کل بھوشن کیس کی سماعت, عالمی عدالت نے طریقہ کار واضح کردیا

دی ہیگ(آئی این پی)عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے حوالے سے کیس کی عوامی سماعت کا آغاز 15 مئی سے کرے گی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے انصاف کے ادارے آئی سی جے کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کیس کی عوامی سماعت کا اعلان کیا گیا۔یاد رہے کہ رواں ہفتے بھارت نے آئی سی جے کو خط لکھ کر کلبھوشن یادیو کی سزا کے معاملے پر پاکستان پر ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے گذشتہ ماہ موت کی سزا سنائی تھی۔آئی سی جے کے جاری کردہ بیان کے مطابق 15 مئی کو ہونے والی سماعت دو حصوں میں مکمل کی جائے گی، پہلے حصے میں عالمی عدالت بھارت کے دلائل جبکہ دوسرے حصے میں پاکستان کا موقف سنے گی۔بیان کے مطابق ان سماعتوں کو عالمی عدالت کی ویب سائٹ اور اقوام متحدہ کے آن لائن ٹیلی ویژن چینل پر لائیو نشر کیا جائے گا۔پیرکو بھارت کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں دائر کردہ اپیل میں کہا گیا تھا کہ متعدد درخواستوں کے باوجود پاکستانی انتظامیہ بھارت کو کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی فراہم نہیں کررہی۔اپنی اپیل میں بھارت نے مقف اختیار کیا تھا کہ اسے ایک پریس ریلیز کے ذریعے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کا علم ہوا۔بھارت نے مطالبہ کیا تھا کہ آئی سی جے کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کی منسوخی کو یقینی بنائے اور اسے ویانا کنوینشن کی خلاف ورزی قرار دے۔بھارتی اپیل سامنے آنے کے بعد گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارتی درخواست اور عالمی عدالت انصاف کے دائرہ اختیار کا جائزہ لے رہے رہا ہے جس کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ ایک دو روز میں اپنا بیان جاری کرے گا۔

معروف شخصیت کے قافلے کے قریب دھماکہ،متعدد افرادہلاک

بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سڑک کنارےبم دھماکے کے نتیجے میں25 افراد جاں بحق اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ اور جے یو آئی کے رہمنا مولانا عبدالغفور حیدری زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق مستونگ میں مولانا عبدالغفورحیدری کےقافلے کے قریب دھماکاہوا، دھماکے میں مولاناعبدالغفورحیدری بھی زخمی ہوئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو سول اسپتال مستونگ منتقل کیاجارہاہے۔دھماکے کے بعد ریسکیو عملہ اور سیکورٹی اہلکار پہنچ گئے اور اس نے امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔پولیس کے مطابق شدیدزخمیوں کو مستونگ سے کوئٹہ منتقلی کےانتظامات کیےجارہے ہیں۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری مدرسے میں دستار بندی کی تقریب میں شرکت کے لیے گئےتھےاور تقریب میں شرکت کے بعد واپس آرہے تھے۔

سابق ”وزیراعظم“ سمیت 27ساتھیوں کو قید کی سزا سُنادی گئی

ڈھاکہ (صباح نیوز) بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجدکی جانب سے سیاسی نخالفین کو انتقام کا نشانہ بنانے کا سلسلہ اپنے عروج پر ہے،بنگلہ دیش کی عدالت نے سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے ساتھیوں سمیت 27افراد کوعمرقید کی سزا سنائی ہے۔بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کے ایک نجی فوٹو گرافر نورالدین احمد سمیت 27 لوگوں کو 1990کے پر تشدد احتجاج کے دوران ایک نوجوان کے قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔سرکاری وکیل سید شمس الحق کا کہنا تھا کہ تیز رفتار ٹریبونل نے نورالدین احمد سمیت تمام 27ملزمان کو بنگلہ دیش تعزیرات کے آرٹیکل 149کے تحت مجرم پایا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جن 27افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے وہ سب کے سب دائیں بازو یعنی فریڈم پارٹی کے رکن تھے۔

فضل الرحمن کی آصف زرداری سے ملاقات, اندرونی کہانی منظر عام پر!!!

