سول اور فوجی قیادت میں تصادم کا خطرہ, بڑی خبر آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستانی سول حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان ڈان اخبار کی خبر کے تناظر میں پیدا ہونے والے تنازعے کو حل کرنے کے لیے فوج کی جانب سے پیش قدمی نے سول اور فوجی قیادت کے درمیان تصادم کے خطرے کو فی الحال ٹال دیا ہے۔منگل کے روز وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی زیر صدارت کابینہ کے اہم ارکان کے ساتھ غیر رسمی اجلاس کے بعد بعض صحافیوں کو ‘سرکاری ذرائع’ نے بتایا تھا کہ وزیر اعظم نے فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے 29 اپریل کو ‘ٹویٹ’ کے ذریعے ان کے اسی دن جاری ہونے والے حکم نامے کو مسترد کرنے پر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا تھا کہ آئی ایس پی آر نے ناشائستہ جلد بازی میں یہ ٹویٹ کیا جو ناقابل قبول ہے۔ وزیراعظم کی موجودگی میں اس اجلاس کے شرکا نے، انہی سرکاری ذرائع کے مطابق سویلین بالا دستی پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔یہ خبر آج کے بعض اخبارات میں شہ سرخی کے طور پر شائع ہوئی تو ملکی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں نے اسے فوج اور حکومت کے درمیان تنازعے میں ایک نئی شدت سے تعبیر کرتے ہوئے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ بعض تجزیہ کاروں کی تو یہ رائے بھی سامنے آئی کہ وزیر اعظم نواز شریف فوجی سربراہ کے ساتھ براہ راست تصادم کے رستے پر چل پڑے ہیں کیونکہ اس بات میں کسی کو شک نہیں ہے کہ آئی ایس پی آر کے اعلان فوجی سربراہ کی رائے کا اظہار ہی ہوتے ہیں۔تاہم اس خبر کی اشاعت کے چند گھنٹے بعد فوجی ترجمان کی جانب سے اپنی ٹوئٹ کو واپس لینے کے اعلان نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ فوجی قیادت نے وزیر اعظم نواز شریف کے اس بلواسطہ پیغام کو، جس کے لیے میڈیا کا سہارا لیا گیا، مثبت انداز میں لیا اور اس پر تنازعے کو مزید ابھارنے کے بجائے پسپائی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔اس صورت میں جبکہ وزیر اعظم یا حکومت کی طرف سے ڈان لیکس کے بارے میں کوئی نیا نوٹیفیکش جاری نہیں کیا گیا فوجی ترجمان کا یہ کہنا کہ وزیر اعظم کی جانب سے ڈان لیکس کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی سفارشات پر عمل کر دیا گیا ہے، ان کے اپنے پہلے بیان سے مکمل پسپائی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔کیونکہ میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے بدھ کے روز جاری کیے گئے بیان کے بعد وزارت داخلہ نے جو ایک صفحہ میڈیا کو جاری کیا اس میں کسی نئے حکم یا اقدام کا ذکر نہیں ہے۔فوجی ترجمان کی جانب سے اپنی 29 اپریل کی ٹویٹ واپس لینے کے لیے جو بیان جاری کیا گیا ہے اس میں ملک میں آئین اور جمہوریت کی حمایت کے لیے فوج کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔اس عزم کا اظہار بتاتا ہے کہ فوج کی جانب سے اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے جو پیش قدمی بدھ کے روز دکھائی ہے اس کے پیچھے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے اس بیان کا بھی کردار ہے جس میں انھوں نے آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کو جمہوریت کے لیے زہر قاتل قرار دیا تھا۔ یہ بات حتمی طور پر کہی نہیں جا سکتی کیونکہ ڈان لیکس وہ واحد معاملہ نہیں ہے جس پر فوج اور سول قیادت کے درمیان اختلافات ہیں۔ نواز شریف نے حال ہی میں بھارتی تاجر سجن جندل سے ملاقات کی ہے جسے فوجی حلقوں میں پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا۔ اسی طرح فوج کرپشن اور گورننس کے معاملات پر بھی فوج کی جانب سے رائے زنی کی جاتی رہی ہے جس پر وزیر اعظم کے قریبی حلقے نا پسندیدگی کا اظہار کر چکے ہیں۔

