گلو کار علی ظفر کیخلاف شکنجہ تیار

لاہور(ویب ڈیسک )ایف بی آر نے معروف گلوکار، اداکار و ماڈل علی ظفر کو ودہولڈنگ سٹیٹمنٹ جمع نہ کرانے پر نوٹس بھیج دیا ایف بی آر کی جانب سے معروف گلوکار علی ظفر کو ڈی ایچ اے میں واقع انکی رہائشگاہ پر نوٹس بھیجا گیا علی ظفر کی سالانہ آمدن 5 کروڑ سے زائد ہے تاہم ودہولڈنگ سٹیٹمنٹس جمع نہیں کرائیں جبکہ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ پانچ کروڑ سے زائد آمدن پر ویلتھ سٹیٹمنٹ جمع کرانا ضروری ہے۔ ایف بی آر نے سال 2014، 2015 کی ودہولڈنگ سٹیٹمنٹس جمع نہ کرانے پر علی ظفر کو نوٹس بھیجتے ہوئے تمام تفصیلات طلب کی ہیں۔دوسری جانب علی ظفرکے منیجر نے کہاہے کہ مجھے ایف بی آرکی طرف سے آج نوٹس ملاہے تاہم ابھی ایک ماہ کاوقت ہے گلوکار اسے بروقت جمع کرادیں گے۔انکاکہناتھاکہ گلوکارنے ہمیشہ بروقت ٹیکس جمع کرایاہے جس کی پندرہ برس کی سٹیٹ منٹ ان کے پاس موجودہے۔ایف بی آرکی طرف سے حالیہ ملنے والے نوٹس کی جون تک تاریخ ہے اسے بھی ماضی کی طرح تاریخ ختم ہونے سے قبل جمع کرادیاجائے گا۔

یونس خان غیر ملکی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کیلئے آمادہ

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے افغانستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ عاطف مشال نے کہا کہ بیٹنگ کوچ کے لیے پاکستانی کرکٹر یونس خان سے بات چیت جاری ہے۔ ابھی ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اچھے کھلاڑیوں کی خدمات اپنی ٹیم کی تربیت کے لیے حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ یونس خان نے اس ذمہ داری کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔عاطف مشال کا کہنا تھا کہ نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں افغان ٹیم کا پاکستان میں کھیلنا ممکن نہیں، اگر کسی تیسرے ملک میں کھیلیں تو بہتر ہوگا۔ اس حوالے سے دونوں بورڈز میں بات چیت جاری ہے۔واضح رہے کہ یونس خان نے دورہ ویسٹ انڈیز سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر رکھا ہے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرا ٹیسٹ ان کے کیریئر کا آخری میچ ہو گا۔ اگر سینئر بیٹسمین کا معاہدہ ہو گیا تو وہ افغان کرکٹ بورڈ کے ساتھ بطور بیٹنگ کوچ خدمات انجام دینے والے تیسرے پاکستانی کرکٹر ہوں گے۔ اس سے قبل پی سی بی کے موجودہ چیف سلیکٹر انضمام الحق اور کبیر خان یہ فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

 

پاکستان کی قومی زبان ’’اُردو‘‘نہیں بلکہ …؟

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے آئین میں ترمیم کرکے اردو کے ساتھ پنجابی‘ سندھی‘ بلوچی اور پشتو کو بھی قومی زبان کا درجہ دینے کا بل منظور کرلیا۔ یہ بل سنیٹر سسی پلیجو اور مختار احمد نے پیش کیا تھا۔ کمیٹی نے آئین کی شق ون کے آرٹیکل 251 میں ترمیمی بل منظور کیا جس میں اردو کے ساتھ ساتھ پنجابی‘ سندھی‘ بلوچی اور پشتو کے ساتھ براہوی‘ ہندکو اور سرائیکی کو بھی قومی زبانیں قرار دیا گیا ہے۔ قومی زبان ”ایک اردو“ کی بجائے ”آٹھ“ ہونے کا جواز یہ دیا گیا ہے کہ آئین پاکستان تمام ملکی دستاویزات کی ماں ہے جس کو تمام زبانوں کو مساوی تسلیم کرنا چاہئے اور کسی ایک کو دوسری پر سبقت نہیں دینی چاہئے۔ اس بل کا مقصد ہی یہ ہے کہ آئین میں ان تمام زبانوں کو متعارف کرایا جائے جو مختلف صوبوں میں بولی جاتی ہیں۔ کسی زبان کو دوسری پر فوقیت نہ دی جائے۔ اس بل سے ملک کے تمام شہریوں میں اتحاد و یگانگت میں اضافہ ہوگا۔