اسلام آباد(آن لائن) جمعیت علماءاسلام (ف)کے سربراہ مولانافضل الرحمن کی سابق صدرآصف علی زرداری سے ملاقات میں سیاسی صورتحال اورڈان لیکس معاملہ حل ہونے کے بعدکی صورتحال پرتبادلہ خیال کیاگیا۔جمعرات کی شب مولانافضل الرحمن نے اسلام آبادمیں آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں دونوں رہنماو¿ں کے درمیان ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال کیاگیا۔دونوں رہنماو¿ں کے درمیان ڈان لیکس کامعاملہ حل ہونے کے بعدکی صورتحال پرتبادلہ خیال ہوا۔

وزیراعظم ”چاروں“ وزرائے اعلیٰ ساتھ چین روانہ, دیکھئے بڑی خبر

اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم محمد نواز شریف بیلٹ اینڈ روڈ عالمی تعاون فورم میں شرکت کیلئے چاروں صوبائی وزرا علیٰ اور وزیر اعلی ٰ گلگت بلتستان کے ہمراہ آج بیجنگ پہنچیں گے ، وفاقی وزرا اسحاق ڈار، احسن اقبال اور خواجہ محمد آصف بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہونگے۔ تفصیلات کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ عالمی تعاون فورم بیجنگ میں منعقد ہو گا جس میں 28ممالک کے سربرہان اور 110 ممالک اور عالمی تنظیموں سے مختلف شخصیات شرکت کریں گی ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف بھی بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت کیلئے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ آج بیجنگ پہنچیں گے۔ وزیر اعظم نے دورہ چین کے دوران قومی یکجہتی کی فضا کا عملی مظاہرہ کرنے کیلئے ون بیلٹ ون روڈ عالمی کانفرنس میں شرکت کیلئے چاروں صوبائی وزرااعلیٰ کے علاوہ گلگت بلتستان کے وزیراعلی کو بھی ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف بھی وزیر اعظم کے ہمراہ ہونگے۔ چین کے صدر شی جن پھنگ فورم کا افتتاح کریں گے فورم میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن ، کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہن سین ، میانمر کے اونگ سان سو کائی ، قازق صدر نورسلطان نذر بایوف ، ملائیشیا کے وزیر اعظم نجیب رزاق اور انڈونیشیا کے صدر جو کو وڈوڈو بھی شرکت کریں گے ان کے علاوہ فورم میں ارجنٹائن ، بیلارس ، چلی ، جمہوریہ چیک ،، قزاقستان ، کینیا ، لاﺅ ، فلپائن ، سوئٹزر لینڈ ، ترکی ، ازبکستان ،ویتنام ، ایتھوپیا ، فوجیان ، یونان ، ہنگری ، اٹلی ،ملیشیا ، منگولیا ، میانمر ، ، پولینڈ ، سربیا ، سپین ، سری لنکا کے صدور و زیراعظم بھی شامل شرکت کریں گے۔ بیلٹ اینڈ روڈ فورم اقتصادی تعاون کا فورم ہے اور یہ بین الاقوامی تعاون کیلئے پلیٹ فارم کا کام دیتا ہے۔ چین کو توقع ہے کہ فورم کے دوران 20ممالک اور 20سے زیادہ بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کی دستاویز پر دستخط کئے جائیں گے۔

سانحہ چمن کے زخمیوں کی عیادت, جاری آپریشنز بارے بڑا اعلان

کوئٹہ (آن لائن+ صباح نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ملک میں امن و استحکام کے لئے فوجی آپریشنز کا کردار اہم ہے۔ ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق جمعرات کے روز آرمی جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا۔ کوئٹہ گیریچر پہنچنے پر کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹنینٹ جنرل عامر ریاض اور آئی جی ٹریننگ اینڈ ایویلوایشن لیفٹنینٹ جنرل ہدایت الرحمن نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا استقبال کیا۔ آرمی چیف نے کوئٹہ گیریژن میں مختلف تنصیبات کا جائزہ لیا۔ آرمی سکول آف انفنٹری میں افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔ آرمی چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سکیورٹی صورتحال اور ملک کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا۔ آرمی چیف نے ملک میں امن و استحکام کے لئے پاک فوج کے کردار کو قابل ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و استحکام کے لئے پاک فوج کے آپریشنز اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ بعد ازاں آرمی چیف نے سانحہ چمن میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کے لئے سی ایم ایچ کوئٹہ کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔ آرمی چیف نے آرمی سکول آف انفنٹری میں مختلف کورسز کرنے والے نوجوان افسروں سے بھی بات کی۔ انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کے طالبعلموں سے بھی سالانہ خطاب کیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق اپنے خطاب کے دوران آرمی چیف نے اندرونی و بیرونی سکیورٹی کی صورتحال پر بات کی اور ملک کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا۔ آرمی چیف نے ملک میں امن اور استحکام کے لئے پاک فوج کے جاری آپریشنز اور کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے سی ایم ایچ کوئٹہ کا بھی دورہ کیا اور چمن واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔

