لاہور (کرائم رپورٹر)مانگا منڈی کے علاقے میں نامعلوم ڈاکووں نے دوران ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ کر کے27سالہ شخص کو قتل کر دیا اور فرار ہو گئے اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو قبضے میں لے کر پورسٹمارٹم کے لیے منتقل کر دیا ۔بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز رات گئے تاجر مہر بشیر کے گھر اسلحہ بردارپانچ مسلح ڈاکواسلحہ گھر کی دیور پھلانگ اندر داخل ہو گئے نیچے کمروں کی تلاشی لینے کیلئے گھر کی تمام لائیٹس کو بند کرکے پورے گھر کے افراد کو یرغمال بنالیا اور لوٹ مار کرتے رہے اس دوران گھر کے مالکن کے بیٹے شہزاد نے ڈاکو¶ں کو دیکھ کر شورمچا دیا جس پر ڈاکو¶ں نے اہلخانہ پر تشدد شروع کر دیا جس پر شہزاد نے مزاحمت کی کوشش کی اس دوران ڈاکو¶ں نے اپنی جان چھڑوانے کیلئے اندھا دھند فائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں 27سالہ بیٹامہر شہزاد گولی لگنے سے شدید زخمی ہو کر زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ڈکیتی کے دوران قتل کی لرزہ خیز واردات کی خبر جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اطلاع ملنے پرمقامی پولیس نے اطلاع ملنے پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر تحقیقات شروع کر کے مقتول کی نعش کو پوسٹمارٹم کیلئے منتقل کر دیا۔محلے داروں کے مطابق محمد شہزاد تین بچوں کا باپ تھا۔اور مانگا منڈی سمیت دیگر شہروں میں سیلز مینی کا کام کرتا ہے۔پراسرار طور پر نوجوان قتل کی واردات پر پورے محلے میں ہرآنکھ اشک بار تھی۔کوٹ لکھپت کے علاقہ میں واردات کے دوران شہری کی گولی لگنے سے ایک ڈاکو ہلاک جبکہ اس کے باقی دو ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ،پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو اپنی تحویل میں لے کرپوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادیا ۔بتایا گیا ہے کہ کوٹ لکھپت کے علاقہ دیت پنڈ میں عاصم جوکہ سٹی ڈسٹرکٹ کا ملازم ہے کو تین ڈاکوجو کہ کار میںموجود تھے اور گاڑی نمبری LED/9925 رینٹ پر گجرانوالہ سے لے کر واردات کرنے کے لیے اس طرف آئے اور عاصم کو گن پوائنٹ پر روکا تو ان کے درمیان ہاتھا پائی ہوگئی جس پروہاں پر موجود اہل علاقہ اکٹھے ہوگئے جن کو دیکھ کر ڈاکوکا ر میں بیٹھ کر موقع سے فرار ہونے لگے تو اچانک اس بھیڑ میں سے کسی نے ایک ڈاکو پر گولی چلائی جو کہ اس کے سر پر لگ گئی جس سے اس کی موت موقع ہی پر ہوگئی اس کے باقی دونوں ساتھی بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے ہوئے احتشام نامی شخص سے موٹر سائیکل چھین کر اپنی گاڑی اور اپنے ساتھی کی لاش وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کرپولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادیااور کا ر کی تلاشی لینے پر اس میں سے تین پسٹل، مرنے والے کا شناختی کارڈجس پر اس کا نام عاطف لکھا ہوا تھا اور رینٹ کی چٹ برآمد ہوئی جوکہ مرنے والے نے فروری میں لی تھی ۔مرنے والے کی شناخت ہونے کے باوجود پولیس نہ تو اس کے باقی ساتھیوں کو پکڑ پائی ہے اور نہ ہی یہ پتہ لگا پائی ہے کہ ملزمان لاہور میں کس کے پاس رہتے تھے یاوہ اس طرح کی وارداتیں کرنے کے لیے گجرانوالہ سے لاہور آتے تھے تاحال ان کے خلاف کسی بھی قسم کی ابھی تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی ۔




