’’چاند ‘‘پر پھڈا کرنیوالوں کیخلاف سخت قانونی کاروائی کا فیصلہ

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور نے مسجد قاسم علی خان کے خطیب مفتی پوپلزئی سمیت غیر قانونی رویت ہلال کمیٹیوں کے خلاف گھیرا تنگ کر لیا ہے، رمضان یا عید کا غیر سرکاری طور پر اعلان کرنے والے خطیب یا امام مسجد کو ایک سال قید اور 2 سے 5 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائیگا، محکمہ موسمیات اور سپارکو پر چاند کے حوالے سے معلومات دینے پر پابندی ہوگی۔ نجی ٹی وی چینل مرکزی کمیٹی کے اعلان سے قبل چاند کا اعلان کرنے کی صورت میں 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور لائسنس معطل کردیا جائیگا مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین سمیت تمام ممبران کی تقرری تین سال کیلئے ہوگی۔ وزارت مذہبی امور نے رویت ہلال کمیٹی سے متعلق سفارشات کمیٹی کے سامنے پیش کردی ہیں۔ اے این پی کے رکن اسمبلی باز محمد خان نے چاند کے اعلان پر جرمانوں اور قید کی سزاﺅں کو اظہار رائے کی آزادی پر قدغن قرار دیتے ہوئے شق کی مخالفت کر دی ہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امورکا اجلاس میں احترام رمضان ترمیمی بل 2017 اور رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل نو سے متعلق سفارشات پر وزارت کی جانب سے بریفنگ دی گئی اس موقع پر کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ احترام رمضان ترمیمی بل کے تحت رمضان المبارک کے دوران افطار سے نماز تراویح تک سینما گھروں سمیت تفریحی پروگراموں پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو 2سے 5لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گارمضان المبارک میں بس اڈوں کے سوا تمام ہوٹل بند رہیں گے اور خلاف ورزی کرنے والے کو25ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گاجبکہ رمضان المبارک کے احترام نہ کرنے، عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی اور کھانے پینے والے افراد کو 5ہزار روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ کمیٹی نے بعض ترامیم کے بعد بل کو منظور کر لیا ہے کمیٹی کو رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے بریفنگ دیتے بتایا گیا کہ کمیٹی میں تمام صوبوں سے دو دو ممبران ہونگے جبکہ ڈی جی سپارکو ،ڈی جی موسمیات،ڈی جی وزارت مذہبی امور اور گلگت بلتستان ،فاٹا اور کشمیر سے ایک ایک نمائندہ ہوگا کمیٹی میں تمام مسالک کو نمائندگی دی جائے گا رویت ہلال کمیٹی کے ممبران شہادت العالمیہ اور 15سالہ تجربے کے حامل ہونگے کمیٹی کا دورانیہ تین سال کیلئے ہوگا اور کمیٹی کا چیرمین بھی تین سال کیلئے نامزد ہوگا اور ہر صوبے کو موقع دیا جائیگا۔ کوئی نجی رویت ہلال کمیٹی پاکستان میں کام نہیں کرے گی۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والے کو 6 ماہ تک قید کی سزا اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ کیا جائیگا۔ کمیٹی نے رویت ہلال کی ضلعی کمیٹیوں کو صوبائی کمیٹیوں کے تابع کرنے اور براو راست مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اطلاع دینے کی ممانعت اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو صوبائی کمیٹیوں کے فیصلوں تک اجلاس جاری رکھنے کا پابند بنانے کی سفارش کی ہے۔

مولانا اعظم طارق کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم ملک سے فرار ہوتے گرفتار

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مولانا اعظم طارق کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم بیرون ملک فرار ہوتے گرفتار۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا اعظم طارق کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم بیرون ملک فرار ہوتے گرفتارکر لیا گیا۔ سبطین کاظمی کو اسلام آباد سے مانچسٹر فرار کی کوشش کے دوران اسلام آباد ائیرپورٹ سے ایف آئی اے نے گرفتار کیا۔ ملزم کا نام ای سی ایل میں شامل ہے جس سے گرفتاری میں آسانی ہوئی۔ واضح رہے کہ مولانا اعظم طارق کو 14 برس قبل اکتوبر 2003 میں اسلام آباد میں داخل ہوتے فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ قتل کیس متعدد افراد گرفتار تھے تاہم مرکزی ملزم سبطین کاظمی اس وقت سے اب تک روپوش رہا۔

