بھارت کے ساتھ کرکٹ سیریز ، شہریار اور نجم سیٹھی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے

لاہور(سپورٹس رپورٹر)بھارت کے ساتھ کرکٹ سیریز کھیلنے کے معاملے پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی نجم سیٹھی کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گیا اور نجم سیٹھی نے ہندوستان سے سیریز کو پی سی بی کی پالیسی کے خلاف قراردیا ہے۔گزشتہ روز چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان سیریز کھیلنے کیلئے ٹیم ہندوستان بھیجنے کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ ہم ہندوستان میں کھیلنے کیلئے تیار ہیں لیکن ہندوستانی کرکٹ بورڈ اپنے ملک میں بھی ہمارے ساتھ اپنی ٹیم کو کھلانے کیلئے تیار نہیں۔تاہم اس معاملے پر پی سی بی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے ٹوئٹر کے ذریعے شہریار خان کی بھرپور مخالفت کرتے ہوئے بھارت سے سیریز کو پی سی بی کی پالیسی کے خلاف قرار دیا ہے۔نجم سیٹھی نے ٹوئیٹرپیغام میں کہاہے کہ پاکستان بھارت کےساتھ اس وقت تک نہیں کھیلے گا جب تک پاکستان کو میزبانی نہیں ملےگی اور اس کے علاوہ بھارت کےساتھ مذاکرات ناممکن ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2014 کی مفاہمتی یادداشت کے تحت بھارت کو پاکستان آ کر یا کسی تیسرے ملک میں سیریز کھیلنی ہو گی جس کے بعد ہی ہم بھارت جا کر سیریز کھیلیں گے۔اس سے قبل ہندوستان نے پاکستان کی جانب سے سیریز نہ کھیلنے کا ہرجانہ ادا کرنے کے نوتص کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تھا کہ پاکستان سے کوئی قانونی معاہدہ نہیں ہوا تھا لہٰذا وہ کوئی سیریز کھیلنے یا ہرجانہ ادا کرنے کے پابند نہیں۔

ون ڈے کپتان یا نائی ، بوجھئیے کون ؟

بلفاسٹ(ویب ڈیسک )بنگلہ دیشی ون ڈے کپتان مشرفے مرتضیٰ نے ساتھی کھلاڑیوں کی حجامت شروع کردی،ہیڈ کوچ چندیکا ہتھورو سنگھے نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کی ہے جس میں آئر لینڈ اے کیخلاف پریکٹس میچ کے موقع پر مشرفے مرتضیٰ ٹرمنگ مشین سے شفیع الاسلام کی داڑھی بنا رہے ہیں۔

پاک،افغان،امریکی افواج کی بیٹھک, داعش باراے بڑا فیصلہ

راولپنڈی(بیورورپورٹ)پاکستان، افغانستان اور امریکی افواج کے کمانڈرز کے مابین جنرلز ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں سیکیورٹی اجلاس ہوا۔ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ سہہ فریقی ٹو اسٹار سطح کا سیکیورٹی اجلاس جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوا۔بیان میں بتایا گیا کہ افغان عسکری وفد کی قیادت ڈی جی ایم او میجر جنرل حبیب کررہے تھے۔دوسری جانب اتحادی افواج کے وفد کی قیادت ڈپٹی چیف آف اسٹاف میجر جنرل کرستوفر نے کی جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت ڈی جی ایم او میجر جنرل ساحر شمشاد مرزا نے کی۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سہہ فریقی اجلاس میں تینوں ممالک کی افواج نے داعش کو شکست دینے کیلئے اقدامات پر زور دیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ سہہ فریقی اجلاس کے بعد پاک افغان باہمی سیکیورٹی اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان رابطے بڑھانے پر غور کیا گیا۔اجلاس میں دونوں ممالک کی فوج کے درمیان رابطے مزید بڑھانے اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ رابطے کمانڈ اور اسٹاف چینل کے ذریعے بڑھائے جائیں گے۔آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں چمن واقعہ، سرحدی کنٹرول اور سرحد پار خلاف ورزیاں روکنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔خیال رہے کہ رواں ہفتے بھی بلوچستان کے علاقے چمن میں مردم شماری ٹیم کو تحفظ فراہم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں پر افغان بارڈر فورسز نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں 2 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت 12 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے تھے۔بعد ازاں ا?ئی جی ایف سی بلوچستان میجر جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا تھا کہ پاک-افغان بارڈر پر افغان فورسز کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا تھا جس میں 50 افغان فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔جس کے بعد افغان سفیر عمر زاخیل وال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں آئی جی ایف سی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ، ‘تمام پاکستانی اخبارات کی سرخیاں یہ کہہ رہی ہیں کہ چمن واقعے میں پاکستان نے 50 افغان فوجیوں کو ہلاک اور 100 کو زخمی کیا، یہ معلومات صرف پاک فوج اور ایف سی (سدرن کمانڈ) کی جانب سے فراہم کی گئیں، سچ تو یہ ہے کہ صرف 2 افغان فوجی شہید اور تقریباً 7 زخمی ہوئے’۔

اسپاٹ فکسنگ کیس ، ناصر جمشید کے وکیل کی اینٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے پیشی

