیا آپریشن کے بعد میں ٹھیک ہونے کی بجائے اور بیمار ہوگیا اور میرے جسم کے نچلے دھڑ نے بالکل کام کرنا چھوڑ دیا۔ اس نے بتایا کہ میاں رحمت نے مجھ سے سات ہزار روپے کی رقم بھی ہتھیالی اور مجھے بے یار ومددگار ہسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگیا مجھے اس بات کا امکان ہے کہ آپریشن کے بعد ڈاکٹروںنے میرے جسم سے قیمتی انسانی اعضاءگردہ چوری کرلیا ہے جس کے باعث میرے جسم نے کام کرنا بالکل چھوڑ دیا ہے اس نے مزید بتایا کہ مذکورہ ایمبولینس ڈرائیور میاں رحمت کے کئی اور ساتھی ہیں، جو غریب افراد کو ورغلا کر ان کا علاج کروانے کے بہانے ہسپتالوںمیں لے جاتے ہیں اور قیمتی انسانی اعضاءچوری کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں ۔ دریں اثنا واقع کے خلاف اہل خانہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل کرتے ہوئے ساری صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا میو ہسپتال ، مسائل کا گڑھ کیسے بنا ، دیکھئے خبر

لاہور(سروے رپورٹ:طلال اشتیاق/تصاویر :عمرفاروق) مےو ہسپتال کے آﺅٹ ڈور مےں سےنئر ڈاکٹرز \ڈےوٹےوں سے غائب جبکہ مرےضوں کو جونئےر ڈاکٹروں کے حوالے کردےا گےا۔کےنٹےنوں پر باسی کھانوں کی فروخت سمےت اور چارجنگ معمول بن گئی۔ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے باوجود بھی سےکورٹی ناقص جبکہ درجنوں سےکورٹی گارڈز ڈےوٹےوں سے غائب رہنے لگے ہےںجس کے باعث ہسپتال میںموجودسےنکڑوں مرےض ،ان کے لواحقےن ،ڈاکٹروں ،نرسوں اورعملہ کے لئے سےکورٹی رسک بن گےا ہے ۔نےفرالوجی ڈےپارٹمنٹ مےں ڈائلسز کروانے والے مرےضوں کی لمبی لائنےںجبکہ سفارشی مرےضوں کے ڈائلسز فوقےت پر کئے جانے لگے ہےں ۔شدےد گرمی مےں ہسپتال کی حدود مےں پےنے کے پانی کا موثر انتظام نہ ہونے سے ہسپتال آنے والے شہری پرےشان ہوگئے ۔تفصےلات کے مطابق مےو ہسپتال جسے پاکستان کا سب سے بڑا ہسپتال مانا جاتا تھا جبکہ ہسپتال انتظامےہ کے ناقص انتظامی امور اور محکمہ صحت پنجاب کی عدم توجہی کے باعث اس وقت مےو ہسپتال مسائل کا گڑھ بن گےا ہے ۔ہسپتال کے آوٹ ڈور میں روزانہ ہزاروں مریض علاج معالجہ کے لئے آتے ہیں ان کے علاج معالجہ کے لئے سر جری ،آرتھوڈپیڈک،شعبہ اطفال،میڈیسن سمیت دیگر شعبوں کے پرو فیسر ز او پی ڈی میں مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے موجود نہین ہوتے جبکہ ان کی جگہ جونیئر ڈاکٹروں سے مریضوں کا علاج معالجہ کروایا جاتا ہے ،اسی طرح میو ہسپتال کی کینٹینوں پر بھی باسی کھا نوں سمیت اور چارجنگ معمول بن گئی ہے جبکہ کچھ عر صہ قبل پنجاب فوڈ اتھا رٹی کی ٹیم نے بھی میو ہسپتال کی کینٹینوں پر چھا پا مار کر ناقص کھانوں کی فروخت پر جر مانہ کرنے کے ساتھ وارننگ دی تھی اس کے باوجود بھی ان کینٹینوں کے ٹھیکے داروں نے انتظامی ڈاکٹروںکی ملی بھگت سے کینٹینوں پر دوبارہ وہی کام شروع کر لیا ہے اور ناقص کھانو ں کی فروخت ڈھرلے سے جاری رکھی ہوئی ہے جس سے مریضوں اوران کے لواحقین میں ہیپا ٹائٹس جیسے موذی مرض پھیل سکتے ہیںاس کے علاوہ یہ ناقص کھانے مہنگے داموں فروخت کئے جارہے ہیں،شدےد گرمی مےں ہسپتال کی حدود مےں پےنے کاٹھنڈا پانی بھی میسر نہیں ہے جس کی وجہ سے مریضوں اور ان کے لواحقین شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے اور ہسپتال کی کینٹینوں سے ہی ناقص پانی مہنگے داموں خرید کر پینا پڑتا ہے۔