تعطیل کا اعلان ہو گیا

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) شب برات کے موقع پر سندھ کے تعلیمی اداروں میں کل عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم سندھ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ کل 12 مئی کوتعلیمی اداروں میں شب برات کی چھٹی ہوگی اور اس کا اطلاق تمام سرکاری و نجی اداروں پر ہوگا۔دوسری طرف چیئرمین انٹربورڈ کراچی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انٹر کے امتحانات معمول کے مطابق ہوں گے۔

 

عدنان سمیع بیٹی کے باپ بن گئے

ممبئی(ویب ڈیسک) عدنان سمیع کی اہلیہ نے بیٹی کو جنم دیا ہے جس پر گلوکار خوشی سے نہال ہیں اور انہوں نے یہ خبر اپنے مداحوں پرجوش انداز میں دی۔گلوکار عدنان سمیع کی اہلیہ رویا سمیع نے بیٹی کو جنم دیا ہے جس پر گلوکار اور ان کی اہلیہ خوشی سے نہال ہیں۔ رویا سمیع نے ممبئی کے مقامی اسپتال میں بیٹی کو جنم دیا جس کی اطلاع عدنان سمیع نے خود سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کے ذریعے دیتے ہوئے بتایا کہ ماں اور بیٹی دونوں صحت مند ہیں۔

”پنشن میں حیران کن اضافہ“

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)نئے وفاقی بجٹ میں پرانے اور نئے پنشنروں کی پنشن میں تقریبا 20 فیصد اضافہ کئے جانے کا امکان ہے جبکہ سول و فوجی ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد کے لگ بھگ اضافے کی تجویز ہے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار 26 مئی کو وفاقی بجٹ تقریر میں نان فائیلرز آف ٹیکس ریٹرن پر ود ہو لڈ نگ ٹیکس ریٹ بڑھانے کا اعلان کریں گے بینکوں کی ٹرانزکشن سمیت مختلف کیٹیگریوں پر نان فائیلرز سے ودہولڈنگ ٹیکس مختلف شرحوں سے لیا جارہا ہے نان فائیلرز (جو سالانہ ٹیکس گوشوارے فائل نہیں کرتے) پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز کی منظوری وزیر خزانہ وزیراعظم پاکستان سے لیں گے یہ بجٹ تجویز ہوگی قومی اسمبلی نے فنانس بل 2017 میں شامل کی گئی اس تجویز کی منظوری دی تو ایف بی آر ریونیو میں 20 سے 50 ارب روپے کا اضافہ ہوجانے کا امکان ہے اس کے نتیجے میں سالانہ آمدن ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 15 لاکھ کے لگ بھگ ہوجائے گی اور ملکی معیشت دستاویزی کرنے کا حکومتی پلان کامیابی سے آگے بڑھے گا۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) نے 2006 اور 2007 میں پرانے پنشنروں کی پنشن میں 20 فیصد اور نئے پنشنروں کی پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا زرداری دور میں ہر سال پرانے پنشنروں کی پنشن میں 20 فیصد اور نئے پنشنروں کی پنشن میں اوسطا 15 فیصد سالانہ اضافہ کیا گیا لیکن مسلم لیگ(ن)نے 2013 اور 2014 میں نئے پرانے پنشنروں کی پنشن میں دس دس فیصد اضافہ کیا ۔

آزاد کشمیر میں ٹیکس چوری شدہ سگریٹ تیار کرنے کا انکشاف

ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کاآزاد کشمیر میں تیار کردہ ٹیکس چوری شدہ سگریٹوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ

اسلام آباد ۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذیلی شعبے ان لینڈ ریوینیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کی جانب سے آزاد کشمیر میں ٹیکس چوری شدہ سگریٹوں کی بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب ان لینڈ ریوینیو انفورسمنٹ نیٹ ورک ، فیڈرل بورڈ آف ریوینو کے حکام نے آزاد کشمیر میں تیار کردہ سگریٹوں کے ٹرک کو روکا جس میں بغیر ٹیکس ادا کیے جانے والے غیر قانونی سگریٹوں کی بھاری تعداد موجود تھی۔ ذرائع کے مطابق آزاد جموں کشمیر میں قائم سگریٹس فیکٹریوں کی جانب سے بڑی تعداد میں کم قیمت والے ٹیکس چوری شدہ سگریٹس پاکستان میں بھیجے جا رہے ہیں جس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں یہ غیر قانونی سگریٹس سستے داموں کھلم کھلا فروخت ہو رہے ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اس سنگین معاملے کو فوری طور پر آزاد جموں کشمیر ٹیکس اتھاریٹیزکے سامنے اٹھایا گیا ہے تا کہ اس غیر قانونی پیداوار کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے ۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے فروخت ہونے والے ہر سگریٹ پیک کی کم از کم قیمت فکس کی گئی ہے اور اس طے کردہ قیمت سے کم پر سگریٹ فروخت کرنا غیر قانونی ہوتا ہے۔ انفورسمنٹ نیٹ ورک کے حکام کے مطابق ان کے پاس واضع ثبوت موجود ہیں جن کے مطابق ان سگریٹس کے پیکٹوں کو ضروری ٹیکسوں سے بھی کم قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان سگریٹس کی تیاری اور فروخت میں ٹیکس چوری کیا جا رہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ کہ ضروری ٹیکسز کا اطلاق پاکستان اور آزاد جموں کشمیر میں یکساں طور پر ہوتا ہے۔لیکن آزاد کشمیر میں تیار کردہ سگریٹوں کو پاکستان کی مارکیٹ میں کم از کم قیمت سے بھی کم پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر سے پاکستان آنے والے سگریٹ ٹرکوں کو آزاد کشمیر کے ٹیکس حکام بھی چیک نہیں کر رہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو، ان لینڈ ریوینیو انفورسمنٹ نیٹ ورک کے اعلی حکام کی جانب سے آزاد کشمیر ٹیکس اتھارٹی کو یہ پیشکش بھی کی گئی ہے کہ وہ اپنا نمائندہ یا ٹیم بنا دیں جس کوپاکستانی حکام کی جانب مکمل تعاو ن حاصل ہوگا تاکہ وہ لاہور، راولپنڈی کے درمیان کسی بھی ایریا میں چیک کریں اور دیکھیں کہ کس طرح آزاد کشمیر میں بنائے جانے والے کم قیمت سیگریٹس فروخت کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکام کی جانب سے آزاد کشمیر کونسل اور متعلقہ ٹیکس حکام کے ساتھ میٹنگ میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام سگریٹ ساز اداروں کا مکمل ریکارڈ بشمول ایجنٹس، ڈسٹریبیوٹرز، ہول سیلرز، ادا کردہ ٹیکس کا ریکارڈ فراہم کیا جاہے۔ تاکہ آزاد کشمیر اور پاکستان دونوں کے ٹیکس ریونیو کو بڑھایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں ایک غیر سرکاری تھنک ٹینک کی جانب سے کی گئی تحقیق کے مطابق غیر قانونی سیگریٹس کی وجہ سے ایف بی آر کو سالانہ 40 ارب سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس کا حال ہی میں ہونے والے اجلاس میں بھی حکام کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ غیر قانونی سیگریٹس کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں ۔ُپاکستان میں غیر قانونی سگریٹس کی تجارت میں دن بدن اضافی دیکھنے میں آ رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق مارکیت میں فروخت ہونے والے ہر پانچ میں سے دوسیگریٹس غیر قانونی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستانی کی معیشت کو گزشتہ پانچ سالوں کے عرصہ میں غیر قانونی سگریتس کی تجارے کے باعث تقریبا سو ارب روپے سے زائد کا نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ڈان لیکس فیصلہ, اپوزیشن مایوس, حکومت کی بالادستی تسلیم