لاہور(سپورٹس رپورٹر) اسپاٹ فکسنگ کیس میں معطل کرکٹر ناصر جمشید کے وکیل اینٹی کرپشن ٹریبونل کے سامنے پیش ہوئے جہاں پی سی بی کی جانب سے کرکٹر ناصر جمشید پر لگائے گئے الزامات پڑھ کر سنائے گئے۔ کرکٹر ناصر جمشید کے وکیل حسان اقبال اینٹی کرپشن ٹریبیونل کے سامنے پیش ہوئے جہاں ناصر جمشید پراینٹی کرپشن کوڈ 2.4.6 اور 2.4.7 کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے۔ پی سی بی کرکٹر پر لگائے گئے الزامات کی تفصیل اور شواہد 26 مئی کو ٹریبیونل کے سامنے پیش کرے گا جس پر ناصر جمشید کو اپنا جواب 9 جون کو جمع کروانا ہوگا۔ بورڈ ناصر جمشید کے جواب کی روشنی میں 14 جون کو اپنے مو¿قف کی مزید وضاحت کر سکے گا۔ کیس کی حتمی سماعت 30 جون سے روزانہ کی بنیادوں پر شروع ہو گی۔واضح رہے کہ پی سی بی کی جانب سے ناصر جمشید کو اسپاٹ فکسنگ کیس کا مرکزی کردار قرار دیا گیا تھا، کرکٹر کو برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ضمانت پر رہا کیا تھا اور ان کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا تھا اور تفتیش مکمل ہونے تک وہ ملک سے باہر نہیں جا سکتے۔ اینٹی کرپشن ٹربیونل نے جمعہ کے روز نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں سپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹر ناصر جمشید کے کیس کی سماعت کی۔ ٹربیونل جس کی سربراہی جسٹس (ر) اصغر حیدر نے کی کے روبرو پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ نے ناصر جمشید کے خلاف الزامات لگائے۔ پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق 2-4-6 اور 2.4.7 کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا گیا۔ دونوں فریقین نے متفقہ طور پر کیس کی سماعت کا طریقہ کار اور ٹائم لائن طے کی۔ پی سی بی 26 مئی کو ناصر جمشید کے خلاف سپاٹ فکسنگ کے ثبوت پیش کرے گا۔ ناصر جمشید 9 جون تک اپنا جواب ٹربیونل کو جمع کروائیں گے اور پی سی بی اپنا جواب 14جون کو جمع کروائے گا۔ کیس کی فائنل سماعت 30 جون سے روزانہ کی بنیاد پر شروع ہوگی ۔

مستونگ خودکش دھماکہ, آرمی چیف کا بڑا حکمنامہ جاری

راولپنڈی (بیورو رپورٹ)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈپٹی چیرمین سینیٹ عبدالغفور حیدری پر حملے کی شدید مذمت کی، معصوم جانوں کے ضیا ع پر اظہارا فسوس کیا اور زخمیوں کابہترین علاج کرنے کی ہدایت دی۔ پاک فوج کے شعبہ برائے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) مطابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے مستونگ میں ڈپٹی چیرمین سینیٹ عبدالغفور کے قافلے پردہشتگرد حملے کی مذمت اورنسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی ایسی کارروائیاں ہمارے قومی عزم کو کم نہیں کرسکتیں۔ ملک میں معاشی ترقی اور امن واستحکام کیلئے کوششیں جاری رہیں گی جبکہ دھماکے میں زخمی ہونیوالے افراد کوپاک آرمی ہیلی کاپٹرز پر سی ایم ایچ کیو منتقل کیا گیاتھا۔واضح رہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے قافلے پر خودکش حملے کے نتیجے میں25 جاں بحق ،عبدالغفور حیدری سمیت35 افرادشدید زخمی ہوگئے تھے۔

