اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھارتی سفارتکار کی مشکوک سرگرمیاں

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ہائی کورٹ نے عظمیٰ واپسی کیس کی سماعت کے دوران فاضل جج کی موبائل سے تصویر لینے پر بھارتی سفارت کار کا موبائل فون ضبط کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی بھارتی شہری عظمٰی کی وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت کررہے تھے کہ عدالتی عملے نے فاضل جج کی توجہ ایک شخص کی جانب مبذول کرائی جو موبائل فون سے ان کی تصاویر لے رہا تھا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا یہاں کوئی ڈراما ہورہا ہے جو تصاویر لی جارہی ہیں، فاضل جج نے موبائل فون ضبط کرنے کا حکم دے دیا تو اس شخص نے اپنا تعارف بھارتی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری کے طور پر کراتے ہوئے دہائی دی کہ وہ سفارتکار ہے اور اس کا موبائل فون ضبط نہیں کیا جاسکتا، جس پر جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیئے کہ آپ بھارتی ہائی کمیشن کے فرسٹ سیکرٹری ہیں تو کیا عدالتوں میں آ کر تصویریں لینا شروع کردیں گے۔اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود ایک وکیل نے بھارتی سفارت کار کو بتایا کہ کمرہ عدالت میں تصاویر نہیں لی جاتیں، عدالتوں میں تصویر لینا پوری دنیا میں جرم ہے۔ بعد ازاں بھارتی سفارتکار نے غیر مشروط معافی نامہ جمع کرایا جس پر موبائل فون میں موجود تمام تصاویر ضائع کرنے کا حکم دیتے ہوئے موبائل فون واپس کردیا۔

بھارتی شہری عظمیٰ کی وطن واپسی….حیران کن موڑ آگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک) ہائی کورٹ نے پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور سے شادی کرنے والی بھارتی خاتون عظمیٰ کی وطن واپسی کی درخواست پر وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ملائشیا میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور طاہر علی سے شناسائی کے بعد یکم مئی کو پاکستان پہنچ کر شادی رچانے والی بھارتی خاتون عظمیٰ نے اپنے ملک واپس جانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے جس میں عظمیٰ نے اپنے شوہر اور وزارت خارجہ کو فریق بنایا ہے، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس کی 5 سال کی بیٹی بھارت میں شدید بیمار ہے۔ اس لیے اسے پولیس رپورٹنگ سے استثنیٰ اور بھارت واپس جانے کی اجازت دی جائے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ طاہرعلی نے دھوکے سے شادی کی اور سفری دستاویزات بھی چھین لیں لہذا بھارت واپسی کے لیے وزارت خارجہ کو ڈپلی کیٹ امیگریشن فارم جاری کرنے کی ہدایت کی جائے جب کہ اسلام آباد سے واہگہ بارڈر تک سفر کے دوران سیکورٹی فراہم کی جائے اورطاہرعلی کو ہراساں کرنے سے روکا جائے۔ بعد ازاں عدالت نے وزارت خارجہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 مئی کو جواب طلب کرلیا۔

6 دن کی دلہن غیرت کے نام پر قتل

گجرات (خصوصی رپورٹ) 6دن کی دلہن غیرت کے نام پر قتل‘ شوہر فرار ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق گجرات کے گاﺅں بھاگووال کی 29سالہ سمیرا نواز کی 5مئی کو اس کے کزن اسد سے سرگودھا میں شادی ہوئی۔ شادی کے صرف 6دن کے بعد ملزم اسد نے اپنی بیوی کو فون پر بات کرتے دیکھا تو یہ گمان کیا کہ اس کے کسی دوسرے مرد کے ساتھ تعلقات ہیں۔ اس نے 6دن کی دلہن کو اس کے میکے میں فائرنگ کر کے مار ڈالا۔ پولیس نے نعش عزیز بھٹی شہید ہسپتال میں بھیج دی۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔

چیئرمین سینیٹ کے ڈان لیکس سے متعلق حیران کن ریمارکس

اسلام آباد(ویب ڈیسک) چیرمین رضا ربانی نے سینیٹ اجلاس کے دوران ڈان لیکس سے متعلق حکومتی جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔چیرمین میاں رضا ربانی کی سربراہی میں سینیٹ کا اجلاس ہوا، جس میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں وہ شخص ہوں جس نے 4 ملٹری ڈکٹیٹرز کے خلاف جنگ لڑی، ہم نے ملٹری ڈکٹیٹرز کا سامنا کیا اور پرویزمشرف کو بھگایا جب کہ وزیراعظم کے احکامات میجرجنرل نے مسترد کیے تو سب سے پہلے میں بولا، میں نے ایک گھنٹے کے اندر متعلقہ ٹویٹ پر جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں میں اپنے اسٹینڈ پر قائم ہوں جب کہ ڈان لیکس سے متعلق 10 روز بعد آنے والے نوٹیفیکیشن میں کچھ نہیں، پرویز رشید شریف النفس ہیں انہوں نے اپنی زبان روک رکھی ہے جب کہ وزیراعظم کہتے ہیں میں دوستوں کو کبھی نہیں چھوڑتا، مشاہداللہ خان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

پاناما کیس ۔۔ جے آئی ٹی نے بڑا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی نے وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے غیر ملکی اکاو¿نٹس اور اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کے لیے غیر ملکی ماہرین سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیا ء کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی جے آئی ٹی کا اجلاس ہوا، ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے بھجوایا گیا ریکارڈ جے آئی ٹی کو موصول ہوگیا ہے جب کہ جے آئی ٹی نے غیر ملکی ماہرین سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے، ماہرین وزیر اعظم اور بچوں کے غیر ملکی اکاو¿نٹس اور اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کریں گے۔

عمرہ کیلئے جانیوالی خاتون کے ہاں بچے کی پیدائش ، ویزہ ختم ، پیسے نہ ہونے پر نومولود ہسپتال میں چھوڑ کر وطن روانہ ، پھر کیا ہوا؟

جدہ (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی شہری حامد عبداللہ اور ان کی اہلیہ چند ماہ قبل عمرہ کیلئے سعودی عرب گئے تو ان کے ساتھ ایک انتہائی غیر متوقع واقعہ پیش آگیا جس کی وجہ سے وہ انتہائی دکھی دل کے ساتھ وطن واپس آئے۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق جب یہ جوڑا سعودی عرب گیا تو حامد عبداللہ کی اہلیہ چھ ماہ کی حاملہ تھیں۔ جب وہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد واپسی کی تیاری کررہے تھے تو اچانک خاتون کی طبیعت بگڑی اور انہیں مدینہ کے ایک ہسپتال میں داخل کروادیاگیا۔ ان کے ہاں قبل از وقت ایک بچی کی پیدائش ہوئی جس کی حالت تشویشناک تھی۔ بدقسمتی سے حمید عبداللہ اور ان کی اہلیہ کے ویزے کی مدت ختم ہوچکی تھی اور ان کے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ مزید قیام کا بندوبست کر سکتے، لہٰذا ان کے پاس بچی کو مدینہ میں ہی چھوڑ کر واپس کراچی آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ان کی خوش قسمتی تھی کہ حالت نازک ہونے کے باوجود بچی کی جان بچ گئی۔ بچی کے صحتیاب ہونے پر ہسپتال اور امیگریشن حکام کی جانب سے پاکستانی قونصلیٹ کے ساتھ رابطہ کیا گیا، اور تب کراچی میں حامد عبداللہ کو بھی یہ خوشخبری سنا دی گئی، جسے سن کر ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ جدہ میں پاکستانی قونصل جنرل شہریار اکبر خان کی کوششوں سے حامد عبداللہ اور ان کی اہلیہ کو ایک بار پھر سعودی عرب کا ویزہ جاری کیا گیا اور دونوں میاں بیوی جب اپنی ننھی بچی کو لینے کیلئے دوبارہ مملکت سعودی عرب پہنچے تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے ڈاکٹروں اور پاکستانی قونصل جنرل کا شکریہ ادا کیا جبکہ قانونی معاملات میںمدد اور دستاویزات کے حصول میں مدد کیلئے کمیونٹی ویلفیئر قونصل عبدالعباسی اور وزارت حج کے چودھری عبدالوحید کا بھی شکریہ ادا کیا

