شیخوپورہ (بیورورپورٹ) شیخوپورہ میں مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی میاں جاوید لطیف کے گن مینوں نے حالیہ انتخابات میں مخالفت پر غریب رکشہ ڈرائیور محمد ریاض کو بتی چوک میں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں وحشیانہ تشدد کرکے بازو اور ناک کی ہڈی توڑ ڈالی اور ویگو ڈالہ میں اغواءکرکے فرار ہوگئے اس واقعہ کے خلاف رکشہ ڈرائیوروں نے بتی چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور تمام شاہراﺅں کورکشہ کھڑے کرکے بلاک کردیا جس سے دور دور تک گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، مظاہرین نے نومنتخب رکن قو می اسمبلی میاں جاوید لطیف کے خلاف نعرے بازی کی تاہم پولیس نے مظاہرین کے مطالبہ پر ایم این اے کے دونوں گن مین یونس افغانی اور عثمان ارائیں کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا اور ان کے خلاف اغواءاور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ مغوی رکشہ ڈرائیور ملزمان کے چنگل سے بھاگ کر ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچ گیا جہاں اس کو طبی امداد فراہم کی گئی ، پولیس رپورٹ کے مطابق محلہ شاہ کالونی شیخوپورہ کا رہائشی رکشہ ڈرائیور محمد ریاض بدھ کے روز اپنے رکشہ پر بتی چوک میں موجود تھے اس دوران سیاہ رنگ کا ویگو ڈالہ اس کے قریب آکر رکا جس میں سوار کلاشنکوفوں سے مسلح یونس افغانی اور عثمان ارائیں وغیرہ نے اس پر تشدد شروع کردیا اور کہا کہ اسکو مخالفت کا مزہ چکھا دو اور پھر زبردستی ڈالہ میں ڈال کر فرار ہوگئے ملزمان نے فلمی انداز میں رکشہ ڈرائیور کو اپنے آگے دوڑنے کو کہا اور اس کے پاﺅں میں فائرنگ کرتے رہے تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا اور ملزمان سے بڑی مشکل سے جان بچا کر شہر پہنچ گیا ملزمان کے تشدد سے رکشہ ڈرائیور کے بازو اور ناک کی ہڈی ٹوٹنے کے علاوہ آنکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی جسے ہسپتال داخل کروادیا گیا ہے ، یہ بات واضح رہے کہ مذکورہ ایم این اے کی انتخابی مہم کے دوران بھی ان کے قافلے میں افغانیوں کی بڑی تعداد دیکھنے میں آئی، پولیس نے ان افغانیوں کی شناخت کیلئے کوئی موثر کاروائی نہ کی دوسری طرف رکشہ ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعہ کے باعث شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔






