جے یو آئی قافلہ پر خودکش حملہ, ذمہ داری کس نے قبول کی؟, دیکھئے بڑی خبر

مستونگ‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد (نمائندگان خبریں) بلوچستان کے علاقے مستونگ میں خودکش بم دھماکے میں25 افرادشہید جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جے یو آئی کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔شہید ہونے والوں میں مولانا عبدالغفور حیدر ی کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔ڈپٹی ایم ایس مستونگ اسپتال نے دھماکے میں 28 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ 42 سے زائد زخمیوں کومستونگ اسپتال لایا گیاہے۔پولیس کے مطابق دھماکا مستونگ میں اس وقت ہوا جب ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری مدرسے میں دستار بندی کی تقریب میں شرکت کے بعد واپس جارہے تھے۔دھماکے کے بعد ریسکیو عملہ اور سیکورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔مولانا عبدالغفور حیدری کو سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ دھماکے کے بعد مستونگ سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے میں متعدد گاڑیوں کونقصان پہنچا جن میں سڑک کنارے گزرنے والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔حکومتِ بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ کے مطابق اس واقعے میں عبدالغفور حیدری بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔دھماکے میں عبدالغفور حیدری کی گاڑی بھی تباہ ہوئی ہے تاہم حکام نے تاحال اس کی نوعیت کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ زخمیوں کا علاج مستونگ کے ضلعی ہسپتال اور رئیسانی ہسپتال میں جاری ہے جبکہ شدید زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کیا جا رہا ہے۔دھماکے کی اطلاع ملتے ہی لیویز اور ایف سی کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ صدر مملکت ممنون حسین نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری اور ان کے قافلے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت ،حملے میں جاں بحق ہونے والے افرادکے بلند درجات کی دعا کی ہے اور ان کے خاندان سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدی اور دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ صدر مملکت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ حادثے میں زخمی ہونے والے افراد اور دیگر متاثرین کو ہر ممکن طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ انھوں نے کہا کہ پوری قوم نے دہشت گرد ی کا جواں مردی سے مقابلہ کر رہی ہے۔ سیکیورٹی فورسز پورے ملک میں دہشت گرد وں کا پیچھا کر رہی ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ان کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دشمن پاکستان کی ترقی سے خائف ہو کرمعصوم شہریوں کو اپنی بزدلانہ کاروائیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں لیکن پور ی قوم ان سے نمٹنے کے لیے متحد ہے۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی کا کہنا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری پر خودکش حملے میں ان کے ڈائریکٹر اسٹاف افتخار مغل بھی شہید ہوئے۔ واضح رہے کہ مولانا عبدالغفور حیدری کے پرسنل سیکرٹری افتخاراحمد کی لاش بھی سول ہسپتال کوئٹہ لائی گئی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف ‘ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر خودکش حملے کی مذمت کی ہےاور قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے جبکہ وزیراعظم نے دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو علاج کی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مستونگ دھماکہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ امیر جماعت اسلامی سنیٹر سراج الحق کا جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو ٹیلی فون ‘ ڈپٹی چیئرمین سینٹ عبدالغفور حیدری اور دیگر ساتھیوں کی خیریت دریافت کی۔وزیر مملکت اطلاعات نے مستونگ میں عبدالغفور حیدری کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا نہ کوئی دین اور نہ ہی کوئی مذہب ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوںنے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک بہادر مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئر مرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے ڈپٹی چیئرمین سینٹ اورجمعیت علماءاسلام کے سینئر رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلہ کو مستونگ میں نشانہ بنانے پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے دھماکہ میں شہید ہونے والوں کے ورثاءسے اظہار تعزیت کیا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ مولاناعبدالغفور حیدری کو زیادہ زخم نہیںآئے انہوں نے شہداءکے ورثاءکیلئے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد و مکمل صحت یابی کیلئے دعا کی ہے۔ جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے مستونگ بلوچستان میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر دہشت گردانہ حملے کے خلاف( کل)اتوار کو یوم سوگ کا اعلان کردیا، دہشت گردی کے خلاف ملک گیر احتجاج ہوگا ، تمام سیاسی ودینی جماعتوں سے شرکت کی اپیل کردی گئی ہے ، سربراہ جے یو آئی کے مطابق سانحہ مستونگ میں 28افراد جاں بحق اور 42زخمی ہوئے ہیں جبکہ دونوں رہنماﺅں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس بزدلانہ وسفاکانہ دہشت گردی سے آئین وقانون کی حکمرانی پر یقین رکھنے والی قوتوں کے حوصلے قطعاً پست نہیںہوں گے ،تمام علماءکرام متفق ہیں کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد قطعاً جائز نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی اور مولانا فضل الرحمان نے جمعہ کو پارلیمنٹ لاجز کا دورہ کیا اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی رہائش گاہ پر جاکر سانحہ مستونگ کے حوالے سے یکجہتی کا اظہار کیا ۔دونوں رہنماﺅں کا مشاورتی اجلاس بھی ہوا جس میں دہشت گردی کے سفاکانہ واقعہ کے نتیجے میں پیدا شدہ صورتحال پر غور کیا گیا ۔دونوں رہنماﺅں نے اس دہشتگردی کو ریاست پاکستان پر حملہ قراردے دیا ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پوری قوم پر حملہ ہوا ہے کیونکہ مجرمانہ عمل کے ذریعے شہریوںکی زندگیاں چھیننا کسی بھی طورپر درست اور جائز نہیںہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم آئین پاکستان قانون کی عملداری اور جمہوریت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں چاہے ہمیں اس کی کوئی بھی قربانی دینا پڑے ، ہم اپنی اس آئینی اور جمہوری جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کا سفر جاری رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اتوار کو یوم سوگ ہوگا ،پوری قوم سانحہ مستونگ کو یوم سوگ کے طور پر منائے گی اور ملک بھر میں مظاہرے ہوںگے ۔ پوری قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حوصلہ نہ ہاریں اور اپنی یکجہتی اور قومی وحدت کو برقرار رکھیں کیونکہ اس قسم کے واقعات میں ملوث عناصر کی کوشش ہی قوم میں انتشار پیدا کرنا ہوسکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ریاست پاکستان پر حملہ ہوا ہے ، دشمن کے اس بزدلانہ حملے سے قطعاً خوفزدہ نہیں ہو سکتے ، آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کی جدوجہد جاری رکھیں گے اور اس کےلئے قوم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیںکرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کارکنان سے کہتا ہوں کہ وہ پر امن رہیں اور پر امن رہ کر اس واقعہ کے خلاف احتجاج کریں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہم اپنے اس غم کو طاقت میں تبدیل کردیں گے اوران عناصر کے جو پاکستان کے دشمن ہیں اور ریاست میں اپنی مرضی کی حکمرانی چاہتے ہیں کہ عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی پاکستان میں سسٹم کو ڈاواں ڈول نہیں کرسکتا ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں ان عناصر کو شکست ہو چکی ہے جو پاکستان میں سسٹم کو ڈی ریل کرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت کے جن لوگوں پر حملے ہوئے ہم نے ان معاملات کی پیروی نہیںکی ، ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے کہ حملہ آور کون ہیں اور اس کے کیا ارادے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کرتے ہوئے ایسی شخصیات جو ملک کی نمائندگی کرتی ہیںکہ تحفظ کو یقینی بنائیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے تمام جید علمائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں مسلح جدوجہد کا کوئی شرعی جواز نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں رضا ربانی نے کہا کہ ہمیں ان واقعات کے حوالے سے عالمی اور خطے کی صورتحال کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا ، آج پاکستان اور اس کی قوم جو بھگت رہی ہے یہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی جنگ کے اثرات ہیں جبکہ پاکستان کو داخلی اور خارجی طورپر دہشت گردی کا سامنا ہے ، کامیاب فوجی آپریشنز بھی ہوئے ہیں ، دہشت گردوں کے عزائم کامیاب نہیںہوسکتے ۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ نے سکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ اور چمن کا دورہ ملتوی کردیا، جمعہ کے روز مستون میں جمعیت علمان اسلام(ف) کے رہنماءڈپٹی چیئرمین سینیٹ عبدالغفوری حیدری کے قافلے پر خودکش دھماکے کے بعد مولانا فضل الرحمنٰ نے دورہ بلوچستان سکیورٹی وجوہات کی بناءپر ملتوی کردیا، مولانا فضل الرحمانٰ نے14 اور15 تاریخ کو کوئٹہ اور چمن کا دورہ کرنا تھا سانحہ چمن میں ہونے والے زخمیوں کی عیادت کرنا تھی۔