دوسری جانب ملک میں ممکنہ دہشتگردی کے باوجود بھی میو ہسپتال مریض اور ان کے لواحقین کے لئے سکیورٹی رسک بن گیا ہے اکثر سکیورٹی گارڈ زیا تو ڈیوٹیوں سے غائب پائے جاتے ہیںجبکہ چند ایک جو ڈیوٹی پر موجود بھی ہوںتو وہ مریضوں کے لواحقین سے بخشش لینے میں مصروف رہتے ہیں ،جبکہ نےفرالوجی ڈےپارٹمنٹ مےں ڈائلسز کروانے والے مرےضوں کی لمبی لائنےںلگ جاتی ہیں اور سفارشی مرےضوں کے ڈائلسز فوقےت پر کئے جاتے ہیں ۔

ڈیڑھ لاکھ میں فروخت ہونیوالی بچی ، ”خبریں “کی بروقت کاروائی نے نئی مثال قائم کر دی

لیاقت پور+شیدانی شریف (رپورٹنگ خورشید احمدخورشید، ملک وسیم) خبریں نے ڈیڑھ لاکھ میںبکنے والی حواکی 10سالہ بیٹی کی اتوارکوہونے والی شادی کی کوشش ناکام بنادی۔پولیس نے لڑکی کوتحویل اور والدین کوحراست میںلے لیا۔22سالہ دلہااورنکاح خواں کی گرفتاری کیلئے چھاپے۔اہل علاقہ کا خبریں کو خراج تحسین۔تفصیلات کے مطابق تحصیل لیاقت پورکے تھانہ شیدانی کی حدودکے دریائی علاقہ کی بستی چانڈیہ کے محمدحسین چانڈیہ نے اپنی 10سالہ بیٹی عائشہ کو 6ماہ قبل قریبی بستی کے 22سالہ نوجوان بلال اندھڑ کوڈیڑھ لاکھ روپے میںفروخت کرکے اس کانکاح بھی کردیا۔جبکہ رخصتی 14مئی بروزاتوارکوہونی تھی۔بستی کے کسی رحم دل شخص نے اس تمام صورت حال سے چیف ایڈیٹرخبریںضیاءشاہدکولاہورآگاہ کیا۔جن کی ہدایت پرخبریںکی رپورٹنگ ٹیم نے ڈی ایس پی لیاقت پورمامون الرشیداورایس ایچ اوتھانہ شیدانی شریف رانامحمداشرف سے رابطہ کرکے انہیںتمام حقائق سے آگاہ کیا۔جس پرپولیس تھانہ شیدانی نے رپورٹنگ ٹیم کے ہمراہ بستی چانڈیہ عظمت والی پلی ملکانی کے قریب محمدحسین کے گھرچھاپہ مارکر10سالہ عائشہ کواپنی تحویل اوران کے والدمحمدحسین چانڈیہ اوروالدہ رحمت بی بی کو حراست میں لیا۔ جہاں ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور عائشہ نے بتایاکہ نہ تواسے اپنے خاوندکے نام کاپتہ ہے اورنہ ہی اسے اس شادی کی بابت معلوم ہے۔وہ شادی نہیںکرناچاہتی۔ایک ہفتہ قبل اس کی رسم مہندی بھی ہوچکی۔جبکہ14مئی کورخصتی کیلئے بارات آنی تھی۔عائشہ کی والدہ رحمت بی بی نے بتایاکہ وہ انتہائی غریب ہیںگھرمیںکھانے کوکچھ نہیں۔اس لیئے وہ اپنی بچی کی شادی جلدی کررہے ہیں۔عائشہ کے والد محمدحسین چانڈیہ نے بتایاکہ اس نے بچی کوفروخت نہیں کیا بلکہ سنبھاواکیلئے لڑکے والوںسے کچھ رقم لیکراس کا جہیزخریدکیاہے۔بچی کی اتوارکورخصتی تھی۔تاہم وہ اب ان حالات میںبچی کی رخصتی 5،6سال کے بعدکریںگے۔تاہم پولیس نے مزیدکاروائی شروع کردی ہے۔پولیس نے دلہا محمدبلال اندھڑ اور نکاح خوان الطاف خان خلیفہ کی گرفتاری کیلئے بھی مختلف جگہوں پرچھاپے مارے مگریہ دونوں افرادہاتھ نہ آسکے۔ ایس ایچ اورانامحمداشرف نے رپورٹنگ ٹیم کو بتایا کہ اس واقعہ میںجوبھی ملوث پایا گیا اس کے خلاف بھرپور کاروائی ہوگی۔