را کی پاکستان کیخلاف نئی سازش ، خوفناک انکشافات سے ہر طرف ہلچل

لاہور (خصوصی رپورٹ) پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے ”را“ کی ایک اور سازش سامنے آ گئی، کراچی، حیدرآباد، سکھر اور بلوچستان میں سی پیک کو نشانہ بنانے کیلئے (را) اور این ڈی ایس نے مہاجر اور بلوچستان سے بھاگ کر (را) کے پاس جانے والے افراد پر مشتمل بلوچ اینڈمہاجر لبریشن آرمی بنانا شروع کردی ہے، اس کا باقاعدہ دفتر قندھار میں بنادیا گیا ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق وہ تمام لوگ جن کو انڈیا کے اندر پاکستان کے خلاف کام کرنے کی ٹریننگ دی جاتی تھی جس میں ایم کیو ایم لندن اور براہمداغ بگٹی کے ساتھی شامل ہیں، کو افغانستان منتقل کرکے نہ صرف ٹریننگ دی جا رہی ہے بلکہ وہاں سے ان کو پاکستان کے اندر آپریٹ کرنے اور پاکستان میں دہشت گردی کا ٹاسک دیا گیا ہے اور وہاں پر باقاعدہ دفتر بنوا کر بلوچ اینڈ مہاجر لبریشن آرمی کا نام دیا گیا ہے۔ ایک گروپ کو ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ وہ کراچی، حیدرآباد، سکھر میں دہشت گردی، مذہبی و لسانی فسادات پھیلائے۔ دوسرے گروپ کو بلوچستان کے اندر دہشت گردی بالخصوص سی پیک کو نشانہ بنانے کا ٹاسک دیا گیاہے اور غیرملکیوں سمیت اہم شخصیات بھی ان کے ٹارگٹ میں ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق سندھ کے چار بڑے شہروں کراچی، سکھر، حیدرآباد اور میر پور خاص میں ایم کیو ایم پاکستان، پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم حقیقی کے کچھ افراد بھی ان کے ٹارگٹ پر ہونگے تاکہ ان کو نشانہ بنا کر حالات خراب کیے جاسکیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق قندھار میں اس دفتر کو (را) اور این ڈی ایس مکمل سپورٹ کر رہی ہے اور افغانستان کے اندر بھارت کے وہ قونصلیٹ صرف اس نئی تیار کی جانے والی تنظیم کو فعال کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں اور پاکستان کے اندر ان کے ذریعے مختلف لوگوں سے رابطے کر رہے ہیں، پاکستان کے حساس اداروں نے اس خوفناک سازش کے سامنے آتے ہی اس حوالے سے اپنا کام شروع کردیاہےلاہور (رپورٹ: حسنین اخلاق) انڈین خفیہ اداروں کاشدت پسند تنظیم داعش سے راوبط کا ایک بار پھر انکشاف،اٹلی میں چھ ارب روپے سے زائد مالیت کی ‘ٹراماڈال’ نامی منشیات کی پونے چار کروڑ گولیاں پکڑی گئیں۔ یہ کھیپ انڈیا سے کمبلوں اور شیمپو کی صورت میں چھپا کر بھیجی گئی تھی، اس دوا کا پہلا مقصد اسلامی دہشت گردی کی مالی مدد اور دوسرا جہادی جنگجوو¿ں کی مزاحمت بڑھانا ہے، اٹالین پولیس کا دعویٰ۔ دواگولیوں کی شکل میں لیبیا کے ساحلی شہر مصراتہ اور تبروک کے لیے تین کنٹینرز میں بھجوائی گئیں۔2015میں بھی انڈین کمپنیوں کے فروخت کردہ ڈیٹونیٹرز، دھماکہ خیز مواد اور اسے استعمال کرنے کے آلات کی بڑی کھیپ کوبانے(شام) اور اربل(عراق) سے دہشت گردتنظیم آئی ایس آئی ایس کے ٹھکانوں سے برآمد ہوچکیں ہیں۔بھارت کی سات کمپنیاں دہشت گردوں کو آلات حرب فروخت کرنے میں ملوث پائی گئیں۔اس حوالے سے بین الاقوامی دنیا کی خاموشی معنی خیز ہے۔تفصیلات کے مطابق کچھ عرصہ قبل کی جانے والی کاروائیوںکے نتیجے میں اٹلی کی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ اسے ‘ٹراماڈال’ نامی دوا کی تین کروڑ 75 لاکھ گولیاں ملی ہیں جن کی مالیت بین الاقوامی مارکیٹ میں 75ملین ڈالربنتی ہے اور جنھیں اسلامی شدت پسنددوران لڑائی استعمال کرتے ہیں۔اٹلی کی پولیس کے مطابق یہ گولیاں کارگو کے ذریعے لیبیا بھیجی جا رہی تھیں۔ یاد رہے کہ ‘ٹراماڈال’ نامی منشیات دردختم کرنے والی دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔جبکہ اس کھیپ کے حوالے سے اٹالین پولیس کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا سے آئی تھی جسے پہلے دبئی اور پھر وہاں سے سری لنکا لے جایا گیاجس کے بعد اسے لیبیا کے لیے روانہ کیا گیا اور اس کے صرف دو ہی مقاصد ہو سکتے ہیںاس کا پہلا مقصد تواسلامی دہشت گردی کی کسی نہ کسی صورت میںمالی مدد ہے جبکہ دوسرامقصد جہادی جنگجوو¿ں کی قوت مزاحمت کوبڑھانا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ‘ٹراماڈال’ کے استعمال کا مقصد جنگجوﺅں میں وحشیانہ تشدد ابھارنا اور ‘ تنازعے کے دونوں جانب سفاکیت کو بڑھاوا دینے میں اپنا کردار ادا کرناہوتاہے۔عمومی طور پر’کیپٹاگون’ نامی ادویات کا مرکزی ترکیبی جزو ” ایمفی ٹامین “ہوتا ہے لیکن غیر قانونی منشیات ساز اکثر اس میں ”کے فین “یا دوسرے نشہ آورمادے شامل کردیتے ہیںجس سے’کیپٹاگون’ نامی ادویات کھانے سے جنگجوو¿ں کی لڑنے کی صلاحیت بڑھتی ہے اور وہ بے رحمانہ طریقے سے میدان جنگ میں اپنے مخالفین سے لڑتے ہیں۔بین الاقوامی طور پر یہ دوانہ تو کسی بھی فوج کو فراہم کی جاتی ہے اور نہ ہی ایسی دوا کسی حال میں بھی حالت جنگ میں موجود فوجیوں کو تجویز کی جاتی ہیں۔ یادرہے کہ اس سے قبل بھی 2014-16میںبھی ”کونفلیکٹ آرمامینٹ ریسرچ“ جوکہ اتحادی اورشامی افواج کے ساتھ مل کر شدت پسند تنظیم کو ہتھیار فراہم کرنے کے حوالے سے تحقیقات کررہے تھے نے جب عراق کے قصبوں ”ربیہ، کرک، موصل، تکرت“ اور” کوبانے “جوکہ شام کا اہم شہر ہے جس کا قبضہ اس شدت پسند تنظیم کے پاس تھا کے ٹھکانوں کو ان سے آزاد کروایا گیا تو وہاں سے دوران تلاشی بھارت میں تیار کردہ’ایمپروائزڈ ایکسپلوسوز ڈیوائس“جنہیں عرف عام میں ”آئی ای ڈیز“ کہا جاتا ہے برآمد کیں جو کہ انڈیا سے برآمد کی گئیں تھیں مزید تحقیق پر علم ہوا کہ سات انڈین کمپنیاں جن میں ”گلف آئل کارپوریشن، سولر انڈسٹریز، پریمیئر ایکسپلوسوز، راجھستان ایکسپلوسوز اینڈ کیمیکلز، چمونڈی ایکسپلوسوز، اکنامک ایکسپلوسوز، آئیڈیل ایکسپلوسوز اور نوکیا سولوشن اینڈنیٹ ورکس انڈیا“ شامل ہیں اس مذموم کام کو سرانجام دے رہی تھیں لیکن حیرت انگیز طور پر نہ تو ان کمپنیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی عمل میں لائی گئی اور نہ ہی بھارتی حکومت نے ان کمپنیوں کے خلاف کو قدم اٹھایا اور یہ آج بھی دنیا بھر میں اپنا کام کررہی ہیں