پاکستان میں بم دھماکے, احسان اللہ احسان کے نئے انکشافات نے کھلبلی مچادی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کالعدم تنظیم کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ را نے طالبان کے تمام دھڑوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی، بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان کی کشمیر پالیسی، سی پیک کی مخالفت اور ملک میں لسانی بنیادوں پر نفرتوں کو فروغ دینے کے لئے افغان خفیہ ادارے کے ذریعے طالبان کو خصوصی ٹارگٹ دیتی ہے۔ نجی ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ طالبان افغانستان میں آزادی کے ساتھ گھومتے ہیں، طالبان کے سربراہ عمر خالد خراسانی نیٹو کے حملے میں زخمی ہوا اور اس نے افغان پاسپورٹ کے ذریعے سفر کرکے بھارت سے علاج کرایا۔ افغان حکومت اور خفیہ ایجنسی ہمیں بھرپور تحفظ فراہم کرتی ہے، طالبان ملک کے جس بھی حصے میں جائیں اس حوالے سے افغان حکومت سے رابطے کے لئے انہوں نے کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں، جن علاقوں میں امریکہ یا نیٹو کی فورسز کام کر رہی ہوں تو ان علاقوں میں افغان حکومت کے تعاون سے خصوصی انتظام کیا جاتا تھا۔ طالبان کے مختلف دھڑے ہیں جہاں امیر عام افراد کو غلام کے طور پر رکھتا ہے، طالبان دھڑوں میں ہمیشہ امارت کے لئے جنگ جاری رہتی ہے۔ طالبان کی شوریٰ سے اختلاف کے بعد میں ننگر ہار چلا گیا، اس کے بعد مزار شریف، خوست اوردیگر علاقوں میں آزادانہ گھومتا رہا۔ طالبان اور داعش کے رابطے کے حوالے سے احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ عمر خالد خراسانی نے داعش سے رابطہ کیا تھا مگر عمر خالد نے کہا کہ اسے داعش برصغیر کا سربراہ بنایا جائے، لیکن داعش کا کہنا تھا کہ طالبان کو ہمارے ساتھ غیر مشروط الحاق کرنا ہو گا، اس وجہ سے طالبان نے داعش کے ساتھ اشتراک نہیں کیا۔ طالبان کو بھارتی خفیہ ایجنسی کی جانب سے خصوصی ٹارگٹ دئیے جاتے تھے ، ہر ہدف کی الگ سے قیمت مقر ر ہوتی تھی، کس ہدف کو کیسے نشانہ بنایا جانا ہے، طالبان شوریٰ، بھارتی اور افغان خفیہ ایجنسیاں آپس میں مل کر منصوبہ بناتی تھیں، جتنا بڑا ہدف ہوتا اس کی اتنی زیادہ قیمت لگائی جاتی، ہدف کو نشانہ بنانے کے بعد اس کی کامیابی کے طور پر را طالبان کو انعامی رقم دیتی تھی جس کی مالیت طے شدہ رقم سے کئی گنا زیادہ ہوتی تھی۔ پاکستان میں اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے پیسہ، اسلحہ اور دیگر تمام سہولیات را سے دی جاتی تھیں۔ طالبان اپنے تمام اخراجات اسی ذریعے سے حاصل کرتے تھے تاہم اپنے اخراجات کے لئے طالبان امیر افغانیوں سے بھتہ بھی وصول کرتے تھے، اگر کوئی شہری بھتہ نہ دیتا تو طالبان اس کے گھر کو بم سے اڑا دیتے تھے۔ احسان اللہ احسان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان پاکستان میں موجود اپنے افراد کے ذریعے شہروں میں حملے کراتے تھے، کیوں اس طرح ان کے اخراجات کم ہوتے تھے اور انہیں شہر کے بارے میں معلومات بھی زیادہ ہوتی تھیں۔بھارتی خفیہ ادارے را اور افغان ایجنسی این ڈی ایس سے پیسے اور اسلحہ لینے کی خبر طالبان کی شوریٰ اور نیچے کے چند لوگوں کو تھی، طالبان سربراہ عمر خالد خراسانی اس حوالے سے کہتا تھا کہ پاکستان کے خلاف جنگ میں یہ لوگ ہمیں مدد دے رہے ہیں، پاکستان کو برباد کرنے کے لئے مجھے اگر اسرائیل سے مدد لینا پڑی تو میں لوں گا۔لاہور دھماکے کے بعد جب سکیورٹی فورسز نے طالبان کے مرکز پر بمباری کی تو اس میں طالبان کے کئی اہم کمانڈر مارے گئے، اس کے بعد طالبان کا شیرازہ بکھر گیا۔ طالبان میں مایوسی پھیل گئی اور انہیں دوبار ہ اکٹھے ہونے کا موقع نہیں ملا۔بارڈ مینجمنٹ کے بعد پاکستان میں حملے کرنے والے طالبان کے اپنے سہولت کاروں سے رابطے نہیں ہو رہے اور نہ ہی ان کے درمیان آپس میں رابطے کا کوئی مﺅثر ذریعہ رہا ہے۔