عائشہ ہماری بچی جیسی ہے اسے ہرقسم کا تحفظ فراہم کیاجائیگا۔جب رپورٹنگ ٹیم نے نکاح خواںسے ٹیلی فون کرکے اسے ملنے اور نکاح کاپرت حاصل کرنے کی خواہش کااظہارکیاتواس نے کہا کہ وہ آﺅٹ آف سٹی ہیں۔نکاح کاتمام ریکارڈ یونین کونسل گلانی میںجمع کرادیاتھاآپ وہاںسے حاصل کرلیں۔ اہل علاقہ محمدخان، محمدسلیم، رشیداحمد، عبدالصبور، جمیل احمد، محمد صدیق وغیرہ نے خبریںکی کاوشوںکو خراج تحسین پیش کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کمسن بچیوں کی شادی کے حوالے سے بننے والے قوانین پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کرایاجائے تاکہ ایسے واقعات کی موثر طور پر روک تھام کی جاسکے، جبکہ ایسے غریب والدین کی جہیز فنڈز کے حوالے سے محکمہ زکوٰة و بیت المال سے امداد کی جاجے تاکہ وہ بچیوں کی فروخت کا گھناو¿نا اقدام نہ اٹھائیں۔

سیالکوٹ کے گائنی آپریشن تھیٹر میں خفیہ کیمرے ، ”خبریں “کی نشاندہی پر تحقیقات شروع

سےالکو ٹ (بےورورپورٹ )الصدیق جنرل ہسپتا ل کے گا ئنی آپر یشن تھیٹر میں خفیہ کیمر وں کی تنصیب کا انکشاف ،روزنا مہ خبرےں کی نشا ندہی پر محکمہ ہیلتھ کی کا روائی آپریشن تھیٹر سیل کر دیا گیا ،تفصیلا ت کے مطا بق تھا نہ سول لا ئن کے علا قہ خا دم علی رو ڈ پر واقع الصدیق جنرل ہسپتا ل کے گا ئنی آپر یشن تھیٹر اور لیبر روم میں خفیہ کیمرے نصب کئے گئے تھے ،جہا ں گا ئنی آپر یشن اور خواتین کی دوران زچگی کی ویڈیو ز ریکا ر ڈ کی جا تی تھیں عوامی شکا یا ت پر محکمہ صحت کو خفیہ کیمر وں کی تنصیب سے آ گا ہ کیاجس پرای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر جا وید وڑائچ نے اے سی سیا لکو ٹ شاہد عبا س اور ڈرگ انسپکٹر نا ئلہ صدیقی کے ہمر اہ ہسپتا ل پر چھا پہ ما را ،جہا ں غیر قانو نی طو رپر قا ئم ہسپتا ل آپر یشن تھیٹر ،لیبر روم کو ہیلتھ قوانین کی خلا ف ورزی اور وہا ں تنصیب خفیہ کیمر وں کی بنا ءپر سیل کر دیا گیا ، خا دم علی رو ڈ پر 25سال سے غیر قانو نی طو ر پر قائم الصدیق جنر ل ہسپتا ل جہا ں پر تو فیق نا می عطا ئی ڈاکٹر نے لا ئسنس حا صل کئے بغیر ہسپتا ل قائم کیا ہو ا تھا ،اس مو قع پر ڈرگ انسپکٹر ڈاکٹرنا ئلہ صدیقی نے میڈ یا سے گفتگو کر تے ہو ئے بتا یا کہ الصدیق جنر ل ہسپتا ل میں کئے جا نے والے آپر یشن ،آپر یشن تھیٹر محکمہ صحت کے رولزکے مطا بق نہ ہو نے کی بنا ءپر غیر قانو نی ہے جبکہ میڈ یکل سٹور کا لا ئسنس نہ ہے اور آپر یشن تھیٹر میں نصب کیمر ے غیر قانو نی ہیں جس کی بنا ءپر ہسپتا ل کے آپر یشن تھیٹر کو سیل کر دیا گیا ہے اور سی سی ٹی وی کیمر ے اور ریکا رڈنگ قبضہ میں لے لی ہے زرا ئع کے مطا بق اسسٹنٹ کمشنر سیا لکو ٹ شاہد عبا س نے ای ڈی او ہیلتھ ڈا کٹر جا وید وڑا ئچ کی ہدا یا ت کے با وجو دسی سی ٹی وی کیمر ے اور ویڈ یو ڈایو ئس قبضہ میں نہ لی ہے جو کہ ر ا ت گئے عطا ئی ڈاکٹر نے ضا ئع کر دی ہے اس سلسلہ میں اے سی سیا لکو ٹ شاہد عبا س سے را بطہ کیا گیا تو انکا کہنا ہے کہ آپر یشن تھیٹر ،لیبر رو م میں کیمر ے نصب کر نا اور خو اتین کی نا زیبا ویڈ یو تیا ر کر نا سنگین جر م ہے جس پر فو جداری مقد مہ بھی قائم ہو سکتا ہے اسی بنا ءپر آپر یشن تھیٹر کو سیل کیا گیا ہے۔

