لاہور )کورٹ رپورٹر) ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمہ میں ملوث 2ملزمان کو ناکافی شواہد کہ بنا پرمقدمہ سے بری اور 397 کی دفعات میںملی سزا کو 10سال سے کم کرکے 7کرنے کاحکم دے دیا۔ مسٹر جسٹس صداقت علی خان نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔عدالت نے ملزمان پر 397 کی دفعات کے تحت ملزمان کی سزا دس سال سے کم کر کے سات سال کر دی ، قتل کے مقدمے میں ملوث ملزمان میں عادل اور ناصر شامل ہیں ،عدالت نے تمام دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان عادل اور ناصر کو 302 کے مقدمے میں بری کرنے کے احکامات جاری کئے۔ ہائیکورٹ نے پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل کی طرف سے سنگل بنچ کے فیصلے خلاف دائر درخواست پر بورڈ کے وکیل کو مزید بحث کے طلب کرلیا۔ مسٹرجسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل کی درخواست پر سماعت کی۔ پنجاب ٹیکنیکل بورڈ ک طرف سے مو¿قف اختیار کیا گیا کہ عدالت کے سنگل بنچ نے یک طرفہ فیصلہ سناتے ہوئے ملازمین کو ریگولرکرنے کا حکم دیاہے۔ پنجاب بورڈ آف ٹیکنیکل کے ملازمین نے مستقل نہ کرنے پر ہائیکورٹ سے رجوع کیاتھا جس عدالت نے یک طرفہ فیصلہ سناتے ہوئے ملازمین کو مستقل کرنےکا حکم دے دیا۔پنجاب بورڈ کے وکیل نے استدعاکی کہ عدالت سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کا حکم د ے جس پر عدالت نے وکیل کو مزید بحث کےلئے 2اپریل کو طلب کرلیا۔ ہائیکورٹ نے بچہ حوالگی کیس کی سماعت کرتے ہوئے دو بچے ماں سے لے کر باپ کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ مسٹرجسٹس شہباز رضوی نے بچوں کی والدہ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ بچوں کے والد فاکر حسین نے اپنی بیوی کو ایک سال قبل طلاق دی تھی، میاں بیوی میں اکثر اوقات معمولی باتوں پر لڑائی جگھڑا رہتا تھا اورخاوند اکثر اوقات مار پیٹ کرکے گھر سے نکال دتیا تھا۔درخواستگزار کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ بچوں کے والد نے اپنی بیوی سے دونوں بچے جس میں پانچ سالہ ارباب ذارا اور سات سالہ علی حسین شامل ہیں چھین لیے ، بچوں کی والدہ نے عدالت سے استدعا کی کہ بچوں کو باپ سے بازیاب کرا کے میرے حوالے کرنے کا حکم دیں، عدالت نے تمام دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کی رضامندی پر بچوں کو والد کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی ۔




