اسی وجہ سے ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی آئی ہے، طالبان اس وقت ملک میں صوبائیت اور لسانیت کو فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ مولوی فضل اللہ کے حالیہ بیانات اس کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان میں موجود نوجوانوں کے درمیان پنجابی اور پشتون کے نام نفرتوں کے بیج بوئے جار ہے ہیں ، قوم کے نوجوان تیزی کے ساتھ طالبان کے اس پروپیگنڈے کا شکار ہو رہے ہیں، حالانکہ یہ سارا منصوبہ بھارت کا ہے۔احسان اللہ احسان کا مزید کہنا تھا کہ جب آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا تو میں سکتے میں آگیا میں نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ معصوم بچوں پر ظلم ہو رہا ہے؟ میرا دل دکھ رہا تھا میں نے فوری طور پر میڈیا کو فون کر کے معصوم بچوں پر حملے کی مذمت کی بعد ازاں طالبا ن کے امیر نے مجھے بلا کر برا بھلا کہا کہ تم نے مذمت کیوں کی میں نے کہا کہ یہ غلط ہو رہا ہے اسی وجہ سے میں نے مذمت کی۔ جب ملالہ پر حملہ ہوا تو اس وقت میں خیبر ایجنسی میں تھا لطیف محسود نے مجھے کہا کہ ملالہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرو میں نے کہا کہ میں اس وقت ذمہ داری قبول نہیں کروں گا جب تک مجھے امیر حکم نہیں دے گا، بعد ازاں مجھے حکیم اللہ محسود نے کہا کہ طالبان کی جانب سے ملالہ پر حملے کی ذمہ داری قبول کرو میں نے تب جا کر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔طالبان کے میڈیا سیل کے حوالے سے ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر ستان میں ہمارے پاس سیٹلائٹ فون اور تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولت تھی جبکہ ہمارے میڈیا سیل میں نیشنل اور انٹر نیشنل میڈیا کی مانیٹرنگ کے لئے جدید ترین نظام بھی موجود تھا۔ پاک فوج کے حملے کے بعد ہمارا میڈیا سیل تباہ ہوگیا تھا ، طالبان نے بھارتی اور افغان خفیہ اداروں سے نیا میڈیا سیل بنانے کی درخواست کی تھی جس پر دونوں خفیہ اداروں نے افغانستان کے شہری علاقوں میں طالبان کے لئے جدید ترین میڈیا سیل بنانے کی حامی بھر لی تھی۔ خود کو سیکورٹی اداروں کے حوالے کرنے کے سوال کے جواب میں تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کا کہناتھا کہ تین چار سالوں سے میرے دل میں خیال تھا کہ اپنے وطن کے خلاف ہتھیار اٹھانا اچھی بات نہیں میرا ضمیر مجھے بار بار ملامت کر رہا تھا۔ مجھے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا، میں نے دوستوں سے مشورہ کیا، انہوں نے کہا کہ بیرون ملک چلے جاﺅ میں نے کہا نہیں میں اپنے وطن جاﺅں گا میں سچ کا سامنا کروں گا۔کالعدم تنظیم کا موجودہ ترجمان میرے خلاف پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ طالبان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو مار دیا جاتا ہے، یا پھر وہ روپوشی کی زندگی گزارنا شروع کر دیتے ہیں۔کئی علمی شخصیات اور نچلی سطح پر موجود طالبان امیروں سے تنگ ہیں انہیں بھی واپسی کا راستہ نہیں مل رہا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اتنا عرصہ طالبان کے ساتھ رہا ہوں۔ اپنے حوالے سے احسان اللہ احسان کا کہنا تھا کہ میں کالج کا طالب علم تھا ، طالبان کے امیروں کے بیانات سے متاثر ہو کر تحریک طالبان میں شمولیت اختیار کی، میری ابتدائی تربیت مہمند ایجنسی میں ہوئی۔ جب2011ءمیں مہمند ایجنسی میں آپریشن ہو اتو ہم کونال منقل ہوگئے،کیوں کہ میرا شروع سے رجحان میڈیا کی جانب تھا اس لئے طالبان نے مجھے وزیر ستان بلا کر ترجمان لگادیا۔ جب طالبان کی شوریٰ سے اختلاف ہوگیا تو میں ننگرہار چلا گیاپھر مزار شریف اور خوست میں رہا۔طالبان کے خود کش بمبار 20سال سے کم عمر بچے ہوتے ہیں کیوں کہ وہ آسانی کے ساتھ خود کش حملے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں، انہیں طالبان کے واعظ خود کش حملے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ احسان اللہ احسان نے قوم سے معافی طلب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس ایسے الفاظ نہیں افسوس کے لئے جس طرح طالبان نے ملک کے گلی کوچوں میں خون کی ندیاں بہا دیں۔