”دھماکے روکنے کیلئے دہشتگردوں کی نرسریاں ختم کرناہونگی“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ مستونگ دھماکہ افسوسناک ہے۔ پاک فوج کی بھرپور کوششوں کے باوجود یوں لگتا ہے کہ ایک ریس جاری ہے۔ دہشتگرد پکڑے بھی جاتے ہیں، سزا بھی ہوتی ہے لیکن یہ واقعات رکتے نہیں۔ مشروم گروتھ کہاں سے ہو رہی ہے، جو رکنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ ہم فصل کو اوپر اوپر سے کاٹ رہے ہیں، نیچے جڑیں موجود ہیں۔ جب تک قومی سطح پر دہشت گردوں کی نرسریاں ختم نہیں کی جاتیں، دھماکے ہوتے رہیں گے۔ تھنک ٹینک، ان کی تیاری و سوچ کو پکڑنا بہت ضروری ہے۔ حکومت و افواج سمیت حساس اداروں کی ایک بھی سنجیدہ ایکسرسائز ہوتے نہیں دیکھی، جس میں سکالرز، ماہر و علماءشامل ہوں۔ ملک میں دہشتگردی پر قابو پانے کے لئے سیمینارز و ورکشاپس ہوتے کبھی نہیں دیکھیں۔ سب سے زیادہ ذمہ داری علماءپر عائد ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی تقاریر میں کہتے ہیں کہ گستاخ رسول واجب القتل ہے تو ان فتوﺅں کو سن کر لوگ گستاخی کرنے والے کو قتل کر دیتے ہیں۔ مشعل خان کی مثال موجود ہے۔ علماءکو چاہئے کہ وہ ساتھ یہ بھی کہا کریں کہ قانون کواپنے ہاتھ میں نہیں لینا، اگر کوئی گستاخ ہے تو اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کریں، عدالت اسے سزا دے گی۔ علماءخود ہی فیصلہ کر لیتے ہیں یہ بھی دہشتگردی ہے اوراس سے دہشتگردانہ کلچر کو فروغ ملتا ہے۔ اگر علماءکرام اس کلچر کو پیدا کریں کہ ”قانون ہاتھ میں نہیں لینا“ تو دہشتگردوں کی صف میں اضافے کے بجائے کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک کے اندر دہشتگردوں کی نرسریاں ختم نہیں ہوں گی اور حساس بارڈرز کو ختم کر کے مضبوط و مستحکم نہیں بنایا جائے گا دہشتگردوں پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گرد پیدا کرنے اور انہیں پناہ دینے والے ادارے کم ضرور ہوئے ہیں لیکن یہ آج بھی ملک میں موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اخبارات کے ایڈیٹرز کو بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ وزیرستان میں ایک گاﺅں ہے جو آدھا ادھر جبکہ آدھا افغانستان میں ہے۔ بالکل ایسا ہی میں نے سنا کہ چمن بارڈر پر 3 مقامات ایسے ہیں جس کے ادھر بھی آبادی اور ادھر بھی آبادی ہے۔ ان کو الگ الگ کیسے کریں؟۔ ایسے لطیفوں کو ختم کرنا ہو گا تب ہی دہشتگردوں کی آسانی سے آمدورفت ختم ہو گی۔اس کے علاوہ سرحدوں پر دہشتگردی کے خاتمے کیلئے ہمسایہ ممالک ایران اور افغانستان سے بات چیت کرنا ہو گی اوردہشتگردوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کرنا ہوں گی ورنہ دہشتگردوں کی آمدورفت جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان ایک مظلوم منصوبہ ہے، کچھ لوگ تو اسے بھول بھی گئے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے سربراہ ناصر جنجوعہ سے میری ساڑھے 3 گھنٹے ملاقات ہوئی تھی، اس کے 20 میں سے 9 نکات پر میں نے خود نشان لگا کر کہا تھا کہ یہ تو بہت مشکل ہیں جس پر انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا تھا۔ اس میں ایک نکتہ بہت اہم تھا کہ دینی مدارس کا سروے، رجسٹریشن، آمدن و طالب علم کہاں کہاں سے آتے ہیں وغیرہ کی شقیں شامل تھیں۔ جب سروے مکمل ہوا تو کہا گیا کہ 90,80 فیصد دینی مدارس ایسے ہیں جن پر دہشتگردی کا کوئی الزام نہیں لیکن کئی ہزار دینی مدارس نے رجسٹریشن کروانے سے انکار کر دیا، ان کے بارے حساس اداروں کو معلومات ہیں کہ وہ دہشتگردی میں ملوث ہیں۔ ان مدارس کے درمیان خود ہمارے علماءرکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جمعیت علمائے ہند ہوتی تھی جو اب جمعیت علمائے پاکستان ہے، انہوں نے ایک تقریب کی جس میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں لوگ تحقیق کرنے آتے ہیں۔ مدارس ناظمین کو ہدایت کرتا ہوں کہ اگر آپ سے کوئی کچھ پوچھنے کی کوشش کرے تو قہقہے لگاﺅ، جواب نہیں دینا، وہ مدارس آج بھی موجود ہیں۔ سابق آرمی چیف نیشنل ایکشن پلان پر بڑی توجہ دیتے تھے لیکن موجود آرمی چیف کی دلچسپی شاید کم ہے۔ تجزیہ کار نے کہا کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب بے شمار دفعہ چین گئے، یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے ہمراہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو لے جانا ضروری سمجھا۔ یہ خوبصورت سیاسی طریقہ کار ہے جس سے صوبوں کو اعتماد میں لیا جا سکتا ہے۔ صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہو رہا تھا لیکن اب ایک نیا باب شروع ہو گا، تمام وزرائے اعلیٰ کے ساتھ جانے سے باہمی اعتماد کی فضا پیدا ہو گی۔ پنجاب و بلوچستان کے ساتھ دوسرے صوبوں میں بھی چینی سرمایہ کاری آئے گی جس سے ترقی ہو گی، بیروزگاری ختم ہو گی اور عوام خوشحال ہو گی۔ مستقبل میں اس کے ثمرات نظر آئیں گے۔ اپوزیشن اس پر بھی تنقید کرے گی کیونکہ جمہوری نظام میں اس کا کام حکومتی غلطیوں کو پکڑنا اور اس پر واویلا مچانا ہوتا ہے لیکن ایسی صورتحال میں رہتے ہوئے بھی جو لوگ راستہ تلاش کر رہے ہیں وہ کوئی نہ کوئی پروجیکٹ نکال لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاض پیر زادہ آج نون لیگ میں ہیں، پہلے پیپلزپارٹی میں تھے دوبارہ بھی جا سکتے ہیں۔ پی پی کے علاوہ دوسری پارٹیاں بھی ان سے رابطہ کر سکتی ہیں۔ نون لیگ نے ریاض پیرزادہ کو منانے کے لئے اپنے نمائندوں کو بھیج کر غلطی کی۔ ان کو شکایت وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سے ہے جس کی تلافی وزیراعظم ہی کر سکتے ہیں۔ اگر وزیراعظم ان کو خود فون کر کے چائے پر بلاتے تو ایک دن میں ناراضی دور ہو جانا تھی۔