بزدل بھارت نے پاک فوج کیخلاف سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا

لاہور (خصوصی رپورٹ) نیوز لیکس کی رپورٹ سامنے آنے اور آئی ایس پی آر کی جانب سے اس پر بیان جاری کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف مہم کے حوالے سے تحقیقاتی اداروں نے کام شروع کر دیا ہے۔ مہم چلانے میں کون کون متحرک ہے‘ کہاں کہاں سے فیس بک پر پوسٹ کی گئیں اور جعلی ویڈیو اور دیگر تصاویر کس طرح سوشل میڈیا پر لائی گئیں‘ اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے جعلی اکاﺅنٹس بھی سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مختلف اکاﺅنٹس سے حساس اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے‘ دو ایسے فیس بک اکاﺅنٹس بھی سامنے آئے جن میں سے ایک چنائی اور دوسرا دہلی سے آپریٹ ہو رہا ہے۔ حساس اداروں نے اس حوالے سے کئی اہم ثبوت اکٹھے کر لئے ہیں کہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پاک فوج کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔ مکمل تفصیلات اکٹھی ہونے کے بعد فوری کارروائی کی بجائے حکمت عملی کے تحت ایسے تمام افراد کو نہ صرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ ان کے خلاف باقاعدہ کارروائی بھی ہو گی۔ ایسے فیس بک اکاﺅنٹس کی بھی معلومات لی گئیں جن پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ کے بعد فوری طور پر پاک فوج کے خلاف پراپیگنڈا شروع کیا گیا۔ کئی سیاستدانوں‘ میڈیا پر چلنے والے بیانات اور کئی ایسی چیزیں جن کا حقیقت سے تعلق نہیں ان کو سوشل میڈیا پر چلایا گیا جس سے یہ واضح پتہ چل رہا تھا کہ باقاعدہ پلاننگ کے تحت یہ کیا جا رہا ہے۔ ایک میڈیا ہاﺅس کے حوالے سے بھی کچھ چیزیں حاصل کی گئی ہیں جنہوں نے اس مہم پر کام کیا۔
فوج کے خلاف مہم