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)10مئی پاکستان کی سول ملٹری تعلقات کی تاریخ میں ایک یادگار دن کے طور پر یاد رکھا جائیگا، فوج نے سویلیں حکومت کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کیلئے ایک قدم پیچھے ہٹایا اور آئین کی مکمل پاسداری کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ کسی تنازعہ میں نہ پڑنے کی پالیسی کی واضح جھلک ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس میں بھی دکھائی دے رہی تھی جب ایک خاتون صحافی نے بار بار ان سے پوچھا گیا کہ مریم نواز کا نام ذمہ داروں کی فہرست میں کیوں شامل نہیں؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے وقت لیکر اور خوب سوچ سمجھ کر جوابدیا کہ کورٹ آف انکوائری نے تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے نام اپنی رپورٹ میں دئیے جن کے خلاف کارروائی کی وزیر اعظم نے منظوری دی اور وزیر اعظم ہی فائنل اتھارٹی ہیں۔ خاتون صحافی کی تشفی نہ ہوئی تو انہوں نے زور دیکر کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مریم نواز کا نام نہیں تو ڈی جی نے پھر جواب دہرایا اور یہ نام زبان پر نہیں آنے دیا۔ وہ اس کوشش میں کامیاب رہے کہ انکے کسی لفظ ، جملے اور تاثر کو ، ٹویٹ واپس لینے کے فیصلہ کے منافی استعمال نہ کیا جا سکے۔ دوران گفتگو جہاں بھی انہیں ذمہ داروں کے نام لینے پڑے ، انہوں حفظ مراتب کا پورا لحاظ کرتے ہوئے ہر نام کے ساتھ صاحب کا لفظ استعمال کیا۔ ڈان لیکس تنازع ختم ہونے پر تبصروں کی بھرمار میں ایک بنیادی حقیقت فراموش کی جا رہی ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سیاسی اور جمہوری عمل کے خلاف کوئی مہم جوئی نہیں کرنا چاہتے۔ ایک جیسی مستند اطلاعات کے مطابق اپنے پرانے کلاس فیلوز اور ریٹائرڈ ہونے والے عسکری رفقا کے ساتھ سماجی ملاقاتوں کے دوران فوجی مداخلت کی باتیں کرنے والوں کو جنرل باجوہ مزید گفتگو سے روک کر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ بتائیے پہلے کتنی بار فوج آ چکی ہے، اس کے نتیجہ میں کیا تبدیلی آئی؟ آرمی چیف رسمی اور غیر رسمی تمام روابط کے دوران سیاسی اور جمہوری عمل کے ساتھ اپنی وابستگی کا واضح انداز میں ذکر کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آرمی چیف کے اس جمہوریت نواز طرز عمل کو سراہتے ہوئے ٹویٹ واپس لینے کو کسی بھی سطح پر فتح یا شکست کا موضوع نہ بنایا جائے۔ اخبارات اور ٹیلیویژن پر بزعم خود فوج کے نمائندے بن کر غلط فہمیوں کو بڑھانے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی خاص ضرورت ہے۔ ٹویٹ کی افادیت تو بجا کہ یہ پیغام رسانی کا تیز ذریعہ ہے لیکن کیا ٹویٹر کو فوری نوعیت کی سرکاری پیغام رسانی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ امید ہے کہ طرفین اس پہلو پر توجہ دیں گے۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ اور مستحکم جمہوریت معاشرے میں اگر صدر امریکہ کے ٹویٹ طوفان برپا کر سکتے ہیں تو پاکسان کی لرزاں و پریشان جمہوریت ٹویٹس کے جھٹکے قظعی برداشت نہیں کر سکتی۔
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) وفاقی حکومت اور فوج کے درمیان نیوز لیکس کی انکوائری رپورٹ کی اشاعت پر پیدا ہونے والا تنازع ڈرامائی انداز میں ختم ہونے سے جہاں سول و جمہوری حکومت کی بالادستی کو تسلیم کر لیا گیا ہے وہاں کسی کی جیت یا ہار نہیں ہوئی بلکہ جمہوریت مستحکم ہوئی ہے۔ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والا نوٹیفکیشن 29 اپریل کو وزیراعظم کے ڈائریکٹو سے زیادہ مختلف نہیں صرف وزیراعظم کے خصوصی معاون سید طارق فاطمی سے عہدہ واپس لینے کی بجائے ہٹانے کا لفظ شامل کیا گیا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ ہفتے کے دوران حکومت اور فوج کے درمیان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے ٹویٹ کی واپسی کے حوالے سے کوئی پیشرفت نہیں ہو رہی تھی۔ بدھ کو وزیراعظم اور آرمی چیف کی ہنگامی ملاقات کے بعد فوج کے ٹویٹ واپس لینے پر آمادگی کا اظہار کر دینے سے وزارت داخلہ نے بھی دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ نے حکومت اور فوج کے درمیان فاصلے کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے تاہم منگل کو مسلم لیگی رہنما کے اجلاس میں ہارڈ لائن اختیار کرنے کا فیصلہ ہوا۔ وفاقی حکومت کا پیرا 13 کے مطابق نوٹیفکیشن جاری ہوا ہے۔ انکوائری رپورٹ میں کہیں مریم نواز کا ذکر ہے اور نہ ہی اس کے علاوہ کوئی سفارش کی گئی۔ انکوائری رپورٹ میں خبر کی اشاعت کا کسی کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی حلقوں میں فوج کے ترجمان کی طرف سے کی گئی پریس کانفرنس ٹویٹ واپس لینے جمہوری نظام کے ساتھ کھڑا ہونے کے عزم کے اظہار پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور نیوز لیکس پر مکمل انکوائری رپورٹ کی اشاعت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے اسے فوج کی شکست قرار دے کر حکومت اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے وفاقی وزرا کو اپوزیشن کی جانب سے حکومت اور فوج کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کرنے کی کوشش کو ناکام بنانے کا ٹاسک دیدیا ہے۔