وزیراعظم کے اثاثوں کی جانچ پڑتال, غیرملکیوں کی مدد لینے کا فیصلہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما کیس کی تحقیقات کرنیوالی جے آئی ٹی نے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے غیر ملکی اکاو¿نٹس اور اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کے لیے غیر ملکی ماہرین سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاءکی سربراہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کا پانچواں ا جلاس جوڈیشل اکیڈمی میں ہوا۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے بجھوائی گئی وزیر اعظم کے اثاثوں کی تفصیلات جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو موصول ہو گئیں۔ سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق بیرون ملک وزیر اعظم کی کوئی جائیداد نہیں جبکہ جاتی امراءمیں بلڈنگ کی مالیت صرف 40 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن دستاویزات کے مطابق 2015ء میں وزیر اعظم نے حسین نواز سے 20 کروڑ روپے وصول کئے، رقم ڈالر اور یورو کرنسی میں وصول کی گئی، وزیر اعظم نے اثاثوں میں سات بینک اکاونٹ ظاہر کئے جب کہ جے آئی ٹی نے غیر ملکی ماہرین سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے، ماہرین وزیر اعظم اور بچوں کے غیر ملکی اکاو¿نٹس اور اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کریں گے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق جے آئی ٹی نے تین سال کے اثاثہ جات کی دستاویزات طلب کی تھیں جس میں جے آئی ٹی نے الیکشن کمیشن سے جو تفصیلات مانگیں وہ سب دے دی گئیں۔ گزشتہ روز جے آئی ٹی کو وزیراعظم اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے اثاثہ جات کی تفصیلات فراہم کردیں تھیں۔ پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے قائم 6رکنی جے آئی ٹی نے حدیبیہ پیپرزملز کیس کا ریکارڈ حاصل کرلیا، جبکہ آئی ٹی نے عدالتی فیصلے اور دستیاب ریکارڈ کی چھان بین مکمل کرلی جبکہ قطری خط کا جائزہ بھی لیا جارہاہے، جے آئی ٹی ممکنہ طور پر آئندہ ہفتے وزیراعظم نوازشریف اور انکے بچوں کو طلی کے نوٹسز جاری کردیگی، جے آئی ٹی نے بیرون ملک رقوم کی منتقلی کے ریکارڈ کے حصول کیلئے سٹیٹ بنک آف پاکستان کو بھی خط لکھ دیا، گذشتہ روز پانامہ کیس کی تحقیقات کیلئے ایدیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے واجد ضیاءکی سربراہی میں قائم چھ رکنی جے آئی ٹی کا اجلاس وفاقی جوڈیشل اکیڈمی میں ہوا، اجلاس میں جے آئی ٹی کے پانچوں ارکان نے شرکت کی ،ذرائع کے مطابق نیب کی طرف سے جے آئی ٹی حدیبیہ پیپرز ملز کیس کا تمام ریکارڈ فراہم کردیاگیاہے، جو جے آئی ٹی کو موصول ہوچکا ہے ، جے آئی ٹی اس ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لے گی جبکہ بیرون ملک رقوم کی منتقلی کے ریکارڈ کے حصول کیلئے جے آئی ٹی نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی خط لکھ دیا ہے، ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی نے پانامہ کیس کے عدالتی فیصلے کا تفصیلی جائزہ لے لیا ہے اور اب متعلقہ اداروں سے حاصل کئے گئے ریکارڈ کی چھان بین کی جائیگی، جس کی روشنی میں وزیراعظم نوازشریف اور انکے بچوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے سوالنامہ تیار کیا جائیگا، اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ ہفتے وزیراعظم اور انکے بچوں کو جے آئی ٹی کی طرف سے طلبی کے نوٹسز جاری کردیئے جائیں گے ،واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی جے آئی ٹی کو وزیراعظم نوازشریف کے گوشواروں کی تفصیلات فراہم کردی ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھارتی سفارتکارکی گرفتاری،موبائل ضبط اہم معاملہ سامنے آگیا