ملالہ یوسفزئی پاکستان الیکشن میں حصہ لینگی, کس پارٹی میں شامل ہو نگی ؟

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی نے نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی 2023ءمیں پاکستان میں الیکشن لڑیں گے اور ملالہ یوسفزئی کے پاکستان میں الیکشن لڑنے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ ان کے لیے پارٹی کا انتخاب ہو رہا ہے اور یہ بھی سوچا جا رہا ہے کہ نئی پارٹی بنائی جائے یا پیپلز پارٹی میں بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ شریک چئیر مین کے طور پر شامل کروا کر الیکشن لڑوایا جائے۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل طاقتوں نے پاکستان کے خلاف ف±ل ایجنڈا بنا لیا ہے۔

 

الیکشن کی تیاریاں, نئی ملازمتوں بارے بڑی خبر آگئی

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت نے آئندہ عام انتخابات میںصوبے کی 52فیصد آبادی کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے سرکاری ملازمت میں اوپن میرٹ کے علاوہ خواتین کے مخصوص کوٹے کو 15فیصد سے بڑھا کر 25فیصد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت یہ اہم قدم خواتین کی قومی دھارے میں مو¿ثر شراکت داری کو یقینی بنانے کیلئے اٹھا رہی ہے۔ پنجاب حکومت نے 6خواتین کو مختلف صوبائی محکموں میں سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری تعینات بھی کیا ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمتوں میں خواتین کیلئے اوپن میرٹ کے علاوہ 15فیصد کوٹہ مختص کیا ہوا ہے تاکہ ان کی سرکاری شعبہ جات میں خدمات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اب اس کوٹے کو بڑھا کر 25فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ملازمت کرنے والی خواتین کو اب تک 3ہزار سے زیادہ موٹرسائیکل دیئے گئے اور آئندہ جنرل الیکشن سے قبل مزید 3ہزار موٹرسائیکل دینے کا ارادہ ہے تاکہ خواتین کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکیں۔ ایک سینئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تمام اقدامات اگلے سال ہونے والے جنرل الیکشن کو مدنظر رکھ کر کئے جا رہے ہیں تاکہ تعلیم یافتہ نوجوان خواتین کو ملازمت کی امید دلا کر ووٹ حاصل کئے جا سکیں کیونکہ ان خواتین کا رجحان مخالف سیاسی جماعت کی طرف زیادہ دیکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے نوجوان طالبعلموں کو لیپ ٹاپ کے ذریعہ مرعوب کیا گیا اور اب مزید ایک لاکھ سے زیادہ لیپ ٹاپ تقسیم کئے جائیں گے۔ اس سے حکومتی پارٹی کے ووٹ بینک میں خاطرخواہ اضافہ متوقع ہے۔ مزیدبرآں حکومت نے تمام سرکاری بورڈز‘ پبلک سیکٹر کمپنیز‘ کمیٹیوں اور سپیشل ٹاسک فورسز میں خواتین کی نمائندگی 33فیصد مختص کر رکھی ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے انڈومنٹ فنڈ اور گرلز سکول و کالجز میں کینٹین کے ٹھیکے خواتین ٹھیکیداروں کو دینے اور متعدد دیگر اہم اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے تحفظ کیلئے ایک ہزار ورکرز کو تربیت دی گئی ہے جبکہ 1700مزید خواتین کو تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ کسی بھی قسم کے تشدد اور ظلم و زیادتی کے خلاف آواز اٹھا سکیں۔ خواتین کو کام کرنے کی جگہ پر ہراساں ہونے سے بچانے کیلئے خاتون محتسب کو صوبے میں تعینات کیا گیا۔
خواتین کا کوٹہ