بڑے منصوبے میں شمولیت, وزیراعظم کا چین میں شاندار استقبال

بیجنگ، اسلام آباد، لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک‘ اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعظم محمد نواز شریف ون بیلٹ، ون روڈ فورم میں شرکت کےلئے چین پہنچ گئے، انہیں اس دورے کی دعوت چینی صدر ژی جن پنگ نے دی ہے۔ بیجنگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر وائس چیئرمین بیجنگ میونسپل چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس لی شی چیانگ اور پاکستان میں چین کے سفیر سن وائی د ونگ اور اعلیٰ حکام نے وزیر اعظم اور بیگم کلثوم نواز کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ پاکستان کے سفیر مسعود خالد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ سٹیٹک گارڈز کے ایک دستے نے وزیراعظم کو سلامی دی۔ روایتی لباس میں ملبوس دو بچوں نے وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو گلدستے پیش کئے۔ وزیر اعظم کے ہمراہ وفد میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور وزیر اعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں ¾ اس کے علاوہ وفد میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، منصوبہ بندی و ترقی کے وفاقی وزیر احسن اقبال ، وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت انوشہ رحمن، امور خارجہ کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز بھی شامل ہیں۔ اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم محمد نواز شریف 14اور 15مئی کو بیجنگ میں چین کی حکومت کے زیراہتمام بین الاقوامی تعاون کے لئے ون بیلٹ ون روڈ فورم میں شرکت کریں گے جس میں 27 مختلف ممالک کے سربراہان مملکت اور اعلیٰ حکام شریک ہوںگے۔ بیلٹ اینڈ روڈ ( بی آر ایف )فورم 2013 ءچینی صدر کی جانب سے سلک روڈ اقتصادی پٹی اور 21ویں صدی میری ٹائم سلک روڈ اقدام کا حصہ ہے۔ فورم کے انعقاد کا مقصد باہمی تعاون کے ذریعے ترقی کے مشترکہ اہداف کاحصول ہے۔ بی آر ایف کے دوران وزیراعظم اعلیٰ سطح مذاکرات کی نشست سے خطاب کریں گے ، وہ باہمی ترقی کے لئے قریبی شراکت داری اور مواصلاتی تعاون کے لئے پالیسی ہم آہنگی کے بارے میں راﺅنڈ ٹیبل اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ اپنے دورہ کے دوران وزیر اعظم محمد نواز شریف چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی کی چیانگ سے باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعلقات میں اضافہ کے حوالے سے ملاقاتیں بھی کریں گے ۔اس موقع پرچین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق کئی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط بھی متوقع ہے۔ اپنے دورہ کے دوران وزیر اعظم کانفرنس میں شریک دیگر عالمی رہنماﺅں سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزیر اعظم چینی صوبے ہینگ یو اور ہانگ کانگ کا دورہ بھی کریں گے جہاں پر وہ کاروباری برادری اور سرمایہ کاری کی کانفرنسز میں شریک رہنماﺅں سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔ وزیر اعظم ہانگ کانگ میں بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے بیجنگ میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے وائس منسٹر زینگ شی سانگheng Xiaosong) (Mr. Z سے ملاقات کی،جس میںباہمی دلچسپی کے ا مور، پاک چین تعلقات کے فروغ ،مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے، پاکستان مسلم لیگ (ن )اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے مابین رابطے مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین کو دوسری بڑی معاشی طاقت بنانے میں کمیونسٹ پارٹی، چینی صدر شی جن پنگ (Mr. Xi Jinping) اور وزیراعظم لی کی چیانگ (Mr. Li Keqiang) کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور چےن کی موجودہ ترقی کے پےچھے شوشلزم کا نظرےہ اورچےن کے عظےم تارےخی ورثے کی قوت کارفرماہے۔ بلاشبہ چین کی ترقی اس کی قیادت اور عوام کی محنت اور قربانیوں کا معجزہ ہے۔ انہوں نے کہا کہچین نے اس وقت پاکستان کے ساتھ دوستی کا حق ادا کیا ہے جب ہمیں دہشت گردی اور توانائی بحران کا سامنا تھا۔چین کی دوستی ہر پاکستانی کی متاع عزیز ہے۔ دونوں ملک ترقی ،خوشحالی اورامن کی منزل کے اہم شراکت دار ہیں۔ چین نے صدر شی جن پنگ کی قیادت میں دنیا کو پر امن اورخوشحال مستقبل کی امید دی ہے اورپاکستان امن اورخوشحالی کے چینی ماڈل سے بے حدمتاثر ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ میںون بیلٹ ون روڈ فورم کے انعقاد پر چین کی قیادت کو مبارکباددیتاہوں اورپاکستان ون بیلٹ ون روڈ فورم کے تاریخی اقدام کی بھرپور حمایت کرتاہے۔