سی پی این ای اخبارات کے ایڈیٹروں کی نمائندہ تنظیم خبروں کا انتخاب ایڈیٹر کی نگرانی میں ہوتا ہے

کراچی (پ ر) کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹر ز (سی پی این ای) کے صدر ضیا شاہد اور سیکرٹری جنرل اعجاز الحق نے ڈان لیکس پر سابق جسٹس عامر رضا خان کی سربراہی میں انکوائری رپورٹ جس میں معاملہ اے پی این ایس کے سپرد کرنے پر سی پی این ای کا اصولی مو¿قف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے پی این ایس اخباری مالکان اور ناشران پر مشتمل ہماری برادر تنظیم ہے اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں تاہم سی پی این ای مدیران اخبارات کی نمائندہ تنظیم ہے کیونکہ مدیر یا ایڈیٹر ہی خبروں کی اشاعت کی نگرانی کرتا ہے اور ان کی اشاعت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ جیسے کسی اخبار میں کیا شائع ہوا یا اس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا یہ بات سی پی این ای کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ ماضی میں یہ روایت رہی ہے کہ اخبارات سے متعلق بڑے اہم امور میں کسی بھی معاملے کو سی پی این ای کے ساتھ اے پی این ایس کو بھی شامل کرکے دونوں تنظیموں کی مشترکہ خصوصی کمیٹی کے سپرد کیا جاتا رہا ہے تاکہ جو مسئلہ درپیش ہو اس کے ہر پہلو پر خواہ انتظامی ہو یا ادارتی‘ تحقیق کرکے مشترکہ فیصلہ سامنے آسکے۔ اب کمیٹی کی رپورٹ کے جو مندرجات وزیراعظم کے پریس سیکرٹری کے دستخطوں سے جاری خط سے ظاہر ہوتے ہیں‘ اے پی این ایس کو ہی یہ معاملہ ریفر کیا گیا ہے۔ اے پی این ایس کے لئے تمام تر احترام کے باوجود ہم سی پی این ای کا اصولی مو¿قف ریکارڈ پر لانا ضروری سمجھتے ہیں۔ سی پی این ای کے صدر اور جنرل سیکرٹری نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمیں نہ تو جسٹس عامر رضا خان کی سربراہی میں بننے والی رپورٹ کے بارے میں کچھ کہنا ہے اور نہ یہ معاملہ اے پی این ایس کے سپرد کئے جانے پر کوئی اعتراض ہے لیکن سی پی این ای کا اصولی مو¿قف سامنے لانا ضروری تھا جس کے لئے یہ بیان جاری کیا جارہا ہے۔

ڈومینیکا ٹیسٹ؛ پاکستان کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں 376 رنز پر ڈھیر

ڈومینیکا(ویب ڈیسک) تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں پاکستان نے اظہرعلی کی سنچری کی بدولت 376 رنز بنائے۔ڈومینیکا میں جاری تیسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ کے دوسرے روز پاکستان نے 2 وکٹوں کے نقصان پر 169 رنز سے اپنی نامکمل اننگز کا آغاز کیا تو اظہرعلی 85 اور یونس خان 10 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے لیکن جلد ہی اپنا آخری ٹیسٹ کھیلنے والے مایہ ناز بلے باز یونس خان 18 رنزبنانے کے بعد پویلین لوٹ گئے۔ جس کے بعد اظہرعلی اور کپتان مصباح الحق نے محتاط انداز اپناتے ہوئے چوتھی وکٹ پر 64 رنز کی شراکت قائم کی اور ٹیم کا مجموعی اسکور 241 تک پہنچا تو اظہر 127 رنز بنا کر روسٹن چیز کی گیند پر بولڈ ہوگئے، انہوں نے اپنی اننگز میں 2 چھکے اور 8 چوکے لگائے۔اظہر کے آؤٹ ہونے کے بعد نئے آنے والے بلے باز اسد شفیق 17 رنز بنا کر چلتے بنے اور کپتان مصباح الحق ایک چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہوئے اور ان کی اننگز کا خاتمہ 59 رنز پر ہوا۔ چائے کے وقفے تک گرین کیپس نے 6 وکٹوں کے نقصان پر 311 رنز بنا لئے تھے جس کے بعد محمد عامر 7 اور یاسرشاہ بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے۔ نوین وکٹ پر وکٹ کیپر بلے باز سرفراز احمد نے محمد عباس کے ساتھ محتاط انداز اپناتے ہوئے نصف سنچری مکمل کی اور دونوں کھلاڑیوں نے 45 رنز کی شراکت قائم کرتے ہوئے ٹیم کا مجموعی اسکور 367 تک پہنچایا تو سرفراز ہمت ہار گئے اور 51 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے جب کہ آخری آؤٹ ہونے والے محمد عباس 4 رنز بناسکے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے روسٹن چیز نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 4، جیسن ہولڈر3،دوندرا بشو 3 اور الزیری جوزیف نے ایک وکٹ حاصل کی۔