کیرئیر میں بنائے گئے کارناموں پر فخر ہے

ڈومینیکا (آن لائن)قومی ٹیم کے سینئر بلے باز یونس خان کا کہنا ہے کہ انہیں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر منٹ لینے کا کوئی افسوس نہیں ہے کیوں کہ وہ اپنے کیریئر میں وہ سب کچھ حاصل کرچکے ہیں جو ان سے پہلے کئی پاکستانی بلے بازحاصل نہیں کرسکے تھے۔ ڈومینیکا میں ویسٹ انڈیز کیخلا ف اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آخری میچ کھیلنے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یونس خان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کو کوئی خوف نہیں ہے کہ کرکٹ چھوڑنے کے بعد انہیں کروڑوں روپے نہیں ملیں گے،انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ اپن پسندیدہ کھیل کو روتے ہوئے نہیں بلکہ عزت سے چھوڑ کر جا رہے ہیںاور اسی لیے آخری ٹیسٹ کھیلتے ہوئے بہت خوش اور مطمئن ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں اچھے برے دن دیکھ رکھے ہیں ،2009 ءمیں بحیثیت کپتان آئی سی سی ورلڈ ٹی 20ٹرافی اٹھاناان کی زندگی کا یاد گار دن تھا۔

بھارت کو تحریری جواب کیلئے 1دن کی مہلت

کراچی(نیوزایجنسیاں)پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان نے کہا ہے کہ بھارت نے ہمارے لیگل نوٹس کا ابھی تک تحریری جواب نہیں دیا اگر کل تک جواب نہ ملا تو آئی سی سی کی مصالحتی کمیٹی کے سامنے معاملہ پیش کریں گے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ باہمی سیریز کے حوالے سے ایم او یو ایک قانونی دستاویز ہے اورابھی تک بھارت نے ہمارے لیگل نوٹس کا تحریری جواب نہیں دیا اگر کل تک جواب نہ ملا تو آئی سی سی کی مصالحتی کمیٹی کے سامنے معاملہ پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیم 2 مرتبہ بنگلا دیش کا دورہ کر چکی ہے اب انہیں پاکستان آ کر کھیلنا چاہیے، ان کی میزبانی کرنا ہمارا حق ہے، بنگلا دیشی بورڈ ابھی اس پر آمادہ نہیں ہوا، ہم نے تحریری طور پر ان سے کہا ہے کہ ہم سے اس معاملے پر بیٹھ کر بات کریں۔چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ جون میں آئی سی سی کے سالانہ اجلاس میں بگ تھری کا عملی طور پر خاتمہ ہو جائے گا، ہم بھی یہ چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ جلد ختم ہو لیکن بھارت اور سری لنکا بگ تھری ختم کرنے کے فیصلے کےخلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