ون بیلٹ ون روڈ سے چین کا ایشیا کے دیگر ممالک،یورپ اورافریقہ تک مربوط رابطہ ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کی تکمیل سے خطے میں تاریخ کا دھارا بدل جائے گا۔ ہماری حکومت صرف چین کی تعریف ہی نہیں کرتی بلکہ بہت کچھ سیکھنے کی بھی کوشش کرتی ہے۔ چین نے اس وقت پاکستان کے ساتھ دوستی کا حق ادا کیا ہے جب ہمیں دہشت گردی اور توانائی بحران کا سامنا تھا۔ سی پیک چین کے صدر، وزیراعظم اور حکومت کا پاکستان کیلئے ایک عظیم تحفہ ہے اور پاکستانی قوم چین کے اس تاریخ ساز تحفے کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔سی پیک کے منصوبے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہیںاور دونوں ملکوں کے بڑھتے ہوئے معاشی تعاون کا مظہر ہیں اور اس تاریخی منصوبے سے پاک چین تعلقات نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کی تکمیل سے خطے میں تاریخ کا دھارا بدل جائے گا اور پاکستان سمیت خطے میں مختلف ممالک کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا۔ اس عظیم منصوبے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور انتہاپسندی کے رجحان کا خاتمہ ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اور چین ترقی اور خوشحالی کے سفر میں قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔ چین پاکستان کاانتہائی قابل اعتماد عظیم دوست ہے۔ پاکستان کی موجودہ قیادت چین کے ساتھ تعلقات کو انتہائی ا ہمیت دیتی ہے۔ پاکستان اورچین کی دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندرسے گہری ، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے۔ پاک چین دوستی آزمائش کی ہر گھڑی پر پورا اتری ہے۔ پاکستان اورچین کی موجودہ لیڈرشپ کے دور میں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات مستحکم ہوئے ہیں۔ پاک چین دوستی سود مند معاشی تعلقات میں بدل چکی ہے۔ چین کی قیادت نے وزیراعظم نوازشریف کی لیڈر شپ پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیاہے۔چین پاکستان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے۔ چین اور پاکستان کے عوام باہمی احترام اور محبت کے رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں۔چین نے پاکستان کے ساتھ دوستی کا حق نبھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ِسی پیک کے تحت پاکستان بھر میں منصوبے تیزی سے مکمل کئے جا رہے ہیں۔پوری دنیا میں بھی سی پیک کا ڈنکا بج رہا ہے۔سی پیک کے مثبت اثرات پاکستان میں ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔پاکستان کے عوام چین کی قیادت اور حکومت کی محبت، خلوص اور ایثار پر شکرگزار ہیں۔چین نے سفارتی، سیاسی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی بھرپور حمایت کی ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان اور چین ترقی اور خوشحالی کے سفر میں قدم سے قدم ملا کر چلتے رہیں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) او رکمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے مابین بہترین دیرینہ تعلقات ہیں۔دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات میں آنے والے دنوں میں مزید وسعت آئے گی۔کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان مسلم لےگ(ن) کے مابےن تعاون کو فروغ دےنے کےلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھےں گے۔ کےمونسٹ پارٹی اور پاکستان مسلم لےگ(ن) کے مابےن تعاون کو فروغ دےنے کےلئے ہر ممکن تعاون جاری رکھےں گے۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے وائس منسٹرزینگ شی سانگ نے کہا کہچین پاکستان کے ساتھ تعلقات کوبہت اہمیت دیتا ہے۔کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان آئیڈیل تعلقات ہیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں دونوں جماعتوں کے مابین تعلقات کو فروغ حاصل ہوا ہے۔زینگ شی سانگ نے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کے ترقیاتی وژن کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مثالی اقدامات کئے ہیں۔ ون بیلٹ ون روڈ چین کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ سی پیک اس کا محور ہے۔ اس پر 5 کھرب روپے خرچ ہوں گے جو 65 ممالک تک پھیل جائے گا۔ دنیا کا رخ تبدیل ہونے والا ہے۔ مغرب کی چمک دمک ماند اور مشرق کی برق دنیا میں اجاگر ہونے جا رہی ہے۔