”ٹی وی ٹاک شوز کو بند کرنا خلاف آئین جھوٹی خبر پر کڑی سزا دیں“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ڈان لیکس کے معاملے پر سب سے اچھا تبصرہ سراج الحق نے کیا ہے کہ ”جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی“ اگر فوج راضی ہے تو پھر ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ٹویٹ بھی واپس لے لیا گیا جو کہ اچھی بات ہے۔ اداروں کے درمیان محاذآرائی ملکی مفاد میں نہیں ہوتی۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفی کے فوج میں اضطراب کے بیان پر انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ایسا نہیں ہے اگر ہوتا تو ڈی جی آئی ایس پی آر پریس کانفرنس کر کے معاملہ ختم نہ کرتے۔ حکومت کے ذہن میں یہ بات ہو گی کہ ڈان لیکس جن کے بارے میں ہے اگر وہ مطمئن ہیں تو پھر اپوزیشن کے پیٹ میں کیوں درد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی اس بات سے متفق ہوں کہ جب ایک مسئلہ ہوا، شورشرابا مچا، انکوائری کمیٹی بنی تو معاملہ اتنی سادگی سے کیسے ختم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک صحافی کی حیثیت سے محسوس کرتا ہوں، جب کوئی بڑے سے بڑا مسئلہ ہو تو پاکستان کے صحافیوں کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا نہ ہی کچھ بتایا جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک جج نے کہا ہے کہ ٹی وی ٹاک شوز پر تو پابندی لگانی چاہئے،میرے خیال میں تمام ٹاک شوز بند کرنا ٹھیک نہیں۔ مخصوص الزام متعین کرنا چاہئے کہ فلاں ٹاک شو ملکی مفاد کے خلاف ہے یا اس کے حقائق غلط ہیں، یہ طرز عمل نہیں ہونا چاہئے کہ سب کو بند کر دو۔ اگر تمام ٹی وی ٹاک شو بند کر بھی دیئے جاتے ہیں تو بین الاقوامی ٹی وی کیسے بند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا رویہ عجیب و غریب ہے کہ ملک بھر کے قومی اخبارات کے رپورٹرز، ایڈیٹرز، اداروں یا ٹی وی چینلز کوکچھ نہیں سمجھا جاتا جبکہ بی بی سی کا کوئی چپڑاسی بھی آ جائے تو وزارت خارجہ اس کے آگے پیچھے گھومتی ہے۔ یہ طرز عمل ختم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ بی بی سی کی وزیراعظم اور جندال ملاقات کے حوالے سے خبر کی حکومت یا فوج کسی نے بھی ابھی تک کوئی تردید یا تصدیق نہیں کی، ایسے حالات میں میڈیا کیا سمجھے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ہماری کوئی خبر غلط ہوتی ہے تو ہمیں سزا دیں، یہ عدالتی نظام کا قصور ہے کہ مقدمے کو 11 سال لٹکا دیا جاتا ہے۔ وہ کون لوگ ہیں جو عام آدمی کو لاعلم اور ذرائع ابلاغ کو اعتماد میں نہیں لینا چاہتے۔ ڈان لیکس پر اتنا شور برپا ہے اسے عدالت میں کیوں نہیں لے کر جاتے۔ دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفی نے کہا ہے کہ فوج میں ڈان لیکس کے مرکزی سوالوں کے جواب ملنے تک اضطراب لازمی ہے۔ خبر لیک اور شائع کرانے والے کے بارے میں پتہ نہیں چلا۔ جن لوگوں کو نوٹیفکیشن میں سزا دی گئی، میں اسے سزا نہیں سمجھتا۔ آرمی چیف نے جمہوریت بچانے کیلئے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے لیکن جب سینئر افسران ان سے پوچھیں گے اور اضطراب کا اظہار کریں گے تو ان کو وضاحت بھی کرنا پڑے گی ۔ فوج کی جانب سے کوئی ٹویٹ آرمی چیف کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا، فوج کو اپنے چیف کے حکم پر کوئی شک نہیں ہوتا لیکن اضطراب ضرور ہو گا۔ خبر لیک کرنے والے سامنے نہیں آئے، کسی کو سزا نہیں ہوئی اس حوالے سے اضطراب ضرور ہو گا۔ ڈان لیکس معاملے پر ملک میں طوفان برپا ہو گیا تھا ایسی صورتحال میں دانشمندانہ فیصلہ ہے، آرمی نے ایک قدم پیچھے ہٹایا ہے، ملٹری مائنڈ سمجھ سکتا ہے کہ کتنی مشکل سے یہ فیصلہ ہوا ہو گا۔ دعا ہے کہ ملک کے لئے بہتر ہو لیکن اعتراضات پہلے اور دوسرے دونوں فیصلوں پر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر سجن جندال جیسے معاملات میں آرمی چیف کو پہلے سے آگاہ کر دیا جاتا ہے لیکن میرے خیال میں جندال ملاقات کے لئے فوج کو پوری طرح اعتماد میں لینے کی بات درست نہیں، بعد میں بات کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی تشویش جندال کے بارے میں رہی ہے، ایسے شخص سے نہیں ملنا چاہئے جس نے ملک و فوج کے بارے میں منفی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ماہر قانون حامد خان نے کہا ہے کہ آزادی صحافت پر کوئی قدغن نہیں ہونی چاہئے، ایسی کوششیں کہ عام لوگوں تک کوئی خبر نہ پہنچے افسوسناک پہلو ہے۔ ڈان لیکس کی رپورٹ منظر عام پر آنی چاہئے۔ قوم کے سامنے پوراسچ نہیں آ رہا یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا تمام ٹاک شوز کو بند کرنے کا کہنا مناسب نہیں، یہ ہمارے بنیادی حقوق کے منافی ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی جندال سے ملاقات پر کوئی اعتراض نہیں لیکن جس طرح خفیہ آمد اور ملاقات ہوئی اس سے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستانی ریسرچر جتنا مرضی سینئر ہو اس کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہوتا لیکن اگر کوئی لکھاری باہر سے آیا ہو تو ارباب اختیار اس کے آگے پیچھے پھرتے ہیں جو غلامانہ ذہن کی نشاندہی ہے۔ بیرون ملک سے بھی اگر کوئی مرد صحافی آتا ہے تو اس کے ساتھ امتیازی سلوک جبکہ خاتون ہو تو بیورو کریسی سارے کھاتے کھول کر سامنے رکھ دیتی ہے۔ چیئرمین پاکستان کسان اتحاد چودھری محمد انور نے کہا ہے کہ حکومت سے گزارش ہے کہ ہماری گندم خریدے، بے شک 100 روپیہ کم ریٹ لگائے۔ 10 سال پہلے گندم باہر سے منگوائی جاتی تھی، آج یہاں وافر ہے تو سنبھال نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت دیہاتوں میں 6 سے 8 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کر رہی ہے تو درخواست ہے کہ جو بجلی دے رہے ہیں وہ تواتر کے ساتھ دے دیں۔ وقفے وقفے سے لوڈ شیڈنگ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ رواں برس جس کھیت سے 25 من گندم پیدا ہونی تھی وہاں 45 سے 50 من پیداوار ہوئی۔ جو کٹائی کے بعد کھیتوں میں پڑی ہے لیکن خریدار نہیں ہے۔ اگر حکومت نے گندم نہ خریدی تو جنوبی پنجاب میں جہاں کپاس سب سے اہم ہے، لیکن گندم کی فروخت میں تاخیر کے باعث کپاس کی کاشت کا موسم گزر جانے کا خدشہ ہے۔ ملک سے کپاس ختم ہو رہی ہے، کبھی یہ ملک کپاس کی برآمد میں تیسرے نمبر پر تھا۔ آج باہر سے روئی منگوائی جا رہی ہے یہ بڑا مسئلہ ہے۔ حکومت زراعت کو بچائے میٹرو چلانے سے ملک خوشحال نہیں ہو سکتا۔ دیہاتوں میں غربت کا یہ عالم ہے کہ کپاس کاشت کرنے، پانی، بجلی و ڈیزل کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ملتان، بہاولپور ، ڈی جی خان تینوں ڈویژنوں میں 90 فیصد دیہاتوں کا دارومدار کپاس کی فصل پر ہے۔ اگر یہ سب بیروز گار ہو گئے تو ملک میں غربت کا بڑا طوفان آئے گا۔ پاکستان کسان اتحاد کی دو تنظیموں کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ خالد کھوکھر میرے ساتھ ہوتا تھا۔ 2012ءمیں کسان اتحاد کی بنیاد رکھی تو ان کو ضلع خانیوال کا صدر بنایا تھا۔ یہ فخر امام کا منشی تھا، تعلیم میٹرک فیل ہے۔ جب حکومت نے ہماری جماعت کو مضبوط ہوتے دیکھا تو خالد کھوکھر کو پروٹوکول دے کر جماعت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ یہ حکومتی کارنامہ ہے۔ خالد کھوکھر چند ایکڑ کا مالک ہو کر لاکھوں کے اشتہارات دے رہا ہے جبکہ میں مربعوں کا مالک ہو کر اتنے اشتہارات نہیں دے سکتا۔ خالد کھوکھر کا اسلام آباد میں مظاہرہ کرنے کا اشتہار ایک چال ہے۔ وہ حزب اختلاف و حکومت سے پیسے لے کر مک مکا کر لے گا، یہ مظاہرہ نہیں ہو گا جبکہ ہم نے کبھی مک مکا نہیں کیا۔ ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے کہا ہے کہ کسان اتحاد کا دیہاتوں میں وقفے وقفے سے لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا مطالبہ جائز ہے، ہم خود اس چیز کو محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوڈ مینجمنٹ کو کچھ اس طرح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جہاں کاشتکار زیادہ ہیں، وہاں وقفے وقفے سے لوڈ شیڈنگ نہ ہو تا کہ کسانوں کو فائدہ ہو سکے۔اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے بات کریں گے۔امید ہے کاشتکاروں کو 3 سے 4 گھنٹے مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے گی۔