اسلام آباد (کرائم رپورٹر) ہائی کورٹ نے عظمیٰ واپسی کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج کی موبائل سے تصویر لینے پر بھارتی سفارت کار کو گرفتار کرکے موبائل فون ضبط کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی بھارتی شہری عظمٰی کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کررہے تھے کہ عدالتی عملے نے فاضل جج کی توجہ ایک شخص کی جانب مبذول کرائی جو موبائل فون سے ان کی تصاویر لے رہا تھا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا یہاں کوئی ڈرامہ ہورہا ہے جو تصاویر لی جارہی ہیں، فاضل جج نے موبائل فون ضبط کرنے کا حکم دے دیا تو اس شخص نے اپنا تعارف بھارتی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری کے طور پر کراتے ہوئے دہائی دی کہ وہ سفارتکار ہے اور اس کا موبائل فون ضبط نہیں کیا جاسکتا، جس پر جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیئے کہ آپ بھارتی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری ہیں تو کیا عدالتوں میں آ کر تصویریں لینا شروع کردیں گے۔ اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل نے بھارتی سفارت کار کو بتایا کہ کمرہ عدالت میں تصاویر نہیں لی جاتیں، عدالتوں میں تصویر لینا پوری دنیا میں جرم ہے۔ بعد ازاں بھارتی سفارتکار نے غیر مشروط معافی نامہ جمع کرایا جس پر موبائل فون میں موجود تمام تصاویر ضائع کرنے کا حکم دیتے ہوئے موبائل فون واپس کردیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھارتی شہری عظمیٰ کی وطن واپسی کے لیے ڈپلی کیٹ امیگریشن فارم جاری کرنے کی درخواست پر وزارت خارجہ سے 22 مئی تک جواب مانگ لیا۔ بھارتی لڑکی عظمیٰ سے شادی کرنے والے پاکستانی شخص طاہر علی کا کہنا ہے کہ عظمٰی کی کوئی دستاویزات اس کے پاس نہیں ہے۔ طاہر کا کہنا ہے کہ عظمیٰ عدالت میں اقرار کرچکی ہے کہ پاسپورٹ اور دوسری دستاویزات اسی کے پاس ہیں اب وہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ اس کا پاسپورٹ میرے پاس ہے۔ طاہر علی نے مزید کہا کہ جب عظمٰی بھارتی ہائی کمیشن گئی تھی تو پاسپورٹ اس کے پاس تھا، عظمیٰ کا الزام بے بنیاد ہے، فیصلہ اب عدالت میں ہی ہوگا۔ پاکستانی شہری طاہر علی خان سے شادی کرنے والی بھارتی خاتون ڈاکٹر عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کی بیٹی بھارت میں بیمار ہے۔ اسے اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے بھارت جانے کی اجازت دی جائے جبکہ ڈاکٹر عظمیٰ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسے اسلام آباد سے واہگہ بارڈر تک سکیورٹی فراہم کی جائے۔ ڈاکٹر عظمیٰ نے پولیس تفتیش سے استثنیٰ بھی مانگ لیا ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ کی جانب سے بیرسٹر شاہ نواز نون نے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ طاہر علی کی جانب سے جو درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں ان میں ممکنہ تفتیش کے لژئے اسے طلب نہ کیا جائے جبکہ عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ وزارت خارجہ کو ہدایت کرے کہ وہ سفری دستاویزات فوری طور پر بنا کر دے تاکہ عظمیٰ فوری طور پر بھارت واپس جا سکے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ طاہر کی جانب سے ڈاکٹر عظمیٰ کے بیرون ملک جانے پر پابندی کی جو استدعا کی گئی ہے اسے بھی مسترد کیا جائے۔ درخواست طاہر اور وزارت خارجہ کو فریق بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر عظمیٰ کا اپنی درخواست میں کہنا ہے کہ طاہر نے جنسی طور پر ہراساں کیا۔ تشدد کیا اور نشہ آور ادویات کھلا کر بونیر لے کر گیا اور وہاں پر زبردستی نکاح کروایا۔ امکان ہے کہ درخواست کی سماعت آج (ہفتہ) کے روز ہو گی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارتی شہری عظمیٰ کی وطن واپسی کی درخواست پر وزارت خارجہ کو نوٹ سجاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔

شان اور عمائمہ ملک کی تصاویرنے سوشل میڈیا پرتہلکہ مچا دیا

لاہور(کلچرل رپورٹر) اداکارشان اور عمائمہ ملک کی نئی تصاویرنے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچادیا پر جن پر لوگ اپنے اپنے اندازسے تبصرہ کررہے ہیں ۔ یہ تصاویرگزشتہ روز عمائمہ ملک کی طرف سے سوشل میڈیا پر ان کے اکاﺅنٹ پر جاری کی گئی ہیں جس میں شان انہیں چمچ سے کچھ کھلارہی ہیں جس پر وہ بہت خوش ہیں اور اس کا اظہار انہوں نے اپنی پوسٹ میں بھی کیا ہے ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ تصاویرفلم”ارتھ ٹو“ کی شوٹنگ کے دوران بنائی گئی ہیں۔ اس بارے میں عمائمہ ملک کا کہنا ہے کہ ایک ڈائریکٹرکی طرف سے ایسے رویئے سے فنکار میں اعتمادپیداہوتا ہے ۔تصاویرگزشتہ روز عمائمہ ملک کی طرف سے سوشل میڈیا پر ان کے اکاﺅنٹ پر جاری کی گئی ہیں جس میں شان انہیں چمچ سے کچھ کھلارہی ہیں،ان کا مزیدکہناتھا کہ ”ارتھ ٹو“تیزی سے مکمل کی جارہی ہے اور اس کے علاوہ میں جلد ہی بلال لاشاری کی فلم کی شوٹنگ کروں گی۔

پاپ گلوکارجسٹن بیبرکا کنسرٹ‘بالی ووڈ کی معروف شخصیات کی شرکت

ممبئی (شوبز ڈیسک) پاپ گلوکار جسٹن بیبر نے ممبئی میں کنسرٹ کے دوران اپنے سپرہٹ گانے گاکر مداحوں کے جیت لیے۔ تفصیلات کے مطابق میوزک کنسرٹ کے لیے بھارت آنے۔ والے جسٹن بیبر نے ممبئی کے ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم جب اپنی آواز کا جادو جگایا تو اسٹیڈیم جسٹن،جسٹن کی صداﺅں سے گونج اٹھا۔ممبئی کے کنسرٹ کے دوران ببر نے’ساری‘، ’کولڈ‘، ’واٹر‘، ’ آئی ول شو یو‘،’بوائے فریںڈ‘ اور’بیبی‘ جیسے عالمی پذیرائی حاصل کرنے والے اپنے گانوں سے مداحوں کو محظوظ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 50 ہزار سے زیادہ لوگ جسٹس بیبر کے میوزک کنسرت کو دیکھنے پہنچے تھے اور اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