خالد لطیف کا کرپشن کیس میں بچنا مشکل

لاہور( سپورٹس رپورٹر ) پاکستان کرکٹ بورڈ نے مبینہ سپاٹ فکسنگ میں معطل کرکٹر خالد لطیف کے جواب میں ٹربیونل کے رو برو اپنا موقف پیش کر دیا جبکہ معطل کرکٹر شرجیل خان نے بھی اپنا جواب ٹربیونل کو جمع کرا دیا ہے جس میں اینٹی کرپشن یونٹ کی تحقیقات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں،بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا ہے کہ مزید شواہد جمع کرا دئیے ہیںاب کرکٹر زکا بچنابہت مشکل ہے،پی سی بی کی جانب سے کسی کھلاڑی پر دبا ﺅنہیں،کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہو گا اور ٹربیونل ہی سزا تجویز کرے گا۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ سیزن IIمیں مبینہ سپاٹ فکسنگ کے الزام میں معطل کرکٹر خالد لطیف کے خلاف مزید شواہد ٹربیونل کے رو بروپیش کئے ۔پی سی بی کوڈ آف کنڈکٹ کی 6 شقوں کی خلاف ورزی کرنے پر معطل کرکٹر شرجیل خان نے خود پر لگے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے نہ صرف اے سی یو کی تحقیقات پر سوالات اٹھائے دیئے بلکہ آئین پاکستان سے متصادم شقوں پر بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ شرجیل خان کے وکیل شیگان اعجاز کے مطابق ٹربیونل میں جمع کرائے گئے جواب میں تین سابق کرکٹرز محمد یوسف، ڈین جونز اور صادق محمد کے بیانات بھی بطور مبصر شامل کیے گئے ہیں۔اسپاٹ فکسنگ کیس میں پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی نے شرجیل خان کے جواب کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معطل کرکٹر نے خالد لطیف کے ہمراہ بکی سے ملاقات کا اعتراف کرلیا ہے۔ شرجیل خان کے جواب پر پی سی بی ٹربیونل اپنا جواب 13 مئی کو جمع کرائے گا جس کے بعد 15 مئی کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا آغاز ہوگا۔بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خالد لطیف کے پاس بے گناہی ثابت کرنے کے لئے کوئی شواہد موجود نہیں۔سپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کیخلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ دونوں کرکٹرز کی فون پر گفتگو اور پیغامات کے واضح ریکارڈ موجود ہیں جو ان کیخلاف ایکشن لینے میں ٹربیونل کی بھرپور معاونت کر سکتے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ دونوں کرکٹرز ٹربیونل کو بیوقوف بنانے، قانون کا غلط انداز میں سہارا لے کر اپنے جرم کو چھپانے اور ٹربیونل کو راہ سے بھٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دونوں کرکٹرز کے وکلا غلط کہتے ہیں کہ بورڈ کے پاس ان کرکٹرز کیخلاف کوئی ثبوت نہیں حالانکہ ان کے پاس اتنے واضح ثبوت موجود ہیں جو انہیں مجرم قرار دینے کیلئے کافی ہیں۔تفضل رضوی کا کہنا تھا خالد لطیف نے اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ وہ بکی سے نہیں ملے بلکہ بکی ان سے خود آکر ملا تھا اور اگر ایسا بھی ہوا تو کرکٹر نے بورڈ کو اطلاع کیوں نہیں دی؟ یہ قانون کے مطابق جرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی کی جانب سے کسی کھلاڑی پر دبا ﺅنہیں،کیس کا فیصلہ میرٹ پر ہو گا اور ٹربیونل ہی سزا تجویز کرے گا۔علاوہ ازیںآل راﺅنڈر محمد نواز آج جمعرات کے روز پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے رو برو پیش ہوں گے ۔ پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اس وقت دلچسپ صورتحال اختیار کر لے گا جب ناصر جمشید لندن سے اپنا ویڈیو بیان ریکارڈ کرائیں گے۔واضح رہے کہ اسپاٹ فکسنگ کیس میں فاسٹ بولر محمد عرفان کو الزامات تسلیم کرنے پر جرمانہ اور معطلی کی سزا ہو چکی ہے، شرجیل خان، خالد لطیف اور شاہ زیب حسن نے پی بی بی اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو ماننے سے انکار کیا تھا جس کے بعد ایک خصوصی ٹربیونل قائم کرتے ہوئے ان کا کیس اس کے حوالے کر دیا گیا تھا جب کہ پی سی بی کی جانب سے اسپاٹ فکسنگ کے مرکزی کردار قرار دیے جانے والے ناصر جمشید کو انگلینڈ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے ضمانت پر رہا کرتے ہوئے ان کا پاسپورٹ تحویل میں لے لیا تھا۔

بڑے تحمل سے کام لیا, آخری وارننگ, ن لیگی رہنماءکی عدالت میں معافی چیف جسٹس نے خبردار کردیا