جو رشوت نہیں لیتا, نواز شریف اس پر مقدمہ بنوادیتا ہے

سرگودھا(نمائندہ خبریں، ڈسٹرکٹ رپورٹر) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے جلسہ عام کے دوران بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے وعدے پورے نہ کرنے پر شہباز شریف کا نام بدل کر ” ڈرامہ شریف“ رکھ دیا۔ سرگودھا میں جلسے سے خطاب کے دوران عمران خان نے سٹیج پر لگی بڑی سکرین پر شہباز شریف کی جانب سے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے وعدوں پر مبنی ویڈیوز
چلوائیں۔ مختلف ویڈیوز میں عام الیکشن سے پہلے شہباز شریف کی جانب سے حکومت ملنے کی صورت میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے وعدے اور توانائی بحران ختم نہ کرنے کی صورت میں نام بدلنے کے بیانات دکھائے گئے۔ ویڈیوز دکھانے کے بعد عمران خان نے کہا کہ توانائی بحران ختم نہ کرنے پر آج شہباز شریف کا نام بدلیں گے۔ انہوں نے جلسے کے شرکا کے سامنے شہباز شریف کے تین نام ”شابو، شوباز شریف اور ڈرامہ شریف “ رکھے اور ان ناموں پر ووٹنگ کرائی۔ عوام کی رائے پوچھنے کے بعد عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کا نام تبدیل کرکے ”ڈرامہ شریف “رکھ دیا۔ ئچیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کے معاملے پر قوم کو بے وقوف بنایا گیا ہے، یہ معاملہ حکومت اور فوج کے درمیان نہیں بلکہ قومی سلامتی اور پاکستانی عوام کا مسئلہ تھا، ڈان لیکس کی رپورٹ پر پردہ نہیں ڈالنے دیں گے، رپورٹ کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا جائے۔ سرگودھا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کو چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیرا ہوا ہے، افغانستان میں کچھ بھی ہوجائے تو اس کا الزام پاکستان پر لگایا جاتا ہے۔پاک فوج قبائلی علاقوں میں ملک کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارت دہشت گردی کر رہا ہے، ملک کی سلامتی کو وزیر اعظم نے دا? پر لگا دیا ہے۔ ڈان لیکس جیسا معاملہ اگر بھارت میں ہوتا تو اس کے خلاف کارروائی کی جاتی۔مسلم لیگ(ن) کے میڈیا سیل نے پاک فوج کو بدنام کرنے کے لئے حساس نوعیت کی معلومات انگریزی اخبار کو دیں۔جب حسین حقانی پر الزام لگا تو نواز شریف کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ میں پہنچے مگر اب اس معاملے کو دبانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف نے ملک کے اداروں پر مکمل طور پر قبضہ کر لیا ہے، قوم سپریم کورٹ کی جانب دیکھ رہی ہے،پاکستانی عوام کو عدالت سے انصاف کی امید ہے ، جبکہ وزیر اعظم کی عادت ہے کہ جو بھی ان کی جانب نظر اٹھاتا ہے وہ اسے راستے سے ہٹا دیتے ہیں یا اپنی دولت کے بل بوتے پر اسے خرید لیتے ہیں نواز شریف نے اداروں کو تباہ کرنے کے لئے اداروں پرسفارشی عناصر بٹھا دئیے ہیں۔ اسی لئے قوم کا اداروں پرسے اعتماد اٹھ گیا ہے۔نواز شریف لوگوں کے ضمیر کی قیمت لگاتے ہیں۔ پولیس میں سیاسی بھرتیاں کرکے ادارے میں رشوت اور نفرت کو فروغ دیا گیا، کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں بچا ہے جس میں سفارشی افراد کو نہ بٹھایا گیا ہو۔ نواز شریف نے اسامہ بن لادن کو بھی بخشا اس سے بھی پیسے لئے۔ میں سیاست نہیں کر رہا بلکہ نواز شریف جیسے کرپٹ فرد کا مقابلہ کر رہا ہوں، آپ کا مقابلہ کرنا میں عین عبادت سمجھتا ہوں ملک کو آپ جیسے کرپٹ فرد سے نجات دلا کر دم لوں گا۔ عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم انگریزی میں تقریر کرتے تھے ، عوام کو اس کی سمجھ نہیں آتی تھی مگر لوگ پھر بھی سنتے تھے کیوں کہ انہیں معلوم تھا قائداعظم ایک سچا لیڈر ہے۔ قائداعظم کے رول ماڈل نبی مہربان ? تھے جو کہ صادق اور امین تھے۔ نواز شریف جھوٹا لیڈر ہے جو عوام سے جھوٹ بولتا ہے، لیہ میں ایک خیمے کے نیچے ہونے والے جلسے کو کہتے ہیں کہ یہ ایک میل لمبا جلسہ ہے ، کیا کوئی خیمہ ایک میل لمبا ہو سکتا ہے۔ پانامہ پیپرز میں منی لانڈرنگ کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا قطری خط بھی جھوٹ نکلا، اس کے باوجود نواز شریف اپنے منصب پر قائم ہیں۔ جب لیڈرسچ نہیں بولتا تو عوام اس پر کیوں اعتماد کریں گے۔ ہمارے آئین میں ہے کہ لیڈر کو صادق اور امین ہونا چاہیے۔جب کہ وزیر اعظم پاکستان صادق اور امین نہ ہونے کے باوجود اپنی کرسی سے چمٹ کر بیٹھے ہیں ، یوسف رضا گیلانی سے نوازشریف کہتے تھے گھرجاو¿مگر جب عوام ان سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں تو وہ اپنا عہدہ چھوڑنے پر راضی نہیں ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے تسلیم کیا ہے کہ وہ وزیر اعظم کے لئے منی لانڈرنگ کر رہے ہیں، انہوں نے اسحاق ڈار کو منی لانڈرنگ کے لئے ہی وزیر خزانہ بنایا ہوا ہے جبکہ نیشنل بینک کا سربراہ بھی منی لانڈرنگ کر رہاہے، اسحاق ڈار اور نیشنل بینک کا سربراہ وزیر اعظم کے لئے منی لانڈرنگ کر رہے ہیں ، جب ملک کا سربراہ ملک کے عوام کا پیسہ بیرون ملک منتقل کرے گا تو وہ ملک کو ترقی کی جانب کیسے لے کر جائے گا؟ وزیر اعظم قوم کو بتائیں کہ کیا آپ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ عزت سے زیادہ چوری کا پیسا عزیز ہے؟ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیرمین نے کشمیر کی جدو جہد آزادی میں شریک طالبات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب ہم کشمیری آزادی کی سانسیں لیں گے، انہوں نے لوڈشیڈنگ پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر جگہ سے خبر آرہی ہے کہ پانی اور بجلی نہیں۔سب کو پتا لگ گیا ہمارے عظیم ملک پر کتنا ظلم ہورہا ہے، انہوں نے جلسے کے شرکائ کو شہباز شریف کے تین نام رکھنے کا آپشن بھی دیا اور جلسے کے شرکائ سے رائے کے بعد ان کا نام ڈرامہ شریف رکھ دیا۔ سرگودھا کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ شیخ رشید نے مجھے مشورہ دیا کہ سرگودھا نہ جا? وہاں کے لوگ غیر سیاسی ہیں مگر میں یہاںلوگوں کو بیدار کرنے آیا ہوں۔ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں میری قوم میں احساس دیا،دنیا کی کوئی بھی طاقت اس قوم کو ہرا نہیں سکتی جب تک اس قوم کے اندر ہارنے کو خوف موجود نہ ہوں، قوم کو کرپٹ عناصر کے خلاف جیت کے جذبے کے تحت میدان میں اترنا ہوگا۔

ایک اور گھریلوملازمہ پر تشدد ۔۔۔ زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور ماڈل ٹاون میں مبینہ تشدد سے گھر یلوملازمہ جاں بحق ہوگئی،پولیس نے لاش مردہ خانے منتقل کر دی،ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ کوٹھی مالکان نے منزہ کو تشد دکا نشانہ بنایا جس سے وہ دم توڑ گئی،پولیس نے لاش کو تحویل میں لیکر مردہ خانے منتقل کر دیا،مقتولہ کا تعلق وہاڑی سے ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد منزہ کی موت کا تعین کیا جائے گا ۔