وزیراعظم نے عوام کیلئے بڑی خوشخبری کا اعلان کردیا۔۔۔

چیچہ وطنی (نمائندگان خبریں) وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ چیچہ وطنی میں دھرنا دینے، جھوٹ اور الزام تراشی کیلئے نہیں بلکہ صرف اور صرف آپ کی خدمت کیلئے آیا ہوں، چیچہ وطنی کو موٹر وے سے ملانے اور حلقہ این اے 162,163 حلقہ پی پی 225,226 کے تمام دیہاتوں میں سوئی گیس کی فراہمی، چیچہ وطنی شہر اور سڑکوں کیلئے 50 کروڑ روپے کے فنڈز، ویٹرنری یونیورسٹی کیمپس کا قیام، گورنمنٹ گرلز و بوائز ڈگری کالجز میں ایم اے کی کلاسوں کا اجرائ، گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج اور ووکیشنل کالج کو اپ گریڈکرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے 23 کروڑ کی لاگت سے تیار ہونے والی ماڈل کیٹل مارکیٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد بہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ممبر قومی اسمبلی چوہدری محمد طفیل، ممبر قومی اسمبلی چوہدری منیر ازہر،ممبر قومی اسمبلی چوہدری محمد اشرف، ممبر قومی اسمبلی عمران شاہ ولی،معاون خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری محمد ارشد جٹ ، ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری محمد حنیف جٹ، صوبائی وزیر ملک ندیم کامران، چیئرمین ضلع کونسل ساہیوال چوہدری اقبال بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کر کے ملک کو خوشحال اور ترقی یافتہ بنا رہے ہیں،جس وجہ سے پاکستان کے عوام ہم سے محبت اور پیار کرتے ہیں جبکہ پاکستانی عوام دھرنا والوں کو مسترد کر چکے ہیں، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اور خستہ حال سکول اور ہسپتال دیکھنے ہوں تو وہ کے پی کے میں دیکھیں جبکہ خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان دیکھنا ہو تو صوبہ پنجاب میں نظر آئے گا ، کھیتوں سے منڈیوں تک پختہ سڑکیں بنائی جا رہی ہیں جس سے کاشتکاروں کو فائدہ ہو گا ، ڈی اے پی کھاد 4000 ہزار روپے سے 2500 روپے جبکہ یوریا کھاد 1800 روپے سے کم کر کے1400 روپے میں فراہم کی جا رہی ہے، کسانوں کیلئے ٹیوب ویل بجلی کا ریٹ بھی نیچے آ گیا ہے۔چیچہ وطنی میرا اپنا دوسرا گھر ہے ، میرا آپ سے اور چیچہ وطنی کے عوام سے بہت پرانا تعلق ہے میں چیچہ وطنی جب آیا کرتا تھا بہت چھوٹا تھا ، آج بھی میں وہی محبت کا رشتہ مضبوط کرنے آیا ہوں اور اس رشتے کو ہمیشہ نبھاﺅں گا۔ اس وقت چیچہ وطنی کا نام پورے ملک میں گونج رہا ہے جس نے کبھی چیچہ وطنی کا نام نہیں سنا تھا اسے بھی آج چیچہ وطنی کے بارے علم ہو چکا ہے۔ میرے بہت ہی پیارے دوست حاجی ولی محمد کے صاحبزادے چوہدری محمد طفیل چوہدری محمدارشد اور چوہدری محمد حنیف میرے دل کے بہت قریب ہیں۔ازاں قبل ممبر قومی اسمبلی چوہدری محمد طفیل نے سپاس نامہ پیش کیا۔ وزیراعظم نوازشریف نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ ا?پ ایک صوبہ دیا گیا مگر افسوس وہاں نہ اسپتالوں کی کوئی حیثیت ہے اور نہ سڑکیں بن رہی ہیں لہٰذا کسی نے نئے پاکستان کا حشر دیکھنا ہے تو خیبرپختونخوا چلا جائے۔چیچہ وطنی میں مسلم لیگ (ن) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ یہاں کے عوام سے محبت کا رشتہ مضبوط کرنے آیا ہوں اور ہمیشہ اسے نبھاو¿ں گا، مجھے پتا ہے آپ لوگ میرے ساتھ ہیں کیوں کہ ہمیشہ آپ نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین صرف الزام لگانا جانتے ہیں، انہیں پاکستان کے کلچر کا علم نہیں، جہاں بڑوں، خواتین کا احترام اور چھوٹوں سے پیار کیا جاتا ہے، انہیں یہ پتا نہ ہونے کے باعث ہی عوام ان کا ساتھ چھوڑتے چلے جارہے ہیں۔وزیراعظم نے پی ٹی ا?ئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایک صوبہ دیا گیا مگر افسوس وہاں نہ اسپتالوں کی کوئی حیثیت ہے اور نہ سڑکیں بن رہی ہیں مگر آپ نے خوشحالی دیکھنی ہے تو باقی پاکستان کے اندر آپ کو خوشحالی نظر آئے گی جہاں کسان بھی خوش ہیں اور پنجاب میں ترقیاتی کام تیز رفتاری سے ہورہے ہیں، کسی نے نئے پاکستان کا حشر دیکھنا ہے تو خیبرپختونخوا چلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہاں دھرنا، گالیاں دینے یا الزام لگانے نہیں ا?یا بلکہ عوام کی خدمت کرنے آیا ہوں، یہ عوام 5 سال بعد ہم سے سوال پوچھے گی کہ ہم نے ان کے لیے کیا کیا۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ 2018 تک ملک سے لوڈ شیڈنگ مکمل طور پر ختم ہوجائے گی اور بجلی سستی بھی ہوگی۔وزیراعظم نوازشریف نے چیچہ وطنی کو براہ راست موٹروے سے ملانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سڑکیں صرف پنجاب میں نہیں بن رہیں بلکہ دھرنا دینے والوں کے صوبے میں بھی ہم موٹروے بنا رہے ہیں، سندھ اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں ترقیاتی کام ہورہے ہیں اور پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہورہا ہے جب کہ اگلے چند سالوں میں پاکستان ترقی کے عروج پر ہوگا اور دنیا میں اپنا مقام پیدا کرے گا۔ انہوں نے چیچہ وطنی میں ترقیاتی کاموں کے لیے 60 کروڑ روپے دینے کا اعلان بھی کیا۔