اسلام آباد (کرائم رپورٹر)سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف نااہلی کیس کی سماعت ہوئی اور چیف جسٹس نے ن لیگی رہنماں حنیف عباسی اور دانیال عزیز پر روسٹرم پر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ حنیف عباسی اور دانیا ل عزیز صاحب بتائیں کے آپ کے ساتھ کیا امتیازی سلوک ہوا ہے،آپ نے میڈیا پر کہا کہ عدالت نے امتیازی سلو ک کیا ہے،آپ نے کس کیس کے بارے میں کہا؟ جس کے جواب میں دانیال عزیز نے کہا کہ صرف الیکشن کمیشن میں زیر سماعت مقدمات پر بات کی۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آخری وارننگ دے رہا ہوں،ایسی کسی بات کو برداشت نہیں کریں گے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ن لیگ کے رہنما حنیف عباسی اور دانیال عزیز کے میڈیا میں امتیازی سلوک کے بیان پر شدید اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بتائیں کہ آپ کے ساتھ کونسا امتیازی سلوک ہوا ہے۔جسٹس ثاقب نثار نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسی کسی بھی بات کو برداشت نہیں کریں گے،اداروں پر اعتماد کریں اورانہیں مضبوط کریں،اداروں پر بداعتمادی کی جو بیماری ہے اس کو دور کریں اور عدالت کی توہین کسی بھی صورت برداشت نہیں کریں گے اور آئندہ اگر ضروری ہوا تو میڈیا ٹاک پر مکمل پابندی لگا دیں گے۔کمرہ عدالت میں دانیال عزیز نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے انہیں بولنے سے روک دیا جبکہ اکرم شیخ نے بھی دانیال عزیز کو بولنے سے روک دیا چیف جسٹس سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا۔بعدازاں دانیال عزیز نے کمرہ عدالت میں اپنے بیان پر معذرت بھی کی۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کے روبرو یقین دہانی کرائی کہ عدالتی حکم پر من و عن عمل کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اداروں سے متعلق لوگوں میں اعتماد پیدا کریں، یہ آپ کے ادارے ہیں، ان کو مضبوط کریں اور بے اعتباری اوربے اعتمادی کی بیماری کو ختم کریں، آپ کی آزادی اظہار رائے کیا ہے اس کی تشریح ہمیں کرنی ہے۔ ہم بہت تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن اب آخری بارکہہ رہے ہیں کہ عدالتوں کی تضحیک نہ کریں، دوسری صورت میں ہم اس کیس پر بات کرنے سے روک دیں گے۔کیس کی سماعت کا باقاعدہ آغاز ہوا تو تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے حنیف عباسی کی درخواست کے قابل سماعت ہونے پراعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے 2013 کے عام انتخابات میں حنیف عباسی کو بھاری مارجن سے ہرایا حنیف عباسی نے تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ لینے والی جماعت قرار دینے کی استدعا کی ہے ، غیر ملکی فنڈنگ لینے والی جماعت پر پابندی عائد ہوتی ہے ، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اکرم شیخ پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے واضح کہ چکے کہ وہ پابندی نہیں چاہتے ۔انور منصور نے غیر ملکی شہریوں سے فنڈ وصول کرنے کے معاملے پر اپنے دلائل میں کہا کہ فنڈ، ایڈ اور کنٹری بیوشن میں فرق ہے، آئین کا سیکشن 6 امداد لینے کی اجازت دیتا ہے، قانون میں افراد سے فنڈز دینے کی اجازت ہے لیکن کسی غیر ملکی سے فنڈنگ لینے کا ذکر نہیں، اس لیے غیر ملکی بھی افراد ہی کے زمرے میں آتے ہیں۔ جسٹس عمرعطائ بندیال نے استفسار کیا کہ اکرم شیخ نے دلائل میں کہا کہ غیر ملکی کے فنڈ دینے پر پابندی ہے اور آپ نے اپنے جواب میں فنڈ دینے والوں کی دوہری شہریت کو تسلیم کیا ہے۔ جس پر انور منصور نے کہا کہ پاکستان کا کئی ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کامعاہدہ ہے۔ کوئی بھی شخص بیک وقت پاکستانی اور امریکی شہریت رکھ سکتا ہے۔انور منصور کی دلیل پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا یہ قانون اب بھی رائج ہے، جس پر انور منصور نے بتایا کہ 2002 سے پہلے امریکی نژاد پاکستانیوں کو پاکستانی پاسپورٹ نہیں دیا جاتا تھا۔ 2002 کے بعد یہ معاملات طے پاگئے کہ اب دونوں پاسپورٹس رکھے جاسکتے ہیں۔ تحریک انصاف دوہری شہریت کے حامل افراد سے فنڈز لیتی ہے، جس کی تمام تفصیلات الیکشن کمیشن کو دی گئی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سیاسی جماعت کی تشکیل بنیادی حقوق میں آتی ہے، کیا سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کا کوئی قانون موجود ہے اس پر انور منصور نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے لئے انٹرا پارٹی الیکشن ضروری ہیں، اس کے علاوہ پارٹی کے اکاو¿نٹس کی تفصیلات فراہم کرنا بھی ضروری ہے،سیاسی جماعتوں کا آڈٹ چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹ کرتے ہیں، اکاو¿نٹس کی تفصیلات الیکشن کمیشن کوفراہم کی جاتی ہیں،الیکشن کمیشن تمام تفصیلات کاجائزہ لیتا ہے، جس کے بعد سیاسی جماعت کو انتخابی نشان الاٹ کیا جاتا ہے اس پر جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے اکاو¿نٹس کا آڈٹ نہیں ہو سکتا،اس پر انور منصور نے کہا کہ وہ آڈٹ کی تفصیلات عدالت میں جمع کروا چکے ہیں اور ہماراموقف ہے اکاو¿نٹس کی منظوری کے بعد دوبارہ کیس نہیں کھل سکتا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کی دستاویز الیکشن کمیشن میں کیس آنے کے بعد کی ہیں، کیس سے پہلے کی بھی دستاویزات ہیں تو وہ دکھائیں اور اگر چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹ بیرونی فنڈنگ والا نکتہ چھوڑ دیں تو پھر کیا ہوگا جس پر انور منصور نے کہا کہ تمام ذمہ داری چارٹرڈ اکاو¿نٹنٹ کی بنتی ہے اور پی ٹی آئی کی جانب سے فنڈنگ کی پالیسی 2011 میں تیار کی گئی تھی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ الزام یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے امریکا میں کمپنی بنا کر فنڈ ریزنگ کی، جس پر انور منصور نے کہا کہ ایل ایل سی کمپنی تحریک انصاف کے لئے فنڈز لیتی ہے اور اس کی حیثیت ایک ایجنٹ جیسی ہے۔ تحریک انصاف ایل ایل سی امریکا میں پارٹی کی تنظیم سازی اور پارٹی کے موقف سے امریکا میں پاکستانیوں کو آگاہ کرتی ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت آپ کے دلائل سے اب تک مطمئن نہیں ہوئی۔ فنڈ دینے والوں میں کچھ دوسرے لوگ بھی ہیں، درخواست گزار نے غیرملکیوں کے فنڈز کی تفصیل بھی دی ہے، قانون کے حوالے سے فارن نیشنل اوردوہری شہریت میں کیافرق ہے۔ جس پر انور منصور نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پانچ سے چھ ہزار ڈالر ہوں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں لکھا ہے کہ فنڈز کاکچھ بھی ممنوع ذرائع سے نہ ہو۔ انور منصور نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن میرے موقف کو درست تسلیم کرکے انتخابی نشان الاٹ کرچکا، یہ فیصلہ کرنا حکومت کااختیار ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم نے فیصلہ دیا تو عدالت نے وفاقی حکومت کا اختیار غصب کیا، پہلے بھی ایک ایسے ہی معاملے میں جے آئی ٹی تشکیل دے چکے ہیں ، بتائیں فارن فنڈنگ کامعاملہ کس فورم پراٹھایا جاسکتا ہے، اگر پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ پارٹی کہہ دیاتو الیکشن کمیشن میں زیرالتوائ مقدمے کا کیا ہوگا، کیاانتخابی نشان الاٹ ہونے کے بعد مصدقہ معلومات پر ایشو زندہ نہیں ہوگا۔ عدالتی وقت ختم ہونے کے باعث عدالت عظمیٰ نے کیس کی مزید سماعت آٓج(جمعرات) تک ملتوی کردی ۔

پنجاب کابینہ کا اجلاس, بڑا منصوبہ لگانے کی منظوری

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی زےر صدارت صوبائی کابےنہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،اجلاس مےں پنجاب کابےنہ نے صوبے مےں 1200مےگاواٹ کا نےا گےس پاورپلانٹ کامنصوبہ لگانے کی منظوری دی۔اجلاس مےںپنجاب کے 6 بڑے شہروں مےں سےف سٹی پراجےکٹس کے قےام کی منظوری دی گئی۔سےف سٹی کے منصوبے ملتان ،بہاولپور ،فےصل آباد ، راولپنڈی ،گوجرانوالہ اورسرگودھا مےں لگائے جائےں گے اوران منصوبوں پر مرحلہ وار عملدر آمد ہوگا اور بعد مےںساہےوال مےں بھی سےف سٹی پراجےکٹ لگاےا جائے گا۔ صوبائی کابےنہ نے محکمہ زراعت، حکومت پنجاب اور اخوت کے مابےن چھوٹے اور بے زمےن کاشتکاروںکو بلاسود قرضے دےنے کے معاہدے کی منظوری دی ۔معاہدے کے تحت اخوت تنظےم چھوٹے اوربے زمےن کاشتکاروںمےں بلاسود قرضے تقسےم کرے گی اور پنجاب حکومت اس ضمن مےں2ارب روپے سے رےوالونگ فنڈقائم کرے گی۔ اجلاس مےں پنجاب ای سٹامپ رولز2016ءمےں ترامےم،پنجاب سےلز ٹےکس آن سروسز( ترمےمی )آرڈےننس 2016ء،فورٹ منرو ڈوےلپمنٹ اےکٹ 2016ءمےں ترمےم اورپےڈااےکٹ 2006ءمےں ترمےم کی منظوری دی گئی۔اجلاس مےںپنجاب مےنٹل ہےلتھ آرڈےننس 2001ءکے تحت پنجاب مےنٹل ہےلتھ اتھارٹی کے قےام کی منظوری دی گئی۔اجلاس میں کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے 22سے 27 اجلاسوں کی کارروائی کے منٹس کی بھی منظوری دی گئی-صوبائی کابےنہ نے وفاق سے نےٹ ہائےڈل پرافٹ کے بقےہ جات کے حصول پر وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی کاوشوں کی تعرےف کی جبکہ توانائی منصوبوں کی تےزرفتاری سے تکمےل کےلئے وزےراعظم محمد نوازشرےف اور وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی کاوشوں کو زبردست خراج تحسےن پےش کےاگےا۔ پےڈا اےکٹ 2006مےں ترمےم کی منظوری کے بعدانکوائری کو 90روزکی بجائے 60روزمےں فائنل کرنا ہوگاجبکہ رےٹائرڈ ملازم کو اپےل کا دےاگےا ہے۔وزےراعلیٰ محمد شہبازشرےف نے صوبائی کابےنہ کے اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے خود1200 مےگاواٹ کا نےا گےس پاور پلانٹ لگانے کا فےصلہ کےا ہے اورےہ منصوبہ ملک کی ضرورےات اور مستقبل مےں توانائی کے چےلنجز کو سامنے رکھ کربناےا گےا ہے ۔ گےس سے بجلی پےدا کرنے کامنصوبہ لگانے کےلئے جنوبی پنجاب کے اضلاع رحےم ےار خان ےا مظفرگڑھ کے قرےب کسی اےک جگہ کا انتخاب کےا جائے گااورتوانائی کے اس منصوبے کو بھی دےگر منصوبوں کی طرح دن رات کام کر کے پاےہ تکمےل تک پہنچاےاجائے گااورےہ منصوبہ پاکستان خصوصاًپنجاب کی ترقی اورعوام کی خوشحالی کا باعث بنے گا۔ گےس پاور پراجےکٹ سے حاصل ہونےوالی بجلی ماحول دوست اورسستی ہوگی۔ انہوںنے کہا کہ توانائی کے منصوبے ملک کی تےزرفتاری ترقی اورخوشحالی کے ضامن ہےں،اس لئے وزےراعظم نوازشرےف کی قےادت مےں پاکستان مسلم لےگ(ن) کی حکومت نے توانائی منصوبوں کی تےزرفتاری سے تکمےل کےلئے دن رات اےک کررکھا ہے اورکئی اےک منصوبے تکمےل کے آخری مراحل مےں ہےں۔ انہوںنے کہا کہ 1180مےگاواٹ بھکی گےس پاور پلانٹ سے 717مےگاواٹ بجلی نےشنل گرڈ مےں شامل ہورہی ہے جبکہ اس پاور پلانٹ سے 400مےگاواٹ مزےد بجلی نومبر،دسمبر مےں حاصل ہو گی،اسی طرح1320 مےگاواٹ کا ساہےوال کول پاور پراجےکٹ پہلے مرحلے مےں 20مئی سے بجلی کی پےداوار شروع کردے گااورپہلے مرحلے مےں ےہ منصوبہ 660مےگاواٹ بجلی نےشنل گرڈ کو دے گا،اس منصوبے کا دوسرا مرحلہ جون کے آخر مےں مکمل ہوگا۔ساہےوال کول پاورپراجےکٹ تےزرفتاری سے منصوبہ مکمل ہونے کے حوالے سے نہ صرف دنےا بلکہ چےن کا بھی رےکارڈتوڑ دے گا۔حوےلی بہادر شاہ گےس پاور پلانٹ کی پہلی ٹربائن بھی اسی ماہ بجلی کی پےداوار شروع کردے گی جبکہ بلوکی گےس پاورپراجےکٹ پر بھی کام جاری ہے ۔ انہوںنے کہا کہ 2017ءکے اختتام پر5500 مےگاواٹ نئی بجلی سسٹم مےں آجائے گی جبکہ مارچ2018ءتک 9ہزار مےگاواٹ تک بجلی نےشنل گرڈ مےں شامل ہوگی۔انہوںنے کہاکہ توانائی منصوبوں کی تےزرفتاری سے تکمےل کا کرےڈٹ وزےراعظم محمد نوازشرےف کی شبانہ روزکی کاوشوں کو جاتا ہے۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ لاہور کے بعد پنجاب کے دےگر 6بڑے شہروں مےں سےف سٹی پراجےکٹ کا آغازکےاجارہا ہے اوران سےف سٹی پراجےکٹس پر کام اگلے چند ماہ مےں شروع ہوجائے گااور ےہ منصوبے 2018ءمےں مکمل ہوں گے۔ پنجاب کابےنہ نے توانائی کے منصوبوں کی جلد تکمیل کے لئے شبانہ روز محنت کرنے پر وزےراعظم محمد نوازشرےف اور وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی کاوشوں کو زبردست انداز میں خراج تحسےن پےش کےا- اجلاس کے شرکاءنے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کی تیزی سے تکمیل پر وزیراعظم محمدنوازشریف کی قیادت میں وزیراعلی محمد شہبازشریف کی ذاتی کاوشوں اورانتھک محنت کی تعریف کی اور کہاکہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں وزیراعلی محمد شہبازشریف جس جذبے اور عزم کے ساتھ توانائی منصوبوں کو رفتار اور معیار کے ساتھ مکمل کررہے ہیں،پاکستان کی 70برس کی تاریخ میں اس کی کوئی مثا ل نہیں ملتی اور آج دنیا وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف کی ویژنری لیڈر شپ کو سراہا رہی ہے-پنجاب کابینہ کے اجلاس میں وفاق سے نےٹ ہائےڈل پرافٹ کے بقےہ جات کے حصول پر وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی کاوشوں کی تعرےف کی- پنجاب کابےنہ نے وزےراعلیٰ شہبازشرےف کی انتھک محنت اور ذاتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ کی ولولہ انگےز قےادت مےں پنجاب ترقی کے سفر پر تےزی سے گامزن ہے اورپنجاب حکومت کو نےٹ ہائےڈل پرافٹ کے بقےہ جات کا ملنا آپ کی ذاتی کاوشوں کی بدولت ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہاہے کہ پےنے کا صاف پانی ایک نعمت اور شہریوں کی بنیادی ضرورت ہے اور پنجاب حکومت نے عوام کو پےنے کے صاف پانی کی فراہمی کا اےک بڑا منصوبہ ترتےب دےا ہے ۔ جنوبی پنجاب کی 37تحصیلوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کا آغاز اسی برس کیا جائے گا-وزیراعلی محمد شہبازشریف نے یہ بات آج یہاں ویڈیولنک کے ذرےعے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی-اجلاس میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے پروگرام کے امورپرپےش رفت کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلی محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا پروگرام مفاد عامہ کا بہت اہم پروگرام ہے اور اس پروگرام کے تحت صوبے کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔

”ترجمان پاک فوج کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا“

لاہور(ویب ڈیسک)پیپلزپارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ نوٹیفکیشن میں انہی افراد کا تذکرہ ہے جنہیں قربانی کابکرا بنایا گیا،کرکٹ اصولوں پر فیصلے سے بہتر تھا آصف غفور مستعفی ہوجاتے۔اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومتی ملاقاتوں کا مقصد مریم نواز کو بچانا ہے، مریم نواز کا سیل خفیہ اجلاسوں کی کاروائی سنتا رہا ہے، مریم اور میڈیا سیل کا نام نہیں لیا گیا انہیں بچالیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نظرآرہا ہے کہ معاملات آپس میں ٹھیک ہو گئے ہیں،وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن میں کوئی نئی بات نہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ نوازشریف خاندان کا اثاثہ مریم نوازہیں حمزہ شہباز نہیں۔

ویسٹ انڈیز کی ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ

ڈومینیکا(ویب ڈیسک ) ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی ہےپاکستان ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں، شاداب خان کی جگہ حسن علی کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے جب کہ احمد شہزاد کی جگہ شان مسعود کو اوپننگ بیٹسمین کے طور پر کھلایا گیا ہے۔ شہزاد طبیعت کی خرابی کی وجہ سے تیسرا میچ نہیں کھیل پائے۔پاکستان کی پلیئنگ الیون میں اظہر علی، شان مسعود، بابر اعظم، یونس خان، کپتان مصباح الحق، اسد شفیق، سرفراز احمد، محمد عامر، یاسر شاہ، محمد عباس اور حسن علی شامل ہیں۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے گزشتہ میچ کے فاتح سکواڈ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ٹیم میں کیرن پاﺅل، کریگ بریتھ ویٹ، شمرون ہیٹمائر، شائی ہوپ، راسٹن چیز، وشال سنگھ، شین ڈاروچ، کپتان جیسن ہولڈر، دویندرا بشو، الزاری جوزف اور شینن گیبریل شامل ہیں

شعیب ملک نے وہ کر دکھا یا جو آج تک کوئی پاکستانی کھلاڑی نہ کر سکا

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شعیب ملک لگاتار چھٹی بار انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) چیمپینز ٹرافی کھیلنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔آئی سی سی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شعیب ملک کے علاوہ دنیا بھر سے صرف 8 کھلاڑی ایسے ہیں جو چھ بار اس ٹورنامنٹ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ، بھارت کے راہول ڈریوڈ، نیوزی لینڈ کے ڈینیل ویٹوری، جنوبی افریقہ کے مارک باوچر اور جیک کیلس اور سری لنکا کے سنتھ جے سوریا، مہیلا جے وردنے اور کمار سنگاکارا شامل ہیں۔اس ٹورنامنٹ کیلئے چھٹی بار پاکستان ٹیم میں شامل کئے جانے پر شعیب ملک نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی چیمپینز ٹرافی جیسے بہترین ٹورنامنٹ کیلئے پاکستانی سکواڈ میں شامل کئے جانے پر میں بہت خوش ہوں۔ 6 بار یہ ٹورنامنٹ کھیلنے والے دیگر کھلاڑیوں کے ناموں کو دیکھتے ہوئے مجھے فخر محسوس ہو رہا ہے، کیونکہ یہ تمام کرکٹ کی تاریخ کے بہترین کھلاڑی ہیںپاکستانی ٹیم کے کاکردگی کے بارے میں سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ایک روزہ ٹیم کے سکواڈ کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنی فارم کو دوبارہ بہتر کرنا ہوگا اور دیگر ٹیموں کے خلاف سخت محنت کرنا ہوگی۔اس ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی سے ہماری عالمی رینکنگ میں بہتری آئے گی اور ہمیں ورلڈ کپ 2019 کے لیے کوالیفائی کرنے میں مدد ملے گی۔دوسری جانب پاکستان کی ایک روزہ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد سکواڈ میں شامل ان نو کھلاڑیوں میں شامل ہیں جو پہلی مرتبہ یہ ٹورنامنٹ کھیل رہے ہیں جبکہ محمد حفیظ تیسری بار اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔۔واضح رہے کہ 35 سالہ شعیب ملک اس سے قبل 2002، 2004، 2006، 2009 اور 2013 میں اس ٹورنامنٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اس ٹورنامنٹ میں کھیلے گئے 15 میچوں میں 10 وکٹیں اور 326 رنز بنا رکھے ہیں۔ انگلینڈ اور ویلز میں کھیلی جانے والے آئی سی سی چیمپینز ٹرافی کا آغاز یکم جون سے ہو رہا ہے جو کہ 18 جون تک جاری رہیں گے جبکہ پاکستان اپنا پہلا میچ روائتی حریف بھارت کے خلاف 4 جون کو کھیلے گا۔

دبئی ،مولانا طارق جمیل بارے اہم خبر

دبئی(ویب ڈیسک) کینیڈین حکام نے معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل کو آف لوڈ کر دیا ، طارق جمیل سابق کپتان شاہد آفریدی کے ساتھ نجی پرواز کے ذریعے ٹورنٹو جا رہے تھے جہاں انہیں شاہد آفریدی فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے ایک چیریٹی ایونٹ میں شرکت کرنا تھی ، مولانا طارق جمیل کے طیارے سے آف لوڈ ہونے کے بعد شاہد آفریدی اکیلے ہی ٹورنٹو روانہ ہوگئے ۔ شاہد آفریدی نے اس حوالے سے بتایا کہ کینیڈین حکام نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے مولانا طارق جمیل کو طیارے سے آف لوڈ کیا ، ان کی سکیورٹی کلیئرنس کیلئے دبئی میں حکام سے مذاکرات جاری ہیں ۔شاہد آفریدی نے ایک روز قبل تقریب کے انعقاد کے حوالے سے اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر ایک پوسٹ بھی شائع کی تھی ۔ذرائع کے مطابق بعد میں کینیڈین کمپنی نے مولانا طارق جمیل اور ان کے اہل خانہ کو رہائش فراہم کر دی اور انھیں دو روز بعد جانے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